Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • گال ٹیسٹ کا چوتھا روز:کم روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا

    گال ٹیسٹ کا چوتھا روز:کم روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا

    کولمبو: گال ٹیسٹ کا چوتھا روز:کم روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا ،کولمبو سے اطلاعات کے مطابق دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں سری لنکا کی جانب سے دیے گئے 508 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 89 رنز بنا لیے۔

    چوتھےدن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 89 رنز بنائے تھے، بابر اعظم 26 اور امام الحق 46 رنز بناکر کریز پر موجود تھے۔ پاکستان کو پانچویں اور آخری روز میچ جیتنے کیلئے مزید 419 رنز جبکہ سری لنکا کو 9 وکٹیں درکار ہوں گی۔

    پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز کا آغاز عبد اللہ شفیق اور امام الحق نے کیا تاہم عبد اللہ شفیق 16 رنز بنا کر 42 کے مجموعے پر جے سوریا کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

    پاکستان نے 28 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 89 رنز بنائے تھے کہ خراب روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا اور پھر چوتھے دن کا کھیل ختم کردیا گیا، کھیل ختم ہوا تو امام الحق 46 اور بابر اعظم 26 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔پاکستان کو سری لنکا کی جانب سے دیے گئے 508 رنز کے حصول کے لیے مزید 419 رنز درکار ہیں۔

    قبل ازیں سری لنکا نے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کی دوسری اننگز 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر کے پاکستان کو جیت کے لیے 508 رنز کا پہاڑ جیسا دیا تھا۔

    گال ٹیسٹ کے چوتھے روز سری لنکا نے اپنی دوسری نامکمل اننگز 176 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تو دمتھ کرونا رتنے 27 اور دننجیا ڈی سلوا 30 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔

    دونوں بلے بازوں نے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا اور کرونا رتنے 61 رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر عبد اللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے جبکہ ڈونتھ ویلا لگے 18 رنز بنا کر محمد نواز کاشکار بنے۔

    دوسری جانب ڈی سلوا نے شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور شاندار سنچری مکمل کی، ڈی سلوا 109 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے تو کپتان کرونا رتنے نے 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کردی اور پاکستان کو جیت کے لیے 508 رنز کا ہدف دے دیا۔

    یاد رہے کہ سری لنکا نے پہلی اننگز میں 378 رنز بنائےتھے جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 231 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔پاکستان کو دو میچز کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

  • مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالتی فیصلے کے بعد ایک طبقہ اس صورتحال سے پریشان ہے اور دل برداشتہ ہے جبکہ دوسرا طبقہ اس کو آئین اور قانون کی فتح قرار دے رہا ہے ۔ تاہم تبصروں کا سلسلہ شروع ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ملک کا اقتدار اور سیاست اتنا پرکشش نہیں رہا جتنا سمجھا جا رہا ہے موجودہ معاشی صورت کے پیش نظر حالات کا ادراک رکھنے والا کوئی بھی ذی شعور انسان کانٹوں کا یہ تاج سر پر سجانا نہیں چاہے گا۔ عوام کا استحصال اور معاشی قتل ہو رہا ہے اور یہ معاشی قتل عمران خان کے دور حکومت سے شروع ہوا اور تادم تحریر شہباز حکومت میں بھی جاری ہے۔

    تاہم بے حسی حکومت کرنے والوں کی وطن عزیز میں بنیادی شرط ہے تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر ملک کے مقتدر حلقوں کی کوشش ہے کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالا جائے ملک میں رواداری ،سیاسی انتشار کا خاتمہ کیا جائے اور مصالحت کروائی جائے تاکہ ملکی معیشت مستحکم ہو۔ درمیانی راستہ تو ملک میں انتخابات ہیں کیا پی ڈی ایم اور شہبازشریف اس پر آمادہ ہونگے؟ تاہم کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان تصادم جتنی شدت اختیار کر گیا ہے درمیانی راستہ نکالنا اتنا آسان نہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی کامیڈی سرکس سے بیزار عوام سیاست سے نالاں عوام اپنے بنیادی مسائل کے عذابوں میں مبتلا ہیں۔ ملک کے سیاستدانوں کو ایک بات یاد رکھنی چاہئے جب معیشت کا مستقل بحران شدت اختیار کرنے لگتا ہے تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بنیادی مسائل سے دوچار عوام بھی کسی اور کا ساتھ دیتے ہیں۔ ملک کی تاریخ گواہ ہے جنرل ایوب سے لے کر پرویز مشرف تک کے اقتدار کو انہی سیاستدانوں نے سہارا دیا اور عوام نے بھی۔

    ملک میں آئین، قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے ساتھ ساتھ جمہوریت مستحکم قرار دادیں پاس کرنے سے نہیں ہوتی۔ اس کے لئے جمہوری رویوں کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ موجودہ سیاسی انتشار سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوںنے تاریخی سے سبق نہیں سیکھا۔ عمران خان سمیت ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو جمہوری رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوری رویوں کو فروغ دینے جمہوریت کو مستحکم کرنے ملک میں قانون، آئین پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔ ملک اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بقول ملک کے تین بار وزیراعظم نوازشریف کے ٹویٹ جو انہوں نے کیا کہ ملک کو تماشا بنا دیا گیا ہے خدارا اس ملک کو عالمی سطح پر تماشا نہ بنایا جائے۔

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

  • گال ٹیسٹ: سری لنکا کے 508 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری

    گال ٹیسٹ: سری لنکا کے 508 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری

    گال:دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں سری لنکا کی جانب سے دیے گئے 508 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری ہے۔یہ ٹیسٹ پاکستان کے لیے بہت بھاری ہے اورپاکستان کے لیے اسکورز کا ایک پہاڑ سامنے ہے جو سرکرنا ہے

    پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز عبد اللہ شفیق اور امام الحق نے کیا اور گرین کیپس نے بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 34 رنز بنا لیے ہیں، عبد اللہ شفیق 14 اور امام الحق 19 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں۔

    قبل ازیں سری لنکا نے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کی دوسری اننگز 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر کے پاکستان کو جیت کے لیے 508 رنز کا پہاڑ جیسا دیا تھا۔

    گال ٹیسٹ کے چوتھے روز سری لنکا نے اپنی دوسری نامکمل اننگز 176 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تو دمتھ کرونا رتنے 27 اور دننجیا ڈی سلوا 30 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔

    دونوں بلے بازوں نے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا اور کرونا رتنے 61 رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر عبد اللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے جبکہ ڈونتھ ویلا لگے 18 رنز بنا کر محمد نواز کاشکار بنے۔

    دوسری جانب ڈی سلوا نے شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور شاندار سنچری مکمل کی، ڈی سلوا 109 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے تو کپتان کرونا رتنے نے 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کردی اور پاکستان کو جیت کے لیے 508 رنز کا ہدف دے دیا۔

    یاد رہے کہ سری لنکا نے پہلی اننگز میں 378 رنز بنائےتھے جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 231 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔

  • نیب نے وزیراعظم آفس سے بحریہ ٹاون اور این سی اے ڈیل کا ریکارڈ مانگ لیا

    نیب نے وزیراعظم آفس سے بحریہ ٹاون اور این سی اے ڈیل کا ریکارڈ مانگ لیا

    اسلام آباد:نیب نے عمران خان حکومت میں بیریسٹر شہزاد اکبر کی زیر قیادت قائم کردہ اثاثہ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کیخلاف مالی فوائد کی خاطر اختیارات کے غلط استعمال اور برطانیہ سے موصول ہونے والی جرمانہ کی رقم کے معاملے میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور ریکارڈ کو غیر قانونی انداز سے سیل کرنے کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے نے باضابطہ طور پر وزیراعظم آفس سے رجوع کر لیا ہے اور شہزاد اکبر کے دفتر سے تمام متعلقہ ریکارڈ کی نقول فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

    قائم مقام چیئرمین اور ڈی جی نیب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش

    وزیراعظم آفس کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’نوٹ ٹوُ دی پرائم منسٹر‘‘ کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے جو دسمبر 2019ء میں بھیجی گئی تھی جس میں دو پاکستانی شہریوں احمد اور مبشرا کے جرائم سے حاصل ہونے والی رقم سرنڈر کرکے برطانیہ سے پاکستان بھیجنے کی بات کی گئی تھی۔

    قائم مقام چیئرمین نیب نے مزید 5 ایڈیشنل ڈائریکٹرز اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے تبادلے

    نیب کی جانب سے جو تفصیلات مانگی گئی ہیں ان میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ساتھ مذکورہ بالا دو پاکستانی شہریوں کے حوالے سے کی گئی مکمل خط و کتابت، ان افراد کے غیر قانونی انداز سے کمائی گئی رقم اور اس رقم کی پاکستان منتقلی کی تفصیلات شامل ہیں۔

    آفتاب سلطان کو چئیرمین نیب تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی

    ‏نیب نے وزیراعظم ٓشہباز شریف کے افس سے عمران خان حکومت کا بحریہ ٹاون اورنیشنل کرائم ایجنسی ڈیل کا ریکارڈ مانگ لیا

  • متنازعہ عدالتی فیصلہ ؛ حمزہ شہباز شریف کا بیان سامنے آ گیا

    متنازعہ عدالتی فیصلہ ؛ حمزہ شہباز شریف کا بیان سامنے آ گیا

    حمزہ شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بیان میں کہا کہ ایک متنازعہ فیصلے کے ذریعے عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کو گھر بھیجا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ کیا اسمبلی کی حیثیت ایک ربر اسٹیمپ کی رہ گئی ہے؟ پچھلے چار ماہ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تماشہ لگا ہوا ہےعوام دیکھ رہی ہے کہ تحریک انصاف کو آئین سے کھلواڑ کرنے کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ دوسری طرف ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار کو ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دیا جاتا ہے ہماری تاریخ ایسے سیاہ فیصلوں سے بھری پڑی ہے ہماری فل کورٹ کی استدعا کو بھی نامنظور کر کے انصاف کا قتل کیا گیا میری سیاست عہدوں کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غیر آئینی اقدامات کے ذریعے پہلے دن سے ہمیں جائز حق حکمرانی سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی تمام مشکلات کے باوجود آٹے پر سبسڈی ، مفت ادویات اور روشن گھرانا مفت بجلی جیسے پروگرامز سے عوام کو ریلیف دینے کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ سدا بادشاہی اللہ تعالی کی ہے، نہ کسی کی ہار ہمیشہ کی ہے نہ کسی جیت کو دوام حاصل ہے مشن پاکستان کو بچانا ہے اور میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

    حمزہ شہبازشریف نےکہا کہ جسٹس منیر اور مولوی مشتاق کی بدروحیں آج بھی عوام کی امنگوں پر ڈاکے ڈال رہی ہیں،بھٹو کو پھانسی دینے والے ججوں نے بعد میں پچھتاوے کا اظہار کیا لیکن ملک کو ہونے والےنقصان کی تلافی نہ ہوسکی۔

  • ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے. خراب معاشی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ڈالر کی اونچی پرواز ہے روزانہ کی بنیاد پر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی طرح اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے.

    ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال اسی طرح چلتی رہی تو خدانخواستہ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے. آسان ترین الفاظ میں ملک کی امپورٹ ایکسپورٹ میں عدم توازن کی وجہ سے ڈیفالٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے.

    یعنی فرض کریں آپ کے ذرائع آمدنی (ایکسپورٹ) سے آپ پچاس(50)روپے کماتے ہیں اور آپ کے خرچے(امپورٹ) ستر(70) روپے ہیں تو آمدنی اور خرچ میں بیس(20) روپے کا فرق ہے.اب اس فرق کو دور کرنے کے لئے یا تو آپ کو اپنی آمدنی بڑھانی پڑے گی یا اپنے خرچے کم کرنے ہوں گے اگر آپ یہ دونوں کام نہیں کرتے تو پھر آپ کو مجبوراً قرضے لے کر یہ فرق پورا کرنا پڑے گا.

    اب مسئلہ یہ ہے کہ قرض کوئی اللہ واسطے تو دیتا نہیں ہے تو وہ آپ کو بیس(20) روپے قرض سود پر دے گا اور سود بھی آپ کی طلب اور مجبوری کے مطابق زیادہ سے زیادہ لے گا. تو آپ اپنے خرچے کم نہ کرنے اور ذرائع آمدنی نہ بڑھانے کا خمیازہ ہر مہینے کا خسارہ بیس(20) کے بجائے پچیس (25) روپے ہر مہینے بھگتیں گے.

    یہ اضافی پیسے آپ اپنی آمدن میں سے ہی دیں گے اس لئے آپ کی آمدن اور خرچ میں فرق بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ آپ اتنے مقروض ہو جاؤ گے کہ قرض کی قسط بھی مزید قرض لے کر ادا کرو گے اور یہاں سے قرض دینے والا اپنی مرضی کی شرائط پر آپ کو قرض دے گا اور لازمی بات ہے کہ وہ شرائط قرض دینے والے کے مفاد میں ہوں گی

    اور جب ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ کے پاس قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ بھی موجود نہ رہے تو آپ ہاتھ کھڑے کر دیں گے یعنی یہ تسلیم کر لیں گے کہ میں کنگال ہو گیا ہوں یا ڈیفالٹ کر گیا ہوں اور قرض دینے والا آپ کی گروی رکھی تمام اشیاء اور اثاثے ضبط کر لے گا اس وقت یہی صورت حال وطن عزیز کی بن رہی ہے ہم بھی تیزی سے اس طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہمارا ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ موجود ہے.

    اس خطرے کی بڑی وجہ ملک میں جاری سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجے میں روزانہ بڑھنے والی ڈالر کی قیمت اور اس قیمت کے بڑھنے کی وجہ سے خودبخود قرضے اور اس کے سود میں ہونے والا اضافہ ہے. اس وقت ہماری معیشت آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے کی محتاج ہے آئی ایم ایف نے قرضے کی شرائط طے کرنے کے لئے ایک مضبوط سیاسی حکومت سے مذاکرات کی شرط اور عرب ممالک سے ملنے والے قرض سے مشروط کر دی ہے.

    یعنی اس وقت ہم ایک چکر میں پھنس گئے ہیں اور اس چکر سے نکلنے کا راستہ سب سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کر کے ملنے والا ہے. ایک مستحکم سیاسی حکومت کی وجہ سے ملک میں پھیلی غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو جائے گی جسکی وجہ سے ڈالر کی مصنوعی طور پر بڑھی قیمت کم ہو کر مستحکم ہو جائے گی جس کا اثر ہمارے قرضے اس کے سود اور مہنگائی پر بھی پڑے گا اس کے علاوہ ہمیں مزید قرضہ بھی ملے گا جس سے وقتی طور پر معیشت کا پہیہ چلانے میں مدد ملے گی.

    اس کے بعد ہماری پہلی ترجیح آمدن اور خرچے میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے توازن پیدا کرنا ہے ہمیں اپنے ایکسپورٹ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے کیونکہ اس کے بغیر ہماری آمدن نہیں بڑھ سکتی ہمیں تھوڑا عرصہ امپورٹڈ اشیاء کا استعمال کم سے کم کر کے اور حکومتی سطح پر ہر ممکن سادگی اپنا کر اور تمام سرکاری یا سیاسی افراد کی تنخواہوں کے علاوہ مفت سہولیات ختم کر کے عوام کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے اپنی نیک نیتی کا عملی ثبوت فراہم کرنا ہے اور یقین کریں کہ اگر ہم آج ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر خلوص نیت سے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کریں تو عنقریب دنیا میں ہماری کوششوں کی دوسرے ملکوں کو مثالیں دی جائیں گی.

  • ہنڈائی کمپنی نے اپنی کاروں کی قیمتیں 830,010 روپے تک بڑھا دیں

    ہنڈائی کمپنی نے اپنی کاروں کی قیمتیں 830,010 روپے تک بڑھا دیں

    کراچی :ہنڈائی نے اپنی کاروں کی قیمتیں 830,010 روپے تک بڑھا دی ہیں۔اطلاعات کے مطابق کار ساز کمپنی نے ایلینٹرا 1.6 کی قیمت 4.341 ملین روپے سے بڑھا کر 5.099 ملین روپے کر دی۔ اس نے ایلینٹرا 2.0 کی قیمت 500,510 روپے کے اضافے کے بعد 5.499 ملین روپے تک بڑھا دی۔

    کمپنی کا سوناٹا 2.0 830,010 روپے سے 7.899 ملین روپے مہنگا ہو گیا۔ اس نے سوناٹا 2.5 کی قیمت 7.927 ملین روپے سے بڑھا کر 8.499 ملین روپے کردی، جو کہ 571,510 روپے کا فرق ہے۔

    ٹویوٹا اور ہنڈئی نے گاڑیوں کی پروڈکشن روک دی…. جانیے کس ملک میں

    آٹو تجزیہ کار ارسلان حنیف نے کہا کہ آٹوموبائل اسمبلرز روپے کی قدر میں کمی کے مطابق گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ ہونے سے ان کی آمدنی پر منفی اثر پڑے گا۔

    پچھلے ہفتے ہیونڈائی نشاط نے Tucson FWD اور Tucson AWD گاڑیوں کی قیمتوں میں 1.1 ملین روپے کا اضافہ کیا۔

    ٹویوٹا موٹرز نے ٹیسلا کا مقابلہ کرنے کیلئے کونسی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ؟

    کمپنی ڈیلرشپ اور جے ایس کی تحقیق کے مطابق، کمپنی نے Tucson FWD کی قیمت کو 6.899 ملین روپے اور Tucson AWD کی قیمت کو 7.399 ملین روپے تک بڑھا دیا۔ روپے کی قدر میں کمی سے آٹو اسمبلرز سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ زیادہ تر آٹو پارٹس درآمد کیے جاتے ہیں۔

    ٹویوٹاانڈس نےپاکستان میں پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا

    ادھر دوسری طرف پاکستان میں گاڑیوں کے عالمی برانڈ ٹویوٹاانڈس نے پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا ہے ، اس حوالے سے پاکستان کے سنیئر تجزیہ نگارمبشرلقمان جو کہ معاشی اور اقتصادی صورت حال سے بخوبی واقف رہتے ہیں ، انہوں نے اہل وطن کوباخبررکھتے ہوئے کہاہے کہ ٹویوٹا انڈس جلد ہی اپنی پیداوار بند کردے گی۔

     

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ٹویوٹا انڈس موٹرز کےاندرونی ذرائع نے اس صورت حال سے آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت معاشی گرداب میں پھنس جانے کی وجہ سے سرمایہ کار بھی پریشان ہیں، مبشرلقمان نے ٹویوٹا انڈس موٹرز کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس کوئی زرمبادلہ نہیں ہے اور اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ وہ مدد نہیں کر سکتے۔

    ٹویوٹا انڈس کی طرف سے یہ بھی فیصلہ متوقع ہے کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے انکار کے بعد جلد ہی انہیں ان کاروں کے لیے تمام ایڈوانسز واپس کرنا ہوں گے جو ان کے پاس ہیں اور اگر یہ حالت برقرار رہی تو تمام پروڈکشن بند کر دی جائے گی۔

     

     

    مبشرلقمان نے اس حوالے سے معاشی صورت حال پر دکھ کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے درآمد کنندگان کو سنگین مسائل کا سامنا ہے کیونکہ بینک ان کے لیے L/Cs نہیں کھول رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بینک 260 روپے فی ڈالر چاہتے ہیں کیونکہ پاکستانی روپے کا اتار چڑھاؤ نہیں رک رہا ہے۔ مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ صورت حال اس قدر خراب ہوگئی ہےکہ ملک میں کاروبار ٹھپ ہونے والے ہیں کیونکہ ہم درآمدات پر منحصر معیشت ہیں۔

     

     

  • یو ایس ایڈ، پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے20ملین ڈالرفراہم کریگا،عبدالقادر پٹیل

    یو ایس ایڈ، پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے20ملین ڈالرفراہم کریگا،عبدالقادر پٹیل

    وفاقی وزیر برائے قومی صحت عبدالقادر پٹیل نےکہا ہے کہ یو ایس ایڈ نے پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے اضافی طور پر 20ملین ڈالر کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے،امریکی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول بھی پاکستان میں بیماریوں کے ڈیٹا سینٹر کی مضبوطی کیلئے ادارہ صحت کی معاونت کرے گا ۔

    ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ

    وزارت صحت سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کااظہارانہوں نے امریکامیں پاکستان اور امریکا کے درمیان ہیلتھ ڈائیلاگ کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور امریکا نے صحت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وبائی امراض اور صحت کے تحفظ کےچیلنج سے نمٹنے کیلئے پاک امریکا اشتراک کار بہت اہم ہے۔امریکی فوڈ اینڈڈرگ ایڈمنسٹریشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے درمیان تعاون مستحکم کرنے کافیصلہ کیاہے۔

     

    پاکستان جیسے زرعی ملک میں گزشتہ حکومت میں غذائی بحران آئے۔ وزیر اعظم

     

    وفاقی وزیر نے کہاکہ یو ایس ایڈ نے پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے اضافی طور پر 20ملین ڈالر کی فراہمی کا وعدہ کیاہے،پاکستان اور امریکا حفاظتی ٹیکہ جات ،غذائیت ،زچہ بچہ کی صحت، نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں بچانے اور سرحد پار صحت کے تحفظ بارے تعاون میں پیش رفت کریں گے، دونوں ممالک نے پاکستان میں بیماریوں پر قابو پانے کیلئے سینٹر کی تشکیلِ و ترقی کیلئے مشترکہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔

     

    درآمدی شعبے کے لیے گیس کے نرخوں میں 82فیصد تک اضافہ

     

    عبدالقادر پٹیل نے کہاکہ امریکی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول پاکستان میں بیماریوں کے ڈیٹا سینٹر کی مضبوطی کیلئے ادارہ صحت کی مدد کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ ۔19 کی وبا کے دوران پاک امریکا تعاون سے صحت کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا پتہ چلتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں پاک امریکا تعاون ،بیماریوں اور وبا کے خلاف ڈھال سے قیمتی انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں،بیماریوں کی کوئی سرحد نہ ہونے سے وبا کسی خاص ملک کیلئے نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے چیلنج ہو گی۔وزیر صحت نے کہا کہ پولیو کے خاتمے میں کامیابی کیلئے ماں اور بچے کی غذائیت بہت اہم ہے، پاکستان عالمی صحت کے تحفظ بارے ایجنڈے کے تحت اپنی بارڈر ہیلتھ ایجنسی کو مضبوط کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ طرفین نے معلومات، طبی مہارت اور امراض پر قابو پانے کیلئے بہترین عملی اقدامات کے تبادلے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ امریکا نے پاکستان کی کورونا وبا پر کامیابی پانے کے لیے کوششوں کو سراہا اور اس حوالے سے قریبی اشتراک کار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان صحت بارے آئندہ مذاکرات پاکستان میں ہوں گے ۔ عبدالقادر پٹیل نے امریکا کی جانب سے ویکسین کی چھ کروڑ پندرہ لاکھ خوراکیں اوربچوں کیلئے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ویکسین کی خوراکوں کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان کے تعاون کو بھی سراہا۔

  • نیوم سٹی:دوسال تک اس عالمی شہر کی پبلسٹی شروع کردی جائے گی:سعود ی عرب

    نیوم سٹی:دوسال تک اس عالمی شہر کی پبلسٹی شروع کردی جائے گی:سعود ی عرب

    نیوم:نیوم سٹی:دو سال تک اس کی پبلسٹی شروع کردی جائے گی:اس سلسلے میں خوشخبری سناتے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا کہ نیوم کاروباری زون 2024 تک پبلکلی لسٹڈ ہو گا۔اورمعاشی سرگرمیاں شروع کردی جائیں گی

    سعودی حکام کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو کہا کہ نیوم، جس کی تعمیر شروع ہوگئی ہے، سعودی سٹاک مارکیٹ کی قدر میں ایک کھرب ریال (266 ارب ڈالر) شامل کرے گا۔

    ولی عہد نے اس امر کا اظہار صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں اس وقت کیا جب ‘دا لائن’ سٹی کے ڈیزائن کا اعلان کر رہے تھے۔ اس پراجیکٹ پر 500 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔

    ولی عہد نے کہا ‘ نیوم سٹی کے حوالے سے پیش رفت پر مبنی منصوبوں کی وجہ سے سعودی سٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں ابتدائی طور پر کم از کم 320 ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا جبکہ مجموعی طور پر 1،3 ٹریلین ڈالر تک جائے گی۔ جو کہ پانچ ٹریلینز سعودی ریال کے برابر ہو گی۔

    انہوں نے ‘دا لائن ‘ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ‘دا لائن ‘ کے تحت 2030 تک 320 ارب ڈالر تک سٹاک مارکیٹ جائے گی اور سعودی حکومت کی یہ سپورٹ 53 ارب ڈالر سے 80 ارب ڈالر تک جائے گی۔ سعودی حکومت مختلف فنڈز سے یہ سپورٹ دے گی جو حتمی طور پر 133 ارب ڈالر تک جائے گی۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ، ایک خود مختار ویلتھ فنڈ ہے ۔ نیوم سٹی میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی سٹریٹجک اہمیت ہے۔

    نیوم کا ایریا اے 26500 مربعہ کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ یہ ہائی ٹیک نوعیت کا ایک ساحلی شہر ہو گا، جس کے ساتھ متعدد زون ہوں گے۔ ان ایریاز میں صنعتی اور لاجسٹک ایریا ہو گا، جسے 2025 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

    سعودی عرب میں ولی عہد کے وژن 2030 کے تحت نیوم کی تعمیر کا آغاز 2017 میں ہوا تھا۔ یہ شہر مملکت میں تجارت اور سیاحت کے حوالے سے فلیگ شپ کی حیثیت کا حامل ہو گا۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ‘ دا لائن سٹی نیوم میں مستقبل میں نوے لاکھ شہریوں کو رہائش فراہم کر سکے گا۔’

    اس شہر کے ڈیزائن میں انسانی آبادی کو اولیں ترجیح کے طور ماحول دوست ماحول فراہم کیا جائے گا۔ اس لیے اس شہر کے ارد گرد بھی قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کی کوشش ہو گی۔

     

  • شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات،مکمل تعاون کی یقین دہانی

    شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات،مکمل تعاون کی یقین دہانی

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سیکرٹری جنرل ژانگ منگ نے آج لاہور میں ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے سیکرٹری جنرل کو اہم ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں ان کی سرپرستی میں تنظیم کے مقاصد اور ان مقاصد کی تکمیل میں پاکستان کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ وزیراعظم نے ایس سی او چارٹر اور شنگھائی اسپرٹ کے اصولوں کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    وزیر اعظم نے ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی بلند قیمتوں اور اس کے نتیجے میں غذائی عدم تحفظ کے ساتھ ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبران سمیت بڑی تعداد میں ممالک کے لیے معاشی اور مالی مشکلات سے ظاہر ہونے والے موجودہ عالمی چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔

    وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایس سی او کے تمام ارکان امن کے قیام اور بین الاقوامی یکجہتی اور تعاون کو بڑھانے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے جامع ترقیاتی ایجنڈے کو سراہتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ SCO کا بنیادی مقصد SCO خطے کی ترقی اور خوشحالی ہے .

    وزیراعظم نے پاکستان کی ترجیحات اور قومی ترقی کے اہداف کے ساتھ ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک میں دلچسپی کے اہم شعبوں بشمول تجارت اور معیشت , رابطہ اور نقل و حمل؛ غربت کے خاتمے؛ توانائی زراعت اور خوراک کی حفاظت؛ موسمیاتی تبدیلی؛ سیکورٹی؛ انفارمیشن ٹیکنالوجی؛ ڈیجیٹلائزیشن؛ اور ثقافتی روابط کی اہمیت پر روشنی ڈالی .

    وزیر اعظم نے انٹرا ایس سی او تجارت کے ساتھ ساتھ ترقیاتی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے مناسب فنڈنگ ​​میکانزم تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن روابط کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کنیکٹیویٹی ایجنڈے کی اہمیت پر زور دیا اور اس سلسلے میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سی پیک ایک مفید ماڈل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

    وزیر اعظم نے متعدد مخصوص علاقائی اور عالمی سلامتی کے امور کے ساتھ ساتھ خطے اور اس سے باہر استحکام کو فروغ دینے میں ایس سی او کے کردار پر بھی اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا۔ اس تناظر میں، انہوں نے SCO-RATS کے کام کو بھی سراہا جہاں پاکستان، دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ سیکورٹی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اور سربراہان مملکت کے اجلاس سے قبل اپنے دورے کا اہتمام کرنے پر حکومت پاکستان اور قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ سیکرٹری جنرل نے تمام شعبوں میں شنگھائی تعاون تنظیم کے کام اور سرگرمیوں میں پاکستان کی تعمیری شراکت کی تعریف کی اور مستقبل میں ایس سی او کی ترجیحات اور کوششوں کے حوالے سے فراہم کردہ رہنمائی پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

    سیکرٹری جنرل نے ستمبر 2022 میں سمرقند میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم کو دی گئی دعوت پر روشنی ڈالی۔ SCO ایک 8 رکنی بین علاقائی کثیر الجہتی تنظیم ہے، جس کی بنیاد "شنگھائی اسپرٹ” پر ہے جس کا مطلب باہمی اعتماد اور احترام، مساوات، متنوع تہذیبوں کے احترام اور مشترکہ ترقی کا حصول ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے دو دہائیوں میں، SCO ایک بڑا بین الاقوامی پلیٹ فارم بن گیا ہے جو عالمی جی ڈی پی میں 23 فیصد حصہ کے ساتھ دنیا کی 41 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے چار روزہ دورے نے اعلیٰ سطح پر مشاورت اور تنظیم سے پاکستان کی توقعات کو سمجھنے کا ایک اہم موقع فراہم کیا ہے۔