Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • فرانس نے پاکستان کو ریڈ لسٹ والے ممالک سے نکال دیا

    فرانس نے پاکستان کو ریڈ لسٹ والے ممالک سے نکال دیا

    فرانس نے پاکستان کو ریڈ لسٹ والے ممالک سے نکال کر سفری پابندیوں میں نرمی کردی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کے وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی ریڈ لسٹ ممالک کی فہرست سے پاکستان کو نکال کر اورینج لسٹ میں شامل کر لیا ہے جس کے بعد سفری پابندیاں بھی نرم ہوگئیں۔

    کوروناوبا: آسٹریلیا کا 2 سال بعد فضائی اور زمینی سرحدیں کھولنے کا اعلان

    ریڈ لسٹ سے نکالے جانے کے بعد پاکستانی مسافروں کو اب فرانس آنے جانے کے لیے قرنطینہ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی تاہم مسافروں کو فرانس کے سفر کے لیے منظور شدہ ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانا لازمی ہو گا۔

    کورونا کے باعث بند سرحدیں جلد کھول دی جائیں گی: وزیر اعظم نے خوشخری سنا دی

    واضح رہے کہ کورونا کے باعث فرانس نے پاکستان پر پابندی عائد کرتے ہوئے ریڈ لسٹ میں شامل کر رکھا تھا فرانس نے کورونا کی صورت حال کے پیش نظر مختلف ممالک کو تین رنگوں کی درجہ بندی میں رکھا ہے، جس کے تحت پہلی سبز دوسری اورنج تیسری ریڈ زیادہ خطرے والی ہے، ان تینوں ممالک سے آنے والوں کو حکومت کی جانب سے منظور شدہ کورونا ویکسین کی دونوں خوارکیں لگوانا لازمی ہے جبکہ ریڈ لسٹ والے ممالک سے آنے والوں کو قرنطینہ اور پھر کورونا ٹیسٹ منفی آنا لازمی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا نے کورونا وبا کے باعث سیاحوں کے لیے سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا تھا آسٹریلیا نے آئندہ دو ہفتوں میں ویکسین کا کورس مکمل کرنے والے سیاحوں کے لیے ملکی سرحدیں کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہےاس حوالے سے وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آئندہ دو ہفتوں میں تعطیلات گزارنے کے لیے آنے والے تمام غیر ملکی سیاحوں کو آسٹریلیا میں خوش آمدید کہیں گے-

    امریکا:کورونا وائرس سے لوگ مررہے ہیں مگرحکومت کوکوئی پرواہ تک نہیں‌:اموات 9 لاکھ…

    آسٹریلیا نے زیرو کورونا پالیسی کے تحت ملک میں سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اور گزشتہ دو سال سے غیر ممالک میں مقیم آسٹریلوی شہریوں کو بھی وطن واپسی کی اجازت نہیں دی گئی تھی تاہم کورونا کی نئی شکل اومی کرون کے دنیا میں غیر معمولی پھیلاؤ کے سبب وزیراعظم اسکاٹ موریسن کورونا سے متعلق اپنی زیرو کورونا پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    اومی کرون کا خوف: سعودی عرب نے سفری پابندیاں مزید سخت کردیں

  • آصف زرداری کی طبعیت اچانک ناساز: ملنا جُلنا چھوڑدیا :     ملاقاتیں بھی منسوخ

    آصف زرداری کی طبعیت اچانک ناساز: ملنا جُلنا چھوڑدیا : ملاقاتیں بھی منسوخ

    لاہور:آصف زرداری کی طبعیت اچانک ناساز:ملنا جُلنا چھوڑدیا:ملاقاتیں بھی منسوخ،اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہوگئی ہے۔اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری سے ملنے والوں کوروک دیا گیا ہے اور دوسری طرف سیاسی ملاقاتیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں

    ذرائع کے مطابق حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی راہ ہموار کرنے کا مشن لئے مختلف سیاسی جماعتوں سے ملاقات کرنے والے سابق صدر آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہوگئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ طبیعت ناسازی کے باعث ذاتی معالج نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے، جس پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے اپنی تمام سیاسی مصروفیات ترک کردیں ہیں۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لئے آصف زرداری چند روز قبل سرگرم ہوئے تھے اور انہوں نے اپنا پڑاؤ پنجاب میں ڈالا ہوا تھا۔سات فروری کو آصف زرداری نے مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی تھی، آصف زرداری کی چوہدری برادران سے ملاقات دو گھنٹے جاری رہی اور ملاقات کے دو دور ہوئے۔

    اس ملاقات میں دونوں جانب سے پرانی یادیں تازہ کی گئیں جب دونوں اتحادی تھے، سابق صدر زرداری نے کہا کہ ہم جب اتحادی تھے تو پرویز الٰہی ڈپٹی وزیراعظم تھے اور ہم نے وہ وقت بڑا اچھا گزارا۔اس موقع پر پرویز الٰہی نے کہا کہ ہمیں یادہےکہ آپ کے22اورہمارے17وزیرتھے، آپ بڑےدل والےہیں۔

    پانچ فروری کو آصف زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے دئیے گئے عشائیہ میں شرکت کی تھی، جو کہ بعد ازاں سیاسی میٹنگ میں تبدیل ہوا۔اس موقع پر آصف زرداری نے کہا کہ سینیٹ، قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے، عمران خان کو گھر بھیجنے کا بہترین راستہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔جس پر شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں مشاورت کے لیے وقت دیں آپ کی تجویز قابل عمل ہے، تسلیم کرتا ہوں تحریک عدم اعتماد پر ن لیگ آپس میں متحد نہیں تھی۔

  • "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے          کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    کراچی:”چوری دے کپڑے تےڈانگاں دے گز”قوم کے خون پسینے کی کمائی:کرکٹ کے میدان سے تہلکہ خیزرپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق پچھلے چند گھنٹوں سے میڈیا پر کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں جن کو دیکھ کر قوم پریشان ہے کہ کس طرح ایک ایک فرد پر سالانہ کروڑوں روپے بہائے جارہے ہیں‌، یہ خبران حلقوں کے لیے تو شاید پریشانی کا باعث نہ ہوجو اس بٹوارے میں شامل ہیں لیکن غریب عوام جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس پر ٹیکس ادا کررہےہیں ان افسران کی تنخواہیں اور مراعات دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے ہیں

    اس حوالے سے منطرعام پرآنے والے تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی کے سی او او کی ’’ترقیاں‘‘ آڈٹ میں نمایاں ہو گئیں جب کہ فروری 2019 میں سینئر جنرل منیجر لیگل سے چیف آپریٹنگ آفیسر بننے پر تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔یہ حقائق اور اعدادوشمار یہ بتا رہے ہیں کہ قومی دولت کے کس طرح بٹیارے کیئے گئے ،ایک شخص کو راتوں رات اس قدر نوازنے کا آخرراز کیا ہے ،

     

     

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 ستمبر 2011 کو سلمان نصیر کا بطور منیجر لیگل بغیر کوئی اشتہار جاری کیے ابتدائی طور پر90 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت سے تقرر ہوا،اس کے بعد مختصر وقت کے لیے ان کی دیگر حیثیتوں میں تقرری/ ترقی ہوتی رہی۔پی سی بی ذرائع کا ہی کہنا ہے کہ یہ ترقیاں غیرقانونی تھیں جن کے لیے نہ تو کوئی قواعد وضوابط طئے تھے اور نہ اس کی پی سی بی کے آئین میں گنجائش ہے

    15 جولائی 2012 تک وہ منیجر لیگل ہی رہے،16 جولائی 2012 سے4 نومبر 2013 تک 16 ماہ تک منیجر لیگل آنری رہے، تنخواہ30 ہزارماہانہ کے اضافے سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہو گئی، 5 نومبر 2013 سے3 مارچ 2015 تک80ہزار تنخواہ بڑھنے سے وہ بطور منیجر لیگل16 ماہ تک2 لاکھ ماہانہ وصول کرتے رہے، پھر ان کے عہدے میں سینئر اور چیک پر35 ہزار ماہانہ کا اضافہ ہوا۔
    سینئر منیجر لیگل کی حیثیت سے سلمان نصیر نے 4 مارچ 2015 سے7 مارچ 2016 کے درمیان 12 ماہ تک ماہانہ 2 لاکھ 35 ہزار روپے لیے،پھر تنخواہ تو 15 ہزار بڑھی لیکن وہ جنرل منیجر لیگل بن گئے،8 مارچ 2016 سے یکم جولائی 2018 تک28ماہ تک انھیں ہر ماہ ڈھائی لاکھ روپے دیے جاتے رہے،پھر عہدے میں سینئر اور تنخواہ میں 25 ہزار کا اضافہ ہوا، بطور سینئر جنرل منیجر وہ یکم جولائی 2018 سے 11 فروری 2019 تک 7 ماہ تک 2 لاکھ 75 ہزارروپے ماہانہ پاتے رہے۔

    اس کے بعد سلمان نصیر کی قسمت نے پلٹا کھایا اور انھیں 12 فروری 2019 کو چیف آپریٹنگ آفیسر بنا دیا گیا، تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا اور وہ 2 لاکھ 75 ہزار سے 11 لاکھ روپے ماہانہ ہو گئی۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق اپنے دور ملازمت میں سلمان30 جولائی 2021 تک3 کروڑ 64 لاکھ 65 ہزارروپے وصول کر چکے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تو ان کی تنخواہ مزید اضافے سے 12 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ ہو چکی۔

    رپورٹ کے مطابق انھیں ملازمت پررکھنے سے قبل اخبار میں کوئی اشتہار دیا گیا نہ ہی کم از کم تعلیمی قابلیت، تجربے اور عمر کا خیال رکھا گیا،سلمان نصیر کو مختصر وقت میں بغیر کسی توجہیہ پیش کیے ہائیر اسکیل کی پوسٹس پر تعینات کیا جاتا رہا۔

    آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیاکہ بغیر اشتہار سلمان نصیر کی بطور منیجر لیگل تقرری، معاہدے کے دور میں بار بار پروموشنز،ایک سال میں اعلیٰ عہدے پرتقرر بے قاعدہ،غیرمجاذ اور پی سی بی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بغیر کوئی اشتہار دیے ان کی بطور چیف آپریٹنگ آفیسر تعیناتی بھی خلاف ضابطہ ہے۔

    12 جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈے اے سی) نے مینجمنٹ کو معاملے کی تحقیقات،ذمہ داری کے تعین اور رپورٹ آڈٹ کے ساتھ شئیر کرنے کا بھی کہا تھا۔

    دوسری طرف یہ خطرناک اور تہلکہ خیز انکشافات سامنے آنے پر عوام الناس میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے ، عوام الناس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کرٹیکس دے رہے ہیں اور کرکٹ بورڈ اس قدر عیاش ہےکہ بورڈ کےسب افراد ملکر قومی دولت کے بٹوارے کررہےہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے غریبوں پرشاید لکھ دیاگیا ہے کہ وہ دن رات محنت کریں اور ان کی کمائی پرکرکٹ بورڈ عیاشی کرے

  • مودی کا میڈیا پرسخت شکنجہ

    مودی کا میڈیا پرسخت شکنجہ

    نئی دہلی :سب سے پہلےہندوستان:مودی نے میڈیا پرشکنجہ کس دیا:اب کون کرے گا مودی کی مذمت:شریف برادران یا قوم کا ہمدرد میڈیا ،مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت نے صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے ایک نئی اور سخت پالیسی بنائی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی صحافی کا رویہ بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کے منافی ہو یا اس کی تحریروں سے سکیورٹی، دیگر ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، اخلاقیات یا شائستگی کو نقصان پہنچتا ہو، یا وہ توہین عدالت، کسی کی توہین یا جرم کو بھڑکانے کا سبب بنتی ہوں، توایسے صحافی ایکریڈیٹیشن سے محروم کر دیا جائے گا ۔

    حکومت نے دس ایسے نکات بتائے ہیں، جن کی بنیاد پر صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن معطل کی جاسکتی ہے۔ ان میں کسی صحافی پر ”سنگین قابل سزا جرم” کا الزام عائد کیا جانا بھی شامل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے لیے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس یا وزیٹنگ کارڈز وغیرہ پر ‘بھارتی حکومت سے تسلیم شدہ’ لکھنا بھی ممنوع ہو گا۔ ماضی میں کسی صحافی کی ایکریڈیٹیشن کے وقت ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی جاتی تھی۔

    نئی شرائط کا مقصد صحافیوں پر کنٹرول

    ایکریڈیٹڈ صحافیوں کو وفاقی حکومت کے تقریباً تمام سرکاری محکموں اور دفاتر تک آسانی سے رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کارڈ کی بدولت انہیں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ بھارتی صدر اور وزیر اعظم کے بعض پروگرامو ں میں شرکت کے لیے بھی یہ ‘پریس کارڈ’ ضروری ہوتا ہے۔ اسے عرف عام میں ‘پی آئی بی کارڈ’ کہا جاتا ہے۔

    صحافیوں کی تنظیموں نے پی آئی بی کارڈ کے لیے نئے ضابطوں کے اعلان پر سخت تنقید کی ہے اور حکومتی طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے سیکرٹری سنجے کپور نے کہاکہ یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہے اور حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے قبل صحافیوں کی کسی تنظیم سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔

    ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے سیکرٹری سنجے کپور اور بھارتی صحافی اور پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت لکھیڑا بھی سنجے کپور کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دراصل حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے صحافیوں کو الگ تھلگ کر دینے کی کوشش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب کون مودی کی ان حرکتوں پر مودی کی مذمت کرے گا صحافیوں کے پیشے کا امتحان ہے

    بھارتی پریس قوانین کے مطابق کسی صحافی کو پی آئی بی کارڈ جاری کرنے سے قبل ایک کمیٹی اس کے جملہ کوائف کا جائزہ لیتی ہے، اس کے بعد پولیس کی خفیہ شاخ اس صحافی سے متعلق رپورٹ دیتی ہے اور کئی مراحل کی تکمیل کے بعد ہی یہ کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کی تنظیموں نے اس پر بھی اعتراض کیا ہے کہ جو نئی کمیٹی بنائی گئی ہے، اس میں سرکاری عہدیداروں کی تعداد غیر ضروری حد تک بڑھا دی گئی ہے۔

    پی آئی بی ایکریڈیٹڈ صحافیوں کی تنظیم پریس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے صدر سی کے نائیک نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ پہلے کمیٹی میں زیادہ سے زیادہ 12سرکاری عہدیدار ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کی تعداد بڑھا کر 18 کر دی گئی ہے جب کہ میڈیا اداروں سے وابستہ ارکان کی تعداد 12سے گھٹا کر چھ کر دی گئی ہے۔

    پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت کا کہنا تھا کہ میڈیا اداروں کے نمائندے اب اقلیت میں ہو گئے ہیں اور چونکہ ایکریڈیٹیشن کا کوئی بھی فیصلہ اکثریتی رائے سے ہوتا ہے، اس لیے اب حکومت اپنی من مانی کر سکتی ہے۔

    سنجے کپور کہتے ہیں کہ یہ واضح طور پر پریس کی آزادی پر حملہ ہے، ”یوں بھی اس وقت بھارت میں پریس کی آزادی کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ حکومت نے پریس کی آزادی کے حوالے سے اپنے بیانیے گڑھ لیے ہیں۔ اب حکومت ہی طے کرتی ہے کہ پریس فریڈم کیا ہے؟ اس کا پریس کی آزادی کے حوالے سے مسلمہ عالمی اصولوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔”

    رپورٹرز وِدآوٹ بارڈرز کے سالانہ پریس فریڈم انڈکس کے مطابق بھارت پریس کی آزادی کی رینکنگ کے لحاظ سے نیپال، سری لنکا اور میانمار (فوجی انقلاب سے قبل) سے بھی نیچے اور پاکستان (145ویں مقام پر) سے کچھ ہی آگے ہے۔ بھارت گزشتہ برس دو درجے مزید نیچے گر کر180ملکوں کی فہرست میں 142ویں پوزیشن پر آ گیا تھا۔ اس انڈکس کے مطابق بھارت دنیا میں صحافیوں کے لیے انتہائی خطرناک مقامات میں سے ایک ہے۔

    مودی حکومت تاہم اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتی۔ وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے اس رپورٹ کے حوالے سے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت تمام شہریوں بشمول صحافیوں کی سلامتی اور تحفظ کو ‘انتہائی اہمیت’ دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری کا طریقہ کار درست نہیں اور اس میں بنیادی حقائق کا خیال نہیں رکھا گیا۔

    پی آئی بی کارڈ کیا ہے؟

    بھارت میں حکومتی پالیسیوں، پروگراموں اور معلومات کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک ترسیل کا کام اطلاعات و نشریات کی وزارت کے ماتحت ادارے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے ذمے ہے۔ یہ ادارہ روزناموں، ہفت روزہ یا پندرہ روزہ میگزینز، خبر رساں اداروں، غیر ملکی نیوز اداروں، ٹی وی چینلوں، نیوز ایجنسیوں اور بھارتی ٹی وی نیوز چینلوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو ان کے اداروں کی جسامت کی بنیاد پر پی آئی بی کارڈ یا ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کرتا ہے۔

    ایسے میڈیا اداروں کے علاوہ یہ کارڈ ایسے صحافیوں کو بھی جاری کیا جا سکتا ہے، جنہیں کم از کم 15برس تک صحافت کا تجربہ ہو۔ 30 برس سے زیادہ تجربہ رکھنے والے یا 65 برس سے زائد عمر کے صحافیوں کو بھی ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے پی آئی بی کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔

    بھارت میں اس وقت تقریباً ڈھائی ہزار صحافیوں کے پاس یہ کارڈ ہے لیکن ان میں ایک بڑی تعداد مختلف وزارتوں کے ان سرکاری اہلکاروں کی بھی ہے، جو میڈیا سے رابطوں کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ صحافیوں کی تنظیموں نے پی آئی بی ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے حکومت کی نئی پالیسی کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

  • پاکستان میں کورونا کیسزاور اموات میں اضافہ

    پاکستان میں کورونا کیسزاور اموات میں اضافہ

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 50 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 51 ہزار 749 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 4 ہزار 253 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    کورونا سے مزید 37 افراد جاں بحق ،مثبت کیسز میں کمی

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 14 لاکھ 70 ہزار 163 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 603 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 8.2 فیصد پر پہنچ گئی۔

    این سی او سی نے پی ایس ایل کے شائقین کو بڑی خوشخبری سنا دی

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 5 لاکھ 54 ہزار 012، خیبر پختونخوا میں 2 لاکھ 5 ہزار 505، پنجاب میں 4 لاکھ 91 ہزار 518، اسلام آباد میں ایک لاکھ 32 ہزار 161، بلوچستان میں 34 ہزار 910، آزاد کشمیر میں 41 ہزار 068اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 987 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 285 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 927، خیبر پختونخوا 6 ہزار 076، اسلام آباد 990، گلگت بلتستان 189، بلوچستان میں 370 اور آزاد کشمیر میں 764 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    ادھر دنیا بھر میں عالمی وبا کورونا کے وار جاری ہیں دنیا بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 40 کروڑ سے بڑھ گئی کورونا کے نئے ویرینٹ اومی کرون کے سامنے آنے کے بعد سے دنیا بھر میں کورونا کیسزمیں تیزی سے اضافہ ہوا امریکہ میں کورونا کیسز کی تعداد 7 کروڑ85 لاکھ سے زائد ہوگئی۔

    کوروناوبا: آسٹریلیا کا 2 سال بعد فضائی اور زمینی سرحدیں کھولنے کا اعلان

    بھارت میں مجموعی تعداد 4کروڑ24لاکھ ،برازیل میں 2 کروڑ 66 لاکھ سے زائد ہے۔ فرانس میں کیسز کی تعداد 2 کروڑ،برطانیہ میں ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہوگئی روس میں کوویڈ 19 سے متاثرہ افرا د کی تعداد ایک کروڑ32 لاکھ اور ترکی میں ایک کروڑ 24 لاکھ سے زائد ہے۔

    اومی کرون کا خوف: سعودی عرب نے سفری پابندیاں مزید سخت کردیں

  • ڈی جی پی آر آفیسر ایسوسی ایشن کا صحافت کے فروغ کے لیےکردار اہم ہے:وزیراعلیٰ بلوچستان

    ڈی جی پی آر آفیسر ایسوسی ایشن کا صحافت کے فروغ کے لیےکردار اہم ہے:وزیراعلیٰ بلوچستان

    کویٹہ :وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی ڈی جی پی آر آفیسرز ایسوسی ایشن کےانتخابات میں کامیابی پر پھول پینل کو مبارکباد دی ہے

    وزیر اعلی نے نو منتخب صدر عنایت الرحمن اور جنرل سیکریٹری جعفر شاہکے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا ہےامید ہے آفیسرز ایسوسی ایشن کی نئی کابینہ آفیسرز کی فلاح و بہبوداور محکمے کے وقار کی بلندی کے لئےاپنی تمام صلاحتیں بروئے کار لائے گی ۔۔

    وزیراعلی بلوچستان کے مطابق یہ امر خوش آئند ہے کہ جمہوری روایت کے تحت محکمہ میں باقاعدگی سےانتخابات ہوتے ہیں۔جیتنے اور ہارنے والے سب مل جل کر صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ذرائع ابلاغ کی ترقی میں اپنا کردار اداکریں ۔

    انہوں نےامید ظاہر کی کہ نومنتخب عہدیداران اپنے ووٹرز کے اعتماد پر پورا اترتے ہوۓ انکے مسائل کے حل میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

    اس سے قبل منگل کو محکمہ تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر ) آفیسر ایسوسی ایشن کےانتخابات ہوے جس میں پھول پینل کے صدر عنایت الرحمان ،جنرل سیکرٹری سید جعفر شاہ41 ووٹ لیکر کامیابہوے۔

    الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق قلم پینل کے صدر عبدالباری مندوخیل،سعید یوسف، نے 33 دوسرے نمبرپرر ہے۔

    انتخابی کمیشن نے بتایا کل ووٹوں کی تعداد 74 تھی جن میں 1ووٹ کو کینسل کر دیا گیا۔اس طرح ووٹوں کا ٹرن آؤٹ 96 فصید رہا ۔

    ڈائریکٹر جنرل محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان اورنگزیب کا سی نے ڈی جی پی آر آفیسرز ایسوسی ایشن کےانتخابات میں کامیابی پر پھول پینل کے امیدواروں کو مبارکباد پیش کی ہے

    ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ نے انتخابات کے احسن طریقے سے انعقاد پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے

    کہ پھول پینل کے منتخب صدر عنایت الرحمن اور جنرل سیکرٹری سید جعفر شاہ دفتر کے بہتر مفاد میں اسوسی ایشن کے ذریعے افسران کی فلاح و بہبود میں بھرپور کردار ادا کریں گے

    انہوں نے کہا کہ محکمہ صوبائی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہےجن کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اظہر من الشمس ہیں نو منتخب صدر اور جنرل سیکرٹری تجربہ کار اور دفتری امور سے بخوبی آگاہ ہیں

    امید ہے کہ وہ دفتر کے ورکنگ میکنیزم کی مزید بہتری کے لیے اپنی صلاحیت بروئے کار لائیں گے۔

  • امت کے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ ایک ہفتے میں حل کیا جائے، کے یو جے

    امت کے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ ایک ہفتے میں حل کیا جائے، کے یو جے

    کراچی:امت کے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ ایک ہفتے میں حل کیا جائے، کے یو جے،اطلاعات کے مطابق کراچی یونین آف جرنلسٹس نے روزنامہ امت میں ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے سلسلے میں رفیق افغان مرحوم کی وصیت پر عملدرآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور روزنامہ امت کے مالکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر وصیت کے مطابق ملازمین کے واجبات ادا کریں اس سلسلے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی کے یو جے نے روزنامہ امت سے وابستہ دو سینئر صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم کو درخواست دیئے جانے کی بھی سخت الفاظ میں شدید مذمت کی ہے اور درخواست فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کراچی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی کی سربراہی میں کے یو جے کے ایک وفد نے روزنامہ امت میں واجبات کی ادائیگی میں تاخیر اور سینئر صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے معاملے پر روزنامہ امت کے دفتر کا دورہ کیا اور میڈیا ورکرز اور انتظامیہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی جبکہ امت کے ڈائریکٹر ناصر افغان سے بھی معاملے پر فون پر بات کی گئی۔ وفد میں نائب صدر جاوید قریشی، سینئر جوائںٹ سیکرٹری یونس آفریدی اور کے یو جے کے سابق جنرل سیکریٹری احمد خان ملک شامل تھے۔ وفد سے ملاقات میں رفیق افغان مرحوم کے صاحبزادے علی حمزہ نے بتایا کہ رفیق افغان کی وصیت کے مطابق ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے راولپنڈی میں واقع پلاٹ کا سودا ہوگیا ہے اور اس کی ڈاون پیمنٹ کا پے آرڈر بھی بن کر آگیا تھا تاہم بعض معاملات کی وجہ سے وہ دوبارہ بنوایا جارہا ہے اور یہ معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔

    وفد نے انہیں بتایا کہ کے یو جے اس بات سے واقف ہے کہ اس معاملے میں خاندانی اختلافات کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے حالانکہ اس بات پر اتفاق ہوچکا تھا کہ پلاٹ کے فروخت کی رقم روزنامہ امت کے سینئر کارکن کے اکاونٹ میں منگوائی جائے گی اور وہیں سے تمام ملازمین میں تقسیم ہوگی لیکن غیرضروری طور پر اب اس معاملےکو طول دیا جارہا ہے اور ایک دفعہ پھر اکانٹ تبدیل کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ وفد نے واضح کیا کہ یہ تاخیری حربے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہیں یہ معاملہ انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان طے پاجانے والے فارمولے کے تحت ہی جلد از جلد حل کیا جائے۔ کے یو جے کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے اس معاملے پر امت کے ڈائریکٹر ناصر افغان سے بھی فون پر رابطہ کیا اور ان سے بھی معاملہ فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

    فہیم صدیقی نے ناصر افغان پر واضح کیا کہ کے یو جے کو رفیق افغان کے خاندانی تنازعات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ کے یو جے صرف رفیق افغان کی وصیت کے مطابق روزنامہ امت کے ملازمین کے واجبات کی فوری ادائیگی چاہتی ہے اور اس میں مزید تاخیر پر وہ سخت اقدامات کرسکتی ہے۔ ناصر افغان نے بھی معاملے کے حل کی یقین دہانی کرائی ناصر افغان نے جنرل سیکریٹری کے یو جے کو بتایا کہ روزنامہ امت کے ملازمین کو ایک ہفتے میں ان کے واجبات ادا کردیئے جائیں گے۔ کے یو جے نے روزنامہ امت کے مالکان پر واضح کردیا ہے کہ اگر اس معاملے میں مزید تاخیر کی گئی تو ناصرف روزنامہ امت کے دفتر بلکہ مالکان کے گھروں کا بھی گھیراو کیا جائے گا۔

    علی حمزہ افغان سے ملاقات میں کے یو جے کے وفد نے امت کے ملازمین کی تنخواہوں میں کی گئی کٹوتی بحال کرنے بھی مطالبہ کیا واضح رہے کہ امت کے ملازمین دو سال سے بھی زائد عرصے سے آدھی تنخواہ پر کام کررہے ہیں۔ دریں اثنا کراچی یونین آف جرنلسٹس نے روزنامہ امت سے وابستہ دو سینئر صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم کو دی گئی درخواست پر بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ملازمین کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے ناصر افغان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس درخواست کو واپس لیں اور ملازمین کو ہراساں کرنے کے اقدامات سے گریز کریں۔ کے یو جے نے روزنامہ امت کے کارکنوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید

    میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید

    اسلام آباد:میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید کا کشمیر ایک انسانی المیہ ہے کے ویبنار سے خطاب،اطلاعات کے مطابق کشمیر یوتھ الائنس اور ملٹی اومکس کے تعاون سے اسلام آباد میں ایک ویبنار کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے معروف سیاسی رہنما اور سینیٹرمشاہد حسین سید نے مرکزی خطاب کیا

    کشمیر یوتھ الائنس اور ملٹی اومکس کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس ویبنار میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ میرے وطن کے جوانوں پر اب یہ ذمہ داری ہے آگئی ہے کہ وہ جید وسائل کے ساتھ اپنی کوششوں اور توانائیوں‌کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورم پر اجاگر کریں اور کشمیریوں کو جلد از جلد بھارتی کی غلامی سے نجات دلائیں

    اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کشمیریوتھ الائنس کی جدوجہد کی تعریف بھی کی اور کشمیریوں کےلیے آواز بلند کرنے پرخراج تحسین پیش کیا

    کشمیر ایک انسانی المیہ ہے کہ نام سے منعقد ویبنار سے کشمیر یوتھ الائنس کے سینیئر نائب صدر طہٰ منیب نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک میں اہل پاکستان کو پہلے سے زیادہ بھرپور اندازسے مدد کرنی چاہیے اور ہر فورم پرکشمیریوں‌ کے لیے آواز بھی بلند کرنی چاہیے ، طہٰ منیب نے اس موقع پر کہا کہ حکومت وقت کو چاہیے کہ اب وہ کشمیریوں کی آزادی کےلیے عملی اقدامات کرے باتوں سے نکل کر اب میدان عمل میں آئے تاکہ کشمیریوں کو بھی یہ احساس ہو کہ پاکستان نے ان کے لیے فیصلہ کُن کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے

    کشمیر کے حوالے سے منعقد اس ویبنار میں کشمیر یوتھ الائنس کے صدر سید مجاہد گیلانی نے بھی شرکت کی اور گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس پروگرام کو منظم کرنے والے دو نوجوان رہنما جن میں ایک انعم امیتاز اور دوسرے محمد اختر ہیں جن کو بطور ماڈیٹرز کے خدمات سرانجام دینے اور کشمیریوں کے لیے یہ ویبنار منقعد کرنے پر خراج تحیسن بھی پیش کیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا

    اس موقع پر سید مجاہد گیلانی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہمارے نوجوان اہل کشمیر کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے والے ہیں اور انہیں بھرپور امید ہےکہ یہی نوجوان دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بن کران کی آزادی کےلیے جدوجہد کریں گے اور ایک دن آئے گا جب اس جدوجہد کے نتیجے میں اہل کشمیر بھارت کی غلامی سےنکل کر ایک آزاد انسان کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر زندگی گزار سکیں گے

  • مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    اسلام آباد: مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت کا معاشرہ غیر مستحکم قیادت میں تیزی کے ساتھ زوال کی طرف جا رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

     

     

     

    فواد چوہدری نے مودی کی انتہا پسندانہ سوچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کے بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خوفناک ہے، حجاب پہننا کسی بھی دوسرے لباس کی طرح ذاتی پسند ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو حجاب کے انتخاب میں آزادی ہونی چاہیے۔

    فواد چوہدری نے بھارتی حکومت کو خبردار کرتےہوئے کہا ہےکہ مسلمان خواتین کے خلاف نفرت پھیلانے کو اس قسم کی گھٹیا حرکتوں سے باز رہنا چاہیے پاکستان اپنے مسلمان بہن بھائیوں‌ پرہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے اور اس قسم کی انتہا پسندی کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا

    یاد رہے کہ آج بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی ۔

    کرناٹک میں سڑک سے گزرتی اکیلی طالبہ کو زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کی جانب سے تنگ کرنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے۔

     

     

    کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

    نہتی مسلمان لڑکی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ گئی، ویڈیو میں کالج میں ایک لڑکی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کی طرف سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھے اور لڑکی کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے، لڑکی نے اس دوران مشتل ہجوم سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔

  • بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی،ملالہ نے ہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی

    بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی،ملالہ نے ہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی

    لندن :بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی، ملالہ نےہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی ،اطلاعات کے مطابق امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ اور سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی کا بھارتی ریاست کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے معاملے پر ردعمل سامنے آگیا۔

    اپنی ٹوئٹ میں ملالہ کا کہنا تھاکہ حجاب والی لڑکیوں کو اسکول میں داخل ہونے سے روکنا خوفناک ہے۔ملالہ نے یہ تو بیان دے دیا لیکن ان انتہا پسند ہندووں کی مذمت نہیں کی جنہوں نے اس مسلمان طالنبہ کے ساتھ بدتیمزی کی، حالانکہ ان انتہا پسند ہندووں کی مذمت کا سلسلہ دنیا بھر سے جاری ہے

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ کم یا زیادہ لباس پہننے کے معاملے میں خواتین پر اعتراضات برقرار ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی رہنما مسلم خواتین کو مرکزی دھارے سے الگ کرنے کے عمل کوروکیں۔
    ملالہ یوسف زئی نے اسلامی تشخص کی حفاظت کی بجائے الٹا یہ مشورہ دیا ہے کہ بھارتی رہنما مسلم خواتین کو مرکزی دھارے سے الگ نہ کریں اس سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ ملالہ بھارتی رہنماوں سے اس بات کا تقاضا کررہی ہیں کہ قومی دھارے میں رہنے کےلیے مجموعی سوچ کا اپنانا ہوگا

    یہاں ملالہ قومی دھارے سے الگ نہ رہنے کے حوالے سے یہ بھی بتانا چاہتی ہیں کہ مسلمان طالبات کو بھارت میں رہتے ہوئے قومی دھارے میں رہنے کے لیے ایسے کاموں سے دور رہنا چاہیے جس سے کوئی تفریق پیدا ہوتی ہو، سوشل میڈیا پر صارفین نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ مسلمان طالبات سے دوبٹہ اور حجاب بھی چھیننا چاہتی ہیں

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی ریاست کرناٹک میں لڑکیوں کے ایک سرکاری کالج میں 6 مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی وجہ سے کلاس سے باہر نکال دیا گیا تھا۔یہ کیس مقامی ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔

    آج بھی کرناٹک کے کالج جانے والی باحجاب طالبہ کو انتہاپسند طلبہ کے جتھے نے ہراساں کیا۔تاہم طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا اور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔

    دوسری طرف جمعیت علماء ہند نے بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ مسکان خان کیلئے انعام کا اعلان کردیا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی۔کرناٹک میں کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔