Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کورونا ہلاکتوں میں کمی، تین مریض جاں بحق، 609 افراد وائرس سے متاثر

    کورونا ہلاکتوں میں کمی، تین مریض جاں بحق، 609 افراد وائرس سے متاثر

    لاہور:ملک میں کورونا کیسز میں کمی آنے لگی، گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران تین مریض دم توڑ گئے، 609 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد تیس ہزار تین سو سات ہو گئی ہے جبکہ ایکٹو کیسز کی تعداد سترہ ہزار نو سو اکسٹھ ہے۔ ملک میں پندرہ لاکھ اٹھارہ ہزار چھ سو بانوے افراد کورونا سے متاثر ہوئے، چودہ لاکھ ستر ہزار چار سو چوبیس مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق چھ سو نو نئے کیسز رپورٹ ہوئے، ملک میں کورونا مثبت کیسز کی تعداد ایک اعشاریہ سات صفر ریکارڈ کی گئی۔

    ادھر پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل قومی فاسٹ باؤلر فہیم اشرف کا کورونا کا ٹیسٹ ایک دن بعد منفی آگیا۔

    پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دوسرا ٹیسٹ میچ کراچی میں 12 مارچ کو شروع ہونے جارہا ہے جس سے قبل قومی آل راؤنڈر فہیم اشرف کو کورونا کا ٹیسٹ گزشتہ روز مثبت آیا تھا جبکہ ایک روز بعد ہی یہ ٹیسٹ منفی آگیا اور ٹیم مینجمنٹ نے آئسولیشن ختم کر ڈالی، قرنطینہ ختم ہونے کے بعد فہیم اشرف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لئے دستیاب ہونگے۔

    خیال رہے کہ فہیم اشرف کا گزشتہ روز کراچی پہنچتے کوویڈ ٹیسٹ پازیٹو آیا تھا ، دوبارہ کوویڈ ٹیسٹ کیا گیا تو منفی آیا اور وہ آج پریکٹس کے لئے بھی دستیاب تھے، تاہم وہ ہوٹل سے گراؤنڈ پہنچنے میں تاخیر کے باعث پریکٹس سیشن میں حصہ نہیں لے سکے ۔

    حسن علی اور فہیم اشرف کا دوسرا ٹیسٹ میچ کھیلنے کا امکان ہے جبکہ نسیم شاہ اور افتخار احمد کو آرام دیا جا سکتا ہے۔

  • ایم ڈبلیو ایم کا سلمان حیدر کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

    ایم ڈبلیو ایم کا سلمان حیدر کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

    کراچی :ایم ڈبلیو ایم کا سلمان حیدر کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ،اطلاعات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں سید سلمان حیدر رضوی کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

    اپنے مذمتی بیان میں ترجمان ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ معروف شیعہ رہنماء سلمان حیدر کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ سلمان حیدر کا قتل شہر قائد کا امن خراب کرنے کی سازش ہے، سلمان حیدر کی ٹارگٹ کلنگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    ترجمان ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ شہید سلمان حیدر پاسبان عزاء اور آل پاکستان زیارات کاروان آپریٹر کے سیکرٹری جنرل، مسجد و امام بارگاہ خیر العمل ٹرسٹ کے ذمہ دار اور معروف شیعہ رہنماء ایس ایم حیدر مرحوم کے بیٹے تھے۔

    ترجمان ایم ڈبلیو ایم نے مطالبہ کیا کہ سلمان حیدر کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ واضح رہے کہ کراچی کے علاقے انچولی سوسائٹی میں موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے پاسبان عزاء کے جنرل سیکرٹری سید سلمان حیدر رضوی کو شہید کر دیا۔

  • ق لیگ کی حیثیت کیا ہے:جووزارت اعلیٰ مانگ رہی ہے:ن لیگی ارکان اسمبلی بھی ڈٹ گئے

    ق لیگ کی حیثیت کیا ہے:جووزارت اعلیٰ مانگ رہی ہے:ن لیگی ارکان اسمبلی بھی ڈٹ گئے

    لاہور: ق لیگ کی حیثیت کیا ہے:جووزارت اعلیٰ مانگ رہی ہے:ن لیگی ارکان اسمبلی بھی ڈٹ گئے ،اطلاعات کے مطابق ق لیگ کو اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش پر ن لیگ ارکان اسمبلی نے تحفظات کا اظہار کردیا۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی عابد رضا سمیت 7 ارکان اسمبلی نے ق لیگ کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش پر تحفظات کا اظہار کیا۔ن لیگی ارکان کا کہنا ہے کہ ق لیگ کو کس حیثیت سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی ہے۔

    لیگی ارکان کا کہنا ہے کہ ن لیگ کا حصہ ہیں، ق لیگ کو کیسے وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی، پنجاب میں ن لیگ بڑی جماعت ہے اور ق لیگ چھوٹی جماعت ہے۔ن لیگ کے ارکان کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب ہمارا ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ ق لیگ کو اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی تھی۔

    یاد رہے مسلم لیگ ق کے اراکین قومی اسمبلی کا اجلاس کل اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس چوہدری شجاعت حسین کی رہائشگاہ پر3 بجے ہوگا۔اجلاس کی صدارت چوہدری پرویز الہٰی کریں گے ، جس میں اراکین قومی اسمبلی اورچوہدری شجاعت بھی شریک ہوں گے۔

    اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال اورتحریک عدم اعتمادپرغورہوگا اور مسلم لیگ ق وزیراعظم کی تحریک عدم اعتمادسےمتعلق فیصلہ کرےگی۔رہے پارلیمانی پارٹی نے فیصلے کے تمام اختیارات چوہدری پرویزالہٰی کو دے رکھے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی طرف سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد سے قبل پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما، وفاقی وزیر مونس الٰہی اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید آمنے سامنے آ گئے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں مونس الٰہی نے شیخ رشید کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کی عزت کرتا ہوں لیکن یہ بھول رہے ہیں اسی جماعت کے لیڈران کے بزرگوں سے آپ اپنی زمانہ طالب علمی میں پیسے لیا کرتے تھے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کی طرح نہیں کہ 5 سیٹوں پر صوبے کی وزارت اعلیٰ کے لیے بلیک میل کریں۔

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران صحافی کے سوال پر شیخ رشید نے کہا کہ وہ پنجاب کی سیاست کی بات کررہے ہیں، عمران خان کے ساتھ سائے کی طرح کھڑا ہوں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ارکان کی خرید و فروخت شروع کردی گئی ہے، کبھی نہیں سوچا تھا کہ ممبر کا اتنا ریٹ لگے گا، یہ کتنے ہی پیسے لگائیں عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔

    اپوزیشن کو صلح کی پیشکش کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ہمیں صلح صفائی کی طرف جانا چاہیے، مل بیٹھ کر مذاکرات سے کوئی حل نکالنا چاہیے، الیکشن میں ایک سال رہ گیا ہے، یہ نہ ہو آپ 10 سال لائن میں لگے رہیں۔

    خیال رہے کہ وزیر داخلہ کی طرف سے پانچ سیٹوں کا بیان پاکستان مسلم لیگ ق کی طرف اشارہ تھا، ق لیگ کے پنجاب میں 10 اراکین اسمبلی ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں پانچ ایم این ایز ہیں۔

  • مسلم لیگ ن اور ق لیگ کو متحد کرنے کی کوششیں:دو درجن سےزائد اراکین چھوڑسکتےہیں:رپورٹ

    مسلم لیگ ن اور ق لیگ کو متحد کرنے کی کوششیں:دو درجن سےزائد اراکین چھوڑسکتےہیں:رپورٹ

    کراچی: مسلم لیگ ن اور ق لیگ کو متحد کرنے کی کوششیں:دو درجن سےزائد اراکین چھوڑسکتےہیں:اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن اور ق لیگ کو حکومت کے خلاف متحد کرنے کی کوششیں شروع کردی گئیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ دونوں جماعتوں کے اتحاد کی صورت میں دو درجن سے زائد اراکین اسمبلی یا تو پی ٹی آئی میں چلے جائیں گے اور ہوسکا تو کچھ پی پی میں بھی جاسکتے ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ وہ اراکین ہیں اتحاد کی صورت میں اپنی سیاست کو خطرے سمجھتے ہیں

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور ق لیگ کے سرکردہ رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئی ہیں، دونوں جماعتوں کے اتحاد میں پیشرفت پر فیصلہ جلد متوقع ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزرا کے بیانات کے بعد حکومت اور ق لیگ کے تعلقات خرابی کی طرف چلے گئے ہیں۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ ق لیگ اور مسلم لیگ ن مستقبل کی سیاست مل کر کرنے کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں اور اس سے متعلق باضابطہ طور پر اعلان بھی کیا جاسکتا ہے۔

    ن لیگ کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان جلد ہی مثبت پیش رفت کا اعلان کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ق کو حکومت تاحال مطمئن نہیں کر پائی ہے جبکہ مسلم لیگ ق اور حکومت میں گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے۔

    ذرائع ق لیگ کے مطابق سیاست میں ضد یا انا نہیں بلکہ پارلیمانی و جمہوری رویے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، مسلم لیگ ق کی پنجاب سمیت ملکی سیاست میں ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔

  • یکطرفہ رپورٹنگ:جنگ جیوگروپ کے بائیکاٹ کا اعلان

    یکطرفہ رپورٹنگ:جنگ جیوگروپ کے بائیکاٹ کا اعلان

    لاہور:یکطرفہ رپورٹنگ:جنگ جیوگروپ کے بائیکاٹ کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق یکطرفہ رپورٹنگ کرنے پر پی ٹی آئی نے جنگ اور جیو گروپ کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے شہباز گل نے جیو ٹی وی کو ن لیگ کا ٹی وی قرار دیدیا۔

    یکطرفہ رپورٹنگ پرپی ٹی آئی نے جنگ جیوگروپ کےبائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔

    وزیراعظم کے مشیر شہباز گل نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ جیو جنگ گروپ کو یکطرفہ ن لیگی ایجنڈے پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور بار بار جیو ٹی اور جنگ گروپ سے رابطہ کیا۔

     

    انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ وزیراعظم کی کل کی تقریر پر جیو جنگ گروپ نے جسطرح سے زہر پھیلایا اس سے اب پی ٹی آئی کے کارکنان کو پتہ چل گیا ہوگا کہ کیوں پی ٹی آئی نے ن لیگ کے اس اہم اتحادی کے پروگراموں کا بائیکاٹ کیا ہے۔

     

    انہوں نے مزید کہا ہے کہ مریم صفدر کی تمام آڈیوز یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ جیو جنگ ان کی پارٹی کا حصہ ہے لیکن ہم نے پھر بھی جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    شہباز گل نے کہا کہ اب ہمارا جمہوری حق ہے کہ جو چینل ہمارے خلاف ایک پارٹی بنا ہوا ہے ہم اس پر نا جائیں۔ ہمارے خیال میں جیو ٹی وی ن لیگ کا ٹی وی ہے۔

    یاد رہے کہ نوازشریف کے دورحکومت میں جیو جنگ کیطرف سے اسلام مخالف لٹریچراور سکینڈل کی وجہ سے عوام الناس نے بائیکاٹ کیا تھا ، لیکن اس وقت جنگ جیو کو نوازشریف کی بھرپورحمایت حاصل تھی

  • فی الحال کل وزیراعظم سے ملاقات کا امکان نہیں :ق لیگ

    فی الحال کل وزیراعظم سے ملاقات کا امکان نہیں :ق لیگ

    اسلام آباد:فی الحال کل وزیراعظم سے ملاقات کا امکان نہیں :اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں سیاسی صورتحال پر ہر گزرتے دن کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے، مسلم لیگ ق نے کل وزیراعظم سے ملاقات کی تردید کردی ہے۔جبکہ دوسری طرف وزیراعظم اپنے ساتھیوں اوراتحادیوں کی طرف سے وفا پر پورا یقین رکھتے ہیں

    اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد سیاسی صورتحال نے بھی رنگ بدلنے شروع کردیے ہیں۔

    اس حوالے سے ق لیگ کے رہنما کامل علی آغا کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ق لیگ قیادت کی کل وزیراعظم سے کوئی ملاقات نہیں ہورہی ہے۔

    کامل علی آغا نے کہا کہ نہ ہی چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کل وزیراعظم سے ملاقات کررہے ہیں، اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی شیڈول تیار یا رابطہ ہوا ہے۔اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم اور پرویز الٰہی میں ملاقات کا امکان ظاہر کیا تھا۔

    ہفتے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا تھا کہ اب یہ عدم اعتماد لے آئیں گے، ہمارے ممبر ایسے نہیں جو اپنا ضمیر بیچیں، ہمارے ممبر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، کل عمران خان کی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کا امکان ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد عمران خان کے لیے اطمینان کی تحریک ہوگی، یہ جتنی چاہیں مرضی پیسے لگائے عمران خان اپنا ٹائم پورا کریں گے، اپوزیشن کے ضمیر فروش ہے یہ مال بنانے کے لیے آ رہئ ہیں، میری دعا ہے کہ خوش اسلوبی سے یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

    اس سے قبل وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ووٹ خریدنے کا بازار گرم رکھا ہے، اپوزیشن نے بلیک میلنگ شروع کی ہوئی ہے، اپوزیشن جتنا مرضی پیسے لگائے، وزیر اعظم عمران خان 5 سال پورے کریں گے۔

  • عمران خان کا قتل ثواب کا کام کہنے والا جے یو آئی کارکن گرفتار

    عمران خان کا قتل ثواب کا کام کہنے والا جے یو آئی کارکن گرفتار

    پشاور:وزیراعظم عمران خان کو جہاں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان مخالف خفیہ ایجنسیوں سے جان کا خطرہ وہاں پاکستان میں ایسی قوتوں کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں جنہوں نے آج تک موجودہ حکومت کو دل سے تسلیم نہیں کیا ، ان میں جے یو آئی ف پہلے نمبر پر ہے

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے دو دن سے جے یو آئی ف کے کارکنوں کے سوشل میڈیا پیجز پرایک ایسی ویڈیو وائرل کی جارہی ہےجس میں ایک مدرسے کا انتہا پسند استاد عمران خان کے قتل کوثواب قرار دے کرلوگوں کواس گھنوئنے جرم کے لیے اُکسارہا ہے

     

    کہا جارہا ہےکہ جے یو آئی ف کے اس انتہا پسند کا نام قاری عبدالحمید اور والد کا نام محمد کریم ہے جو کہ پائندہ خیل علاقہ پڑانگ کا مستقل رہائشی ہے ،یہ چار بھائی ہیں ان میں ایک بیرون ملک جبکہ دوسرے ادھر علاقے میں مختلف کام کرتے ہیں ، قاری عبدالحمید مولانا فضل الرحمن کا فارغ التحصیل ہے اور آج کل کسی مسجد کا امام وخطیب ہے

    مذکورہ انتہاپسند جوکہ اسی علاقے میں جے یو آئی ف کے ایک مدرسے میں پڑھاتا ہے ، اس قاری عبدالحمید نے 10 مارچ کو موٹروے پراسلام آباد کی طرف مارچ کے دوران ایک ویڈیو وائرل کی تھی جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان کو قتل کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی بکرے کو ذبح کرنا ہے

     

     

    قاری عبدالحمید کہتا ہے کہ عمران خان کو قتل کرنا ثواب کا کام ہے ، اوروہ اپنے قائد مولانا فضل الرحمن کے حکم کا منتظر ہے کہ وہ عمران خان کے قتل کا حکم دیں اور میں قتل کرکے اپنا فریضہ ادا کروں ، دوسری طرف پولیس نے گرفتار حوالات میں بند کردیا ہے امید کی جارہی ہےکہ بہت جلد اس کا سوفٹ وہئر اپ ڈیٹ ہوجائے گا

     

    یاد رہے کہ دفاعی تجزیہ نگار زید حامد بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی خارجہ پالیسی اور پاکستان میں اسلائمیزشن کی وجہ سے عالمی قوتیں ان کو راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں اور ایسا وزیراعظم لانا چاہتی ہیں جو چین سے دور اور بھارت کے قریب ہو

  • وزیر اعظم عمران خان نے آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی ہے:اسد قیصر

    وزیر اعظم عمران خان نے آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی ہے:اسد قیصر

    صوابی : اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ حزب اختلاف کی جانب سے وزیر اعظم پر عدم اعتماد سے لوگوں کا عمران خان پر اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میری کارکردگی کا مقابلہ ماضی کے تمام عوامی نمائندوں سے کریں ہمارے دور میں جتنے ترقیاتی کام ہوے انکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بوقو صوابی میں عوامی تقریب سے خطاب کے دوران کیا ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی۔پاکستان ایک خود محتار اور آزاد ملک ہے ہم کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے ہم دنیا سے برابری کے بنیاد پر تعلقات چاھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد اپوزیشن کا قانونی حق ہے پاکستان تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی اس کا بھرپور مقابلہ کریں گے ۔

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ہمارے دور میں جتنے اسلامی قانون سازی ہوئی ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں پانچویں تک سکولوں میں ناظرہ قرآن پاک اور 10 سویں تک ترجمہ قرآن پاک شروع کیا گیا ۔انہوں نے کہا ہماری حکومت نے ایماء کرام کیلئے وظیفہ شروع کیا اور سود کے خلاف قانون سازی کی ۔

  • ایک ہی دن میں  دہشتگردی میں ملوث 81 مجرمان کو سزائے موت دیدی گئی

    ایک ہی دن میں دہشتگردی میں ملوث 81 مجرمان کو سزائے موت دیدی گئی

    ریاض :سعودی عرب میں انتہا پسندگروہوں سے تعلق رکھنے والے 81 مجرمان کو سزائے موت دے دی گئی۔سعودی  وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 81 مجرمان کو سزائے موت دی گئی ہے جو کہ داعش اور  القاعدہ سمیت غیرملکی ایجنسیوں اور حوثی ملیشیا سے بھی وابستہ تھے، مجرمان میں سعودی اور یمنی شہری شامل ہیں۔

       

    سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ”ملزمان کو اٹارنی کا حق فراہم کیا گیا تھا اور عدالتی کارروائی کے دوران سعودی قانون کے تحت ان کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کی گئی تھی۔  ملکی عدالتی نظام نے انہیں متعدد گھناؤنے کام کرنے کا مجرم پایا، ایسے جرائم، جن کے نتیجے میں شہری اور قانون نافذ کرنے والے افسروں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔‘‘

    جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت مستقبل میں بھی ایسے سخت اقدامات جاری رکھے گی، ” سعودی سلطنت ملک میں دہشت گردی اور اُن انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف ایک سخت اور اٹل موقف اختیار کرتی رہے گی، جن  سے پوری دنیا کے امن اور استحکام کو خطرہ ہے۔‘‘

    سعودی عرب میں گزشتہ ایک عشرے میں اتنے بڑے پیمانے پر پھانسیاں سن 2016 میں دی گئی تھیں۔ اس وقت ایک ہی دن میں 47 افراد کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا تھا۔ ان میں وہ شیعہ رہنما بھی شامل تھا، جنہوں نے ملک میں احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا تھا۔ تب ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کر دیا گیا تھا۔ سعودی عرب اور ایران کے تب سے سفارتی تعلقات منقطع چلے آ رہے ہیں۔

    اس کے بعد سن 2019ء میں ایک ساتھ 37 افراد کو پھانسیاں دی گئیں تھیں۔ تب ان افراد پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ کمیونٹی سے تھا۔

     

  • چودھری پرویزالٰہی کی راجہ بشارت کے گھر آمد

    چودھری پرویزالٰہی کی راجہ بشارت کے گھر آمد

    راولپنڈی: چودھری پرویزالٰہی اہم شخصیت کے گھرپہنچ گئے،اطلاعات کےمطابق چودھری پرویزالٰہی اہم سیاسی شخصیت کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کے ہمراہ وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ، رکن قومی اسمبلی حسین الٰہی، صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر اور مسلم لیگ راولپنڈی کے صدر زبیر خان نے بھی صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی رہائش گاہ آمد کی۔

    مسلم لیگی رہنماؤں نے راجہ بشارت سے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور مرحومہ کے بلندی درجات کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔

    چودھری پرویزالٰہی کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

    طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو یہ صدمہ ہمت و حوصلہ سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔تحریک انصاف کے ایم این اے صداقت علی عباسی اور راجہ بشارت کے صاحبزادے راجہ بہروز بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    ادھر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق پاکستان مسلم لیگ ق کی جانب سے کل کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ق) کی اہم مشاورتی بیٹھک آج ہوئی جس میں مسلم لیگ (ق) کے اپوزیشن اور حکومت سے ہونے والے مذاکرات سے متعلق غور کیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ق کا مشاورتی اجلاس ختم ہوگیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مشاورت کل بھی جاری رہے گی۔

    اس حوالے سے مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کسی بھی کشمکش کا شکار نہیں کل کے اجلاس میں حتمی فیصلے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ق کو حکومت تاحال مطمئن نہیں کر پائی ہے جبکہ مسلم لیگ ق اور حکومت میں گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا تھا کہ مسلم لیگ ق کے ساتھ تمام معاملات پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم وفاقی وزیر طاہر بشیر چیمہ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ فواد چودھری کا دعویٰ مسترد کرتے ہیں، ان کے ساتھ ملاقات کے دوران عدم اعتماد نہیں صرف پیکا آرڈیننس پر بات چیت ہوئی تھی۔

    دوسری طرف ق لیگ کے مطابق سیاست میں ضد یا انا نہیں بلکہ پارلیمانی و جمہوری رویے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، مسلم لیگ ق کی پنجاب سمیت ملکی سیاست میں ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔