Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان اور بھارت کیلئے وارننگ جاری

    پاکستان اور بھارت کیلئے وارننگ جاری

    محکمہ موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو آئندہ دنوں میں بدترین ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سال کے گرم ترین مہینے آنا ابھی باقی ہیں ، ممکنہ ہیٹ ویو سے ہزاروں افراد کی جانیں جاسکتی ہیں، خاص طور پر بزرگ افراد نشانہ بن سکتے ہیں ہیٹ ویو کا دورانیہ طویل ہوسکتا ہے۔

    ملک میں غیر معمولی بارشوں کا امکان،حکام الرٹ

    موسمیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت میں مارچ اور اپریل کے مہینے میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت رہا جس سے تقریباً ایک ارب لوگ متاثر ہوئے-

    قبل ازیں ماہرین موسمیات کا کہنا تھا کہ رواں سال مون سون معمول کے مطابق ہوگا، تاہم درجہ حرارت بڑھا تو مون سون کی بارشوں میں بھی شدت آسکتی ہے پاکستان مارچ کے بعد اب اپریل میں بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا، گرمی میں اضافے سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اپریل میں آم افزائش کے عمل سے گزرتا ہے، گرمی کی شدید لہر آم کی فصل کو متاثر کرسکتی ہے۔

    ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ فصل وقت سے پہلے تیار ہوسکتی ہے اور زائد درجہ حرارت سے آم جلد پک جائیں گے، جلدی پکنے کی وجہ سے آم زیادہ رسیلے نہیں ہوں گے اور ان کا سائز بھی چھوٹا ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ زمین ماحولیاتی تبدیلی کے دوسرے دور میں داخل ہوچکی ہے، 1980 کے بعد دنیا کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوا تھا 2020 کے بعد سے موسمیاتی تبدیلی میں مزید شدت آئی ہے اور درجہ حرارت 6 سے 7 ڈگری معمول سے زائد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ہنزہ: شیشپر گلیشیرمیں پانی کا اخراج تیز،پاکستان، چین کو ملانے والا مین پل دریا برد

    پاکستان میں 2015 میں آنے والی شدید ہیٹ ویو کے نتیجے میں 1200 سے زائد افراد چل بسے تھے اسی طرح 2010 کے بعد سے بھارت میں بھی چھ ہزار 500 سے زیادہ افراد ہیٹ ویو کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

    پاکستانی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اس سال مارچ کا مہینہ 1961 کے بعد گرم ترین مارچ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح بھارت میں بھی رواں برس مارچ کا مہینہ گذشتہ 122 سالوں میں سب سے زیادہ گرم ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    موسمیاتی تبدیلی کی وزیر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اس سال انتہائی درجہ حرارت کی وجہ سے ملک میں صحت عامہ اور زراعت کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    پاک بھارت آبی تنازعہ:بھارت پاکستان کونیچا دکھانے کےلیے سرگرم

    دوسری جانب کئی بھارتی ریاستیں شدید گرمی کے باعث بجلی کی طویل بندش کا سامنا کر رہی ہیں جہاں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا ہے بھارتی حکومت نے خبردار کیا تھا کہ جنوبی ایشیا کے بڑے حصوں کو متاثر کرنے والی ہیٹ ویو میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ریاستی حکومتوں کے سربراہوں کو ایک آن لائن کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ ملک میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور معمول سے بہت پہلے بڑھ رہا ہے۔

    شرجیل میمن کا اورنج لائن کو ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم

  • اتنا ہی ڈال پلیٹ میں جتنا سما سکے تیرے پیٹ میں  ازقلم: غنی محمود قصوری

    اتنا ہی ڈال پلیٹ میں جتنا سما سکے تیرے پیٹ میں ازقلم: غنی محمود قصوری

    اتنا ہی ڈال پلیٹ میں جتنا سما سکے تیرے پیٹ میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ابھی چند دن قبل ہی ماہ رمضان تھا جس میں زندہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت زیادہ افطار پارٹیاں کی گئیں اور اب شادیوں کا سیزن ہے جبکہ ہماری شادیوں بیاہوں و دیگر دعوتوں کیساتھ افطار پارٹیوں میں بھی کھانے کا بہت زیادہ ضیاع کیا جاتا رہا-

    زیادہ تر دیکھنے میں آتا ہے کہ جو کھانا ہم اپنے کھانے کیلئے پلیٹ میں ڈالتے ہیں اس کا چوتھائی حصہ عموماً ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے اور نئی ڈش کھانا شروع کر دی جاتی ہے-

    ایسا کام ہر بندہ بھی نہیں کرتا مگر زیادہ تر ایسا کیا جاتا ہےکھانے کے اس ضیاع کو کفران نعمت کہا جاتا ہے یعنی سامنے پڑی یا دی گئی نعمت کا انکار کرنا اور اسے ضائع کرنا اور یہ عمل اللہ کو سخت نا پسند ہے کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں-

    فذكُرُونِي أَذكُركُم وَشكرُوا لِي وَاتَكَفُرُونَ
    ترجمہ: پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا اور میری نعمتوں کا شکر ادا کرو اور نعمتوں کا انکار نہ کرو-

    یقین کیجئے ہماری پستی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ کفران نعمت بھی ہےآج ہماری شادیوں،بیاہوں و دیگر دعوتوں میں اسے فیشن سمجھا جاتا ہے گناہ نہیں بلکہ ہماری عادت بن چکی ہے کہ کولڈ ڈرنک کی بوتل میں سے تھوڑی سی چھوڑ دی جاتی ہے-

    مہمان کی عزت کرنا اسلام میں فرض ہے مگرمیزبان کو بھی اسلام کی رو سے مہمان کی طرف سے عزت اور اس کے مال و جان کی حفاظت کا عندیہ دیا گیا ہے کیونکہ اسلام ہر کسی کے جان و مال و عزت کا محافظ ہے اور میزبان کی طرف اے پیش کیا گیا کھانا اس کا مال ہوتا ہے-

    اپنے گھروں میں ہم 6 افراد محض ایک کلو گوشت پکا کر سیر ہو جاتے ہیں مگر افسوس کہ کسی باپ کی طرف سے اپنی بیٹی کی شادی پر مہمانوں کی طرف سے لاکھوں کا کھانا دینے والے باپ کی عزت کی ہم لوگ قدر نہیں کرتے کیا گزرتی ہو گی اس باپ پر کہ جس نے اپنی جمع پونجی سے آپ کیلئے سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے اعلی سے اعلی ضیافت کا اہتمام کیا ؟-

    چاہے میزبان کھرب پتی ہی کیوں نا ہو کھانوں کی اس طرح بے قدری شعائر اسلام اور اخلاقی طور پر قطعاً درست نہیں ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم مہمان ہیں اور بطور مہمان کھانے کی بے حرمتی کسی صورت جائز نہیں بلکہ اس عمل سے ہماری تربیت وضع ہوتی ہے-

    کھانوں کی بے قدری سے ایک تو کفران نعمت ہوتا ہے تو دوسری میزبان کی دل آزاری بھی ہوتی کبھی یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے گھر میں پکے کھانوں کیساتھ ایسا سلوک کیا ہوا اور اپنے گھروں میں اپنی پلیٹوں میں ایسے کھانا چھوڑا ہو جیسا ہم دعوتوں میں کرتے ہیں-

    خدارہ اگر کوئی کسی دعوت میں آپ کے سامنے ایسی حرکت کرتا ہے تو کوشش کیا کریں آپ پہلے وہ چھوڑے گئے نان کے ٹکڑے اور پلیٹوں میں ڈالا گیا سالن کھا لیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روٹی نان کے چھوڑے گئے سخت کنارے اس کے دانتوں و معدے کو تکلیف دیتے ہو اور اگر آپ کو ان چیزوں کے کھانے سے صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا تو یہ نیکی ضرور کیجئے-

    ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ مسلمان کا جوٹھا کھانا کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور یہ عمل آپس میں پیار و محبت کا باعث بھی بنتا ہے اور تکبر جیسی لعنت کو ختم کرتا ہے یقین کیجئے اس عمل سے ہماری شان میں کوئی گستاخی نا ہو گی اور نا ہی پکے کھانے کا ذائقہ بدلا ہوتا ہے –

    ہاں یہ ضرور ہے کہ اس عمل سے ہمارا رب ضرور راضی ہو گا اور ہو سکتا ہے کفران نعمت کرنے والوں کو بھی اللہ ہدایت دے دیں اور وہ آئندہ سے نادم ہو کر اس عمل سے باز آ جائیں-

    آئیے عہد کیجئے کھانوں کی بے بے قدری نہیں کرینگے اتنا ہی پلیٹ میں ڈالیں گے جتنا ہم کھا سکتے ہیں یقین کیجئے یہ عمل شروع کیجئے ہمارا معاشرہ تہذیب کی جانب گامزن ہو گا اور آج کھانے کو ضائع کرنے والا کل افسر بھرتی ہو کر سیاستدان بن کر ضرور ان شاءاللہ کھانے کے علاوہ دی گئی نعمتوں اور ہماری امانتوں کو ضائع نہیں کرے گا-

  • پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں

    پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں

    اسلام آباد:پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے رد عمل میں قومی وزارت صحت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات تصدیق شدہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور اضافی اموات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    قومی ادارہ صحت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کورونا اموات سے متعلق کسی طرح کا سسٹم اور نظام درست ہو ہی نہیں سکتا، تاہم پاکستان کا نظام قدرے معیاری اور مستند تھا۔

    بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی ہر موت کو پہلے ضلعی، پھر صوبائی سطح پر تصدیق کیا گیا جب کہ قبرستانوں سے بھی ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    قومی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات حکومت کے بتائے گئے اور تصدیق کیے گئے اعداد و شمار جتنی یا اس کے قریب ترین ہیں، اضافی اموات کا امکان نہیں۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا کے دوران پاکستان میں اموات کی شرح میں اضافہ ہوا اور کیسز میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی مگر کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستانی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

    بیان کے مطابق پاکستان میں اموات کی رپورٹنگ کے لئے با قاعدہ نگرانی کے متعدد نظام موجود ہیں، معاون ڈیٹا کے ساتھ رپورٹ کردہ ہر نمبر کا موثر اور قابل اعتماد میکانزم کے ساتھ بیک اپ لیا گیا، اس کی ضلعی اور صوبائی سطح سے بھی تصدیق کی گئی۔

    ساتھ ہی بیان میں واضح کیا گیا کہ قبرستانوں میں رپورٹ ہونے والی اضافی اموات کورونا سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں تاہم ان کی تعداد حکومتی اعداد و شمار سے مختلف نہیں۔

    وزارت صحت کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان 97 فیصد مسلم آبادی پر مشتمل ہے، جہاں کورونا کے باعث جاں بحق افراد کی اکثریت کی مخصوص قبرستانوں یا قبروں میں تدفین کی گئی، جس کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔

    وزارت صحت کے بیان سے قبل عالمی ادارہ صحت نے 5 مئی کو اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں کورونا سے بلواسطہ یا بلاواسطہ 62 لاکھ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ اموات ہوئیں۔

    رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک میں ہونے والی ممکنہ اموات کا ڈیٹا دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ امریکا اور بھارت سمیت کئی ممالک نے کورونا سے ہونے والی اموات کو کم کرکے بتایا۔

    رپورٹ میں کئی ممالک کے حوالے سے اندازوں کے مطابق ڈیٹا فراہم کیا گیا تھا، جس کے مطابق پاکستان میں حکومتی سطح پر تسلیم شدہ اموات سے 8 گنا زیادہ اموات ہوئیں، جنہیں ممکنہ طور پر ظاہر ہی نہیں کیا گیا مگر حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا اموات کی حکومتی تعداد درست ہے۔

    پاکستان میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے آغاز سے 7 مئی کی شام تک ملک بھر میں اموات کی تعداد 30 ہزار 369 تھی۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد کا اچانک دورہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد کا اچانک دورہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد کا اچانک دورہ، حمزہ شہباز شریف کا الائیڈ ہسپتال کا دورہ شیڈول تھا ،مگر انہوں نے گاڑی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور کو سرپرائز وزٹ پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چلنے کی ہدائت کی۔

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے ایمرجنسی بلاک،کڈنی بلاک اور انتطار گاہ کا وزٹ کیا۔حمزہ شہباز شریف نے ایمرجنسی بلاک کے باہر بزرگ مریضہ کے بیٹے کو پاس بلا کر اس کا مسئلہ پوچھا اور ہسپتال انتظامیہ کو فوری ایمبولینس کے ذریعے مریضہ کو شفٹ کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیر اعلی حمزہ شہباز نے انتظار گاہ میں بیٹھی بزرگ خاتون کو پاس جا کر اس کا بھی مسئلہ پوچھا جن کی 8 ماہ کی بچی فاطمہ آئی سی یو میں تھی، حمزہ شہباز نے ہسپتال انتظامیہ سے بچی فاطمہ کے علاج معالجے، دستیاب اور مطلوبہ سہولیات کا پوچھا اور بچی کی جان بچانے کی ہرممکن کوشش کی تاکید ہوئے مکمل علاج کی فراہمی کے لیے موقع پر ہی ہدایات جاری کیں۔

    وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے ہسپتال میں علاج معالجے کی عمومی سہولتو ں کا بھی جائزہ لیا، مریضوں اور تیمارداروں سے گفتگو میں ہسپتال میں فراہم کردہ طبی سہولیات بارے دریافت کیا، مختلف وارڈز میں زیر علاج مریضوں کی خیریت دریافت کی۔

    حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سول ہسپتال بہاولپور کے دورے کے بعد آج ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد آیا ہوں۔ عام آدمی کو معیاری علاج معالجہ فراہم کریں گے، ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی اور تمام مہیا سہولیات فعال کرنے کیلئے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

  • پیکا سیکشن 20 کوغیرآئینی قراردینے کیخلاف ایف آئی اے نے درخواست واپس لے لی

    پیکا سیکشن 20 کوغیرآئینی قراردینے کیخلاف ایف آئی اے نے درخواست واپس لے لی

    اسلام آباد:پیکا سیکشن 20 کو غیر آئینی قرار دینے کیخلاف ایف آئی اے نے درخواست واپس لے لی ،اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کی درخواست میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) پر آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی اپیل کو واپس لے لیا ہے جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

    ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس درخواست کیلئے وزارت داخلہ اور حکومت کی پیشگی اجازت نہیں لی گئی تھی، اس لئے اسے فوری طور پر واپس لیا جاتا ہے۔

     

    ایف آئی اے کی درخواست میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) پر آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

     

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کبھی آئین کے آرٹیکل 19 A کی خلاف ورزی نہیں کی جبکہ پی ایف یو جے خود اس کی مرتکب ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیدیا تھا۔

     

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس سے متعلق درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا۔ فیصلے میں ترمیمی آرڈیننس غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

     

     

    اس کے علاوہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ایف آئی اے سائبر ونگ میں اشتہارات کے غلط استعمال کرنے والے افسروں کیخلاف ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے اور ریمارکس دئیے تھے کہ ان اقدامات کی کوئی مناسب وجہ نہیں تھی۔

    عدالت عالیہ نے فیصلے میں کہا تھا کہ آزادی اظہار رائے شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ بنیادی حقوق کا تحفظ آئین کے تحت یقینی بنانا ضروری ہے۔ ترمیمی آرڈیننس 2022ء کے علاوہ پیکا 2016ء میں پہلے سے موجود سیکشن 20 کے تحت ہتک عزت پر سزا بھی غیر آئینی قرار دی گئی تھی۔

  • ہاتھ باندھ کراورہمیں آئسولیٹ کرکے حکومت بنائی گئی:عمران خان

    ہاتھ باندھ کراورہمیں آئسولیٹ کرکے حکومت بنائی گئی:عمران خان

    اسلام آباد: ہاتھ باندھ کراور ہمیں آئسولیٹ کرکے حکومت بنائی گئی ، قوم ساری صورت حال سے اچھی طرح واقف ہے اور میری قوم غیرت مند ہے اوراس عظیم قوم نے نہ پہلے ہندووں اور انگریزوں کی غلامی قبول کی اور نہ اب امریکنوں کی غلامی قبول کریں‌گے ، اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ساری قوم ’غلامی، امپورٹڈ حکومت نامنظور‘‘پرمتحد ہوچکی ہے، میں اینٹی امریکن نہیں، امریکا کو آزادانہ فیصلے کرنے والی حکومت کی عادت نہیں۔ روس سے تعلقات میں بہتری پر ہمیں بہت فائدہ ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سازش کے خلاف اوورسیز پاکستانیوں کو احتجاج کرنے پرخراج تحسین پیش کرتا ہوں، امریکا کوآزادانہ فیصلے کرنے والی حکومت کی عادت نہیں ہے، میں اینٹی امریکن نہیں ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ سے بڑے اچھے تعلقات تھے۔

    اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین کا مستقبل زبردست ہے، ہم چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ تعلقات مزید بہترہوں، اُدھر امریکن کو مسائل تھے کہ تعلقات میں بہتری کیوں آ رہی ہے، افغانستان میں سرد جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے پر ہمارے روس سے تعلقات کبھی ٹھیک نہیں تھے، پہلی دفعہ روس کے ساتھ تعلقات بہتر کر رہے تھے، اس کے لیے بہت دیر سے کوششیں کی جا رہی تھیں۔

    عمران خان نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ روس سے سستی گندم، 30 فیصد کم قیمت پرتیل مل رہا تھا، بھارت بھی روس سے سستا تیل لے رہا ہے حالانکہ نئی دہلی کے واشنگٹن کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات ہیں، میرے دورہ روس پر امریکا ناراض ہو گیا۔ ماسکو کیساتھ تعلقات میں بہتری پر ہمیں بہت فائدہ ہے کیونکہ آگے ملک میں گیس ختم ہو رہی تھی، اس کے لیے میری حکومت سے پہلے ہی حکومتیں گیس پائپ لائن پر بات کر رہی تھیں۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے امریکن کوعادت ہے جو حکم کریں پاکستان وہی مانے، دہشت گردی کی خلاف جنگ کی 15 سال مخالفت کرتا رہا، دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو بہت زیادہ نقصان ہوا، سابق سربراہ نے ایک دھمکی پرامریکی جنگ کا ساتھ دیا۔ پاکستان کا نائن الیون سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، پرویز مشرف نے کتاب میں لکھا آرمٹیج نے دھمکی دی، مشرف امریکا کا پریشربرداشت نہیں کر سکا، امریکا کے کہنے پرقبائلی علاقوں میں فوج بھجوا دی گئی، دہشت گردی کی جنگ میں 80 ہزارجانیں اورفوجیوں کی شہادتیں ہوئی، میری خارجہ پالیسی کا مقصد کسی اور کی جنگ میں حصہ نہیں لینا، یہاں پرابلم بن گیا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کوسراہنے کے بجائے الزام لگائے گئے، ہمارے قبائلی علاقے اجڑ گئے، اب دوبارہ کہہ رہے تھے تو میں نے تو کبھی نہیں ماننا تھا، جولائی، اگست میں سمجھ گیا تھا کچھ پلاننگ ہو رہی ہے، عدم اعتماد کے دوران ہمارے لوگوں کو خریدا گیا، منصوبے کے تحت طاقتور فورسزبیٹھی تھی ان کو سزائیں نہیں ہونے دے رہی تھی، ہمارے سفیر کو دھمکی 22 کروڑعوام کی توہین ہے، کہا گیا اگرعمران خان بچ گیا تو نتائج بھگتنا ہوں گے، دھمکی کے اگلے دن عدم اعتماد آ جاتی ہے، ملک میں میرجعفر، میرصادق اس سازش میں ملے ہوئے تھے، رات کو بارہ بجے عدالتیں کھلیں ہمارے ہاتھ باندھ کر ہٹا دیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ کرپٹ ترین مافیا کو ہمارے اوپر مسلط کر دیا گیا، شہبازشریف کے خلاف 40ارب کے کیسزہیں، باپ،بیٹا دونوں کے خلاف اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، نوازشریف، مریم نوازسزا یافتہ ہیں۔ 18 قتل کرنے والے کو وزیرداخلہ بنا دیا گیا، ملک یا فیکٹری کو تباہ کرنا ہو تو کرپٹ لوگوں کو اوپر بٹھا دیں، کرپٹ لوگوں کومسلط کرنا یہ ہمارے ملک کی بھی توہین ہے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سازش کر کے منتخب حکومت کو گرایا گیا، ہم نے اقتدارسنبھالا تو تاریخی خسارہ تھا، بیرونِ ملک جا کر مجھے ہاتھ پھیلانے پڑے، اقتدار کے دوسرے سال کورونا نے ہٹ کیا، یہ باتیں کرتے ہیں اہلیت کی، ہم نے کورونا کے دوران معیشت اورغریب لوگوں کو بچایا، بھارت میں 55 لاکھ سے زائد لوگ کورونا سے مرے، بھارت کی معاشی گروتھ کی بجائے مائنس میں چلی گئی، پاکستان کی اکانومی 5٫6 فیصد سے گروتھ کر رہی تھی، 31 ارب ڈالرکے ترسیلات زر پاکستان آئے، ہماری حکومت میں تاریخی ٹیکس ریونیواکٹھا ہوا، دیوالیہ ہونے والے ملک کی اکانومی کو ہم نے ٹھیک کیا۔

    عمران خان نے کہا کہ کسانوں کو پہلی دفعہ ہماری حکومت میں فائدہ ہوا، ہماری حکومت تب گرائی جب ملک ترقی کر رہا تھا، یہ بھی سازش تھی، ہماری حکومت تمام مشکل وقت سے نکل چکی تھی، اپنے میڈیا سے پوچھتا ہوں اب مہنگائی کدھرگئی؟ ہماری حکومت سے زیادہ مہنگائی ہے، اب عوام سے مہنگائی بارے کیوں نہیں پوچھا جاتا؟ ہماری حکومت میں تھوڑی سے مہنگائی تو خبریں چلائی جاتی تھیں، سندھ ہاؤس میں نیلام گھرمیں پیسہ چلایا گیا، مولانا فضل الرحمان، بلاول کے لانگ مارچ ناکام ہو گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرف سے ملنے والی دھمکی کو ہمارے سفیرنے خود کنفرم کیا، اب تو سب کچھ کلیئر ہو گیا ہے، سارا کچھ تصدیق شدہ ہے، اوورسیزپاکستانی بیرون ممالک میں سازش کے بارے میں اپنی آواز بلند کریں، 20 مئی کے بعد اسلام آباد کی کال دوں گا، پاکستان کی عوام کو اتنا متحد پہلے نہیں دیکھا، ساری قوم ’غلامی امپورٹڈ حکومت نامنظور‘‘پرمتحد ہوچکی ہے، پاکستان میں شب دعا ہورہی تھی ہمیں نہیں پتا تھا مدینہ میں کیا ہورہا ہے، کریمنل نے شیخ رشید کے بھتیجے کے خلاف کیس بنایا، یہ جہاں بھی چلے جائیں، دونعرے ہرجگہ لگیں گے،غدار اور چورکے نعرے لگیں گے۔

  • سید نوید قمر نیشنل انشورنس کمپنی پہنچ گئے

    سید نوید قمر نیشنل انشورنس کمپنی پہنچ گئے

    کراچی :سید نوید قمر وہاں پہنچ گئے جہاں وزرا کم ہی جاتے ہیں ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کراچی میں نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کا دورہ کیا ہے۔جہاں انہوں بہت سے معاملات کا بغور جائزہ بھی لیا

    تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر کو چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ خالد حامد نے بریفنگ دی، این آئی سی ایل کے کام، افعال اور کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس دوران سید نوید قمر نے افسران سے بھی بات چیت کی اور ان کے مسائل جانے

    اس حوالے سے یہ بھی بتا چلا ہے کہ اس دوران ایگزیکٹو آفیسر خالد حامد کا کہنا تھا کہ امور کار کو مزید موثر اور شفاف بنانے کے لئے پیپر لیس ماحول پر کام شروع کیا جا رہا ہے، وزیر تجارت نے این آئی سی ایل کی انتظامیہ کو ایڈہاک بنیادوں پر آڈیٹرز کی تقرری کا مشورہ دیا۔اس مشورے کو بہت سراہا گیا

    ادھر اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر تجارت نے کمپنی کی کارکردگی کو سراہا، انہوں نے کراچی میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا بھی دورہ کیا، وزیر تجارت کو اسٹیٹ لائف کی کارکردگی اور تقابلی مالی سالوں میں منافع کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔وزیرتجارت کو اسٹیٹ لائف کے مستقبل کے فیصلوں کے حوالے سےبھی آگاہ کیا گیا

    ادھر ذرائع کے مطابق چیئرمین اسٹیٹ لائف شعیب جاوید حسین نے اسٹیٹ لائف کے کام اور عملے کے بارے میں بتایا، وزیر نے سرکاری انشورنس کمپنی کے منافع اور کارکردگی کو سراہا۔

  • جب تک خادم پاکستان رہا عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کرونگا:وزیراعظم شہبازشریف

    جب تک خادم پاکستان رہا عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کرونگا:وزیراعظم شہبازشریف

    شانگلہ:شانگلہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جب تک خادم پاکستان رہا عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کروں گا۔کے پی کے علاقہ شانگلہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ کیا تھا پہلے شانگلہ جاؤں گا، شہبازشریف نے کہا کہ میں خیبرپختونخوا کے غیورلوگوں کوسلام پیش کرتا ہوں،

    شانگلہ میں خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ صوبے میں پچھلے8سال پی ٹی آئی کی حکومت ہے، پاکستان تحریک انصاف نے کتنے ہسپتال بنائے اور کتنے ہسپتالوں میں مفت ادویات دیں، شہبازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کوایک عظیم صوبہ بنا کردم لیں گے۔ پنجاب کے ہراسپتال میں غریبوں کا مفت علاج ہوتا تھا، پنجاب میں دوبارہ ہسپتالوں میں مفت علاج شروع کرا دیا ہے۔

    شانگلہ میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ غریب علاج کے لیے سسک سسک کر جان دے دیتا ہے، اگر اللہ نے موقع دیا تو پورے خیبرپختونخوا میں مفت علاج کی سہولت ہوگی، اس وقت ملک میں سخت مہنگائی ہے اور اس کی ذمہ دار سابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے

    شہباز شریف نے کہا کہ آٹا، چینی غریب گھرانوں کے دسترس سے باہر ہو چکا تھا، رمضان بازار، یوٹیلیٹی سٹورز میں آٹا، چینی کو سستا کرایا، پشاور بی آرٹی میں اربوں کی کرپشن ہوئی۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بھی پنجاب کی طرح سستا آٹا دینے کا اعلان کریں، اگر خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سستا آٹا نہیں دے گا تو ہم دیں گے، پچھلے 4 سالوں میں قرضے لیکر ملک کا بھٹا بیٹھ چکا ہے، کچھ بھی ہوجائے خیبرپختونخوا کی عوام کوسستا آٹا مہیا کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ غداری، وفاداری کے سرٹفیکیٹ بانٹے جارہے ہیں، 4 سال میں انتہائی کرپشن اور نالائقی کی وجہ سے بدترین لوڈشیڈنگ تھی، نواز شریف نے شاندار بجلی کے منصوبے لگائے، تیل، گیس وقت پر نہ منگوانے پر معیشت کا بٹھا بیٹھ گیا، جان لڑادیں گے پاکستان کوقائداعظم کا پاکستان بنائیں گے۔

  • ملک میں غیر معمولی بارشوں کا امکان،حکام الرٹ

    ملک میں غیر معمولی بارشوں کا امکان،حکام الرٹ

    اسلام آباد:مون سون کے موسم کی آمد کےساتھ ساتھ ملک میں کہیں خطرے کی گھنٹیاں بجائی جارہی ہیں تو کہیں لوگ پانی کو ترس رہے ہیں،ایسے میں‌ ملک کے بیشتر حصوں میں مون سون کی بارشوں کے دورانیے میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں، ملک میں رواں برس غیر معمولی بارشوں کا امکان ہے۔حکام نے ابھی سے عوام الناس کو خبردار کرنا شروع کردیا ہے

    بڑی تیزی سے بدلتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے کلائمٹ چینج شیری رحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ جنوبی ایشیائی موسمیاتی آؤٹ لک فورم نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالات پر نظر ہے

    وفاقی وزیربرائے کلائمنٹ چینج شیری رحمان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ، شمالی اور شمال مشرقی بلوچستان میں زیادہ عرصے تک بارشیں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران سندھ میں کم بارشیں ہوں گی اور تھر پارکر اور عمر کوٹ میں قحط کی صورتحال ہوسکتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کےلیے تیار رہیں

    وفاقی وزیرشیریں رحمان کا کہنا تھا کہ حکام معمول سے زائد بارش کے پیش نظر احتیاطی تدابیراختیار کریں، تیز بارشوں سے جانوں اور انفراسٹرکچر کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ دوسری طرف دریائے سندھ میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک کم ہوگئی۔ کپاس کی فصل شدید متاثر ہونے لگی۔ کسان پریشان ہوگئے۔

    ادھر پاکستان میں پانی کی کمی کے حوالے سے محکمہ آبپاشی ذرائع کے مطابق رواں سال دریا میں پانی 50 فیصد سے زائد کم ہے، گڈو بیراج پر 60، سکھر پر 41 اور کوٹری بیراج پر 45 فیصد تک پانی کی کمی آئی ہے۔ بیراج سے نکلنے والی نہروں سے صرف پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں سے صورتحال میں بہتری کی امید ہے۔ کاشتکاروں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ فصلوں کیلئے پانی دستیاب نہیں۔

    دوسری جانب ارسا کا کہنا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے پانی کے حصے میں اضافہ کر دیا گیا، سندھ کے بیراجز پر پانی کی صورتحال آئندہ 4 روز میں بہتر ہونا شروع ہوجائے گی، سکھر بیراج پر پانی کی صورتحال 5 روز میں بہتر ہوگی۔ کوٹری بیراج پرپانی کی صورتحال بہتر ہونے میں 8 روز لگیں گے، پنجاب کو 77 ہزار 700 کیوسک یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے، سندھ کو 80 ہزار کے بجائے 63 ہزار کیوسک یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے، دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ ایک لاکھ 58 ہزار کیوسک ہے۔

  • ایپل، گوگل اور مائیکرو سافٹ پاس ورڈ فری سائن ان سروس کیلئے متحد

    ایپل، گوگل اور مائیکرو سافٹ پاس ورڈ فری سائن ان سروس کیلئے متحد

    نیویارک : پاس ورڈ کے بغیر مختلف سروسز میں سائن ان ہونا کسی حد تک ممکن ہے مگر اکثر ایسا بہت مشکل ہوتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ 3 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اس مشکل کو حل کرنے کے لیے متحد ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایپل، گوگل اور مائیکرو سافٹ فیڈو الائنس اور ورلڈ وائیڈ ویب کنسورشیم کو پاس ورڈ فری سائن ان کے لیے معاونت فراہم کرنے کے لیے متحد ہورہے ہیں۔

    تینوں کمپنیوں کے تعاون سے فیڈو آتھنتیکیشن کو فون یا ٹیبلیٹ پر استعمال کرکے کسی ایپ یا ویب سائٹ پر سائن ان ہونے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

    اس اتحاد کا مقصد ایپس اور ویب سائٹس میں ‘اینڈ ٹو اینڈ’ پاس ورڈ فری کی سہولت فراہم کرنا ہے۔اس کے لیے صارف کو سائن ان ہونے کے لیے بائیو میٹرک اسکین یا ایک پن ڈیوائس کی ضرورت ہوگی۔

    کمپنیوں کو توقع ہے کہ اس طرح ہیکرز کے حملوں سے صارفین کو بچانے میں مدد مل سکے گی۔ ایپل، گوگل اور مائیکرو سافٹ کی جانب سے آنے والے برسوں میں اپنے پلیٹ فارمز میں پاس ورڈ فری فیچرز کو توسیع دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔