Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ملک بھر میں رواں ہفتے گرمی کی پیشگوئی

    ملک بھر میں رواں ہفتے گرمی کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے رواں ہفتے گرمی کی شدید لہر کی پیشگوئی کی ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں رواں ہفتے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا امکان ہے جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ رہے گا-

    محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق خیبرپختونخوا میں درجہ حرارت 7 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک معمول سے زائد رہنے کا امکان ہے جبکہ رواں ہفتے اسلام آباد، بالائی اور وسطی پنجاب میں درجہ حرارت 7 سے 8 سینٹی گریڈ معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے۔

    پاکستان میں کورونا کیسز میں مزید کمی

    پیشگوئی کے مطابق مارچ کے تیسرے ہفتے میں سندھ اور جنوبی بلوچستان میں بھی درجہ حرات 7 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شمالی بلوچستان اور بالائی سندھ میں اس دوران درجہ حرارت 9 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے اسی طرح جنوبی پنجاب اور کشمیر میں بھی درجہ حرارت 9 سے 10 ڈگری معمول سے زائد رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق غیرمعمولی درجہ حرارت کے باعث دارالحکومت اسلام آباد اور لاہور میں پولن کی مقدار میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق آج شہر قائد کا موجودہ درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ دن بھر میں درجہ حرارت 35 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہے گا شہر میں7 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوا چل رہی ہے جبکہ دن بھر میں دن میں ہوا بیس سے پچیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔

    کار نہر میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق، فائرنگ سے 5 خواجہ سرا زخمی

    بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک جبکہ سبی، تربت نوکندی، دالبندین، لسبیلا اورگوادر میں گرم رہے گا کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت 13 گری سینٹی گریڈ ، زیارت میں کم سے کم درجہ حرارت10 ڈگری سینٹی گریڈ ، قلات میں کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ کیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں کم سے کم درجہ حرارت21 ڈگری سینٹی گریڈ ، سبی میں کم سے کم درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ ، نوکنڈی میں کم سے کم درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ کوئٹہ میں ہوا میں نمی کا تناسب 23فیصد گوادر47 فیصد سبی میں ہوا میں نمی کا تناسب 27 فیصد جبکہ نوکنڈی میں ہوا نمی کا تناسب10فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان ، ازقلم: غنی محمود قصوری

  • پاکستان میں کورونا کیسز میں مزید کمی

    پاکستان میں کورونا کیسز میں مزید کمی

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 4 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 34 ہزار401 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 473 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 15 لاکھ 19 ہزار627 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 30 ہزار 313 ہو گئی اور مثبت کیسز کی شرح 1.37 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 5 لاکھ 72 ہزار297، خیبر پختونخوا میں 2 لاکھ 18 ہزار 268، پنجاب میں 5 لاکھ 3ہزار 939، اسلام آباد میں ایک لاکھ 34 ہزار 859، بلوچستان میں 35 ہزار442، آزاد کشمیر میں 43 ہزار 181اور گلگت بلتستان میں 11 ہزار 641 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 540 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 8 ہزار 91، خیبر پختونخوا 6 ہزار 302، اسلام آباد ایک ہزار 21، گلگت بلتستان میں 191، بلوچستان میں 378 اور آزاد کشمیر میں 790 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں حکومت نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان این سی او سی کو رواں ماہ کے اختتام پرغیر فعال کرنے جا رہی ہے، یکم اپریل سے ملک میں کرونا کی صورت حال کی مانیٹرنگ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد کرے گا اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ قومی ادارہ صحت کا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کرونا مانیٹرنگ کرے گا، واضح رہے کہ سی ڈی سی قومی ادارہ صحت میں اصلاحات کے بعد تشکیل دیا گیا تھا، اور یہ تاحال مکمل فعال نہیں ہے۔

    ذرائع وزارت صحت کا کہنا تھا کہ این سی او سی سے ریکارڈ کی سی ڈی سی کو منتقلی کا عمل جاری ہے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر مارچ 2020 میں تشکیل دیا گیا تھا، این سی او سی میں ملک بھر سے کرونا کے اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں، این سی او سی کو ڈیٹا فراہمی میں پولیو ای او سی نے اہم کردار ادا کیا تھا نیشنل ویکسینیشن اسٹریٹجی کی تیاری کا سہرا این سی او سی کے سر ہے، کرونا ویکسینیشن میں ای پی آئی کے بنیادی ڈھانچے نے اہم کردار ادا کیا، ملک میں کرونا سے متعلق پابندیوں کے نفاذ سمیت تمام فیصلے این سی او سی کرتا تھا، اس مرکز کے وفاق اور صوبائی سطح پر متعدد اجلاس منعقد ہوئے جن میں وزرائے اعلیٰ، چیف سیکریٹریز شریک ہوتے تھے، وفاقی اور صوبائی محکمہ تعلیم، اور صحت حکام بھی شریک ہوتے تھے، این ڈی ایم اے، وزارت داخلہ، خارجہ، مذہبی امور کے حکام بھی این سی او سی کا حصہ تھے۔

    این سی او سی میں وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر اجلاس منعقد کیے جاتے تھے، اور فیصلے وفاق، صوبے، فریقین کی مشاورت سے ہوتے تھے، این سی او سی کے فریقین کی مشاورت سے کیے گئے فیصلے کامیابی کی ضمانت بنے، اور کرونا میں پاکستان کی بہترین کارکردگی کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔

    وفاقی وزیر اسد عمر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ ہیں، این سی او سی قومی کورونا رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کی ذمہ دار تھا، ذرائع کا کہنا تھا کہ این سی او سی کی کامیابی میں موجودہ ڈی جی ہیلتھ پاکستان کا اہم کردار رہا ہے، اس کے قیام کے وقت ڈاکٹر صفدر رانا نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو، توسیع پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے سربراہ تھے، کرونا سرویلنس، ویکسینیشن نظام بنانے اور کامیابی سے چلانے میں ڈاکٹر صفدر رانا کا اہم کردار رہا۔

  • دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان

    ازقلم غنی محمود قصوری

    اس وقت ملک پاکستان تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے جس کا فائدہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اٹھا رہا ہے ،بھارت نے پاکستان کے اندر کئی بار مداخلت کی اور علیحدگی کی تحریکوں کو پروان چڑھایا تاکہ پاکستان کا امن و سکون برباد ہواس وقت پاکستان میں ملک کا امن و سکون برباد کرنے والے کئی گروہ موجود ہیں جن میں سے بیشتر بلکہ زیادہ تر کو بھارت نے بنوایا اور فنڈنگ بھی بھارت،امریکہ اسرائیل مل کر رہے ہیں-

    ان گروہوں میں سے ایک معروف گروہ ٹی ٹی پی ہے جو کہ 3 درجن سے زائد گروہوں سے بنا تھا مگر آہستہ آہستہ اندرونی بغاوت کے باعث کم ہوتا چلا گیا تاہم اب ایک بار پھر بھارت اور امریکہ کے آشیر باد سے اس گروہ کو دوبارہ منظم کیا جا رہا ہے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ساتھ ملا کر یک جان ہو کر سیکیورٹی فورسز و مملکت پاکستان پر حملے کئے جا رہے ہیں –

    ایک نظر ڈالتے ہیں معروف دہشت گرد گروہوں کی تاریخ پر

    1964 کو بلوچ لبریشن فرنٹ کی بنیاد جمعہ خان مری نے رکھی تھی تاہم اس تنظیم نے جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں 1980 کی بلوچ بغاوت میں بڑا کردار ادا کیا تھا اس تنظیم نے وقفہ وقفہ سے علاقائی اور لسانی بنیاد پر پاکستان پر حملے جاری رکھے اور 2009 میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو اس جماعت کا سربراہ مقرر کیا گیا یہ جماعت اب بھی پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کر رہی ہے اور کئی معصوم پاکستانیوں سمیت سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی شہید کر چکی ہے-

    سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں 1970 میں بلوچستان لبریشن آرمی کی بنیاد رکھی گئی تھی جس نے پاکستان پر مسلح حملے کئے مگر جنرل ضیاء الحق کی کاوش سے بلوچ علیحدگی پسند گروپوں سے مذاکرات کئے گئے جس کے باعث یہ جماعت منظر عام سے غائب ہو گئی-

    بہت عرصہ غائب رہنے کے بعد اس جماعت نے دوبارہ 2000 میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے الزام میں نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد دوبارہ حملے شروع کر دیئے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے-

    انٹرنیشنل لیول کی جماعت القاعدہ کی بنیاد اسامہ بن لادن اور عبداللہ عزام نے 1988 میں رکھی اس جماعت نے شروع میں تو روس کے خلاف جہاد کیا اور پاکستانی فورسز کا ساتھ بھی دیا تھا تاہم افغان امریکہ جنگ میں اس تنظیم نے پاکستان پر بھی حملے کئے-

    القاعدہ کے کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی نے 1999 میں داعش کی بنیاد رکھی تھی اور اسے 2014 میں اس وقت عالمی شہرت حاصل ہوئی جب اس نے انبار مہم کے دوران عراقی سیکورٹی فورسز کو اہم شہروں سے باہر نکال دیا تھا اور اپنی پاور شو کی تھی اس انٹرنیشنل لیول کی جماعت نے بھی پاکستان پر بہت سے حملے کئے اور یہ جماعت اس وقت دنیا کی تمام خطرناک دہشت پسند جماعتوں میں سے پہلے نمبر پر ہے اس جماعت میں زیادہ تر سلفی ( اہلحدیث) مکتبہ فکر کے لوگ شامل ہیں-

    افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کی پالیسی کو نا سمجھتے ہوئے پاکستان کو امریکہ کا اتحادی سمجھتے ہوئے مفتی نظام الدین شامزئی کے فتوی پر عمل کرتے ہوئے دیوبندی مکتب فکر کے کچھ جید مفتیان کرام کی پشت پناہی میں چھوٹے چھوٹے مسلح قبائلی گروہوں نے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے تاہم 2004 میں جب پاکستانی فوج نے جب ان کے خلاف آپریشن شروع کیا تو جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک ، جامعہ اشرفیہ لاہور ، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اوردیگر دیوبندی مکتب فکر کے مراکز کی طرف سے اس آپریشن کے خلاف شدید نوعیت کا فتویٰ جاری ہوا اور عوام کو افواج پاکستان کے خلاف کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان کے خلاف متحد ہوکر لڑنے کا عزم کرکے دو درجن سے زائد گروپوں نے مل کر دسمبر 2007 میں تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی اور بیت اللہ محسود کو ٹی ٹی پی کا امیر مقرر کیا گیا-

    خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق ان کو 34 گروہوں کے ساتھ اتحاد کرکے بنایا گیا تھا جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے اہلکاروں( جن میں افغانی طالبان بھی شامل تھے) سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکا کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے تھے-

    اگرچہ بظاہر امریکا اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کر دیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے تھے اس معاملہ پر اس وقت کے پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا اس جماعت نے پاکستان میں آتش و خون کا وہ کھیل کھیلا کہ ہر پاکستانی ان سے نفرت کرنے لگا ہے-

    اتنی جماعتوں کے اکٹھ کے بعد ان میں کچھ اختلاف بھی ہوئے جس کے باعث کچھ گروپ تحریک طالبان پاکستان سے الگ بھی ہو گئے
    ٹی ٹی پی کمانڈر احسان اللہ احسان نے اگست 2015 میں تحریک طالبان کے کچھ کمانڈروں کی تنظیم سازی کے عمل پر اختلافات کی وجہ سے اگست 2015 کو جماعت الاحرار کی بنیاد ڈالی اور الگ سے پاکستان پر حملے شروع کئے-

    کافی عرصہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ان جماعتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کا بڑی حد تک خاتمہ بھی کیا تاہم اب ایک بار سے پھر ان گروہوں نے اتحاد شروع کر دیا ہے جس کے باعث نئے حملوں کا خطرہ ہے اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز و عوام کا ایک نیا امتحان شروع ہو گیا ہے-

    پاکستان پر نئے حملوں کی خاطر 7 مارچ 2022 کو قبائلی کمانڈر حافظ احسان اللہ نے اپنے ساتھیوں سمیت تحریک طالبان پاکستان کی بیعت کر لی ہے اور اسی طرح 10 مارچ 2022 کو لکی مروت سے تعلق رکھنے والے مولوی ٹیپو گل کے تین گروپوں نے تحریک طالباں پاکستان کے امیر مفتی نور ولی محسود کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے جس کی تصدیق ترجمان تحریک طالبان محمد خراسانی نے کی ہے-

    یقیناً ان گروہوں کے اتحاد سے ایک بار پھر آتش و خون کا بازار گرم ہو گا مگر ان شاءاللہ رب العالمین کی رحمت اور افواج پاکستان کی قربانیوں سے ان کو بہت جلد بڑی شکشت ہو گی اور امید ہے کہ ان کی یہ شکشت ان کو دوبارہ نا اٹھنے دے گی ،ان شاءاللہ

    پاکستانی فورسز و عوام پہلے بھی یک جان اور تیار تھی اور اب بھی یک جان و تیار ہیں ،اللہ تعالیٰ مملکت خداداد پاکستان کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت فرمائے آمین-

  • امریکا کا پاکستان میں بھارتی میزائل گرنے پر تبصرہ کرنے سے انکار

    امریکا کا پاکستان میں بھارتی میزائل گرنے پر تبصرہ کرنے سے انکار

    امریکا نے پاکستان میں بھارتی میزائل گرنے کے معاملے پر تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزارت دفاع نے واقعے کو حادثہ قرار دیا ہے، میزائل گرنے کے معاملے پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

    بھارت خطےمیں چین اورپاکستان کےمقابلےکیلئےروسی ہتھیاروں کی فراہمی پربے یقینی کا شکار

    نیڈ پرائس نے بھارت میں یورنیم چوری کے واقعے سے اظہار لا علمی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت میں یورنیم چوری کے سلسلے میں گرفتاریوں کا علم نہیں، جوہری ممالک کے ساتھ نیوکلیئر سیفٹی پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے روس یوکرین تنازع پر بات کی، کہا یوکرین پر روسی جارحیت کی 140 ممالک نے مذمت کی، روسی جارحیت پر جنوبی ایشیا میں اتحادیوں سے بھی رابطے میں ہیں۔

    دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت 9 مارچ کو پاکستان میں میزائل گرنے کے واقعے کی مشترکہ تحقیقات کرائے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ واقعہ بھارت کے غیر ذمے دار رویے کو ظاہر کرتا ہے تاہم سلامتی کونسل اور عالمی برادری سنجیدگی سے نوٹس لے۔

    دریں اثنا جانب شاہ محمود قریشی نے جرمن ہم منصب اینالینا بیئربوک سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہاکہ بھارت میزائل پاکستان میں گرنے کو غلطی تسلیم کرنا کافی نہیں جبکہ انہوں نے یوکرین کی صورت حال پر پاکستان کی تشویش سے بھی آگاہ کیا۔

    شاہ محمود قریشی کا جرمن ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان میں بھارتی میزائل گرنے کے معاملے پر بات…

    اس کے علاوہ شاہ محمود قریشی نےایرانی ہم منصب ڈاکٹر حسین امیر عبداللہیان سے بھی گفتگو کی اورمقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف اور کشمیری عوام کی مسلسل حمایت پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنون بھارت نے پاکستان میں میزائل داغنے کو فوج کی ’غلطی ‘قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’انتہائی افسوسناک‘ واقعہ ہے بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ 9 مارچ کومعمول کی دیکھ بھال کے دوران، ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا جو پاکستان کے ایک علاقے میں گرا جس پر حکومت نے سخت نوٹس لیا اور اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔

    بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار نے میڈیا بریفنگ میں بتایا تھا کہ 9 مارچ کو بھارتی حدود سے ایک اُڑتی ہوئی چيز پاکستانی حدود میں داخل ہوئی ، جو میاں چنوں کے مقام پر گری یہ ایک سوپر سونک پروجیکٹ تھا جو ممکنہ طور پر میزائل تھا اور غیر مسلح تھا ، یہ آبجیکٹ بھارت میں سو کلو میٹر اندر تھا، تبھی ہم نے اسے نوٹس کرلیا۔

    پی ڈی ایم کا 23 مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان،حکومتی وزرا کا شدید ردعمل

  • شاہ محمود قریشی کا جرمن ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان میں بھارتی میزائل گرنے کے معاملے پر بات چیت

    شاہ محمود قریشی کا جرمن ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان میں بھارتی میزائل گرنے کے معاملے پر بات چیت

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا جرمن ہم منصب اینالینا بیئربوک سے ٹیلیفونک رابطہ کیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے ٹیلیفونک ملاقات میں بھارتی میزائل پاکستان میں گرنے کا معاملہ اٹھایا کہا کہ بھارتی میزائل پاکستان میں گرنے کو غلطی تسلیم کرنا کافی نہیں، بھارت اس معاملے کی مشترکہ تحقیقات کرائے اور عالمی برادری سنجیدگی سے نوٹس لے۔

    تمام اختیارات وزیراعظم کو دے دیئے گئے،شیخ رشید کا دعویٰ

    شاہ محمود قریشی نے یوکرین کی صورت حال پر پاکستان کی تشویش سے بھی جرمن وزیر خارجہ کو آگاہ کیا اور بتایا کہ وہ اپریل میں جرمن وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنون بھارت نے پاکستان میں میزائل داغنے کو فوج کی ’غلطی ‘قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’انتہائی افسوسناک‘ واقعہ ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ معمول کی دیکھ بھال کے دوران، ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے بدھ کو میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا جو پاکستان کے ایک علاقے میں گرا واقعے میں کسی انسانی جان کے نقصان کا نہ ہونا باعث اطمینان ہے۔

    اس حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی اور بتایا تھاکہ 9 مارچ کو 6 بج کر 33 منٹ پر بھارتی حدود سے ایک ‘چیز’ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی یہ ایک سوپر سونک پروجیکٹ تھا جو ممکنہ طور پر میزائل تھا اور غیر مسلح تھا، یہ آبجیکٹ بھارت میں سو کلو میٹر اندر تھا، تبھی ہم نے اسے نوٹس کرلیا۔

    سارا پنڈ مرجائے میراثی کی باری نہیں آنی،لیگی رہنما کا حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ بننے کے سوال پر ردعمل

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود میں وہ چیز 3 منٹ اور چند سیکنڈ تک رہی اور 260 کلومیٹر اندر تک سفر کیااس کے خلاف ضروری کارروائی بروقت کرلی گئی، پاک فضائیہ نے اس کی مکمل نگرانی کی اورپتا چلایا کہ وہ بھارتی علاقے سرسا سے آئی تھی پاکستان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے،بھارت کو اس واقعے کی وضاحت دینی ہوگی، پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے، ہم اس واقعے پر کسی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں کر رہے۔

    نائب امیر جماعت اسلامی کا پیکا آرڈی نینس کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ

  • بھارت خطےمیں چین اورپاکستان کےمقابلےکیلئےروسی ہتھیاروں کی فراہمی پربے یقینی کا شکار

    بھارت خطےمیں چین اورپاکستان کےمقابلےکیلئےروسی ہتھیاروں کی فراہمی پربے یقینی کا شکار

    روس کے یوکرین پر حملے کے نتیجے میں امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد ہونے کے بعد بھارت روسی ہتھیاروں کی فراہمی میں بڑی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے مختلف راستے تلاش کرنے لگا ہے تاکہ وزیراعظم نریندر مودی کو سرحد میں چین کے ساتھ درپیش مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ بھارت کے 60 فیصد دفاعی ہتھیار روس سے آتے ہیں، اور بیک وقت بھارت چین سے ایک علاقائی تنازع پرمشرقی لداخ میں دو سال سے سرحدی تناؤ کا سامنا ہے جہاں ہزاروں فوجی ہمہ وقت تیار ہیں۔

    81 افراد کو سزائے موت: ایران نے سعودی عرب کیساتھ مذاکرات ملتوی کر دیئے

    قبل ازیں 2020 میں اس تنازع میں فائرنگ کے نتیجے میں بھارت کے 20 جبکہ چین کے 4 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

    بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ شیام سارن نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ اگر امریکا اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اسے روس کی طرف سے بڑے خطرے کا سامنا ہے اور یہ چین کے ساتھ اسٹریٹجک سہولیات کا جواز پیش کرے اور ایشیا میں چینی تسلط کے پیش نظر اپنے یورپی حصے کی حفاظت کرے گا تو یہ بھارت کے لیے یہ ڈراؤنا خواب ہوگا۔

    کیا چین یوکرین سے سبق حاصل کرتے ہوئے متنازع لداخ یا تائیوان میں جارحیت کرے گا؟

    بھارت کے سابق سفارت کار اور جندال اسکول آف انٹرنیشل افئیرز کے فیلو جیتندر ناتھ مشرا نے اس سوال کا جواب دیا کہ بالکل یہ ممکن ہے کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے یوکرین میں روسی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ووٹنگ سے باز رہنے کے بعد ہندوستان کے ساتھ حل نہ ہونے والے اختلافات کے بارے میں بات کی ہےبھارتی وزیر اعظم مودی کی جانب سے تاحال روس کی یوکرین میں جارحیت پر اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی قرارداد میں روس کے خلاف ووٹ ڈالنے یا روسی صدر پر تنقید کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

    ہم دنیا کوتیسری عالمی سےبچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا…

    1990 کی دہائی کے اوائل میں، تقریباً 70% ہندوستانی فوج کے ہتھیار، 80% فضائیہ کے نظام اور 85% بحریہ کے پلیٹ فارم سوویت نژاد تھے تاہم ہندوستان اب روسی ہتھیاروں پر اپنا انحصار کم کر رہا ہے اور اپنی دفاعی خریداری میں تنوع پیدا کر رہا ہے، امریکہ، اسرائیل، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک سے زیادہ خریداری کر رہا ہے۔

    انٹرنیشنل پیس رسرچ انسٹیٹیوٹ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق،2016 سے 2020 تک روس سے بھارت کو تقریباً 49% تک دفاعی ہتھیاروں کی برآمدات ہوئیں جب کہ فرانس سے 18% اور اسرائیلی سے 13% دفائی ہتھیاروں کی برآمدات ہوئیں۔

    بھارت کے سابق فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہڈا نے کہا کہ ہندوستان نہ صرف روسی ہتھیاروں پر انحصار کرتا ہے بلکہ وہ اپنے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی طرف بڑھتے ہوئے فوجی اپ گریڈیشن اور جدت کے حوالے سے ماسکو پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

    گیند لگنے پر انتہا پسند ہندوؤں نے 17 سالہ مسلم نوجوان کو قتل کر دیا

    انہوں نے کہا کہ روس وہ واحد ملک ہے جس نے بھارت کے لیے ایک جوہری آبدوز لیز پر دی، کیا کوئی دوسرا ملک بھارت کو جوہری آبدوز لیز پر دے گا ؟

    سنٹر فار پالیسی ریسرچ کے ایک سینئر فیلو سوشانت سنگھ نے کہا کہ بھارت کی بحریہ کے پاس ایک طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔ یہ روسی ہے صرف یہی نہیں بلکہ بھارت کے لڑاکا طیارے اور اس کے تقریباً 90 فیصد جنگی ٹینک روسی ہیں۔

    1987 میں، بھارتی بحریہ نے تربیت کے لیے سابق سوویت یونین سے ایک چارلی کلاس جوہری کروز میزائل آبدوز چیکرا ون لیز پر لی تھی اور اس کے بعد اس کی جگہ ایک اور آبدوز میزائل چیکرا ٹو حاصل کی تھی۔

    بھارت نے 2019 میں نے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ کرکے 10 سال کی لیز پر جوہری طاقت سے حملہ کرنے والی آبدوز اکولاون بھی حاصل کی تھی جو ممکنہ طور پر 2025 تک فراہم کی جائے گی۔

    بھارت نے اپنا واحد طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرمادتیہ 2004 میں روس سے خرید کیا تھا اور پہلا 40 ہزار ٹن بحری طیارہ اگلے سال تک بیڑے میں شامل ہونے سے پہلے سمندری مشقوں سے گزر رہا ہے۔

    بھارت کے پاس چار جوہری طاقت سے چلنے والی بیلسٹک میزائل آبدوزیں بھی زیر مراحل ہیں۔

    مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    بھارت کی فضائیہ کے پاس اس وقت 410 سے زیادہ سوویت یونین ساختہ اور روسی لڑاکا طیارے ہیں، جس میں درآمد اور لائسنس شدہ پلیٹ فارم بھی شامل ہیں ہندوستان کی روسی ساختہ فوجی ساز و سامان کی فہرست میں آبدوزیں، ٹینک، ہیلی کاپٹر، آبدوزیں، فریگیٹس اور میزائل بھی شامل ہیں۔

    جیتندر ناتھ مشرا نے کہا کہ امریکا نے بھارت کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے کوئی امادگی ظاہر نہیں کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں اپنے امریکی دوستوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ آپ نے ہمیں کس قسم کی دفاعی ٹیکنالوجی دی ہے؟ امریکا ایف-16 طیاروں کو دوبارہ تیار کرکے ایف-21 کے طور پر پیش کر رہا ہے بھارت کے نکتہ نظر میں ایف-16 طیارہ پرانا ہو چکا ہے، ہم نے 1960 میں ایم آئی جی-21 لیا تھا کیونکہ بھارت کو ایف- 104 سے انکار کیا گیا تھا اور ہمیں چیزیں ویسی ہی نظر آرہی ہیں۔

    امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے سیکیورٹی معاہدے AUKUS کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا آبدوز کی تیاری کے لیے جوہری ٹیکنالوجی آسٹریلیا کو تو دے رہا ہے مگر بھارت کو دینے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔

    آسٹریلیا نے گزشتہ برس ستمبر میں فرانس سے ڈیزل الیکٹرک آبدوز خریدنے کے لیے اپنا اربوں ڈالرز کا معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ہم انڈو پیسفک دفاعی معاہدے کے تحت امریکا سے جوہری طاقت رکھنے والے ہتھیار خریدیں گے۔

    بھارت میں اوباش نوجوانوں کے گروہ کا دو خواتین کا سرعام جنسی استحصال

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران، امریکہ اور بھارت نے 3 بلین ڈالر سے زائد کے دفاعی معاہدے کیے تھے۔ دو طرفہ دفاعی تجارت 2008 میں صفر کے قریب سے بڑھ کر 2019 میں 15 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔

    بھارت کی امریکا سے اہم خریداری میں ہتھیاروں میں دور تک مار کرنے والا سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ، سی-130 ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ، میزائل اور ڈرون شامل تھے۔

    جیسے جیسے یوکرین کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، ہندوستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ روس کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کو کیسے روکا جائے۔

    امریکا کی جانب سے اپنے شراکت داروں کو روسی فوجی ساز وسامان کی خریدار سے گریز کرنے کے مطالبے کے بعد بھارت کو ماسکو کے ساتھ روسی ایس-400 میزائل سسٹم کے معاہدے نے امریکی پابندیوں کے خطرات میں ڈال دیا ہے۔

    ایس-400 ایک جدید ترین فضائی دفاعی نظام ہے اور اس سے بھارت اپنے حریفوں چین اور پاکستان کے خلاف اسٹریٹجک برتری حاصل ہونے کی امیدلگائے بیٹھا ہے۔

    نئی دہلی خطے میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے واشنگٹن اور ‘کواڈ’ کے طور پر قائم انڈو-پیسفک سیکیورٹی اتحاد میں شامل اپنے اتحادیوں سے مدد مانگ چکا ہے، جس میں آسٹریلیا اور جاپان بھی شامل ہیں۔

    بھارتی بحریہ کے ایک ریٹائر ایڈمرل ایس سی ایس بنگارا نے بھارت کی سوویت ہتھیاروں کے حصول کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 1962 میں چین کے ساتھ جنگ کے بعد ہتھیاروں اور گولہ بارود کی خریداری شروع کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے نتیجے میں امریکا نے چین کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی، پاکستان کے پاس ایک سہولت کار کے طور پر ترپ کا پتہ ہے جس کو پاک-بھارت تنازع کی صورت میں امریکی حکومت کی مکمل حمایت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان دسمبر1971 میں ہونے والی جنگ کے دوران امریکا نے پاکستان کی حمایت میں خلیج بنگال میں یو ایس ایس انٹرپرائز کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس تعینات کی تھی جبکہ اسی طرح کی تعیناتی سوویت یونین کی بحریہ نے بھی بھارت کی حمایت میں کی تھی۔

    دونوں طرف سے تعینات کی جانے والی فورسز کا جنگ کے دوران مداخلت کرنا یا نتائج پر اثر انداز ہونا نہیں تھا لیکن دونوں طاقتوں کی طرف سے اپنا سفارتی مؤقف پیش کردیا گیا۔

    بنگارا کا کہنا تھا کہ 1960 میں بھارت نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے سوویت یونین سے متعدد معاہدے کیے جو 40 سال تک جاری رہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ اتنا آسان نہیں تھا، خاص طورپر جب سوویت یونین ٹوٹ گیا تھا، جب سوویت یونین متعدد چھوٹی ریاستوں کی صورت میں بکھر گیا تو امداد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تربیتی سہولیات کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔

    بنگارا نے کہا کہ یہاں تک کہ اگر بھارت اپنے دفاعی ضرورت کے لیے امریکا، اسرائیل، فرانس اور دیگر ممالک سے راہ ہموار کرتا بھی ہے تو اس کو روسی سازوسامان اور آلات پر اپنا انحصار ختم کرنے میں 20 سال لگ سکتے ہیں۔

    شدید مالی مشکلات کا سامنا:امریکا میں افغان سفارت خانہ ایک ہفتے میں بند ہوجائے گا

  • 172 کی بجائے 182 ووٹ بھی دے دیں تو وزیراعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،فیصل واوڈا

    172 کی بجائے 182 ووٹ بھی دے دیں تو وزیراعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ نہ وزیراعظم جارہا ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ۔

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ172 تو کیا، 182 ووٹ دے دیں تو بھی وزیراعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں نہ وزیراعظم جارہا ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ۔

    کپتان کے لیے مولانا کا خصوصی پیغام ۔ آج رات دس بجکر تین منٹ پر ۔صرف پی این این نیوز پر

    https://twitter.com/FaisalVawdaPTI/status/1503328042747318274?s=20&t=H4DULSK512i9meCOUYQHAA

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہوگی۔


    انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’انشا اللہ پاکستان کی تاریخ کا ’سب سے بڑا جلسہ‘ آزادی چوک اسلام آباد میں27 مارچ بروز اتوار کو ہوگا جس کے دوران وزیر اعظم عمران خان تاریخی خطاب کریں گے،عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہو گی، اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد میں بھرپور ناکامی ہوگی، وزیراعظم عمران خان پر اعتماد پلس ہوجائے گا۔

    تحریک انصاف حکومت کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں ہورہی،مریم اورنگزیب

    کئی ہفتوں تک مشاورت اور مسلسل اجلاس منعقد کرنے کے بعد اپوزیشن نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت قرارداد جمع کرانے کے علاوہ اپوزیشن نے آئین کے آرٹیکل 54 (3) کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔

    آئین کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ریکوزیشن نوٹس جمع کرانے کے بعد 14 دن کے اندر اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انہیں 22 مارچ تک قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا ہوگا اور تین سے سات دن کے اندر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانا ہوگی۔

    حکومت اگلی حکومت کیلئے ایٹم بم بچھا رہی ہے،مفتاح اسماعیل

  • بھارت نے واہگہ بارڈر سے پاکستان جانیوالوں کیلئے اسپیشل اجازت نامہ کی پابندی ختم کردی

    بھارت نے واہگہ بارڈر سے پاکستان جانیوالوں کیلئے اسپیشل اجازت نامہ کی پابندی ختم کردی

    لاہور: بھارت نے واہگہ بارڈر کے راستے سفر کرنے والے مسافروں کے لیے بھارتی وزارت داخلہ سے اسپیشل اجازت لینے کی پابندی ختم کردی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مارچ 2020ء میں پاکستان اور بھارت نے کورونا وبا کی وجہ سے واہگہ یعنی اٹاری بارڈ مسافروں کی آمدورفت کے لیے بند کردیا تھا تاہم کورونا کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد پاکستان نے 17 اگست 2021ء کو اپنی طرف سے بارڈر کھول دیا تھا لیکن بھارت کی طرف سے ابھی تک بارڈربند تھا جسے پیر کے روز کھول دیا گیا ہے۔

    بھارتی وزیرخارجہ کی درخواست، پاکستان نے واہگہ بارڈر خصوصی طور پر کھول دیا، 41 پاکستانی بھارت روانہ

    بھارت کی طرف سے واہگہ ، اٹاری بارڈر کے راستے پاکستان آنے کے لیے اسپیشل اجازت کی پابندی ختم ہونے کے بعد پیر کے روز بھارتی شہریوں کا 50 رکنی وفد لاہور پہنچا ہے۔

    سردار دیپک منموہن سنگھ کی سربراہی میں آنے والے بھارتی وفد میں پنجابی ادیب، دانشور، شاعر اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہیں وفد لاہور میں ورلڈ پنجابی کانگریس کے زیر اہتمام پانچ روزہ انٹرنیشنل پیس اینڈ لٹریچر کانفرنس میں شریک ہوگا۔

    کرتارپورراہداری نے تقسیم ہند میں بچھڑے بھائیوں کوملادیا

    بھارت کی طرف سے اسپیشل اجازت کی پابندی ختم ہونے کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے 75 سال بعد اپنے بڑے بھائی سے ملنے والے حبیب عرف سکا خان بھی اب واہگہ کے راستے پاکستان آسکیں گے۔

    حبیب عرف سکا خان کو پاکستانی ہائی کمیشن نے گزشتہ ماہ ویزا جاری کیا تھا تاہم اسے پاکستان اپنے بڑے بھائی محمد صدیق اور خاندان کے پاس آنے کے لیے بھارت کی وزارت داخلہ کی طرف سے اسپیشل اجازت کا انتظار تھا۔

    یوم آزادی کے موقع پر واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب: فضا میں ‘اللہ اکبر’ کی گونج

  • پی آئی اے کو آسٹریلیا کیلئے براہ راست پرواز کی اجازت مل گئی

    پی آئی اے کو آسٹریلیا کیلئے براہ راست پرواز کی اجازت مل گئی

    لاہور: آسٹریلوی حکومت کی سول ایوی ایشن سیفٹی اتھارٹی کی جانب سے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو سڈنی کے لیے براہ راست پروازوں کی لینڈنگ کی اجازت مل گئی ہے-

    باغی ٹی وی : پی آئی اے نے آسٹریلیا کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی اور پہلی پرواز 22 اپریل کو لاہور سے پی کے9808 سڈنی کے لیے پرواز کرے گی جبکہ پرواز 24 اپریل کو سڈنی سے لاہور کے لیے روانہ ہوگی۔

    پاکستان سے براہ راست آسٹریلیا جا نے والے مسافروں کیلئے اچھی خبر

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے لاہور سے ہفتہ وار ایک پرواز آپریٹ کرے گی جبکہ آسٹریلیا کے لیے بوئنگ 777 لانگ رینج استعمال ہوں گے اور پی آئی اے دوسرے مر حلے میں کراچی سے سڈنی کے لیے پرواز شروع کر ے گی۔

    انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے لیے براہ راست پرواز شروع کر نے سے ہم وطنوں کوعید سے قبل سفری سہولت میسر ہو گی۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق سڈنی کے لیے براہ راست پرواز سے 35 گھنٹے کا سفر 12 میں طے ہو گا۔

    سعودی عرب نے 17 ممالک کی ایئرلائنز پرعائد پابندیاں ختم کردیں

    قبل ازیں ترجمان پی آئی اے نے بتایا تھا کہ آسٹریلیا ایوی ایشن اتھارٹی سے طیاروں کی لینڈنگ کی اجازت کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے لہٰذا آسٹریلین ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اجازت ملتے ہی پی آئی اے آپریشن شروع کر دے گی۔

    خیال رہے کہ آسٹریلیا نے کورونا وبا کے باعث سیاحوں کے لیے سرحدیں کھولنے کا اعلان گزشتہ ماہ کیا تھا آسٹریلیا نے مارچ 2020 میں کورونا کے باعث آسٹریلیا آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی تھی اس حوالے سے گزشتہ ماہ 15 فروری کو وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ آئندہ دو ہفتوں میں تعطیلات گزارنے کے لیے آنے والے تمام غیر ملکی سیاحوں کو آسٹریلیا میں خوش آمدید کہیں گے۔

    کورونا کیسز میں اضافہ:چین کے شہر چانگچن میں لاک‌ ڈاؤن نافذ

  • عمران صاحب واقعی آلو ٹماٹرکی قیمت ٹھیک کرنےنہیں بلکہ ملک اورعوام کا کباڑہ کرنے آئے تھے،شہباز شریف

    عمران صاحب واقعی آلو ٹماٹرکی قیمت ٹھیک کرنےنہیں بلکہ ملک اورعوام کا کباڑہ کرنے آئے تھے،شہباز شریف

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے کہا کہ عمران صاحب!آپ پاکستان کے دوستوں کو ناراض کرنے آئے تھے، وہ ایجنڈا آپ نے پورا کردیا دنیا میں پاکستان کو تیسرا مہنگا ترین ملک آپ بنا چکے ہیں، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی کی قیامت برپا کر چکے ہیں اب گھر جائیں-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی جانب سے پی ٹی آئی کے زیر اہتمام حافظ آباد میں منعقدہ جلسہ عام سے کی جانے والی تقریر پر اپنے ردعمل میں شہباز شریف نے کہا کہ عمران صاحب!آپ واقعی آلو ٹماٹر کی قیمت ٹھیک کرنے نہیں آئے تھے بلکہ ملک اورعوام کا کباڑہ کرنے، سقوط کشمیر، سی پیک کو روکنے اور کرپشن میں پاکستان کے 24 درجے بڑھانے آئے تھے،یہ تباہی آپ نے کر دی ہے، اب گھر جائیں۔

    وزیراعظم سورۃ الحجرات پڑھ لیتےتوسیاستدانوں کوبُرےناموں اورالقاب سےنہ پکارتے،چوہدری شجاعت حسین

    شہباز شریف نے وزیراعظم کی تقریر پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے دوستوں کو ناراض کرنے آئے تھے، آپ پاکستان کی معاشی خود مختاری آئی ایم ایف کے حوالے کرنے آئے تھے، وہ ایجنڈا آپ نے پورا کر دیا، آپ ڈالر کی قیمت 125 سے 180 کرنے آئے تھے، معیشت کی یہ تباہی آپ نے پوری کامیابی سے کر دی ہے، فارن فنڈنگ کی کالی دولت کی مدد سے جو گند ڈالنے آئے تھے، وہ آپ پھیلا چکے ہیں آپ نے پاکستان کی 6 فیصد گروتھ روکنے اور کم ترین 3 فیصد مہنگائی کو تاریخ کی بلند ترین 26 فیصد پر لے جانے کا ایجنڈا پورا کردیا

    وزیراعظم گھبرا چکے ہیں اور گالیاں دینے پر اتر آئے ہیں،بلاول زردای

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے وزیراعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنا بنی گالہ کا غیرقانونی محل، حرام دولت حلال کرنے کی اسکیمیں دینے آئے تھے آپ! پٹرول کی قیمت 96 روپے سے 160 کرنے آئے تھے آپ آٹا 35 روپے سے 100 روپے، چینی 52 سے 130 روپے کلو اور بجلی 11 روپے سے 26 روپے فی یونٹ کرنے آئے تھے گیس کی قیمت میں 100 فیصد، دوائی کی قیمت میں 500 فیصد اضافہ کرچکے ہیں، گھی کی قیمت 140 سے بڑھ کر 440 روپے کلو تک بھی پہنچا چکے ہیں۔

    میاں شہباز شریف نے کہا کہ آپ قوم کا آٹا چینی کھاد چھننے آئے تھے، یہ کام آپ کامیابی سے انجام دے چکے ہیں، اخلاقیات کا جنازہ نکالنے آئے تھے، وہ آپ کر چکے ہیں دنیا میں پاکستان کو تیسرا مہنگا ترین ملک آپ بنا چکے ہیں، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی کی قیامت برپا کر چکے ہیں عمران صاحب! آپ کا کام پورا ہوگیا، اب گھر جائیں اور مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی کی ماری قوم کو سکھ کا سانس آنے دیں۔

    عدم اعتماد کے دن شاہراہ دستور پر 20 لاکھ لوگ لائیں گے، ن لیگی رہنما احسن اقبال