Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان، انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا پہلا میچ کل ہو گا، ٹرافی کی رونمائی

    پاکستان، انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا پہلا میچ کل ہو گا، ٹرافی کی رونمائی

    کراچی: پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیمیں پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں کل نیشنل اسٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوں گے۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا پہلا میچ کل منگل 20 ستمبر کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائےگا۔ میچ شام ساڑھے 7 بجے شروع ہوگا۔ پہلے میچ کی گیٹ منی پی سی بی نے سیلاب ذدگان کی امداد میں دینے کا اعلان کیا ہے، سیریز کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور آج ٹرافی کی رونمائی بھی کردی گئی ہے۔


    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے ٹرافی کی رونمائی کی، بابراعظم اور جوز بٹلر نے ٹرافی کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔

    انگلینڈ ٹیم کے کپتان جوز بٹلر انجری کی وجہ سے کراچی میں ہونے والے میچز میں شرکت نہیں کرسکیں گے، اس دوران کپتانی کے فراض معین علی انجام دیں گے کپتان معین علی کا کہنا ہے کہ شاید بٹلر آخری دو میچز کیلئے ٹیم کو دستیاب ہوں گے۔


    کراچی ٹریفک پولیس نے شائقین کرکٹ کی گاڑیوں کی پارکنگ اورشہریوں کیلئے متبادل راستوں کا خصوصی ٹریفک پلان مرتب کیا ہے کراچی شہر کے مختلف علاقوں سے نیشنل اسٹیڈیم آنے والے شائقین جن کےپاس میچ کے ٹکٹ ہوں گےان کےلیے ایکسپو سینٹر میں پارکنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ پارکنگ کرنے کیلئے اصل شناختی کارڈ اور میچ کا ٹکٹ دکھانا لازمی ہوگا۔

    لیاقت آباد سےبراستہ حسن اسکوائر فلائی اوورنیشنل اسٹیڈیم روڈ کسی بھی قسم کی ٹریفک کوجانےکی اجازت نہیں ہوگی۔تمام ٹریفک یونیو رسٹی روڈ کا راستہ اختیار کرکے اپنی منزل کی جانب جا سکے گا۔ یونیورسٹی روڈ سے ایکسپو ٹرننگ کی جانب اسٹیڈیم روڈ عام پبلک کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ اسٹیڈیم روڈ سے جانب حسن اسکوائر ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہے گی۔

    سہراب گوٹھ سے جانب نیپا، لیاقت آباد نمبر 10 سے جانب حسن اسکوائر ، پی پی چورنگی سے جانب یونیورسٹی روڈ ، کارساز سے اسٹیڈیم روڈ، ملینیم تا نیو ٹاؤن، اسٹیڈیم سگنل تا حسن اسکوائر ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ ممنوع ہوگا۔

    کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے عوام الناس سے گذارش کی گئی ہے کہ زحمت و پریشانی سے بچنے کےلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹریفک پولیس سے تعاون کریں۔

    واضح رہے کہ 7 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے چار میچز کراچی اور تین لاہور میں ہوں گے انگلینڈ کی ٹیم 17 سال بعد پاکستان کا دورہ کر رہی ہے۔

    انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان اب تک کل 21 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گئے ہیں جن میں سے 13 میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ گرین شرٹس صرف 6 میچز جیت سکی ہے اور ایک میچ بے نتیجہ رہا 2015 شارجہ میں ہونے والا میچ انگلینڈ نے ٹائی ہونے کے بعد سپر اوور پر جیتا تھا۔

  • بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "بھائی باہر کے ملک کا ویزا لگوا دو!!”

    "صاحب نوکری دلوا دو!!”

    اس طرح کے کئی جملے میں اور ہم جیسے کئی لوگ جو حالات سے لڑتے اپنی زندگی کے کسی مستحکم مقام پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، اُنکو روز سُننے کو ملتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں انسانی اور قدرتی وسائل کی کمی نہیں ، وہاں اس ملک کی پیدائش سے لیکر اب تک غربت اور بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ کیوں ہے؟

    بہت سے لوگ آپکو یہ کہیں گے کہ ہمارے سیاستدان نکھٹو ہیں، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو عوام کا احساس نہیں وغیرہ وغیرہ مگر کوئی آپکو مکمل حقیقت نہیں بتائے گا۔ ایسے کہ اپ سمجھ سکیں کہ اصل مسائل ہیں کیا۔ معلومات کا مکمل ادراک نہ ہونے پر آپ محض سرسری طور پر مسائل بتاتے ہیں مگر اُنکا حل نہیں ڈھونڈ پاتے۔ سائنس کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپکو مسائل کی جڑ تک لیکر جاتی ہے۔ کسی بھی مسئلے کو چند ایکوئیشنز اور نمبرز کی صورت آپ پر واضح کرتی ہے کہ کس جگہ کیا غلط ہے۔ آج دنیا میں بنیادی سائنس کے علاوہ دو اور اہم چیزوں پر زور دیا جاتا ہے۔ معیشت اور امن و استحکام ۔ سائنس کی دنیا کے سب سے بڑے انعام نوبل پرائز آج بنیادی سائنس کے علاوہ معیشت اور امن کے شعبوں میں بھی ملتے ہیں۔

    معاشیات کی سائنس بے حد دلچسپ ہے۔ پرانے زمانے میں لوگ معاشیات کو اتنا نہیں سمجھتے تھے نہ ہی معیشت اس قدر پیچیدہ تھی۔ آج مگر دُنیا بدل چکی ہے۔ ہمیں سائنس کے ہر اُس شعبے میں بھی ماہرین درکار ہیں جو معاشرے کو ایک الگ زاویے سے پرکھیں۔ یہ سوشل سائنٹسٹ کہلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا کام معاشرے کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دنیا کی آبادی کے رجحانات کیا ہیں۔ معاشروں کے رویوں کو جانچنا اور ان پر اطلاق شدہ ماضی کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں چند گھسے پٹے جملے بول تو دیے جاتے ہیں مگر عوام اور اشرافیہ چونکہ رٹے کی پیدوار تعلیم نظام سے ہو کر آتی ہے، اسلئے سمجھتا کوئی کدو ہے۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ "ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے” تو یہ بس کہہ دیتے ہیں۔ علم اس قدر سطحی ہے کہ یہ جملہ کہنے والے کو ٹٹولیں تو سامنے کدو بیٹھا نظر آئے گا۔

    پاکستان کی کل آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 22 کروڑ تک ہے۔ اور اب 5 سال مزید گز جانے کے بعد یہ تعداد 23 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہو گی۔ کیونکہ پاکستان میں آبادی کی شرح نمو سالانہ 2 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح 1 فیصد کے قریب رہ گئی ہے۔ پاکستان میں بچے خرگوشوں کیطرح پیدا کیے جاتے ہیں۔سننے میں آپکو یہ برا لگے مگر حقیقت یہی ہے۔ نفسیات دیکھیں تو چونکہ ملک میں تفریح کے مواقع کم ہیں تو لوگوں کے پاس "کھابے” کھانے اور بچے پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ اسکے علاوہ پاکستان میں نظریات کی بھینٹ چڑھی عوام فیملی پلاننگ کو حرام سمجھتی ہے۔ گنگا ہی اُلٹی بہتی ہے۔ جو جتنا غریب ہے اُتنا ہی بڑا بچے پیدا کرنے کی مشین ہے۔ زچہ کو مشین بنا کر رکھ دینے والے معاشرے کا حال یہ ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان دنیا کے پہلے دس ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔ یہاں ہر 1 ہزار پیدا ہوئے بچوں میں سے 58 بچے پیدائش کے کچھ عرصے بعد مر جاتے ہیں۔ زیادہ نہیں محض 20 سال پیچھے چلے جائیں تو یہ تعداد ہر ایک ہزار میں سے 90 تھی۔ صحت اور تعلیم کی کمی کے باوجود لوگ ہیں کہ بے دھڑک بچوں پر بچے پیدا کیے جا رہے ہیں۔ عقل کی بات کیجئے تو آپ سب کے دشمن ۔ جہالت عام بکتی ہے۔ دماغ خرچ کرنا مسئلہ ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے لوگوں کو جاہل رہنے میں مزا آتا ہے۔ کہ شاید یہ بھی تفریح کے مواقع کی کمی کے باعث ایک تفریح بن گئی ہے۔ پر کیا کیجئے۔ مسائل بتاںا بھی ضروری ہیں کہ ہم معاشرے سے کٹ کر بھی تو نہیں رہ سکتے۔

    1974 سے 2020 تک یعنی 46 سال کے پاکستان کے بے روزگاری اور معیشت کے اعداد و شمار کو کنگھالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت میں اضافہ، آبادی میں اضافہ اور بے روزگاری میں اضافہ آپس میں یوں جڑے ہوئے ہیں جیسے نشے سے اُسکا عادی۔
    ان اعداد شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی پی میں تقریباً 0.6 کمی واقع ہوتی ہے۔ گویا 2020 کے جی ڈی پی 267 ارب ڈالر کے حساب سے 1.7 ارب ڈالر کی کمی۔ وجہ؟ جب بے روزگاری بڑھتی ہے تو مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔ پیسہ جیب سے نکل کر بازار کی ہوا نہیں کھاتا۔ فرض کیجئے ایک ریڑھی والا روز 50 کلو فروٹ بیچتا ہے۔ اور آپ کی جب نوکری ہے تو اپ ہر روز 2 کلو فروٹ خریدتے ہیں۔ اب جب اپکی نوکری نہیں ہو گی تو ریڑھی والے کا دو کلو فروٹ کم ِبِکے گا۔ وہ پہلے جس شخص سے دو کلو فروٹ زیادہ لیتا تھا اب کم لے گا اور اُسکا منافع بھی کم ہو جائے گا۔۔ وہ شخص جو اس ریڑھی والے کو فروٹ بیچتا تھا وہ کاشتکار سے فروٹ کم لے گا وغیرہ وغیرہ، کاشتکار کھاد کم لے گا، کھاد والا فیکٹری سے کھاد کم لے گا، فیکٹری کھاد کم بنائے گی اور اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی نہ کسی طرح اپ کے ذریعے معیشت کے اس جال میں جڑا ہے، اُسکی زندگی میں پیسے کی کمی آئے گی۔

    بالکل ایسے ہی جب مہنگائی بڑھتی ہے اور قوتِ خرید کم ہوتی ہے تو پوری معیشت میں یہ کمی دکھتی ہے۔ پاکستان میں ایک فیصد مہنگائی بڑھنے سے جی ڈی پی تقریباً 0.4 فیصد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومت کے غیر تعمیری اخراجات سے بھی معیشت پر بے روزگاری اور مہنگائی سے بھی زیادہ بُرا اثر پڑتا ہے ۔ سرکاری عیاشیوں میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی بھی کو 0.8 فیصد نقصان پہنچتا ہے یعنی سالانہ 2 ارب ڈالر سے بھی زائد۔ مگر سب سے دلچسپ جو ملک کے مءترم بابوں کی نا اہلی کا کھلا ثبوت ہے وہ ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ وہ یہ مملکتِ خداد میں باہر سے انے والی ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں ایک فیصد کے اضافے سے معیشت کو اُلٹا 0.7 فیصد نقصان پہنچتا ہے۔ یعنی گنگا اُلٹی نہیں بلکہ بہتی ہی نہیں ہے۔ دیگر ممالک خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں معیشت باہر کے آئے پیسے سے مستفید ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں کمزور قوانین اور فی البدیہ مشاعرے کی طرح چلتے ملک میں یہ بھی ان دھوپ میں بال سفید کیے پالیسی ساز بابوں کا دیا وبال ہے۔ باہر سے آئی کمپنیاں یہاں کی معاشی پالیسویں اور حکومت سازی ہر اثرانداز ہو کر ملک کی معیشت کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہیں۔ مسئلہ انوسٹمنٹ کا نہیں، ان کمپنیوں کا ملک کے اندرونی معاملات اور قوانین میں مداخلت کا ہے۔

    ان تمام مسائل کا ادراک ہونے کے بعد آپ واضح طور پر سمجھ گئے ہونگے کہ پاکستان میں پالیسی سازوں کو زیادہ سے زیادہ تعمیراتی کاموں کے پراجیکٹس شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ تعمیراتی کام سے مراد محض سڑکیں اور پل بنانا نہیں بلکہ تعلیم اور صحت کے شعبے بھی تعمیری ہوتے کیں جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ ملکی جیب میں پچھتر سال سے بڑے سے بڑے ہوتے سوراخ کو بند کرنا ہو گا۔ آبادی پر قابو اور وسائل کے استعمال کو بہتر بنانا ہو گا۔ اور ملک کے اندرونی قوانین اور بین الاقوامی معاشی معاہدوں میں سنجیدگی دکھانا ہو گی۔ ورنہ وطنِ عزیز کی معیاد ختم ہونے میں دیر نہیں لگنی۔

  • ایف آئی اے کا جعلی انسپکٹر ظاہر کرکے لوگوں سے فراڈ کرنیوالا گینگ گرفتار

    ایف آئی اے کا جعلی انسپکٹر ظاہر کرکے لوگوں سے فراڈ کرنیوالا گینگ گرفتار

    لاہور:ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاھور نے زبردست کارروائی کی ہے اور جعل سازی کرنے والا جعل ساز پکڑا گیا ہے- ایف آئی اے کا جعلی انسپکٹر ظاہر کرکے لوگوں سے فراڈ کرنیوالا گینگ گرفتار کرلیا گیا ہے

    اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاھور نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے گینگ کے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان میں ملک ساجد، عندلیب ساجد اور محمد شہباز شامل ہیں۔

    ملزم ملک ساجد خود کو ایف آئی اے کا انسپکٹر ظاہر کرتے ہوئے فراڈ کرنے میں ملوث تھا۔ ملزم ملک ساجد نے شکایت کنندہ کو کویت بھیجنے کا جھانسہ دے کر 12 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بٹوری۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم ملک ساجد نے مختلف سرکاری افسران کو فون کالز کر کے دھمکیاں بھی دی۔

    ملزم مختلف سرکاری نوکریوں کا لالچ دے کر عوام سے لاکھوں روپے بٹورنے میں بھی ملوث تھا۔ ملزم نے قیمتی نان کسٹم موبائل فون پی ٹی اے سے کلیئر کروانے کے بہانے بھی عوام سے پیسے بٹورے۔واپڈا اور سوئی گیس کے میڑ لگوانے کے لیے بھی لوگوں سے پیسے بٹورے,اس کے علاؤہ اسلحہ لائسنس بنوانے کے لیے بھی لوگوں سے پیسے بٹورے

    فراڈ سے حاصل کی گئی رقوم ملزم ملک ساجد کے بیٹے عندلیب ساجد اور محمد شہباز کے ایزی پیسہ اور جاز کیش اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہو رہی تھی۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • گزشتہ حکومت نے امریکی غلام بن کر سی پیک منصوبہ روکھے رکھا: فضل الرحمان

    گزشتہ حکومت نے امریکی غلام بن کر سی پیک منصوبہ روکھے رکھا: فضل الرحمان

    کراچی: پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہ خارجہ پالیسی ہمیشہ ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہے، ایران اور افغانستان پڑوسی ممالک ہیں ان کے ساتھ تجارتی تعلقات ہونے چاہئیں، گزشتہ حکومت نے امریکی غلام بن کر سی پیک منصوبہ روکھے رکھا، اب ہم دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔

     

     

    بی این پی کے بانی سردار عطاء اللہ مینگل کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں سردار عطاء اللہ خان کے تعزیتی ریفرنس میں شریک ہونے آیا ہوں، عطاء اللہ مینگل کی میرے والد سے پرانی رفاقت تھی، دنیا میں انسانوں کے تحفظ کے لیے قانون بنتے ہیں، انسانوں کے تحفظ کے لیے قانون بنائے جاتے ہیں، ہم غلط پالیسیاں بناتے ہیں تو پھر سزا ملتی ہے۔

     

     

     

    انہوں نے کہا کہ ہم سیاست دان مفاد پرست واقع ہوئے، ہمیں اپنی غلطیوں کی طرف بھی دیکھنا ہو گا، دنیا میں جبر کی بنیاد پر حکومتیں قائم ہوتی ہیں، ریاست کو دو چیزوں کی ضرورت ہے، پاکستان ہمارا ملک ہے، پاکستان کا آئین چار ستونوں پر کھڑ ا ہے، یہ ملک اسلامی ہے اور آئین سازی میں قرآن و سنت کو ملحوظ رکھا گیا ہے، مملکتی نظام میں عوام کی شراکت آئین میں ہے، یہ ملک وفاقی ہے جس میں چار یونٹ ہیں، چوتھا ستون پارلیمنٹ کی بالا دستی اور آئین سازی عوام کے منتخب نمائندے کریں گے، آج پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے حکمران اتحاد کو سر جوڑ کے بیٹھنا ہو گا۔

     

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات ہونے چاہیے، ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے اس پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے، ایران اور پاکستان کے بہتر تعلقات کی بات کی جاتی ہے اور اجازت بھی نہیں۔

     

     

     

    انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے کے وقت کچھ حالات ایسے تھے جس کی وجہ سے مجھے چین جانا پڑا، چین کے حکمرانوں نے کہا کے اتنے بڑے منصوبے کی تکمیل کیسے ہو گی؟ ملک میں دہشت گردی بدامنی ہے۔پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ جو سی پیک کا حامی ہے وہ امریکہ کا دشمن اور مخالف ان کا دوست ہے، ہم بھارت کے ساتھ تجارتی تعلق بنائیں تو ملکی مفاد سامنے ہوتا ہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • ٹیلی کام کمپنیز کو صنعتی ٹیرف نہ دینا سراسرزیادتی ہے:امین الحق

    ٹیلی کام کمپنیز کو صنعتی ٹیرف نہ دینا سراسرزیادتی ہے:امین الحق

    اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے نیپرا کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کو انڈسٹریل الیکٹرسٹی ٹیرف دینے کی درخواست خارج کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اپنے بیان میں وفاقی وزیر امین الحق نے کہا ٹیلی کام کمپنینزکوصنعت کا درجہ حاصل ہے تو پھر صنعتی ٹیرف دینے سے انکارکیوں کیا جارہا ہے؟، معاملے پر جلد وزیراعظم سے بات کروں گا۔

    وفاقی وزیر آئی ٹی نے کہا انڈسٹریل ٹیرف سے ٹاورز پر بجلی کے اخراجات میں کمی اورصارفین کیلئے آسانیاں پیدا ہوں گی، حکومت نے ٹیلی کام سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دیا ہے اور صنعتی نرخوں پر بجلی کے نرخ حاصل کرنا ٹیلی کام کمپنیوں کا حق ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والی کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے سے دیگر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔

    یہ معاملہ صرف ٹیلی کام سیکٹر کا نہیں ہے بلکہ یہ صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور مستقبل میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

    امین الحق نے کہا ہماری یہ ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے سے متعلق عوام اور اسٹیک ہولڈرز دونوں کے معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹایا جائے تاکہ تعمیر و ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • یو اے ای کی جانب سے میر پورخاص میں متاثرین کیلئے خیمہ بستی کا قیام

    یو اے ای کی جانب سے میر پورخاص میں متاثرین کیلئے خیمہ بستی کا قیام

    کراچی : متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد اور ان کی بحالی کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں یو اے ای ہلال احمر کے تحت میرپورخاص کے شہر جھڈو میں سیلاب متاثرین کے کیلئے خیمہ بستی قائم کردی گئی۔

    ذرائع کے مطابق سیلاب متاثرین کو مذکورہ خیمہ بستی میں منتقل کردیا گیا، اماراتی ہلال احمر کے امدادی کارکنان سیلاب متاثرین کو کھانے پینے کی اشیا سمیت دیگر سامان فراہم کررہے ہیں۔

    متاثرین کے لیے خیمہ بستی کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ جب تک ان کے پکے گھر تعمیر نہیں ہوجاتے جب تک سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے نہ رہیں

    اماراتی ہلال احمر کے ڈائریکٹر حمد بخیت الرومیتی کا کہنا ہے کہ جلد باقی علاقوں کے سیلاب متاثرین کے لیے بھی ریلیف کیمپ قائم کیے جائیں گے اس مشکل گھڑی میں امارات کی حکومت اور اماراتی ہلال احمر پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں 14 جون سے شروع ہونے والی مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب میں جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 1545 تک پہنچ گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں 32 اور بلوچستان میں 5افراد جاں بحق ہوئے ہیں، بارشوں اور سيلاب سے سندھ میں سب سے زیادہ 678 اموات ريکارڈ ہوئیں۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 299، خيبرپختونخوا میں 306 ، پنجاب میں 191، گلگت بلتستان میں 22 جبکہ آزاد کشمیر میں 48 افراد زندگى کى بازى ہار گئے، جاں بحق ہونے والوں میں 678 مرد 315 خواتين اور 552 بچے شامل ہیں۔

    این ڈی ایم اے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیلاب سے مجموعی طور پر ملک بھر میں 19 لاکھ 21 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوئے جبکہ 12 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب کی آفت نے ایک کروڑ سےزائد انسانوں کو اپنے گھر بار کو ترک کرنے پر مجبورکیا ہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • ٹانک:ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال میں زندگی بچانے والی ادویات اور ڈاکٹرزبھی ڈیوٹی سے غائب

    ٹانک:ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال میں زندگی بچانے والی ادویات اور ڈاکٹرزبھی ڈیوٹی سے غائب

    ٹانک:ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں زندگی بچانے والی ادویات کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی میں تعینات ڈاکٹرزبھی ڈیوٹی سے غائب،ہسپتال میں سہولیات کا فقدان اور مریضوں کے ساتھ آنے والے تیمارداربازارسے مہنگے داموں ادویات خریدنے پرمجبور،،ہسپتال عملہ مریضوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنے لگا،شکایت کی صورت مریضوں اوران کے تیمارداروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں،ڈی جی صحت،سیکرٹری صحت،کمشنر ڈیرہ اورڈپٹی کمشنر ٹانک سے ہسپتال عملے کاقبلہ درست کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال ٹانک میں آوے کاآوے ہی بگڑاہواہے۔ ہسپتال میں تعینات ڈاکٹرز،سرجن نے ڈیوٹی سے غائب رہناروزکامعمول بنالیا ہے اوراپنے پرائیویٹ کلینکس پر مریضوں کاعلاج کرتے ہیں۔

     

     

    ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال میں مریضوں اوران کے تیمارداروں سے انتہائی ہتک آمیز رویہ اختیارکیاجاتاہے جس سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوتاہے۔ ہسپتال میں طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ہسپتا ل میں علاج کی غرض سے لائے جانے وال مریضوں کو سرکاری ادویات دستیاب نہیں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ بازارسے مہنگے داموں ادویات خریدنے پر مجبورہوتے ہیں۔ مریضوں اوران کے تیمارداروں سے ہسپتال عملہ انتہائی بدتمیزی سے پیش آتاہے جس کی وجہ سے ناخوشگوارواقعات پیش آنا روز کامعمول بن چکاہے۔گزشتہ دنوں جب ضلع ٹانک سٹی کے رہائشی اپنے مریض کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ٹانک لائے توڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر غائب تھا۔ جب عملے سے پوچھا تو کوئی کہتا تھا باہر گیا ہے تو کو کوئی کہتا تھا کہ ہمیں پتا نہیں کہ ڈاکٹر کہاں ہے اور ہسپتال موجودہ انتظامیہ نے مریضوں کے ساتھ بدتمیزی بھی کرنے لگا کیونکہ مریض نے اپنے موبائل سے ویڈیو بنا رہا تھا۔

     

     

    اس حوالے سے مریضوں کا کہنا تھا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال ٹانک میں طبی عملے کومریضوں کابروقت علاج کرنے اورادویات فراہم کرنے کاپابندبنایاجائے۔انہوں نے کہاکہ ہسپتال عملہ مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں تاکہ روز روز کے لڑائی جھگڑوں سے بچاجاسکے۔ٹانک کے عوامی سماجی تجارتی مذہبی حلقوں کی عوام نے ڈی جی صحت،سیکرٹری صحت،کمشنر ڈیرہ اورڈپٹی کمشنر ٹانک سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال ٹانک میں ڈاکٹرز،سرجن،نرسزو عملے کوڈیوٹی کاپابندبنانے اورمریضوں کابروقت علاج کرنے مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایم ایس ہسپتال کی غفلت کی وجہ سے ہسپتال میں علاج کی غرض سے لائے جانے والے مریضوں کی مشکلات کاازالہ کیاجائے اورانہیں طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔

     

    ادھر ڈیرہ اسمٰعیل خان میں زنانہ ہسپتا ل میں اوپی ڈی پر تعینات اہلکار خواتین مریضوں اوران کے تیمارداروں سے بدتمیزی سے پیش آنے لگا،زنانہ ہسپتال میں علاج کی غرض سے لائی جانے والی خواتین کواوپی ڈی پر گھنٹوں لائنوں میں انتظارکرنے پر مجبورکیاجانے لگا،سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈہ پور، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے زنانہ ہسپتال میں اوپی ڈی پر تعینات اہلکار کی ضلع بدری کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق زنانہ ہسپتال میں اوپی ڈی پر خواتین مریضوں سے ہتک آمیزرویہ اختیارکیاجانے لگا۔اوپی ڈی پر تعینات اہلکارخواتین مریضوں سے بداخلاقی سے پیش آنے لگا جبکہ علا ج کی غرض سے زنانہ ہسپتال آنے والی خواتین مریضوں کو گھنٹوں لائنوں میں انتظارکرانے پر مجبورکیاجاتاہے۔

     

     

    ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے زنانہ ہسپتال میں اوپی ڈی پرتعینات اہلکار کی بدتمیزیوں پر سخت غم وغصے کا کااظہارکیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری اوپی ڈی پر ہماری ماں بہنوں بیٹیوں سے ہتک آمیزرویہ سے پیش آیاجاتاہے اوران سے بدتمیزی کی جاتی ہے۔ انہوں نے سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈہ پور، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے زنانہ ہسپتال میں اوپی ڈی پر تعینات اہلکار کی ضلع بدری کا مطالبہ کیاہے۔انہوں نے کہاکہ زنانہ ہسپتال میں اوپی ڈی پر خوش اخلاق اہلکارکی تعیناتی کی جائے تاکہ علاج کی غرض سے آنے والی خواتین مریضوں اوران کے تیمارداروں کوذہنی کوفت کاسامنانہ کرناپڑے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی دیہات وانڈسٹریز کو گیس کی فراہمی کے پراجیکٹ کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب کی دیہات وانڈسٹریز کو گیس کی فراہمی کے پراجیکٹ کی منظوری

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہیٰ نے نجی شعبے کے تعاون سے دیہات و انڈسٹریز کو گیس کی فراہمی کے پراجیکٹ کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

    اس حوالے سے وزیراعلیٰ چوہدری پرویزالہیٰ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ایل این جی ایزی پرائیویٹ لمٹیڈ پنجاب کے دیہات اور انڈسٹریز کو گیس فراہم کرے گی۔‘گرین فیول کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہوگا’

    چوہدری پرویزالہیٰ نے کہا کہ رورل گیسی فکیشن پروگرام میں حکومت پنجاب ایل این جی ایزی پرائیویٹ کی معاونت کرے گی اور گرین فیول کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہوگا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ دیہات میں نجی شعبے کے تعاون سے گیس کی فراہمی سے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگا، عوام کو ماحول دوست گرین فیول فراہم کرنا ترجیحات میں شامل ہے۔اس موقع پر میاں یاسر حامد سی ای او ایل این جی ایزی پرائیویٹ کا کہنا تھا کہ دیہات میں گیس کی فراہمی سے درختوں کی کٹائی اور لکڑیاں جلانے کا سدباب ہوگا۔

    یاسر حامد نے کہا کہ کوکنگ کے دوران ایل این جی کے استعمال سے خواتین کی صحت پر مضر صحت اثرات نہیں ہوں گے اور ایل این جی گیس گرڈ کے ذریعے گھروں میں کوکنگ کیلئے گیس میسر ہوگی۔

    واضح رہے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر، سیکرٹری انرجی، ایل این جی ایزی پرائیویٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسربریگیڈئیر (ر) عمر اعجازاور جی ایم آپریشنز فہد حمید اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • عمران خان کی پنجاب ہاؤس میں پارٹی رہنماوں سےاہم مشاورت؛ ٹیلی تھون بھی کریں گے

    عمران خان کی پنجاب ہاؤس میں پارٹی رہنماوں سےاہم مشاورت؛ ٹیلی تھون بھی کریں گے

    اسلام آباد:عمران خان کی پنجاب ہاؤس میں پارٹی رہنماوں سےاہم مشاورت؛ ٹیلی تھون بھی کریں گے ، اطلاعات کے مطابق ممکنہ تحریک عدم اعتماد اور ملک گیر احتجاج کے معاملے پر مشاورت کیلئے چئیرمین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) عمران خان پنجاب ہاؤس اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    پنجاب ہاؤس آمد پر شاہ محمود قریشی اور عامر ڈوگر نے ان کا استقبال کیا۔ عمران خان آج بروز اتوار 18 ستمبر کو پنجاب سے متعلق اہم پارلیمانی اجلاس کی صدارت کریں گے۔ پنجاب پاؤس آمد پر پنجاب کے وزرا، ارکان اسمبلی اور اسپیکر پنجاب اسمبلی بھی عمران خان سے ملاقات کریں گے۔

    بہاولپور، فیصل آباد، جہلم و دیگر اضلاع کے صدور و جنرل سیکریٹریز بھی عمران خان سے ملاقات کیلئے پنجاب ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔ اراکین کی جانب سے تنظیمی امور اور دیگر اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    پنجاب اور لاہور کے تنظیمی ذمہ داران بھی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کریں گے۔ جب کہ رات 9 بجے عمران خان سیلاب متاثرین کیلئے تیسری ٹیلی تھون منعقد کریں گے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • طارق عزیز وفات  پا گئے

    طارق عزیز وفات پا گئے

    سابق صدر مملکت پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز آج بروز اتوار 18 ستمبر کو انتقال کرگئے۔طارق عزیز کئی ماہ سے علیل اور اسلام آباد کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔ وہ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔

    طارق عزیز بطور مشیر کے بھی سابق صدر مشرف کے ہمراہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ انہوں نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سیکریٹریٹ کے عہدے سے اس وقت استعفیٰ دیا جب سابق صدر مشرف نے 18 اگست 2008 کو صدارت سے استعفیٰ دیا تھا۔

    سابق انکم ٹیکس افسر، پرویز مشرف کے کالج کے دوست تھے۔ دونوں نے ایک ساتھ ایف سی کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔سال 2002 کے عام انتخابات سے پہلے اور بعد میں ‘وفادار’ امیدواروں کی فہرست تیار کرنے/ انہیں مجبور کرنے میں بھی طارق عزیز پیش پیش رہے۔

    پرویز مشرف کے قریبی حلقوں میں وہ واحد شخص تھے جنہوں نے پرویز مشرف کو ریفرنڈم میں نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔

    سابق وائس چیف جنرل یوسف کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی جس کی سربراہی پرویز مشرف کے بااعتماد ساتھ طارق عزیز نے کی تھی وہ فوج کو اعتماد میں لیے بغیر کی گئی تھی۔

    ذرائع اس بات کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس وقت کے سیکریٹری طارق عزیز مبینہ طور پر بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف کے درمیان ہونے والے معاہدے کے اہم کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔ وہ طارق عزیز ہی تھے جنہوں نے بنیادی طور پر مشرف کو اس طرح کی ڈیل کیلئے راغب کیا تھا۔وہ لاہور ریس کلب کے سربراہ بھی رہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.