Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پورے ملک میں کہیں بھی حکومت سیلاب متاثرین کی مدد کو نہیں پہنچ رہی:یہ پہلے اپنی لڑائیاں تولڑلیں:سراج الحق

    پورے ملک میں کہیں بھی حکومت سیلاب متاثرین کی مدد کو نہیں پہنچ رہی:یہ پہلے اپنی لڑائیاں تولڑلیں:سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ سیلابی علاقوں میں ریلیف کے حکومتی اقدامات ناکافی، لوگ شکایتیں کر رہے ہیں۔ ڈھائی ماہ کے دوران مختلف علاقوں میں گیا، کوئی وزیر مشیر متاثرین کے درمیان نظر نہیں آیا۔ حکمران بیرونی امداد کے منتظر ہیں کہ کب پیسہ آئے اور وصول کریں۔ سرکاری امداد کی تقسیم میں کرپشن کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ سیلاب کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی لڑائیاں ختم نہیں ہوئیں، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی مفادات کے لیے جنگ عروج پر ہے، دونوں اطراف کی سیاست جھوٹ کی بنیاد پر چلتی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین سیاست کے لیے پشاور چلے گئے، سیلاب متاثرین کا حال لینے اپنے آبائی علاقے میانوالی نہیں گئے۔ سیلاب سے ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر، لوگوں کے گھر بار، مال مویشی پانی میں بہہ گئے، حکمرانوں کو پروا نہیں۔ حیرت ہے کہ حکومت کے پاس تاحال متاثرین کا ڈیٹا تک موجود نہیں۔ مختلف سرکاری محکموں کے دوران کوآرڈی نیشن نظر نہیں آ رہی۔ فلڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کو ہر سال اربوں روپے کے فنڈز ملتے ہیں، جب کوئی آفت آتی ہے تو یہ بری طرح ایکسپوز ہو جاتے ہیں۔ ملک کے تمام شعبوں میں ریفارمز کی ضرورت ہے، آزمائے ہوئے لوگوں سے بہتری کی توقع نہیں، اہل اور ایمان دار لوگ آگے آئیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔

    متاثرین کی مدد کے لیے قوم کا جذبہ سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا، عطیات دینے میں لوگوں نے جس طرح جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن پر اعتماد کیا ہم ان کے شکرگزار ہیں، بحالی تک خدمات جاری رکھیں گے۔ ہمارا مقصد قوم کی خدمت اور ملک کو اسلامی فلاحی مملکت بنانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے راولپنڈی میں سیلاب متاثرین کے لیے ڈونرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ امیر جماعت گلگت بلتستان کے سیلابی علاقوں کا دورہ کر کے بدھ کی رات اسلام آباد پہنچے تھے۔ قبل ازیں انھوں نے گلگت میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ دیگر مقررین میں امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر و گلگت بلتستان ڈاکٹر خالد محمود، شیخ مرزا علی صدر ملی یکجہتی کونسل گلگت بلتستان شیخ مرزا علی، صدر مجلس وحدت مسلمین علامہ نیئر عباس اور اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ بھی شامل تھے۔

    سراج الحق نے کہا کہ معیشت کی تباہی کی ذمہ دار موجودہ اور سابقہ حکومتیں ہیں۔ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے، لیکن حکمرانوں کی کرپشن اور بیڈ گورننس کی وجہ سے آج ملک کا تمام دارومدار بیرونی قرضوں پر رہ گیا ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بھی وفاقی اور صوبائی حکومتیں بیرونی ممالک کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری حتی الامکان کوشش ہے کہ مصیبت میں اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے لیے مقامی سطح پر ہی فنڈز اکٹھے کریں۔ انھوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کو بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی دل کھول کر عطیات دیے ہیں جس کے لیے ہم سب کے شکرگزار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے دورہ کے دوران انھوں نے دیکھا کہ حکومت متاثرین کی بروقت امداد میں ناکام ہوئی، ایک گھر کے آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے، ایک دوسال کی بچی کو دوکلومیٹر پانی کی لہروں میں بہنے کے بعد نکالا گیا، اس کی والدہ اور بڑا بھائی شہید ہوگئے۔ ریاست کا فرض ہے کہ تمام متاثرین کی کفالت کو یقینی بنائے۔ وفاقی وصوبائی حکومتیں سنجیدگی دکھائیں، سرکاری امداد کی تقسیم میں شفافیت ہو اور لوگوں کو گھروں کی تعمیر کے لیے فی الفور رقم دی جائے۔

    گلگت میں اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ تمام مکتبہ فکر کے علما کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ امت مسلمہ کے تصور کومدِ نظر رکھتے ہوئے آپسی بھائی چارہ اور اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں۔ دشمن ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی داستانیں رقم کررہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں، منبرو محراب پر حملے ہورہے ہیں۔ ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور ان سے سوائے بزدلی اور خاموشی کے اور کوئی توقع بھی نہیں ہے۔ ان حالات میں علمااور اکابرین امت کی ذمہ داری ہے کہ مظلوم مسلمانوں کے حق میں ہرسطح پر آواز بلند کریں۔ انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہودی فلسطین پر قابض، برما اور بھارت میں مسلمان دربدر، یورپ و امریکہ میں اسلاموفوبیا عام ہے۔ ہمیں متحد ہوکر ان چیلنجز اور مشکلات سے نبرد آزما ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ہمیں اسی وقت نصیب ہوگی جب ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر دین کی سربلندی کے لیے اور ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

     

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • ممبئی والوں کو تو گالی دینا بھی نہیں آتی:شاہ رخ خان  نے ایسا کیوں کہا؟

    ممبئی والوں کو تو گالی دینا بھی نہیں آتی:شاہ رخ خان نے ایسا کیوں کہا؟

    بالی ووڈ کے بادشاہ کہے جانے والے شاہ رخ خان کہتے ہیں کہ جب وہ ممبئی والوں کو گالی دیتے ہوئے سنتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ انہیں تو گالی دینا بھی نہیں آتی۔

    اپنی اداکاری سے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں راج کرنے والے اداکار شاہ رخ خان کے والد کا آبائی تعلق پشاور جب کہ والدہ کا حیدر آباد دکن سے ہے لیکن وہ نئی دلی میں پلے بڑھے ہیں۔

    شاہ رخ خان نے اپنی اداکاری کا آغاز بھی نئی دہلی سے ہی کیا لیکن فلموں میں کام کرنے کے لئے انہوں نے ممبئی مییں سکونت اختیار کرلی۔ان ایک پرانا انٹرویو دوباری وائرل ہورہا ہے جس میں وہ پریتی زنٹا سے بات کرتے ہوئے اپنے دلی کے دن بتاتے ہیں۔

    کنگ خان کا کہنا تھا کہ میں دلی میں رہتا تھا تو ہاکی کھیلتا تھا، روز جھگڑے ہوتے اور ہمیں پولیس پکڑ کر تھانے لے جاتی تھی۔

    شاہ رخ خان کا کہنا تھا کہ بدمعاشی کرنے والوں کو دلی میں شودے کہتے ہیں، جب وہ ممبئی میں غنڈہ گردی دیکھتے ہیں جو دل میں سوچتے ہیں کہ ایسے شودھے تو میری جیب میں لے کر گھومتا ہوں۔دہلی کی غنڈہ گردی ایسی تھی، ممبئی میں غنڈہ گردی دیکھ کر ہنسی آتی ہے۔ یہاں تو لوگوں کو گالی دینی بھی نہیں آتی۔

  • ریلیف سرگرمیوں کےلیے بین الاقوامی امداد کےحوالےسےاسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلااجلاس۔اہم فیصلے

    ریلیف سرگرمیوں کےلیے بین الاقوامی امداد کےحوالےسےاسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلااجلاس۔اہم فیصلے

    اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کی زیر صدارت ریلیف سرگرمیوں کے لیے بین الاقوامی امداد کے حوالے سے اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلا اجلاس ہوا ہے ،تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق کی زیرصدارت اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کاری کے حوالے سے بین الاقوامی امداد برائے سیلاب سے متعلق سرگرمیوں کے پہلے اجلاس کی صدارت ہوئی۔

    میٹنگ کا ایجنڈا "انسانی امداد اور امدادی کوششوں کی نقشہ سازی” تھا۔

    اجلاس میں اقوام متحدہ، ایشیائی ترقیاتی بینک، یورپی یونین، ورلڈ بینک، یو ایس ایڈ، وزارت خارجہ، وزارت صحت، بی آئی ایس پی، وزارت خزانہ، این ڈی ایم اے اور او سی ایچ اے کے نمائندوں اور وزارت اقتصادی امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    وزیر اقتصادی امور نے بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور حکومتی نمائندوں کو اجلاس میں خوش آمدید کہا اور اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بین الاقوامی امداد کی موثر اور موثر فراہمی کے لیے حکومت پاکستان اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی برادری کی بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک کو درپیش تباہی کے لیے بھرپور مدد فراہم کرنے پر شکر گزار ہے ۔

    انہوں نے مزید روشنی ڈالی کہ اس وقت پاکستان سیلاب متاثرین کو خوراک، پناہ گاہ، طبی سہولت، مچھر دانی وغیرہ کی فراہمی کے ساتھ فوری امداد فراہم کرنے کے پہلے مرحلے میں ہے۔ “ہمیں ابھی بھی بحالی اور تعمیر نو کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لیے مزید امداد کی ضرورت ہے۔ تباہی بے حد ہے۔

    اجلاس کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک میں سیلاب کی صورتحال کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا اور حکومت پاکستان کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہر گھر کو نقد امداد فراہم کرنے کے لیے کیے گئے امدادی اقدامات اور حالیہ اقدام پر روشنی ڈالی۔

    بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں نے کوششوں کو سراہا اور اس پلیٹ فارم کی اہمیت کو تسلیم کیا جو انہیں حکومت کے ساتھ زیادہ موثر انداز میں ہم آہنگی میں مدد فراہم کرے گا۔وزیر ای اے ڈی نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ 15 اکتوبر تک ڈیمیج نیڈز اسسٹنس رپورٹ تیار ہو جائے گی جو سیلاب سے ہونے والے مجموعی نقصان کی مکمل تصویر فراہم کرے گی۔

    ترقیاتی شراکت داروں بشمول ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، یورپی یونین، یو ایس ایڈ اور اقوام متحدہ نے اب تک فراہم کی گئی امداد کی تفصیلات شیئر کیں اور آنے والے دنوں میں مزید کا وعدہ کیا۔ اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچوں میں غذائی قلت کے بارے میں بات کی۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • پاکستان انگلینڈ پہلے ٹی 20 میں حاصل ہونے والی ساری رقم سیلاب متاثرین کے لیے وقف

    پاکستان انگلینڈ پہلے ٹی 20 میں حاصل ہونے والی ساری رقم سیلاب متاثرین کے لیے وقف

    لاہور:پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلے ٹی 20 میچ میں ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی گیٹ منی اکٹھی ہوئی۔ چیئرمین پی سی بی نے تمام رقم وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع کرانے کا اعلان کردیا۔

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی 20 سیریز کا پہلا میچ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں منگل کو کھیلا گیا۔ پی سی بی نے میچ سے حاصل ہونیوالی گیٹ منی کی تفصیلات جاری کردیں۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹی 20 میچ میچ گیٹ منی کی مد میں ایک کروڑ 30 لاکھ روپے اکٹھے ہوئے، یہ تمام رقم پرائم منسٹر فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع کروائی جائے گی۔

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ کرکٹ نے ایک مرتبہ پھر پوری قوم کو متحد کرنے میں مدد کی، اس عظیم مقصد میں حصہ ڈالنے پر تمام شائقینِ کرکٹ کے مشکور ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پی سی بی تمام سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑا ہے، کراچی کے تماشائیوں نے مون سون کی بارشوں سے آنیوالے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے اپنا حصہ ڈالا۔

    چیف ایگزیکٹو فیصل حسنین کا کہنا ہے کہ پہلے ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کے ذریعے فلڈ ریلیف فنڈز میں ایک چھوٹا حصہ ڈالنا پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے اعزاز ہے، یہ حصہ سیلاب متاثرین کی بحالی میں کام آئے گا، ضرورت کے اس وقت میں عوام کا متحد ہونا قابل ستائش ہےپاکستان کو پہلے ٹی 20 انٹرنیشنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں 4 وکٹوں 6 وکٹوں شے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • نادرا کے500سابق ملازمین جن کےپاس حساس معلومات تھیں ،وہ پاکستان چھوڑگئے

    نادرا کے500سابق ملازمین جن کےپاس حساس معلومات تھیں ،وہ پاکستان چھوڑگئے

    اسلام آباد:نادرا کے500سابق ملازمین جن کےپاس حساس معلومات تھیں ،وہ پاکستان چھوڑگئے ،اس حوالے سے چیئرمین نادرا نے انکشاف کیا ہے کہ نادرا کے 500 سابق ملازمین کا پاکستانی شہریت ترک کرکے ملک چھوڑ چکے ہیں‌، دوسری طرف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ڈی جی نادرا خیبرپختون خوا کو ہٹانے کی ہدایت کردی۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نورعالم خان کی زیرصدارت اجلاس میں چيئرمين نادرا طارق ملک انکشاف کیا کہ ملازمت سے ريٹائرمنٹ کے بعد 500 افراد پاکستانی شہریت چھوڑ گئے، اور ان شہريت چھوڑنے والوں کے پاس حساس معلومات تھیں۔

    چیئرمین نادرا کے انکشاف پر کميٹی نے شہریت چھوڑنے والوں کی فہرست طلب کرلی۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نورعالم نے کہا کہ جن افسران کی دہری شہریت ہے اُن کو سائڈ پرتو کرسکتے ہیں۔

    چیئرمین پی اے سی نورعالم نے چیئرمین نادرا سے پوچھا کہ ڈی جی نادرا خیبرپختونخوا لگانے کا معیار کیا ہے؟، خیبرپختونخوا افغانستان کے قریب ہے، یہ حساس عہدہ ہے۔ چیئرمین پی اے سی نے ڈی جی نادرا خیبرپختونخوا کو ہٹانے کی ہدایت کردی۔

    چیئرمین نادرا نے بتایا کہ ادارے میں 43 لوگوں کو کرپشن پر نکالا گیا، 2600 ملازمین کے کیسز کو دیکھ رہا ہوں۔چیئرمین پی اے سی نے حکم دیا کہ نکالے جانے کے بعد دوبارہ نادرا میں آنے والوں کی لسٹ بھی دیں۔

    کميٹی نے دوبئی سے ڈی پورٹ 380 افغانیوں کی فہرست بھی مانگ لی جن سے پاکستانی پاسپورٹ برآمد ہوئے تھے۔ کمیٹی نے غیر قانونی کاروبار میں ملوث افغانیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے ديا۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ افغان مہاجرین شناختی کارڈ بنوا رہے ہیں ،اِس پر نظر رکھیں۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • ہمارےبچوں کامستقبل تباہ ہوگیا،ذمہ داروں کوسزاملنی چاہیے:ورنہ بچوں کوسکولوں میں نہیں بھیجیں گے:والدین

    ہمارےبچوں کامستقبل تباہ ہوگیا،ذمہ داروں کوسزاملنی چاہیے:ورنہ بچوں کوسکولوں میں نہیں بھیجیں گے:والدین

    لاہور:والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے تباہ ہونے پراس قدر غمزدہ ہیں کہ ان کوکچھ سمجھ نہیں آرہی ہےکہ وہ کیا کریں اور کدھرجائیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ والدین نے آخری امید کے طورپروزیرتعلیم پنجاب اوروزیراعلیٰ‌پنجاب کواپنے درد کی دکھ بھری کہانی سنانی شروع کردی ہے ،

    یہ کہانی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ یہ نسل نو ہی قوم کا ، خاندان کا اورمعاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں اور اگر اس مستقبل کو تاریک کردیا جائے تو پھر ملک وقوم تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں اورجواس وقت اس قوم کی نسل نو کے ساتھ ہورہا ہے یہ مستقبل میں ہونے والی تباہی اورپریشانی کے ابتدائی سنگلز ہیں‌ کہ جن پرنظرثانی کرکے قوم کے نونہالوں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے

    لاہور بورڈ نے 9 ویں‌کلاس کے نتائج کا اعلان کیا تو ایسے بھیانک نتائج سامنے آگئے کہ والدین سمیت معاشرے کے دیگرطبقات کے پیروں تلے زمین نکل گئی

    بڑی بڑی شہرت والے سکولوں کے مایوس کن نتائج نے والدین اور فیل ہونے والے بچوں کو بھی مایوس کردیا ہے،بالکل مایوس کُن نتائج ، والدین نے اپنی جمع پونجی اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت پرخرچ کردی لیکن جو نتائج سامنے آئے ہیں اس سے ثابت ہوگیا کہ تعلیمی اداروں میں تربیت نام کی چیز پہلے موجود نہیں تھی اب تعلیم کا بھی جنازہ نکل گیا ہے

    ایسا ہی کچھ حال پنجاب کے بڑے بڑے ہائی سکولوں کا ہے کہ جن میں زیرتعلیم بچوں کو 9 ویں کلاس کے نتائج نے ان سرکاری تعلیمی اداروں کی قلعی کھول کررکھ دی ہےکہ جہاں بڑی بڑی بھاری تنخواہیں لینے والے اساتذہ سکولوں میں اپنی حاضری لگوانے جاتےہیں کہ ان کی سیلری پر کوئی رکاوٹ نہ بنے ، وہ پڑھانےکے لیے نہیں جاتے

    ان سرکاری سکولوں میں قصورضلع کے ایک مشہورقصبے موکل کا بھی حال ایسا ہی ہے ، یہ وہ اسکول ہے کہ جس کے فارغ التحصیل طالب علم دنیا بھر میں اپنا اور اپنے قصبے اوراپنے ملک کا نام روشن کرچکے ہیں

    اس گاوں کے دونوں ہائی سکولز جن میں گورنمنٹ بوائے ہائی سکول اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شامل ہیں ، ان دنوں‌ ان دونوں اداروں میں زیرتعلیم 9ویں کلاس کے بچوں کے تباہ کُن نتائج نے اساتذہ کی کریڈبلٹی پرسوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ اتنی بھاری تنخواہیں لینے کے باوجود بھی اگرطالب علم پاس نہ ہوسکیں توپھروالدین ، معاشرے کے دیگرافراد کا حق تو بنتا ہے کہ وہ اس سانحہ پراعلیٰ حکام سے پوچھ سکیں کہ آخر ان کا قصور کیا کہ وہ مہنگائی کے اس دور میں اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کی خاطرسب کچھ قربان کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود نتائج مایوس کن ہیں،الٹا ان کی امیدوں پرپانی پھیردیا گیا ہے

    گورنمنٹ بوائزہائی اسکول (11036)میں 84 میں سے صرف 22 طالب علم پاس ہوئے ہیں جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول(12036) کی 158 طالبات میں سے صرف 58 طالبات ہی پاس ہوسکیں

    جو پاس ہوئے ان کے نمبراس قدرکم اورمایوس کن ہیں کہ ان کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے ، اب وہ کسی دوڑ میں شامل نہیں ہوسکتے ہیں ، نمبرز اتنے کم ہیں‌کہ وہ کبھی میرٹ پر نہیں‌آسکتے ، ان کے راستے بند ہوچکے ہیں، والدین بھی پریشان حال ہیں اور انکو بھی کچھ دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ اب کیا کریں‌ اور کدھر جائیں

    قوم خود آزمائش میں رہ کر اپنے پیٹ کاٹ کرسرکاری اساتذہ کی بھاری بھرکم تنخواہوں کا بندوبست کرنے کے لیے ٹیکس کی صورت میں ادا کررہےہیں ، اساتذہ کو تو عین الیقین ہے کہ ان کو کچھ نہیں ہوگا ، ان کے اپنے بچے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں اور ان کا اندراج سرکاری سکولوں میں ہوتا ہے تاکہ اعلیٰ حکام کو بے وقوف بنایا جاسکے لیکن اس میں غریب عوام کا کیا قصور ہے

    ہے کوئی جو غم کی اس گھڑی میں والدین کو کوئی امید دلا سکے ، والدین کو ان کے بچوں کے تاریخ مستقبل کوروشنی کی کرن دے سکے ، اب آخری امید صوبے کے وزیرتعلیم مراد راس صاحب ہیں یا پھرصوبے کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی صاحب، اب ان کے دل میں‌والدین کے اس دکھ کا کتنا درد ہے یہ تو پتا چلے گا ان کے فیصلوں سے ، اور اگراب بھی کچھ نہ ہوسکا توپھروالدین اپنے بچوں کوان سرکاری تعلیمی اداروں میں نہیں بھیجیں گے جس سے ایک خطرناک بحران جنم لے سکتا ہے ، حکومتوں‌ کو پہلے شرح خواندگی کے مسائل کا سامنا ہے ، ان حالات میں اگروالدین مایوسی کی صورت میں سرکاری تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو پھرایک اور بحران جنم لے سکتاہے جس کے اصلا ذمہ دار تو اساتذہ ہیں مگراس کا خمیازہ حکمرانوں کو عوام کی ناراضگی کی صورت میں بھگتنا پڑسکتا ہے

  • ٹرانس جینڈرزبل:کیا مسلمان قومِ لوط کا انجام بھول گئے؟ رابی پیرزادہ بھی میدان میں آگئیں

    ٹرانس جینڈرزبل:کیا مسلمان قومِ لوط کا انجام بھول گئے؟ رابی پیرزادہ بھی میدان میں آگئیں

    لاہور:سابقہ گلوکارہ رابی پیرزادہ نے والدین کو بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک مشورہ دیا ہے۔ٹوئٹر پر جاری پیغام میں رابی پیر زادہ کا کہنا تھا کہ ہم خود اپنا مستقبل اپنی نسلیں تباہ کر رہے ہیں، جو اصل خواجہ سرا ہیں وہ عزت دار اور شرم والے لوگ ہوتے ہیں لیکن اکثر لوگ مشہور ہونے کے لیے خود خواجہ سرا بن رہے ہیں۔

    رابی پیرزادہ نے والدین سے درخواست کی کہ اللہ کا واسطہ اپنی اولاد کو اس فتنے سے محفوظ رکھیں، یہ ہماری قوم کو تباہ کرنے کی سازش ہے، اپنے بچوں کو کہیں ٹرانس جینڈرز کی عزت کریں لیکن انہیں فولو نہ کریں۔

    حکومت کی طرف سے اس بل کی منظوری کے بعد جو صورت حال مستقبل میں دکھائی دے رہی ہے اس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے مزید لکھا کہ ہمارے معاشرے میں ایک ٹرینڈ بن گیا ہے کہ ٹرانس جینڈرز (خواجہ سراؤں)کو پروموٹ کرنا ہے وہ بھی تعلیم اور نوکری پر نہیں بلکہ الٹی سیدھی حرکتوں اور باتوں پر، نئی نسلُ بھی ان کی طرف راغب ہو رہی ہے۔

    سابقہ گلوکارہ نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ اسکول کے بچے بھی ان کو فولو کرتے ہیں، سوشل میڈیا پیجز ان کو پروموٹ کرتے ہیں، قومِ لوط بھول گئے؟

    یاد رہے کہ ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے تحفظ کیلئے قومی اسمبلی سے ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 منظور کیا گیا جس کےبارے میں ماہرین قانون اورعلمائے کرام کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں پر مشتمل حکومت نے ہم جنس پرستی کی حمایت کرنے والا بل منظور کیا ہے۔

    یہ بل ن لیگ نے جمیعت علمائے اسلام (ف)، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی، بی این پی مینگل، بی اے پی، جمہوری وطن پارٹی اور دیگر تمام اتحادیوں کے ہمرا ہم جنس پرستی کا بل منظور کر لیا۔ ہم جنس پرستی والا ٹرانس جینڈر ایکٹ مئی 2018 میں جمعیت العلما کے اتحادی شاہد خاقان عباسی کے دور میں پاس ہوا

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • پاکستان اورانگلینڈ کےدرمیان کھیلا گیا میچ 200 سیلاب متاثرین نےاسٹیڈیم میں دیکھا

    پاکستان اورانگلینڈ کےدرمیان کھیلا گیا میچ 200 سیلاب متاثرین نےاسٹیڈیم میں دیکھا

    کراچی: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ 200 سیلاب متاثرین نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں دیکھا۔

    ترجمان ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن کے مطابق سیکیورٹی ڈویژن اور پی سی بی کے باہمی تعاون سے منگل کو 200 سیلاب متاثرین نے پاکستان اور انگلینڈ کے مابین کھیلا جانے والا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ براہ راست نیشنل اسٹیڈیم میں دیکھا۔ سیلاب متاثرین کو کراچی میں قائم رہائشی کیمپس سے ایس ایس یو کی خصوصی بسوں کے ذریعے اسٹیڈیم لایا گیا۔

    بعد ازاں، متاثرین میں لنچ باکسز بھی تقسیم کیے گئے۔ متاثرین نے سیکیورٹی ڈویژن اور پی سی بی کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کو سراہا اور براہ راست میچ سے مَحظوظ ہوئے۔

    ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن ڈاکٹر مقصود احمد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ براہ راست میچ دکھانے کا مقصد متاثرین کو خوشی کے چند لمحات فراہم کرنا ہے جو سیلاب کی تباہ کاری کا شکار اپنے گھروں سے دور ہیں۔ ڈی آئی جی سیکیورٹی کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کو میچ دکھانے کا عمل آئندہ میچز میں بھی جاری رہے گا۔

    سیلاب متاثرین جو میچ دیکھنے کے خواہشمند ہیں وہ درج ذیل نمبر یا اپنے رہائشی کیمپ کے فوکل پرسن سے رابط کرسکتے ہیں۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • کراچی کی 39 یوسیز میں پولیو وائرس کی تصدیق

    کراچی کی 39 یوسیز میں پولیو وائرس کی تصدیق

    کراچی:شہرقائد کی 39 یوسیز میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔کراچی کی 39 یوسیز کے سیوریج سے حاصل کیے گئے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے، اتنی بڑی تعداد میں یوسیز میں پولیو وائرس کی موجودگی نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پولیو وائرس بلدیہ ٹاؤن، گڈاپ، ناظم آباد اور کیماڑی کی یوسیز میں پایا گیا ہے۔شہر میں بچوں کے پولیو وائرس سے متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر تمام 39 یوسیز میں ہنگامی بنیادوں پر انسداد پولیومہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں رواں سال پولیو کے 19کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے، اور یہ تمام کیسز خیبرپختون خوا میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں رواں برس پولیو کا 18 ویں کیس کی تصدیق ہوگئی۔

    اس سے قبل منظر عام پر آنے والے کیسز کے بعد وفاقی وزیر صحت نے اپیل کی تھی کہ وائرس کے خاتمے کو قومی فریضہ سمجھتے ہوئے تمام پاکستانی اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور پولیو مہم کے دوران ورکرز کے لیے اپنے دروازے کھولیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہر مہم میں بچوں کی ویکسی نیشن کو یقینی بنائیں۔

    علاوہ ازیں وفاقی سیکرٹری صحت محمد فخر عالم نے بھی والدین سے اپنے بچوں کو ہر مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • آئی سی سی نےکرکٹ قوانین میں تبدیلیاں کردیں:ٹی 20 ورلڈ کپ بھی انہیں قوانین کے تحت کھیلا جائے گا

    آئی سی سی نےکرکٹ قوانین میں تبدیلیاں کردیں:ٹی 20 ورلڈ کپ بھی انہیں قوانین کے تحت کھیلا جائے گا

    لاہور: ٹی 20 ورلڈ کپ بھی انہیں قوانین کے تحت کھیلا جائے گاانٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ قوانین میں بعض تبدیلیاں کی ہیں جن کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔آئندہ ماہ شروع ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی نئے قوانین کے تحت کھیلا جائے گا۔

    آئی سی سی کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین سارو گنگولی کی زیر صدارت اجلاس میں ارکان نے پلیئنگ کنڈیشنز میں جو تبدیلیاں کی ہیں انہیں مینز اور ویمنز کرکٹ دونوں نے تسلیم کیا ہے۔

    ان نئے قوانین میں سب سے اہم ‘کراسنگ’ کا قانون ہے، جس کے تحت آؤٹ فیلڈ میں کیچ ہونے کے بعد بلے بازوں کا اینڈ تبدیل نہیں ہوگا۔ یعنی نیا آنے والا بلے باز اسٹرائیکر اینڈ پر جاکر ہی بیٹنگ کا آغاز کرے گا۔

    اس سے قبل کیچ پکڑے جانے سے قبل دیکھا جاتا تھا کہ وکٹ پر بھاگتے ہوئےدونوں بلے بازوں کی پوزیشن کیا تھی۔ اگر بیٹر کیچ مکمل ہونے سے پہلے ایک دوسرے کے سامنے سے گزر کر دوسرے اینڈ پر پہنچ جاتے تھے، تو نئے والے بلے باز کو نان اسٹرائیکر یعنی امپائر کے اینڈ پر کھڑا ہوکر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔۔

    اسی طرح، نئے آنے والے بلے بازوں کو پہلے وکٹ تک پہنچنے کے لیے ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل میں تین منٹ کا وقت دیا جاتا تھا، تاہم اب انہیں دو منٹ کے اندر اندر وکٹ پر گارڈ لینا ہوگا۔

    اس نئے قانون کا اطلاق ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نہیں ہوگا جہاں بلے بازوں کو 90 سیکنڈز کے اندر کریز سنبھالنا پڑتی ہے۔ایسا نہ کرنے کے صورت میں فیلڈنگ ٹیم ٹائم آؤٹ کے لیے امپائر سے اپیل کرسکتی ہے۔

    گزشتہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران پاکستانی بالر محمد حفیظ کے ہاتھ سے نکلی ہوئی ایک گیند کو آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر نے پچ سے باہر جاکر کھیلا تھا، جس پر فیلڈنگ سائیڈ نے اعتراض کیا تھا۔

    قانون میں تبدیلی کے بعد اب اگر بلے باز کے جسم یا بلے کا کوئی بھی حصہ شاٹ مارتے وقت پچ سے باہر ہوگا، تو امپائر اس گیند کو ڈیڈ بال قرار دے سکیں گے۔

    اگر کوئی بھی گیند بلے باز کو اس قسم کا شاٹ مارنے پر اکسائے گی، تو اسے نو بال قرار دیا جائے گا۔صرف یہی نہیں، اگر بالر کے رن اپ کے دوران فیلڈ میں تبدیلی ہوئی تو امپائر بیٹنگ سائیڈ کو پانچ اضافی رنز کے ساتھ ساتھ اس گیند کو ڈیڈ بال بھی قرار دینے کا مجاز ہوگا۔بال پر تھوک لگانے کی عارضی پابندی مستقل ہوگئی

    دو سال قبل کرونا کی وجہ سے بال پر تھوک لگانے کی جو عارضی پابندی عائد کی گئی تھی اسے آئی سی سی کرکٹ کمیٹی نے مستقل قرار دے دیا ہے ۔

    اب کرونا ہو یا نہ ہو، بالر اور فیلڈر گیند کو چمکانے کے لیے اس پر تھوک نہیں لگاسکتے۔ بال چمکانے کے لیے فیلڈ پر موجودکھلاڑیوں کو پسینے سے ہی کام چلانا پڑے گا۔

    رن آؤٹ کے بھی قانون میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت اب گیند پھینکنے سے قبل بالر، نان اسٹرائیکر اینڈ پر موجود بلےباز کو رن آؤٹ کرسکتا ہے۔ اس سے قبل کریز سے باہر کھڑے ہوئے بلے باز کو آؤٹ کرنا جائز تو تھا لیکن اسے کرکٹ کی اسپرٹ کے خلاف سمجھا جاتا تھا ، لیکن اب ایسا کرنا غلط نہیں ہوگا۔

    اگر بالر کے گیند کرنے سے پہلے بیٹنگ اینڈ پر موجود بلے باز کریز سے باہر کھڑا ہوگا تو گیند باز اسے رن آؤٹ کرنے کے لیے گیند نہیں پھینک سکے گا، اگر اس نے ایسا کیا تو اس بال کو ڈیڈ قرار دیا جائے گا۔

    رواں سال جنوری میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں لاگو ہونے والے ‘ان میچ پینلٹی’ قانون کو اب ون ڈے انٹرنیشنل کا بھی حصہ بنادیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت سلو اوور ریٹ کی وجہ سے فیلڈنگ سائیڈ کو آخری اوورز میں اس اضافی فیلڈر کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی جسے فیلڈنگ سرکل سے باہر کھڑا ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔

    اگر فیلڈنگ سائیڈ اپنے اوور ریٹ سے پیچھے ہوگی تو آخری اوورز میں اسے اس فیلڈر کو فیلڈنگ سرکل میں ہی کھڑا کرنا ہوگا، جس کی اجازت قانون اسے دیتا ہے۔یہ قانون اگلے سال آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ کے اختتام پر ون ڈے انٹرنیشنل کا حصہ بن جائے گا۔

    آئی سی سی کرکٹ کمیٹی نے جن گزارشات کو قانون کی شکل دی ہے اس کے چیئرمین سابق بھارتی کپتان اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر سارو گنگولی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ بھی اس کمیٹی کے بطور مبصر حصہ ہیں۔
    انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے والے سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے، ویسٹ انڈیز کے راجر ہارپر، نیوزی لینڈ کے ڈینئیل ویٹوری ، بھارت کے وی وی ایس لکشمن اور جنوبی افریقہ کے شان پولاک بھی اس کمیٹی میں شامل تھے۔

    جہاں جے وردھنے اور ہارپر نے سابق کرکٹرز کی نمائندگی کی۔وہیں ویٹوری اور لکشمن بطور موجودہ کھلاڑیوں کے نمائندے اس کا حصہ تھے۔شان پولاک نےاس کمیٹی میں میڈیا اور سری لنکا کے نامور میچ ریفری رنجن مدوگالے نے میچ ریفریوں کے نمائندے کے طور پر اس میں شرکت کی۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس