Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • اقوام متحدہ کا پاکستان میں 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ

    اقوام متحدہ کا پاکستان میں 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ

    اقوام متحدہ نے پاکستان کے شمال میں موجود 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کا نقشہ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ گرمی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے برف کے پگھلنے کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکے اور حال ہی میں سیلاب سے متاثرہ ملک کو مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے بہتر انداز میں ڈھالنے میں مدد کے لیے قبل از وقت وارننگ سسٹم قائم کیا جا سکے۔

    اقوام متحدہ کی ذیلی ایجنسی یونائٹڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے نمائندے کنوٹ اوسٹبی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام اگلے 18 مہینوں میں 5000 گلیشیئرزکا نقشہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہےجنوبی ایشیائی ملک دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیئرز کا گھر ہے۔

    کنوٹ اوسٹبی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں، ان گلیشئیرز کی میپنگ کا عمل اس لیے بہت جلد مکمل کرنا ضروری ہے کیونکہ تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کی وجہ سے پھاڑوں میں جھیلیں بن گئی ہیں جو کہ مستقبل میں موجودہ خطرناک سیلاب کی طرح نشیبی علاقوں میں دوبارہ کسی بڑے سیلاب کی تباہ کاریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رواں برس آنے والے سیلاب کے نتیجے میں جون سے اب تک 15 سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 10 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ پاکستان کا کم و بیش ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب چکا ہے حالیہ سیلابی تباہی نے دنیا کے آگے موسمیاتی تبدیلیوں کی طاقت اور کسی ملک کی تیاری اور اس سے نمٹنے کی استعداد کو واضح کر دیا ہے۔

    انہوں نے برف سے ڈھکے ہندوکش، ہمالیہ اور کراکرم پہاڑی سلسلوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس لیے اس منصوبے کے ذریعے دنیا میں تھرڈ پول سمجھے جانے والے اس علاقے میں برف پگھلنے کی رفتار میں کمی لانے اور مستقبل میں سیلابی تباہی سے بچنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس حکمت عملیاں طے کی جائیں گی۔

    کنوٹ اوسٹبی کا کہنا تھا کہ ان تینوں پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیئرز دنیا میں موجود مستقل برف کا سب سے بڑا زخیرہ ہونے کے ساتھ نارتھ اور ساؤتھ پول کے علاوہ زمین پر کہیں بھی موجود سب سے بڑا پرما فروسٹ (permafrost) ہیں۔

    کنوٹ اوسٹبی نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار سرفہرست 10 ممالک میں سے پاکستان کو کلائمیٹ فنڈز میں سے 154 ملین ڈالرز مل چکے ہیں، یو این ڈی پی، حکومت کے ساتھ بین الاقوامی ری انشورنس کمپنیوں سے ڈزاسٹر رسک انشورنس پلان کے حوالے سے بھی بات چیت کر رہی ہےاقوام متحدہ کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے 160 ملین ڈالرز جمع کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ذیلی ایجنسی یو این ڈی پی کی جانب سے اس سے قبل رواں برس سیلاب کا شکار ہونے والی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کی 24 وادیوں میں پیشگی انتباہ جاری کرنے کا نظام متعارف کروایا گیا تھا، بلکل ویسے ہی سسٹم کی ملک کے شمالی علاقوں میں موجود 110 وادیوں میں موجودگی ضروری ہے۔

  • انسانی حقوق پر شور مچانے والے موقع پرست کہاں ہیں؟،سیلاب پر مغرب کی خاموشی مایوس کن ،آج پاکستان ہے کل اس کی جگہ آپ ہوں گے،فاطمہ بھٹو

    انسانی حقوق پر شور مچانے والے موقع پرست کہاں ہیں؟،سیلاب پر مغرب کی خاموشی مایوس کن ،آج پاکستان ہے کل اس کی جگہ آپ ہوں گے،فاطمہ بھٹو

    سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے برطانوی روزنامے میں لکھے ایک آرٹیکل میں پاکستان میں سیلاب سے ہوئی تباہ کاریوں پر عالمی برادری کا ضمیر جھنجھوڑتے ہوئے سوال کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور مغربی جریدوں میں انسانی حقوق پر شور مچانے والے موقع پرست کہاں ہیں؟

    باغی ٹی وی : فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ آج، پاکستان، دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک، اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہےاس موسم گرما میں، مون سون کی بے ترتیب بارشوں نے ملک کو شمال سے جنوب تک تباہ کر دیا سب سے زیادہ جنوبی صوبہ سندھ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس مدت کے 30 سالہ اوسط سے 464 فیصد بارش ہوئی۔

    انہوں نے لکھا کہ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے گلیشیئر اس رفتار سے پگھل رہے ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ موسمیاتی بحران کے ان دو نتائج نے مل کر ایک خوفناک سپر فلڈ کو جنم دیا ہے جس نے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔

    فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ سندھ میں نوے فیصد فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی سماجی بہبود کی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن چلانے والے فیصل ایدھی نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ سیلاب سے نہیں مرے وہ بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے-

    انہوں نے لکھا کہ قحط آنے والا ہے۔ صرف سوال یہ ہے کہ کتنی جلدی؟ معاشی نقصانات کا تخمینہ 30 بلین ڈالر سے زیادہ ہے، 50 ملین لوگ اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں، سیلابی پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ملیریا کی وبا پھیلنے کا خطرہ ہے سیٹلائٹ تصاویر نے سندھ میں 100 کلومیٹر چوڑی اندرون ملک جھیل کی چونکا دینے والی شکل کو دکھایا ہے۔

    اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک نسل پیچھے کی طرف پھینک دی جائے گی کیونکہ پہلے ہی بہت کم تعلیم اور صحت کی خدمات پرتشدد طور پر درہم برہم ہیں۔ 400 سے زیادہ بچے مر چکے ہیں اور سردیوں کی آمد کے ساتھ اور لاکھوں پناہ گزینوں کے ساتھ، اور بھی بہت سے بچوں کی امواتکا خدشہ ہے-

    یہ ڈراؤنے خواب کے تناسب کا المیہ ہے اور پھر بھی اگر آپ پاکستان سے باہر رہتے ہیں تو شاید آپ نے اس کے بارے میں زیادہ نہیں سنا ہوگا۔ پاکستان کی تقدیر میں اس کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے، ایسا لگتا ہے کہ باقی دنیا نے اس بات پر غور نہیں کیا ہے کہ یہ بڑا انسانی بحران اس قیامت خیز مستقبل میں جھانک رہا ہے جس کا ہم سب کو انتظار ہے۔

    فاطمہ بھٹو نے اپنے مضمون میں لکھا کہ کسی بھی قوم کو پاکستان کے تئیں کوئی خاص جذبات رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن آج ملک کو جس ہولناکی کا سامنا ہے وہ عالمگیر اور غیر مہذب موسمیاتی خرابی کے نتائج کی واضح وارننگ ہے۔ انسانوں نے ہمارے واحد سیارے کو تباہ کر دیا ہے۔ آج پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔

    فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ جہاں دور دراز ممالک کے عام لوگوں نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، سیلاب کی امدادی کوششوں کے لیے جو کچھ وہ کر سکتے ہیں عطیہ کر رہے ہیں، بڑی بین الاقوامی شخصیات اور بڑے پیمانے پر مغربی میڈیا کی خاموشی مایوس کن رہی ہے-

    فاطمہ بھٹو نے اپنے مضمون میں لکھا کہ فرانس کا نوٹرے ڈیم کیتھڈرل جلا تو ڈیڑھ دن میں 880 ملین ڈالرز جمع کرلیے گئے لیکن ایک تہائی پاکستان سیلاب سے ڈوبا تو مغربی اخبارات کیلئے بڑی خبر فن لینڈ کی وزیراعظم کی پارٹی کرنا تھی۔

    انہوں نے اپنے مضمون میں عالمی برادری سے سوال کیا کہ کیا سیلاب سے تباہ حال پاکستان کو عالمی امداد کیلئے بھیک مانگنا پڑے گی؟ سوشل میڈیا اور مغربی جریدوں میں انسانی حقوق پر شور مچانے والے موقع پرست کہاں ہیں؟ ابھی حال ہی میں، فرانسیسی پاپ دانشور، برنارڈ ہنری لیوی، اوڈیسا کے گرد چکر لگا رہے تھے اور صدر زیلنسکی نے عوامی طور پر بین اسٹیلر اور انجلینا جولی کا شکریہ ادا کیا، جو خطرے کے باوجود، ہمارے پاس آئے۔ (جولی کے لیے منصفانہ طور پر، اس نے 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستان کا دورہ کیا تھا۔)

    برطانوی روزنامے میں لکھے آرٹیکل میں فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ شامی مہاجرین کو سمندر کے رحم و کرم پر چھوڑنے والے یورپ نے یوکرین جنگ کے پناہ گزینوں کا خصوصی کاؤنٹرز لگا کر استقبال کیا لیکن پاکستان میں سیلاب نظر انداز کیا گیا۔

    انہوں نے لکھا کہ عالمی طاقتوں اور عالمی میڈیا کی خاموشی حیران کن نہیں، حوصلہ شکن ہے فاطمہ بھٹو نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے مزید لکھا کہ خبردار رہیں، کل پاکستان کی جگہ آپ ہوں گے، بچنے کا کوئی چانس نہیں۔

  • شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    سمرقند:شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا .ازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق پیرس ماحولیاتی معاہدہ مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں کے ساتھ نافذالعمل ہوناچاہیے۔

    اجلاس میں رکن ممالک نے باہمی معاملات میں مقامی کرنسیوں کا حصہ بڑھانے کے روڈمیپ کی منظوری دی جبکہ گرین ہاؤس گیس اخراج میں کمی کیلئے ایک دوسرے کی مدد پر اتفاق کیا۔

    اعلامیے کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کا توانائی کے شعبے کا انفرااسٹرکچر بہتر بنانے پر اتفاق کیا اور گلوبل انرجی کی نگرانی کا شفاف نظام بنانےکا مطالبہ کیا۔

    اعلامیے میں تجارت اورسرمایہ کاری محدود کرنے کیلئے موسمیاتی ایجنڈے کا استعمال ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی کیلئے زبردستی کے اقدامات تعاون کونقصان پہنچاتے ہیں، زبردستی کے اقدامات موسمیاتی چینلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو کمزورکرتے ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کے منفی نتائج کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، رکن ممالک گرین ہاؤس گیس اخراج میں کمی اور ترقی میں توازن کی وکالت کرتے ہیں، پیرس معاہدےکے مکمل اورمؤثرعملدرآمدکیلئے کام کرنے پر تیارہیں۔

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • سیلاب متاثرین کیلئےابتک 4 کروڑ ڈالر امداد مل چکی ہے:این ڈی ایم اے

    سیلاب متاثرین کیلئےابتک 4 کروڑ ڈالر امداد مل چکی ہے:این ڈی ایم اے

    سیلاب متاثرین کیلئے ابتک 4 کروڑ ڈالر امداد مل چکی ہے، این ڈی ایم اے نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے اب تک ساڑھے 4 کروڑ ڈالر کے مساوی امداد آچکی ہے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس قیصر شیخ کی زیرصدارت ہوا جس میں این ڈی ایم اے حکام نے کمیٹی کو سیلاب زدہ علاقوں سے متعلق بریفنگ دی۔این ڈی ایم اے حکام نے بتایا سیلاب متاثرین کیلئے اقوام متحدہ نے 16 کروڑ ڈالر کی فلیش اپیل کی تھی، اس میں سے 15 کروڑ ڈالر کے وعدے ہو چکے ہیں۔

    این ڈی ایم اے حکام نے بریفنگ میں بتایا سیلاب میں اب تک 1508 انسانی اموات، 12 ہزار 758 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔جاں بحق افراد میں 528 بچے، 297 خواتین اور 656 مرد شامل ہیں، سیلاب کے نتیجے میں 9 لاکھ 8 ہزار 137 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔

    دوسری طرف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور میں انکشاف ہواہے کہ بحرین سے سیلاب متاثرین کے لیے آنے والی ایک ملین ڈالر کی رقم این ڈی ایم اے نے لینے سے انکارکرتے ہوئے کہاکہ ہم اس رقم کواستعمال نہیں کرسکتے ہیں جس کے بعدرقم آرمی ریلیف فنڈ میں جمع کرادی گئی۔

    حکومت نے سیلاب کی وجہ سے عالمی اداروں کوقرض موخرکرنے کی درخواست نہ کرنے کافیصلہ کیاہے۔سینیٹر منظور کاکڑ نے این ڈی ایم اے پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اگر این ڈی ایم اے فنڈز بھی نہیں لے سکتی تو اس کو بندکردیں ۔

    جمعہ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیرصدارت ہو۔ اجلاس میں سینیٹر محمد اکرم، سینیٹر منظور کاکڑ،سینیٹر عطاء الرحمن، سیکرٹری اکنامک افیئرز کاظم نیاز ودیگر حکام بھی شریک ہوئے۔ حکام نے کمیٹی کو وزارت کے کام سے متعلق بریفنگ دی۔

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • سیلاب کے باعث بلوچستان میں ہزاروں اسکول تباہ ہوگئے

    سیلاب کے باعث بلوچستان میں ہزاروں اسکول تباہ ہوگئے

    کوئٹہ:محکمہ تعلیم بلوچستان نے سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بارشوں کے بعد سیلابی صورت حال سے ہزاروں تعلیمی ادارے متاثر ہوئے ہیں۔

    ادارے نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں سے پیدا ہونے والے سیلاب کے باعث بلوچستان میں 2 ہزار 859 اسکول متاثر ہوئے جبکہ ضلع لسبیلہ میں سب سے زیادہ 321 اسکول تباہ ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق شدید بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان کے تمام اضلاع متاثر ہیں جبکہ کئی علاقوں میں اب بھی سیلاب کا پانی موجود ہے۔

    محکمہ تعلیم نے رپورٹ میں کہا کہ بارشوں سے تعلیمی نظام مکمل طور پر متاثر ہوا ہے، دارلحکومت کوئٹہ میں 204 اسکول بارشوں سے متاثر ہوئے، بلوچستان میں متاثرہ اسکولوں میں 6 ہزار 565 کمرے منہدم ہوئے، بارشوں سے 1 ہزار 68 اسکولوں کی دیواروں منہدم ہوئی ہیں۔

    ادارے نے رپورٹ میں مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ اسکولوں میں 3 لاکھ 86 ہزار 708 طلباء زیر تعلیم تھے، سیلاب سے تباہ ہونے والے اسکولوں میں مالی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • شاہ سلمان ریلیف سینٹرکی جانب سےامدادی سامان کےمزید2جہازپاکستان پہنچ گئے

    شاہ سلمان ریلیف سینٹرکی جانب سےامدادی سامان کےمزید2جہازپاکستان پہنچ گئے

    کراچی :شاہ سلمان ریلیف سینٹرکی جانب سےامدادی سامان کےمزید2جہازپاکستان پہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد جاری ہے جس کے تحت مزید دوجہاز امدادی سامان لیکر کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئے ہیں

    امدادی سامان میں خیمے، کمبل، غذائی اور غیر غذائی پیکج اور کھجوریں شامل ہیں

    تفصیلات کے مطابق شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے پاکستان میں سیلاب زدگان کی فوری مدد کے لیے سعودی عرب سے امدادی ہوائی جہاز کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہے

    سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے سیہون شریف کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور وہاں پریشان حال لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرکے ان کے ساتھ بھرپورہمدردی ظاہر کی ہے

    سعودی عرب سے انسانی امداد کی پہلی پرواز گزشتہ روز کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری تھی ، جہاں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور قونصل جنرل بندر فہد الدیل نے دفتر خارجہ اور این ڈی ایم اے کے نمائندوں کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ پریہ امداد جہاز وصول کیا۔

    آج سیلاب متاثرین کے لیے سعودی عرب سے مزید دو جہاز امدادی سامان لیکر کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئےہیں جسے وصول کرنے کے لئے ر قونصل جنرل سمیت وزارت خارجہ، این ڈی ایم اے اور کور 5 کے حکام بھی ایئرپورٹ پر موجود ہیں‌ ۔امدادی سامان میں خیمے، کھانے پینے کی اشیاء سعودی حکومت نے بھیجی ہیں۔

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • لاڑکانہ:فاقہ کشی سےبےحال سیلاب متاثرہ شخص بچےفروخت کرنے پرمجبور

    لاڑکانہ:فاقہ کشی سےبےحال سیلاب متاثرہ شخص بچےفروخت کرنے پرمجبور

    لاڑکانہ:سیلاب متاثرہ شخص ایک وقت کی روٹی کے لیے اپنے بچےفروخت کرنے پرمجبور سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران ایک اور افسوس ناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں بھوک سے مارا ایک بے گھر شخص اپنے بچے فروخت کرنے پر مجبور ہوگیا .

     

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وائرل وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیلاب کے باعث بھوک اور بدحالی کا شکار ایک شخص اپنے بچے فروخت کرنے کا اعلان کررہا ہے . لاڑکانہ شہر کے متاثرین کیمپ میں رہنے والا نورل چانڈیو اپنے گھر والوں کی بھوک مٹانے کے لیے اپنے بچوں کو فروخت کرنے کی آوازیں لگاتا دکھائی دے رہا ہے .

     

    فاقہ کشی سے بدحال شخص آوازیں لگا رہا ہے کہ بچے لے لو، کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے . بچے لے لو، روٹی کے لیے پیسے نہیں ہیں . متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ میرا گھر بار سب ڈوب گیا ہے اور تمام سامان پانی میں بہہ گیا ہے . ہمارے پاس ٹینٹ ہے نہ سر چھپانے کی جگہ . نورل چانڈیو آوازیں بلند کرتا ہے کہ میرے بچے لے لو، اور بدلے میں مجھے راشن کا ایک تھیلا دے دو .

    رائس کینال کے پل کے مقام پر بچوں سمیت عارضی پذیر شخص کا کہنا ہے کہ کئی روز سے راشن ملا، نہ ہی کوئی ٹینٹ دستیاب ہے اور انتظامیہ کی جانب سے بھی کسی نے داد رسی نہیں کی . قبل ازیں لاڑکانہ میں سیلاب متاثرین کے لیے آنے والے امدادی سامان کی مبینہ طور پر فروخت کی خبریں اور وڈیو بھی میڈیا پر سامنے آئی تھی، جس کے بعد سیلاب متاثرین نے مقامی انتظامیہ اور حکومتی شخصیات پر امدادی سامان کی مستحقین تو فراہمی کے بجائے ادھر ادھر کرنے کے الزامات عائد کیے تھے .

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • خواتین کی ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرنےوالاٹریفک پولیس اہلکارمعطل کردیا گیا

    خواتین کی ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرنےوالاٹریفک پولیس اہلکارمعطل کردیا گیا

    لاہور:لاہور میں خواتین کی ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک ایپ پر اپلوڈ کرنے والے اہلکار کو معطل کر دیا گیا، انکوائری رپورٹ کی روشنی میں سخت محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی . تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کے حوالے سے بتایا گیا کہ عمران نامی ٹریفک پولیس اہلکار دوران ڈیوٹی لڑکیوں کی ویڈیوز بنا بنا کر اپنے ٹک ٹاک اکاونٹ پر شئیر کر تا ہے .

    سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ مذکورہ اہلکار کی حرکات دیکھ کر ادارے کو نوٹس لینا چاہیے . پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ سی ٹی او لاہور نے ٹریفک اسسٹنٹ کو سڑک سے گزرتی خواتین کی ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر لگانے پر فوری معطل کر کے انکوائری کا آغاز کردیا ہے .انکوائری رپورٹ کی روشنی میں سخت محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی .

     

     

    فورس کی بدنامی کا باعث بننے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا . خیال رہے کہ لاہور میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے . ایسا ہی ایک واقعہ لاہور کے علاقے شاد باغ میں پیش آیا جہاں نوجوان برقعہ پہن کر ساتھی کے ساتھ مل کر اکیڈمی آنے جانے والی لڑکیوں کو ہراساں کر رہے تھے . برقعہ پوش ملزم جوڑی بنا کر طالبات کو ہراساں کرتے تھے .

    شادباغ پولیس نے دونوں ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے جن میں حبیب ڈار اور شاہ میر شامل ہیں . پولیس ذرائع کے مطابق دونوں لڑکے برقعہ پہنے جوڑی کی شکل میں لڑکیوں کو تنگ کرتے اور فرار ہو جاتے تھے . ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے .ایس پی سٹی حفیظ الرحمان بگٹی کا کہنا ہے کہ عورتوں اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں سے آہنی یاتھوں سے نمٹا جا رہا ہے

  • پنجاب کی متعدد جیلوں کے سپریڈنڈنٹس تبدیل

    پنجاب کی متعدد جیلوں کے سپریڈنڈنٹس تبدیل

    لاہور: پنجاب کی متعدد جیلوں کے سپریڈنڈنٹس کو تبدیل کردیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری برائے داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

    سپریڈنڈنٹ بہاولپور ساجد بیگ کو ہائی سیکیورٹی جیل کا سپریڈنڈنٹ تعینات کردیا گیا ہے۔ سپریڈنڈنٹ ہائی سیکیورٹی جیل احمد نوید گوندل کو سپریڈنڈنٹ بہاولپور تعینات کیا گیا۔ سپریڈنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد محمد منشاء کو ایس اینڈ جی اے ڈی رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سپریڈنڈنٹ ابوبکرعبداللہ کو ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد تعینات کردیا گیا۔ ارشد علی وڑائچ کو سپریڈنڈنٹ فیصل آباد جیل تعینات کردیا گیا۔اس سےپہلےپنجاب کی 42 جیلوں میں کتنے کم عمر قیدی موجود ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں

    پنجاب کی 42 جیلوں میں مختلف جرائم میں ملوث 688 بچے اسیر ہیں 591 کم سن ملزمان کیخلاف عدالتوں میں مقدمات زیر سماعت ہیں .97 بچوں کو پنجاب کی عدالتوں سے سزائیں ہو چکی ہیں .سب سے زیادہ 93 کم عمر ملزمان بہاولپور جیل میں موجود ہیں، بہاولپور جیل میں سزا یافتہ بچوں کی تعداد 55 جبکہ 38 کے مقدمات زیر التوا ہیں لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں 68 کم سن ملزمان موجود ہیں، سینٹرل جیل راولپنڈی میں 60 ملزمان اسیری کاٹ رہے ہیں

    ساہیوال، فیصل آباد، ملتان، خانیوال اور بہاولپور میں کوئی کم سن قید نہیں ہے،پنجاب کی جیلوں میں ایک بھی کمسن بچی قید نہیں ہے،محکمہ جیل خانہ جات کا کہنا ہے کہ کم سن ملزمان کو مکمل سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،

    پنجاب کی جیلوں میں 633 خواتین قیدی موجود ہیں جس میں فقط 13خواتین قیدیوں کی معاونت کی گئی ، پنجاب کی جیلوں620جبکہ ملک بھر کی جیلوں میں سینکڑوں خواتین قیدی موجود ہیں، ایکٹ کے تحت حکومت پر غریب خواتین قیدیوں کو فری لیگل ایڈ فراہم کرنا لازم قرار دیا گیا ، 1996 ایکٹ کے زریعے لیگل ایڈ کے لیے باقاعدہ فنڈز بھی منظور ہوئے مگر خرچ نہیں کیے گیے ، حکومتی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے سینکڑوں خواتین جیلوں میں جبرا قید کاٹنے پر مجبور ہیں ،عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت متعلقہ محکمہ کو خواتین قیدیوں کو فری لیگل ایڈ فراہم کرنے کا حکم دے ،

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • کورونا وبا اپنے اختتام کے قریب ہے، ڈبلیو ایچ او

    کورونا وبا اپنے اختتام کے قریب ہے، ڈبلیو ایچ او

    قومی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے مزید 98 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کے 268 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 14 ہزار 467 کورونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 98 افراد کے نتائج مثبت ریکارڈ ہوئے۔


    این ایچ آئی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.68 فیصد رہی، جبکہ ملک بھر میں کورونا کے 85 مریضو ں کی حالت تشویش ناک ہے، جب کہ اس دوران کوئی مہلک وبا کے باعث کوئی ہلاکت بھی رپورٹ نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبریاسیس نے 14 ستمبر بدھ کے روز کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ اب نظر آنے لگا ہے۔

    خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ایک ورچوئل پریس کانفرنس کےدوران کہا کہ ہم ابھی تو وہاں نہیں پہنچے ہیں۔ لیکن اس کا خاتمہ نظر آرہا ہے۔ ہم اس وبائی مرض کو ختم کرنے کی اس سے بہتر پوزیشن میں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔

    ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ قبل اس کے کہ اس وبائی مرض کی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ہو جائے، دنیا کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اگر ہم ابھی اس موقع کو ضائع کر دیتے ہیں، تو پھر ہم کورونا کی مزید اقسام کےخطرات کومول لیں گے، جس سے زیادہ اموات، زیادہ خلل اور زیادہ غیر یقینی صورتحال کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے مختصراً چھ نکاتی ایک پالیسی شائع کی ہے، جس کا مقصد وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنا ہے۔ اس میں تنظیم نے اس بات کی سفارش کی کہ تمام ممالک میں ہیلتھ ورکرز اور عمر رسیدہ افراد سمیت خطرے میں پڑنے والے تمام گروپوں کے سو فیصد لوگوں کو ویکسین لگانا ضروری ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ وائرس کی جانچ اور اس کی رپورٹ کو ترتیب دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھیں۔ پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ مستقبل میں انفیکشن کی کسی بھی ممکنہ لہرکے پیش نظر پہلےہی سےطبی آلات کی مناسب فراہمی کو برقرار رکھیں، ویکسین لگانے کے ساتھ ہی ٹیسٹنگ کی مہم کو تیز کر کے یورپ میں منکی پاکس کی وبا کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔

    ڈبلیو ایچ او میں کوویڈ19 سے متعلق تکنیکی قیادت کرنے والی ماریا وان کرخوف نے کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ جس تعداد میں کیسز رپورٹ کیے جاتے ہیں، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ تعداد میں کیسز موجود ہوتے ہیں،اس وقت بھی وائرس پوری دنیا میں انتہائی تیزی سےبلند سطح پر گردش کر رہا ہے، اومیکرون کی ذیلی اقسام یا پھر اس کی دیگر اقسام انفیکشن کی مزید لہروں کا سبب بن سکتی ہیں انفیکشن کی لہروں سے اتنی بڑی تعداد میں مستقبل میں اموات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔