Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • غلام فرید صابری کومداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے

    غلام فرید صابری کومداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے

    لاہور:عظیم قوال استاد غلام فرید صابری کومداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے-

    باغی ٹی وی : مرحوم غلام فرید صابری 1930 میں بھارتی صوبے مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے، قوالی کی باقاعدہ تربیت اپنے والد عنایت صابری سے حاصل کی اور 1946ء ميں پہلی دفعہ مبارک شاہ کے عرس پر ہزاروں لوگوں کے سامنے قوالی پڑھی جسے سننے والوں نے بے حد سراہا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس عظیم فنکار نے دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ سن 70 اور 80 کی دہائی ان کے عروج کا سنہری دور تھا۔

    معروف قوال غلام فرید صابری کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس بیت گئے

    قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مسلمانوں کی طرح غلام فرید صابری کا خاندان بھی ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوگیا تھا ان کا پہلا البم 1958 میں ریلیز ہوا جس کی قوالی میرا کوئی نہیں تیرے سوا نے مقبولیت کے جھنڈے گاڑھ دئیے-

    انہوں نے “بھر دو جھولی میری یا محمدﷺ” جیسی قوالی گا کر دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منویا 1975ء میں گائی گئی قوالی تاج دار حرم نے ان کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا بعد ازاں غلام فرید صابری اور ان کے بھائی مقبول صابری جوڑی کی صورت میں قوالیاں پیش کرنے لگے، دس برس تک ان کا کوئی ہم پلہ نہ تھا غلام فرید صابری جب محفل سماع سجاتے تو سننے والون پر سحر طاری ہوجاتا ان کی قوالیاں پاکستانی اور بھارتی فلموں کا حصہ بھی بنیں۔

    گلوکار شوکت علی کو مداحوں سے بچھڑے ایک برس ہو گیا

    اس کے علاوہ معروف نعت بلغ العلی بکمالہ بھی صابری برادران نے ہی سب سے پہلے پڑھی تھی اردو کے علاوہ پنجابی سرائیکی اور سندھی زبان میں بھی انہوں نے قوالیاں گائیں غلام فرید صابری اور مقبول صابری نے فلموں کے لیے بھی قوالیاں ریکارڈ کروائیں نجن میں ، بن بادل برسات ،عشق حبیب، چاند سورج، الزام اور سچائی شامل ہیں انہیں 1978 میں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سمیت متعدد عالمی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

    غلام فرید صابری 5 اپریل 1994 کوحرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جاملے لیکن ان کا فن شائقین موسیقی کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔

    معروف موسیقار نثار بزمی کی 15 ویں برسی

  • مقبوضہ کشمیر: کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش

    مقبوضہ کشمیر: کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش

    سری نگر:کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش غیر قانونی طور پر بھارت کےزیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پرجاری کشمیری نوجوانوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوںکی منظم نسل کشی جاری رکھے ہوئے تاکہ مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیاجاسکے ۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارتی افواج مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اورنہتے کشمیریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے علاوہ جعلی مقابلوں کے دوران شہید کررہی ہیں تاکہ انہیں اپنی حق پر مبنی تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار کرنے پر مجبور کیا جاسکے ۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے اور بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے ۔حریت ترجمان نے حریت رہنمائوں ، کارکنوں اور نوجوانوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی قابض انتظامیہ قتل عام ، گرفتاریوں اور دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کرسکتا۔

    ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماء سید بشیر اندرابی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل پر زوردیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیاکہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں دیرپا امن و سلامتی قائم نہیں کوہوسکتی۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں خصوصا نوجوانوں کا مسلسل قتل عام جاری ہے اور بھارت ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیریوںکی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بشیر اندرابی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کی ضد اورہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی ہے جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرایا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔

  • روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بےدخلی پرمودی حکومت پرشدید تنقید

    روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بےدخلی پرمودی حکومت پرشدید تنقید

    سرینگر: بین الاقوامی تنظیموں کی روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بے دخلی پر مودی حکومت پرشدید تنقید ،اطلاعات کے مطابق بھارت اوراسکےغیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی طرف سےروہنگیا مسلمان مہاجرین کی جبری بے دخلی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بدترین خلاف ورزی ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انسانی حقوق کی متعدد مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے روہنگیا مسلمانوں کی گرفتاریوں اورجبری بے دخلی کو بی جے پی حکومت کے مسلم مہاجرین کے خلاف کریک ڈائون کا حصہ قراردیا ہے۔حال ہی میں، بھارتی پولیس نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع رام بن میں 25 روہنگیا مسلمانوں کو گرفتارکیاتھا۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے روہنگیا خواتین کی ملک بدری اور جموں میں روہنگیا مہاجرین کی گرفتاریوں پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مودی حکومت کے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو بھارت میں ہندوتوا گروپوں کے پرتشدد حملوں کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے سخت نگرانی، جبری گرفتاریوں اورتفتیش کے علاوہ باربار پولیس اسٹیشنوں میں طلب کیاجاتا ہے ۔ہندوتوا گروپ بھارت میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی جاری مہم کے دوران جموں میں روہنگیا مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    انسانی حقو ق کی ایک اور بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی خبردار کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں ۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہاہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ مودی حکومت کی پالیسی سے اس کا مسلمانوں کے ساتھ تعصب ظاہر ہوتا ہے ۔

  • کیا پیسے کے بل بوتے پر وفاداریاں تبدیل کروانا آئینی قدم ہے؟،شاہ محمود قریشی

    کیا پیسے کے بل بوتے پر وفاداریاں تبدیل کروانا آئینی قدم ہے؟،شاہ محمود قریشی

    پاکستان تحریک انصاف کےسابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے، میں نہیں سمجھتا کہ کسی ملک کو ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کرنی چاہیے-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہاں فیصلے ہمارے آئین، قانون اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونے چاہئیں، آج پاکستانی قوم میں جو اضطراب کی کیفیت ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم نہیں چاہتی کہ ہمارے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت ہو-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کہہ رہی ہے کہ بیرونی مداخلت نامناسب ہے چنانچہ” ڈی مارش”کیا جائے، نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی ہدایت پر ہم نے دفتر خارجہ میں امریکی سفارت کار کو بلا کر "ڈی مارش” کیا اور واشنگٹن میں بھی اپنے سفیر کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    محمود قریشی نے کہا کہ ترکی پاکستان کا دوست برادر ملک ہے جس نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا، ترک وزیر خارجہ نے مجھے فون کر کے کہا کہ وہ پاکستان میں صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں، وہ پاکستان کی بہتری چاہتے ہیں، اسی طرح کے بیانات چین کی جانب سے بھی آئے، آج روس نے بھی واضح بیان دیا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بدقسمتی سے میڈیا میں بھی کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کمیونیکیشن فیک ہے، اس کمیونیکیشن سے منصوب بیرونی شخصیت سے جب ہندوستان میں میڈیا کی جانب سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ تردید کیوں نہیں کرتے؟ خاموشی کیوں اختیار کرتے ہیں؟

    شاہ محمود کے مطابق ہندوستان، پاکستان میں ایسی حکومت کا خواہاں ہے جو ان کیلئے نرم رویہ رکھتی ہو، انہیں مفادات کا دفاع کرنے اور آزاد خارجہ پالیسی اپنانے والی حکومت کھٹکتی ہے ہماری حکومت نے ہندوستان سے کہا تھا کہ ہم آپ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں مگر کشمیریوں کا سودا ہرگز نہیں کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ملک میں ہیجیانی کیفیت سے دوچار ہے، کل آپ نے دیکھا کہ اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، آج میں وزیر اعظم کے ہمراہ لاہور روانہ ہو رہا ہوں، لاہور کے اواری ہوٹل میں ایم پی پیز کو بند کر کے رکھا گیا ہے، اگر وہ آپ کو ووٹ دینا چاہتے ہیں تو آپ کو ان پر اعتماد ہونا چاہیے-

    شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ چار، پانچ ایم پی ایز تفریح کیلئے باہر جانا چاہ رہے تھے لیکن انہیں نہیں جانے دیا گیا، یہ حبس بے جا نہیں تو کیا ہے؟آئین کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بتائیں کہ آئین میں کہاں درج ہے کہ لوگوں کے ضمیر خریدے جائیں، کیا پیسے کے بل بوتے پر وفاداریاں تبدیل کروانا، آئینی قدم ہے؟-

    پاکستان ،آسٹریلیا کے درمیان ٹی 20 سیریز کا واحد میچ آج کھیلا جائے گا

  • پاکستان ،آسٹریلیا کے درمیان ٹی 20 سیریز کا واحد میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان ،آسٹریلیا کے درمیان ٹی 20 سیریز کا واحد میچ آج کھیلا جائے گا

    لاہور: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی 20 سیریز کا واحد میچ آج قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : میچ پاکستانی وقت کے مطابق دونوں ٹیمیں پاکستانی وقت کے ساڑھت تین بجے شروع ہو گا آسٹریلوی ٹیم کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ جوش انگلس کا کوویڈ ٹیسٹ منفی آیا ہے جس کے بعد وہ سلیکشن کے لیے دستیاب ہوں گے یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان آسٹریلیا کے خلاف ہوم گراونڈ پر کسی ٹی 20 میچ کی میزبانی کر رہا ہے۔

    پہلی دفعہ پاکستان آیا ہوں کافی اچھا لگ رہا ہے، آسٹریلوی کرکٹر

    اس سے قبل آسٹریلیا نے پاکستان کو ٹیسٹ سیزیز میں0-1سے پاکستان کو شکست دی تھی جبکہ پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف 20 برس بعد ون ڈے سیریز اپنے نام کی تھی۔

    دونوں ٹیموں کے مابین اب تک 24 ٹی20 انٹرنیشل میچز کھیلے جاچکے ہیں جس میں پاکستان 12 اور آسٹریلیا 10 میچوں میں فتح یاب رہا ہے جبکہ 2 میچز بے نتیجہ رہے۔

    ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان،3 ون ڈے میچز کی سیریز کا شیڈول جاری

    پاکستان کی جانب سے بابراعظم نے سب سے زیادہ 317 اور آسٹریلوی ٹیم کے کپتان آرون فنچ نے 327 رنز بناکر ٹاپ اسکورز ہیں، بولرز میں شاداب خان نے سب سے زیادہ 13 وکٹیں لیں جبکہ آسٹریلوی فاسٹ بولر کین ریچرڈ سن نے 7 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دیکھائی ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین آخری ٹی 20 انٹرنیشل میچ آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ 2022 میں کھیلا گیا تھا جہاں پاکستان کو 5 وکٹوں سے ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    سابق کپتان اورفاسٹ باولر وقار یونس پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ بن گئے

  • دھمکی آمیز خط : روس کا ررد عمل بھی سامنے آگیا

    دھمکی آمیز خط : روس کا ررد عمل بھی سامنے آگیا

    پاکستان کو دیئے جانے والے دھمکی آمیز خط پر روس کا ررد عمل بھی سامنے آگیا ہے-

    باغی ٹی وی : روسی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے امریکا نے عمران خان کے دورہ روس کی منسوخی کے لیے دباؤ ڈالا، پاکستان کی جانب سے امریکی دباو مسترد کیا گیا۔

    امریکا کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتا،امریکی محکمہ خارجہ

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا دورہ روس منسوخ نا کرنے پر امریکہ نے عمران خان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کے وزیراعظم کے خلاف اچانک تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی، امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری ڈونلڈ لو نے یوکرین معاملہ پر پاکستان کے متوازن ردعمل کی مذمت بھی کی۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے دعوت پر 23 اور 24 فروری کو ماسکو کا دو روزہ دورہ کیا تھا موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں ماہرین نے اس دورے کو بہت اہم قرار دیا تھا-

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    عمران خان کے دورہ سے پہلے روس اور یوکرین میں حالات کشیدہ تھے، اور جیسے ہی پاکستانی وزیراعظم وہاں پہنچے روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا، جس کے بعد عالمی حالات یکسر بدل گئے اور اب پاکستان میں عمران خان کو اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے، جسے عمران خان امریکی سازش قرار دے رہے ہیں، جس کی وجہ یہی دورہ روس ہے۔

    دوسری جانب امریکا نے ایک بار پاکستان کے خلاف ‘دھمکی آمیز’ خط کے الزامات مسترد کردیئے ہیں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں امریکہ آئین کی بالادستی، اور جمہوری اصولوں کے ساتھ ہے یہ اصول صرف پاکستان نہیں دنیا کے دوسرے ممالک کیلئے بھی ہیں۔ ہم کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتے بلکہ قانون کی حکمرانی اور اس کے تحت برابری کے اصولوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

  • امریکا کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتا،امریکی محکمہ خارجہ

    امریکا کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتا،امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے ہم کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ محکمہ خارجہ سے صحافی نے سوال کیا کہ امریکا پر الزام ہے کہ امریکہ پاکستان میں عمران خان کی حکومت گرانے کی کوشش میں ملوث ہے، جس پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    نیڈ پرائس نے مزید کہا کہ امریکہ آئین کی بالادستی، اور جمہوری اصولوں کے ساتھ ہے یہ اصول صرف پاکستان نہیں دنیا کے دوسرے ممالک کیلئے بھی ہیں۔ ہم کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتے بلکہ قانون کی حکمرانی اور اس کے تحت برابری کے اصولوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی امریکا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں نا مداخلت کررہے ہیں نا ہی کسی قسم کی کوئی دھمکی دی ہے، ترجمان امریکی دفتر خارجہ نیڈ پرائس نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی مداخلت سے متعلق کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب امریکہ پر عائد الزامات میں کوئی حقیقت نہیں، امریکہ نے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر کوئی خط جاری نہیں کیا، ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئینی عمل کا احترام کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پریڈ گراؤنڈ جلسہ میں اعلان کیا تھا کہ انہیں دھمکی آمیز خط ملا ہے اس وقت کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا تھا بعد ازاں قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے امریکہ کا نام لیا تھا-

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

  • محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات کی جانب سے ملک بھر میں اپریل سے جون تک معمول سے کم بارشوں کا امکان ظاہرکیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال اپریل اور مئی کے دوران معمول سے کافی کم جبکہ جون میں معمول سے قدرے زیادہ بارشیں متوقع ہیں اس دوران گلگت بلتستان، کشمیر، پنجاب اور بلوچستان کےاکثرعلاقوں میں معمول یا معمول سے قدرے کم بارشوں کا امکان ہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں۔

    رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں موسم کیسا رہے گا؟

    اپریل سے جون کے دوران ملک بھر میں دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، خشک موسم اور درجہ حرارت میں اضافہ سے پولی نیشن کے عمل میں تیزی آئے گی جس سے پولن سیزن کا جلد خاتمہ ہوگا-

    محکمہ موسمیات کے مطابق موسم سرما میں معمول سے کم برفباری اورحالیہ سیزن کے دوران معمول سے کم بارشوں کے باعث پانی کے بڑے ذخائرز میں آنے والے سیزن کے لیے پانی کی کمی کا سامنا رہے گا۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں محکمہ موسمیات کی جانب سے ملک کے بیشتر علاقوں میں رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں موسم شدید گرم رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا –

    محکمہ موسمیات کی طرف سے ملک کے بیشتر علاقوں میں آئندہ 10 دنوں تک درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہوا کے زیادہ دباؤ کے باعث ملک کے بیشتر علاقوں میں آ نے والے دنوں کے دوران دن کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی توقع ہے اس دوران سندھ ، جنوبی پنجاب ، وسطی اور جنوبی بلوچستان میں دن کا درجہ حرارت 09 سے 11 ڈگری سینٹی گریڈ معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

    اسی طرح بالائی پنجاب ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، صوبہ خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی دن کے وقت درجہ حرارت میں معمول سے 08 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی توقع کی گئی-

    نگران وزیراعظم کون؟ تحریک انصاف نام سامنے لے آئی

  • قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟    ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بڑے دنوں سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین چپقلش جاری تھی اور بالآخر کل یکم رمضان کو عدم اعتماد کی تحریک ریجیکٹ کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور نئے سرے سے الیکشن کروانے کا اعلان کیا گیا اس ساری رام کہانی کا مہرہ بنے کئی ایم پی اے ،ایم این اے جو پہلے کسی پارٹی کے ساتھ تھے وہ اب دوسری پارٹی کا سہارا بذریعہ روکڑا بن گئے یہ کوئی نئی بات نہیں ایسا شروع سے ہی ہے اور یہ رسم جمہوریت ہے-

    اپوزیشن نے بھی اس قوم کو خوب برا بھلا کہا اور حکمران جماعت کے کارکنان و عہدیداروں نے بھی ،جماعت تبدیل کرنا حکومتیں گرانا نئی بات نہیں ہمارا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے اور یہ آئین بنانے والے بھی یہی لوگ ہیں عام شہریوں کا آئین و قانون سازی سے دور دور کا کوئی تعلق بھی نہیں –

    تاریخ پاکستان میں موجودہ حکمران نے جہاں قوم کو انتہائی غربت و مہنگائی کی آگ میں جھونکا وہیں وقت کے فرعون امریکہ کو بھی للکارا جو کہ ایک بہت بڑی جرآت مندی کی بات ہے مگر پہلے دیکھئے کہ اس جرآت مندی کے محرکات کیا ہیں؟

    جب عمران خان صاحب نے اقتدار سنبھالا تو ہمارے پڑوس میں امریکہ و چالیس ممالک کی ناٹو فورسز موجود تھیں اور ملک میں دہشت گردی کا راج تھا ہماری فورسز نے بے پناہ قربانیاں دے کر جنرل مشرف کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر امریکہ سے ڈبل گیم کی اور امریکہ افغانستان میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسے بدترین ذلت کیساتھ افغانستان سے اپنے اتحادیوں سمیت نکلنا پڑا اور اس سب کیلئے لاکھوں پاکستانیوں اور ہزاروں فوجیوں کی شہادتیں دینی پڑیں جبکہ سیاستدانوں کی کتنی جانیں اس جنگ میں گئی وہ یقیناً آپ بخوبی جانتے ہیں-

    خیر انخلا امریکہ کے بعد ہمارا ملک دہشت گردی سے کافی حد تک بچ گیا اور ہم نے امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ اور ہم تمہارے غلام نہیں ہیں جیسے سخت الفاظ کہے جس سے امریکہ فرعون وقت بوکھلا گیا اور پاکستان میں اندرونی سازشوں کے ذریعہ سے انتقام پر اتر آیا جس کا واضع ثبوت تمام تر پاکستان مخالف جماعتوں کا یک جان ہو کر بلوچستان و کے پی کے میں فورسز پر بار بار حملے کرنا ہے نیز ملک کے مختلف شہروں میں بھی بم دھماکے کروائے گئے جس میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی شہادتیں ہوئیں جن میں ہر سیاسی مذہبی جماعت کے کارکنان شامل تھے تاہم ابھی تک حالیہ حملوں میں کوئی بھی اعلی سیاستدان ان دہشت گردوں کا نشانہ نہیں بنا-

    یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ خان صاحب نے اپنے اقتدار کے پہلے دو سال کوئی سخت الفاظ بخلاف امریکہ کیوں نا بولا؟ وجہ صاف ہے کہ ہم اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں اور اگر ایسا کرتے تو یقیناً خمیازہ بہت زیادہ بھگتنا پڑا خیر بات اپوزیشن و حکومت پر لاتے ہیں22 کروڑ میں سے چند سیاستدانوں نے عمران خان کا ساتھ ذاتی مفاد اور حصول اقتدار کیلئے چھوڑا تو فوری سوشل میڈیا پر خان صاحب کے تربیت یافتہ کارکنان و اپوزیشن کے کارکنان نے پاکستانی قوم پر فتویٰ صادر فرمایا کہ یہ قوم راشن پرست یہ قوم بے غیرت ہے ان سب باتوں سکرین شاٹس بطور ثبوت میرے پاس موجود ہیں-

    مزید کہا گیا کہ اس قوم کو صحت کارڈ کی جگہ غیرت کارڈ جاری کرنا چائیے یہ بھکاری قوم ہے اور پیسوں کی خاطر اپنی ماں بھی بیچ سکتی ہے وغیرہ وغیرہ نیز افواج پاکستان کو بھی کھلے عام گالیوں سے نواز گیا کہ جنرل باجوہ امریکی غلامی سے نکلنا نہیں چاہتا-

    مزید افسوس کہ مذہبی جماعتوں کے لوگ بھی سوشل میڈیا پر سرعام ایسی باتیں کرتے رہے کہ جن کے اپنے گھروں کے چولہے اسی قوم کے چندے سے چلتے ہیں اور یہ لوگ عوام سے بلا تفریق سیاسی جماعتوں کی وابستگی پیسہ لیتے ہیں عوام پر بھی لگاتے ہیں اور اپنے بیوی بچے بھی پالتے ہیں مگر جب وقت آتا ہے تو ان کی ساری وابستگیاں کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت سے ہو جاتی ہیںافسوس صد افسوس ایسے مذہبی لوگوں پر سیاسی لوگوں پر تو کیا افسوس کرنا بنتا ہے-

    حضور والا قوم کو ان القابات سے نوازنے والوں میرے آپ سے چند سوال ہیں ذرا ان کا جواب تو دیجئے پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ چندہ،بندہ،پیسہ،شہرت پرست؟

    کیا فوجی دفاعی مضبوطی کے بغیر تمہارا خان ایبسولوٹلی ناٹ کہہ سکتا تھا؟ کیا قوم نے تمہیں ووٹ دے کر اقتدار نا دلوایا؟ کیا تمہارے ہی چنے گئے سیاستدان پیسوں کے عوض نا بکے؟کیا ملک کے اندر غربت کی بہت بڑی لہر نہیں آئی؟کیا موجودہ حکمران جماعت کے چینی و آٹا و ادویات چور کھلے عام نہیں گھوم پھر رہے؟-

    کیا جب جنرل مشرف کے دور حکومت میں جب امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور قوم پر اطمینان تھی اور ملکی ترقی کا آغاز ہوا تھا تب تمہارے ہی خان صاحب نے نواز،زرداری،فضل الرحمن کیساتھ مل کر جنرل مشرف کے خلاف ان کی حکومت گرانے میں مدد نا کی تھی ؟؟

    کیا تحریک عدم اعتماد میں مجھ اور آپ جیسے عام پاکستانیوں کی رائے لی گئی اسمبلی میں؟کیا عام پاکستانی اسمبلی میں جا کر تجویز پیش کر سکتا ہے؟کیا ملک بھر میں بنے مدارس و مساجد اسی عوام کے چندے پر نہیں چل رہے ؟کیا ملک بھر میں رفاعی تنظیمیں بے لوث بغیر سیاسی وابستگی لوگوں کی مدد نہیں کر رہیں اور کیا وہ تنظیمیں گورنمنٹیں چلاتی ہیں؟آج بھی جن دیہات میں دیہاتیوں کے اپنے گھروں کی چھتیں بارش میں ٹپکتی ہیں کیا وہاں کی مساجد میں لینٹر اور دیگر سہولیات موجود نہیں اور یہ سہولیات فراہم یہی راشن پرست عوام مہیا کرتی ہے کہ گورنمنٹیں؟؟-

    سوال تو اور بھی بہت ہیں جناب تحریر لمبی ہونے کے باعث مختصر کر رہا ہوں جناب والا آپ تو پوری قوم کو چند بے ضمیروں کی بدولت راشن پرست وغیرہ کہہ رہے ہیں میں قوم کی غیرت کی ایک مثال اپنی ہڈ بیتی روزہ رکھ کر تمہارے سامنے رکھتا ہوں پھر تم اس قوم کو راشن پرست کہنا یا تمام سیاست دانوں کو اقتدار کی ہوس کے پجاری-

    میری ذاتی ہڈ بیتی ہے

    2005 کا زلزلہ آیا میں نے اپنے بچپن کے ساتھیوں سے مل کر اپنے علاقے سے ایک ٹرک سامان کا بھرا اور بالاکوٹ لے کر گیا تھا اور اس وقت جماعت الدعوہ کے زیر سایہ لے کر گیا تھا کیونکہ وہ سب سے زیادہ متحرک جماعت تھی ہوا کچھ یوں کہ ہم کم عمر لڑکے ہر گھر جاتے اور ان کو بتاتے کہ ہمارے کشمیری و صوبہ سرحد کے بھائیوں پر زلزلہ کی آزمائش آن پڑی ہے ان کی چھتیں چھن گئی ہیں اور بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لہذہ مدد کرومجھے یاد ہے یہی ماہ مقدس رمضان تھا تب بھی ہم نے خود غریب ترین لوگوں سے ان کل کل ڈیہاری سے زیادہ کے کپڑے،سویٹر،جرسیاں،دالیں، گھی،چاول،گندم حتی کہ ادویات تک اکھٹی کیں اور بفضل تعالی لوگوں نے بخوشی دیا اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کیلئے ہاں اس وقت سیاستدانوں نے بھی بہت مدد کی تھی ہماری ایک اہم بات بتاتا ہوں-

    ہم ایک گھر میں گئے کہ جس گھر سے محض ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کی شادی تھی ہم نے اس بوڑھی غریب ترین عورت کے سامنے مدعا بیان کیا تو وہ کہنے لگی پتر ذرا رکو اور بیٹھ جاؤہم بیٹھے تو اماں جی نے ہمیں آواز دی کہ پتر پیٹی کھولنے میں میری مدد کرو خیر ہم نے پیٹی کھولی تو ماں جی بولی بیٹا میری بیٹی کا جہیز ہے مگر یہ تو اور بن جائے گا یہ جو وزنی والا کمبل ہے نا یہ نکالو اور لے جاؤ اور ساتھ گرم چادر بھی لے لومیں نے کہا ماں جی ہماری آپی کی شادی قریب ہے آپ بس سو پچاس روپیہ دے دیں یہی کافی ہے-

    اس اللہ کی شیرنی نے کہا کہ اوئے پتر جھلا ہویا ایں ؟وہ بھی تو میری ہی بیٹیاں ہیں تو یہ چیزیں پکڑ اور ان تک پہنچاؤاللہ کی قسم ایسے ایسے لوگوں نے ہمیں پیسے و چیزیں دیں جن کے اپنے گھروں کے خرچے بمشکل چلتے تھے ہم وہاں گئے تباہ شدہ پورا بالاکوٹ اپنی آنکھوں سے کئی دن دیکھتے رہے اور بہت سی مذہبی جماعتوں کے کام بھی دیکھے اگر قوم کا وہ جذبہ لکھنے لگوں تو محض 2005 کے زلزلہ پر میں ایک کتاب لکھ سکتا ہوں اس کے علاوہ پھر بلوچستان کا زلزلہ آیا سندھ و بلوچستان کے لوگوں کیلئے ہماری انہی راشن پرست لوگوں نے پینے کے صاف پانی کا انتظام کیا بہت مثالیں میرے پاس ذاتی ہڈ بیتی موجود ہیں ان شاءاللہ پھر کبھی رقم کرونگا بس اتنا پوچھنا ہے مجھے ان لوگوں سے کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ شہرت پرست؟-

  • ُُپاکستانیو :آپکا وزیراعظم ’دی گیم چینجر‘وسیم اکرم کی ٹویٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی

    ُُپاکستانیو :آپکا وزیراعظم ’دی گیم چینجر‘وسیم اکرم کی ٹویٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی

    قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی عمران خان سے متعلق ٹوئٹ وائرل ہوگئی۔جس میں پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ُُپاکستانیو :آپکا وزیراعظم ’دی گیم چینجر‘اورپھر وسیم اکرم کی ٹویٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر شوبز ستاروں کے علاوہ کرکٹ سے وابستہ شخصیات کے بیانات بھی سامنے آرہے ہیں جن میں عمران خان کے فیصلے کو بھرپور سپورٹ کیا جارہا ہے ، ایسے میں عمران خان کے پرانے ساتھی وسیم اکرم نے بھی ٹوئٹ کردی جو کچھ ہی دیر میں وائرل ہوگئی۔

    لیجںڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم نے وزیراعظم عمران خان کی مسکراتے ہوئے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’ دی گیم چینجر‘‘۔ سابق کپتان نے عمران خان ، اسپکر، ناٹ آؤٹ یٹ اور سرپرائز کے ہیش ٹیگ بھی استعمال کیے۔

     

    اس سے قبل بھی وسیم اکرم کی ایک ٹوئٹ پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا اور اپوزیشن رہنماؤں خاص طور پر احسن اقبال کو وسیم اکرم کی ٹوئٹ بلکل پسند نہیں آئی۔

    وسیم اکرم نے وزیراعظم عمران خان کی تصویر کے ساتھ ایک جذباتی پیغام شیئر کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا ’’ وہ قیادت کرنے، لڑنے اور جیتنے کے لیے پیدا ہوا، اپنے لیے نہیں بلکہ ان کے لیے جن کی وہ نمائندگی کر رہا ہے‘‘۔

    وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ کسی عہدے ، طاقت یا نام کے لیے نہیں لڑ رہا، یہ اس کی تقدیر ہے اور کھیل ابھی ختم نہیں ہوا۔

    وسیم اکرم نے I Stand With Imran Khan اور Never Giveup کے ہیش ٹیگ بھی استعمال کیے۔

    واضح رہے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے مستعفیٰ ہونے پر وسیم اکرم کا نام سوشل میڈیا پر ٹریںڈ کررہا تھا جس پر انہوں نے حیرانی کا اظہار کیا تھا۔