Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان اورترکی کے درمیان تجارت کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے،وزیراعظم

    پاکستان اورترکی کے درمیان تجارت کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اورترکی کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تجاری معاہدے پردستخطوں کی تقریب سے خطاب کیا معاہدے پر وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر اور ترکی کے وزیرتجارت مہمت مش نے دستخط کئے ، تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، فاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب ، وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمن، وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ چوہدر ی سالک حسین اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے

    وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تاریخی برادرانہ تعلقات میں یہ معاہدہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے  دنوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ خوش آئند ہے۔ اس پر کئی سالوں بات چیت ہو رہی ہے مئی میں ہمارے ترکی کے دورے کے بعد پاکستان اور ترکی کی طرف سے معاہدے کے لئے کوششوں کو تیز کیا گیا ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی مثالی قیادت میں ترکی کے وزیر تجارت مہمت مش اور پاکستان کے وزیر تجارت سید نوید قمر اور دونوں ممالک کے سفرا اور دیگر حکام نے بہت محنت کی ہے جس کے بعد یہ معاہدے طے پایا ہے  پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت کے فروغ کی وسیع گنجائش اور صلاحیت موجود ہے اور تجارت کے فروغ کے لئے ہم بھرپور عزم رکھتے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے نئی راہیں کھلیں گی اور تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد ملے گی ہمیں اس معاہدے پر پوری طرح عملدر آمد کو یقینی بنانا ہے۔

    وزیرتجارت سید نوید قمرکا کہنا تھا کہ کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان معاہدے کے تحت دونوںممالک اپنی اپنی مصنوعات کی تجارت کرسکیں گے اور اس سے دونوں ممالک کی معیشت مستحکم ہو گی۔ پاکستان اور ترکی نے تجارت کے لئے مختلف اشیا ءپر ایک دوسرے کو رعایت دی ہے ہم اپنی دوطرفہ تجارت کاحجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے خواہاں ہیں ۔اس معاہدے سے ہمیں اپناہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور دونوں ممالک کے کاروباری طبقات بھی اس سے مستفید ہوسکیں گے۔

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

  • یوٹیوب اور ٹک ٹاک پہلی ترجیح:امریکی نوجوانوں کی ترجیحات بدل گئیں

    یوٹیوب اور ٹک ٹاک پہلی ترجیح:امریکی نوجوانوں کی ترجیحات بدل گئیں

    وا شنگٹن:امریکی نوجوانوں نے فیس بک کو چھوڑ دیا، یو ٹیوب اور ٹک ٹاک پہلی ترجیح۔ فیس بک اب صرف بوڑھوں میں مقبول ہے، پیو ریسرچ کا تازہ ترین سروے سامنے آگیا۔

    امریکا کے معروف تحقیقاتی ادارے پیوریسرچ سنٹرکے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق امریکی نوعمرشہریوں نے گذشتہ سات سال کے دوران میں فیس بُک کا استعمال ترک کردیاہے اوروہ اب ویڈیو شیئرنگ ایپس یوٹیوب اور ٹک ٹاک کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    پیو کا یہ ڈیٹا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فیس بک کی مالک کمپنی میٹا ٹک ٹاک کے مقابلے میں اربوں ڈالرکے اشتہاری کاروبار کھو چکی ہے ،سروے میں شامل قریباً95 فی صد نوعمرافراد نے کہا کہ وہ یوٹیوب استعمال کرتے ہیں جبکہ 67 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ ٹک ٹاک کے صارفین ہیں۔

    فیس بک کی جانب سے جعلی تبصروں کے خلاف کریک داؤن،

    سروے میں شامل صرف 32 فی صد نوعمروں نے کہا کہ وہ فیس بک پرلاگ اِن کرتے ہیں ۔محققین نے بتایا کہ قریباً 62 فی صد نوعمرافراد نے کہا کہ وہ انسٹاگرام استعمال کرتے ہیں جو فیس بک کی مادرکمپنی میٹا ہی کی ملکیت ہے جبکہ 59 فی صد نے کہا کہ وہ سنیپ چیٹ استعمال کرتے ہیں۔

    فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    میٹا کے لیے تھوڑی سی اچھی خبر یہ ہے کہ اس کی تصاویراورویڈیو شیئرنگ کی سروس انسٹاگرام امریکی نوعمروں میں 2014-2015 کے سروے کے مقابلے میں زیادہ مقبول پائی گئی ۔سروے میں شامل ایک چوتھائی سے بھی کم نوعمرافراد نے کہا کہ وہ ٹویٹرکبھی کبھاراستعمال کرتے ہیں۔

    فیس بک پڑھ کر لڑنا شروع کردیں تو یہاں نظام ہی نہیں چل سکتا،عدالت

    اس مطالعہ میں اس بات کی بھی تصدیق ہو گئی ہے کہ غیرمعمولی مبصرین کو کیا شبہ ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ95 فی صد امریکی نوعمر افراد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اسمارٹ فون ہیں۔نیزان میں سے زیادہ ترکے پاس ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ کمپیوٹرہیں۔محققین نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ سات سال قبل کے سروے کے نتائج کے مقابلے میں مستقل طور پر آن لائن رہنے والے نوعمربچّوں کی تعداد قریباً دُگنا ہوکر 46 فی صد ہوگئی ہے۔پیو کے مطابق یہ رپورٹ 1316 امریکی نوعمرلڑکے لڑکیوں کے سروے پرمبنی تھی۔ان کی عمریں 13 سال سے 17 سال تک تھیں۔

  • پاکستانی قوم خان اعظم خان عبدالقیوم خان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی:سید فقیر حسین بخاری

    پاکستانی قوم خان اعظم خان عبدالقیوم خان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی:سید فقیر حسین بخاری

    کراچی:مسلم لیگ قیوم کے سربراہ سید فقیر حسین بخاری نے تنظیمی دورے کے دوران یہ بات کراچی میں مسلم لیگ قیوم کے صدر وقار امان، مسلم لیگ قیوم سندھ کے منیارٹی ونگ کے صدر نقاش ڈینئیل اور ہندو برادری سے آئے سپورٹر راج کمار سے ملاقات میں کہی۔

    مسلم لیگ ق کاچوہدری شجاعت حسی طارق بشیرچیمہ کی

    ترجمان فیصل بھٹی نے بتایا کہ پارٹی سربراہ نے ملاقات میں مختلف امور پر بات کی اور مقامی عہدیداران کو تنظیم سازی کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایات دیں۔

    مسلم لیگ ن کو ایک اور دھچکا،الیکشن کمیشن نے لیگی ایم پی اے ڈی نوٹی فائی

     

    کراچی یو سی 12 صدر ٹاؤن سے چیئرمین کے بلدیاتی الیکشن میں کھڑے مسلم لیگ قیوم کے امیدوار وقار امان کی حوصلہ افزائی کی اور انکی راہنمائی کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی۔ اس موقع پر وقار امان نے پارٹی سربراہ کو الیکشن کی تیاریوں سے متعلق بریفننگ دی۔

     

     

    مسلم لیگ قیوم کے سربراہ نے کہا کہ پاکستانی قوم خان اعظم خان عبدالقیوم خان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی سے جڑے ہر فرد کا خواب ہے کہ وہ خان اعظم خان عبدالقیوم خان کی طرح اس ملک و قوم کی خدمت کرے۔

    ترجمان کے مطابق انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کو اختیارات دے کر وفاق لاتعلق نہیں ہو سکتا، ملک کی ترقی کے لیے ہمیں ترقیاتی بجٹ کے غلط استعمال کو روکنا ہو گا۔

    ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،مسلم لیگ ن

     

    اس موقع پر مرکزی ترجمان پاکستان مسلم لیگ قیوم اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات فیصل بھٹی اور سوشل میڈیا آرگنائزر مخدوم ثقلین بخاری بھی موجود تھے۔ کراچی میں مختصر دورہ مکمل کر کے مسلم لیگ قیوم کے سربراہ سید فقیر حسین بخاری اپنی پارٹی کے عہدیداران کے ہمراہ دورہ بلوچستان پر کراچی سے گوادر روانہ ہو گئے۔

  • پاکستان بلا کسی ذات پات  کی تفریق  ہم سب کا ہے، وزیراعظم

    پاکستان بلا کسی ذات پات کی تفریق ہم سب کا ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے اقلیتوں کی بھلائی ، قومی ترقی کی جدوجہد میں ان کی مکمل شمولیت کے لیے کوششیں جاری رکھنے اور وسائل کو بروئے کار لانے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتےہوئے کہا ہے کہ پاکستان بلا کسی ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے ہم سب کا ہے اور ہمیں مل کر اس کی ترقی و خوشحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھنا ہوگی ۔انہوں نے ان خیالات کااظہار اقلیتوں کے قومی دن کے مو قع پر اپنے پیغام میں کیا۔

    پاکستان سی پیک کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے،چیئرمین سینیٹ

    انہوں نے کہاکہ ہر سال پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اقلیتوں کے کلیدی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے، ان کے ہماری عظیم قوم کا لازم حصہ ہونے اور مذہبی اقلیتوں کے احترام کے عزم کا اعادہ کرنے کیلئے 11 اگست کو “قومی اقلیتی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے، قرآنِ پاک کے مطابق دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ، یہ قرآنی حکم سنت نبوی کے ساتھ مل کر اس اصول کی بنیاد فراہم کرتا ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1948 کو قوم سے اپنے خطاب میں بیان کیا تھا۔

     

    پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا. عبدالقادر پٹیل

     

    وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے آئین میں مذہب کی آزادی اور اقلیتوں کے افراد اور املاک کی تکریم کو باقائدہ قانونی شکل دی گئی ہے، حکومت کو نہ صرف ان ذمہ داریوں کا بخوبی ادراک ہے بلکہ ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنے عزم کی مستقل یاد دہانی کے طور پر حکومت نے 11 اگست کو سرکاری سطح پر شاندار طریقے سے قومی اقلیتی دن منانے فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان اسباب کا خاتمہ اور خامیوں کی اصلاح کرنا جو سماجی و مذہبی استحصال کا باعث بن سکتی ہیں ہماری حکومت کی پالیسیوں کا بنیادی ستون ہے، سماجی و اقتصادی خلیج کو پورا کرنے اور اقلیتوں کے لیے تعلیمی اداروں اورنمایاں خدمات کی فراہمی کے لیےنمائندہ فورمز پر خصوصی کوٹہ مختص کرنے جیسے اقدامات سے قومی سطح پر ہر کسی کو یکساں تعلیم و ترقی کے مواقع کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے علاوہ اقلیتوں کے معاشی طور پر کمزور طبقات کے حقوق کے یقینی تحفظ اور ترقی کے لیے وقف مالی امداد بھی ان اقدامات کا حصہ ہے۔

     

    آج ان لوگوں کو افسوس ہو رہا ہے جنہوں نے پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا،مریم اورنگزیب

     

    وزیر اعظم نے کہا کہ میں اقلیتوں کی بہتری اور قومی ترقی کی کوششوں اور جدوجہد میں ان کی مکمل شمولیت کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور انہیں مزید وسعت دینے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر تمام اقلیتی برادریوں سے بھی اپیل کروں گا کہ وہ رواداری اور باہمی اتفاق کی فضا کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہی واحد راستہ ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینے کے ہمارے مشترکہ مقصد کے حصول کا باعث گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بلا کسی ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے ہم سب کا ہے اور ہم سب نے مل کر اس کی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے۔

  • پاکستان سی پیک کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے،چیئرمین سینیٹ

    پاکستان سی پیک کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے،چیئرمین سینیٹ

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ سے پارلیمنٹ ہاوْس میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور چین کا باہمی مفاد کیلئے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے دونوں ممالک کے خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ اسٹریٹجک تعاون شراکت داری ” پاک – چین تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائے گی اور دونوں برادر ممالک ہر طرح کے حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے قومی مفاد کے بنیادی امور”ون چائنا پالیسی“ پر چین کی حمایت کرتا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کے بنیادی قومی مفاد کے امور، جموں و کشمیر تنازعہ اور ایف اے ٹی ایف پر چین کی حمایت کو سراہا اور پاکستان پاک -چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔ چین کے سفیر نونگ رونگ نے کہا کہ پاکستان چین کا قریبی دوست ہے، چین دوطرفہ تعاون مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے اور چین کے تجربات پاکستان کی سماجی اور معاشی خوشحالی میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور چین علاقائی امن کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کو تائیوان کی صورتحال پر گہری تشویش ہے اور تائیوان کا مسئلہ سنگین ہونے کی صورت میں علاقائی امن اور استحکام شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین اور دنیا کے دیگر خطوں میں جاری تنازعات کے بعد دنیا ایک اور بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی اور نیا تنازعہ اگر پیدا ہوتا ہے تو اس کے عالمی امن، سلامتی اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    بعد ازیں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے ٹوگو کے وزیر خارجہ پروفیسر رابرٹ ڈو سے نے پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ چیئرمین سینیٹ نے مارچ 2022 میں اسلام آباد میں ہونی والی او آئی سی-سی ایف ایم کانفرنس میں ٹوگو کے وزیرخارجہ کی شمولیت کو سراہا۔ ملاقات کے دوران مشترکہ اقدار، اور باہمی احترام پر مبنی دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان روایتی ہم آہنگی اور بین الاقوامی پر باہمی تعاون کی تعریف کی اور علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں بشمول او آئی سی، اے یو، یو این اور ایکو واس(ECOWAS)میں ٹوگو کا تعاون قابل ستائش ہے۔ ملاقات میں دو طرفہ سیاسی، تجارتی اور دفاعی تبادلوں کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔چیئرمین سینیٹ نے ٹوگو کے وزیر خارجہ کو مشترکہ بزنس کونسل کے قیام کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ صحت، انسداد دہشت گردی، دفاعی تعاون اور زراعت کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور ٹوگو کے وزیرخارجہ کی دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کی یقین دہانی کروائی۔ٹوگو کے وزیرخارجہ رابرٹ ڈوسے نے خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔

    چیئرمین سینیٹ نے ٹوگو کے وفد کو ایوان بالا اور قانون سازی کے کام کے طریقہ کار بارے آگاہ کیا۔ ملاقات میں ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ادارہ برائے پارلیمانی خدمات ٹوگو کی پارلیمان کے سٹاف اور اراکین پارلیمنٹ کے لئے معاونت فراہم کر سکتا ہے اور پارلیمانی استعداد کار کو بڑھانے سے بہتر قانون سازی اور پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بہتر رابطہ کاری اورعوامی سطح پر روابط کو بڑھانے کیلئے پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ملاقات میں سینیٹرز نصیب اللّہ بازئی، ذیشان خانزادہ, فدا محمد اور سیکرٹری سینیٹ قاسم صمد خان بھی موجود تھے۔

    علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے یو این او سی ایچ اے ہیڈ آف سیکشن ایشیاء-پیسیفیک مس رتھ مکوانا سے پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں عالمی دنیا بالخصوص پاکستان کو درپیش چیلنجز اور اس سے نمٹنے کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی،تخفیف غربت اور مہاجرین کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور مقامی،علاقائی اوربین الاقوامی معاونت کے ذریعے ہی ان مسائل کو حل کرنے میں مددملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ ملکر ایک کمیٹی بنائی ہے اور یواین او سی ایچ اے کے ساتھ بھی اسی طرز پرکمیٹی بنانے کے خواہاں ہیں اور یہ کمیٹی، پپس اور یو این او سی ایچ اے کے اشتراک سے سیمینار ز اور ورکشاپس کا انعقاد کرے گی۔

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ وبائی امراض کے حوالے سے آگاہی پھیلانی کی ضرورت ہے اور پانی کی بڑھتی قلت اور فوڈ سیکیورٹی بڑے چیلجز ہیں جس سے نمٹنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان ایک سپریم ادارہ ہے،موثرقانون سازی کے ذریعے بھی ان چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنج سے نمٹنے کیلئے مل کر کوششیں کرنی ہوگی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تحفیف غربت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجز پر قابو پانے کیلئے پارلیمان کوشش جاری رکھے ہوئے ہے اس سلسلے میں پارلیمان کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ مشکلات سے نمٹنے اور ایمرجنسی صورتحال میں یواین او سی ایچ اے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ معزز مہمان نے چیئرمین سینیٹ کو یو این او سی ایچ اے کے کام اور طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ مس رتھ مکوانا نے کہا کہ ملاقات میں سامنے آنے والی تجاویز کو زیر غور لانے کے ساتھ ساتھ رابطہ کاری کے عمل کو جاری رکھا جائے گا۔ ملاقات میں سیکریٹری سینیٹ محمد قاسم صمد خان اور اعلی حکام موجود تھے

  • ہماری حکومت گرانے والے مضبوط پاکستان نہیں چاہتے، عمران خان

    ہماری حکومت گرانے والے مضبوط پاکستان نہیں چاہتے، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بیرونی سازش کے تحت ہماری حکومت کو گرایا گیا ،میر صادق اور میر جعفر نے مل کر اس سازش کا کامیاب کیا، ہماری حکومت گرانے پر بھارت اور اسرائیل میں خوشی منائی گئی،اس سازش میں پلان بنا ہوا ہے کہ سب سے بڑی جماعت کو اپنی فوج کے ساتھ لڑوا دیا جائے،کوشش کی جا رہی ہے ایسا لاجک دیا جائے کہ ہم ایک دوسرے کے مخالف ہیں، سب کو تکلیف تھی کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر چل رہی ہے.

    شہباز گل کی گرفتاری کے بعد پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 800کے قریب جعلی سائٹس پر پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا تھا، عمران خان اور پاکستانی فوج کو ٹارگٹ کیا گیا،ان کے اربو ں ڈالر باہر پڑے ہیں،ان کی چوری کا ذکر ہر جگہ ہے،ملک کی سب سے بڑی جماعت کو اداروں سے لڑانے کی سازش کی جا رہی ہے،25مئی کو پرامن احتجاج میں عوام پر بڑا ظلم کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،فارن فنڈنگ کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، لوگوں کے گھروں میں گھسے، عورتوں اور بچوں پر شیلنگ کی گئی،ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن ان کے ساتھ ملا ہوا تھا،انہوں نے پوری کوشش کی کہ الیکشن میں کسی طرح ہمیں شکست دی جائے.

    عمران کان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ساری جماعتوں نے مل کر ہمارے خلاف ضمنی الیکشن میں حصہ لیا،اس ظلم کے پیچھے یہی سوچ تھی کہ اس پارٹی کو کرش کر دیا جائے،انہیں پورا اعتماد تھا کہ یہ ضمنی الیکشن بھی جیت جائیں گے، ان سب جماعتوں نے مل کر الیکشن لڑا پھر بھی ہار گئے،انہوں نے ہماری پارٹی کو توڑنے کا پورا پلان بنایا ہوا ہے، ہمیں نقصان پہنچانے کا پہلا مرحلہ الیکشن کمیشن ہے، الیکشن کمیشن کو سب کچھ دینے والی پارٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جھوٹی رپورٹس بنا کر تحریک انصاف کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہوا ہے،توشہ خانہ کیس کے ذریعے بھی مجھے نااہل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اس ملک میں بڑے بڑے عہدوں پر رہنے والے سب کو تحفے ملتے ہیں.

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ زرداری نے توشہ خانہ سے 3 گاڑیاں لیں، نواز شریف نے ایک گاڑی لی،سازش کا تیسرا حصہ میری کردار کشی ہے،یہ میری کردار کشی کر کے کسی کیس میں پھسانا چاہتے ہیں،ہماری حکومت گرانے والے مضبوط پاکستان نہیں چاہتے،سابق وزرائے اعظم سے تحقیقات کریں کہ کیا سب نے قانونی طریقہ کار اختیار کیا،ٹی ٹی پی کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنماو ں کو دھمکیاں آرہی ہیں، میرے بیرونی ملک کوئی پیسے نہیں پڑے ،میر ا جینا مرنا یہاں ہے،شہباز گل نے اگر کچھ کہا تو اسے صفائی کا موقع ملنا چاہئے، ہم کبھی اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتے،

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان سےسربراہ مسلم لیگ ض اعجازالحق نے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے، ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اورضمنی انتخابات پر تبادلہ خیال کیا گیا.علاوہ ازیں چیئرمین پی تی آئی عمران خان سے سہیل زمان کھگہ اورسردار سمیع نے بھی ملاقات کی ہے ،ملاقات میں سہیل زمان کھگہ اورسردار سمیع نے پی ٹی آئی میں شمولیت کااعلان کیا.ملاقات میں بہاولنگر کی نشست پر ضمنی الیکشن مل کر لڑنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ 13اگست جلسے کے بعد اس بارے باقاعدہ حکمت عملی طے کی جائے گی

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 13اگست کولاہور میں عظیم الشان جلسہ کرینگے، جلسے میں اہم اعلانات کروں گا اور مستقبل کالائحہ عمل دوں گا، اس موقع پر اعجاز الحق نے کہا کہ حکومت بوکھلاہٹ کاشکار ہے ،کسی نے غلط کام کیاہے تو باقاعدہ وارنٹ جاری کرکے تفتیش کی جا سکتی ہے، حکومت مہنگائی، بیروزگاری اورامن وامان پر بالکل توجہ نہیں دے رہی .

  • خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    پاکستان میں جائیداد سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں ایک ہی تصور تھا کہ اسے فروخت کر کے منافع کمایا جائے یا اسے کرائے پر دے کر ماہانہ کرایہ لے کر اپنی ضروریات پوری کی جائیں اور جگہ کے مالکانہ حقوق اپنے پاس رکھے جائیں لیکن ملک ریاض نے "بحریہ ٹاؤن ” بنا کر پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ایک نیا تصور دیا کہ حکومت کے کاغذات میں جگہ کے مالکانہ حقوق ملک ریاض کے پاس ہیں جبکہ ملک ریاض نے اپنا پٹواری نظام بنا کر لوگوں کو "بحریہ ٹاؤن” میں جگہ کی خرید و فروخت شروع کر دی۔

    زمین کی خرید و فروخت میں مختلف” ٹیکسز” کی مد میں حکومت کو جو آمدن ہوتی تھی وہ ملک ریاض نے اپنے پٹواری نظام کی وجہ سے خود حاصل کرنا شروع کر دی اس کے علاوہ مختلف سروسز کی مد میں لوگوں سے سروسز چارجز کے نام پر بھی ہر مہینے ایک معقول رقم وصول کرنا شروع کر دی اس طرح سمجھیں زمین کے مالکان ہر مہینے ملک ریاض کو کرایہ دینا شروع ہو گئے، مزے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اپنی زمین بیچنے کے باوجود بھی ملک ریاض حکومت کے کاغذات میں زمین کا مالک ہی رہا اور لوگ ملک ریاض کے کاغذوں میں زمین کے مالک ہونے کے باوجود ملک ریاض کے کرایہ دار ہی رہے لوگ اس سب کے باوجود مطمئین اور اپنی خوش نصیبی پر رشک کرتے رہے کہ "شکر ہے ہمیں بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ مل گیا” یہ سب صرف ملک ریاض کی کاروباری سوچ، میڈیا کے درست استعمال اور مسائل پیدا کرنے والے لوگوں سے ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔

    اب ہم اپنی خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرتے ہیں سب سے پہلے "چین” کی صورت میں دنیا میں ایک ایسا ملک تھا جس کے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک خاص طور پر امریکہ سے تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے، "جیسے ابھی ہمارے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع پیدا ہو جائے تو اس کی ثالثی کے لئے ہم امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک میں اس کا اثر و رسوخ ہے” ایسے ہی چین اور امریکہ کے درمیان تنازعات یا غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا تھا ۔

    اب اگر پاکستان ملک ریاض والی پالیسی اختیار کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک خاص حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیتا تو دونوں ممالک تنازعات اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے پاکستان پر ہی انحصار کرتے رہتے اس کا ہمیں یہ فائدہ ہوتا کہ دونوں ممالک پاکستان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ملک پاکستان کے مفادات کا خیال رکھتے ایک مضبوط ملک ہی مضبوط ضامن ہوتا ہے اس وجہ سے وہ پاکستان پر کبھی بھی بھارت کو فوقیت نہ دیتے اور ملک دولخت بھی نہ ہوتا اس کے علاوہ بھی پاکستان دونوں ممالک سے بےتحاشہ فوائد حاصل کر سکتا تھا ۔

    لیکن ہم نے اس کے بالکل الٹ کام کیا ہم نے چین اور امریکہ کو ایک ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ان کی آپس کی غلط فہمیاں دور کر دی اس کا ہمیں یہ نقصان ہوا کہ اپنا مطلب نکلنے کے بعد ہم امریکہ کے کسی کام کے نہ رہے اور اس نے ہمیں نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ دوستی اپنے مفاد میں بڑھانا شروع کر دی اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جہاں جہاں ان کا مفاد ہوا پاکستان کے خلاف بھارت کی بھرپور سیاسی اور عسکری ساز و سامان سے مدد کی اور نتیجتاً پاکستان کو بھرپور نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ ملک کے دو ٹکڑے بھی کر دئیے ۔

    جبکہ امریکہ کے مقابلے میں چین ایک عرصے تک پاکستان کا احسان مند رہا اور جب جب بھی پاکستان کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی چین نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا یہاں تک کہ انڈیا پاکستان کی جنگ کے دوران اپنی فوج کو انڈیا کے بارڈر پر لے آیا اور انڈیا پر بارڈر کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر جنگ کی دھمکی بھی دی جس کی وجہ سے انڈیا گھبرا گیا اور پاکستان سے جنگ بندی کر لی اس کے علاوہ پاکستان میں ریکارڈ انویسٹمنٹ کی اور عسکری شعبے میں پاکستان کے ساتھ لامحدود تعاون کیا، لیکن اب ہماری سیاسی قلابازیوں سے تنگ آکر چین نے بھی اپنا مفاد دیکھ کر پاکستان کے ساتھ تعاون محدود کرنا شروع کردیا ہے ۔

    پاکستان کو دوسرا موقع افغانستان کی خانہ جنگی اور طالبان کی کامیابی کی صورت میں ملا، طالبان اپنی سخت گیر سوچ اور نظریات میں لچک نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی دنیا کے لئے قابل قبول نہ تھے لیکن ان میں مدارس کے طالب علم ہونے کی وجہ سے وہ پاکستانی علماء کا بے حد احترام کرتے تھے اور کئی معاملات میں ان کے سپریم لیڈر اپنی رائے پر پاکستان کے جید علماء کی رائے کو ترجیح دیتے تھے اور ان کے کہنے پر اپنے موقف میں لچک پیدا کر لیتے تھے، اس وجہ سے ہم دوبارہ مغرب کی ضرورت بن گئے اور وہ طالبان سے معاملات طے کرنے کے لئے ہمارا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ ان کی وجہ سے ہمارا بارڈر بھی محفوظ ہو گیا، اور وہاں موجود اضافی نفری ہم نے جہاں ضرورت محسوس کی تعینات کر دی ۔

    لیکن اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر ہم نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ میں بغیر کوئی فائدہ اٹھائے امریکہ کا ساتھ دیا، جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر ہم ان کی اخلاقی حمایت نہیں کر سکتے تو اس جنگ میں غیر جانبدار ہو جائیں نتیجتاً طالبان کی امریکہ تک تو پہنچ نہ تھی ان کے بعض اتحادیوں نے امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی اور پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے طویل جنگ دہشت گردی کے خلاف لڑنی پڑی، جس میں وطن عزیز کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومت آنے کی وجہ سے بارڈر سے دہشت گرد پاکستان میں آنے لگے، انہیں روکنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لئے افغان بارڈر پر دوبارہ سے فوج اور باڑ لگانی پڑی، یعنی یہ فیصلہ کسی بھی طرح ملکی مفاد میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔

    ابھی قسمت سے ہمیں دوبارہ موقع ملا ہے افغانستان میں طالبان برسرِ اقتدار آ گئے ہیں، یہ ٹھیک ہے دونوں طرف اعتماد کا فقدان ہے لیکن اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے طالبان نے بھی اپنے مزاج میں تھوڑی بہت لچک پیدا کر لی ہے اور مدارس کے اساتذہ کی وجہ سے بھی وہ پاکستان کے لئے ابھی بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ آپس کی غلط فہمیاں دور کر کے ان کے ساتھ تعلقات کو بتدریج بہتر بنائیں، اس کا ہمیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ افغانستان سے جو تھوڑی بہت دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے گا اور مغربی ممالک سے طالبان کے تعلقات بہتر بنانے کے صلے میں ہمیں ان کی حمایت حاصل ہو جائے گی جس کا ہم معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

    اس کے علاوہ تائیوان کے معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے تعلقات دوبارہ سے کشیدہ ہو گئے ہیں اور ان معاملات میں ثالث یا پیامبر کا کردار پاکستان ہی ادا کرے گا تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائے، یہ ابھی بہترین موقع ہے دونوں ممالک اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے پاکستان کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم موقع کا فائدے اٹھاتے ہیں یا حسب معمول پرانی روش ہی اختیار کرتے ہیں ۔

    ملک ریاض نے اگر ایک عام آدمی ہوتے ہوئے "بحریہ ٹاؤن” بنا دیا،موقع کے مطابق لوگوں سے تعلقات بنا کر ان کو مطمئین کر کے اپنا مفاد حاصل کیا، طاقت کے مراکز(بحریہ ٹاؤن سے متعلقہ ادارے) کی ہر خواہش کو پورا کر کے راستے کی رکاوٹیں دور کیں اور تمام محکموں کو دینے کے بعد بھی اتنا کچھ بنا لیا کہ رفاہ عامہ کے بے شمار کام کرنے کے باوجود اس کے پاس لامحدود سرمایہ موجود ہے ۔تو حکومت اتنے زیادہ وزیر، مشیر اور تھنک ٹینک ہونے کے باوجود ایسی پالیسیاں کیوں نہیں بناتی کہ جس کے نتیجے میں ملک کو معاشی اور عسکری استحکام حاصل ہو ۔

    آخر یہ مشیر حکومت وقت کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ اگر گرنا ہی ہے تو بنئیے کے بیٹے کی طرح "کسی کام کی چیز "پر تو گرو، اگر ہم سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر عملی طور پر اس پر عملدرآمد کر کے دکھائیں، وقت کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتا اگر خوش قسمتی سے ہمیں دوسرا موقع مل گیا ہے تو ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ورنہ دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے تاریخ کی کتابوں میں "ملک ریاض” کا نام ایک کامیاب کاروباری شخص اور بھرپور وسائل کے ہوتے ہوئے بھی سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے "حکمرانوں” کا نام بدترین حکمرانوں اور ہماری "خارجہ پالیسی” کا ذکر بدترین خارجہ پالیسیوں میں ہو گا۔

  • نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع۔ مریم کو ذمہ داری دے دی گئی

    نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع۔ مریم کو ذمہ داری دے دی گئی

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع ہو گئیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع ہو گئیں نواز شریف نے پاکستان واپسی کے حوالہ سے پارٹی کو آگاہ کر دیا ہے نواز شریف کی واپسی پر استقبال کی تیاریاں کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے نواز شریف کی واپسی پر انکا بھر پور استقبال کیا جائے گا اس ضمن میں مریم نواز کو ذمہ داری سونپی گئی ہے مریم نواز اپنے والد نواز شریف کے استقبال کے لئے ٹیمیں تشکیل دیں گی اور تمام تر انتظامات کی خود نگرانی کریں گی

    سابق وزیراعظم نواز شریف بیمار ہوئے تھے تو علاج کے لیے لندن گئے تھے شہباز شریف نے نواز شریف کی واپسی کی ضمانت دی تھی نواز شریف کے لندن جانے کے بعد کرونا شروع ہو گیا جس کی وجہ سے انکا علاج نہ ہو سکا اب کرونا کی شرح کم ہونے کے بعد ہسپتال کھلے ۔

    نواز شریف کی اسلام آباد متوقع ہے اسلام آباد میں نواذ شریف کا پارٹی قائدین اور کارکنان استقبال کریں گے۔ بعد ازاں نواز شریف ایک کارواں کی صورت میں لاہور آئیں گے۔ نواز شریف کی واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان بھی جلد ہو جائے گا ۔

    موجودہ سیاسی صورتحال میں عمران خان کا مقابلہ کرنے کے لئے ن لیگی رہنماؤں کی جانب سے کہا گیا تھا کہ نواز شریف ہی مقابلہ کر سکتے ہیں اور انکو پاکستان میں پارٹی کی قیادت کرنی چاہئے ۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کی مضبوطی کے لیے نواز شریف نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا

  • وزیراعظم شہباز شریف اور یو اے ای کے صدر کا ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور یو اے ای کے صدر کا ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر یو اے ای شیخ محمد بن زید النہیان کا ٹیلیفونک رابطہ، وزیراعظم نے امارات میں حالیہ سیلاب میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔

    متحدہ عرب امارات کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں سیلاب اور ہیلی کاپٹر حادثے پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    قطری شہزادے کے خط کے بعد برطانوی شہزادی کے خط کے چرچے

    دونوں رہنماؤں نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران مشترکہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال اور قریبی برادرانہ تعلقات کے فروغ کا اعادہ کیا۔

    گفتگو کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کے حالیہ اماراتی اعلان کا خیرمقدم کیا۔

    وزیراعظم کا قطری امیرکوٹیلی فون، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قطرکےامیرشیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔شہبازشریف نے قطری شہزادے کو سلام کہا اورپھراس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قطر اور پاکستان کے درمیان قریبی اور خوشگوار تعلقات ہیں، قطر میں موجود 2 لاکھ سے زائد پاکستانی قطر اور پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    چیئرمین سعودی شوریٰ کونسل کی وفد کے ہمراہ وزیراعظم سے اچانک ملاقات،بھارت پریشان

  • سیاست اوراقتدارسےزیادہ ملک کی سلامتی اہم ہے:شیخ رشید

    سیاست اوراقتدارسےزیادہ ملک کی سلامتی اہم ہے:شیخ رشید

    لاہور:سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کی پیش نظر سیاست اور اقتدار سے زیادہ ملک کی سلامتی اہم ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے ملک اور قوم کی سلامتی پر بات کی ہے۔شیخ رشید نے کہا ہے کہ عمران خان کو گرفتار کرنا یا پی ٹی آئی کو توڑنے کی منصوبہ بندی کرنا خونی سیاست کا آغاز ہوگا۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ افغانستان کا عدم استحکام پاکستان پر بھی اثرانداز ہوگا جبکہ چین پاکستان کا بھلا سوچ رہا ہے، حکومت کو چاہیئے کہ اس کے اشاروں کو سمجھیں کیونکہ اس وقت ملکی سیاست اور اقتدار سے زیادہ ملک کی سلامتی اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی خواہشوں سے من پسند خبریں نہیں بن سکتیں جبکہ ملک بھر میں ایک بار پھر بھتہ اور خودکش حملے شروع ہو گئے ہیں اور معاشی تباہی، سیاسی عدم استحکام، بھتہ اور دہشتگردی کا آغاز انکی سیاست کودفن کردے گا۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ مشرف کے دور میں چینل لائیسنس دیے گئے تھے لیکن اب مفاد پرست فاشسٹ اسے بند کر رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آج ن لیگ کا بیانیہ دفن ہوگیا ہے۔

    اپنے ایک اور پیغام میں شیخ رشید نے کہا کہ دو ووٹوں کی حکومت،15اتحادی پارٹیوں کے ساتھ بے لگام ہو رہی ہے اور انکا ناکام ایجنڈا عمران خان کو نااہل اور نواز شریف کو اہل کروانا ہے۔