Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • جنرل قمر جاوید باجوہ بطور آرمی چیف اور سیکیورٹی چیلنجز ، بقلم: شکیل احمد رامے

    ملک کو درپیش دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے میں پاک فوج کا کردار

    بقلم: شکیل احمد رامے

    گزشتہ تین دہائیوں سے ملک کو درپیش دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے میں پاک فوج کا کردار مٹی کے ایک ایک ذرے سے عیاں ہے۔ موجودہ امن کا تناظر اس کا گواہ ہے۔ بلاشبہ یہ ہماری آنے والی حکومتوں کی مسلسل اور عوامی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اگرچہ آپریشن ضرب عضب جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع کیا گیا تھا لیکن ان کے جانشین جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے ادارے کی مشترکہ کوششوں سے اسے دیرپا کامیابی سے ہمکنار کیا۔ جنرل باجوہ، جو آرمی چیف کے طور پر اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں، نے یہ عہدہ 6 سال قبل سنبھالا تھا۔ اپنے دور میں، انہوں نے دہشت گردی، ہائبرڈ جنگ اور سی پیک کو محفوظ بنانے سمیت کئی محاذوں پر لڑنے میں پاکستان کی قیادت کی۔

    اس طرح، سیکورٹی چیلنجوں کے تناظر میں ان کے دور کا تجزیہ کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ملک کے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے ان کے کا کردار کتنا بہترین تھا اگرچہ، ان کے کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے، لیکن میں چار اہم ترین کارناموں پر بات کریں گے

    سب سے پہلے، ان کی کمان میں پاک فوج نے ردالفساد کے نام سے ایک جامع انسداد دہشت گردی آپریشن شروع کیا۔ یہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن ہے، جو 2017 سے جاری ہے۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عام شہریوں کے ساتھ مل کر اور قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔ پروگرام کے اہم عناصر ہیں، طاقت کے استعمال کا حق ریاست کے پاس ہے، ڈبلیو بی ایم آر کے تحت مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانا، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ، پرتشدد انتہا پسندی کا خاتمہ، اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں فلاحی اقدامات۔ یہ سب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں انتہائی عمدہ طریقے سے کام ہوا

    ملٹری اور ایل ای اے نے 3 لاکھ سے زائد آئی بی اوز آپریشن کیے، غیر قانونی ہتھیار اور گولہ بارود ضبط کیا۔ فوج نے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو بھی پکڑا اور دہشت گردوں کی سزا کو یقینی بنایا۔ ایک اندازے کے مطابق دہشت گردوں کو سزا سنائے جانے کی شرح 70 فیصد تھی۔ پاک فوج نے تقریباً 40 ہزار پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیت بھی دی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے شہریوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔ سیکیورٹی کے بہتر ماحول نے بین الاقوامی برادری خصوصاً سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بڑھانے میں بھی مدد کی۔ اس نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد کی جس کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔

    دوسرا، فوج نے ففتھ جنریشن وارفیئر (FGW) یا ہائبرڈ وارفیئر (HWF) سے لڑنے کی صلاحیتیں بنانا شروع کر دیں۔ پہلا مرحلہ ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو قائم کرنا تھا۔ دوسرا مرحلہ جنگ میں مؤثر طریقے سے قیادت کرنے کے لیے انسانی وسائل کو تربیت دینا تھا۔ تیسرا مرحلہ وسائل کی تعیناتی اور انسانی وسائل کو زمینی حقائق سے واقف کرانا اور حقیقی وقت کی لڑائی میں مشغول ہونا تھا۔ اس کی فوری طور پر ضرورت تھی، کیونکہ پاکستان ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے بدترین متاثرین میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے دشمنوں نے ہر طرف سائبر ویئر اور پاکستان کے خلاف تخریب کاری کی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کے آغاز نے پاکستان اور چین کے مخالفین اور دشمنوں کو مزید اشتعال دلایا اس طرح انہوں نے پروپیگنڈا، سائبر وار اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں تیزی لائی۔ خوش قسمتی سے، پاکستان ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے بہتر اور فعال نظام کی وجہ سے پروپیگنڈے اور سائبر جنگ کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا۔

    تیسرا، افغانستان سے امریکی افواج کے اچانک انخلا نے خطے کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی۔ فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان کو زیادہ خطرہ لاحق تھا۔ پاکستان کے دشمنوں اور مخالفین نے اسے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کا اچھا موقع سمجھا۔ ان کی طرف سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ دہشت گردی کی ایک نئی لہر پاکستان کو لپیٹ میں لے لے گی۔ تاہم، بروقت اقدامات اور انسداد دہشت گردی کے بہتر نظام اور ردالفساد جیسے اقدامات نے صورت حال پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کی۔ اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے سے (جو کہ پاکستان کی مسلح افواج نے 4 سال میں مکمل کیا تھا) نے بھی سرحد پار دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے میں مدد کی۔ اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے کچھ واقعات دیکھے لیکن بڑی حد تک صورتحال قابو میں رہی۔ اب پاکستان نئی ضروریات اور ضرورت کے مطابق انسداد دہشت گردی کے طریقہ کار کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چوتھا، پاکستان کی مسلح افواج نے بھی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلح افواج نے تمام کارروائیوں کو نافذ کیا، جو انہیں تفویض کیے گئے تھے۔ فوج نے ڈی ریڈیکلائزیشن کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ پیغام پاکستان ایک اور بہترین اقدام ہے، جس نے بنیاد پرستی کو کم کرنے میں مدد کی۔

    پانچواں، سی پیک ایک بہت بڑا پروگرام ہے، جو پاکستان کے معاشی اور سماجی منظر نامے کو بدل سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی، ایک ایسے وقت میں جب پاکستان متعدد مسائل میں گھرا ہوا تھا اور ہمارے دوست، خاص طور پر جنگی دہشت گردی کے اتحادی ہمیں چھوڑ گئے۔ بلکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ اس تناظر میں چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔ یہ پاکستان کے مخالفین کے لیے بُری خبر تھی، اور انہوں نےسی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے متعدد پروگرام/کارروائیاں شروع کیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے سی پیک کی اہمیت اور سیکورٹی ضروریات کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر سیکورٹی کا ایک جامع فریم ورک تیار کیا۔ سیکورٹی فریم ورک کے مالک، مسلح افواج اور LEA نے سی پیک کے پہلے مرحلے کے دوران سی پیک سے متعلق سرمایہ کاری کا کامیابی سے دفاع کیا۔

    اتنی بڑی کامیابی کے باوجود، کچھ ایسے شعبے ہیں، جن کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح نئی قیادت کو ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ مثال کے طور پر، اب سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو سی پیک کے پہلے مرحلے سے بالکل مختلف ہے۔ اس طرح سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ضروریات کے مطابق سیکیورٹی فریم ورک کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ عالمی حالات بھی بہت تیزی سے بدل رہی ہیں اور بہت سے بڑے کھلاڑی سی پیک کے حق میں نہیں ہیں۔ روس اور یوکرائن کا بحران صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا بھی علاقائی صورتحال کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔ اس تناظر میں سی پیک کے لیے حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے۔

  • امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے پرنسپل ڈپٹی ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں مضبوط شراکت داری چاہتا ہے-

    باغی ٹی وی : پریس بریفنگ کے دوران ترجمان ویدانت پٹیل نے ٹی ٹی پی کے پاکستان میں دوبارہ نمودار ہونے پر امریکی تشویش سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں مضبوط شراکت داری چاہتا ہے۔

    جو بائیڈن ایران میں "افراتفری، دہشت گردی اور تباہی” کو ہوا دے رہے…

    انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ تمام عسکری اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ہم تمام علاقائی اور عالمی دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے تعاون کے منتظر رہیں گے۔

    پٹیل نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ان چند ممالک میں سے ہے جنہوں نے دہشت گردی سے بہت نقصان اٹھایا ہے، اس لیے علاقائی استحکام اور سلامتی کے خلاف تحریک طالبان پاکستان جیسے خطرات کا مقابلہ کرنا پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔

    پاکستانی جوہری اثاثوں سے متعلق صحافی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس پر وائٹ ہاؤس ہی جواب دے سکتا ہے۔

    پاکستانی سفیر کے محکمہ خارجہ میں بلائے جانے سے متعلق ایک سوال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں ان کے پاس تفصیلات موجود نہیں ہیں، تاہم امریکی حکام پاکستانی حکام کے ساتھ تسلسل کے ساتھ ملتے رہتے ہیں۔

    دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیئر سینیٹرکرس وان ہالن نے پاکستان پر امریکی صدر کے بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ بھی پاکستان کے ساتھ امریکا کے مضبوط تعلقات چاہتی ہے۔

    پاکستان کےعزم اوراپنے جوہری اثاثوں کومحفوظ بنانےکی صلاحیت پر یقین ہے،جوبائیڈن کے…

    سینیٹر کرس وان ہالن نے کہا کہ صدر بائیڈن کا بیان بےساختہ تھا، امریکی پالیسی میں کوئی ردوبدل نہیں، امریکی محکمہ خارجہ کی وضاحت سے لگتا ہے کہ صدارتی بیان جان بوجھ کر نہیں دیا گیا تھا، پاکستان کے ساتھ مربوط و مستحکم تعلقات کےخواہاں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر دو طرفہ رابطوں میں اضافہ ہوا، اس سلسلے میں پاکستان میں امریکی سفیر سے بھی بات ہوئی پاکستان کو دی جانے والی ایمرجنسی امداد میں امریکا سب سے آگے رہا، امریکا مسلسل پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے کہ کس طرح مزید مدد کی جا سکتی ہے۔

    امریکی سینیٹر وان ہالن نے مزید کہا کہ عمران حکومت گرانے میں امریکی مداخلت کا الزام غلط ہے، انتخابات میں دعویٰ کرنا ایک طرف، لیکن ایسے الزامات میں صداقت نہیں، پچھلی پاکستانی حکومت کے ساتھ بھی کام کرتے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر صدربائیڈن کو خط لکھا ہے کہ ایگزیکٹوآرڈر (ٹی پی ایس)کے زریعے امریکا میں موجود پاکستانیوں کو عارضی تحفظ کا درجہ دیاجائے۔

    پی آئی اے کا فلائٹ اسٹیورڈ ٹورنٹو ایئرپورٹ سے مبینہ طور پر غائب

    واضح رہے کہ صدر بائیڈن نے گزشتہ جمعرات کو لاس اینجلس میں ڈیموکریٹک کانگریشنل کمپین کمیٹی سے خطاب کے دوران پاکستان کو ایک خطرناک ملک قرار دیا تھا جس کے پاس ان کے بقول بغیر کسی ہم آہنگی کے، جوہری ہتھیار ہیں۔

    صدر بائیڈن کے بیان کے بعد پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے امریکی صدر کے بیان پر وضاحت طلب کی تھی۔

    جبکہ منگل کے روز محکمہ خارجہ کے ڈپٹی ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ رکھنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے پرنسپل ڈپٹی ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ ایک محفوظ اور خوش حال پاکستان کو امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھا ہے اور عمومی طور پر امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنی طویل عرصے سے قائم تعاون کی قدر کرتا ہے۔

    روسی ایئرفورس کا جیٹ طیارہ رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا

  • ورام اپ میچ: افغانستان کا پاکستان کا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا

    ورام اپ میچ: افغانستان کا پاکستان کا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے وارم اپ میچ میں پاکستان اور افغانستان کا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : 155 رنز کے تعاقب میں پاکستان نے اپنی اننگز میں 2.2 اوورز میں 19 رنز بنائےتھے جس کے بعد بارش کے باعث میچ روک دیا گیا جو دوبارہ شروع نہ ہوسکا جس کے باعث امپائر کو میچ ختم کرنا پڑا۔

    برسبین میں کھیلے جارہے وارم اپ میچ میں فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے افغانستان کے خلاف شاندار بولنگ کا آغاز کیا اور افغانستان کی دو وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ٹی20 ورلڈکپ کے وارم اَپ میچ میں افغانستان نے پاکستان کو جیت کے لیے 155 رنز کا ہدف دیدیا۔


    ps://twitter.com/TheRealPCB/status/1582561683922628608?s=20&t=kwB7Zc1Wqtk0Aw8NOTh0Mw
    برسبین میں کھیلے جارہے میچ میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے ٹاس جیت کر افغانستان کو بیٹنگ کی دعوت دی، افغان ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 154 رنز بنائے۔

    اوپنر حضرت اللہ ززئی 9، رحمان اللہ گرباز 0 پر آؤٹ ہوئے، مڈل آرڈر میں ابراہیم زادران 35 رنز بناکر نمایاں رہے۔ کپتان محمد نبی نے میچ کےاختتامی لمحات میں جاحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا انہوں نے 17 گیندوں پر51 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ عثمان غنی نے انکا ساتھ دیتے ہوئے 32 رنز بنائے۔

    فاسٹ بولر شاہین نے افغان کرکٹر رحمان اللہ گربز کو پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کیا ، جس کے بعد شاہین حضرت اللہ زازئی کو صرف 9 ہی رنز پر پویلین بھیجنےمیں کامیاب ہوگئےافغانستان کی تیسری وکٹ فاسٹ بولرحارث رؤف نے لی حارث نے دروش رسولی کو 7 گیندوں پر 3 رنز پر آؤٹ کیا-


    قومی ٹیم کی قیادت بابر اعظم کررہے ہیں جبکہ افغانستان ٹیم کی قیادت محمد نبی کررہے ہیں پاکستانی اسکواڈ میں محمد رضوان، شان مسعود، حیدر علی، افتخار احمد، خوشدل شاہ، محمد نواز، شاداب خان، آصف علی، محمد وسیم، حارث رؤف، شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور محمد حسنین شامل ہیں۔


    وارم اپ میچ میں فخر زمان کے علاوہ تمام کھلاڑی حصہ لیں گے، فخر زمان ری ہیب میں شامل اپنی ٹریننگ کا سلسلہ جاری رکھیں گے جبکہ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان بھی وارم اپ میچ میں بیٹنگ کریں گے۔

    قبل ازیں پاکستان کو اپنے پہلے وارم اَپ میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • یوکرین نے پاور گرڈ پر روسی حملے کے بعد حالات کی سنگینی سے خبردار کردیا

    یوکرین نے پاور گرڈ پر روسی حملے کے بعد حالات کی سنگینی سے خبردار کردیا

    کیف:یوکرین نے پاور گرڈ پر روس کے حملے کے بعد سنگین صورت حال سے خبردار کردیا ہے اور صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ موسم سرما شروع ہونے والا ہے اور مسلسل روسی بمباری نے ملک کے ایک تہائی بجلی گھر تباہ کردیے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق یوکرین کی طرف سے ایسا انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے، جب روسی فوج نے یوکرینی سے مشرقی خارکیف کا علاقہ دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں گزشتہ ماہ علاقے سے تقریباً مکمل طور پر بے دخل کیے جانے کے بعد ماسکو نے وہاں کے ایک گاؤں کا قبضے حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    رپورٹ کے مطابق روسی فوج کی طرف سے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بھی ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جس کو مایوس کن حملہ قرار دیا گیا ہے۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کی طرف سے توانائی کا نظام کو بار بار نشانہ بنانے کو ’روسی دہشت گردی‘ کی ایک اور قسم قرار دیا ہے۔

    یوکرین کے سرہراہ نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ 10 اکتوبر سے یوکرین کے 30 فیصد بجلی گھر تباہ ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں بلیک آؤٹ ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا مطلب یہ ہے کہ اب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق یوکرین کے کئی علاقوں بشمول دارالحکومت کیف میں بجلی نہیں ہے۔

  • روس سے قریبی تعلقات کے الزام میں جرمنی کے سائبر سیکیورٹی چیف برطرف

    روس سے قریبی تعلقات کے الزام میں جرمنی کے سائبر سیکیورٹی چیف برطرف

    جرمنی کے سائبر سیکیورٹی چیف آرنے شوئن بوہم کو روس سے قریبی تعلقات کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔اطلاعات کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق جرمن وزیر داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ وفاقی انفارمیشن سیکیورٹی ایجنسی (بی ایس آئی) کے صدر آرنے شوئن بوہم کو فوری طور پر کام کرنے سے روک دیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد میڈیا اداروں نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ سائبر سیکیورٹی چیف نے جرمنی کی سائبر سیکیورٹی کونسل کے ذریعے روس کی سیکیورٹی سروسز سے وابستہ لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔آرنے شوئن بوہم ایسوسی ایشن کے بانی تھے، جنہیں جرمنی کی کمپنی کے رکن کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، اس کمپنی کو کے جی بی کے سابق ملازم نے قائم کیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسوسی ایشن نے ایسے کسی بھی مضحکہ خیز تعلق کو مسترد کر دیا ہے۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    جرمنی کی سائبر سیکیورٹی کونسل 2012 میں قائم کی گئی تھی، جو کمپنیوں، سیاست دانوں اور حکام کو سائبر سیکیورٹی کے معاملے پر مشورے دیتی ہے اور خود کو سیاسی طور پر غیرجانب دار قرار دیتی ہے۔آرنے شوئن بوہم کی برطرفی کو سب سے پہلے ڈیر اسپیگل نے رپورٹ کیا تھا، انہوں نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔

    وزارت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کا پس منظر صرف الزامات نہیں ہیں، جن کا ہم جانتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر میڈیا میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے، اس سے مستقل بنیادوں پر جرمنی کے سب سے اہم سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے صدر کی غیرجانب داری اور دفتر کے ضابطے کے حوالے سے عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

  • اسلام آباد:عمران خان کا خاتون صحافی کےسوال پردوسری خاتون صحافی کے بارے میں انتہائی نامناسب جواب

    اسلام آباد:عمران خان کا خاتون صحافی کےسوال پردوسری خاتون صحافی کے بارے میں انتہائی نامناسب جواب

    اسلام آباد:عمران خان کا خاتون صحافی کےسوال پردوسری خاتون صحافی کے بارے میں انتہائی نامناسب جواب نے حیران کردیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ایک خاتون صحافی کے سوال پر دوسری خاتون صحافی کے بارے میں انتہائی غیرمناسب جواب دیا۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب اور آرآئی یوجے کے وفد سے ملاقات کے دوران ایک خاتون صحافی نےکہا کہ خواتین صحافی جلسےکور کرنے جاتی ہیں توپی ٹی آئی ورکرز تنگ کرتے ہیں، اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ورکرز کو اس سلسلے میں ضرور ہدایات دوں گا۔

    تاہم اس موقع پر عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ‘غریدہ فاروقی ہجوم میں گھس جاتی ہے، پھر کہتی ہے تنگ کرتے ہیں، غریدہ فاروقی مردوں میں گھُسے گی تو ایسا ہی ہوگا آبیل مجھے مار‘ ۔ عمران خان سے جب یہ سوال ہوا کہ ’ آپ صحافیوں کو لفافہ صحافی کیوں کہتے ہیں؟ ‘ تو عمران خان نے جواب دیا کہ انہوں نے سلیم صافی کے علاوہ کسی صحافی کے متعلق ایسا کبھی کچھ نہیں کہا۔

    سوشل میڈیا ٹرولنگ پر عمران خان نے ہاتھ اٹھالیے اور کہا کہ وہ اسے نہیں روک سکتے، یہ کسی کے قابو میں نہیں ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پورے پاکستان میں صرف نجم سیٹھی پر کیس کیا تھا، جو ابھی تک چل رہا ہے ۔

    عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں من پسند صحافیوں کو بلائے جانے کے سوال پر کہا انہیں نہیں معلوم کہ کون لوگ دیگر چینلز کو پریس کانفرنسز میں نہیں آنے دیتے ۔

  • پاکستان کی پاور لفٹر ربیعہ شہزاد نے انٹرنیشنل مقابلوں میں سلور میڈل جیت لیا

    پاکستان کی پاور لفٹر ربیعہ شہزاد نے انٹرنیشنل مقابلوں میں سلور میڈل جیت لیا

    لاہور:پاکستان کی پاور لفٹر ربیعہ شہزاد نے سلوواکیہ میں ہونے والے پاور لفٹنگ کے انٹرنیشنل مقابلوں میں سلور میڈل جیت لیا۔اطلاعات کے مطابق ورلڈ پاور لفٹنگ کے مقابلے گلوبل پاور لفٹنگ کمیٹی نے کرائے جس میں پاکستان کی ربیعہ شہزاد نے 52 کلو گرام کلاس میں سلور میڈل جیتا جبکہ یوکرین کی پاور لفٹر نے گولڈ میڈل جیتا۔ربیعہ شہزاد نے 5 . 267 کے جی وزن اٹھایا اور قومی ریکارڈ بھی قائم کیا۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    کامیابی کے بعد ربیعہ شہزاد کا کہنا تھا کہ میں انٹرنیشنل مقابلوں میں سلور میڈل جیت کر خوش ہوں ،میں سیلف فنانس پر بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے رہی ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ میرا مقصد نیشنل ریکارڈ قائم کرنا تھا تاکہ میں اپنی پرفارمنس دکھا سکوں۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو فیڈریشن کے معاملات دیکھنے چاہئیں۔واضح رہے کہ ربیعہ شہزاد قومی بیڈ منٹن چیمپئن اولمپئین ماحور شہزاد کی بہن ہیں۔

  • رواں ماہ کن کن ممالک میں سورج گرہن ہوگا؟تفصیلات آگئیں

    رواں ماہ کن کن ممالک میں سورج گرہن ہوگا؟تفصیلات آگئیں

    لاہور:یورپ، شال مشرقی افریقا، مغربی اور وسطی ایشیا میں منگل 25 اکتوبر کو جزوی سورج گرہن دیکھا جاسکے گا۔اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی فلکیات کے مرکز کے ڈائریکٹر انجینئر محمد شوکت اودے نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ سورج گرہن ہمیشہ مغربی علاقوں سے شروع ہوتا ہے اور بتدریج مشرق کی طرف بڑھتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کیلئے یہ گرہن شمال مغربی یورپ سے آئس لینڈ کے قریب صبح 8 بج کر 58 منٹ جی ایم ٹی پر شروع ہوگا، پھر یہ گرہن آہستہ آہستہ شمالی افریقا اور پھر مغربی ایشیا کی طرف بڑھے گا، صبح 11:00 بجے اپنے عروج پر پہنچ جائے گا اور بحیرہ عرب کے وسط میں دوپہر ایک بج کر 2 منٹ پر ختم ہو جائے گا، اس کا سب سے زیادہ 86 فیصد گرہن روس میں دیکھا جاسکے گا۔

     

    رپورٹ کے مطابق عرب ممالک کیلئے سورج گرہن کا سب سے زیادہ شمالی عراق میں اس کے بعد لیونٹ اور جزیرہ نما عرب کے شمالی حصے میں، پھر مصر اور جزیرہ نما عرب کے جنوبی حصے میں، اور پھر لیبیا، تیونس میں نظر آئے گا۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    بین الاقوامی مرکز فلکیات ابوظہبی میں واقع فلکیاتی سیل آبزرویٹری سے گرہن کی براہ راست نشریات نشر کرے گا اور ان نشریات کو مرکز کے سوشل میڈیا پر مختلف چینلز پر دیکھا جاسکے گا۔

    ماہرین نے گرہن کے وقت براہ راست سورج کی طرف دیکھنے سے منع کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ ایسا کرنے سے آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو مستقل اندھے پن تک بھی لے جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ سورج گرہن کو دیکھنے کیلئے کچھ فلٹر استعمال کئے جاتے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ محفوظ ہیں، صرف اس لئے کہ فلٹر کے ذریعے سورج کی شعاعیں نقصاندہ نہیں ہیں، استعمال شدہ طبی ایکسرے اور دھوپ کے چشمے بھی غیر محفوظ فلٹرز میں شامل ہیں۔

  • معاشی استحکام خطرے میں ڈالنے پر برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے معافی مانگ لی

    معاشی استحکام خطرے میں ڈالنے پر برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے معافی مانگ لی

    لندن:برطانیہ کی وزیراعظم لزٹرس نے معاشی استحکام کو خطرے میں ڈالنے پر معافی مانگ لی، انہیں ٹیکسوں میں بڑے پیمانے پر کمی کے فیصلے کو مجبوراً ختم کرنا پڑا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے حکومتی بانڈز اور پاؤنڈ ڈمپنگ کے لیے منڈیوں اور عالمی عناصر کو ذمہ دار ٹھہرانے کے کئی ہفتوں بعد لزٹرس نے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کئی برسوں سے جاری جمود کو ختم کرکے معاشی بحالی کے لیے یہ ’بہت دور اور بہت تیزقدم‘ تھا۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    23 ستمبر کو ’منی بجٹ‘ کے بعد مارکیٹ میں افراتفری پھیل گئی تھی، لزٹرس کے وزیر خزانہ جیریمی ہنٹ کی جانب سے وہ منصوبہ ختم کرنے کے باوجود منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں جبکہ لزٹرس وزیراعظم بننے کے صرف 6 ہفتے بعد کرسی بچانے کی جدوجہد کررہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ بات واضح نہیں ہے کہ لزٹرس کی معافی کے بعد ان کی جماعت کنزرویٹو پارٹی میں ان کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت ختم ہو جائے گی یا نہیں، متعدد ممبران اسمبلی انہیں عہدہ چھوڑنے کے لیے زور دے رہے ہیں، سیکڑوں لوگوں کو خدشات ہیں کہ وہ اگلے عام انتخابات تک اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

    ان کی ایک وزیر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی وزیراعظم مزید کوئی غلطی کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتیں، یہ بہت مشکل کام ہے اگر ان کی حکومت زیادہ بچتوں کی طرف جاتی ہے تو متوقع کساد بازاری میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔جبکہ وزیر خزانہ جیریمی ہنٹ پہلے ہی صحت اور دفاع جیسے محکموں کو بجٹ دینے کی گارنٹی کو مسترد کرچکے ہیں۔

    نئے ’یوگوو‘ پول کے مطابق حتیٰ کہ کنزرویٹو پارٹی کے وہ اراکین جنہوں نے لزٹرس کی بطور وزیراعظم حمایت کی تھی، اب وہ بھی مختلف سوچ رہے ہیں۔اس میں بتایا گیا کہ ایسے نصف سے زائد اراکین کہتے ہیں کہ انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے جبکہ ایک تہائی لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی جگہ بورس جانسن کو آنا چاہیے۔

    لزٹرس کا کہنا تھا کہ میں اپنی ذمہ داری کو تسلیم کرتی ہوں، اور جو غلطیاں ہوئی ہیں ان پر معافی مانگتی ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ میں لوگوں کی توانائی کے بلوں اور بُلند ٹیکسوں کے مسئلے میں مدد کرنا چاہتی تھی لیکن ہم بہت دور اور بہت جلدی چلے گئے۔

  • پی سی بی نے ایشین کرکٹ کونسل سےراہیں الگ کرنےکا فیصلہ کرلیا

    پی سی بی نے ایشین کرکٹ کونسل سےراہیں الگ کرنےکا فیصلہ کرلیا

    لاہور:پی سی بی نے ایشین کرکٹ کونسل سے راہیں الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی رمیزراجہ کی زیرصدارت اجلاس میں ایشین کرکٹ کونسل سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔

    پی سی بی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر اے سی سی مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتا تو پھر اے سی سی میں رہنے کا فائدہ نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان بی سی سی آئی کے فیصلے کے جواب میں بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ کپ2023 میں شرکت نہ کرنے پر بھی غور کرے گا۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    خیال رہے کہ بھارت نے ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2023 کیلئے پاکستان آنے سے انکار کردیا۔

    ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری جے شاہ نے منگل کو ممبئی میں بی سی سی آئی کی 91 ویں سالانہ جنرل میٹنگ کے موقع پر کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم 2023 ایشیا کپ کے لیے پاکستان نہیں جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2023 کا ایشیا کپ پاکستان میں نہیں بلکہ نیوٹرل مقام پر ہوگا، پاکستان جاکرکھیلنے کا فیصلہ بھارتی حکومت کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ 2023 کے ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کے پاس ہے اور چیئرمین پی سی بی نے ایشیا کپ پاکستان میں کرانے کا اعلان کیا تھا۔اس سے قبل یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ بھارت 2023 میں ہونیوالے ایشیا کپ میں شرکت کے لیے اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

     

    بھارت نے آخری بار راہول ڈریوڈ کی قیادت میں 2005-06 میں دو طرفہ سیریز کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔2012-13 کے بعد سے پاکستان اور بھارتی کرکٹ ٹیموں کے مابین کوئی دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی گئی۔