Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • اسلام آباد خودکش دھماکا:کینیڈا اور یورپی یونین سمیت دیگر کی مذمت

    اسلام آباد خودکش دھماکا:کینیڈا اور یورپی یونین سمیت دیگر کی مذمت

    سعودی عرب کینیڈا اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک کے سفرا نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے-

    اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران امام بارگاہ پر ہونے والے ہولناک حملے کی سعودی وزارت خارجہ نے سخت مذمت کرتے ہوئے عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے، شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور معصوم شہریوں کا خون بہانے کی ہر کوشش کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا کہا کہ سعودی عرب ہر قسم کی دہشتگردی، انتہاپسندی اور تشدد کے خلاف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے سعودی عرب نے شہدا کے اہل خانہ، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی۔

    امام بارگاہ پر ہونے والے ہولناک حملے پر برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے انہوں نے شہدا اور زخمیوں کے اہلِ خانہ کے لیے دعائیں کیں اور اس پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔

    یورپی یونین نے اسلام آباد خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج اسلام آباد میں ہونے والے ہولناک خودکش حملے کی خبر سن کر ہمیں گہرا صدمہ پہنچا ہے، یورپی یونین ہر قسم کی دہشتگردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی سخت مذمت کرتی ہے،ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور شہدا اور زخمیوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

    سویڈن کی پاکستان میں سفیر الیگزینڈرا برگ وون لنڈے نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے حملے کی ہولناک خبر پر ہمیں گہرا دکھ ہوا ہے، ہماری گہری تعزیت اور ہمدردیاں شہدا، زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

    کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اسلام آباد خود کش دھماکے کی خبر سن کر انتہائی افسوس ہوا، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوگئےآج کینیڈا کے عوام پاکستان کے عوام، شہداء، زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کو اپنی دعاؤں اور خیالات میں یاد رکھے ہوئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی اسلام آباد میں خودکش حملے کی شدید مذمت

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد کی مسجد و امام بارگاہ میں خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے انتونیو گوتریس نے شہریوں اور عبادت گاہوں پر حملے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے اور ذمہ داروں کو شناخت کر کے انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔

    انتونیو گوتریس نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان سے اقوام متحدہ کی مکمل یکجہتی کا اظہار اور انتہا پسندی کے خاتمے کی کوششوں میں پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں وسیع کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ حکام نے اس واقعے میں ملوث افراد کی جلد گرفتاری اور ممکنہ خطرات کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق، خودکش بمبار یاسر ولد بہادر خان کے اہلِ خانہ اور معاونین کی اہم گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں بمبار کے بہنوئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا جبکہ اس کے بھائی کو پشاور سے حراست میں لیا گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور اپنے بہنوئی سے بھی رابطے میں تھاایک اہم سہولت کار کو نوشہرہ میں ہلاک کر دیا گیا، جب کہ سب سے اہم گرفتاری بمبار کی والدہ کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے گھر سے گرفتار کر کے تفتیش کے لیے منتقل کیا گیا-

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ترلائی، اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے وزیرِ اعظم نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

    وزیرِ اعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی اور کہا کہ دھماکے میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور وزیر صحت کو خود علاج معالجے کی نگرانی کرنے کا حکم دیا۔

    خودکش دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں ذرائع کے مطابق دھماکے میں چار سے چھ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جبکہ خودکش حملے میں بال بیرنگ کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ تھی، جس سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔

    ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور نےامام بارگاہ میں داخل ہونے سے قبل فائرنگ کی تھی اور بعد ازاں ہال میں جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا خودکش بمبار نے راستے میں دو گولیاں چلائیں جبکہ اندر داخل ہو کر چھ فائر کیے تھے واقعے کے بعد جائے وقوعہ سے تمام گولیوں کے خول اکٹھے کر لیے گئے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔

    تحقیقات کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی حاصل کر لی گئی ہے، تاکہ حملہ آور کی شناخت اور واقعے سے جڑے دیگر پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے قانون نافذ کرنے والے ادارے سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں،حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور بارودی مواد کی فراہمی سے متعلق پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے، جن میں سے 29 کی حالت تشویشناک ہے۔

  • پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ سے بائیکاٹ، بنگلہ دیشی حکومت کا ردِعمل سامنے آگیا

    پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ سے بائیکاٹ، بنگلہ دیشی حکومت کا ردِعمل سامنے آگیا

    آئی سی سی ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر بنگلہ دیشی حکومت کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق مشیر کھیل آصف نذرل نے پاکستان کے مؤقف کو اصولی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے،وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور اس کی وجہ بنگلادیش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

    بنگلہ دیشی مشیر کھیل آصف نذرل کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے نکالے جانے کے معاملے پر اصولی اور جرات مندانہ مؤقف اپنایا،پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے تحت بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا، جس پر وہ پاکستانی قیادت کے شکر گزار ہیں۔

    روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا انکشاف

    آصف نذرل نے اس موقع پر زور دیا کہ کھیل کو سیاست سے پاک رہنا چاہیے اور عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں منصفانہ رویہ اختیار کیا جانا ضروری ہے کھیلو ں کے میدان کو تنازعات سے دور رکھنا ہی عالمی سپورٹس کی بہتری کے لیے اہم ہے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کابینہ اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ہم بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے کیونکہ کھیل کے میدان پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ ہمیں مکمل طور پر بنگلادیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے میرے خیال میں یہ بہت مناسب فیصلہ ہے۔

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    اس سے قبل حکومت پاکستانی نے یکم فروری کو ایک سوشل میڈیا پر جاری پیغام کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے مگر 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

    اس حوالے سے آئی سی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کونسل کو باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا ہےگزشتہ روز بھارتی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی سی سی نے مسئلے کے حل کے لیے نائب سربراہ عمران خواجہ کو پاکستان سے بیک ڈور بات چیت کا ٹاسک سونپا ہے۔

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

  • بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کے لیے بنگلادیش کی حمایت کے شکر گزار ہیں، یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں نہیں کھیل رہے ہیں۔

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آغاز سے قبل کولمبو میں کپتانوں کی پریس کانفرنس میں سلمان علی آغا نے کہا کہ بنگلادیشی ہمارے بھائی ہیں،یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں نہیں کھیل رہے ہیں۔

    بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ سے متعلق سوال پر قومی کپتان نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف میچ سے متعلق فیصلہ حکومت نے کرنا ہے اور ہم حکومت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں،بھارت کے ساتھ میچ ہوگا یا نہیں اس کا اندازہ نہیں، جو حکومت کہے گی اس کے مطابق ہی چلیں گے تاہم بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے۔

    سلمان علی آغا نے کہا کہ بطور کپتان یہ میرا پہلا ورلڈکپ ہے جس کے لیے بہت پرجوش ہوں اور امید ہے میری کپتانی میں ٹیم اچھا کھیل پیش کرے گی ،ہم ایشیا کپ کے بعد سے اچھا کھیل پیش کررہے ہیں، پچھلے 6 ماہ سےاچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں، اس مرتبہ ٹیم اچھا کھیل رہی ہے، امید ہے اچھی کارکردگی دکھائیں گے اور امید ہے باقی ٹیموں کے خلاف اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گاسری لنکا میرے دوسرے گھر کی طرح ہے اور لوگ بہت اچھےاخلاق والے ہیں، یہاں آ کر ہمیشہ اچھا محسوس کیا ہے۔

  • پاکستان نے سلامتی کونسل سے بی ایل اے پر پابندی کا مطالبہ کر دیا

    پاکستان نے سلامتی کونسل سے بی ایل اے پر پابندی کا مطالبہ کر دیا

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر پابندی عائد کرنے کا باضابطہ مطالبہ کردیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی زیرِ غور درخواست منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے یہ مطالبہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں دہشت گردی سے عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر بحث کے دوران کیا گیا۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے اور اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور دنیا کو متاثر کرتے ہیں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد خطے میں بعض دہشت گرد تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنتہ الہندوستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسی تنظیموں کو نئی زندگی ملی اور انہوں نے اپنی کارروائیاں تیز کیں بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملے کیے جن میں 48 بے گناہ شہری جان سے گئے،کالعدم بی ایل اے نے بلوچستان کے مختلف مقامات پر متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی-

    انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کے مشرقی ہمسایے کی کھلی حمایت سے یہ گروہ پاکستان کے اندر سفاکانہ دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کرےانہوں نے اجلاس میں اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ بعض دہشت گرد عناصر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں، جو علاقائی امن کے لیے خطرہ ہےعاصم افتخار نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔

    دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ کوئی بھی دہشت گرد یا اس کا سہولت کار قانون سے بالاتر نہیں اور تمام عناصر سے بلا امتیاز قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا سیکیورٹی فورسز نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا کر بلوچستان میں امن و امان کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی اور تشدد کو کسی بھی جواز کے تحت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

    ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے شہریوں، سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان سب کی مشترکہ جدوجہد سے ہی ملک میں امن و استحکام ممکن ہے۔

  • فیلڈ مارشل نے مسئلہ کشمیر پرجس عزم کا اظہار کیا،وہ سچ کردکھایا

    فیلڈ مارشل نے مسئلہ کشمیر پرجس عزم کا اظہار کیا،وہ سچ کردکھایا

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کشمیرپر تاریخی کردار،جوکہا وہ سچ کردکھایا-

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 5 فروری کو کشمیر پر بھارتی تسلط کیخلاف یوم یکجہتی کشمیرمنایا جاتا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک سال قبل بھی یوم یکجہتی کشمیر پرمظفرآباد میں کشمیر پراپنا عزم مصمم دہرایا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کو دو ٹوک پیغام دیا کہ پاکستان اس کی عددی برتری کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    فیلڈمارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے معاملے پر مزید دس جنگیں لڑنے سے بھی دریغ نہیں کریگافیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی افواج کی بھارتی جارحیت کے جواب میں شاندار فتح کو دنیا بھرنے بھی تسلیم کیا-

    آزادکشمیر کے شہریوں نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ،سپہ سالار کی گذشتہ سال یوم یکجہتی کشمیر پرمظفرآباد آمد سے دونوں اطراف کے کشمیریوں کا حوصلہ بڑھا ہمیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مند قیادت پر فخر ہے،فیلڈ مارشل نے گذشتہ سال مسئلہ کشمیر پرجس عزم کا اظہار کیا، مئی 2025میں اسے پورا کردکھایا، ہماری مسلح افواج کی شاندار کامیابی سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن ہوا، مسئلہ کشمیر پرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا واضح موقف مظلوم کشمیریوں کے حوصلوں کو جلا بخش رہا ہے،مسئلہ کشمیر پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دوٹوک اور غیر مبہم مؤقف کشمیری عوام کے لیے امید، اعتماد اور حوصلے کی علامت بن چکا ہے۔

  • کمبوڈیا لےجا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    کمبوڈیا لےجا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    گوجرانوالہ: ایف آئی اے نے کمبوڈیا لےجا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار کر لیا۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق گروہ 6 افراد پر مشتمل تھا جس کے 2 افراد کمبوڈیا میں مقیم تھے پاکستان میں مقیم 4 ملزمان دیگر نوجوانوں کو جال پھنساتے تھے، ملزمان سوشل میڈیا پر کمبوڈیا میں کال سینٹر پر جاب کا اشتہار دیتے تھے، اشتہار دیکھ کر سادہ لوح نوجوان ملزمان سے رابطہ کرتے تھے ملزمان پڑھے لکھے اور کمپیوٹر اسکلز والے لوگوں کو ٹارگٹ کرتے تھے، کمبوڈیا میں مقیم ملزمان فی کس 2 ہزار ڈالر لیتے تھے پاکستانیوں کو قیدی بناکر آن لائن اسکیمنگ کا کام کروایا جاتا تھا، کام سے انکار کرنے والوں پر تشدد بھی کیا جاتا تھا، یہ گروہ اب تک 100 سے زائد پاکستانیوں کو کمبوڈیا بھیج چکا تھا۔

  • پاکستان اور قازقستان کے درمیان 37 معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور قازقستان کے درمیان 37 معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور قازقستان کے درمیان 37 معاہدوں پر دستخط ہوئے-

    وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کے ہمراہمختلف معاہدوں کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں خطاب کہا کہ آپ کا دورہ پاکستان پوری قوم اور حکومت کے لیے باعث مسرت ہے، یہ کسی قازق صدر کی جانب سے 23 سال بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے 37 ایم او یوز پر دستخط ہوئے، اور ان ایم او یوز کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ قازقستان کے صدر کے طور پر آپ کو ‘نشان پاکستان’ عطا ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں یہ ہماری طرف سے آپ کی قیادت کی قدردانی کی نشانی ہے آج دونوں ممالک نے تزویراتی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے قازقستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار معدنیات سے نوازا ہے، اس کے باوجود قازقستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت کا حجم کم ہے، جسے اگلے سال تک ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش کریں گے، پاکستان قازقستان کو اپنا اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے اور تجارت، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں قازقستان کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔

    اس موقع پر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دورے کی دعوت دینے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں قازقستان کا قابل اعتماد اور اہم دوست ہے، ہمارے لوگ صدیوں پرانے تعلقات میں بندھے ہیں اور مستقبل کے حوالے سے ایک جیسے خوابوں کا اشتراک کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں تعلقات مضبوط بنانے پر وزیراعظم شہباز شریف کی فیصلہ کن اور اہم کوششوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شہباز شریف کو ایک وژنری لیڈر مانا جاتا ہے جو پاکستان کو ترقی کی راہ پر آگے لے جا رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان کا علاقائی اور بین الاقوامی اثر بڑھ رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات ہوئی، اور تجارت، ثقافت، مواصلات جیسے شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کی صلاحیتوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ افغانستان سے گزرنے والے ٹرانس کیسپیئن کاریڈور اور دونوں ممالک میں براہِ راست پروازیں شروع کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔

    قازقستان کے صدر نے پاکستانی کمپنیوں کو قازقستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ زراعت، فارماسیوٹیکل اور دفاعی صنعت کو وسعت دینے پر مذاکرات ہوئے ہیں ہم پاکستانی سرمایہ کاروں کو قازقستان میں موافق ماحول فراہم کریں گے آج پاکستان-قازقستان دوستی اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح بھی کیا گیا، جہاں روایتی کھیلوں کی تربیت دی جائے گی۔

    قازق صدر نے کہا کہ آج بین الاقوامی منظرنامے میں امن کے فروغ کے لیے دونوں ممالک متحد ہیں اور دنیا بھر میں جاری تنازعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ تنازعات کا حل مذاکرات اور ڈائیلاگ سے نکالنا چاہیےانہوں نے اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو اس سال قازقستان کے دورے کی دعوت دی۔

  • اسحاق ڈار سے قازقستان کے صدر  کی ملاقات

    اسحاق ڈار سے قازقستان کے صدر کی ملاقات

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر آئے ہوئے جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف سے ملاقات کی۔

    اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے صدر توکایف کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور صدرِ مملکت، وزیراعظم، حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے پیغامات پہنچائے۔

    ملاقات کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی روابط میں تیزی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونو ں ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت خوش آئند ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور قازقستان سیاسی، معاشی اور عوامی سطح پر باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرتے رہیں گے۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے مل کر کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ باہمی تعاون کے فروغ سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ علاقائی خوشحالی کو بھی تقویت ملے گی۔

  • مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں،فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تصاویر شامل

    مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں،فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تصاویر شامل

    مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں یومِ یکجہتی کشمیر سے قبل مختلف علاقوں میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز سامنے آئے ہیں، جن میں کشمیری عوام کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ پوسٹرز حریت پسند تنظیموں کی جانب سے آویزاں کیے گئے ہیں پوسٹرز میں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ، آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی تصاویر شامل ہیں۔

    پوسٹرز میں Thank You Pakistan‘،’ A Bond of Blood and Belief ‘اور’ Pakistan supports Kashmir’s right to decide — Let the people choose ‘جیسے جملے شامل ہیں–

    پوسٹرز میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلسل عالمی سطح پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کا مقدمہ اجاگر کر رہا ہے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کر رہا ہے، جس پر کشمیری عوام پاکستان کے شکر گزار ہیں،پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بھارتی قبضے کے خلاف اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے۔ پوسٹرز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر دو قومی نظریے کے مطابق پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت نے اکتوبر 1947 میں اس کے ایک حصے پر غیر قانونی قبضہ کیا۔

    پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارتی تسلط کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔

    یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو منایا جاتا ہے، یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا، جب پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب ومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر کے شہریوں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار ایک پر جوش اور پرتپاک انداز میں کیا۔

    پیغام میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے بہادر کشمیری اکیلے نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی عوام ان کے دکھ، درد اور جدوجہد کو محسوس کرتے ہیں اور ان کی آواز بن کر دنیا تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ پیغام میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کی گئی ہے،کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کی یہ قربانیاں آزادی کے عزم کو مزید مضبوط کر رہی ہیں، کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ رشتہ مضبوط ہے اور کبھی کمزور نہیں ہو سکتا سبز ہلالی پرچم سے وابستہ امید آج بھی کشمیری عوام کے دلوں میں زندہ ہے، کشمیری دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں، ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں کشمیری عوام ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر آزادی کی صبح دیکھے گا۔

  • ترک صدر  نے  عمران خان کو ترکیہ آنے کی آفر کی،سابق سینیٹر کا انکشاف

    ترک صدر نے عمران خان کو ترکیہ آنے کی آفر کی،سابق سینیٹر کا انکشاف

    ر سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا ہے کہ ترک صدر طیب اردوان نے عمران خان کو ترکیہ آنے کی آفر کی ہے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےمشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ترک صدر کی طرف سے عمران خان کو یہ آفر 2025 میں آئی تھی، وہ واحد غیرملکی لیڈر ہیں جنہوں نے پاکستان کے ساتھ اس معاملے پر بات کی تھی، بڑے مسائل حل کرنے کے لیے یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، دہشتگردی اور معیشت کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لیے سیاسی تصفیہ ضروری ہے۔

    مشاہد حسین نے کہا کہ سیاست میں کوئی چیز ناممکن نہیں، نومبر 2024 میں عمران خان کی رہائی کا فیصلہ بھی ہوا تھا لیکن ان کے نادان دوستوں نے موقع پر سبوتاژ کردیا سیاسی چپقلش 3 سال سے چل رہی ہے، عمران خان نظام کا حصہ ہے، اسٹبلشمنٹ سے ان کا اچھا تعلق رہا، جنرل ضیا اور جنرل باجوہ سے اچھے تعلقات رہے، فوج کے پسندیدہ رہے ہیں اور یہ پسندیدگی بحال بھی ہوسکتی ہے۔