Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا ،دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے

    ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا ،دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے

    تمہارے نام کے نیچے کھینچی ہوئی ہے لکیر
    کتاب زیست ہے سادہ اس اندراج کے بعد

    آنس معین

    آنس معین، 29 نومبر 1960ء میں پیدا ہوئے ۔ آنس معین کے والد کا نام ”فخر الدین بلے“ تھا۔ آنس معین نے 17 سال کی عمر میں 1977 میں شعری دنیا میں قدم رکھا۔ وادیِ ادب کو سونا کرنے والے نے صرف 9 سال شاعری کی 05 فروری 1986ء کو 26 سال کی عمر میں خودکشی کر کے اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ گیا۔

    آنس معین کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ اُن کا رحجان صوفی ازم کی طرف زیادہ تھاکہیں سے نہیں لگتا تھا کہ وہ خودکشی کر سکتے ہیں اُن کی خودکشی سےمتعلق کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں پہلی یہ کہ اُن کےایک صوفی دوست نےکہاموت کےبعد زندگی اتنی خوبصورت ہے کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے تو دنیا کی آدھی آبادی خودکشی کر لے۔

    دوسری یہ کہ وہ اپنی کولیگ سے شادی کرنا چاہتے تھے مگر خاندان والوں نے اس رشتے سے منع کر دیا۔ تیسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے جس بنک میں وہ کام کرتےتھے وہاں ایک فراڈ ہوا اور انچارج کے طورپروہ خود کو اس کا ذمہ دار سمجھ رہے تھے۔ ان تمام حالات نے انہیں خودکشی پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے 5 فروری 1985 کو ملتان میں ٹرین کے نیچے آ کر خودکشی کر لی۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
    خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور

    ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا
    دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے

    حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو
    لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا

    ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج
    اس بار اندھیرا مرے اندر سے اٹھا ہے

    اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
    کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

    عجب انداز سے یہ گھر گرا ہے
    مرا ملبہ مرے اوپر گرا ہے

    گونجتا ہے بدن میں سناٹا
    کوئی خالی مکان ہو جیسے

    وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا
    پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے

    اندر کی دنیا سے ربط بڑھاؤ آنسؔ
    باہر کھلنے والی کھڑکی بند پڑی ہے

    یہ انتظار سحر کا تھا یا تمھارا تھا
    دیا جلایا بھی میں نے دیا بجھایا بھی

    یاد ہے آنسؔ پہلے تم خود بکھرے تھے
    آئینے نے تم سے بکھرنا سیکھا تھا

    گہری سوچیں لمبے دن اور چھوٹی راتیں
    وقت سے پہلے دھوپ سروں پہ آ پہنچی

    کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار
    اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور

    عجب تلاشِ مسلسل کا اختتام ہوا
    حصولِ رزق ہوا بھی تو زیرِ دام ہوا

    آخر کو روح توڑ ہی دے گی حصارِ جسم
    کب تک اسیرِ خوشبو رہے گی گلاب میں

    گئے زمانے کی چاپ جن کو سمجھ رہے ہو
    وہ آنے والے اداس لمحوں کی سسکیاں ہیں

    نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں
    ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں

    آج ذرا سی دیر کو اپنے اندر جھانک کر دیکھا تھا
    آج مرا اور اک وحشی کا ساتھ رہا پل دو پل کا

    اک کربِ مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں
    مقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیں

    بکھر کے پھول فضاؤں میں باس چھوڑ گیا
    تمام رنگ یہیں آس پاس چھوڑ گیا

    نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
    بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا

    اتارا دل کے ورق پر تو کتنا پچھتایا
    وہ انتساب جو پہلے بس اک کتاب پہ تھا

    گیا تھا مانگنے خوشبو میں پھول سے لیکن
    پھٹے لباس میں وہ بھی گدا لگا مجھ کو

    کب بارِ تبسم مرے ہونٹوں سے اٹھے گا
    یہ بوجھ بھی لگتا ہے اٹھائے گا کوئی اور

    درکار تحفظ ہے پہ سانس بھی لینا ہے
    دیوار بناؤ تو دیوار میں در رکھنا

    میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھا
    پھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا

    تمہارے نام کے نیچے کھنچی ہوئی ہے لکیر
    کتابِ زیست ہے سادہ اس اندراج کے بعد

    یہ اور بات کہ رنگِ بہار کم ہوگا
    نئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہوگا

    یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور
    دکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اور

    وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی
    عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی

    اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
    کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

  • پی ایس ایل نمائشی میچ؛ چیئرمین سینیٹ نے  کھلاڑیوں کو بلوچستان میں کیا خوش آمدید

    پی ایس ایل نمائشی میچ؛ چیئرمین سینیٹ نے کھلاڑیوں کو بلوچستان میں کیا خوش آمدید

    پی ایس ایل نمائشی میچ؛ چیئرمین سینیٹ نے کھلاڑیوں کو بلوچستان کیا خوش آمدید

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے پی ایس ایل نمائشی میچ کا کوئیٹہ میں انعقاد کا فیصلہ اچھا اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تمام کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ بلوچستان کے عوام کھیلوں سے دلچسپی رکھتے ہیں ، مزید ایونٹس بھی منعقد کئے جائیں. چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ میچ کے انعقاد کے سلسلے میں بلوچستان حکومت ، وزیر اعلی بلوچستان ، پاک فوج،  قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام انتظامیہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ مشکل حالات میں تمام اداروں نے ملکر اس ایونٹ کے لئے بھر پور انتظامات کئے ہیں، کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔ بلوچستان کے عوام کا جوش وخروش دیکھنے کے لائق ہے ، ہر بندہ کھیل کے میدان میں اپنے قومی کھلاڑیوں کو دیکھنے کے لئے بے تاب ہے مستقبل میں بھی ایسے میچز کا انعقاد کیا جائے تاکہ عوام کو تفریح کا ذریعہ میسر ہو ۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    تباہی کا منصوبہ ناکام، پولیس مقابلے میں دو دہشت گرد ہلاک اور چار گرفتار
    بھارت روسی خام تیل کی ادائیگیاں ڈالر کے بجائے درہم میں کیوں کررہا؟
    اسلام آباد پولیس کا تحریری ٹیسٹ، 70 اقلیتی امیدوار کامیاب
    عمران خان بھول گئے کہ اللہ نے مکافات عمل بھی دنیا میں رکھا ہے،مریم
    پولیس لائنز دھماکہ؛ حملہ آور اکیلا نہیں تھا بلکہ اُسے ہدف تک سہولت کار نے پہنچایا. حقیقاتی ٹیم
    پی ٹی آئی کے دفتر میں ٹکٹوں کی تقسیم پر بدنظمی؛ رہنماؤں کے ایک دوسرے کو دھکے
    دوسری طرف وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے پی ایس ایل کے نمائشی میچ کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جس میں معروف قومی کر کٹرز جاوید میانداد بابر اعظم شاہد خان آفریدی سرفراز احمد عمر اکمل سمیت دیگر کھلاڑی بھی شریک ہوئے. اس موقعے پر صوبائی وزراء اراکین اسمبلی اور چیف سیکریٹری بھی موجود تھے. وزیراعلئ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ہیروز کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔27 سال بعد کوئٹہ میں کر کٹ کی واپسی ہو رہی ہے

    انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دو دن میں تمام ٹکٹ فروخت ہو گیۓ ہیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کرکٹ لور ہیں . ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں کر کٹ میچ کا انعقاد صوبے میں امن کے قیام کا مظہر ہے پی سی بی بلوچستان کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو موقع دے بابر اعظم سرفراز احمد اور شاہد آفریدی جیسے کھلاڑی بھی بلوچستان سے سامنے آئیں گے ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا. کرکٹ میچ کو اپنے بہادر کشمیری بھائیوں کی جدوجہد آزادی اور امن کے شہداء کے نام کرتا ہوں.

  • پاکستان میں بلاک ہونے پر وکی پیڈیا کا بیان سامنے آ گیا

    پاکستان میں بلاک ہونے پر وکی پیڈیا کا بیان سامنے آ گیا

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) کی جانب سے توہین آمیز اور غیر قانونی مواد نہ ہٹانے پر بلاک ہونے والی آن لائن سروس وکی پیڈیا کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وکی پیڈیا کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ پی ٹی اے نے ہماری سروس اور تمام پراجیکٹس کو پاکستان میں بلاک کر دیا ہے۔

    وکی پیڈیا توہین آمیز مواد نہ ہٹانے پر پاکستان میں بلاک


    ویب سائٹ کی جانب سے ٹوئٹر پر بتایا گیا ہے کہ ہمیں پی ٹی اے کی جانب سے یکم فروری کو بتایا گیا کہ وکی پیڈیا کی سروس کو 48 گھنٹوں کے لیے ڈی گریڈ کر دیا گیا ہے اور پھر 3 فروری کو غیر قانونی مواد کا جواز بنا کر ہماری سروس کو پاکستان میں مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا۔

    مونس الہی کا ایک اور دوست غائب

    آن لائن سروس نے بتایا کہ ہم ’معلومات سب انسانوں کے لیے‘ پر یقین رکھتے ہیں اور وکی پیڈیا کی سروس کو پاکستان میں بلاک کرنے کا مطلب ہے کہ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی کو بلا معاوضہ معلومات کی رسائی سے محروم کر دیا گیا ہے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہر کوئی پاکستان کی تاریخ اور ثقافت تک رسائی سے محروم ہو جائے گا۔


    ویب سائٹ کا مزید کہنا ہے ہمیں امید ہے کہ حکومت پاکستان ہر کسی کو معلومات تک رسائی کے حق میں ہمارا ساتھ دے گی اور وکی پیڈیا سروس اور پراجیکٹس کو فوری بحال کرے گی تاکہ پاکستان کے لوگ دنیا بھر میں اپنے معلومات کو شیئر کر سکیں۔

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، کالعدم تنظیموں کے 9 دہشت گرد گرفتار

  • ڈالر کی قیمت میں اضافہ،روپے کی بے قدری جاری

    ڈالر کی قیمت میں اضافہ،روپے کی بے قدری جاری

    پی ڈی ایم کی حکومت آئی، مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ بنے، ڈالر نے اپنی اڑان جاری رکھی مہنگائی بڑھتی گئی، چار سال حکومت کرنے والے عمران خان تنقید کرتے نظر آئے تو مفتاح اسماعیل اپنی جماعت کا بھی نشانہ بنے، لندن سے اسحاق ڈار کو ڈالر کنٹرول کرنے کے لئے لایا گیا، اسحاق ڈار کے دعوے بھی اسوقت ہوا میں اڑ گئے جب ڈالر نے ڈار کی بھی نہ سنی اور اپنی اونچی اڑان جاری رکھی،

    کاروباری ہفتے کے آخری روز بھی ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ جاری رہا، کاروباری ہفتے کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر5 روپے 22 پیسے مہنگا ہوکربند ہوا، انٹربینک میں ڈالر 276 روپے 58 پیسے پربند ہوا،

    ملک کی کرنسی روپیہ مارکیٹ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی قدر کھوتا جارہا ہے۔ گزشتہ روز اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائرسے متعلق اعداد و شمار جاری کئے تھے جس کے مطابق پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 10 سال کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے ساتھ ساتھ روپے کی بے قدری کا سلسلہ بھی جاری ہے

    مزید یہ بھی پڑھیں
    طویل عرصہ بعد اپنے مالک کو دیکھتے ہی اونٹ جذباتی ہوگیا
    کراچی میں مقیم غیرقانونی باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 11 گرفتار
    ایف بی آئی کی امریکی صدر جو بائیڈن کے گھر 4 گھنٹے تلاشی
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی

    پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈ رز ایسوسی ایشن فرنٹ پیاف کے چیئرمین سینٹر ظفر اقبال چوہدری،سینئر وائس چیئرمین ہارون اشفاق چوہدری،وائس چیئرمین راجہ عدیل اشفاق نے ڈالر کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمت اور روپے کے تاریخی زوال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ڈالر کی اونچی اوڑان میں روپے کی گرتی قدر انتہائی خوفناک ہے، سینئر وائس چیئرمین پیاف ہارون شفیق چوہدری نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی ڈالر میں تاریخی اضافہ معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے،روپے کا زوال کئی سالوں کی ترقی کو ختم کردے گا روپے میں کمی اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد درآمدی پٹرول و درآمدی ایل این جی بھی مہنگی ہوجائے گی۔پٹرول کی قیمتوں میں 35 روپے فی لیٹر اضافہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے جبکہ 30روپے فی لیٹر اضافہ کا عندیہ دیا جارہا ہے۔

    ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد غیر ملکی قرضوں میں اربوں روپے اضافہ ساتھ ساتھ صنعتی شعبہ میں استعمال ہونے والا درآمدی خام میٹیریل بھی مہنگا ہوجائے گا جس سے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں اضافہ سے اشیاء مہنگی اور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کے ساتھ ساتھ بیرون ملک پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں کمی سے ملکی برآمدات میں بھی کمی سے تجارتی خسارہ بڑھے گا۔

  • پاسپورٹ اجراء کی درخواستوں میں اضافہ؛ پاسپورٹ کی چھپائی شدید دباؤ کا شکار

    پاسپورٹ اجراء کی درخواستوں میں اضافہ؛ پاسپورٹ کی چھپائی شدید دباؤ کا شکار

    پاسپورٹ اجراء کی درخواستوں میں یکایک اضافے سے پاسپورٹ کی چھپائی شدید دباؤ کا شکار ہوگئی۔

    پاسپورٹ اجراء کی درخواستوں میں یکایک اضافے سے پاسپورٹ کی چھپائی شدید دباؤ کا شکار ہوگئی۔ کراچی میں اس وقت صدر،عوامی مرکز اور کلفٹن سمیت دیگر پاسپورٹ دفاتر پر شدید رش ہے۔ پاسپورٹ ڈیلیوری کی مدت میں بھی مسلسل تاخیر کا سامنا ہے۔ شہریوں کو پاسپورٹ ڈیلیوری میں دو ہفتوں کی تاخیرہورہی ہے۔ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر پاسپورٹ فیس میں اضافے کی افواہوں کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی۔

    پاسپورٹ ڈائریکریٹ کی بارہا تردید کے باوجود صورتحال معمول پر نہیں آسکی۔ حکام کے مطابق صرف ای پاسپورٹ کی فیس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ عام پاسپورٹ کی فیسیں پرانی سطح پر برقرار ہیں۔ واضح رہے اس سے قبل وزارت داخلہ نے پاسپورٹ کی فیس میں اضافے سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قراردیا تھا. وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ پاسپورٹ کی فیسوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے. سوشل میڈیا پرمشین ریڈ ایبل پاسپورٹ فیس میں اضافے کے حوالے سے چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    طویل عرصہ بعد اپنے مالک کو دیکھتے ہی اونٹ جذباتی ہوگیا
    کراچی میں مقیم غیرقانونی باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 11 گرفتار
    ایف بی آئی کی امریکی صدر جو بائیڈن کے گھر 4 گھنٹے تلاشی
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    ترجمان وزارت داخلہ نے بتایا تھا کہ مشین ریڈ ایبل پاسپوٹ کی فیسوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، وفاقی حکومت نے پاکستانی شہریوں کیلئے ای پاسپورٹ جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے تھا کہ ای پاسپورٹ سہولت کا اجرا فی الحال نہیں کیا گیا ہے۔

  • عمران خان کا 33 سیٹوں سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ

    عمران خان کا 33 سیٹوں سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ

    عمران خان کا 33 سیٹوں سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کسی بھی ضمنی الیکشن میں تمام نشستوں سے حصہ نہیں لیں گے، بلکہ ہر نشست پر پی ٹی آئی اپنا امیدوار دے گی تاکہ کامیابی کی صورت میں قومی اسمبلی میں واپسی ممکن ہو۔ قومی اسمبلی میں واپس جانے کی کوشش میں تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے ایک اور یوٹرن سامنے آیا ہے، اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ضمنی الیکشن میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان تمام نشستوں سے حصہ نہیں لیں گے۔

    پی ٹی آئی نے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ ضمنی الیکشن میں ہر نشست پر پی ٹی آئی اپنے امیدوارمیدان میں اتارے گی، تاکہ کامیابی حاصل کرکے قومی اسمبلی میں ہرممکن واپسی ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ضمنی الیکشن کی نشستوں سے آوٹ ہونے کا فیصلہ اندرونی تنقید پر کیا گیا ہے، اور پارٹی رہنماؤں نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضمنی الیکشن کی تمام نشستوں پرعمران خان کی کامیابی کے بعد بھی قومی اسمبلی میں واپسی ممکن نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    طویل عرصہ بعد اپنے مالک کو دیکھتے ہی اونٹ جذباتی ہوگیا
    کراچی میں مقیم غیرقانونی باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 11 گرفتار
    ایف بی آئی کی امریکی صدر جو بائیڈن کے گھر 4 گھنٹے تلاشی
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    ذرائع نے بتایا کہ پارٹی رہنماؤں نے تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ دو بندوں کے کہنے پر اسمبلی توڑی گئی اور سب باہر ہوگئے، واپسی کے لئے حلقوں میں امیدواروں کا کھڑا کرنا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں واپسی کی صورت ہی میں حکومت کو مرضی کا نگران سیٹ اپ بنانے سے روکا جا سکتا ہے، مرکز میں نگران سیٹ اپ سے پہلےقومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اپنا اپوزیشن لیڈر لانا چاہتی ہے۔

  • عراق میں 5 ہزار سال پرانا انوکھا فریج دریافت کرلیا گیا

    عراق میں 5 ہزار سال پرانا انوکھا فریج دریافت کرلیا گیا

    عراق میں 5000 سال پرانا ریستوران کی باقیات اور وہاں چیزیں ٹھنڈی رکھنے والا حصہ دریافت ہوا ہے.

    عراق میں 5000 سال پرانا ریستوران کی باقیات اور وہاں چیزیں ٹھنڈی رکھنے والا حصہ دریافت ہوا ہے. ماہرین آثار قدیمہ نے عراق میں 5000 سال پرانے ایک ریستوران کی باقیات دریافت کی ہیں جس میں اس وقت فریج کے طور پر استعمال ہونے والی جگہ بھی شامل ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ باہر کھانا 5,000 سال پہلے اتنا ہی مقبول تھا جتنا کہ آج ہے، عراق میں ماہرین آثار قدیمہ نے 2,700 قبل مسیح میں ایک قدیم ہوٹل کا پردہ فاش کیا۔ گھر کے باہر جاکر کھانا کسے پسند نہیں، آج کے دور میں اسے بھی تفریح ہی شمار کیا جاتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ باہر کھانا 5,000 سال پہلے اتنا ہی مقبول تھا جتنا کہ آج ہے.

    امریکی نیوز چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق عراق میں ماہرین آثار قدیمہ نے 2,700 قبل مسیح (4900 سال پرانا) میں ایک قدیم ہوٹل کا سراغ لگایا ہے۔ عراق کے شمال مشرقی علاقے ذی قار میں ’تلول العبا‘ میں محققین نے کھدائی کے دوران ایک ہوٹل کی باقیات برآمد کی ہیں، یہ ہوٹل ایک کمرے اور کھانے کے لیے کھلی فضا پر مشتمل تھا۔ اس علاقے کا پرانا نام لگاش تھا۔ عراق، امریکا اور برطانیہ کے ماہرین آثار قدیمہ نے 2019 کے دوران اس علاقے میں کھدائی کا مشترکہ منصوبہ بنایا تھا۔ نئی دریافت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے ماہر آثار قدیمہ ریڈ گُڈ مین نے سی این این کو بتایا کہ کھدائی کے دوران ٹیم نے محسوس کیا کہ وہ ایک کھلے صحن میں ہیں، جس کی کھدائی کرنا مشکل تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    طویل عرصہ بعد اپنے مالک کو دیکھتے ہی اونٹ جذباتی ہوگیا
    کراچی میں مقیم غیرقانونی باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 11 گرفتار
    ایف بی آئی کی امریکی صدر جو بائیڈن کے گھر 4 گھنٹے تلاشی
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    چند ماہ بعد یونیورسٹی آف پیسا کی فیلڈ ڈائریکٹرسارہ پیزیمینٹی نے اس پراسرار صحن میں واپس آنے کے بعد، 2022 کے موسم خزاں میں، یونیورسٹی آف پیسا کی فیلڈ ڈائریکٹر سارہ پیزیمینٹی نے خندق کو وسیع کیا۔ محققین نے اس ہوٹل میں ایک کھانے کے لئے بینچ ، تندور، قدیم کھانے کی باقیات یہاں تک کہ 5000 ہزار پرانا ایک ’’فریج‘‘ بھی دریافت کیا ہے۔ تندور کی شکل کے اس حصے میں کھانا محفوظ اور اسے ٹھنڈا کیا جاتا تھا، یہ جگہ ہوا سے نمی جذب کرکے وہاں رکھی چیزوں کو ٹھنڈا رکھتی تھی۔

  • ہیر رانجھا،پاکستان کی پہلی پنجابی فلم

    ہیر رانجھا،پاکستان کی پہلی پنجابی فلم

    چناں کتھے گزاری اے رات وے

    ہیر رانجھا
    پاکستان کی پہلی پنجابی فلم

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی پہلی پنجابی فلم 1932 میں لاہور کے سنیما مالک حکیم رام پرشاد نے پلے آرٹ فوٹو ٹون کے بینر تلے، ” حور پنجاب ” کے نام سے بنانا شروع کی. بعد میں اس کا نام ” ہیر رانجھا” کردیا گیا. ہیر انوری بیگم بنی اور رانجھارفیق غزنوی،(دونوں نے بعد میں شادی کرلی تھی) کیدو ایم اسماعیل بنے جن سے یہ کردار چپک گیا، وہ بعد میں بھی کیدو بنتے رہے. فلم کے ہدایت کار اے آر کاردار تھے. فلم لاہور کے امپیریل تھیٹر میں لگی( جس کا نام بعد میں ریجنٹ سنیما رکھ دیا گیا تھا) تیکنیکی ناتجربہ کاری کی وجہ سے فلم کی فوٹو گرافی اور ساؤنڈ دونوں ناقص رہیں جس کی وجہ سے فلم فلاپ ہوئی. ویسے بھی یہ پنجابی اردو ملی جلی تھی. بہر حال پنجابی فلموں کا آغاز ہوگیا.

    1932 سے 1947 تک 37 پنجابی فلمیں بنیں. پنجابی فلم سازی کے مراکز کلکتہ، لاہور اور بمبئی رہے.

    پاکستان میں فلموں کا کوئی آرکائیو یا لائبریری نہیں ہے جہاں یہ فلمیں، ان کے گانے، بک لیٹ، پوسٹر محفوظ ہوں. دلچسپی رکھنے والے لوگوں نے ایسی کچھ چیزیں محفوظ کی ہیں لیکن مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں. ایسی صورت حال میں مشہور فلمی ریسرچر فیاض احمد اشعر نے اس مشکل ٹاسک پر کام شروع کیا. ان کی دُھن اور دوسروں سے تعاون کو سب مانتے ہیں اس لیے اکثر کلیکٹرز نے ان سے بھی تعاون کیا-

    اس طرح وہ ان فلموں کے بیشتر گانے جمع کرنے میں کامیاب رہے اور وہ سب اس کتاب”ابتدائی پنجابی فلمی گیت” میں پیش کردئیے. ایک ایک گیت کی تلاش کیلئے انہیں کہاں کہاں بھٹکنا اور خجل خوار ہونا پڑا، اس کا اندازہ کوئی ریسرچر ہی لگا سکتا ہے. گیت ہی نہیں، انہوں نے ہر فلم بنانے والی کمپنی، ہدایت کار، موسیقار، اداکاروں اور گلوکاروں کے نام بھی دے دئیے ہیں. اس طرح یہ فلمی تاریخ بھی ہے اور اس کی ادبی اہمیت بھی ہے.

    یہ جس قدر محنت طلب کام تھا اور ریسرچ کا نتیجہ جتنا وقیع ہے، اس سے آدھے کام پر بھی ایم فل بلکہ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں مل جاتی ہیں. ( یہ الگ بات ہے کہ اب بھاری فیسیں بھی دینا پڑتی ہیں)

    1932 سے 1947 کی پنجابی فلمیں :

    1932 ہیر رانجھا( لاہور)
    1932شیلا عرف پنڈ دی کڑی (کلکتہ)
    1935 مرزا صاحباں عرف عشق پنجاب( کلکتہ)
    1938 ہیر سیال( کلکتہ)
    1939 مرزاصاحباں( بمبئی)
    سوہنی کمہارن (کلکتہ)
    سسی پنوں( کلکتہ)
    سوہنی مہینوال (لاہور)
    بھگت سورداس (کلکتہ)
    پورن بھگت( کلکتہ)
    گل بکاؤلی( لاہور)
    1940 یملا جٹ( لاہور)
    متوالی میراں( کلکتہ)
    لیلے’ مجنوں( کلکتہ)
    دلا بھٹی( لاہور)
    جگا ڈاکو( کلکتہ)
    علی بابا( بمبئی)
    1941 چترا بکاؤلی( لاہور)
    چنبے دی کلی( کلکتہ)
    کڑمائی (بمبئی)
    مبارک (کلکتہ)
    میرا پنجاب (کلکتہ)
    میرا ماہی (لاہور)
    چودھری (لاہور)
    سہتی مراد (لاہور)
    پٹواری( لاہور)
    پردیسی ڈھولا (کلکتہ)
    1942 منگتی (لاہور)
    راوی پار (لاہور)
    گوانڈھی( لاہور)
    پٹولا (کلکتہ)
    1943 اک مسافر (لاہور)
    1944 گل بلوچ (لاہور)
    کوئل (لاہور)
    1945 نکھٹو (لاہور)
    1946 کملی (لاہور)
    1947 وساکھی.. لاہور میں بننا شروع ہوئی لیکن فسادات کے باعث بمبئی منتقل کردی گئی اور 1950 میں ریلیز ہوسکی دو اور فلمیں کالیاں راتاں اور ماہیا بننے کا بھی اعلان ہوا. کچھ کام ہوا، گیت بھی ریکارڈ ہوئے لیکن فلمیں بن نہ سکیں.
    ماہیا کی خاص بات یہ تھی کی اس کی موسیقی نثار بزمی نے دی تھی. لیکن یہ سامنے نہ آسکی. اس کے بعد انہوں نے کسی پنجابی فلم کا میوزک نہیں دیا.

    آپ کو حیرت ہوگی کہ اس دور کے فلمی (اور بعض غیر فلمی ) گیتوں کے مقبول مکھڑوں پر بعد کے شاعروں بالخصوص خواجہ پرویز نے خوب ہاتھ صاف کیا . مثلا” یہ مکھڑے :
    ماہی میرا غصے غصے
    پلا مارکے بجھا گئی دیوا
    چناں کتھے گزاری اے رات وے
    کچی ٹٹ گئی جنہاں دی یاری
    بتی بال کے بنیرے آتے رکھنی آں
    ڈھول جانی ساڈی گلی آویں
    بھاویں جانے تے بھاویں نہ جانے
    چھڈ میری وینی نہ مروڑ
    لما لما باجرے دا سٹا

  • ہائی کورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں رکھتی۔ سپریم کورٹ

    ہائی کورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں رکھتی۔ سپریم کورٹ

    ہائی کورٹ کے فیصلے میں عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کئی خامیاں موجود ہیں، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی جانب سے ازخود نوٹس لینے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹ از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔ عدالت عظمیٰ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہائی کورٹ از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔ عدالت عظمیٰ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہائی کورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں رکھتی۔ صرف سپریم کورٹ کو آرٹیکل 184/3 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار حاصل ہے۔ ہائی کورٹ کے از خود نوٹس کے اختیار سے متعلق 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ سپریم کورٹ کے ٹس اعجاز الاحسن نے تحریر کیا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے سامنے صرف اشیا کی قیمتوں کا معاملہ زیر سماعت تھا۔ ہائی کورٹ نے ایک سے زائد مرتبہ از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا۔ ہائی کورٹ نے پولٹری اشیا کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ دیا۔ اشیا کی درآمد و برآمد کا اختیار عدالت نہیں بلکہ صرف انتظامیہ کے پاس ہے۔ ہائی کورٹ نے نہ صرف از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا بلکہ انتظامی دائرہ اختیار میں دخل اندازی بھی کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کئی خامیاں موجود ہیں۔ واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے لائیو اسٹاک اور پولٹری اشیا کی قیمتوں کے تعین کے لیے کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے حکومتی اہل کاروں کو معیاری دودھ و دیگر اشیاءکی فروخت یقینی بنانے کے لیے مارکیٹس کے دورے کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

  • الیکشن کمیشن کا چودھری شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ مسترد

    الیکشن کمیشن کا چودھری شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ مسترد

    الیکشن کمیشن نے چودھری شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ مسترد کردیا۔

    الیکشن کمیشن نے چودھری شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ مسترد کردیا۔الیکشن کمیشن نے چودھری شجاعت کو ق لیگ کی صدارت سے ہٹانے کی درخواست پرمحفوظ فیصلہ سنادیا ۔الیکشن کمیشن نےسینٹرل ورکنگ کمیٹی کا فیصلہ مسترد کردیا ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

    الیکشن کمیشن نے چودھری شجاعت کی درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ سنایا ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ برس اگست میں فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ چودھری شجاعت نے پارٹی صدارت سے ہٹانے کے خلاف الیکشن کمیشن کو درخواست دی تھی۔الیکشن کمیشن نے حکم امتناع پر چودھری شجاعت حسین کو بحال کیا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں مسلم لیگ ہاؤس ڈیوس روڈ میں (ق) لیگ کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی کی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    جس کے بعد چوہدری شجاعت کی جگہ اب ان کے بھائی چوہدری وجاہت حسین کو پارٹی کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ طارق بشیر چیمہ کو ہٹا کر کامل علی آغا کو پارٹی کا مرکزی سیکرٹری جنرل بنایا گیا ہےواضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ برس اگست میں فیصلہ محفوظ کیا تھا، چودھری شجاعت نے پارٹی صدارت سے ہٹانے کے خلاف الیکشن کمیشن کو درخواست دی تھی۔ الیکشن کمیشن نے حکم امتناع پر چودھری شجاعت حسین کو بحال کیا تھا۔