Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پنجاب پولیس کی حراست سے33 خطرناک ملزمان فرار

    پنجاب پولیس کی حراست سے33 خطرناک ملزمان فرار

    لاہور: پنجاب پولیس کی حراست سے33 خطرناک ملزمان فرار ہوچکے ہیں مگرپولیس حکام کو ان خطرناک مجرموں کے فرار کی شاید پرواہ نہیں ، پولیس ذرائع کے مطاق پچھلے 8 ماہ کے دوران 33 خطرناک ملزمان لاک اپ اور پیشی کے دوران پنجاب پولیس کی حراست سے فرار ہوگئے۔

    اس سلسلے میں پولیس ذرائع کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پولیس کی نااہلی یا مجرموں سے ملی بھگت، سنگین جرائم میں ملوث خطرناک ملزمان کے لیے حوالات توڑنا یا ہتھکڑیاں کھولنا کھیل بن گیا۔پنجاب میں خطرناک مجرموں کی فراری کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ کے مطابق پنجاب میں رواں برس 8 ماہ کے دوران 33 خطرناک ملزمان لاک اپ اور پیشی کے دوران پولیس کی حراست سے فرار ہوگئے۔

    پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی گرفت سے بھاگنے والے خطرناک ترین مجرموں کے متعلق جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غفلت کی اس دوڑ میں لاہور پولیس پہلے نمبر پر رہی، جس کی حراست سے 11 ملزمان فرار ہوئے، جن میں خطرناک ڈاکو بھی شامل ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل سی آئی اے یونٹ سے بھی 3ملزمان فرار ہوئے تھے، اور غفلت کا مظاہرہ کرنےوالے افسران کیخلاف کارروائیاں بھی کی گئیں۔پولیس ریکارڈ کے مطابق اس عرصے میں فیصل آباد سے 6، گوجرانوالہ سے 4، شیخوپورہ ، راولپنڈی اور ڈی جی خان سے تین تین ملزم فرار ہوئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام نے غفلت کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی کی، تاہم ملزمان کے فرار ہونے کے واقعات بجائے کم ہونے کے بڑھتے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 8 ماہ کے دوان 25ملزمان پولیس حراست سے فرارہوئے تھے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • شہزادہ چارلس برطانوی تخت و تاج کےباقاعدہ بادشاہ بن گئے

    شہزادہ چارلس برطانوی تخت و تاج کےباقاعدہ بادشاہ بن گئے

    ملکہ برطانیہ کی وفات کے بعد شاہی تخت فوری طور پر ان کے جانشین اور ویلز کے سابق شہزادے چارلس کو سونپ دیا گیا ہے۔ملکہ الزبتھ دوم کے جمعرات کو انتقال کے بعد چارلس اصولاً بادشاہ بن گئے تھے لیکن آج بروزہ ہفتہ 10 ستمبر کو منعقد ہونے والی تقریب ملک میں نئے بادشاہ کو متعارف کرانے کے لیے ایک اہم آئینی اور رسمی اقدام ہے۔اس سلسلے میں لندن کی شاہی رہائش گاہ سینٹ جیمز پیلس میں باڈی ایکسیشن کونسل کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں بادشاہ چارلس کے ساتھ اہلیہ کمیلا اور ولی عہد ولیم بھی موجود تھے۔ تقریب میں کنگ چارلس نے حلف نامے پر دستخط کیے۔

    تقریب میں بادشاہ چارلس نے شہنشاہ برطانیہ کے عہدے کا حلف اٹھالیا، جس کے بعد سینٹ جیمز محل کی بالکونی سے چارلس کو باضابطہ بادشاہ بنائے جانے کا اعلان ہوا۔اعلان کے ساتھ ہی لندن ٹاور اورہائیڈ پارک سے توپوں کی سلامی دی گئی۔ اس موقع پر بادشاہ چارلس نے چرچ آف اسکاٹ لینڈ کی روایات کی پاسداری کا عزم بھی اٹھایا۔

    لندن کی شاہی رہائش گاہ سینٹ جیمز پیلس میں ہونے والی تقریب میں الحاق کونسل نے شرکت کی جو بادشاہ کو مشورہ دینے والے سینیر سیاست دانوں اور حکام پر مشتمل ہے۔ کونسل نے اس موقع پر باضابطہ طور پر ان کو ‘کنگ چارلس سوم’ کا لقب دیا۔ اس کے بعد بادشاہ کے حلف اور اعلانات کا سلسلہ جاری رہے گا۔تقریب سے خطاب میں شاہ چارلس کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے ملکہ برطانیہ کی وفات پر اظہار افسوس کیا گیا، ملکہ برطانیہ کی وفات ہمارے خاندان کیلئے صدمہ ہے۔ بطور بادشاہ انہیں ذمہ داریوں کا احساس ہے۔

    ملکہ برطانیہ نے بہترین انداز میں ذمہ داریاں ادا کیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ شاہ چارلس کی تاجپوشی میں مزید کئی ماہ لگیں گے۔ اس سے قبل ملکہ الزبتھ کے والد کے انتقال کے سولہ ماہ بعد تاجپوشی کی تقریب جاری رہی تھی۔کونسل کی جانب سے اعلان میں کہا گیا: ‘شہزادہ چارلس فلپ آرتھر جارج اب ہماری ملکہ، جن کی خوشگوار یادیں ہمارے ساتھ ہیں، کی موت کے بعد ہمارے بادشاہ چارلس سوم بن گئے ہیں۔ خداوند بادشاہ کی حفاظت فرمائے۔’

    تقریب میں چارلس کے ساتھ ان کی اہلیہ کیملا، جو اب ملکہ کنسورٹ ہیں اور ان کے بڑے صاحبزادے شہزادہ ولیم بھی موجود تھے۔ ولیم اب تخت کے وارث اور ولی عہد ہیں جن کو ان کے والد کے لقب یعنی پرنس آف ویلز سے نوازا گیا ہے۔تقریب کے بعد ایک شاہی اہلکار نے سینٹ جیمز پیلس کی بالکونی سے بلند آواز میں اعلان کیا۔

    یہ عمل لندن اور برطانیہ بھر میں دیگر مقامات پر بھی کیا جائے گا۔ اسکاٹ لینڈ کے بالمورل کیسل میں تخت پر بے مثال 70 سال گزارنے والی 96 سالہ ملکہ کی موت کے دو دن بعد لوگ اب بھی ہزاروں کی تعداد میں لندن کے بکنگھم پیلس کے باہر ان کی تعزیت کے لیے جمع ہیں۔یہ مناظر برطانیہ بھر میں دیگر شاہی محلات اور دنیا بھر میں برطانوی سفارت خانوں کے باہر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تاریخ میں پہلی بار براہ راست نشر ہونے والی قدیم روایت اور سیاسی علامت پر مبنی تقریب میں برطانیہ کے نئے بادشاہ بننے کا باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا ہے۔ یہ تقریب 1952 کے بعد پہلی بار منعقد کی گئی ہے جب ملکہ الزبتھ دوم نے تخت سنبھالا تھا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • ملکہ برطانیہ کا انتقال،لیڈی ڈیانا کا اہم خطاب ” پرنسس آف ویلز”شہزادی کیٹ میڈلٹن کا مقدرٹھہرگیا

    ملکہ برطانیہ کا انتقال،لیڈی ڈیانا کا اہم خطاب ” پرنسس آف ویلز”شہزادی کیٹ میڈلٹن کا مقدرٹھہرگیا

    لندن :ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد شہزادہ ولیم کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن نے اپنی آنجہانی ساس لیڈی ڈیانا کا اہم اعزاز پالیا ہے۔ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد بادشاہ بننے والے کنگ چارلس نے اپنی آنجہانی اور ہر دلعزیز اہلیہ لیڈی ڈیانا کا دیا جانے والا پرنسس آف ویلز کا خطاب اپنی بہو کیٹ میڈلٹن کو دے دیا ہے اور اب 25 سال کے طویل عرصے کے بعد وہ پرنسس آف ویلز کہلائیں گی۔

     

     

    کنگ چارلس نے صرف بہو ہی نہیں بلکہ اپنے بڑے بیٹے اور کیٹ کے شوہر شہزادہ ولیم کو پرنس آف ویلز کا خطاب بھی دیا ہے جو ان کے پاس 1958 سے تھا تاہم ملکہ کی موت کے بعد بادشاہ بننے پر انہوں نے یہ اعزاز اپنے بڑے بیٹے کے نام کردیا۔واضح رہے کہ برطانیہ کی تاریخ میں اس سے قبل پرنسس آف ویلز کا خطاب صرف لیڈی ڈیانا کو دیا گیا تھا جو اپنی سماجی خدمات کے باعث دنیا بھر میں مقبول تھیں۔

     

     

    کیٹ مڈلٹن ہر دلعزیز شہزادی ڈیانا کے بعد پرنسس آف ویلز کا خطاب حاصل کرنے والی پہلی شاہی شخصیت ہیں۔ انہوں نے شہزادہ ولیم سے شادی کے بعد نہ صرف بڑی کامیابی سے شاہی خاندان میں ڈچس آف کیمبرج کے طور پر اپنی شناخت بنائی بلکہ اس کردار کو بھی بڑی خو بی سے نبھایا۔یہاں بھی کیٹ میڈلٹن نے اپنی آنجہانی ساس کی روایات کو تازہ کیا اور شاہی خاندان سے نہ ہونے کے باوجود شاہی خاندان میں اپنی انفرادی شخصیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔

     

     

    یاد رہے کہ چند دن قبل برطانیہ میں طویل ترین عرصے تک ملکہ رہنے والی الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ملکہ کے انتقال پر برطانوی حکومت نے ملک بھر میں 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • عمران خان سخت زبان استعمال کررہاہے،ایسا نہیں کرنا چاہیے:شیری رحمان

    عمران خان سخت زبان استعمال کررہاہے،ایسا نہیں کرنا چاہیے:شیری رحمان

    کراچی :وفاقی وزیرموسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ عمران خان بڑی غلط فہمی میں مبتلاہیں ،ان کو مائنس کرنے میں کسی کو دلچسپی نہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ بیان میں وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا کہ قوم آخری گیند کی طرح آخری جلسے کیلئے تیار رہے، عمران بچائو تحریک کے مقاصد میں ناکامی کے بعد پی ٹی آئی اگلے مرحلے کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ عمران بچائو تحریک کے پہلے مرحلے میں سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ اداروں اور عدلیہ کے خلاف بدزبانی کی گئی اور سرے عام دھمکیاں دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ عمر ان خان بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں، ان کو مائنس کرنے میں کسی کو دلچسپی نہیں ، البتہ ان کی طرز سیاست اور بیانات کے ذمہ دار وہ خود ہیں کوئی اور نہیں، ان کو لوگوں کی مشکلات کا ادراک ہوتا تو عمران بچا ئوتحریک کے جلسے منسوخ کر کے سیلاب متاثر لوگوں کی مدد کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا دیکھ رہی ایک طرف ملک ڈوبا ہوا دوسری طرف ایک شخص اپنی سیاست بچانے کے لئے جلسے کر رہا ہے۔

     

    یاد رہے کہ چند دن پہلے بھی شیری رحمان نے کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہارکیا تھا ،وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان مسلسل امریکا کیخلاف تقریریں کرتے رہے ہیں، عمران خان موجودہ حکومت کو امپورٹڈ کہتے ہیں۔

     

    عمران خان کے ہر جھوٹ سے پردہ اٹھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان بتائیں امریکا میں ایڈورٹائزنگ کی کیاضرورت پڑگئی؟ ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آچکا ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • شارجہ کرکٹ میچ میں پاکستانی شائقین پرشرپسند افغانی حملہ آوروں کی اکثریت کے پاسپورٹ پاکستانی نکلے

    شارجہ کرکٹ میچ میں پاکستانی شائقین پرشرپسند افغانی حملہ آوروں کی اکثریت کے پاسپورٹ پاکستانی نکلے

    دبئی : شارجہ میں گزشتہ روز پاکستان اور افغانستان کے میچ کے بعد سٹیڈیم میں جن افغانیوں نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی تھیں،اِن کو کیمرے اور ویڈیو کے ذریعے شارجہ پولیس نے پکڑلیا ہے،اِن سب کے اقامے چیک کئے گئے،بعد میں اِن کے ارباب/ کفیل کو بلا کر اِن سب کے پاسپورٹ چیک کئے گئے تو یہ انکشاف ہؤا کہ پاکستانی شائقین پر حملہ اور مار پیٹ کرنے والے اکثریت افغانیوں کے پاسپورٹ "پاکستانی” بنے ہوئے تھے،

    اس سلسلہ میں جب پاکستانی سفارتخانے کو اطلاع دی گئی تو پاکستانی سفارتخانے والے خود حیران اور پریشان ہوگئے،ذرائع کے مطابق اب اِن سب شر پسند افغانیوں پر "گلف ممالک” کی جانب سے مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے اور اِن کو شارجہ سے ڈی پورٹ کیا جارہا ہے،جبکہ پاکستان کے سیکورٹی ادارے،انٹیلی جینس ایجنسیاں اور ایف آئی اے بھی محترک ہوگئے ہیں اور اِن سبکو ائیرپورٹ سے ہی حراست میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ یہ پوچھ تاچھ کی جاسکے کہ انہوں نے جعلی پاکستانی پاسپورٹ کیسے بنوائے تھے اور اِنکے پاسپورٹ بنانے میں کون کونسی کالی بھیڑیں ملوث ہیں،اب اِن سب کی مکمل تحقیقات کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے

    یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات میں ایشیا کپ کے میچ میں پاکستان کی جیت پر افغان تماشائیوں کی طرف سے پاکستان کےخلاف نعرے بازی اورپھر پاکستانیوں پرشدید تشدد کی خبروں نے پاکستان سمیت دنیا بھرکو غمگین کردیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس دوران افغان تماشائیوں نے متحدہ عرب امارات کے اس اسٹیڈیم میں توڑپھوڑ کی اور اسٹیڈیم کو نقصان پہنچایا، جس پر عرب امارات کی حکومت حرکت میں آگئی اور پھر متحدہ عرب امارات میں اسٹیڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے اور اسٹیڈیم کے ارد گرد لڑنے والے 97 افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات کے دیگر حصوں سے 117 افراد کو گرفتار کیا گیا جو ہوسٹلز اور کمروں میں پاکستانیوں سے لڑ رہے تھے۔

    کل 391 افراد کو گرفتار کیا گیا جو ممکنہ طور پر بھاری جرمانے ادا کریں گے اور متحدہ عرب امارات کے ویزا پر تاحیات پابندی کے ساتھ متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ بھی ہو جائیں گے۔

    یاد رہے کہ کل دبئی میں ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کےبعد افغانستان کو شکست دی تھی جس پر پہلے افغان کھلاڑی نے پاکستانی کرکٹرآصف سےبدتمیزی کی اور بُرے القاب کے ساتھ پکارا ، اس کے بعد جب پاکستان میچ جیت گیا تو پھر اسٹیڈیم میں موجود افغان تماشائیوں نے پاکستانیوں پر تشدد کیا اوراسٹیڈیم میں توڑپھوڑ کی جس پر عرب امارات کی حکومت نے سخت فیصلہ کیاہے

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • مداحوں نے نسیم شاہ کو اپنے موبائل فون دے دیئے،ویڈیو وائرل

    مداحوں نے نسیم شاہ کو اپنے موبائل فون دے دیئے،ویڈیو وائرل

    قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو شائقینِ کرکٹ نے سری لنکا کے خلاف میچ میں اپنے موبائل فون دے دیئے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سری لنکا کے خلاف میچ کے دوران جب نسیم شاہ باؤنڈری پر کھلاڑیوں سے بات چیت کررہے تھے تو شائقین کرکٹ نے ان کی طرف اپنے موبائل فون پھینکے جنہیں نسیم شاہ نے کیچ کرلیا۔

    نسیم شاہ نے شاہین شاہ آفریدی کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    https://twitter.com/hassam_sajjad/status/1568374615491379201?s=20&t=F6QVKg6fVGt2LC-3f_aq3Q
    اس میچ میں نسیم شاہ اور شاداب خان کو آرام کروایا گیا تھا جبکہ عثمان قادر اور حسن علی کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا گیا سری لنکا کے خلاف میچ میں قومی ٹیم کو 5 وکٹوں کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم شائقین کرکٹ نے افغانستان کے خلاف جیت میں اہم کردار ادا کرنے پر نسیم شاہ کو خوب داد دی اور نسیم شاہ کے لئے نعرے بازی کی-

    واضح رہے کہ افغانستان کے خلاف نسیم شاہ نے آخری اوور میں دو چھکے مار کرٹیم کو فتح دلائی تھی جس کے بعد پاکستان میچ ایک وکٹ سے جیت کر ایشیا کپ کے فائنل میں پہنچ گیا ہے۔

    گرین شرٹس سے شکست کے بعد کھلاڑیوں نے نیند کی گولیاں کھائیں،کپتان افغان ٹیم

    دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ نے ٹی20 کرکٹ میں فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے قومی کرکٹ ٹیم کے نسیم شاہ ٹی 20 میں 50 وکٹیں لینے والے سب سے کم عمر باؤلر بن گئے ہیں نسیم شاہ نے یہ ریکارڈ ایشیا کپ میں افغانستان کے کھلاڑی محمد نبی کی وکٹ لے کر قائم کیا-

    نسیم شاہ نے یہ ریکارڈ 19 سال 204 دن کی عمر میں قائم کیا جبکہ قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی نے 20 سال کی عمر میں 50 وکٹیں لینے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا-

    میتھیو ہیڈن قومی ٹیم کو جوائن کرنے کیلئے پرجوش

  • کوہ نور :  تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت —  ارشد خان صافی

    کوہ نور : تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت — ارشد خان صافی

    ملکہ برطانیہ کے وفات کے تناظر میں کئی تاریخی واقعات و نوادرات کے علاوہ کوہ نور ہیرے کا تذکرہ بھی پھر سے ہونے لگا جو کہ اب شاہی قانون کے تحت بادشاہ بننے والے شہزادہ چارلس کی بیگم کامیلا پارکر کو منتقل ہوجائیگا! کچھ دوستوں کی گزارش پر اس تاریخی نادر پتھر اور شاہی زیور پر مختلف ممالک کی دعویداری کے قانونی پس منظر پرکچھ گزارشات حسب ذیل ہیں:

    مرغی کے چھوٹے انڈے کے سائز کا ہیرا کوہ نور عام تاثر کے برعکس نا تو دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ہے اور نا ہی یہ مغلوں کے جواہرات کے خزانے کا سب سے شاندار ہیرا تھا لیکن قرون وسطیٰ سے لیکر آج تک کئی عظیم شاہی خاندانوں کے تاج و تخت کی زینت بننے اور عالمی محلاتی سیاست میں اسکے کردار کی وجہ سے یہ آج دنیا کے بیش قیمت بلکہ انمول نوادرات میں سرفہرست ہے-

    تخت برطانیہ کے تصرف میں یہ ہیرا 1849 میں دوسرے اینگلو-سکھ جنگ کے برطانوی فتح کیساتھ اختتام پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی اور رنجیت سنگھ کے 11 سالہ پوتے اور جانشین دلیپ سنگھ کے درمیان معاہدہ لاہور کے تحت آیا جس کےساتھ تخت لاہور پر مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ اقتدار کے دوران 39 سالہ سکھ راج کا بھی خاتمہ ہوگیا تھا-

    لارڈ ڈلہوزی نے پنجاب کو برٹش انڈیا میں شامل کرکے کوہ نور ہیرے کے ساتھ دلیپ سنگھ کو بھی ملکہ وکٹوریہ کے پاس برطانیہ بھیج دیا تھا جہاں پر بعد میں وہ عیسائی مذہب اختیار کرکے برطانوی اشرافیہ کا حصہ بن گیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ اس "معاہدے” کو میری ناقص معلومات میں کبھی برطانوی حکومت نے کوہ نور پر تاج برطانیہ کی ملکیت کے واحد قانونی جواز کے طور پر پیش نہیں کیا- اسکی وجہ ظاہر ہے یہی ہےکہ برطانیہ کے اپنے کامن لاء کیمطابق بھی ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ جبر کی حالت میں کے گئے معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے-

    اسکے برعکس ہیرے پر ہر دعوے کے جواب میں برطانیہ کے سرکار کا عمومی سادہ سا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہیرے کے تاریخی طور پر کئی دعویداروں کی موجودگی میں اسکی ملکیت کے معاملے کو حل کرنا ممکن نہیں جن میں کئی افراد کے علاوہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کی ریاستیں بھی شامل ہیں لہٰذا یہ تاج برطانیہ کے پاس ہی بہتر ہے-

    کوہاٹ (خیبر پختونخوا) میں شاہی پسمنظر کی بدولت انگریز دور میں جاگیر رکھنے والے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے پرنس سلطان سدوزئی کے خاندان کے ایک فرد نے درانی سلطنت کے ایک جانشین کی حیثیت سے 1993 میں آنجہانی ملکہ الزبتھ کو ایک خط لکھ کر کوہ نور کو انکے خاندانی وراثت کے طور پر پاکستان واپس کرنے کی درخواست کی تھی-

    جواب میں 18 اکتوبر 1993 کو لکھے گیے ایک خط میں بکنگھم پلس کے رائل کولکشنز کے ایدمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے ملکہ کی توسط سے خط کیلئے شکریہ اور ابدالی کے خاندان کیلئے احترام کے جذبات کے ساتھ انتہائی مہذب انداز میں اسی بنیاد پر ان کی درخواست رد کردی تھی کہ بوجوہ اس ہیرے کے بیشمار دعویدار ہیں-

    کوہ نور پر متعدد قانونی دعویداروں کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ یہ ہیرا کچھ روایات اور مستند تاریخ کیمطابق قرون وسطیٰ (چودھویں صدی عیسوی سے پہلے) میں جنوب مشرقی بھارت کے ساحلی ریاست اندرا پردیش میں کرشنا دریا کے کنارے کلور کے کانوں میں نکالا گیا تھا- مغل سلطنت کے بانی ظہیرالدّین بابر کی سولہویں صدی میں لکھی سوانح حیات تزک بابری کے مطابق مغلوں سے پہلے دہلی کے سب سے طاقتور مسلمان حکمران علاالدّین خلجی نے چودھوی صدی کےاوائل میں جنوبی ہند میں اپنے فتوحات کے دوران اس ہیرے کو دکن کی مقامی کاکٹیا حکمرانوں سے چھینا تھا-

    سلطان علاالدّین خلجی اصلی نام علی گرشاسپ تھا اور وہ موجودہ افغانستان کے زابل صوبے میں قلات خلجی کے ترکمن سردار شمس الدین مسعود کا بیٹا تھا- خلجی سلطنت کے بعد کوہ نور تغلق، سیدوں اور لودھی پٹھانوں سے ہوتے ہوۓ مغل شہشاہوں کے ہاتھ آیا اور مغلوں کے عروج کے دور میں تاج محل کے معمار شاہجہان نے اسے کئی دوسرے جواہرات کے ساتھ اپنے مشہور تخت طاؤس کا حصہ بنایا! سو سال بعد مغلوں کے زوال کے دورکے نااہل ترین عیاش حکمران محمد شاہ رنگیلاکے رہے سہے سلطنت پر 1739 میں جب ایران کے آتش مزاج پادشاہ نادر شاہ افشار نے حملہ کیا تو دہلی کے لوٹ مار کے ساتھ تخت طاؤس اور کوہ نور بھی ایران لے گیا- ملتان میں پیدا ہونے والے جوان سال پشتون احمد شاہ ابدالی جنہوں نے بعد میں کندھار اور لاہور کو اپنے مراکز بنا کرموجودہ افغانستان اور پاکستان پر مشتمل درانی سلطنت بنائی اس وقت نادر شاہ کے پسندیدہ کمانڈر کے طور پر ایرانی فوج کے افسر تھے-

    نادر شاہ کے اچانک قتل کے بعد دشمنوں سے خوفزدہ انکے نواسے نے اپنی حمایت کے عوض کوہ نور احمد شاہ ابدالی کو دے دیا اور اس طرح بعد میں یہ دبنگ احمد شاہ بابا کے عیاش کابلی نواسے اور درانی سلطنت کے سب سے نااہل کابلی حکمران شاہ شجاع کو وراثت میں مل گیا-

    1813 میں شاہ شجاع نے رنجیت سنگھ اور خطے میں قدم جماتے انگریزوں کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت کابل اور کندھار کی حکمرانی کو انکے حریف برکزئی امیروں کے قبضے سے واپس چھڑانے میں مدد اور پنجاب میں پناہ کے بدلے نا صرف کوہ نور رنجیت سنگھ کے حوالے کیا بلکہ رنجیت سنگھ کو پشاور پر قبضہ کرنے میں سہولتکاری کا وعدہ بھی کیا- آخر کار کوہ نور انگریزوں کے ہاتھوں رنجیت سنگھ کے سلطنت کے خاتمے کے ساتھ اپنے موجودہ مقام پر پہنچا جسکا خلاصہ میں شروع میں کر چکا ہوں!

    مندرہ بالا تاریخ کے تناظر میں بھارت کی حکومت نے پہلی دفعہ 1976 میں باضابطہ طور پر برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ کیا اور اسی سال پاکستان کے وزیراعظم زوالفقارعلی بھٹو نے بھی "تاریخی بنیاد” پر یہ مطالبہ پاکستان کیلئے کیا- اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم جم کلنگھن نے دونوں ملکوں کا مطالبہ "قانونی وجوہات” کا جواز بنا کر مسترد کردیا! اس کے بھارت میں طویل عرصے تک اس معاملے پربھارتی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن پر شنوائی ہوتی رہی اور پارلیمنٹ میں اس پرقراردادیں منظور ہوتی رہیں جبکہ پاکستان میں اس سلسلے میں قابل ذکر کیس بیرسٹر جاوید جعفری کا لاہور ہائی کورٹ میں داخل 2016 کا پٹیشن تھا جو انکے مطابق انکی طرف سے برطانوی حکومت کو 700 سے زیادہ خطوط کا کوئی مثبت جواب نا ملنے پر کورٹ نے قابل سماعت قرار دیا تھا-

    انہی دنوں میں بھارتی سپریم کورٹ میں اس نوعیت کا کیس اختتامی مراحل میں تھا- پاکستان کیلئے کوہ نور کے دعویداروں کا موقف یہ تھا کہ ہیرے کے آخری قانونی دعویدار احمد شاہی خاندان ہو یا رنجیت سنگھ، چونکہ شاہ شجاع بھی تخت لاہور کا اپنی مرضی سے اتحادی بن گیا تھا اسلئے دونوں صورتوں میں یہ "تخت لاہور” سے معاہدہ لاہور کے جبری سمجھوتے کے تحت ایک غیر ملکی غاصب کمپنی نے زبردستی بٹورا ہے اسلئے اسے واپس لاہور بھیج دیا جاۓ- برطانوی حکومت کا نیا موقف بھی قانونی جواز سے زیادہ متضاد دعووں کی وجہ سےعملی پیچیدگیوں کی بنیاد پر تھا جسکا اظہار برٹش رائل کولکشنز کے ایڈمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے خیبرپختونخوا پاکستان کے پرنس طیفور جان کو ان کے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے ایک مستند وارث کی حیثیت سے کوہ نور پر اسکے دعوی کے سرکاری جواب میں 1993 میں کیا تھا-

    پاک و ہند کے روایتی متضاد دعووں کے درمیان سب سے دلچسپ اور سیدھا سادہ دعوا افغانستان پر 11/9 سے پہلے حکمران ملا عمر کے طالبان امارت سے آیا! اکتوبر 2000 میں طالبان کے امارت اسلامی کے خارجہ امور کے ترجمان فیض احمد فیض نے کسی قانونی اور تاریخی باریکیوں میں پڑے بغیر براہراست ملکہ الزبتھ سے مطالبہ کیا کہ "کوہ نور افغانستان کا قانونی اثاثہ” ہے جسکو "اور کئی قیمتی چیزوں کی طرح انگریزوں نے نوآبادیاتی دور میں چوری کیا ہے” جو کہ طالبان اب واپس لاکر اپنے ملک کی تعمیر نو میں استعمال کرنا چاہتے ہیں اسلئے کوہ نور کو جلد از جلد واپس کیا جاۓ تاکہ اسکو کابل میوزم میں رکھا جاسکے”- اسکیلئے علاوہ طالبان نے رنجیت سنگھ کو "ایک بڑا غدار” قرار دیا جس نے کوہ نور چوری کیا تھا اسے کسی نے دیا نہیں تھا-

    حکومت برطانیہ نے ظاہر ہے طالبان کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوۓ اس مطالبے پر غور کرنے سے انکار کردیا لیکن ساتھ میں ریاست افغانستان کے دعوے کو مکمل مسترد نا کرکے ایک اور ممکنہ دعویدار کے ہونے کی بحث کھول دی- برطانیہ کا ان متضاد اور متعدد دعووں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی پالیسی اور ہیرے کی واپسی کے معدوم امکانات کے پیش نظر بھارت میں نریندرا مودی جیسے قوم پرست حکومت نے بھی 2016 میں سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں کوہ نور پر برطانوی ملکیت کو اس تاریخی طور پرغلط جواز کے تحت تسلیم کردیا کہ کوہ نور کو رنجیت سنگھ نے خود برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا تھا گو کہ اسکا "عوامی” سطح پر بھارت کا موقف اب بھی اسکے برعکس ہے اور تقریبا اسی سے ملتا جلتا مبہم سا موقف پاکستانی حکومت نے بھی لاہور ہائی کورٹ میں اختیار کیا- اس طرح جائز یا ناجائز کوہ نور اتنے دعویداروں کی موجودگی میں تاج برطانیہ کے پاس رہا اور شائد ہمیشہ رہیگا!

  • ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ‎موجودہ سیلابی صورت حال کی آڑ لے کر ایک مخصوص لابی یہ ڈیم مخالف جذبات ابھارنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈیم سیلاب کو نہیں روک سکتے ۔ میری رائے میں تو جو بندہ ایسی عامیانہ بات کرتا ہے شائد وہ ڈیم کے کام کرنے کی سائنس سے نابلد ہے ۔

    ‎ورلڈ کمیشن آن لارج ڈیمز کے ڈیم رجسٹر مطابق اس وقت پوری دنیا میں بنائے گئے ڈیموں کی کل تعداد 58,000 ہے جس میں سے آدھے سے زیادہ ڈیم صرف ہمارے دو پڑوسی ملکوں چین اور ہندوستان میں ہیں۔ جی ہاں 24,000 ڈیم چین میں اور 4،400ڈیم انڈیا میں۔

    ‎پاکستان کے ڈیموں کی تعداد 500 بھی نہیں بنتی جس میں اصلی نسلی بڑے ڈیم ایک درجن بھی نہیں اور ہمارے ہاں ڈیم نہ بنانے کی تحریک چل رہی ہے اور ہمیں ٹی چینلز کے ٹاک شوز میں امریکہ میں ڈیم ختم کرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں جس نے خود 10,000 ڈیم بنا رکھے ہیں۔

    ‎کوئی بھی بڑا ڈیم کثیر المقاصد ہوتا ہے۔ ڈیم کا بنیادی کام پانی کو ذخیرہ کرنا ہوتا ہے جسے بعد ازاں آب پاشی اور زراعت، بجلی بنانے ،صنعتی اور گھریلو استعمال ، ماحولیاتی بہتری ، ماہی گیری ، سیاحت اور زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے کام میں لایا جاتا ہے۔

    ‎اوپر دئے گئے مقاصد کے ساتھ ساتھ ڈیم مفت میں سیلاب کا زور توڑنے کا کام بھی کرتا ہے اور ایک سے زیادہ ڈیم اوپر نیچے ہوں تو وہ سیلاب کا سارا پانی ذخیرہ کرکے سیلابی تباہی روک لیتے ہیں۔

    ‎دنیا کے ہر ڈیم ،خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس کے ڈیزائن کا بنیادی مقصد ہی پیچھے سے آنے والے بڑے سیلابی ریلے کا زور توڑ کر اسے چھوٹے کمزور ریلے میں بدل کر آگے بھیجنے کے اصول پر بنا ہوتا ہے اور اگر دریائی گزرگاہوں پر اوپر تلے ایسے ڈیم بنا دئے جائیں تو بڑے سیلابی ریلے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں ۔ ٹیکنیکل زبان میں اسے فلڈ راوٹنگ یا پھر فلڈ پیک اٹینوایشن کہتے ہیں جس کا گراف پوسٹ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

    ‎امریکہ کی معیشت ہوور ڈیم کے بعد ہی سنبھلی اور چین نے سنبھلتے ہی دنیا کا سب سے بڑا تھری گور جز ڈیم کے نام سے بنایا اور تو اور افریقہ کے قحط زدہ ملک ایتھوپیا نے سنبھلتے ہی دریائے نیل پر میکینئیم ڈیم بنا دیا ہے ۔ صرف یہ ایک ڈیم 6,000 میگاواٹ تک بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ تربیلا ڈیم سے بہت زیادہ ہے۔

    ‎پاکستان میں بارشیں سال کے صرف تین مہینوں میں ہوجاتی ہیں جب کہ ہماری فصلوں کو سارا سال پانی چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق کو صرف اسٹوریج سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے لہذا پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے تو ڈیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔

    ‎یونیورسٹی آف ٹوکیو جاپان کے پروفیسرز نے حال ہی میں دنیا بھر کے ڈیموں کے اوپر اپنی
    ‎طرز کی سب سے پہلی کی جانے والی ریسرچ (لنک کمنٹ میں) سے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیم نہ صرف سیلاب کو روکتے ہیں بلکہ ڈیم عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثر کو بڑی حد تک کم کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔

    ‎دریاوں کے علاوہ پہاڑی سیلابی نالوں سے آنے والے بڑے سیلابی ریلوں کو بھی بڑی تعداد میں ڈیم بنا کر سیلاب سے بچا جا سکتا ہے جس کا واضح ثبوت اس سال کے سیلاب میں ڈیرہ اسماعیل خان کے شہر کا گومل زم ڈیم بننے کی وجہ سے بچ جانا ہے حالانکہ ڈیرہ کے شمال میں میانوالی ٹانک اور ڈیرہ کے جنوب میں تونسہ میں پہاڑی سیلابی نالوں پر ڈیم نہ بننے سے بہت تباہی ہوئی ہے۔

    ‎بلوچستان میں ہونے والی بارشوں کے پانی کا حجم بھی کم از کم 20 ملین ایکڑ فٹ ہوتا ہے جب وہاں اب تک تعمیر کئے گئے ڈیموں کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف1.5 ملئین ایکڑ فٹ ہے اور بقیہ 18.5 ملئین ایکڑ فٹ پانی سیلابی ریلوں کی صورت تباہی مچاتا ہے۔

    ‎پاکستان میں بھی ایسی مناسب جگہیں ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم تھری گور جز سے بھی بڑا ڈیم بن سکتا ہیں لیکن ایسے مواقع کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔عالمی فنڈنگ ادارے بھی ایسے منصوبوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں جب کہ ہمارے پڑوس میں وہ ایسے منصوبوں کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں۔

    ‎تو جناب سوال یہ نہیں کہ کیا ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟
    ‎بلکہ
    ‎ اصل سوال یہ ہے کہ سیلاب کو روکنے کے لئے ہم کثیر تعداد میں ڈیم کیوں نہیں بناتے؟ وہ کون لوگ ہیں جو پانی کی کمی پیدا کرکے ہمارے زرعی معیشت کی کمر توڑناچاہتے ہیں۔

  • "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    اسلام علیکم میرے قائد!

    میں خوش ہوں کہ آپ کو جنت کی نعمتوں سے روز نوازا جاتا ہوگا۔لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں (آپ کے پاکستان) نے 11 ستمبر 1948کو آپ کے جانے کے بعد نا جانے کیا کیا نہ جھیلا ۔ سب اپنے اپنے مفادات میں پڑ گئے ہیں۔ نواز ! لندن بیٹھ کر پاکستان پر حق جماتا ہے۔

    اے میرے قائد! آج ہی ایک خبر پڑی کہ سندھ میں ایک بچی بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ مگر سندھ میں بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ اے میرے قائد! آپ نے تو کہا تھا۔

    "آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”۔

    لیکن جناح صاحب! ہم مندروں میں جانے والے پاکستانیوں کو برداشت تک نہیں کر سکتے۔ آزادی کیا دیں گے؟۔ مذہب کے نام پر جتنا میرے فرزندوں کو لڑوایا گیا۔ شاید ہی کسی دوسری بات پر اتنا فساد برپا ہوا ہو۔

    بے اثر ہوگئے سب حرف نوا تیرے بعد
    کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

    تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
    ایسی بدلی کوچے کی فضاء تیرے بعد

    اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی
    ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد

    اے میرے عظیم قائد! مجھے آپ کے بعد برسوں تک بغیر آئین کے چلایا جاتا رہا۔ جس کا جو دل کرتا وہ وہی کرتا۔ کسی نے اپنی مرضی کا آئین بنا کر صدارتی ہانڈی میرے سلگتے جسم پر رکھی تو کسی نے میری اور آپ کی بہن پر غداری کے الزامات لگائے۔

    رشوت کے نام پر آگ بگولہ ہونے والے میرے قائد اب تو میرے فرزند ، رشوت کو کسی کام کی چابی مانتے ہیں۔ جہاں کوئی کام نہ ہو رہا ہو ،رشوت کی چابی لگا دیتے ہیں۔اور پھر اس کام کو پہیے سے ہی لگ جاتے ہیں۔

    جناح صاحب! مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ، میرے فرزند بھٹک گئے ہیں ۔اپنی منزل بھلا بیھٹے ہیں۔ آپ سے گلہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ آپ نے جس طرح مجھے آزاد کروایا ،میں خود آپ کی ذہانت سے حیران ہوا تھا۔ کسی نے آپ کے بارے میں کیا ہی سچ لکھا ہے۔

    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
    ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی

    ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
    اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی

    اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    جناح صاحب رب کے حضور یہ دعا ضرور پیش کیجیے گا کہ پاکستان کے فرزندوں کی اک اور جناح کی ضرورت ہے ۔ورنہ یہ بکھر جائیں گے ، ٹوٹ جائیں گے ، در در سے ٹھوکریں کھائیں گے۔ میں یہ سب اپنے فرزندوں کے ساتھ ہوتا ہوا برداشت نہیں کر سکوں گا ۔ اپنے اوپر کیے کے ان کے سارے ظلم بھلا کر ان کے کے دعا گو ہوں۔

    فقط۔۔۔۔ آپ کا اپنا پاکستان

  • پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پرسوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والا میچ ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے جیت لیااس میچ میں افغانستان نے ایک ہارے ہوئے میچ کو جس جذبے کے ساتھ کھیلا اور اسے آخر تک لے کر گئے وہ انتہائی قابلِ تعریف ہے۔

    جبکہ پاکستان نے ایک ون سائیڈڈ میچ کو جس طرح اپنے لئے مشکل بنایا کہ ایک وقت میں پاکستانی شائقین کرکٹ ذہنی طور پر ہارنے کے لئے تیار ہو گئے وہ پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ کے لئے خاص طور پر لمحہ فکریہ ہے۔

    ویسے حیرانگی کی بات ہے ہمارے پاکستانی کھلاڑی جب غیر ملکی ٹیموں کی کوچنگ کرتے ہیں تو ان کی پرفارمنس میں واضح فرق نظر آتا ہے جیسے ماضی میں ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد اس کی مثال ہیں اور ابھی عمر گل افغانستان کے باؤلنگ کوچ ہیں، اور ان کی کوچنگ کے نتائج اس میچ میں واضح نظر آئے۔

    پرسوں کے میچ میں افغان کھلاڑی کی ساتھ آصف کےساتھ تلخ کلامی اور دھکا دینا بلاشبہ کوئی اچھا واقعہ نہیں ہے لیکن پریشر میچوں میں اس طرح کے واقعات ہو جاتے ہیں اور میچ کے بعد کھلاڑی یا ٹیم کے سینئر ان واقعات کو رفع دفع بھی کرا دیتے ہیں۔

    لیکن حیرانگی کی بات افغان کرکٹ شائقین کی طرف سے ہارنے کے بعد اختیار کرنے والا رویہ تھا ویسے عرب تارکینِ وطن کی طرف سے امن و امان خراب کرنے کی کوششوں سے انتہائی سختی سے نبٹتے ہیں اور جن لوگوں نے کل اسٹیڈیم میں بدمعاشی کی وہ ان کو قانون کے شکنجے میں لائیں گے ۔

    کرکٹ کے میدان میں پاکستان بمقابلہ بھارت اور انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا ایسے مقابلے ہیں جن میں اپنی ٹیم کی فتح شائقین کرکٹ کے لئے ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہےلیکن ان جذبات کی وجہ ماضی کے واقعات ہی۔

    اس کے علاوہ دیگر ٹیموں کے مابین مقابلے شائقین کرکٹ کے لئے کھیل سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتے لیکن افغانستان کی کرکٹ ٹیم کا جو رویہ دوران میچ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہوتا ہے وہ دیگر ٹیموں کے ساتھ نہیں ہوتا جو کہ ایک معنی خیز بات ہے

    ہم افغانستان کو برادر اسلامی ملک کہتے ہیں اور افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی بےبہا قربانیاں ہیں افغان مہاجرین کا بوجھ پاکستان نے اٹھایا ہوا ہے اس کے علاوہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلوانے میں بھی پاکستان کا اہم کردار ہے۔

    ایسے عالم میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیل کے مقابلے کو کھیل سے زیادہ جنگ بنانا کیا یہ افغان ٹیم اور شائقین کے اندرونی جذبات ہیں یا اس کے پیچھے آئی سی سی کی پالیسی ہے ۔

    کہ دونوں ٹیموں کے باہمی کرکٹ مقابلوں کو انتہائی جذباتی بنا کر زیادہ سے زیادہ کرکٹ شائقین کی توجہ حاصل کر کے آئی سی سی کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ عرب ممالک میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور افغانستان کے تارکین وطن کی اکثریت رہائش پذیر ہے اور پاکستان اپنے ملکی حالات کی وجہ سے ہوم سیریز مجبوراً یو اے ای میں کراتا ہےاس سوال کا جواب آنے والے وقت میں ہی معلوم ہو گا.