Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان اسٹیل ملزکی 196 قیمتیں گاڑیاں اسکریپ میں فروخت کردی گئیں

    پاکستان اسٹیل ملزکی 196 قیمتیں گاڑیاں اسکریپ میں فروخت کردی گئیں

    کراچی :پاکستان کے بچے کچھے اثاثے بھی اب اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں اوریہ خبر اور بھی پاکستانیوں کے لیے پریشان کُن ہےکہ پاکستان سٹیل مل انتظامیہ نے حیرت انگیز طور پر اپنے ٹرانسپورٹ بیڑے کی 196گاڑیاں سکریپ کے داموں پر فروخت کردیں، فروخت شدہ گاڑیوں میں 59بسیں بھی شامل ہیں، ان کی فروخت سے 4کروڑ 72لاکھ 54ہزار 520روپے وصول ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق مذکورہ بسیں اور دیگر گاڑیاں 2006ء سے 2021ء تک کی رجسٹریشن والی ہیں۔ ان گاڑیوں کی مجموعی خریداری لاگت تقریباً 60، 70کروڑ رہی۔ ان بسوں کو سکریپ کے نام پر فروخت کیا گیا جبکہ بیشتر بسوں کی باڈی گل چکی تھیں مگر انجن اور چیسز ٹھیک حالت میں تھے۔ بسوں کی سب سے زیادہ بولی آٹھ لاکھ جبکہ سب سے کم بولی 85ہزار وصول ہوئی۔ کئی کئی بسیں ایک ہی پارٹی کو فروخت کی گئیں۔

    خریداروں سے 17فیصد جی ایس ٹی اور 0.5فیصد انکم ٹیکس کی مد میں بھی وصول کیے گئے۔

    یاد رہےکہ چند دن پہلے بھی کچھ ایسی خبریں گردش کررہی تھیں‌ کہ برسوں سے بند پاکستان اسٹیل ملز سے 10 ارب روپے مالیت کا میٹریل چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔وزارت صنعت و پیداوار نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھ دیا۔

    پاکستان اسٹیل ملز یونین نے چوری کے واقعات پر وزارت صنعت کو خط لکھا تھا۔جنرل سیکرٹری سی بی اے اسٹیل ملز عبدالرزاق نے خط میں کہا کہ اسٹیل ملز میں چوریوں کا سلسلہ گزشتہ دور حکومت میں شروع ہوا۔خط کے متن کے مطابق گزشتہ حکومت میں اسٹیل ملز کا 10 ارب روپے کا میٹریل چوری ہوا۔یونین عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ حکومت کو چوریوں سے آگاہ کیا مگر کوئی پیشرفت نہ ہوئی۔

    چوری میں سیکیورٹی اور سینئر انتظامی افسران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔خط میں متعلقہ حکام سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی اثاثے کو لٹیروں سے بچانے کے لیے فوری ایکشن و تحقیقات کی جائیں۔27 جولائی کی رات 50 افراد پر مشتمل لٹیروں کا ایک گروہ اسٹیل ملز کے احاطے میں داخل ہوا۔

    لٹیروں نے پاکستان اسٹیل کے پلانٹ ایریا سے اربوں روپے مالیت کا بھاری تانبہ اور تاریں چوری کیں۔ موجودہ اور گزشتہ چوریوں میں سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ اور ملازمین خاموش تماشائی بنے رہے۔چوریاں مرکزی پلانٹ سمیت مختلف ڈپارٹمنٹس میں ہوئیں، اسٹیل ملز میں بھی چوریوں پر تحقیقات جاری ہیں۔

    وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق الزامات انتہائی سنجیدہ ہیں اور اسٹیل ملز انتظامیہ کی شفافیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا کہ ایف آئی اے اسٹیل ملز میں ہونے والی چوریوں کی شفاف تحقیقات کرے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • پاک انگلینڈ ٹی 20 سیریز،انگلش ٹیم کا نیشنل اسٹیڈیم میں پہلا پریکٹس سیشن

    پاک انگلینڈ ٹی 20 سیریز،انگلش ٹیم کا نیشنل اسٹیڈیم میں پہلا پریکٹس سیشن

    پاکستان اور انگلینڈ کی ٹی 20 سیریز سے قبل انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا نیشنل اسٹیڈیم میں پہلا پریکٹس سیشن ہوا۔انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے جمعہ کی رات نیشنل اسٹیڈیم میں پہلا پریکٹس سیشن کیا۔ انگلش ٹیم نے فلڈ لائٹس میں 3 گھنٹے طویل پریکٹس سیشن میں حصہ لیا۔

    کپتان جوز بٹلر بھی اس موقع پر گراؤنڈ میں تھے۔ انگلش اسکواڈ نے فزیکل ٹریننگ کے بعد نیٹ سیشن کیا۔پاک انگلینڈ ٹی 20 سیریز سے قبل اسٹیڈیم میں ڈیجیٹل باؤنڈریز نصب کردی گئی ہیں۔

    پاکستانی ٹیم آج سے نیشنل اسٹیڈیم میں تیاریوں کا آغاز کرے گی۔ 7 میچز کی سیریز کا پہلا ٹی میچ 20 ستمبر بروز منگل کو کھیلا جائے گا۔
    تمام میچز شام ساڑھے 7 بجے شروع ہونگے۔

    دوسری طرف انگلینڈ کے خلاف ہوم ٹی 20 انٹرنیشنل سیریزکے لیے قومی اسکواڈ نے کراچی میں رپورٹ کردی۔جمعہ کی رات قومی ٹیم کے کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف نے ٹیم ہوٹل میں رپورٹ کی۔

    وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان اور اسسٹنٹ ٹو ہیڈ کوچ شاہد اسلم 17 ستمبر کو کراچی میں رپورٹ کریں گے۔قومی اسکواڈ آج نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ٹریننگ کرے گا۔ ٹریننگ سیشن سے قبل بیٹر شان مسعود اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کریں گے۔

    پاکستان اور انگلینڈ کے مابین سیریز کا پہلا ٹی 20 انٹرنیشنل میچ 20 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔ سیریز کے ابتدائی 4 میچز کراچی اور دیگر 3 میچز لاہور میں کھیلے جائیں گے۔تمام ٹی 20 میچز شام ساڑھے 7 بجے شروع ہونگے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • 1کروڑ50 لاکھ کی ڈکیتی کرنے والے مجرم پکڑے گئے

    1کروڑ50 لاکھ کی ڈکیتی کرنے والے مجرم پکڑے گئے

    جمشیدپور:پولیس نے بینک ڈکیتی میں ملوث ایک بین ریاستی گینگ کو گرفتارکرلیا ہے۔ اس گینگ نے جمشید پور میں ایک قومی بینک سے تقریباً 1.5 کروڑ روپے نقد اور سونے کے زیورات لوٹ لیے،

    اس سلسلے میں پولیس نے کہا کہ 18 اگست کو جمشید پور بینک لوٹ میں ملوث گینگ کے سات ارکان میں سے دو چوری کی رقم لے کر ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔ ایس ایس پی، پربھات کمار نے کہا کہ اس گروہ نے فروری میں جمشید پور میں ایک نامور جیولر سے 32 لاکھ روپے بھی لوٹے تھے۔

    ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ گرفتار گینگ کے ارکان نے پولیس کو بتایا کہ پٹنہ کی بیور جیل میں راجیو سنگھ عرف پلو نامی قیدی کی ہدایت پر بینک لوٹے گئے۔گینگ کے ارکان کا تعلق گیا، سمستی پور اور پٹنہ سے تھا۔ ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے جھارکھنڈ کے علاوہ بہار، راجستھان، مغربی بنگال میں بینکوں کو لوٹا۔

    پولیس افسر نے کہا کہ ملزمان نےانکشاف کیا ہے کہ انہوں نے شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں کے قریب اور قومی شاہراہوں کے قریب واقع شاخوں، کیش وینز اور زیورات کو نشانہ بنایا تاکہ وہ جرم کرنے کے بعد آسانی سے فرار ہو سکیں۔

    تفتیشی ٹیم نے جمشید پور بینک کی ڈکیتی میں استعمال ہونے والی ایک کنٹینر گاڑی اور دو مسروقہ موٹر سائیکلیں برآمد کیں۔ گینگ کے ارکان کنٹینر گاڑی میں مال غنیمت لے کر کولکتہ فرار ہوگئے تھے۔اس کے بعد وہ گاڑی کو مشرقی شہر کے ایک الگ تھلگ مقام پر چھوڑ کر اپنے گھروں کو منتشر ہو گئے۔ ملزمان نے دو پہیوں کے چیسس اور انجن نمبر مکمل طور پر مٹا دیے تھے، تاکہ ان کا آسانی سے سراغ نہ لگایا جا سکے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • قرضہ واپس نہ کرنے پرفنانس کپمنی نے حاملہ خاتون پرٹریکٹرچڑھا کرکچل دیا

    قرضہ واپس نہ کرنے پرفنانس کپمنی نے حاملہ خاتون پرٹریکٹرچڑھا کرکچل دیا

    جھاڑکھنڈ:قرضہ واپس نہ کرنے پرفنانس کپمنی نے خاتون پرٹریکٹرچڑھا کرکچل کراسے جان سے ماردیا، پولیس کی طرف سے جاری اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ جمعہ کو جھارکھنڈ کے ہزاری باغ میں ٹریکٹر کی قیمت وصولی کے لیے آنے والی فائنانس کمپنی کے اہلکاروں نے ایک حاملہ خاتون کو مبینہ طور پر ٹریکٹر کے نیچے کچل دیا۔

    ذرائع کےمطابق متاثرہ ایک کسان کی بیٹی ہے۔ ایک مشہور فنانس کمپنی کے اہلکار بغیر اطلاع کے ٹریکٹر برآمد کرنے کسان کے گھر گئے۔ بیٹی اور اہلکاروں کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد وہ ٹریکٹر کے سامنے آگئی۔

     

     

    اہلکاروں نے مبینہ طور پر اسے ٹریکٹر کے نیچے کچل کر اس کو شدید زخمی کردیا ،کہا جاتا ہے کہ متاثرہ کے رشتہ دار کے مطابق خاتون کو قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

    ہزاری باغ کے ایس پی، منوج رتن چوتھے کے مطابق، "فائنانس کمپنی کے اہلکار ایک کسان کے گھر ٹریکٹر کی وصولی کے لیے پہنچے تو ان کے درمیان جھگڑا ہو گیا جس میں اس کی بیٹی کو ٹریکٹر نے ٹکر مار دی اور اس کی موت ہو گئی۔ اس معاملے میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔‘‘

    پولیس اہلکار نے مزید کہا کہ فنانس کمپنی کے اہلکاروں نے ٹریکٹر کی بازیابی کے لیے متاثرہ کے گھر جانے سے قبل مقامی تھانے کو اطلاع نہیں دی۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس ٹریکٹر کی کچھ قسطیں ابھی واجب الادا تھیں جوکچھ دیرسےادا نہیں ہورہی تھیں جس پرکمپنی نےبقایاجات واپس لینے کے لیے ٹریکٹرواپس کرنے کے لیے دباوڈالا تھا

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

     

  • طوفانی بارشوں اورسیلاب نےپاکستان کوتباہ کردیا:1500سےزائد جانحق3کروڑسےزائد بےگھر

    طوفانی بارشوں اورسیلاب نےپاکستان کوتباہ کردیا:1500سےزائد جانحق3کروڑسےزائد بےگھر

    لاہور:پاکستان کواس وقت کئی بحرانوں کا سامنا ہے ، کہیں معاشی بحران تو کہیں معاشرتی مگر پچھلے دو ماہ سے پاکستان جس تکلیف اور کرب سے گزررہا ہے پاکستان کی تاریخ میں شاید ایسے پہلے نہیں ہوا، کئی ہفتوں سے جاری طوفانی بارشوں اور سیلاب نے پاکستان کو تباہ کر دیا ہے۔

    پاکستان جیسے غریب ملک میں تقریباً 220 ملین آبادی پر مشتمل جنوبی ایشیائی ملک جولائی اور اگست میں مون سون کی تاریخی بارشوں کے بعد موسمیاتی بحران کا مرکز ہے۔اب تک 1527 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    12758 افراد زخمی ، 18 لاکھ سے زائد مکانات تباہ 12 ہزار 718 کلومیٹر سڑکیں تباہ جبکہ 9 لاکھ 27 ہزار سے زائد جانور اور مویشی بھی جان کی باری ہارگئے ہیں

     

    پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ریسکیو اور بحالی کے مشن سست ہیں، اور نصف ملین سے زیادہ لوگ اب بھی عارضی کیمپوں میں ہیں۔پاکستان کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے شدید موسم کو ’’عشرے کا مونسٹر مانسون‘‘ قرار دیا۔

    وفاقی وزیراحسن اقبال کے مطابق انکی حکومت نے کل مالی نقصان کا تخمینہ 30 بلین ڈالر لگایا ہے، جس میں کم از کم چار ملین ہیکٹر (9.8 ملین ایکڑ) زرعی اراضی تباہ ہو گئی ہے۔

    پاکستان اور اقوام متحدہ دونوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کو شدید موسم اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بارش کی سطح کو "ایپوچل” قرار دیا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ملک کے 160 میں سے کم از کم 81 اضلاع کو سیلاب سے "آفت زدہ” کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔

    بصری خصوصیات کی مندرجہ ذیل سیریز میں، الجزیرہ نے جنوب کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں سے شمال تک سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا نقشہ بنایا ہے: جانوں، املاک، مویشیوں اور فصلوں کے ڈوبنے کا نقصان۔

    سب سے زیادہ متاثرہ علاقے
    پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ اور بلوچستان حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق اگست میں سندھ میں ماہانہ اوسط سے 726 فیصد زیادہ اور پڑوسی ملک بلوچستان میں 590 فیصد بارش ہوئی۔

    ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ بارش نے صوبہ سندھ کے علاقوں کو 100 کلومیٹر چوڑی اندرون ملک جھیل میں بہا دیا۔ سندھ کی آبادی تقریباً 50 ملین افراد پر مشتمل ہے، جو پنجاب کے بعد ملک کا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔

    متاثرین کا کہنا ہے کہ اس آفت کےدوران امداد ان لوگوں کو جا رہی ہے جنہیں اس کی ضرورت نہیں ہے، اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے سیاسی روابط ہیں۔” "پانی نکالنے یا ان درجنوں خواتین کی مدد کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے جو بچے کو جنم دینے والی ہیں۔ کھانے کے ٹکڑوں کو سڑک کے کنارے بیٹھے مدد کے انتظار میں ہر ایک کے درمیان بانٹ دیا جاتا ہے۔”

    جیسا کہ سیلاب کا پانی پہاڑی علاقوں سے نکلتا ہے، یہ پہاڑی دھاروں سے نیچے بہہ جاتا ہے، جو کہ پہاڑوں سے زرعی زمینوں تک بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی ایک قسم ہے۔ پانی نیچے کی طرف جاتا ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے، چھوٹی معاون ندیوں سے جھیلوں میں بہاؤ میں اضافہ کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سے سیلابی پانی میں اضافہ ہوا کیونکہ پہاڑی سلسلے میدانی کھیتوں میں بہہ گئے۔

    ملک کے سب سے بڑے میٹھے پانی کے ادارے، منچھر جھیل کے پشتے حکام نے گزشتہ ہفتوں میں متعدد بند توڑ دیے تاکہ اوور فلو سے بچا جا سکے اور پانی کو جھیل سے تقریباً 5 کلومیٹر (3.1 میل) دور دریائے سندھ تک پہنچایا جا سکے۔

    منچھر جھیل میں شگاف ڈالنے کے باوجود پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند رہی۔ پانی کو کسی خاص علاقے میں نہ بھیجنے سے جھیل کے آس پاس کے گنجان آباد علاقوں کو مزید نقصان پہنچے گا۔جھیل کو بہنے سے روکنے کی کوششوں میں تقریباً 150,000 لوگ بے گھر ہوئے۔

     

    محکمہ موسمیات کی طرف سے شیئر کی جانے والی تصاویر کے مطابق منچھر جھیل کا اوور فلو سہون کے ہوائی اڈے اور ٹول پلازہ کی طرف تھا اور اب بھی کچھ حصوں میں مرکزی شاہراہ کا احاطہ کرتا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق موجودہ پریشر پوائنٹ کوٹری بیراج پر ہے۔

    پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ریسکیو اور بحالی کے مشن سست ہیں، اور نصف ملین سے زیادہ لوگ اب بھی عارضی کیمپوں میں ہیں۔

    ان حالات سے نمٹنے کے عالمی برادری خصوصا برادراسلامی ملکوں کی طرف سے امداد کا سلسلہ جاری ہے ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، ترکی، چین اور امریکہ سمیت کئی ممالک تباہی سے براہ راست متاثر ہونے والے 35 ملین پاکستانیوں کے لیے امداد بھیج رہے ہیں۔

     

    پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے چلائے جانے والے ایک پبلک ڈپلومیسی اکاؤنٹ نے جمعرات کو کہا، "101 بین الاقوامی امدادی امدادی پروازیں مصیبتوں کو کم کرنے میں مدد کے لیے پہنچی ہیں۔””ضرورت کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام کے لیے جو مدد اور حمایت کی گئی ہے وہ قابل تعریف ہے۔”

    وزارت نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے 55 امدادی پروازیں بھیجی ہیں، امریکہ نے 15، ترکی نے 13 اور چین اور قطر سے چار چار پروازیں بھیجی ہیں۔ یونیسیف اور سعودی عرب نے امدادی امداد کے دو جہاز بھیجے ہیں جبکہ برطانیہ، نیپال، اردن، ازبکستان، ترکمانستان اور فرانس نے ایک ایک جہاز بھیجے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام اب تک تین طیاروں اور یو این ایچ سی آر 13 بھیج چکا ہے۔

    سائنس دانوں نے کہا کہ طوفانی مون سون جس نے پاکستان کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ زیرِ آب کر دیا ہے، سو سال میں ایک ایسا واقعہ ہے جو ممکنہ طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مزید شدید ہو گیا ہے۔

    پورے دریائے سندھ کے طاس میں، سائنسدانوں نے پایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دو ماہ کی مون سون کی مدت کے دوران زیادہ سے زیادہ بارش تقریباً 50 فیصد زیادہ تھی، جب کہ پاکستان کے سب سے زیادہ متاثرہ جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں میں یہ 75 فیصد زیادہ شدید تھی۔

  • پاکستانی عوام اس وقت تباہی سے دوچار ہیں ،ایسی تباہی آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی، سیلاب پر امریکی کانگریس میں بریفنگ

    پاکستانی عوام اس وقت تباہی سے دوچار ہیں ،ایسی تباہی آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی، سیلاب پر امریکی کانگریس میں بریفنگ

    واشنگٹن: امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن نے ایوان نمائندگان میں پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے مدد کی اپیل کردی۔

    باغی ٹی وی : امریکی کانگریس میں پاکستان میں سیلاب سے متعلق بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام اس وقت تباہی سے دوچار ہیں ، ایسی تباہی آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق


    پاکستان کا حال ہی میں دورہ کرنے والی امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن نے امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کے سیلاب سے متاثر علاقوں کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام اس وقت تباہی سے دوچار ہیں ، ایسی تباہی آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔ ایسی بارش ہوئی جس سے ہر طرف سیلاب ہے-

    انہوں نے کہا کہ فضائی سروے میں پاکستان کے سیلاب سےمتاثرعلاقوں کےدورے میں تاحد نظر پانی دیکھا سیلابی پانی نے پل اورسڑکیں تباہ کردی ہیں۔ لوگ ان علاقوں میں محصورہو کر رہ گئے ہیں۔ جہاں لوگوں نے پناہ لی چاہے وہ پل ہو سڑک یا کوئی اورجگہ سب پانی بہا لے گیا۔

    شیلا جیکسن نے کہا کہ امریکا سب سے پہلے پاکستان کی مدد کو پہنچا امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

    سمندر میں لانچ کےاندر دم گھٹنےسے 3 افراد جاںبحق ہو گئے

    دوسری جانب ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق ہو گئے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 545 ہو گئی این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران سندھ میں 32، بلوچستان میں 5افراد جاں بحق ہوئے۔ اموات کی تعداد ایک ہزار 545 تک جا پہنچی ہے۔

    سندھ میں اب تک 678، خيبرپختونخوا میں 306، بلوچستان میں 299افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ پنجاب میں 191، گلگت بلتستان میں 22 اور آزاد کشمیر میں48 اموات ہوئیں ۔

    چوبیس گھنٹے میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 92 افراد زخمی بھی ہوئے۔ 14جون سے اب تک 12ہزر850افراد زخمی ہوئے ہیں چوبیس گھنٹے کے دوران ملک بھر میں 36ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ۔ملک بهر میں 80 اضلاع بارشوں اور سیلاب سے تاحال متاثرہیں۔

    روجھان – کچی آبادی روجھان سٹی سے رودکوہی پانی کا اخراج راستوں کی بحالی اور متاثرین کی واپسی…

  • کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈاکٹر صاحب پانی کے موضوع پر ایک بہت عالم فاضل آدمی ہیں جنہیں میرے جیسا کم علم آدمی فیس بک پر پاکستان کے ڈیموں کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں ٹیگ ہونےسے پہلے نہیں جانتا تھا۔ ڈاکٹر حسن عباس صاحب کی باتیں سن کر شدید حیرت ہوئی اور میں نے سوشل میڈیا اور لنکڈ ان پر ان کو مزید کھوجا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ڈیم بیزار ایکسپرٹ ہیں اور پاکستان کے تمام دریاؤں پر ڈیم بنانے کے خلاف ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ طرز پر پاکستانی دریاؤں کی اپنی اصلی حالت میں بحالی چاہتے ہیں۔

    ان کی اس خواہش پر ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ 2007 میں انٹرنیشنل سنٹر فار ہائیڈروپاور کی دعوت پر ناروے کے پن بجلی سیکٹر کو دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اندرون ملک پہاڑی جنگلی علاقوں میں منصوبوں کے وزٹ کے دوران بہت سی جھونپڑیاں بنی نظر آئیں تو اپنے کوآرڈی نیٹر سے اس بارے استفسار کیا۔ معلوم ہوا کہ شہرکے شور شرابے سے تنگ ناروے کی ایک بڑی کھاتی پیتی شہری آبادی کا محبوب مشغلہ ویک اینڈز پر ان جھونپڑیوں میں قدرتی ماحول میں بغیر بجلی، موبائل یا ٹی وی سیٹ کے وقت گزارنا ہے۔ لکڑیاں جلا کر کھانا پکانا ہے۔ چشمے سے پانی پینا ہے۔ یہ ایک اعلی درجے کی تفریح گردانی جاتی ہے۔

    کوآرڈی نیٹر بتانے لگا کہ کچھ عرصہ پہلے عالمی ادارہ برائے پن بجلی کی دعوت پر انڈیا کے ایک بہت بڑے پروفیسر صاحب کو لیکچرز کے کئے مدعو کیا گیا جنہیں اوسلو کے ایک سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ ویک اینڈ پر ان کے لئے جنگل کاٹیج میں اعلی درجے کی تفریح کے لئے دودن کا انتظام کیا گیا ۔

    واپسی پر پروفیسر کا بوتھا سوجا ہوا تھا۔پروفیسر صاحب سخت ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ویک اینڈ پر اوسلو کے شاپنگ مال اور نائٹ لائف سے لطف اٹھانا چاہتے تھے لیکن انہیں ایک دیہاتی کی طرح بغیر بجلی والی جھونپڑی میں بھیج دیا گیا۔

    پروفیسر صاحب کا گلہ یہ تھا کہ کاٹیج والا ماحول تو ہم سارا سال اپنے ملک میں انجوائے کرتے ہیں چھ چھ گھنٹے روزانہ بجلی نہیں ہوتی۔ نہ گیس آتی ہے نہ نلکے سے پانی اور موبائل سگنل تو ہوتے ہی نہیں۔ ناروے میں تو میں آپ کی شہری زندگی کا مزہ لینا چاہتا تھا اور آپ نے مجھے جنگل میں پھینک دیا۔ میزبان شاکڈ

    میں بھی ڈاکٹر صاحب کا انٹرویو سن کر سکتے کی حالت میں ہوں۔ اے بڑے بھائی ڈاکٹر صاحب۔ ہماری زیادہ تر آبادی تو پہلے ہی قدرتی ماحول میں رہتی ہے۔ ہم نے تو بڑی مشکل سے ورلڈ بنک کے تعاون سے اب تک صرف دو بڑے ڈیم بنائے ہیں۔

    جن ممالک کی آپ مثالیں دے رہے ہیں وہ تو ہزاروں کی تعداد میں بڑے ڈیم بنا کر آدھی صدی سے زیادہ ان سے فائدہ اٹھا بیٹھے۔ انٹرنیشنل کمیشن آف لارج ڈیمز ICOLD کا ڈیم رجسٹر تو انہی ملکوں کے ڈیموں کے ناموں سے بھرا پڑا ہے اور اب یہ ملک ہمیں ڈیم نہ بنانے کے بھاشن دے رہے ہیں۔

    پاکستان جیسا ملک جس کاسب سے زیادہ پانی مون سون میں ہی میسر ہوتا ہے اس کے پاس سال کے باقی مہینوں کے لئے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ اور کیا حل ہوسکتا ہے۔ آپ ہم بھوکے لوگوں کو ملکہ فرانس کی طرح ڈبل روٹی کھانے کا مشورہ تو نہ دیں۔

    پاکستانی معیشت کی بنیاد ہی زراعت پر ہے اور فصلوں کو تو پانی ہی تبھی چاہئے ہوتا ہے جب بارش نہیں ہوتی۔چند ماہ پہلے اپریل میں چھ دہائیوں کی شدید ترین خشک سالی کی وجہ سے ڈیم خشک ہوچکے تھے اور سندھ اور پنجاب میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ہماری اس سال کی کاٹن کی فصل پانی نہ ملنے سے تباہ ہوچکی اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالروں کا نقصان ہوچکا۔

    لہذا ڈیم مخالف حضرات کی باتوں سے ہرگز گمراہ نہ ہوں۔ ہمیں مون سون کی چند ماہ کی بارشوں کو سارے سال کے لئے ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ہماری نیلی دولت ہے جسے واٹر بنک میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بوقت ضرورت سارا سال تھوڑا تھوڑا کرکے استعمال کرسکیں۔ٹیکنیکل اعتراضات کا جواب کچھ دنوں میں ایک تفصیلی آرٹیکل میں دوں گا۔انشااللہ۔

    چلتے چلتے بتادوں کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال صرف جولائی کے ایک مہینے میں ہی پچھلے سال2021 کے مون سون کے تین ماہ (جولائی تا ستمبر ) کی کل ملا کر بارشوں سے زیادہ بارش ہوچکی ہے۔

    محکمہ کی اگست کی موسمیاتی آوٹ لک کے مطابق اگست کے مہینے میں پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان کے ساحل مکران میں مزیذ تیز بارشیں ہوں گی جب کہ شمالی علاقوں میں گرمی کی وجہ سے برف کے پگھلنے سے مڈ فلُو کا خطرہ ہے۔

    ادھر انڈیا نے طوفانی بارشوں کے بعد دریائے چناب اور راوی میں پانی چھوڑ دیا ہے۔ دریائے چناب میں طغیانی سے ضلع جھنگ کے کافی علاقے زیر آب آچُکے۔

  • سمندر میں لانچ کےاندر دم گھٹنےسے 3 افراد جاںبحق ہو گئے

    سمندر میں لانچ کےاندر دم گھٹنےسے 3 افراد جاںبحق ہو گئے

    کراچی :سمندر میں لانچ کے اندر دم گھٹنے سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے ۔

    باغی ٹی وی : کراچی کے علاقے کورنگی چشمہ گوٹھ میں لانچ سےتین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد لانچ کے چیمبر میں سو رہے تھے، لانچ میں سوار ایک اور شخص کو بیہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے ماہی گیرلانچ کی ٹینکی میں موجود زہریلی گیس سےجاں بحق ہوئے-

    اقوام متحدہ کا پاکستان میں 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ

    پولیس کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت قادر، ظہیر اور دیدار کے ناموں سے ہوئی، اب تک کی تفتیش کے مطابق تینوں افراد کی موت دم گھٹنے کے باعث ہوئی ہے تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد موت کی اصل وجہ معلوم ہو سکے گی۔

    پولیس کے مطابق 20ماہی گیرایک ہی لانچ میں سمندرمیں گئےتھے۔واقعہ کی مزیدتفتیش جاری ہے۔

    روجھان – کچی آبادی روجھان سٹی سے رودکوہی پانی کا اخراج راستوں کی بحالی اور متاثرین کی واپسی…

    قبل ازیں جلالپور بھٹیاں موٹروے ایم ٹو کوٹ سرور انٹرچینج کے قریب ٹرالے کی مسافر وین کو ٹکر 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے تھے زخمیوں میں بھی ایک کی حالت تشویشناک موٹروے ایم ٹو پر مسافر وین کا ڈرائیور اپنی گاڑی کا ٹائر بدل رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والے ٹرالے نے ٹکر مار ی تھی-

    جس کے نتیجہ میں مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد شامل ہیں جو سرگودھا فوتکی پر گئے تھے اور واپسی شیخوپورہ جارہے تھے جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق شیخوپورہ سے ہے حادثہ ٹرالے ڈرائیور کے سو جانے کے باعث پیش آیا تھا جاں بحق ہونے والوں کی ڈیڈ باڈی اور زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال پنڈی بھٹیاں منتقل کر دیا گیا زخمیوں میں ایک کی حالت تشویشناک اسے فیصل آباد ریفر کر دیا گیا تھا-

    جلالپور بھٹیاں موٹروے ایم ٹو کوٹ سرور انٹرچینج کے قریب ٹرالے کی مسافر وین کو ٹکر…

  • کراچی سمیت  ملک بھر میں مہنگا آٹا  مزید مہنگا

    کراچی سمیت ملک بھر میں مہنگا آٹا مزید مہنگا

    ملک بھر میں مہنگا آٹا مزید مہنگا ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے مشکلات بڑھنے لگیں،اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھی تو چکی مالکان نے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔

    ڈیرہ غازی خان سیلاب سے متاثر، لوگوں کی گندم خراب ہوگئی ہے،شہریوں کو وافر مقدار میں…

    ملک میں آٹے کی قیمت 130روپے کلو تک پہنچ گئی کراچی میں آٹا ملک میں سب سے مہنگا ہے ایک کلو کی قیمت 125 سے130 روپے ہے،لاہور میں110 روپے سے 116 روپے میں ایک کلو آٹا مل رہا ہے –

    اسلام آباد میں چکی کے آٹے کی قیمت 125 روپے ہو گئی ہے،کوئٹہ میں آٹےکی قیمت120روپےکلو جبکہ گوجرانوالہ میں چکی کا آٹا 130 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔

    چکی مالکان کا کہنا ہے کہ غلہ منڈیوں میں قلت کے سبب فی من گندم 2 ہزار850 سے بڑھ کر3 ہزار800 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بجلی کے بھاری بل بھی ادا کر رہے ہیں۔ آٹا مہنگا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

    لاڑکانہ:فاقہ کشی سےبےحال سیلاب متاثرہ شخص بچےفروخت کرنے پرمجبور

    اوپن مارکیٹ میں بیس کلو آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوچکا ہے لاہور میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 980 روپے ہے جو مارکیٹ میں کئی جگہوں پر دستیاب ہی نہیں۔

    دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان نہ ہونے پر پیٹرول پمپس نےخریداری روک لی۔

    ذرائع کے مطابق پیٹرول پمپس کی جانب سے خریداری نہ ہونے پر پیٹرول پمپس خالی ہونے کا خدشہ ہے, پیٹرول کی قیمت گرنے کے باعث پمپس کمپنیوں سے پیٹرول نہیں خرید رہے۔

    واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرنا تھا جو ابھی تک نہیں ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان آج متوقع ہے، وزیر اعظم آفس نے وزارت خزانہ کو آگاہ کر دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کا پاکستان میں 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ

  • ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق ہو گئے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 545 ہو گئی ۔

    باغی ٹی وی : نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا تاہم بالائی پنجاب میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

    بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا سیلاب متاثرین کیلئےساڑھے7 کروڑ ڈالر امداد دینے کا…

    گزشتہ روز ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی 41، تربت، نوکنڈی، موہنجوداڑو، روہڑی، نور پور تھل اور خان پور 40 ڈگری سینٹی گریڈ تھا-

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کاؤنٹی کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا، کشمیر، بالائی/وسطی پنجاب اور جی بی میں چند مقامات پر آندھی/گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    انفراسٹرکچر اور پرائیویٹ املاک کے نقصانات:

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کل 12718 کلومیٹر سڑکیں اور 390 پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع

    سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، ٹھٹھہ اور بدین شامل ہیں۔
    بلوچستان کے اضلاع میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھلمگسی، بولان، صحبت پور اور لیسبیلہ شامل ہیں کے پی میں دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک اور ڈی آئی خان اور پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ کا پاکستان میں 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ

    فوج کی امدادی کوششیں:

    ایوی ایشن کی کوششیں: اب تک 546 آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 پروازیں کی گئیں اور 31 پھنسےہوئے افراد کونکالا گیا اور 2 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا مزید یہ کہ اب تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے 4648 پھنسے ہوئے افراد کو نکالا جا چکا ہے۔

    ریلیف کیمپس / امدادی اشیاء جمع کرنے کے پوائنٹس

    اب تک ملک بھر میں سیلاب متاثرین کے لیے سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں 147 ریلیف کیمپ اور 238 ریلیف کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔

    عطیات
    اب تک 9176.2 ٹن اشیاء کے ساتھ ساتھ 1537.5 ٹن غذائی اشیاء اور 8067903 ادویات کی اشیاء جمع کی جا چکی ہیں۔ تاہم اب تک 8918.3 ٹن خوراک 1503.6 ٹن غذائی اشیاء اور 8004473 ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں۔

    دوسری جانب ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق ہو گئے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 545 ہو گئی-

    روجھان – کچی آبادی روجھان سٹی سے رودکوہی پانی کا اخراج راستوں کی بحالی اور متاثرین کی واپسی…

    این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران سندھ میں 32، بلوچستان میں 5افراد جاں بحق ہوئے۔ اموات کی تعداد ایک ہزار 545 تک جا پہنچی ہے۔

    سندھ میں اب تک 678، خيبرپختونخوا میں 306، بلوچستان میں 299افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ پنجاب میں 191، گلگت بلتستان میں 22 اور آزاد کشمیر میں48 اموات ہوئیں ۔

    چوبیس گھنٹے میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 92 افراد زخمی بھی ہوئے۔ 14جون سے اب تک 12ہزر850افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    چوبیس گھنٹے کے دوران ملک بھر میں 36ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ۔ملک بهر میں 80 اضلاع بارشوں اور سيلاب سے تاحال متاثر ہيں۔