Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    لاہور(……9251 +)ہندوستان نے اپنی بحریہ کومزید 57 رافیل جنگی طیاروں سے لیس کرکےپاکستان اورچین کوپیغام بھیج دیا،اطلاعات ہیں‌ کہ ہندوستانی بحریہ کل اپنی بحریہ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بڑی تعداد میں جنگی طیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کچھ کرنے جارہا ہے ، اس حوالے سے ہندوستانی دفاعی حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اپنی بحریہ کومزید مضبوط کرکے پاکستان اور چین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہندوستان سے کبھی بھی نہ ٹکرانا

    ادھرہندوستانی افواج کی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان اپنے نئے مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز کے لیے ملٹی رول کیریئر پر مبنی جنگی طیاروں کی تلاش میں ہے جو اس وقت بھارت کی سمندری حدود میں آزمائش کے مرحلے میں ہے اور کارکردگی چیک ہونے کے بعد اس کو شامل کیا جائے گا
    ادھر ہندوستانی بحریہ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ MiG-29K کو تبدیل کرنے کے لیے جڑواں انجن والا طیارہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے جو فی الحال INS وکرمادتیہ سے چل رہا ہے۔

     

     

    ہندوستانی بحریہ 6 جنوری سے گوا میں آئی این ایس ہنسا میں ساحل پر مبنی ٹیسٹ سہولت میں رافیل لڑاکا طیاروں کے بحری ورژن کی فلائٹ ٹیسٹنگ کرے گی تاکہ 40,000 ٹن وزنی کیریئر آئی این ایس وکرانت کے مطابق بہترین جنگی طیارے کا تعین کیا جا سکے۔

    شاید اسی طاقت کے بل بوتے پر ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرمبیر سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستانی بحریہ ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ جنگجوؤں کے مشترکہ حصول کا پیچھا کر سکتی ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روسی ساختہ جنگی طیاروں خاص کر میگ 29 کے متبادل کے طور پر ہندستانی بحریہ نے ڈائریکٹوریٹ آف نیول ایئر اسٹاف کی طرف سے جنوری 2017 میں ملٹی رول کیریئر برن فائٹر کے لیے معلومات کی درخواست (RFI) جاری کی گئی تھی کیونکہ فی الحال آپریشنل Mig-29K کو 2034 میں مرحلہ وار ختم کیا جانا ہے۔

    ہندوستانی بحریہ نے اپنے بحری بیڑوں کو مضبوط سے مضبوط تربنانے کےلیے مبنی جڑواں انجن لڑاکا طیاروں کے لیے عالمی ٹینڈر کا جائزہ لینے کا انتخاب کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ مقامی طور پر تیار کردہ ٹوئن انجن ڈیک بیسڈ فائٹر (ٹی ای ڈی بی ایف) 2032 تک پہنچنا ہے۔

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کل ہونے والے جنگی مظاہروں کے بعد اگرکوئی صورت حال تسلیٰ‌ بخش ہوتی ہے تو پھر ہندوستانی بحریہ اسی مقام پر رافیل-ایم (میرین) طیارے کے متبادل کے طور پر امریکی F-18 سپر ہارنٹس کی جانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بوئنگ F-18 سپر ہارنیٹ امریکی بحریہ کے لیے ایک آزمائشی اور ہندوستانی بحریہ کی ڈیمانڈ پر مبنی ملٹی رول فائٹر ہے، جس میں 1991 کی خلیجی جنگ سے متعلق حیرت انگیز مشنز ہیں۔

     

    بھارتی دفاعی حکام کے درمیان چلنے والی گفتگو اور باہمی پیغام رسانی سے یہ بھی چیزیں‌ سامنے آئی ہیں‌کہ IAC-1 کو INS وکرانت کے طور پر 15 اگست 2022 کو ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پرہندوستانی بحری بیڑوں میں آپریشنل کرنے کا پروگرام ہے ۔ ہندوستانی بحریہ طیارہ بنانے والی فرانسیسی کمپنیوں سے 2022 میں چار سے پانچ Rafale-M طیارے لیز پرلینے کا پروگرام بنا چکی ہے تاکہ طیارہ بردار جہاز کو آپریشنل بنایا جا سکے۔

    ہندوستان میں امبالہ ایئربیس پر پہلے ہی رافیل کی دیکھ بھال اور پرواز کی تربیت کی سہولت موجود ہے۔ بحریہ کے ہوا بازوں کو آئی این ایس ہنسا میں تربیت دی جائے گی۔

    اس موقع پر یہ بھی بتا دوں کہ چند دن پہلے اپنے حالیہ دورہ ہندوستان میں، فرانسیسی وزیر دفاع نے بھی ہندوستان کو کیرئیر پر مبنی رافیل کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔فرانسیسی وزیردفاع کا کہا تھا – "ہمیں معلوم ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز جلد ہی پہنچ جائے گا…اور اس کے لیے مزید طیاروں کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہندوستان دوسرا رافیل خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم اسے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت، اس نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگر ہندوستان کو ضرورت ہو تو فرانس ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ حاصل کیے جانے والے 36 سے زائد رافیل لڑاکا طیارے فراہم کرے گا۔

     

    2016 میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے بھی، Dassault Aviation بحریہ کے ساتھ Rafale کے بحری قسم کی فروخت کے بارے میں بات چیت کر رہی تھی۔

    ہندوستانی بحریہ کو بوئنگ کا جڑواں سیٹوں والا F/A-18 بلاک III سپر ہارنیٹ اس کے RFI کے جواب میں 57 ملٹی رول کیریئر پر مبنی فائٹرز کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ سپر ہارنیٹ بلاک III سپر ہارنیٹ کا سب سے نفیس قسم ہے اور چوتھی نسل کی لڑاکا صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑتا ہے۔

    ٹچ اینڈ گو لینڈنگ Rafale-M – امریکی بحریہ کے ذریعےیہ طیارہ "اسکی جمپ” ریمپ سے چل سکتا ہے اور اسے ہندوستانی تجزیہ کاروں کے ذریعہ "محفوظ ہند-بحرالکاہل کے لئے فعال کرنے والا” کا نام دیا گیا ہے، جنہوں نے سپر ہارنٹس کی صلاحیتوں اور ہندوستانی بحریہ کے لئے موزوں ہونے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔ یورو ایشین ٹائمز

    "F/A-18 سپر ہارنیٹ بلاک III ہندوستانی بحریہ (IN) کو پیش کش پر ہے جو امریکی بحریہ (USN) کا سب سے جدید، کثیر کردار، فرنٹ لائن لڑاکا ہے اور یہ بیڑے کے لیے ورک ہارس ہے، اور ایسا ہی رہے گا۔ ،‘‘ انکور کناگلیکر، ہیڈ انڈیا فائٹرز سیلز، بوئنگ ڈیفنس، اسپیس اینڈ سیکیورٹی، نے پہلے فنانشل ایکسپریس کو بتایا۔

    فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ رافیل میرین فائٹرز کو سپر ہارنٹس پر برتری حاصل ہے کیونکہ فرانس اور ہندوستانی حکومت کے درمیان 36 رافیل ڈبلیو کے لیے 8.7 بلین ڈالر کی ایک میگا ڈیل طے پائی تھی۔

    ادھر بھارتی فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی بحریہ ایک طرف پاکستان کوجواب دینے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف بھارت ، جاپان ،آسٹریلیا اور امریکہ کے ساتھ ملکر جنوبی چین اور کواڈ ممالک کے درمیان ہونے والے جنگی معاہدوں کے مطابق چین کے بحری راستوں کی ناکہ بندی کے لیے استعمال ہوں گے جس کا مقصد چین کی بحری ناکہ بندی کرکے چین کومعاشی طورپرکمزوراور تباہ حال کرنا ہے

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    لاہور(….9251+) :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا 43 سال بعد انکشاف ،تفصیلات کے مطابق معروف اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے خفیہ اداروں کی طرف سے ملنے والے حقائق کومنظرعام پرلاتے ہوئے بڑے بڑے سنگین انکشافات کیئے ہیں‌

    اس حوالے سے یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش کرتے ہوئے پاکستان کوجوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے لیے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو دھمکیاں دی تھیں‌ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں‌ باقاعدہ ان کمپنیوں پرحملےکروائے گئے، ان حملوں کے دومقاصد تھے ایک تو یہ ثآبت کرنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان کی حامی قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے دوسرا جو اسرائیلی موساد ایجنسی ایک متبادل تاثرپیدا کررہی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی صورت میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوسخت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نےتقریبا 43 سال بعد سال 2022 کے پہلے ہفتے میں اس سازش پرسے پردہ ہٹاتے ہوئے خطرناک حقائق پیش کئے ہیں‌۔ اخبار کے مطابق، "اس بات کے مضبوط شواہد ہیں‌ کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوملنے والی دھمکیوں‌ کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان ملکوں کوخبردار کیا تھا کہ اگرجوہری ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تو پاکستان بلاشبہ عالم اسلام کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بن جائے گا جو اسلام کے مقابل دیگرمذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی خطرے سے کم نہیں‌

    اخبار نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 1980 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے آلات کی تعمیر پر مل کر کام کیا۔ NZZ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کا گہرا کردار ہے اور یہ تعلق ایران سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان تک جاپہنچتا ہے

    اخبار نے سوئس مؤرخ ایڈریان ہانی کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ ممکنہ طور پر موساد سوئس اور جرمن کمپنیوں کے بم حملوں میں ملوث تھی، تاہم، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی "سگریٹ نوشی بندوق” نہیں تھی کہ موساد نے یہ حملے کیے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تنظیم، جو پہلے سے نامعلوم ادارہ ہے، نے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    NZZ آنجہانی پاکستانی ایٹمی سائنسدان، عبدالقدیر خان کے کردار پر رپورٹ کیا ہے، جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے آلات کے لیے مغربی اداروں اور کمپنیوں سے ٹیکنالوجی اور بلیو پرنٹس حاصل کرنے کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خان نے 1987 میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ایک وفد سے زیورخ کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نیوکلیئر انرجی کمیشن کے سربراہ انجینئر مسعود نرغی کر رہے تھے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران دو جرمن انجینئرز، گوتھارڈ لیرچ اور ہینز میبس،انجینئر مسعود نرغی کے ساتھ، جنہوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تھی، سوئٹزرلینڈ میں خان کے گروپ سے ملے۔ جبکہ اس سلسلے میں مزید ملاقاتیں متحدہ عرب امارات میں دبئی میں ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ، امریکی حکومت نے کامیابی کے بغیر، جرمن اور سوئس حکومتوں کو اپنے ممالک میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کی مدد کر رہی تھیں۔ موساد کے مشتبہ ایجنٹوں نے مبینہ طور پر سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں پاکستان کی مدد کرنے والی کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کی۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا انتقام لینے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجسی موساد نے اس وقت کے برلن میں نامعلوم مجرموں نے ان میں سے تین کمپنیوں پر دھماکہ خیز حملے کیے: 20 فروری 1981 کو کورا انجینئرنگ چور کے ایک سرکردہ ملازم کا گھر؛ 18 مئی 1981 کو مارکڈورف میں Wälischmiller کمپنی کی فیکٹری کی عمارت پر؛ اور آخر کار، 6 نومبر 1981 کو، ایرلانجن میں ہینز میبس کے انجینئرنگ آفس میں۔ تینوں حملوں کے نتیجے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا، صرف میبس کا کتا مارا گیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس دوران ” دھماکہ خیز مواد کے حملوں کے ساتھ کئی فون کالز بھی ہوئیں جن میں اجنبیوں نے دیگر ڈیلیوری کمپنیوں کو انگریزی یا ٹوٹے ہوئے جرمن میں دھمکیاں دیں۔ بعض اوقات فون کرنے والا دھمکیوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیتا۔ ‘وہ حملہ جو ہم نے Wälischmiller کمپنی کے خلاف کیا تھا وہ آپ پر بھی ہو سکتا ہے’ – اس طرح Leybold-Heraeus انتظامیہ کے دفتر کو ڈرایا گیا۔ اس وقت کے VAT کے مالک Siegfried Schertler اور اس کے ہیڈ سیلز مین Tinner کو کئی بار بلایا گیا۔ Schertler نے سوئس وفاقی پولیس کو بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی خفیہ سروس نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی فائلوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے،

    Schertler نے کہا کہ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم، جس کا نام ڈیوڈ تھا، نے VAT ایگزیکٹو سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیوڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے "یہ کاروبار” بند کر دیں اور ٹیکسٹائل کے کاروبار میں جائیں۔

    سوئس اور جرمن کمپنیوں نے خان جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے کاروبار سے نمایاں منافع حاصل کیا۔ NZZ نے رپورٹ کیا کہ "ان میں سے بہت سے سپلائرز، خاص طور پر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے، جلد ہی پاکستان کے ساتھ کروڑوں مالیت کے کاروبار میں داخل ہو گئے:

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خوف تھا کہ پاکستان اگرجوہری قوت بن گیا تو اس سے عرب دنیا اوردیگراسلامی ملکوں کو حوصلہ ملے گا اور پھراس کا دباو بلا شبہ اسرائیل اور دیگراسرائیل کے حمایت یافتہ ممالک پرپڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیل ،امریکہ ، بھارت ، برطانیہ سمیت درجنوں اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں ان کی حکومتوں اور دیگراداروں کو بڑی آسانی سے شکست دے کرپاکستان کوپہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) لکھتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بانی ہے جس نے مختلف اوقات میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانییہ ،بھارت اور دیگردرجنوں اتحادی ملکوں کے سارے منصوبوں کوخاک میں ملایا ، اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس مقصد کے لیے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کئی خفیہ کردار متحرک کررکھے تھے جن کو آج تک موساد، را ، سی آئی اے ، برطانوی ، فرانسیسی اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیاں محسوس اور ڈی ٹیکٹ نہ کرسکیں‌ اور یہی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہی پاکستان کے ایٹمی اثآثوں کی نگہبان اورمحافظ ہیں،امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پاکستان کی سیاسی حکومتوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب مسلّح افواج کو اس بات کی خبرملتی کہ سیاسی حکومتوں کے سربراہ امریکہ کوخوش کرنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں کے لیے سہولت کاربن رہے ہیں تو پھرملکی سلامتی اورپہلی ایٹمی اسلامی ریاست کی جوہری قوت کو بچانے کے لیے مجبورا حکومتوں کو ختم کردیا جاتا تھا

  • محبت کا جادو، پاکستانی نوجوان کو بھارتی صحرا میں لے گیا، پھر کیا ہوا؟

    محبت کا جادو، پاکستانی نوجوان کو بھارتی صحرا میں لے گیا، پھر کیا ہوا؟

    یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ محبت لوگوں کو جوڑتی ہے لیکن اگر بغیر سوچے سمجھے محبت میں کوئی بڑا قدم اٹھا لیا جائے تو یہی محبت ناصرف آپ کو بیچ صحرا پہنچا سکتی ہے بلکہ سلاخوں کے پیچھے بھی دھکیل سکتی ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان کے شہر بہاولپور کے 21 سالہ رہائشی محمد احمر کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا ہے محمد احمر نے محبت تو کی ، لیکن لڑکی کا انتخاب سرحد پار بھارت سے کیا، اب محبت تھی جس میں ملنا بھی ضروری تھا تو عقل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محمد احمر نے گذشتہ ماہ ممبئی میں اپنے محبوب سے ملنے کی خاطرپاکستان اور بھارت کی سرحد غیرقانونی طریقے سے عبور کر لی لیکن اپنی منزل پر پہنچنے کے بجائے وہ انڈیا کے ایک صحرائی ضلع میں پہنچ گئے اور اب انڈین سکیورٹی فورسز اُن سے تفتیش کر رہے ہیں اور وہ زیرِ حراست ہیں۔

    بھارت میں ایک بار پھرمسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کا انکشاف

    بھارتی افسران کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت نوجوان کے پاس اسلحے کی بجائے ایک پانچ سو کا نوٹ تھا، جس کے ساتھ اس نے اپنی محبت کی داستان سنائی افسران نے بتایا کہ محمد احمر سوشل میڈیا کے ذریعے بھارتی لڑکی سے ملے، اور محبت ہو گئی، پھر ملاقات کی خواہش ہوئی تو لڑکی نے کہا ممبئی آجاو، جس پر نوجوان نے بتایا کہ اس نے ویزا کی درخواست دی لیکن وہ نا منظور ہو گئی جس کے بعد اس نے سرحد عبور کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ لڑکے نے یہ سمجھ کر باڑ عبور کی کہ وہ ممبئی پہنچ جائے گا، لیکن انوپ گڑھ اور ممبئی کے درمیان 1400 کلومیٹرکا فاصلہ ہےلڑکے کی داستان سننے کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ تفتیشی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے لڑکی کو ڈھونڈا جو کالج میں پڑھتی ہے، اس کا کہنا تھا کہ ان کی احمر سے بات ہوتی تھی لیکن وہ محبت میں اتنی سنجیدہ نہیں تھیں، اور ممبئی آنے کا بھی مذاق میں کہا تھا۔

    نیوایئرپارٹی سے واپس آنے والی دو لڑکیوں سے جنسی زیادتی

    بھارتی پولیس سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ ہمیں تقریباً یقین ہے کہ اس میں کوئی ملک دشمن سرگرمی ملوث نہیں لیکن مرکزی ایجنسیاں بھی اپنی سطح پر تحقیقات کر رہی ہیں جب یہ ثابت ہو جائے گا کہ لڑکا مکمل طور پر بے قصور ہے تب بی ایس ایف کی پاکستان رینجرز کے ساتھ فلیگ میٹنگ ہو گی، جس میں اسے واپس اپنے ملک کے حوالے کیا جائے گا۔

    اگر وہ (پاکستان) اُنھیں اپنا شہری تسلیم کرتے ہیں اور یہ کہ اُنھوں نے باڑ عبور کی ہے تو اُنھیں واپس کر دیا جائے گا بصورت دیگر ہم نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کو آگاہ کریں گے تاکہ وہ خود اس کیس کو آگے بڑھا سکیں-

    مقامی ایس ایچ او پھول چند نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چار دسمبر کی رات کو بہاولپور کے قریب راجستھان کے صحرائی ضلع سری گنگا نگر کے انوپ گڑھ علاقے میں مبینہ طور پر انڈیا، پاکستان بین الاقوامی سرحد پار کرنے کے بعد احمر کو انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔

    بھارت:قوتِ گویائی سے محروم چیمپئن نے حکومتی وعدوں کو بے نقاب کردیا

    ایس پی آنند شرما نے بتایا کہ ’وہ باڑ پار کر کے انڈیا کی طرف آ گئے تبھی اُنھیں بی ایس ایف کے ایک اہلکار نے دیکھا اور اُنھیں خود کو سکیورٹی فورس کے حوالے کرنے کو کہا، جس پر اُنھوں نے خود کو اہلکاروں کے حوالے کر دیا۔‘’بے گناہی ثابت ہونے پر واپس بھیجا جائے گا

    نڈین میڈیا کے مطابق انڈین سکیورٹی حکام نے نوجوان کی اُن کی والدہ اور گاؤں کے نمبردار سے بات کروائی ہے تاہم نوجوان کی رہائی کے لیے تاحال کسی قسم کی کوئی باضابطہ کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے-

    خیال رہے کہ سرحد پار کرنے کی یہ وجہ حالیہ دنوں میں یہ سرحد عبور کرنے کا پہلا واقعہ نہیں اگرچہ سندھ سے ملحق ریاست راجستھان اور گجرات میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان سرحد کے بڑے حصے پر باڑ لگی ہوئی ہے لیکن محبت کی بنا پر حالیہ دنوں میں سرحد عبور کرنے کے بہت سے واقعات پیش آئے ہیں۔

    بھارتی جیل میں مسلم جوڑے پر بیہمانہ تشدد

    گذشتہ ماہ بہاولپور سے 30 سالہ علا الدین سری گنگا نگر سرحد عبور کر گئے لیکن پوچھ گچھ کے دوران اُن سے کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔ اگست 2021 میں سندھ کے ضلع تھرپارکر سے ایک نوجوان اپنے گھر والوں کے ساتھ جھگڑا ہونے پر ریاست گجرات کے ضلع کچھ میں داخل ہو گیا۔ اپریل 2021 میں ایک آٹھ سالہ لڑکا بھی غلطی سے باڑمیر سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد عبور کر چکا ہے۔

    اسی طرح انڈیا سے بھی سرحد عبور کر پاکستان جانے کے معاملے آتے رہتے ہیں نومبر 2020 میں ریاست راجستھان کے باڑمیر سے ایک شخص سرحد عبور کر اس لیے سندھ چلا گیا کیونکہ وہ مبینہ طور پر اپنی محبوبہ کے گھر میں چوری چھپے داخل ہو رہا تھا اور محبوبہ کے گھر والوں نے اسے دیکھ لیا اور وہ گرفتار ہوا اس سے قبل جولائی 2020 میں ریاست مہاراشٹر کے علاقے عثمان آباد کے ایک رہائشی نے کراچی کی ایک لڑکی سے ملنے کے لیے سرحد پار کرنے کی کوشش کی اس شخص کی مذکورہ لڑکی سے آن لائن ملاقات ہوئی تھی اور وہ محبت میں گرفتار ہو کر سرحد پار کرنے کے لیے نکل پڑا۔

    سعودی خواتین اب تیز رفتار ٹرین بھی چلائیں گی

    وہ گوگل میپ کی مدد سے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر گھر سے نکلے لیکن اپنے گھر سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور سرحد سے ملحقہ ضلع کچھ کے ایک ویران خطے میں پانی کی قلت سے بے ہوش ہوئے اور لوگوں کو بے ہوشی کی حالت میں ملے۔

    احمر کا معاملہ تازہ ترین ہے ایس پی آنند شرما نے محاورہ ’حقیقت افسانے سے زیادہ عجیب ہوتی ہے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتفاق کی بات ہے کہ ’انوپ گڑھ میں، جہاں احمر نے سرحد عبور کی، وہاں ایک لیلیٰ مجنوں کا مزار بھی ہے یہ یقینی نہیں کہ وہاں لیلیٰ مجنوں دفن ہیں لیکن ایک وقت تھا جب سرحد کے دونوں طرف سے ان کے مرید یہاں محبت میں کامیابی کے لیے منتیں مانگنے آیا کرتے تھے۔

    چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لئے،بھارت کا…

  • پاکستان آنے والی پروازوں سے متعلق نیا حکم نامہ جاری

    پاکستان آنے والی پروازوں سے متعلق نیا حکم نامہ جاری

    سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے بیرون ملک سے پاکستان آنے والی پروازوں سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کردیا –

    باغی ٹی وی : سی اے اے نے ممانعت والے ملکوں کی کیٹیگری بی اور کیٹیگری سی فہرست کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لئے پرواز سے 48 گھنٹے قبل پی سی آر ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    نئے حکم نامے کے مطابق یورپی ملکوں سے پاکستان پہنچنے والے مسافروں کے لئے ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر مسافروں کو 10 روز کے لیے قرنطینہ سینٹرز میں رکھا جائے گا ہوٹل یا مخصوص جگہ پر قرنطینہ مسافر اپنے اخراجات اٹھانے کے پابند ہوں گے۔

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

    سی اے اے کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے پر 5 جنوری سےعمل درآمد ہوگا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال 14 دسمبر کو پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے کورونا ویکسی نیشن کی مکمل ڈوز کے بغیر پاکستان سفر کی سہولت کے اجازت نامے میں 2 ماہ کی توسیع کی گئی تھی۔

    دوسری جانب کورونا کی پانچویں لہرکے حوالےسے این سی او سی اجلاس میں بڑے فیصلے کئے گئے وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کورونا سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ 3 دسمبر 2021 کو سندھ میں 261 کوویڈ کیسز تھے کورونا کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے دسمبر میں اومی کرون ٹیسٹ کرنے کیلئے 351 ٹیسٹ کیے گئے، 351 ٹیسٹ میں 175 اومی کرون کے کیسز ظاہر ہوئے، لوگوں کو مزید احتیاط کرنے ہونگی وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی اور حیدرآباد میں7ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کی ہدایت کر دی،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ویکسی نیشن بھی زیادہ کرنے کی ہدایت دی-

    این سی او سی اجلاس،تعلیمی اداروں میں چھٹیوں بارے الگ الگ تجاویزآ گئیں

    قبل ازیں وفاقی وزیراسد عمر کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں اجلاس ہوا،این سی او سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کورونا کی پانچویں لہر تیزی سے پھیل رہی ہے اجلاس میں کورونا کیسز کے اعداد وشمار،ویکسی نیشن پالیسی پر تبادلہ خیال کیا گیا، این سی اوسی نے ویکسی نیشن کے لازمی نظام کے حوالے سے سخت اقدامات پراتفاق کیا، اجلاس میں کورونا کیسز کے پھیلا و کا بھی جائزہ لیا گیا-

    یادر رہے کہ نئےسال کے آغاز پر،دنیا بھر میں فلائٹس آپریشن میں مشکلات کا سامنا دیکھنے میں آیا ہے ،اومی کرون اور موسم کی خرابی،اتوار کے روز 4ہزار پروازیں منسوخ ہوئی ہیں، منسوخ پروازوں میں آدھے سے زائد امریکا کی پروازیں شامل ہیں دنیا بھر میں 11ہزار سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں. پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی وجہ مسافر لوڈ کا زیادہ ہونا بھی ہے،پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اومیکرون کے پھیلاؤ کے بعد کئی ممالک نے فضائی سروس بند کر دی –

    جرمنی کے بحری جہاز میں کورونا پھیل گیا،بحری جہاز کو پرتگال کے ساحل پر روک دیا گیا،بحری جہاز میں سوار 3 ہزار کے قریب سیاح پھنس گئے، بحری جہاز میں موجود عملے کے19 ارکان سمیت 52 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی سیاح سال نو کا جشن منانے جزیرے پر جارہے تھے-

    کرونا کی پانچویں لہر، این سی او سی اجلاس میں بڑے فیصلے

  • کورونا وبا:پاکستان میں 2 جبکہ دنیا بھر میں 4 ہزار سے زائد اموات رپورٹ

    کورونا وبا:پاکستان میں 2 جبکہ دنیا بھر میں 4 ہزار سے زائد اموات رپورٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 2 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی :نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 44 ہزار 198 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 630 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے-

    سرخ آنکھوں اور جلد کی خارش بھی اومی کرون کی علامات ہیں ،امریکی طبی ماہرین

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 97 ہزار 865 جب کہ اموات کی مجموعی تعداد 28 ہزار 945 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 1.42 فیصد رہی۔

    بوسٹر ڈوز لگوانے کے باوجود امریکی اہم ترین شخصیت کرونا کا شکار

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 83 ہزار165، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 81 ہزار 498، پنجاب میں 4 لاکھ 45 ہزار 630، اسلام آباد میں ایک لاکھ 8 ہزار 823، بلوچستان میں 33 ہزار 648، آزاد کشمیر میں 34 ہزار 672 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 429 ہو گئی ہے۔

    کرونا کی پانچویں لہر، این سی او سی اجلاس میں بڑے فیصلے

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 75افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 673، خیبرپختونخوا 5 ہزار 933، اسلام آباد 967، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 365 اور آزاد کشمیر میں 746 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق کوئٹہ، بلوچستان میں کورونا کیسز میں کمی کا رحجان برقرار ہے صوبے میں کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد33 ہزار648 ہوگئی بلوچستان میں کوروناسے جاں بحق افراد کی تعداد365ہوگئی ہے-

    محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق کوئٹہ کے 6 اضلاع میں کورونا ٹیسٹ کئے گئےکوئٹہ میں کورونا کی پھیلنے کی شرح1.05فیصد رپورٹ کی گئی جبکہ
    24گھنٹے میں بلوچستان میں کورونا پھیلنے کی شرح 1.72فیصدرپورٹ کی گئی اور کورونا سے صحت یاب افراد کی تعداد33ہز243ہوگئی ہے-

    2022 میں کورونا وبا کا خاتمہ ہونے کی توقع ہے ،سربراہ ڈبلیو ایچ او

    گزشتہ 24 گھنٹے میں اٹلی میں 68 ہزار سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ،گزشتہ 24 گھنٹے میں اسپین میں 93ہزار زائد کورونا کیسز فرانس میں 67ہزار سے زائد کورونا کیسز ، برطانیہ میں ایک لاکھ 57ہزار سے زائد کورونا کیسزاور امریکا میں 4لاکھ ایک ہزار سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہوئے-

    اومی کرون ویرینٹ کے پیش نظر تقریبات کو ملتوی کردینا چاہیے:عالمی ادارہ صحت کا پیغام

    جبکہ گزشتہ 24 گھنٹے میں دنیا میں بھر میں کورونا سے 4 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں اور گزشتہ 24 گھنٹے میں دنیا بھر میں 13 لاکھ 15ہزار سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہوئے-

    لیب کی غلطی، سینکڑوں مریضوں کو کورونا سے محفوظ قرار دیا

  • پاکستان میں جمادی الثانی کا چاند نظر نہیں آیا

    پاکستان میں جمادی الثانی کا چاند نظر نہیں آیا

    پاکستان میں جمادی الثانی کا چاند نظر نہیں آیا لہذا یکم جمادی الثانی 1443 ہجری 5 جنوری بروز بدھ کو ہو گی.

    باغی ٹی وی : مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سمیت زونل کمیٹی اسلام آباد کے ارکان نے شرکت کی –

    جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کاانکشاف، ایڈووکیٹ صفدر شاہین کے خلاف مقدمہ درج

    اس موقع پر مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان بھر میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس انکے ہیڈ کوارٹرز پرمنعقد ہوئے۔

    مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان بھر میں مطلع ابر آ لود رہا اور کہیں سے بھی چاند نظر آنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی،لہذا کمیٹی ارکان نے متفقہ اعلان کیا کہ آج چاند نظر نہیں آیا، یکم جمادی الثانی 1443 ہجری 5 جنوری بروز بدھ کو ہو گی۔

    انہوں نے کہا کہ شہریوں سے اپیل ہے وہ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کریں۔

    سندھ ہائیکورٹ میں بلدیاتی ایکٹ کیخلاف درخواست دائر

    جمادی الثانی اسلامی تقویم کا چھٹا مہینہ ہے اس مہینے کی 21 تاریخ کو 13 ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق نے وفات پائی ابو بکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ تیمی قریشی رضی اللہ عنہ ٕ پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، پیغمبر اسلام کے وزیر، صحابی و خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے ان کی کنیت "ابو بکر” کے ساتھ صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب لگایا جاتا جسے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام نے دیا تھا۔

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ عام الفیل کے دو برس اور چھ ماہ بعد سنہ 573ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ دور جاہلیت میں ان کا شمار قریش کے متمول افراد میں ہوتا تھا۔ جب پیغمبر اسلام ﷺنے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر کسی پس و پیش کے اسلام قبول کر لیا اور یوں وہ آزاد بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کہلائے۔ قبول اسلام کے بعد تیرہ برس مکہ میں گزارے جو سخت مصیبتوں اور تکلیفوں کا دور تھا۔

    پی ایس ایل میرے لیے ایک امید ہے،سرفراز احمد

    بعد ازاں پیغمبر اسلام ﷺ کی رفاقت میں مکہ سے یثرب ہجرت کی، نیز غزوہ بدر اور دیگر تمام غزوات میں پیغمبر اسلام ﷺکے ہم رکاب رہےمنصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلامی قلمرو میں والیوں، عاملوں اور قاضیوں کو مقرر کیا، جا بجا لشکر روانہ کیے، اسلام اور اس کے بعض فرائض سے انکار کرنے والے عرب قبائل سے جنگ کی یہاں تک کہ تمام جزیرہ عرب اسلامی حکومت کا مطیع ہو گیا۔

    ان کے عہد خلافت میں عراق کا بیشتر حصہ اور شام کا بڑا علاقہ فتح ہو چکا تھا پیر 22 جمادی الاخری سنہ 13ھ کو تریسٹھ برس کی عمر میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے جانشین ہوئے۔

    ناظم جوکھیو کیس:خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو وفاقی حکومت اس کیس کو آگے بڑھائے…

  • جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،شوکت ترین

    جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،شوکت ترین

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس کی جتنی طاقت ہےوہ ٹیکس چھپاتا ہے،کسی کوہراساں نہیں کریں گے لیکن ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : وزیرخزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ کے ذریعے پتہ لگائیں گےکہ کس کی کتنی انکم ہے وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ معاشرےکی ترقی میں ٹیکس کااہم کردارہے، جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا-

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ٹیکس کلچر کو پروان چڑھانےکیلئےشروعات پارلیمنٹیرینز سے ہونی چاہیے، ارکان پارلیمنٹ ٹیکس کی ادائیگی میں لوگوں کیلئےمثال بنیں یہاں جس کی جتنی طاقت ہےوہ ٹیکس چھپا تا ہے-

    جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کاانکشاف، ایڈووکیٹ صفدر شاہین کے خلاف مقدمہ درج

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ریونیو سے کرنٹ اخراجات بھی پورےنہیں کرپارہے ٹیکس سسٹم میں شفافیت اورآسانی کیلئےاقدامات کررہےہیں شناختی کارڈ کے ذریعے پتہ لگائیں گےکہ کس کی کتنی انکم ہے، کسی کوہراساں نہیں کریں گے لیکن ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

    ناظم جوکھیو کیس:خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو وفاقی حکومت…

    شوکت ترین نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی کے علاوہ کوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہیے، 22 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 30 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں، محصولات میں اضافے کیلئے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    سیالکوٹ سے دبئی، پی آئی اے پروازوں کا آغاز

  • وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کے ٹیکس کی تفصیلات سامنے آ گئیں-

    باغی ٹی وی تفصیلات کے مطابق کے مطابق ایف بی آر نے پارلیمنٹرینز کی سال2019کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی ہے، جس کے مطابق 80 سینیٹرز اور 312 اراکان اسمبلی نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے وزیراعظم عمران خان نے98لاکھ 54 ہزار959 روپے ٹیکس ادا کیا وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ائیر 2019 میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے ٹیکس جمع کرایا، وزیراعظم نے ٹیکس ائیر 2019 میں 82 لاکھ 81 ہزار830 سو روپے کی پریزمٹو آمدنی اور 23 لاکھ 64 ہزار150 روپے کی زرعی آمدنی ظاہر کی ہے۔

    سیالکوٹ سے دبئی، پی آئی اے پروازوں کا آغاز

    وزیرخزانہ شوکت ترین نے 2 کروڑ 66 لاکھ 27 ہزار 737 روپے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 8 لاکھ 51 ہزار 955 روپے اور پی ٹی آئی کے نجیب ہارون نے 14 کروڑ 7 لاکھ 49 ہزار روپے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےصرف 2 ہزارروپے،سینیٹر فیصل واوڈا نے 11 لاکھ 62 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے 66 ہزار 258 روپے، سابق وزیراعلیٰ جام کمال نےایک کروڑ 17 لاکھ 50 ہزار 799 روپے، موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے 10 لاکھ 61 ہزار 777 روپے،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 5 لاکھ 55 ہزار 794 روپے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایک کروڑ 39 لاکھ 9 ہزار327 روپے، وفاقی وزیر اسد عمر نے 42 لاکھ 72 ہزار 426 روپے، وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے ایک لاکھ 36 ہزار 808 روپے، ٹیکس جمع کرایا-

    ناظم جوکھیو کیس:خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو وفاقی حکومت اس کیس کو آگے بڑھائے گی

    جبکہ وزیر مملکت فرخ حبیب نے 4 لاکھ 5 ہزار 477 روپے، وفاقی وزیر مراد سعید نے 86 ہزار 606 روپے، سینیٹر رضا ربانی نے ایک کروڑ 55 لاکھ 5 ہزار 493 روپے، سینیٹر طلحہ محمود نے 3 کروڑ 22 لاکھ 80 ہزار 549 روپے،سینیٹر ذیشان خانزادہ نے 1 ہزار روپے، اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی نے 9 لاکھ 32 ہزار 835 روپے اور وفاقی وزیرعلی زیدی نے10 لاکھ 47 ہزار 808 روپے ٹیکس دیا۔

    وفاقی وزیر حماد اظہر نے 29 ہزار 25 روپے ، وزیر داخلہ شیخ رشید نے 5 لاکھ 57 ہزار 450 روپے، پی ٹی آئی نو ر عالم خان نے 82 ہزار 311 روپے ٹیکس دیا سندھ اسمبلی کے رکن علی غلام نے انکم ٹیکس کی مد میں صرف ڈھائی سو (250) روپے ادا کیے ہیں ایم کیو ایم پاکستان کی سینیٹر خالدہ اطیب نے ٹیکس کے ذریعے قومی خزانے میں 315 روپے جمع کرائے ہیں۔ اس طرح سب سے کم ٹیکس ادا کرنے والے پارلیمنٹیرینز میں وہ دوسرے نمبر پر آئی ہیں۔

    دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے 82 لاکھ 42 ہزار 662 روپےٹیکس دیا جبکہ ان کی قابل ٹیکس آمدن 3 کروڑ پچاس لاکھ ہے ،شاہدخاقان عباسی نے48لاکھ 71 ہزار277 روپے،خواجہ آصف نے 2 لاکھ 30 ہزار 386 روپے، وزیر غلام سرور خان نے 12 لاکھ 11 ہزار 661 روپے،خواجہ سعد رفیق نے 2 لاکھ 69 ہزار 414 روپے جبکہ خرم دستگیر نے روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ یوسف رضا گیلانی کے کوئی ٹیکس نہیں دیا-

    عثمان بزدار کو بڑی یقین دہانی کروا دی گئی

    آصف زرداری نے 22 لاکھ 18 ہزار 229 روپے، اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے 5 لاکھ 35 ہزار243 روپےٹیکس دیا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 19 لاکھ 21 ہزار 914 روپے، شیری رحمان نے 9 لاکھ 40 ہزار رواپے، سینیٹر مشاہد حسین سید نے 76 ہزار روپے، سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے 49 لاکھ روپے ،سینیٹر فیصل جاوید نے 66 ہزار روپے، وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے 7 لاکھ 84 ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا-

    ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے چالیس ہزار نو سو تیرہ روپے، وزیر قانون فروغ نسیم نے بیالیس لاکھ پچاسی ہزار دو سو ایک روپے، وفاقی وزیر مونس الہی نے پینسٹھ لاکھ چونتیس ہزار دو سو اکیاون روپے، وزیر دفاع پرویز خٹک نے بارہ لاکھ ستاون ہزار چار سو اکسٹھ روپے، وفاقی وزیر نورالحق قادری نے باسٹھ ہزار دو سو پچاس روپے ٹیکس دیا-

    کراچی میں کورونا کیسز میں اضافہ، وزیراعلیٰ سندھ نے اہم ہدایت جاری کردی

    شہریار آفریدی نے ترپن ہزار آٹھ سو چھیتر روپے،وفاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی شبلی فراز نے آٹھ لاکھ پچاسی ہزار روپے ،سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے 89 ہزار 479 روپے، شیریں مزاری نے تین لاکھ اکہتر ہزار تینتیس روپے عامر ڈوگر نے بائیس لاکھ اٹھانوے ہزار سات سو نوے روپے وفاقی وزیر خسرو بختیار نے ایک لاکھ اٹھاون ہزار ایک سو روپے ٹیکس ادا کیا-

    احسن اقبال نے پچپن ہزار چھ سو چھپن روپے اعظم نذیر تارڑ نے پچیس لاکھ چالیس ہزار ایک سو چھبیس روپے سینیٹر احمد خان تئیس لاکھ اٹھا سی ہزار تین سو باسٹھ روپے ملیکہ علی بخاری نے اڑتیس ہزار تین سو ترتالیس ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے انتالیس ہزار سات سو اکسٹھ روپے انکم ٹیکس ادا کیا-

    23 مارچ کو مارچ کا اعلان کرنے والوں کو شیخ رشید نے دیا پیغام

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے مالی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرنے والے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمںٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے 331 ارکان نے تاحال تفصیلات جمع نہیں کرائیں، 15 جنوری تک اثاثوں کی تفصیلات موصول نہ ہوئیں تو رکنیت معطل کر دی جائے گی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کے 17، قومی اسمبلی کے 102، پنجاب اسمبلی کے 127، سندھ اسمبلی کے 31 ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 40 اور بلوچستان اسمبلی کے 14 ارکان نے تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

    راولپنڈی:4 مریضوں میں اومی کرون کی تصدیق

  • بغداد میں قاسم سلیمانی کی برسی پرامریکی ڈرونز کا حملہ:دوڈرون مارگرائے گئے

    بغداد میں قاسم سلیمانی کی برسی پرامریکی ڈرونز کا حملہ:دوڈرون مارگرائے گئے

    بغداد :بغداد میں قاسم سلیمانی کی برسی پرامریکی ڈرونز کا حملہ:دوڈرون مارگرائے گئے،اطلاعات کے مطابق عراقی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پیر کے روز دو مسلح ڈرونز کو مار گرایا گیا جب وہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے عراقی فوجی اڈے کے قریب پہنچے، انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور عراق میں اس کے اتحادیوں نے اعلیٰ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی دوسری برسی منائی۔

    عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی اورشیعہ ملیشیا کے رہ نما ابومہدی المہندس کی ہلاکت کی دوسری برسی کے موقع پر سیکڑوں افراد نے ریلی نکالی ہے۔انھوں نے امریکا مخالف شدید نعرے بازی کی ہے۔

    مظاہرین نےعراق میں موجود باقی امریکی افواج کو نکالنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے،جن پرلکھا تھا:’’ہم آپ کوآج کے بعد شہیدوں کی سرزمین پر نہیں رہنے دیں گے‘‘۔امریکی اور اسرائیلی جھنڈے زمین پر بکھرے پڑے تھے اور ریلی کے دوران میں لوگ انھیں پامال کررہے تھے۔

    ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے تحت القدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی تین جنوری 2020ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان کے ساتھ الحشدالشعبی کے نائب سربراہ ابومہدی المہندس بھی مارے گئے تھے۔

    ان کے ڈرون حملے میں اہدافی قتل نے ایران اور امریکا کو ایک ہمہ گیر تنازع میں دھکیل دیا تھا اورعراق میں اشتعال پیدا کردیا تھا جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے کئی روز بعد ایک غیرپابند قرارداد منظور کی جس میں عراق سے تمام غیر ملکی فوجیوں کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    امریکا نے بعد میں عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کردیا تھا اور مستقبل قریب میں قریباً ڈھائی ہزار فوجی تعینات رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ عراقی افواج کی تربیت کے لیے مشاورتی کردار جاری رکھیں گے۔عراقی ملیشیاؤں کے بعض رہ نما تمام امریکی فوجیوں کے انخلا پراصرار کررہے ہیں۔

    ایران کے اتحادی کے سربراہ ہادی العامری نے کہا کہ ہم اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے امریکی فوج کے مکمل انخلا سے کم کچھ بھی قبول نہیں کریں گے۔

  • غیرقانونی بھرتیاں:لاہورہائی کورٹ نے  وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا

    غیرقانونی بھرتیاں:لاہورہائی کورٹ نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا

    لاہورہائی کورٹ نے غیرقانونی بھرتیوں پر وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو پاکستان(اے ٹی آئی آر)میں گریڈ 21 کے 10 جوڈیشل ممبران کی بھرتیوں کے خلاف دائر درخواست پر وزیراعظم عمران خان، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکرٹری قانون اورچئیرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور رجسٹرار ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو پاکستان سے 14 جنوری 2022 کو جواب طلب کیا ہے۔

    عدالت نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 2 جون 2021 کو نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں گریڈ 21 کے 10 جوڈیشل ممبران کی تقرری کو چیلنج کئے جانے کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے نوٹس جاری کئے ہیں۔

    درخواست گزار ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ ان تقرریوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے۔

    پیپلز پارٹی والے کراچی کا پانی چوری کرکے اربوں روپے کماتے ہیں، مصطفیٰ کمال

    وحید شہزاد بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تقرریاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1977 کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی سروسز میں گریڈ 16 اور اس سے زائد گریڈ کے افسران کی تقرری فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوگی۔

    درخواست گزار نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 130 کے تحت وفاقی حکومت کی بجائے وزیر اعظم کو ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں گریڈ 21 کے جوڈیشنل ممبران کی تقرری کا دیا جانے والا اختیارغیرقانونی ہے۔

    درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے2 جون کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کی استدعا کی۔

    رواں سال پاک بھارت وزراء اعظم کی ملاقات، اہم شخصیت کا دعویٰ

    دوسری جانب ایف اے ٹی ایف نے جعلی شناختی کارڈز سے کاروبار کرنے والوں کی فہرست طلب کرلی نادرا نے ایسے کاروباری شہریوں کی تفصیلات ایف بی آر کو فراہم کردیں، ایف بی آر نے بینکوں سے ان شناختی کارڈذ پر بنائے گئے اکاؤنٹس کی تفصیل طلب کرلی جعلی شناختی کارڈز کی بنیاد پر رجسٹرڈ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہےنادرا نے جعلی شناختی کارڈز کا کھوج لگانے کا عمل 4 ماہ قبل شروع کیا فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے سب سے پہلے ان شناختی کارڈز کی تفصیل حاصل کی، یہ تفصیل منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کا کھوج لگانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔