Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کراچی سےلاپتہ ہونے والی 14سالہ دو لڑکیاں لاہور سے مل گئیں

    کراچی سےلاپتہ ہونے والی 14سالہ دو لڑکیاں لاہور سے مل گئیں

    کراچی کے علاقے کورنگی سے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی دو کم عمر سہیلیاں لاہور ریلوے پولیس کو مل گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: زمان ٹاؤن تھانے کے علاقے کورنگی نمبر 2 سے 3 سہیلیاں 14 سالہ کنزہ اور 14 سالہ نائلہ پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھیں اور دونوں کے اغوا کا مقدمہ زمان ٹاؤن تھانے میں درج کرایا گیا۔

    کراچی:14 سالہ دو سہیلیاں پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئیں

    ایس پی کورنگی انویسٹی گیشن ابریز علی عباسی کے مطابق دونوں سہیلیوں کے لا پتہ ہونے کے بعد پولیس نے جب تفتیش شروع کی تو ہمیں کچھ ایسے شواہد ملے تھے کہ دونوں سہیلیاں ریلوے اسٹیشن سے کہیں گئی ہیں جس پر ہم نے ریلوے اسٹیشنز پر چیکنگ شروع کردی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ریلوے پولیس کو بھی آگاہ کردیا تھا اور گزشتہ روز لاہور ریلوے پولیس کو دونوں لڑکیاں ریلوے اسٹیشن سے ہی مل گئی ہیں اور ریلوے پولیس نے دونوں لڑکیوں کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے اورانہوں نے کراچی پولیس کو لڑکیاں ملنے کے حوالے سے آگاہ کردیا ہے۔

    ایس پی کورنگی انویسٹی گیشن کا کہنا تھا کہ زمان ٹاؤن تھانے کا تفتیشی افسر دونوں لڑکیوں کو لینے کے لیے لاہور روانہ ہو گیا ہے اور جلد لڑکیاں واپس آجائیں گی اور ہماری ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں سہیلیاں منصوبہ بندی کرکے گھر سے فرار ہوئی تھی۔

    ملتان,صحافی بھی اب ڈاکوؤں کے نشانے پر آگئے

    قبل ازیں کنزا کے والد محمد جنید نے درخواست میں کہا تھا کہ نائلہ کورنگی نمبر دو میں گھر آئی تھی، دونوں گورنمنٹ ملت اسکول کورنگی ٹی ایریا میں ایک ساتھ پڑھتی ہیں اور دونوں کی دوستی بھی اسکول میں ہی ہوئی تھی۔درخواست کے متن کے مطابق دونوں بچیاں بوقت تین بجےدن گھرمیں کام کررہی تھیں اور میں گھر کی چھت پر تھا، ساڑھے تین بجے گھر کی چھت سے نیچےآیا تو دونوں بچیاں گھر میں موجود نہیں تھیں، گھروالوں سے دریافت کیا تو معلوم ہوا دونوں بچیاں گھر سے باہر گئیں ۔

    محمد جنید کا کہنا تھاکہ دیر ہوجانے پر تشویش ہوئی اور اسی اثنا میں نائلہ کے والد نوید بھی بیٹی کو لینے آگئے، دونوں نے مل کر بچیوں کو علاقے میں تلاش کیا اور معلومات حاصل کیں لیکن بچیوں سے متعلق معلومات نا ملنے پر پولیس سے رابطہ کیا۔

    31 برس بعد باپ کے قتل کا بدلہ، کمرے میں گھس کر ماری گولیاں

  • شہر چھوڑو پیسے لو،ازقلم :غنی محمود قصوری

    شہر چھوڑو پیسے لو،ازقلم :غنی محمود قصوری

    شہر چھوڑو پیسے لو

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کا سب سے بڑا مسئلہ مس مینجمنٹ یعنی انتظام میں نقص ہے جس کے باعث ہم ترقی کی بجائے تنزلی کیجانب جا رہے ہیں یہ مس مینجمنٹ ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے اسی لئے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے علاوہ ہمارے گھروں تک میں مس مینجمنٹ دیکھنے کو ملتی ہے

    ٹوکیو چھوڑو، پیسے لو اور لکھ پتی بن جاؤ
    جی ہاں یہ نعرہ ہے جاپان گورنمنٹ کا

    جاپان کی حکومت نے دارالحکومت ٹوکیو چھوڑنے پر رقم کی پیشکش تین لاکھ ین ( جاپانی کرنسی) سے بڑھا کر دس لاکھ پن کر دی ہے
    شہر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں بسنے والے خاندانوں کو فی بچہ دس لاکھ ین دیے جائیں گے-

    جاپان حکومت نےیہ اقدام شہرکی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنےکےپیش نظر کیا ہےتاکہ لوگوں کو صحیح طوربنیادی ضروریات زندگی مل سکیں اور ان کی صحت متاثر نا ہوٹوکیو شہر کی آبادی ایک کروڑ تیس لاکھ سےبڑھ چکی ہے اور یہ جاپان کی کل آبادی کا دوفیصد ہے-

    ٹوکیو کو تئیس تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہےتاکہ لوگوں کو اچھا متنظم نظام ملے اور ان کی صحت درست رہےاوروہ اسی صحت و تندرستی سے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرتے رہیں جب لوگوں کو اچھی اور جائز ضروری سہولیات ملیں گی تو لوگ تندرست و توانا ہونے کیساتھ جرائم سے دور بھی رہیں گےجرائم سے دور رہیں گے تو امن و امان ہو گاامان و امان ہو گا تو فائدہ گورنمنٹ کے ساتھ عوام کا بھی ہو گا
    مگر ہمارے ہاں نا تو فائدہ گورنمنٹ کا کیا جاتا ہے اور نا ہی عوام کا بلکہ فائدہ صرف خالصتاً اشرافیہ، بیورو کریسی و سیاستدان کا کیا جاتا ہے-

    ہمارے ہاں مینجمنٹ کا شدید فقدان ہے ملک میں بہت زیادہ غیر زرعی زمینیں بنجر پڑی ہیں کہ جہاں گھاس پھوس و جڑی بوٹیاں تو بغیر محنت کئے اگتی ہیں مگر ہم تھوڑی سی محنت کرکے اسی زمین سے فصل نہیں لے سکتے شہروں کی آبادیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے
    کراچی کی آبادی پونے تین کروڑ سے زائدلاہور کی آبادی پونے دو کروڑ سے زائد اور فیصل آباد کی آبادی پون کروڑ سے زائد ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود بلڈنگوں کے اوپر بلڈنگیں بنائی جا رہی ہیں تھوڑی بہت بچی ہوئی زرعی زمینوں پہ رہائشی کالونیاں بنائی جا رہی ہیں مگر افسوس کہ بنجر زمینوں پہ نا تو نئے شہر بسائے جا رہے ہیں نا ہی انہیں قابل کاشت کیا جا رہا ہے کیونکہ ہمیں شارٹ کٹ کمانے کی عادت پڑ چکی ہے اور یہی عادت جرائم میں اضافے کا سبب بننے کے ساتھ بیماریوں کی بھی وجہ بن رہی ہے-

    ہمارے ہاں شہروں کی بہت زیادہ آبادی ہونے کے باعث لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں اور آلودگی پھیلنے سے ان کی صحت بری حد تک متاثر ہوئی ہے جس سے صحت کی بحالی کی مد میں گورنمنٹ کیساتھ ساتھ عوام کا اپناروپیہ پیسہ بھی ضائع ہو رہا ہے اور شرع اموات غیر معمولی طور پہ بڑھ گئی ہے-

    اب حالات یہ ہیں کہ ہمارےشہروں میں قبل ازعمربالوں میں سفیدی،گھٹنوں میں درد ودیگرخطرناک امراض پائےجانےلگےہیں جب یہ امراض جوانوں میں موجود ہو تو جوان کام کیا کریں گے اور ملک ترقی کیسے کرے گا ؟

    واضع رہے کہ جاپان دنیا کا وہ ملک ہے کہ جہاں غریب سے غریب تر فرد کے پاس بھی اپنی اچھی سواری ہے پہننے کو اچھے کپڑے اور کھانے کواعلی خوراک میسرہے مگراسکے باوجود بھی گورنمنٹ شہریوں کی صحت اورانہی کی سہولیات کےپیش نظران کو پیسے دے کر نقل مکانی کروا رہی ہے تاکہ ٹوکیو کی آبادی نا بڑھے بلکے دیگر چھوٹے شہر پرونق ہو جائیں یا پھر نئے شہر بسائے جائیں-

    یہ ساری مینجمنٹ ہمیں دین اسلام سکھلاتا ہے مگر ہم نے اسلام سے دوری رکھی اور اسی رولز آف اسلام سے ڈائریکٹیلیشن کرکے غیر مسلم ترقی کر رہے ہیں یہ بات ہمارے لئے ایک بہت بڑا پیغام ہے کہ نئے شہر بسائے جائیں غیر زرعی زمینوں کو قابل کاشت کیا جائے اور لوگوں کے رہنے کے مناسب اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگ اچھی صحت کیساتھ دیر پا زندگی بغیر بڑی بیماریوں کے جئیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں-

    کیونکہ فرمان مصطفی ہےکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے-

    تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیونکہ ،اگر، ( کاش) شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔۔مسلم

    اللہ کے نبی نے ہمیں واضع بتا دیا کہ طاقتور بنو وہ طاقت جسمانی بھی ہے اور ایمانی بھی جسمانی و مضبوط ایمانی طاقت اللہ کو بہت پسند ہے اور اسی سے خیر کا دروازہ کھلتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اپنے پیٹ کی آگ کیساتھ عوام کی مینجمنٹ کے بارے بھی سوچ سکیں، آمین

  • پہلا ون ڈے، 256رنز کے ہدف میں پاکستان کی بیٹنگ جاری

    پہلا ون ڈے، 256رنز کے ہدف میں پاکستان کی بیٹنگ جاری

    کراچی: پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف 256 رنز کے تعاقب میں 9.1 اوورز میں 1 کھلاڑی کے نقصان پر 41 رنز بنالیے۔

    باغی ٹی وی: نیشنل بینک کرکٹ ارینا کراچی میں کھیلے جارہے ایک روزہ سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے مقررہ 50 اوورز میں 9 کھلاڑیوں کے نقصان پر رنز255 اسکور کیے۔

    نیوزی لینڈ کی جانب سے مائیکل بریسویل 43 اور وکٹ کیپر بیٹر ٹام لیتھم 42 رنز بنا کر نمایاں رہے گلین فلپس 37، ڈیرل مچل 36، فِن ایلن 29، کپتان کین ولیم سن 26، مچل سینٹنر 21 رنز بنا کر آؤٹ ہوئےٹِم ساؤتھی 15 جبکہ لوکی فرگوسن 1 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔

    پاکستان کی جانب سے نسیم شاہ نے 10 اوورز میں 57 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اسامہ میر 2 جبکہ محمد وسیم اور محمد نواز 1،1 وکٹ لے سکے۔

  • پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی،بلومبرگ اکنامکس

    پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی،بلومبرگ اکنامکس

    غیر ملکی جریدے بلومبرگ اکنامکس نے پیر کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ایسا لگتا ہے پاکستان آئندہ 6 ماہ میں ڈیفالٹ سے بچ جائے گا لیکن پاکستان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔

    باغی ٹی وی : بلومبرگ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی، پاکستان میں سرمایہ کاروں کو ڈالرز میں بڑے قرض کی واپسی کی فکر ہے اور یہ قرض کی واپسی اپریل 2024 میں ہونی ہے۔

    پاکستان ڈالر کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کےمطابق کرے،آئی ایم ایف

    "لیکن سرمایہ کار اب اپریل 2024 میں ایک بڑے ڈالر کے قرض کی واپسی کے بارے میں فکر مند ہیں، اور وہ ان بانڈز کی قیمتیں پریشان کن سطح پر رکھ رہے ہیں،رپورٹس بتاتی ہیں کہ بانڈ 46% ڈسکاؤنٹ پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مزید بیرونی امداد چاہیے ہوگی، آئی ایم ایف پاکستان کی باقی ماندہ قسط روک سکتا ہے تاہم سیلاب اور پاکستان کی ضروریات کے باعث ایسا نظر نہیں آتا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ضروریات میں اندازاً 8.8 ارب ڈالرز کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ شامل ہے، ان ضروریات میں 2.2 ارب ڈالرز کی غیرملکی قرضوں کی ادائیگی شامل ہے، ان میں اپریل 2024 میں ایک ارب ڈالرز بانڈکی میچورنگ بھی شامل ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ رسک اسسمنٹ کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف یا دیگر قرض دہندگان سے مزید بیرونی امداد کی ضرورت ہو گی-

    سال 2022ء میں 49,89833 لوگوں نے وائلڈ لائف پارکس اور چڑیا گھروں کی سیر کی

    پاکستان کے پاس اب 5.6 بلین ڈالر کے زرمبادلہ کےذخائر ہیں، جو اگلے پانچ ماہ کی فنڈنگ ​​کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ بیرونی امداد سے اس تعداد کو 14.9 بلین ڈالر تک بڑھانا چاہیے۔ یہ صرف مارچ 2024 تک ڈالر کی ادائیگیوں کا احاطہ کرے گا –

    پاکستان اس وقت تیزی سے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی کمزوری اور بگڑتے معاشی اشاریوں کے درمیان معاشی بدحالی سے دوچار ہے۔ اس نے ہفتے کے آخر میں تقریبا$ 1 بلین ڈالر کی ادائیگی کی، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے کا امکان ہے جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اس ہفتے اپنا ڈیٹا جاری کرے گا۔

    بلومبرگ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف اب بھی 2.6 بلین ڈالر کی بقیہ قرض کی قسطیں روک سکتا ہے لیکن ہمارے خیال میں پچھلی موسم گرما کے سیلاب کے تناظر میں ملک کی اشد ضرورت کے پیش نظر اس کا امکان نہیں ہے۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ تعطل کا شکار آئی ایم ایف پروگرام کا دوبارہ آغاز ملک کے لیے انتہائی اہم ہے آئی ایم ایف کی فنڈنگ ​​قرض دینے والے ممالک سے متوقع 5 بلین ڈالر اور ورلڈ بینک سے 1.7 بلین ڈالر کی امداد کو کھولنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

    چونیاں،الہ آباد،چھانگامانگا میں آٹا بحران شدت اختیار کر گیا

    یہ فنڈز جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام تک قرضوں کی ادائیگیوں اور تخمینہ شدہ کھاتوں کے خسارے میں $5.9 بلین کو پورا کرنے میں مدد کریں گے اور، ایک بار پھر، ہمارے خیال میں یہ فنڈز مکمل ہو جائیں گے۔

    لیکن اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس کے بعد 12 ماہ کیسے پورا کرے گا، جب اس کی ڈالر کی مالیاتی ضروریات کم از کم 11 بلین ڈالر ہوں گی۔”

    آئی ایم ایف کا وفد جنیوا کانفرنس کے موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کرے گا جس میں تصفیہ طلب امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    جنیوا کانفرنس، جو اس وقت جاری ہے، پاکستان کی حکومت اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر منعقد کی جا رہی ہے، جس میں ممالک، تنظیموں اور کاروباری اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے طویل مدتی بحالی اور لچک کے منصوبے کی جانب مالی اور دیگر مدد کے ساتھ قدم بڑھائیں۔ ملک نے گزشتہ سال تباہ کن سیلاب دیکھا۔

    پاکستان کے ریسیلینٹ ریکوری، بحالی اور تعمیر نو کے فریم ورک کے مطابق، جسے وہ باضابطہ طور پر کانفرنس کے دوران پیش کرے گا، مجموعی طور پر 16.3 بلین ڈالر کی ضرورت ہوگی پاکستان کی حکومت اس نصف رقم کو "ملکی وسائل” سے پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، بشمول اس کے ترقیاتی بجٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے۔

    جنیوا کانفرنس: اسلامی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

  • روس سے گندم کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی

    روس سے گندم کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی

    کراچی: روس سے حکومتی سطح پر منگوائی جانیوالی گندم کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :وزارت فوڈ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ روس سے گندم کے دو جہاز پہنچے ہیں روس سے مزید ساڑھے 4 لاکھ ٹن گندم بذریعہ گوادر پاکستان پہنچے گی۔

    نجی گندم مارکیٹ کریش ہوگئی، قیمت میں بڑی کمی

    حکومتی سطح پر مجموعی طور پرساڑھے 7 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جا رہی ہے 30 مارچ تک روس سےحکومتی سطح پر درآمد کی جانے والی گندم کے تمام جہاز پاکستان پہنچ جائیں گے۔

    مختلف ممالک سے بھی درآمدی گندم لے کر جہاز کراچی پورٹ پہنچ چکے ہیں اب تک ساڑھے تین لاکھ ٹن گندم کراچی پورٹ آچکی ہے۔

    دوسری جانب پنجاب کی نجی گندم مارکیٹ شدید مندی کے نتیجے میں کریش ہوگئی راولپنڈی میں نجی گندم کی قیمت میں 750 روپے فی من کمی ہوگئی جس کے نتیجے میں گندم کی قیمت 5250 سے کم ہو کر 4500 روپے ہو گئی۔

    پی ٹی آئی نے خونی مارچ کرکے دکھا دیا اب خونی الیکشن کی بات کررہی ہے،شرجیل میمن

    پنجاب میں نجی گندم کی قیمت 4500 تا4600 روہے فی من ہے مگر خریدار غائب ہیں سرکاری گندم کوٹہ بڑھ جانے کے بعد فلور ملز نے نجی گندم کی خریداری کم کر دی ذخیرہ اندوزوں نے فلور مل مالکان کو سستے داموں گندم فروخت کرنے کی پیشکش شروع کردی تاہم ملز نے انکار کردیا۔

    لاہور میں سرکاری آٹے کی دستیابی میں بہتری کا آغاز ہوگیا۔ مختلف علاقوں میں ٹرکنگ پوائنٹس پر بھیجے گئے آٹے کی فروخت کم ہوگئی تاہم شمالی لاہور میں سرکاری آٹے کی اضافی طلب اور فروخت برقرار ہےمحکمہ خوراک نے اسمگلنگ روکنے کےلیے سرحدی اضلاع کی چیک پوسٹوں پر اسپیشل ٹیمیں تعینات کر دیں۔

  • ملکی ترقی کے لیے نوجوان نسل کو ہنر مندی کی تعلیم کی فراہمی ضروری ہے.وفاقی وزیر

    ملکی ترقی کے لیے نوجوان نسل کو ہنر مندی کی تعلیم کی فراہمی ضروری ہے.وفاقی وزیر

    ملکی ترقی کے لیے نوجوان نسل کو ہنر مندی کی تعلیم کی فراہمی ضروری ہے.وفاقی وزیر

    وفاقی وزیر تعلیم وپیشہ ورانہ امور رانا تنویرحسین نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے نوجوان نسل کو ہنر مندی کی تعلیم کی فراہمی ضروری ہے،نیشنل سکلز یونیورسٹی کیمپس کے قیام سے علاقہ بھر کے طالب علموں کو معیاری فنی تعلیم کا حصول آسان ہو گا،کیمپس کی تعمیر کیلئے 386 ملین روپے منظورہو چکے ہیں۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے پیر کے روز نیشنل سکلز یونیورسٹی مرید کے کیمپس کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا،ملک میں حالیہ مہنگائی کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت ہے،وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے آنے سے ڈالر کی قیمت میں کمی آئی ہے،جلد مہنگائی پر قابو پا لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ صنعتی مرکز کی بنیاد پر ملحقہ علاقوں کی نوجوان نسل کے لیے ہنر مندی کی تعلیم بہت ضروری ہے،نوجوان ہنر مند ہو کر ملکی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں،نیشنل سکلز یونیورسٹی کی کلاسز کے اجرا پر فخر ہے،مریدکے سب کیمپس کے قیام سے علاقہ بھر کے طالب علموں کو معیاری فنی تعلیم کا حصول آسان ہو گا۔

    رانا تنویر حسین نے کہا کہ نیشنل سکلز یونیورسٹی مریدکے کیمپس 100 کنال اراضی پر مشتمل ہو گا،کیمپس کی تعمیر کے لیے 386 ملین روپے کی رقم منظور ہو گئی ہے،حکومت نے ہدایات جاری کی ہیں کہ نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد مریدکے کیمپس نوجوانوں کو ہنر مندی کی تعلیم دے کر ملازمت کے مواقع فراہم کر نے میں اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا،سابقہ حکومت میں صرف سیاسی مخالفین کی کردار کشی کی گئی،عوامی منصوبوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،ملک اس وقت معاشی حوالے سے اہم ترین دور سے گزر رہا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے جال بچھائے، عوام سے کئے ہوئے وعدوں یکی تکمیل کے لیے پرعزم ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ملکی معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی لانے اور کم آمدنی والے افراد سمیت تمام عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوشاں ہے اور ملک کو دوبارہ تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی شاہراہوں پر گامزن کریں گے۔اس موقع پر مقامی سیاسی رہنمائوں،طلبہ و طالبات ،اساتذہ سمیت مقامی شہریوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

  • جنیوا کانفرنس: اسلامی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

    جنیوا کانفرنس: اسلامی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

    اسلامی ترقیاتی بینک نے سیلاب سے متاثرہ پاکستانی علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے لیے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :پاکستان کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں موسمیاتی تباہ کاریوں کے باعث ہونے والے نقصان کے ازالے اور مدد کے لیے کانفرنس جاری ہے۔

    اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر نے جنیوا میں پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو اور بحالی کے حوالے سے جاری کانفرنس کے دوران پاکستان کے لیے بڑا اعلان کیا۔

    اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 3 سال میں 4 ارب 20 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ عالمی بینک نے بھی متاثرہ علاقوں میں 2 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اس سے قبل فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی پاکستان کے لیے ایک کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا جنیوا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر میکرون نے امداد کا اعلان کیا ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کی حمایت کرناچاہیں گے، فرانس طویل مدت میں پاکستان کی ضرورت کے مطابق مہارت اور مالی امداد فراہم کرتارہےگا۔

    ایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا فرانسیسی عوام اور حکومت کی جانب سے پاکستانی عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، پاکستان کے عوام نے بہادری سے سیلاب سے ہونے والی تباہی کا مقابلہ کیا۔

    یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا میں نے خود پاکستان جا کر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، پاکستان میں سیلاب کے باعث بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

    یو این سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا حال دیکھ کر دل ٹوٹ گیا لیکن مشکل حالات میں بھی پاکستانی عوام کا جذبہ دیکھ کر حیران ہوا۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا پاکستان کو تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں پرامید ہوں کہ کانفرنس کےانعقاد سےپاکستان کو سیلابی تباہی سے بحالی میں مدد ملے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے لیے امداد کا اعلان کرنے پر تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان مشکل وقت میں تعاون کرنے والے ممالک کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز سے زائد ہے اور پاکستان کو فوری طور پر تعمیر نو اور بحالی کے لیے 16 اعشاریہ 3 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا سیلاب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، پاکستان میں سیلاب نے متاثرین کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے، آج ہم تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں، گزشتہ برس ستمبر میں یو این سیکرٹری جنرل کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، پاکستان کے عوام یو این سیکرٹری جنرل کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، عالمی برادری کے بھی تعاون پر مشکور ہیں، مشکل وقت میں مدد کرنے والے ممالک کو پاکستان نہیں بھولے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے کاشتکاری کو شدید نقصان پہنچا جس سے غذائی قلت نے جنم لیا، تعمیر نو کے ساتھ ملکی معیشت کی بحالی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، سیلاب سے نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 8 فیصد ہے پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب سے 33 ملین لوگ متاثر ہوئے، انفرا اسٹرکچر کی تباہی سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی، سیلاب سے مکانات، تعلیمی ادارے، زراعت کے شعبے کو نقصان پہنچا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں تاحال سیلاب کا پانی موجود ہے، سیلاب متاثرین کو دوبارہ بحال کر کے اچھا مستقبل دینا ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کیا ہے، فریم ورک پر کام کرنے کے لیے 16.3 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔

    قبل ازیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے شرکا کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ برس تباہ کن سیلاب آیا، پاکستان میں سیلاب سے تباہ کاریوں کا حجم بہت بڑا ہے، سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثرہ ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے 5 ماہ بعد بھی کئی علاقے زیر آب ہیں، سیلاب سے متاثر ہ علاقوں میں تعمیر نو کے اقدامات جاری ہیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لچکدار انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اولین ترجیح ہے، متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے اگلے کئی سالوں تک ہمیں اپنے شراکت داروں سے خاطر خواہ مدد کی ضرورت ہو گی۔

    اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے علاوہ وفاقی وزراء بھی شریک ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور دیگر عالمی رہنما بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

  • عمران خان کی آنکھوں کے سامنے 3 ہزار ارب روپے کی چوری ہورہی. فیصل واوڈا

    عمران خان کی آنکھوں کے سامنے 3 ہزار ارب روپے کی چوری ہورہی. فیصل واوڈا

    عمران خان کی آنکھوں کے سامنے 3 ہزار ارب روپے کی چوری ہورہی ہے، فیصل واوڈا

    سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ چوروں کی حکومت میں غریب روٹی کے لئے مررہا ہے تو عمران خان کی آنکھوں کے سامنے تین ہزار ارب کی چوری ہورہی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں پی ٹی آئی سے خارج کئے گئے رہنما فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ایک طرف پی ڈی ایم جیسی چوروں کی حکومت میں غریب آدمی روٹی کیلئے مر رہا ہے، تو دوسری طرف عمران خان کی آنکھوں کے سامنے 3 ہزار ارب روپے کی چوری ہورہی ہے۔


    فیصل واوڈا نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا کررہے ہیں سر؟، مدینہ کی ریاست میں آپ کی آنکھوں کے سامنے تین ہزار ارب کی چوری گرین بیلٹ کو براؤن بیلٹ میں کرنے سے ہورہی ہے۔ فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ کیا عدالتیں اس پر بھی کچھ کریں گی، کوئی کھڑا ہو یا نہ ہو، میں اس کے خلاف ضرور کھڑا ہوں گا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نائیجیریا میں ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے منتظر 32 افراد اغوا
    ٹائٹن اروم نامی پھول جو 7 سے 10 سال میں ایک بار کھلتا ہے
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی

    ایک اللہ ہلپ اس نامی صافی نے لکھا کہ ڈوب مرنا چاہیے پی ٹی آئی کو کیونکہ گندم افغانستان اسمگلنگ کر رہے ہیں اور اپنے لوگ مر رہے ہیں جبکہ یہ درخت ایک بی آر ٹی بھی مکمل نہیں کر پائے ہیں.

  • نجی گندم مارکیٹ کریش ہوگئی، قیمت میں بڑی کمی

    نجی گندم مارکیٹ کریش ہوگئی، قیمت میں بڑی کمی

    نجی گندم مارکیٹ کریش ہوگئی، قیمت میں بڑی کمی

    پنجاب کی نجی گندم مارکیٹ شدید مندی کے نتیجے میں کریش ہوگئی۔ جبکہ راولپنڈی میں نجی گندم کی قیمت میں 750 روپے فی من کمی ہوگئی جس کے نتیجے میں گندم کی قیمت 5250 سے کم ہو کر 4500 روپے ہو گئی۔ پنجاب میں نجی گندم کی قیمت 4500 تا4600 روہے فی من ہے مگر خریدار غائب ہیں۔ سرکاری گندم کوٹہ بڑھ جانے کے بعد فلور ملز نے نجی گندم کی خریداری کم کر دی۔ ذخیرہ اندوزوں نے فلور مل مالکان کو سستے داموں گندم فروخت کرنے کی پیشکش شروع کردی تاہم ملز نے انکار کردیا۔ لاہور میں سرکاری آٹے کی دستیابی میں بہتری کا آغاز ہوگیا۔ مختلف علاقوں میں ٹرکنگ پوائنٹس پر بھیجے گئے آٹے کی فروخت کم ہوگئی۔ تاہم شمالی لاہور میں سرکاری آٹے کی اضافی طلب اور فروخت برقرار ہے۔ محکمہ خوراک نے اسمگلنگ روکنے کےلیے سرحدی اضلاع کی چیک پوسٹوں پر اسپیشل ٹیمیں تعینات کر دیں۔

    دوسری جانب ملک میں آٹے کی قلت دور کرنے کےلیے حکومت کی جانب سے گندم درآمد کی جارہی ہے۔ روس سے حکومتی سطح پر منگوائی جانیوالی گندم کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی ہے۔ وزارت فوڈ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ روس سے گندم کے دو جہاز پہنچے ہیں۔ روس سے مزید ساڑھے 4 لاکھ ٹن گندم بذریعہ گوادر پاکستان پہنچے گی۔ حکومتی سطح پر مجموعی طور پرساڑھے 7 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جا رہی ہے۔ 30 مارچ تک روس سے حکومتی سطح پر درآمد کی جانیوالی گندم کے تمام جہاز پاکستان پہنچ جائیں گے۔

    مختلف ممالک سے بھی درآمدی گندم لیکر جہاز کراچی پورٹ پہنچ چکے ہیں۔ اب تک ساڑھے تین لاکھ ٹن گندم کراچی پورٹ آچکی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک بھر میں آٹے کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں اور اس سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ جبکہ سستا آٹا لینے کے چکر میں گزشتہ روز ایک ہرسنگ نامی مزدور کی بھگ دڑ میں جان بھی چلی گئی تھی.


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نائیجیریا میں ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے منتظر 32 افراد اغوا
    ٹائٹن اروم نامی پھول جو 7 سے 10 سال میں ایک بار کھلتا ہے
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی

    یاد رہے ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر کے آخری ہفتے میں آٹے کی قیمت میں تقریباً تین فیصد (2.81 فیصد) تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ رواں ہفتے میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں کم از کم 200 روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔

  • حکومت سے گلہ ہے  زخمی ہونے والے مزدوروں کیلئے سہولت نہیں. محمد خان

    حکومت سے گلہ ہے زخمی ہونے والے مزدوروں کیلئے سہولت نہیں. محمد خان

    حکومت سے گلہ ہے زخمی ہونے والے مزدوروں کیلئے سہولت نہیں. محمد خان

    کراچی کے علاقے مچھر کالونی کو جہاز سازی سے منسلک ہوئے ایک زمانہ گزر چکا ہے اور اب تک کشتی ساز اپنے آباؤ اجداد کے پیشے سے جڑے ہوئے ہیں۔ علاقے میں موجود اس بوٹ یارڈ میں نہ صرف کشتیاں تیار کی جاتی ہیں بلکہ مرمت کے لئے بھی لائی جاتیں ہیں، جن میں بیرون ممالک جانے والی لانچیں بھی شامل ہیں ۔کہکشاں بخاری کی رپورٹ کے مطابق محمد خان اس پیشے سے اس وقت منسلک ہوئے جب وہ محض 15 سال کے تھے ،انہوں نے جیو ڈیجیٹل کو بتایا کہ جہاز سازی حضرت نوح (ع) کے دور سے کی جارہی ہے، بزرگوں نے اس پیشے کا انتخاب کیا اور اب کئی دہائیوں سے یہ سلسلہ جاری ہے ،بوٹ یاررڈ میں جہاز، کشتیاں اور لانچیں تیار کی جاتی ہیں جبکہ فشنگ ٹرالر بھی بنائے جاتے ہیں لیکن یہ سارے مراحل ہاتھ کے سہارے طے کئے جاتے ہیں۔

     محمد خان نے کہا کہ انہیں حکومت سے گلہ ہے کہ یہاں زخمی ہونے والے مزدوروں کو کوئی سہولت نہیں دی جاتی ہے جس کی وجہ سے کئی ہنر مندوں نے جہاز سازی کو خیر باد کہہ دیا ہے، ان کے مطابق یہ کاروبار رجسٹرڈ بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے مزدوروں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کراچی کے کشتی سازوں نے بڑے بڑے آرکیٹیکٹس اور انجینئرز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاز سازی نقشے کے ذریعے کی جاتی ہے لیکن کراچی کے کشتی سازوں نے بڑے بڑے آرکیٹیکٹس اور انجینئرز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔  عون علی 14 سال کے تھے جب وہ اپنے والد کے ساتھ اس پیشے سے منسلک ہوئے،میتھامیٹکس میں بی ایس سی کی تعلیم ہونے کے باوجود عون نے اپنے آبائی کاروبار کو اہمیت دی اور باقاعدہ نقشے سازی کا آغاز کیا۔

    البتہ ان کا کہنا ہے کہ اب ہنر آرکیٹیکٹس اور انجینئرز سے آگے نکل گیا ہے اور اب جہاز سازی بغیر نقشے کے کی جارہی ہے ،کوئی آفیشل ادارہ اگر کام کروائے تو نقشے کے تحت کشتی سازی کرلیتے ہیں لیکن زیادہ تر کام بغیر نقشے کے ہی کیا جارہا ہے ۔ جہاز سازی میں برمہ سے آنے والی برمہ ٹیک لکڑی استعمال کی جاتی تھی جس کے مہنگے ہونے کے بعد ملیشیا سے آنے والی پائن وڈ کا استعمال شروع ہوا لیکن اس پر مہنگائی کا قہر ٹوٹتے ہی کونگو کی لکڑی باڈی کے لیے استعمال کی جانے لگی جبکہ اسٹرکچر کے لیے لوکل لکڑی کا انتخاب کیا گیا ۔ لکڑی کی کٹائی اس پیشے کا اہم اور خطرناک ترین حصہ ہے ، منظور نے بورٹ یارڈ میں میں اپنی جوانی کا ایک طویل حصہ لکڑی کاٹتے گزارا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ پہلی بار جب لکڑی کی کٹائی دیکھی توسوچا کہ یہ وزن کس طرح سنبھالیں گے لیکن جب انسان ارادہ کرتا ہے تو ہمت اللہ دے ہی دیتا ہے ۔

     انہوں نے کہا کہ لکڑی جب ٹوٹتی ہے تو مثل ننگی تلوار جسم کے کسی بھی حصے میں لگ سکتی ہے لیکن اب کام کرنے کی عادت ایسی ہے کہ انہیں خوف نہیں آتا، منظور نے کہا کہ انہوں نے اپنے ابتدائی دنوں میں بطور ہیلپر 600 روپے ہفتہ پر کام کیا اور آج وہ بہت سے مزدوروں کے استاد کہے جاتے ہیں جبکہ بورٹ یارڈ میں اب بھی مزدوروں کو 6 ہزار روپے ہفتہ مزدوری دی جاتی ہے ۔
    سمندر ان جہاز سازوں کا سب کچھ ہے دوست بھی ، ہمراز بھی اور دشمن بھیسمندر ان جہاز سازوں کا سب کچھ ہے دوست بھی ، ہمراز بھی اور دشمن بھی جو اگر بپھر جائے تو ہچکولوں میں کشتی ہی نہیں زندگی بھی آجاتی ہے اور اگر نہ چڑھے تو جہاز مٹی کا مقدر بن کر دھنس جایا کرتے ہیں ۔ پانی ان کشتی سازوں کے مقدر کا ستارہ ہے جس کے چڑھتے ہی یہ اپنے کھلونے آغوش سمندر میں اتار دیتے ہیں اس امید پر کے ڈوبتا سورج ابھارنے والا ان کی نیا کو ڈوبنے نہیں دے گا ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نائیجیریا میں ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے منتظر 32 افراد اغوا
    ٹائٹن اروم نامی پھول جو 7 سے 10 سال میں ایک بار کھلتا ہے
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی

    لانچیں تیار ہونے کے بعد کرین کی مدد سے کنارے تک لائی جاتی ہیں، یہاں سے جاوید ہاشمی اور ان کی ٹیم کا کام شروع ہوتا ہے، لانچوں اور جہازوں کو سمندر میں اتارنے کے لئے20 سے 25 افراد کا عملہ کام کرتا ہے ، جاوید بھی بچپن ہی سے اس کام سے منسلک ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ چاند کی پہلی اور پندرہرویں تاریخ آتے ہی سمندر کا پانی چڑھ جاتا ہے، پانی کے چڑھتے ہی کنارے پر لگے جہاز کے نیچے گریس لگے تختوں کے زریعے عملے اور کرین کی مدد سے دکھیل کر سمندر میں اتارا جاتا ہے جہاں دو کشتیوں کی مدد سے اسے سمندر کی موجوں کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ جاوید کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے عملے کے تمام لوگ پانی کے چڑھنے کا انتظار کرتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں کہ جہاز نہ ڈوبے ،اگر پانی کا چڑھاؤ کم ہو تو جہاز زمین میں دھنس جاتے ہیں جن کو نکالنے میں کئی مہینے لگ جاتے ہیں ۔ یہ کہانی کسی رومانوی قصے سے کم نہیں لگتی البتہ اس قصے میں ابن آدم کسی پری کے اترنے کا نہیں بلکہ سمندر اور پانی کے چڑھنے کے انتظار میں ہے ۔