Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • بحیرہ جنوبی چین میں آسٹریلوی فوجی طیارہ خود مختاری کےلیےخطرہ ہے:چین

    بحیرہ جنوبی چین میں آسٹریلوی فوجی طیارہ خود مختاری کےلیےخطرہ ہے:چین

    بیجنگ :چین کی حکومت نے بحیرہ جنوبی چین میں آسٹریلوی فوجی طیارے کی موجودگی کو اپنی خود مختاری کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔چین کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی فوج نے ایک آسٹریلوی فوجی طیارے کی بحیرہ جنوبی چین میں شناخت کرنے کے بعد اسے وہاں سے نکل جانے کی تنبیہ کی ہے۔

    بحیرہ جنوبی چین میں چین اورامریکی بحریں مشقیں‌:کیا نئی جنگ کاآغازہے:امریکہ

    چینی وزارت دفاع کے ترجمان تان کیفی نے آج بروز منگل بتایا کہ آسٹریلوی فوجی طیارے سے چین کی خود مختاری اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں اور چین کی فضائیہ کے جے 16 طیارے کی جانب سے کیے گئے جوابی اقدامات مناسب اور قانونی ہیں۔

    بحیرہ جنوبی چین کے معاملے پر چین کی بھرپورحمایت کرتے ہیں‌ : پاکستان کا دبنگ اعلان

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس علاقے میں بھارت ، آسٹریلیا،جاپان اور امریکہ کے اتحاد پر مشتمل کواڈ ممالک نے مشترکہ بحری مانیٹرنگ کررکھی ہے جس کا مقصد چین کے بحری جہازوں کی نقل وحرکت پر نظررکھنا ہے ، یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ آنے والے دنوں میں یہ اتحاد چین کے خلاف مزید ناکہ بندی کی کوشش کررہا ہےاور چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کوکم کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے

    چین کے خلاف امریکہ اورجاپان کا اکٹھ:چین نے سخت جواب دے دیا

    یاد رہے کہ اس سے قبل اتوار کے روز آسٹریلیا کے محکمہ دفاع نے کہا تھا کہ 26 مئی کو چین کے ایک لڑاکا جے 16 طیارے نے خطرناک طرز عمل اپناتے ہوئے بحیرہ جنوبی چین میں اس کے ایک فوجی نگرانی والے طیارے پی 8 اے پوزائیڈن کو روکا تھا جو اپنے معمول کے نگرانی مشن پر تھا۔ چینی لڑاکا طیارے کے اس اقدام سے اُس کے جہاز اور اس میں سوارعملے کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہو گئی تھیں۔

  • کھانا ضائع نہ کریں بلکہ اسکومستحق افرادمیں تقسیم کرنےکےطریقےاپنائیں:عارف علوی

    اسلام آباد:کھانا ، رزق اللہ کا انعام ہے اس کی بے قدریں نہ کریں ،ان خیالات کا اظہارکرتےہوئے صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے کہ کھانا ضائع نہ کریں بلکہ اسکو مستحق افراد میں تقسیم کرنے کے طریقے اپنائیں۔

     

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے گھرتعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری:عارف علوی…

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے غذائی تحفظ کے عالمی دن 7 جون کے حوالے سے پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر صحت کے لیے مضر صحت غذا سے پیدا ہونے والے مضر اثرات کی روک تھام پر توجہ مبذول کی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ دن مضر صحت غذا سے پیدا ہونے والے خطرات کی روک تھام، انکی تشخیص اور محفوظ خوراک تک رسائی کی طرف توجہ دلاتا ہے، ہمیشہ صاف ستھری جگہوں سے کھانا کھائیں اور صفائی کے اچھے معیار کو برقرار رکھیں۔

    عارف علوی نے کہا ہے کہ کھانا ضائع نہ کریں بلکہ اسکو مستحق افراد میں تقسیم کرنے کے طریقے اپنائیں، غذائی تحفظ اقوام متحدہ کے اہداف میں شامل ہے جسکا مقصد بھوک کو ختم کرنا، غذائیت کو بہتر بنانا، زراعت کو فروغ دینا اور غذائی تحفظ کے حصول کے لیے اقدامات کو بروئے کار لانا ہے۔

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کا نوید اقبال کے بھائی سے رابطہ، اہلخانہ سے اظہار ہمدردی

    صدر مملکت نے کہا کہ حکومت کو غذائی تحفظ کے معیار کو اپنانے کے لیے کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینا چاہیےاورعوام کو صاف ستھری غذا کی ترغیب دینے کے پروگرام شروع کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ خوراک بنانے والی کمپنیوں کو خوراک کے تحفظ کے معیار کو برقرار رکھنا چاہیے اور صاف اور محفوظ خوراک کے استعمال کو یقینی بنانا چاہیے، تعلیمی اداروں اور دوسرے اداروں کو محفوظ خوراک کے استعمال کی تعلیم دینی چاہیے۔

    ے ڈی سی کے وفد کی صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات:کام اورخدمات کی تعریف

    عارف علوی نے کہا ہے کہ محفوظ خوراک کا استعمال ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے اگر ہم سب مل کر کام کریں تو اپنی صحت کے لیے محفوظ خوراک کے استعمال کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

  • ایران نے اپنے شہریوں کوخلائی خدمات فراہم کرنے کا اعلان کردیا

    ایران نے اپنے شہریوں کوخلائی خدمات فراہم کرنے کا اعلان کردیا

    تہران :ایران نے اپنے شہریوں کوخلائی خدمات فراہم کرنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریح نے کہا کہ میرا مُلک نجی شعبے کی مدد سے عوام کو خلائی خدمات فراہم کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے

    ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریح نے کہا کہ ایران ایک نیا خلائی پروگرام تیار کر رہا ہے جو نجی شعبے کے لیے عوام کو خلائی سے متعلق خدمات فراہم کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ 10 سالہ پروگرام تقریباً تیار ہے جس کا مقصد ایران کے نجی شعبے کو شامل کرنا ہے۔

    افغان طالبان نے خراب کوالٹی کے تیل کے 12 ایرانی ٹینکرزواپس بھیج دیئے

    ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریح نےکہا، "ہمارے پاس ایک بڑا کام ہے، جو کہ نجی شعبے کو ملک میں خلائی خدمات اور ٹیکنالوجی کی پیشکش کرنے کے لیے ایک مناسب مارکیٹ بنا کر اس میں قدم رکھنے کے لیے ضروری حالات فراہم کرنا ہے۔””نئے پروگرام میں، کچھ نئے اداروں کو، خاص طور پر نجی شعبے میں، سیٹلائٹ بنانے کے لیے تعاون کیا جائے گا۔ روایتی اداکاروں کو اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ نئے سیٹلائٹ تیار کرنے اور بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    یونانی آئل ٹینکرپرایرانی نیوی کا قبضہ: یونان نے اسے بحری قزاقی قرار دیا

    ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریح نےکہا کہ روایتی سیٹلائٹ ڈویلپرز، جو بنیادی طور پر حکومت کی ملکیت ہیں، اور نجی کمپنیاں "اعلیٰ قیمت کی معیاری مصنوعات” بنانے کے لیے افواج میں شامل ہو سکتی ہیں۔نئے خلائی منصوبے کے تحت جدید ترین سیٹلائٹس بشمول کمیونیکیشن سیٹلائٹس، مصنوعی اپرچر ریڈار (SAR) سیٹلائٹس، اور CanSats کے ساتھ ساتھ گھریلو سیٹلائٹ لانچرز کو نجی کمپنیوں کی مدد سے ڈیزائن اور بنایا جائے گا۔

    خلائی سربراہ نے کہا کہ ان کی ایجنسی زراعت اور قدرتی آفات کے انتظام سمیت مختلف شعبوں میں خلائی خدمات کا استعمال کرنے کے لیے آخری صارف کے طور پر لوگوں کے لیے پلیٹ فارم تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔سلاریح نے کہا، "اس وقت ایسی ایپلی کیشنز کے ساتھ 10 سسٹمز ہیں جو فعال ہیں یا ترقی کے مراحل میں ہیں، اور ہم ان میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”

    "ہم نے 10 سال کے عرصے میں حکومت اور کاروبار کے استعمال کے لیے تقریباً 30 مزید سسٹمز آن لائن لانے کا تخمینہ لگایا ہے۔”

    ایران میں ایف 7 لڑاکا طیارہ گرکر تباہ،2 پائلٹ ہلاک

    ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریح نے یہ بھی کہا کہ ایرانی خلائی ایجنسی جنوب مشرقی بندرگاہی شہر چابہار میں دوسرا سیٹلائٹ لانچ سینٹر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چابہار نیشنل لانچ سائٹ کو بین الاقوامی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔عہدیدار نے امید ظاہر کی کہ نیا سیٹلائٹ لانچ اسٹیشن ایران اور دیگر ممالک کے درمیان تعاون کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

    یاد رہے کہ ایران نے اپنا پہلا سیٹلائٹ امید 2009 خلا میں چھوڑا تھا اور اس کا رسد سیٹلائٹ 2011 میں مدار میں بھیجا گیا تھا۔2012 میں، ایران نے اپنا تیسرا مقامی طور پر تیار کردہ سیٹلائٹ، نوید (خوشخبری) کو کامیابی کے ساتھ مدار میں رکھا۔اپریل 2020 میں، ایران نے اپنے پہلے فوجی سیٹلائٹ کو مدار میں کامیاب لانچ کرنے کا اعلان کیا۔ اور مارچ 2022 میں، اس نے اپنا دوسرا فوجی سیٹلائٹ خلا میں اڑا دیا۔

  • پاکستان کے دورے پر موجود جرمن وزیرخارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    پاکستان کے دورے پر موجود جرمن وزیرخارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    پاکستان کے دورے پر موجود جرمن وزیرخارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔

    جرمنی کی وزیرخارجہ اینالینا بیئربوک نے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اپنا دورہ پاکستان مختصر کردیا ہے۔ جرمن وزیرخارجہ نے پاکستان میں اپنی بقیہ تمام مصروفیات منسوخ کردی ہیں۔

    پاکستان کے دو روزہ دورے پر آنےوالی جرمن وزیر خارجہ کو یونان اور ترکی بھی جانا تھا۔ خیال رہے کہ پاکستان میں جرمن وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔

    اس سے قبل جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ جرمنی کی وزیر خارجہ کو دورۂ پاکستان پر خوش آمدید کہتے ہیں، جرمنی پاکستان کا یورپی یونین میں سب سے بڑا شراکت دار ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اور خود میں دہشت گردی کا شکار ہوا ہوں، امید ہے افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گی، ہمیں افغانستان سے مزید مہاجرین کی آمد کا خطرہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 97 فیصد لوگ خط غربت کے نیچے جا رہے ہیں، افغان حکومت کو عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا، افغانستان سے انہیں نکالنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ میری ترجیح پاکستان کی معاشی سفارتکاری کا فروغ ہے، ہماری توجہ ٹریڈ، ناٹ ایڈ پر مرکوز ہے۔

    وزیر خارجہ نے بتایا کہ یوکرین پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ہم یوکرین میں جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں، تمام تنازعات کو بالآخر بات چیت سے ہی حل ہونا ہوتا ہے، ہم روس یوکرین جنگ کے مذاکراتی حل پر زور دیتے رہیں گے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے چین اور دنیا کے درمیان سفارتی تعلقات شروع کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ بھارت کے یک طرفہ اقدامات کے باعث دو طرفہ بات چیت کا عمل متاثر ہوا ہے، بھارت اب ایک ہندوتوا انڈیا ہے، بھارت کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات بات چیت کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔

    نیوز بریفنگ میں جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا کہ افغان صورت حال سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا، خواتین کی حقوق معاشرے میں اہمیت کے حامل ہیں، افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہے۔

    جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے باہمی تجارت کے فروغ پر بات چیت کی ہے، مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے۔

  • پاکستان مشکل حالات میں ملا، بہتر چھوڑ کر جائیں گے، مفتاح اسماعیل

    پاکستان مشکل حالات میں ملا، بہتر چھوڑ کر جائیں گے، مفتاح اسماعیل

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ عمران خان، شوکت ترین نے آئی ایم ایف سے وعدے کے برعکس تیل پر سبسڈی دی۔ ہم پی ٹی آئی کے آئی ایم ایف سے کیے معاہدے پر چلتے تو پیٹرول 300 روپے لیٹر ہوتا۔

    اسلام آباد میں بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 18 سے 20 لاکھ افراد لیبر مارکیٹ جوائن کرتے ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ کسی وزیراعظم کے لیے اس طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا آسان نہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ عمران خان فروری میں روس گئے، گندم اور گیس پر بات ہوئی، تیل کا کہیں ذکر نہیں تھا، حماد اظہر نے 30 مارچ کو تیل کے لیے روس کو خط لکھا، جواب نہیں آیا۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کس نے روکا تھا روس سے سستا تیل لینے سے،انہوں نے کہا کہ امید ہے بہت جلد ہمارا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوجائے گا۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کبھی گیس نہیں ملتی، کبھی پاور نہیں ملتا، پاور سیکٹر میں 1072 ارب روپے سبسڈی دی ہے، 500 ارب روپے سرکلر ڈیٹ میں گئے ہیں۔
    انہوں نے بتایا کہ 1600 ارب روپے کا خسارہ پاور سیکٹر کا ہے، ایس این جی پی ایل 200 ارب روپے کا نقصان کرچکی ہے، ہمیں 21 ارب ڈالر دوسرے ممالک کے واپس کرنے ہیں، 12 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہوگا۔

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو ذمہ داری ملے 2 مہینے ہوئے ہیں، ہم نے بہت سے سخت فیصلے کئے ہیں۔ ہم گندم برآمد کر رہے تھے اس سال درآمد کریں گے، پچھلی حکومت نے چینی 48 روپے کی برآمد کرکے 96 روپے کی درآمد کی،وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں مشکل حالات میں پاکستان ملا ہے اور بہتر حالات میں چھوڑ کر جائیں گے۔

  • مغربی ممالک کی نااہلی کی قیمت دنیاچُکا رہی ہے،معاشی بحران کےذمہ داربھی یہی ہیں:ولادی میرپوتن

    مغربی ممالک کی نااہلی کی قیمت دنیاچُکا رہی ہے،معاشی بحران کےذمہ داربھی یہی ہیں:ولادی میرپوتن

    ماسکو:کیا دنیا کو یہ احساس نہیں ہورہا کہ مغرب نے ساری دنیا میں معاشی تباہی پھیلائی ہے اور یہ سلسلہ اب رُکنے کا نام ہی نہیں‌ لے رہا ، ان خیالات کا اظہارکرتےہوئےسینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) سے قبل ایک خطاب کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ مغربی ممالک نے عالمی معیشت کو غلط طریقے سے سنبھالا ہے، اور پوری دنیا اب ان کی نااہلی کی قیمت چکا رہی ہے۔

     

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    ولادی میر پوتین نے یہ حقیقت اس وقت بیان کی جب سالانہ بین الاقوامی ایونٹ اس سال 25 ویں مرتبہ منعقد ہو رہا ہے۔ شرکاء سے استقبالیہ خطاب میںجو فورم کے آغاز سے ایک ہفتہ قبل شائع ہوا،ولادی میر پوتن کہتے ہیں کہ ساری دنیا اس کی قیمت چُکا رہی ہے

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ "مغربی ممالک کی طرف سے اپنی اقتصادی پالیسی میں کئی سالوں کی غلطیوں اور ناجائز پابندیوں کی وجہ سے مہنگائی کی عالمی لہرپیدا ہوئی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ لاجسٹک اور مینوفیکچرنگ چین میں بدنظمی ، غربت میں اضافہ اور خوراک کے خسارے میں اضافہ ہوا ہے۔”

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے پاکستان کے کپتان عمران خان کے موقف کی تائید کردی

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے پیشین گوئی کی کہ موجودہ دہائی ایک ایسا وقت بن جائے گی جب روس اپنے بنیادی ڈھانچے اور مینوفیکچرنگ بیس کی تعمیر، اپنے کارکنوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کرکے اور ایک آزاد مالیاتی نظام تشکیل دے کر "اپنی اقتصادی خودمختاری کا دعویٰ کرے گا”۔ ملک کی معیشت وسیع دنیا کے لیے کھلی رہے گی،

    یاد رہے کہ یہ فورم اگلے ہفتے بدھ سے ہفتہ تک ہو گا۔ منتظمین کے مطابق، 1،000 سے زیادہ سی ای اوز سمیت 2,700 سے زیادہ کاروباری رہنماؤں نے اس فورم میں‌ یکم جون تک اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔اس اجتماع کا مقصد روس کی مغربی دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور اسے سفارتی اور اقتصادی طور پر باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرنا ہے

    امریکہ کا ایران کے خلاف طاقت کا استعمال تباہ کن ہو گا، روسی صدر ولادی میر پوتین

    یاد رہے کہ فروری کے آخر میں ماسکو کی جانب سے یوکرین کے خلاف فوجی حملے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر اقتصادی پابندیوں کا ایک بے مثال سلسلہ عائد کر دیا تھا۔ چین اور بھارت جیسے اقتصادی طاقتوں سمیت کئی غیر مغربی ممالک نے دباؤ کی مہم میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

  • ایلون مسک نے ٹویٹرخریدنے کی ڈیل ختم کرنے کی دھمکی دے دی

    ایلون مسک نے ٹویٹرخریدنے کی ڈیل ختم کرنے کی دھمکی دے دی

    واشنگٹن :ایلون مسک نے ٹویٹرخریدنے کی ڈیل ختم کرنے کی دھمکی دے دی اطلاعات کے مطابق ٹیسلا کے بانی ایلون مسک، جنہوں نے حال ہی میں ٹویٹر کو خریدنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، اب دھمکی دی ہے کہ اگر مؤخر الذکر پارٹی غلط اور جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ اس سے الگ ہو جائیں گے۔

    اس حوالے سے ایلون مسک نے کہا کہ ٹویٹر ان کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور پھرالٹآ غلط بیانی بھی کررہا ہے اور ان کے معلوماتی حقوق کو ناکام بنا رہا ہے۔”اطلاعات ہیں‌کہ ایلون مسک نے سپیم اکاؤنٹس کے بارے میں مزید معلومات کے لیے معاہدے کو روک دیا ہے۔

    ایلون مسک نے اس سال اپریل میں ٹویٹر کو 44 بلین ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا اور پھر ٹویٹ کیا تھا کہ ان کی ترجیحات میں سے ایک پلیٹ فارم سے "اسپام بوٹس” کو ہٹانا ہوگا۔

    ایلون مسک نے ٹویٹر کو خریدنے کے لیے اپنے 44 بلین ڈالر کے معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے سوشل میڈیا نیٹ ورک کو ایک خط میں کہا کہ اگر اس نے اسپام اور جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں خاطر خواہ ڈیٹا فراہم نہیں کیا تو یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا

    ٹویٹر کارپوریشن نے مارچ میں انکشاف کیا تھا کہ پہلی سہ ماہی کے دوران غلط یا سپیم اکاؤنٹس اس کے مونی ٹائز کیے جانے والے یومیہ فعال صارفین میں سے 5 فیصد سے بھی کم کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    جبکہ مسک کا اصرار ہے کہ یو ایس سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے پاس دائر کردہ خط کے مطابق، بوٹس 20٪ یا اس سے زیادہ ٹویٹر صارفین کے لئے اکاؤنٹ بن سکتے ہیں۔ اس معاملے پر ٹویٹر اور مسک کے درمیان مئی کے اوائل سے بحث جاری ہے۔ تاہم ٹوئٹر نے فیک اکاؤنٹس کے بارے میں اپنے اندازے کا دفاع کیا ہے۔

    "ٹوئٹر کے آج تک کے رویے اور خاص طور پر کمپنی کے تازہ ترین خط و کتابت کی بنیاد پر، ایلون مسک کا خیال ہے کہ کمپنی جان بوجھ کر اپنے غلط دعووں سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے اور ان کے معلوماتی حقوق کو ناکام بنا رہی ہے،

    ایلون مسک کا کہنا ہے کہ "یہ انضمام کے معاہدے کے تحت ٹویٹر کی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی ہے اوروہ تمام حقوق محفوظ رکھتے ہیں، بشمول ان کے لین دین کو مکمل نہ کرنے کا حق اور انضمام کے معاہدے کو ختم کرنے کا حق،”

    دریں اثنا، ٹویٹر کارپوریشن کا کہنا ہے کہ اس وقت تو ایلون مسک نے ڈیل کو مکمل کرنے کی جلدی میں مخصوص حقوق سے دستبردار ہو گئے تھے اور مزید کہا کہ وہ طے شدہ قیمت اور شرائط پرٹویٹر کا لینا چاہتے تھے

    ماہرین کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ مسک اسپام اکاؤنٹ کے معاملے کے ذریعے قیمت پر دوبارہ گفت و شنید کرنے کی کوشش کر رہے ہوں یا اس معاہدے سے الگ ہو جائیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگر وہ معاہدے سے باہر نکلتے ہیں تو اسے 1 بلین ڈالر کی ضمانتی رقم اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • پاکستان میں لیٹر گیٹ کی سازش

    پاکستان میں لیٹر گیٹ کی سازش

    وزیراعظم عمران خان 2018 میں کرپشن سے لڑنے، ملک میں ایسی اصلاحات اور تبدیلیاں لانے کے بھرپور نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ لیکن ان کے اقتدار کے ساڑھے تین سالوں میں معیشت کی بحالی، مہنگائی پرقابو پانے اور اصلاحات لانے کے وعدے عملی طور پر نظر نہیں آئے۔

    باغی ٹی وی : عمران خان نئے پاکستان (نئے پاکستان) کا خواب لے کر اقتدار میں آئےعمران خان کا نئے پاکستان کا بیانیہ اس دن دم توڑ گیا جب انہوں نے اپنے سیاسی کارکنوں کی بجائےالیکٹیبلز کا انتخاب کیا انہوں نےہمیشہ پاکستان میں لوٹا کریسی کےبارے میں بات کی لیکن حکومت کی خاطر انہوں نے لوٹا (مختلف پارٹیوں کےلوگوں کو لے کر) کو منتخب کرنےکو ترجیح دی اورانہیں پارٹی ٹکٹ دیا ان کےتین سالہ دور میں اپوزیشن نے مہنگائی اور ان کی خراب حکمرانی کی وجہ سے انہیں اقتدار سے ہٹانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اپنے اختلافات کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکے۔

    3 مارچ 2021 کو وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے اگر ان کی پارٹی کے ارکان نے ان کے حق میں ووٹ نہیں دیا تو وہ ان کا احترام کریں گے اور اپوزیشن میں بیٹھیں گےوہ تحریک اعتماد میں کامیاب ہوئے۔ ایک سال بعد مارچ 2022 میں، جب اپوزیشن نے انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب ان کے اتحادیوں کے اہم شراکت دار حکومت چھوڑ کر حکومت کے خلاف اپوزیشن میں شامل ہو جاتے ہیں تو حزب اختلاف انہیں بے دخل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں ہٹانے کی غیر ملکی سازش ہے، ان کے پاس ثبوت کا خط موجود ہے۔ اب وہ اپنی حکومت کو ہٹانے کے لیے غیر ملکی سازش (لیٹر گیٹ سازش) کی بات کر رہے ہیں لیکن اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے روس کے دورے کو امریکا اور مغرب نے اچھا نہیں دیکھا اور وہ انھیں ہٹانا چاہتے ہیں یا انھیں ہٹانا چاہتے ہیں۔ حکومت اسلام آباد کے جلسے میں ایک خط کو پہلےملک کی قومی سلامتی کمیٹی میں دکھانےکی بجائےدکھانااگرہم سیکیورٹی کےنقطہ نظرسےدیکھیں توپاکستان میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو بیرونی سازش، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دھمکی کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی عمران خان بات کر رہے ہیں۔

    اپوزیشن یہ سوال بھی اٹھا رہی ہے کہ اگر انہیں 7 مارچ کو خط موصول ہوا تو اگلے دن سیکورٹی کمیٹی یا پارلیمنٹ کے ساتھ شیئر کیوں نہیں کیا، انہوں نے تاخیر کرکے عوام کے سامنے کیوں دکھایا؟ خط کا مکمل مواد ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا ہے۔ لیکن حکومت کے مطابق یہ ایک پیغام پر مشتمل ہے جو مبینہ طور پر اسد مجید کو ڈونلڈ لو، امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کی طرف سے موصول ہوا ہےاس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے دورہ روس کو امریکہ اور مغرب نے اچھا نہیں دیکھا اور انہوں نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا کیونکہ پاکستان روس یوکرین تنازع پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیرونی طاقتیں یا امریکہ عمران خان یا ان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے تیار تھے، ان کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اور آپشنز ہیں جیسے فاٹف جہاں پاکستان گرے لسٹ میں ہے-

    آ ئی ایم ایف میں جہاں سے پاکستان پہلے ہی قرض لےرہا ہے ۔ جنہوں نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دیا۔عمران خان کو غیر ملکی سازش کا خیال کافی دیر سے آیا جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ عدم اعتماد کے ووٹ میں زندہ نہیں رہ سکتے اور وہ اقتدار سے باہر ہو جائیں گے تو انہوں نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ ان کی پارٹی کے ڈپٹی سپیکر نے ووٹنگ روک دی اور اپوزیشن کے قانون ساز کو غدار قرار دے دیا کیونکہ ان کے مطابق انہوں نے امریکہ کے ساتھ سازش کی۔

    اپوزیشن آئی کے پر یہ الزام بھی لگا رہی ہے کہ جب دیکھا کہ متحدہ اپوزیشن نے 197 ممبران بنائے تووہ آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدم اعتماد کے ووٹ سے بھاگ گئےاگرچہ صدر نے وزیراعظم کےمشورے سے پارلیمنٹ تحلیل کردی ہے لیکن آئین کے مطابق وہ ایسا نہیں کر سکتےجب وزیراعظم کےخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہوعمران خان نے ہمیشہ کہاکہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور دنیا سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے لیکن اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں جب انہوں نے سعودی عرب کے دباؤ کی وجہ سے دسمبر 2019 میں کولالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    ایک اور مثال یہ ہے کہ ماضی قریب میں جب عمران خان کی حکومت نے سعودی عرب سے قرض لیا اور انہوں نے ہمیں 4 فیصد شرح سود پر قرض دیا جو آئی ایم ایف کی شرح سود سے 3 گنا زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف 1 فیصد شرح سود پر قرض دیتا ہےاور اس نے سعودی عرب سے 4 فیصد پر قرض لیا اور انہوں نے شرط رکھی کہ وہ 72 گھنٹے کے نوٹس میں واپس لے سکتے ہیں۔

    واضح رہےکہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے روس کےدورےسے قبل آئی کےکواجازت دے دی تھی کیونکہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی کے بغیر وہ اپنا دورہ مکمل نہیں کرسکتے کیونکہ کسی بھی ملک کا دورہ کرتے وقت آپ کو کچھ سیکیورٹی پروٹوکولز پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ روس کے ساتھ اچھےتعلقات بنانا ایک ریاستی پالیسی تھی جسے نئی پاک قومی سلامتی پالیسی میں اپنایا گیا جس کےمطابق پاکستان روس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے گا اور کسی ملک کے تنازع میں شامل نہیں ہوگا۔ان کی حکومت کے گرنے کی وجوہات سب کو معلوم ہےکہ ان کے اتحادیوں اور ان کے صحیح آدمی کی طرف سے انہیں مسلسل بلیک میل کیا جا رہا تھا۔ ان کی پارٹی کے زیادہ تر ایم این اے ان کی حکمرانی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے ان کے خلاف اپوزیشن سے ہاتھ ملا لیا۔ پوری انتخابی مہم میں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ پولیس، عدلیہ اور تمام ریاستی اداروں میں اصلاحات کریں گے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

    اپوزیشن نے اس کا فائدہ اٹھایا اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت کے گرنے کے کئی عوامل ہیں جن میں آرمی چیف کی توسیع اور بعد ازاں ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے دوران حکومت کی جانب سے پاک فوج کے انتہائی معزز ادارے کوجان بوجھ کرمتنازعہ بنانا شامل ہےدوسراعنصر خارجہ پالیسی بھی ہے اور صوبہ پنجاب کی گورننس اواس صوبے میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تقرری جو پاکستان کا آدھا حصہ سمجھتا تھا۔ اب عمران خان اپنے بیانیے کی غیر ملکی سازش یا ایک (لیٹر گیٹ) کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کا سارا بیانیہ اسی پر مبنی ہے۔ وہ اپنی پارٹی کو بچانے کے لیے سیاسی شہید بننے کے لیے ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان نے ملک میں اپنی حکمرانی کے ذریعے اپنے لاکھوں ووٹرز اور حامیوں کو مایوس کیا ہے۔

    انہوں نے پاکستان کو ایک بڑے آئینی بحران میں دھکیل دیاعمران خان نے جو کچھ کیا وہ اسے سرپرائز کہہ رہے ہیں، لیکن یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں، کیونکہ انہوں نے یہ سب کچھ صرف اپنی انا کو بچانے کے لیے کیا، اور کچھ نہیں۔ عمران نے اپنی پوری انتخابی مہم اور پھر اپنے پورے دور حکومت میں ہمیشہ اپوزیشن پر کرپٹ، ٹھگ اور چور ہونے کا الزام لگایا۔ انہیں کرپشن کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا لیکن وہ ضمانت پر رہا ہوئے۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے گزشتہ دور کو دہائی کا تاریک دور قرار دیا۔ وہ اس کی خراب حکمرانی، خراب کارکردگی، معیشت کی بدانتظامی، مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پاکستانی عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے اس کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام سے اپنے 10 فیصد وعدے پورے کیے جو خان ​​نے انتخابی مہم کے دوران کیے تھے تو اپوزیشن کبھی بھی ان کے خلاف متحد نہیں ہوتی۔ انہوں نے خود اپوزیشن کے لیے راستہ ہموار کیا کہ وہ متحد ہو کر اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے۔

    پاکستانی عوام عمران خان سے بہت پر امید تھے کہ وہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کی امید ٹوٹ گئی، انہوں نے پاکستان کو آئینی بحران میں ڈال دیا۔ معاملہ سپریم کورٹ میں تھا اور اب پاکستان کی سپریم کورٹ نے پایا کہ وزیر اعظم عمران خان کا 3 اپریل کو عدم اعتماد کے ووٹ کو روکنے کا اقدام آئین اور قانون کے خلاف تھا اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں تھا۔ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ غلط تھا اور قومی اسمبلی کو 9 اپریل 2022 کو دوبارہ بلانے اور عدم اعتماد کا ووٹ کرانے کا حکم دیا۔

    آئین کو پڑھنا جس کا قانونی جواز پیش کرنا مشکل ہے۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ لیٹر گیٹ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرنے کی حکومتی سازش ہے۔ ووٹنگ کے آخری دن عمران خان تمام غیر آئینی اقدامات کرنے کو تیار تھے۔ گورنر پنجاب کو اس وقت برطرف کر دیا گیا جب انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے غیر آئینی اقدام اٹھانے سے انکار کر دیا۔ عمران خان نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش سے پاک امریکا تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خان کی حکومت کو واشنگٹن کو پاکستان کی اندرونی سیاست میں گھسیٹنے کے بجائے سفارتی طریقے سے معاملہ سنبھالنا چاہیے تھا۔

  • 30 جون تک لوڈشیڈنگ ڈیڑھ سے دو گھنٹے رہ جائے گی، شاہد خاقان عباسی کا دعویٰ

    30 جون تک لوڈشیڈنگ ڈیڑھ سے دو گھنٹے رہ جائے گی، شاہد خاقان عباسی کا دعویٰ

    اسلام آباد: وفاقی وزرا کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ 30 جون تک لوڈشیڈنگ ڈیڑھ سے دو گھنٹے رہ جائے گی۔

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فیصلہ نہ کرنے سے ملک کا ہزاروں ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے اور ہوتا رہے گا،نیب ہے کیا اور اس نے ملک میں کیا کیا؟ یہ ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا،ملک میں نیب کو استعمال کرکے سیاست پراثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی،نیب نے کتنوں کو جیل میں ڈالا اورکتنوں پر جرم ثابت ہوا، ملک میں احتساب کے ادارے موجود ہیں –

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،لوڈ شیڈنگ پر بریفنگ اور اہم فیصلے لیے جائیں گے

    انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب اجرت پر کام کر کے گھر چلے گئے ہیں،چیئرمین نیب کو سیاست کوتوڑنے مڑورنے پر جواب دینا ہوگا،بتائیں کہ ان چار سال میں کتنے الزمات درست ثابت ہوئے؟جب تک نیب کا ادارہ موجود ہے حکومت نہیں چل سکتی قطرسےجن معاہدوں پر مجھے جیل میں ڈالا گيا انہی معاہدوں کی بدولت آج پاکستان کی معیشت بچی ہوئی ہے اور ہر ماہ 700 ملین ڈالرز کی بچت ہو رہی ہے۔

    ملک کے میدانی علاقوں میں موسم شدید گرم، گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج سے ساڑھے تین گھنٹےسے کم لوڈشیڈنگ ہوگی،پچھلی حکومت نے 4 سال تک عوام سے جھوٹ بولا، سابق حکومت نے کوئی نیا پاور پلانٹ نہیں لگایا، ہم 60 روپے فی یونٹ بجلی بنا کر عوام کو 15 روپے فی یونٹ دے رہے ہیں، ملک میں بجلی کی ضرورت 25 ہزار میگاواٹ اور پیداوار 21 ہزار میگاواٹ ہے-

    جبکہ وزیر توانائی خرم دستگیر نے بتایا کہ جن علاقوں کے لوگ بل ادا نہیں کرتے وہاں لوڈشیڈنگ زیادہ ہوگی۔

    عمران خان پچھلے سال سے کہہ رہے تھے ،کہ کچھ ہونے والا ہے،عظمی کاردار

  • ملک کے میدانی علاقوں میں موسم شدید گرم، گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

    ملک کے میدانی علاقوں میں موسم شدید گرم، گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کےبیشترمیدانی علاقوں میں موسم شدید گرم اورخشک رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں موسم گرم اور خشک رہے گا، آندھی اور گرج چمک متوقع ہے جبکہ گلگت بلتستان اورخیبرپختونخوامیں ہلکی بارش کا امکان ہے-

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کرپشن اسکینڈلز نیب کو بھیجنے کی قرار داد جمع

    محکمہ موسمیات کے مطابق خطہ پوٹھوہار، بھکر، لیہ ، ملتان ، خانیوال اوربہاولپور میں تیزہوائیں چلنے کا امکان ہے ر حیم یا رخان ، ڈ ی جی خان اور لاہورمیں گرد آلود ہوائیں چلنے کاامکان ہے جبکہ کوہستان ،چترال،دیر ، کرم اور سوات میں ہلکی بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب نے آج کا ائیر کوالٹی انڈیکس جاری کردیا-

    محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق ٹاون ہال لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس 116 ریکارڈ کیا ،ٹاون شپ سیکٹر ٹو میں ائیر کوالٹی انڈیکس41 ریکارڈ کیا گیا-

    میٹرو لوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق جیل روڈ لاہور میں اے کیوآئی 159 ریکارڈ کیا گیا ،نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں ائیر کوالٹی انڈیکس 128ریکارڈ کیا گیا-

    محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق تمام ڈیٹا 24 گھنٹے کی بنیادپر مرتب کیا گیا ہے-