Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • فیٹف اجلاس 4 مارچ کو پیرس میں طلب،پاکستان زیر بحث آئے گا

    فیٹف اجلاس 4 مارچ کو پیرس میں طلب،پاکستان زیر بحث آئے گا

    سلام آباد: فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس(فیٹف) کا اجلاس 4 مارچ کو پیرس میں ہوگا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ذرائع نے تصدیق کردی کہ پیرس اجلاس میں پاکستان زیربحث آئے گا ذرائع کا کہنا تھا کہ فیٹف اجلاس سے پہلے فیٹف کے انٹرنیشنل کو آپریشن ریویو بورڈ کا اجلاس 24، 25فروری کو ہوگا، جس میں پاکستان پر سفارشات مرتب کی جائیں گی یہی سفارشات فیٹف اجلاس کے سامنے رکھی جائیں گی

    ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ سے نکل جائیں گے،وزیر خزانہ

    پاکستان نے فیٹف کی طرف سے متعین کردہ 27 میں سے 26 اہداف مکمل کرلیے تھے، اسکے بعد اینٹی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے 7 مزید اہداف دے دیے گئے۔

    سرکاری ذرائع کا کہنا ہے تمام اہداف پر کام جاری ہے، پاکستان نیک نیتی سے اہداف پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں وِزیر خزانہ شوکت ترین نے امید ظاہر کی تھی کہ ایف اے ٹی ایف کے آئندہ جائزہ اجلاس میں پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا سینٹ میں ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی موجودہ صورتحال بارے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے 28 میں سے 27 شرائط پوری کردی ہیں، ہمارے خلاف جن ملکوں نے پوزیشن لی ہوئی ہے وہ ہمارے دوست نہیں ہیں،تاہم یہ کوئی بٹن نہیں جسے فوراً آن یا آف کرلیا جائے۔

    ایف اے ٹی ایف نے جعلی شناختی کارڈز سے کاروبار کرنیوالوں کی فہرست طلب کرلی

    سینیٹر پیر صابر شاہ نے کہا تھا کہ یہ اچھا بٹن ہے جوساڑھے تین سال سے آن ہی نہیں ہورہا (ن) لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ اب تک حکومتی وزیر اور ترجمان اپنی ناقص کارکردگی کا ملبہ نوازشریف حکومت پر ڈالتے رہے لیکن آج خود حکومت نے تسلیم کرلیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں پاکستان کو فیٹف کی گرے سے وائٹ لسٹ میں لے آئی جو حکومت ختم ہونے تک وائٹ میں رہا۔فیٹف

    خیال رہے کہ گزشتہ برس پیرس میں فیٹف کا تین روزہ 19 سے 21 اکتوبر تک اجلاس منعقد رہا جس میں ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو مزید چار ماہ کے لیے نگرانی کی گرے لسٹ میں ہی رکھے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا پاکستان کے اسٹیٹس میں تبدیلی کا فیصلہ اب آئندہ سیشن میں ہو گا جو اپریل 2022 میں منعقد ہونا ہے۔

    پاکستان کو اپریل تک اپنی گرے لسٹ میں رکھنے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدمات کو سراہا جائے گا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا جائے گا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایف اے ٹی ایف کے معیار پر مکمل طور پر پورا نہیں اتر پایا ہے۔

    ایف اے ٹی ایف کے دیے گئے اہداف ، حکومت کیوں مطمئن

    ساتھ ہی ایف اے ٹی ایف کی طرف سے کچھ سنجیدہ طرز کے مسائل کی نشاندہی کی طرف بھی اشارہ کیا جائے گا کہ پاکستان کو اب بھی دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف حکومت پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے جب مطمئن ہو گی تو ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا جو زمینی حقائق اور قانون سازی کا جائزہ لے گی۔ جس کے بعد ہی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 نکاتی ایکشن پلان پر اب تک 26 نکات پر عمل کیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان کو تمام پوائنٹس پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔ پاکستان کے لیے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ اس نشست کے دوران پاکستان کی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے شعبوں میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہو گا کہ آیا پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھا جائے یا نہیں؟ اس وقت دنیا کو یہ یقین دلانا بہت مشکل ہے کہ پاکستان میں پابندی کا شکار تنظیمیں اور افراد کے خلاف کار روائی ہو رہی ہے۔

    فیٹف کے فیصلے پر پاکستان کا رد عمل

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اس فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی فراہمی کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہوں۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک عالمی ادارہ ہے، جس کا قیام 1989ء میں جی ایٹ سمٹ کی جانب سے پیرس میں عمل میں آیا، جس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر منی لانڈرنگ کی روک تھام تھا۔ تاہم 2011 میں اس کے مینڈیٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے مقاصد بڑھا دیے گئے ان مقاصد میں بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھنے اور اس حوالے سے مناسب قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات طے کرنا تھا۔ ادارے کے کُل 38 ارکان میں امریکا، برطانیہ، چین اور بھارت بھی شامل ہیں جبکہ پاکستان اس کا رکن نہیں۔ ادارے کا اجلاس ہر چار ماہ بعد، یعنی سال میں تین بار ہوتا ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے۔

    فیٹف کا تین روزہ اجلاس کا اعلامیہ جاری، پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ…

    کسی بھی ملک کو ‘زیر نگرانی‘ یعنی گرے لسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ ایف اے ٹی ایف کا ایک ذیلی ادارہ ‘انٹرنیشل کوآپریشن ریویو گروپ‘ یعنی آئی سی آر جی کرتا ہے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، جس میں مختلف ممالک کی نمائندہ تنظیمیں شامل ہیں۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی نظام کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے پاکستان کو گرے لسٹ میں سے نکلنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کے 22 اراکین میں سے کم از کم 12 ووٹ درکار ہوں گے جو ایک مشکل کام نظر آتا ہے۔

    ایف اے ٹی ایف عمومی طور پر انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور ان کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔ جن ممالک کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں تو ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اگرچہ ایف اے ٹی ایف خود کسی ملک پر پابندیاں عائد نہیں کرتا مگر ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے ممالک کی نگرانی کے لیے لسٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے جنہیں گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کہا جاتا ہے۔ بلیک لسٹ میں ان ہائی رسک ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جن کے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور قواعد میں سقم موجود ہو۔ ان ممالک کے حوالے سے قوی امکان ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک ان پر پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔ گرے لسٹ میں ان ممالک کو ڈالا جاتا ہے جن کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں اور وہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر ان قانونی خامیوں کو دور کرنے کا اعادہ کریں۔

    آئی ایم ایف سُن لے اس کی ہر بات نہیں مان سکتے:شوکت ترین کا واضح اعلان

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 49 افراد جاں بحق

    پاکستان میں کورونا سے مزید 49 افراد جاں بحق

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید49 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 49 ہزار553 کورونا ٹیسٹ کیے گئے 2ہزار 465 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے –

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 14 لاکھ 91 ہزار 423 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 877 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 4.97فیصد پر پہنچ گئی-

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 5 لاکھ 60 ہزار670، خیبر پختونخوا میں 2 لاکھ 11ہزار112، پنجاب میں 4 لاکھ 96 ہزار 724، اسلام آباد میں ایک لاکھ 33 ہزار388، بلوچستان میں 35 ہزار 133، آزاد کشمیر میں 42 ہزار 180اور گلگت بلتستان میں 11 ہزار 250 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 390 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں8 ہزار ، خیبر پختونخوا 6 ہزار 153، اسلام آباد ایک ہزار ایک، گلگت بلتستان 189، بلوچستان میں 371 اور آزاد کشمیر میں 773 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں-

  • خان صاحب شکریہ آپ سے یہی توقع تھی:ملکی تاریخ میں پہلی بار پٹرول 159 روپے 86 پیسے فی لیٹر ملے گا

    خان صاحب شکریہ آپ سے یہی توقع تھی:ملکی تاریخ میں پہلی بار پٹرول 159 روپے 86 پیسے فی لیٹر ملے گا

    اسلام آباد؛پیٹرول ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 159 روپے 86 پیسے فی لیٹر ملے گا،اطلاعات کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 12 روپے 3 پیسے فی لیٹر کے بعد نئی قیمت 159 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 53 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 154 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 10 روپے 8 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے اور اب نئی قیمت 126 روپے 56 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    لائٹ ڈیزل کی قیمت 9 روپے 43 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 123 روپے 97 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 15 روز کیلئے ہوگا۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پرپی ڈی ایل اور دوسرے ٹیکس کم کرنے سے حکومت کو ماہانہ 70 ارب روپے نقصان ہورہا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے فی لیٹر ضافے کی سمری مسترد کردی تھی۔

    ذرائع نے بتایا کہ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 12روپے 3 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے53 پیسے فی لیٹر اضافے کی سمری بھیجی تھی۔

    ذرائع نے بتایا کہ اوگرا نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 10روپے 8پیسے فی لیٹر جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 9 روپے 46 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی تھی۔ وزرات خزانہ نے اوگرا سفارشات کے مطابق ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

    دوسری طرف عوام الناس نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جناب آپ سے خیر کی توقع کب کی جاسکتی ہے اپ جو کررہے قوم کے ساتھ بس اسی کی توقع تھی

    عالمی مارکیٹ میں ڈیڑھ ماہ کے دوران فی بیرل تیل 15 ڈالر مہنگا

    دوسری طرف یکم جنوری 2022 سے اب تک خام تیل کی قیمت میں 15 ڈالر فی بیرل تک کا اضافہ ہوچکا ہے جس کے بعد خام تیل کی قیمت 95.09 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ اکتوبر 2014 کے بعد خام تیل کی یہ بلند ترین عالمی قیمت ہے اور ڈیڑھ ماہ کے دوران خام تیل کی قیمت میں 20 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔

    ’یکم فروری کو تیل کی قیمتیں برقرار رکھی گئیں‘

    خیال رہے کہ یکم فروری کو وزیراعظم عمران خان نے پٹرول11روپے، ڈیزل 14 روپے بڑھانے کی سمری کو عوامی مفاد میں مسترد کردیا تھا جس کے باعث قیمتیں برقرار رکھی گئی تھیں۔

  • سمندر میں ایک کشتی سے 62 کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد

    سمندر میں ایک کشتی سے 62 کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد

    کراچی : میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے کھلے سمندر میں ایک کشتی سے 62 کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد کرلی۔

    غیر ملکی سمیت دوہری شہریت رکھنے والے اسمگلروں کے خلاف پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی اور پاکستان کسٹمز کی مشترکہ کارروائی،بڑی مقدار میں منشیات برآمد کرلی گئی. پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور پاکستان کسٹمز انٹیلی جنس اطلاعات پر انسداد منشیات کے خلاف شمالی بحیرہ عرب میں مشترکہ آپریشن کیا گیا. آپریشن کے دوران شمالی بحیرہ عرب میں 05 غیر ملکی اور 02 دوہری شہریت سمیت 07 اسمگلروں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ غیر ملکی کشتی سے 625 کلوگرام منشیات بھی برآمد کرلی گئی برآمد شدہ منشیات کی بین الاقوامی منڈی میں مالیت کا تخمینہ تقریباً 625 کروڑ روپے لگایا گیا ہے برآمد کی گئی منشیات کو اسمگلروں سمیت مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی نے پاکستان کسٹمز کے حوالے کر دیا گیا ہے جس میں گرفتار فرد یا گروہ کے دیگر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کی تکمیل شامل ہے

    پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور پاکستان کسٹمز کی جانب سے کامیاب آپریشن جس کے نتیجے میں منشیات کی برآمدگی ہوئی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کسی بھی غیر قانونی کام/مقاصد کے لیے پاکستانی پانیوں کے استعمال کو روکنے کے لیے چوکس اور پرعزم ہیں پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی سمندر میں امن و امان قائم کرنے کے لیے اپنی قومی ذمہ داریوں کو نبھاتی رہے گی۔

    یاد رہے کہ پچھے سال فروری ہی میں میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے کھلے سمندر میں کارروائی کرتے ہوئے 2 کشتیوں کے ذریعے اسمگل کیا جانے والا 64 ہزارلیٹرایرانی ڈیزل تحویل میں لے کر 11 اسمگلروں کو گرفتار کیا تھا ۔

    ترجمان کے مطابق ایم ایس اے کے جہازنےاینٹی اسمگلنگ کارروائی کے دوران آلاصف اورالشمس نامی کشتیوں کو 11 اسمگلروں کو تحویل میں لے لیا گیا، کشتیوں سے 64ہزارلیٹر ایرانی ڈیزل برآمد ہوا، جوکہ غیرقانونی طریقے سے پاکستان لایا جارہا تھا، دونوں کشتیوں اورغیرقانونی ڈیزل کسٹم ایکٹ 1969کے قانون کے مطابق تحویل میں لے لیا گیا تھا

    ترجمان کے مطابق کسٹم ایکٹ کے تحت گرفتارعملے کے خلاف ایف آئی آردرج کرلی گئی، پکڑی گئی کشتی بمعہ عملے کے قانونی کارروائی کے لیے کسٹم پریوینٹوکے حوالے کردیا گیا تھا

    یاد رہے کہ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی واحد بحری قانون نافذ کرنے والی ایجنسی ہے، جسے ایکٹ کے تحت ذمہ داری دی گئی ہے کہ سمندر میں اسمگلروں کا تعاقب کرنے کے بعد ان کو کیفر کردار تک پہنچائے، محدودو سائل کے باوجود ایم ایس اے اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دے رہی ہے۔

  • روزنامہ امت کے ملازمین کے 18 سے 20 ماہ کے واجبات کی ادائیگی: بالآخر معاہدہ طے پاگیا

    روزنامہ امت کے ملازمین کے 18 سے 20 ماہ کے واجبات کی ادائیگی: بالآخر معاہدہ طے پاگیا

    کراچی : روزنامہ امت کے ملازمین کے 18 سے 20 ماہ کے واجبات کی ادائیگی بالآخر معاہدہ طے ،اطلاعات کے مطابق کراچی یونین آف جرنلسٹس نے روزنامہ امت کے ملازمین کے 18 سے 20 ماہ کے واجبات کی ادائیگی رفیق افغان مرحوم کی وصیت کے مطابق کرنے کیلئے روزنامہ امت کی انتظامیہ کے دو گروپوں میں بالآخر معاہدہ طے پاجانے پر امت کے ملازمین کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    معاہدے کے نتیجے میں قانونی ضرورتیں پوری ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں ملازمین کو واجبات ادا کردیئے جائیں گے ۔ پیر کو رات گئے ہونے والے معاہدے سے قبل انتظامیہ کے دونوں گروپس میں مذاکرات کیلئے کے یو جے کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے پل کا کردار ادا کیا معاملے کے دو فریق رفیق افغان کے بھائی ڈاکٹر ناصر افغان اور ان کے بیٹے علی حمزہ ہیں جو واجبات کی ادائیگی کے معاملے پر بعض نکات پر اتفاق نہیں کرپارہے تھے تاہم کے یو جے کی مداخلت کے بعد دونوں گروپس واجبات کی ادائیگی کے طریقہ کار اور اس کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے پر راضی ہوگئے

    دونوں فریقوں نے اس حوالے سے ایک تحریری معاہدے پر دستخط کئے ہیں کے یو جے جس کی ضامن بنی ہے معاہدے پر روزنامہ امت کی انتظامیہ کی طرف سے ناصر افغان، صاحبزادے علی حمزہ، صائمہ اکبر اور آصف سعود نے دستخط کئے جبکہ کے یو جے سیکریٹری فہیم صدیقی نے بطور ضامن دستخط کئے ہیں معاہدے پر روزنامہ امت کے ملازمین اور یونین کے عہدیداروں نے بھی دستخط کئے ہیں

    معاہدے کے مطابق روزنامہ امت کے ملازمین کو راولپنڈی میں واقع پلاٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے واجبات ادا کئے جائیں گے اور اس مقصد کیلئے چیکس پر دستخط کی اتھارٹی روزنامہ امت کے سینئر کارکن نصیر ہاشمی کو دی گئی ہے۔ ملازمین کے واجبات کی رقم کا تعین ناصر افغان کریں گے جس کے بعد ہی چیکس جاری کئے جائیں گے۔

  • تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی ) کو بڑا دھچکا:قومی اسمبلی امیدوار پی پی میں شامل

    تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی ) کو بڑا دھچکا:قومی اسمبلی امیدوار پی پی میں شامل

    سرگودھا :تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی ) کو بڑا دھچکا:قومی اسمبلی امیدوار پی پی میں شامل ،اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کو پہلا بڑا سیاسی دھچکا ، تحریک لبیک پاکستان کے ٹکٹ ہولڈر این اے 92 صاحبزادہ اظہر عباس سیالوی نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کر لی۔

    تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے سرگرم کارکن اور این اے 92 کے ٹکٹ ہولڈر بھی تھے ،صاحبزادہ اظہر عباس سیالوی کی پی پی میں شمولیت پر انہیں روایتی سکار ف بھی پہنایا گیا ۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا صاحبزادہ اظہر عباس کی شمولیت سے پی پی مزید مظبوط ہوئی ہے ، صاحبزادہ اظہر عباس سیالوی تحصیل ساہیوال سرگودھا کے سرگرم رہنما تھے، راجہ پرویز اشرف نے باضابطگی طور پر ان کو شمولیت پر سکارف پہنایا۔

    راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا بلاول بھٹو 27 فروری کو مزار قائد سے بذریعہ جی ٹی روڈ مزار قائد سے اسلام آباد پہنچیں گے،11 مارچ کو اسلام آباد پہنچ کر پیپلز پارٹی عوام کو سرپرائز دیگی، بلاول بھٹو کا قافلہ مختلف مقامات سے ہوتا ہوا 12 روز میں اسلام آباد پہنچے گا، پی پی اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی پر یقین رکھتی ہے۔

    انہوں نے کہا عوام بد حالی کی وجہ سے 27فروری کے مارچ کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے،لانگ مارچ کا مقصد عام آدمی کو موجودہ حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں سے نجات دلانا ہے۔

  • ملک میں صدارتی نظام آرہا ہے؟صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ کا دوسرانام ہے :مولانا فضل الرحمٰن

    ملک میں صدارتی نظام آرہا ہے؟صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ کا دوسرانام ہے :مولانا فضل الرحمٰن

    ملک میں صدارتی نظام آرہا ہے؟صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ سمجھیں گے:اطلاعات کےمطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے اب ملک میں صدارتی نطام آنے والا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اگرصدارتی نطام لایا گیا تو اسے ڈکٹیٹرشپ ہی سمجھیں گے

    سربراہ پی ڈی ایم کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے وسائل پر صوبے کے بچوں کا حق ہے، اگر کل سرائیکی صوبہ بنتا ہے تو پھرسرائیکی بچوں کا حق ہوگا، پارلیمانی طرز حکومت کا مطلب کوئی صدارتی نظام نہیں چلے گا، صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ کی علامت ہے، ایوب خان اور ضیا الحق کے صدارتی نطام نے نقصان پہنچایا ، آج پھر صدارتی نظام کی باتیں میثاق ملی کے خاتمے کی باتیں ہیں، ایسی تجاویز پاکستان کوایک بار پھر دولخت کرنے کی سازش نظر آتی ہیں۔

    لیہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئےپی ڈی ایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آئین کو کہیں سے بھی چھیڑا گیا تو ان کو پاکستان توڑنے کا آج سے ذمہ دارقراردیتے ہیں، آئین کو چھیڑنا ملک کو توڑنے کے مترادف ہوگا، اس ملک کے ہم مالک ہیں اور مالک قبضہ چھڑوانا جانتے ہیں، تبدیلی کے امکانات روشن ہو رہے ہیں، جس کشتی کو انہوں نے ڈبویا اس کو ساحل پر لانا چیلنج ہے ،

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 23 مارچ کے لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے، آئین کا ایک بنیادی ڈھانچہ ہے، بنیادی ڈھانچے کے چار عناصر ہیں، اسلام آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے، دوسرا عنصرجمہوریت ہے، اس کا مطلب پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ نہیں آسکتی، کوئی طالع آزما پاکستان کے اقتدار پر قبضہ نہیں کرسکتا، آئین کا تیسرا عنصر ملک کا وفاقی نظام ہے جبکہ چوتھا عنصر پارلیمانی طرز حکومت ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پاس کی تھی، آئین کہتا ہے قرآن وسنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا، مسئلہ آئین نہیں، بڑی مشکل آئین پرعملدرآمد نہ کرنا ہے، پارلیمنٹ ایسے لوگوں سے بھر دی جاتی ہے جن کو قرآن وسنت سے دلچسپی نہیں اور ہماری اسٹیبشلمنٹ بھی پاور پالیٹیکس کرتی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ جعلی اسمبلی ہے اس کے اندر جمہوریت کی روح نہیں ہے، جعلی اسمبلی نے فیٹیف کے دباؤ پرقانون سازی کرکے پاکستان کوغلام بنا دیا، نا اہل حکومت سال میں چارمرتبہ بجٹ پیش کرتی ہے،

  • پاکستان میں ہرسال آٹھ سے دس ہزاربچے کینسرمیں مبتلاہورہےہیں:70 فیصد وفات پاجاتے ہیں:رپورٹ

    پاکستان میں ہرسال آٹھ سے دس ہزاربچے کینسرمیں مبتلاہورہےہیں:70 فیصد وفات پاجاتے ہیں:رپورٹ

    کراچی:پاکستان میں ہرسال آٹھ سے دس ہزاربچے کینسرمیں مبتلاہورہےہیں:70 فیصد وفات پاجاتے ہیں:رپورٹ نے رونگھٹے کھڑے کردیئے :اطلاعات کے مطابق پاکستان میں آٹھ ہزار سے دس ہزار بچے ہر سال کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں سے تقریبا 70 فیصد بچے مختلف وجوہات کی بنا پر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انڈس چلڈرن کینسر اسپتال سے وابستہ ماہرین نے منگل کے روز بچوں کے کینسر کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹروں نرسوں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور مریضوں کے اہلخانہ نے بچوں میں کینسر کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک واک میں بھی شرکت کی۔

    بچوں میں کینسر کا عالمی دن ہر سال 15 فروری کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد بچوں میں کینسر کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا، کینسر میں مبتلا بچوں کی جلد تشخیص اور انہیں علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    انڈس چلڈرن کینسر اسپتال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال تقریبا آٹھ سے دس ہزار بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جبکہ ہزاروں بچے کینسر میں مبتلا ہونے کے باوجود تشخیص نہ ہونے کے سبب علاج سے محروم رہ جاتے ہیں اور اور جلد ہی انتقال کر جاتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈس چلڈرن کینسر ہسپتال پاکستان کا سب سے بڑا اسپتال ہے جہاں پر بچوں کو کینسر کے علاج کی جدید ترین سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں اور اب ان کا ادارہ بچوں کے کینسر کے علاج کی سہولیات بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں مہیا کرنے جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈس چلڈرن کینسراسپتال میں پاکستان کے تمام علاقوں سمیت افغانستان ایران اور دیگر ممالک سے بھی بچے علاج کے لیے لائے جاتے ہیں، بچوں میں کینسر اگر جلد تشخیص کر لیا جائے تو ایسے بچوں کے صحت یاب ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

    بچوں کے کینسر کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کے کینسر اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد رفیع رضا کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں میں کینسر میں مبتلا بچوں کی صحت یابی کی شرح 80 فیصد سے زائد ہے جس کی سب سے بڑی وجہ وہاں پر علاج کی جدید ترین سہولیات کا ہونا، بچوں کے کینسر کے ماہرین کی موجودگی اور اور کینسر میں مبتلا بچوں اور ان کے والدین کے لیے سپورٹ سروسز کا ہونا شامل ہے۔

    ڈاکٹر رفیع رضا کا مزید کہنا تھا کہ کم ترقی یافتہ ممالک بشمول پاکستان میں سہولیات کی عدم فراہمی اور دیر سے تشخیص کے سبب بچوں میں صحت یابی کی شرح محض 25 سے 30 فیصد ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کے طے شدہ اہداف کے مطابق پاکستان میں کینسر میں مبتلا بچوں کی صحت یابی کی شرح 2030 تک 60 فیصد کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    انڈس چلڈرن کینسراسپتال سے وابستہ معروف ماہر امراض اطفال اور کینسر اسپیشلسٹ سید احمر حامد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کینسر میں مبتلا 40 فیصد بچے اس وقت اسپتالوں میں لائے جاتے ہیں جب ان کا کینسر ناقابل علاج ہو چکا ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کینسر ایک قابل علاج مرض ہے لیکن اس کے لیے عوام الناس میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اگر بچوں کے جسم میں غیر معمولی تبدیلیاں جن میں وزن کا کم ہونا، جلد کی رنگت تبدیل ہونا، شدید درد، جسم کے کسی حصے میں ابھار، گلٹی یا رسولی سامنے آنے کی صورت میں بچوں کو فوری طور پر کسی بڑے اسپتال میں ماہر امراض اطفال سے معائنہ کروانا چاہیے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں کینسر کی وجوہات کے حوالے سے کوئی واضح بات نہیں کہی جا سکتی لیکن تقریبا پانچ سے دس فیصد بچوں میں کینسر موروثی وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے بچوں کو صحت مند غذا، صحت مند طرز زندگی کی فراہمی اور اور کھیل کود سمیت ورزش کی سہولیات فراہم کرنا شامل ہیں۔

    انڈس اسپتال سے وابستہ نرسنگ سپروائزر محمد یونس بھٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اتائیوں کی بھرمار ہے جو کہ والدین کو گمراہ کرتے ہیں اور علاج کروانے والے بچوں کو اسپتالوں میں جانے سے روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے کینسر میں مبتلا بچوں میں شرح اموات بہت زیادہ ہے۔

    اس موقع پر معروف کینسر اسپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر شیمول اشرف، آغا خان اسپتال کے ماہر ڈاکٹر عاصم بیلگامی، ڈاکٹر واصفہ فاروق اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

  • وجیہہ سواتی قتل کیس، پہلےشوہرکی بند فائل 7سال بعد دوبارہ کھل گئی

    وجیہہ سواتی قتل کیس، پہلےشوہرکی بند فائل 7سال بعد دوبارہ کھل گئی

    راولپنڈی: وجیہہ سواتی قتل کیس، پہلےشوہرکی بند فائل 7سال بعد دوبارہ کھل گئی ،اطلاعات کے مطابق پاکستانی نژاد امریکی خاتون وجیہہ سواتی کے اغوا اور قتل کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے، ان کے پہلے شوہر کے قتل کے کیس کی فائل 7 برس بعد دوبارہ کھول دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق وجہیہ سواتی کے 7 سال قبل قتل ہونے والے پہلے شوہر کی بند فائل دوبارہ کھل گئی، ڈاکٹر مہدی علی کو چنیوٹ کے علاقے چناب نگر میں 2014 میں قتل کیا گیا تھا۔

    چنیوٹ پولیس نے وجیہہ سواتی کے قتل کیس میں گرفتار ان کے دوسرے شوہر رضوان حبیب سے تحقیقات کا فیصلہ کر لیا ہے، اس سلسلے میں چنیوٹ پولیس نے راولپنڈی پولیس سے رابطے کے بعد مقامی عدالت میں ملزم حوالگی و سفری ریمانڈ کی درخواست کی تھی۔

    چنیوٹ پولیس نے قانونی تقاضوں کے بعد سینٹرل جیل اڈیالہ سے ملزم رضوان حبیب، جو وجیہہ سواتی کے قتل کا اعتراف کر چکا ہے، کو اپنی تحویل میں لے لیا، اب اس سے ڈاکٹر مہدی علی کے قتل سے متعلق تفتیش کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق وجیہہ سواتی کے پہلے شوہر کے قتل کے الزام میں مرکزی ملزم رضوان حبیب کو باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے، ملزم کو کل جسمانی ریمانڈ کے لیے چنیوٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    پاکستانی نژاد امریکی شہری وجیہہ سواتی اپنے سابق شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کا معاملہ حل کرنے پاکستان آئی تھیں۔ وجیہہ کے سابق شوہر نے انہیں قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس نے اپنی سابقہ اہلیہ کو پاکستان پہنچتے ہی اغوا کیا تھا اورقتل کرکے لاش ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے لکی مروت میں دفنائی تھی۔

  • لاہور شو کے لئے یوکرین سے لائی گئیں 4 نایاب ڈولفنزوفات پا گئیں

    لاہور شو کے لئے یوکرین سے لائی گئیں 4 نایاب ڈولفنزوفات پا گئیں

    لاہور:لاہور شو کے لئے یوکرین سے لائی گئیں 4 نایاب ڈولفنزوفات پا گئیں ،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں ایک شو کے لیے یوکرین سے لائی گئیں 6 میں سے چار نایاب ڈولفن مر گئیں۔

    تفصیلات کے مطابق پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں ڈولفن شو کے للئے لائی گئیں 4 نایاب ڈولفن مچھلیاں مر گئیں ، شو کے لئے 6 مچھلیاں لائی گئی تھیں۔چار ڈولفنز کی موت کے بعد دو کیٹ فش کو یوکرین واپس بھیج دیا گیا ہے تاہم ڈولفنز کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

    یاد رہے سال 2019 میں ڈولفن شو کیلئے چار ڈولفن اور دو کیٹ فش یوکرائن سے لاہورلائی گئی تھیں، یہ شو صرف چند ماہ کے لیے منعقد کیا گیا تھا تاہم بعد میں کورونا کے باعث شو کو معطل کر دیا گیا تھا۔ڈولفنز کو وقت پر کھانا دیا جا رہا تھا اور ان کی دیکھ بھال کے لیے ایک غیر ملکی ڈاکٹر کو تعینات کیا گیا تھا۔

    یاد رہے گزشتہ ماہ محکمہ وائلڈ لائف نے دادو کنال سے ایک نابینا ڈولفن کو ریسکیو کرکے دریائے سندھ میں چھوڑ دیا تھا۔

    یاد رہے کہ سائنسدانوں کی ایک تحقیق کی مطابق ڈولفن مچھلیاں ایک دوسرے کو ’نام‘ سے پکارتی ہیں۔

    محققین نے انکشاف کیا ہے کہ بچے پیدا کرنے والی مچھلی کی یہ نسل ایک دوسرے کی شناخت کے لیے مخصوص سیٹی کا استعمال کرتی ہیں۔

    سکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کی ایک ٹیم کےمطابق تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب کسی ڈولفن کو اپنے لیے دی جانے والی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ اس کا جواب دیتی ہیں۔یہ تحقیق ’پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

    یونیورسٹی کے سمندری ممالیہ ریسرچ کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر ونسنٹ جینک نے کہا: ’ڈولفنز ساحل سے دور کسی نشان کے بغیر سہ رخی ماحول میں رہتی ہیں اور ایسے میں انہیں ایک گروپ کی شکل میں ایک ساتھ رہنا ہوتا ہے۔‘

    ’یہ جاندار ایک ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں انہیں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہنے کے لیے انتہائي مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔‘بہت پہلے سے یہ شک کیا جا رہا تھا کہ ڈولفن مخصوص قسم کی سیٹی کا استعمال کرتی ہیں جس طرح انسان ناموں کا استعمال کرتے ہیں۔

    اس سے پہلے کی جانے والی تحقیق میں یہ پایا گيا تھا کہ ڈولفنز اس طرح کی مخصوص آوازوں کا کثرت سے استعمال کرتی ہیں اور اپنے گروپ کی دوسری ڈولفن کو ان آوازوں کو پہچاننا اور ان کی نقل کرنا سیکھنا ہوتا ہے۔

    لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ان سگنلز کو ’نام‘ کے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں پہلی بار تحقیق کی گئی ہے۔