Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • چونیاں میں پاکستان کا پہلا ایکوا بزنس پارک:103 پلاٹس بنائے جائیں گے:میاں اسلم اقبال

    چونیاں میں پاکستان کا پہلا ایکوا بزنس پارک:103 پلاٹس بنائے جائیں گے:میاں اسلم اقبال

    لاہور:پاکستان کا پہلا ایکوا بزنس پارک:چونیاں میں 103 پلاٹس بنائے جائیں گے:اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال پیڈمک آفس کوٹ لکھپت پہنچے جہاں پر سی ای او پیڈمک علی معظم سید نے چونیاں ایکوا بزنس پارک کے منصوبے میں پیشرفت پر بریفنگ دی۔

    میاں اسلم اقبال نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار چونیاں ایکوا بزنس پارک کے ترقیاتی کاموں کا جلد افتتاح کریں گے ، 321 ایکڑ پر مشتمل یہ پاکستان کا پہلا ایکوا بزنس پارک ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ چونیاں ایکوا بزنس پارک میں 103 پلاٹس بنائے جائیں گے ، بزنس پارک میں کمرشل ایریا، لیبر کالونی، گرڈ اسٹیشن، کولڈ اسٹوریجز، فیڈ مل، ریسرچ سینٹرز، پیکیجز سینٹرز اور فش مارکیٹ بھی بنے گی۔

    صوبائی وزیر صنعت وتجارت نے کہا کہ پیڈمک کے زیر اہتمام اس بزنس پارک میں 2 ارب روپے کی لاگت سے ترقیاتی کام رواں سال دسمبر تک مکمل کر لیے جائیں گے۔

    میاں اسلم اقبال نے کہا کہ سابق حکومت نے چونیاں میں انڈسٹریل اسٹیٹ بنانے کا منصوبہ زیر زمین پانی کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث ترک کر دیا تھا ، منصوبہ میں ترقیاتی کاموں کے نام پر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے ضائع کر دیئے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے چونیاں اسٹیٹ کے زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر اسے ایکوا بزنس پارک میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ، چونیاں ایکوا بزنس پارک میں جھینگوں اور کیکڑوں کی بڑے پیمانے پر ایکسپورٹ کر کے قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

    صوبائی وزیر نے منصوبہ بروقت مکمل کرنے کے لئے پیڈمک کو کام مزید تیز کرنے کی ہدایت دی۔سی ای او پیڈمک علی معظم سید نے کہا کہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لئے وفاقی حکومت سے درخواست کی جا چکی ہے۔

  • جماعت اسلامی کو شرم آنی چاہیے:پی پی خاتون رہنما شہلا رضا نے یہ الفاظ کیوں کہے؟

    جماعت اسلامی کو شرم آنی چاہیے:پی پی خاتون رہنما شہلا رضا نے یہ الفاظ کیوں کہے؟

    کراچی : جماعت اسلامی کو شرم آنی چاہیے:پی پی خاتون رہنما شہلا رضا نے یہ الفاظ کیوں کہے؟،اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کی رہنما و سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ شہلا رضا نے جماعت اسلامی کے بلدیاتی ایکٹ کے ‏خلاف احتجاج پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج مہنگائی سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا جا ‏رہا ہے۔

    اپنے ردعمل میں شہلارضا نے کہا کہ بلدیاتی ایکٹ کے خلاف احتجاج پر جماعت اسلامی کوشرم آنی ‏چاہیے جماعت اسلامی پٹرولیم ، بجلی، گیس کی قیمتوں پر آواز بلند کرے۔

    شہلارضا نے کہا کہ عوام پر 350 ارب روپےکے ٹیکس لاد دئیے گئے لیکن جماعت اسلامی کو عام ‏آدمی کےمسائل سےکوئی واسطہ نہیں اگر جماعت اسلامی کو بلدیاتی قانون سےکوئی مسئلہ ہوتا ‏تو ترمیم دیتی۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ان کے نمائندے اپنی ترمیم پیش کرتے جماعت اسلامی کی ‏دھرنا سیاست کو باشعور شہریوں نے مسترد کر دیا ہے مہنگائی کے خلاف بیدار عوام کو گمراہ ‏کرنے کیلئے بلدیاتی نظام کا شور ڈالا گیا کراچی پر غیرمقامیوں کے قبضےکی بات جماعت کی ‏منافقت کا اظہار ہے۔

    دوسری جانب امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب ‏میں کہا ہے کہ میٹروپول سے وزیر اعلیٰ ہاؤس قریب ہے ان شاء اللہ وہاں بھی دھرنا دیں گے سندھ ‏اسمبلی کو خالی نہیں کریں گے یہ ہمارا احتجاجی مرکز ہے اہل کراچی کو حق نہ دیا گیا تو شہر ‏کی تمام شاہراؤں اور سڑکوں پر دھرنے اور مارچ ہوں گے ایک ہفتے میں پورے شہر میں دوہزار ‏کارنر میٹنگز کریں گے۔

  • کراچی کی تاجر برادری کے دیرینہ مطالبات پورے ہونے کا وقت آگیا:اہم شخصیت کا دعویٰ

    کراچی کی تاجر برادری کے دیرینہ مطالبات پورے ہونے کا وقت آگیا:اہم شخصیت کا دعویٰ

    کراچی: کراچی کی تاجر برادری کے دیرینہ مطالبات پورے ہونے کا وقت آگیا:اہم شخصیت کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر سے شہرقائد کی تاجربرادری کے وفد نے ملاقات کی اس موقع پر تاجروں کے مسائل سنے گئے اور حل کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔اس موقع پر ان کا کہنا تھاکہ وقت آگیا ہے کہ کراچی کی تاجربرادری کے تمام مطالبات پورے کیے جائیں

    تفصیلات کے مطابق علی زیدی سے ملاقات میں تاجر رہنما زبیر موتی والا اور جاویدبلوانی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔ وفاقی وزیر نے تاجربرادری کے مسائل سنے اور حل کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر نے کراچی کی ترقی میں تاجربرادری کےکردار کو سراہا، وبا کے دوران سنگین صورت حال کا مقابلہ کرنے پر بھی تعریف کی۔

    علی زیدی کا کہنا تھا کہ کراچی کی تاجربرادری ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کامعاشی حب تاجربرادری کی وجہ سےکہلاتا ہے، ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں تاجربرادری نے ہمیشہ کردار ادا کیا۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان بھی کراچی کی تاجربرادری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تاجربرادری کے مسائل وزیراعظم کے سامنے رکھوں گا۔علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ تاجربرادری کے مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے۔

    ادھر دوسری طرف کراچی کی تاجر برادری نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہاہےکہ انہیں‌ امید ہے کہ عمران خان واقعی کراچی کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں‌ گے

  • گوادراپنےرہنےوالوں کےپاوں تلےدب گیا:مولانا کا پھردھرنےاورکوسٹل ہائی وے بند کرنےکااعلان

    گوادراپنےرہنےوالوں کےپاوں تلےدب گیا:مولانا کا پھردھرنےاورکوسٹل ہائی وے بند کرنےکااعلان

    گوادر: گوادراپنےرہنےوالوں کےپاوں تلےدب گیا:مولانا کا پھردھرنےاورکوسٹل ہائی وے بند کرنےکااعلان ،اطلاعات کے مطابق حق دوتحریک کےسربراہ مولاناہدایت الرحمان نےکوسٹل ہائی وےکی بندش کا اعلان کر دیا۔

    ایئرپورٹ روڈ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ گزشتہ ماہ حکومت ‏سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کیا تھا وزیراعلیٰ نے مطالبات پر عمل درآمد کا یقین دلایاتھا لیکن ‏ایک ماہ گزرنے پر ہمارےمطالبات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

    ہدایت الرحمان نے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 20 جنوری کو اورماڑہ کوسٹل ‏ہائی وے پر دھرنا دیاجائےگا اور 3 فروری کو مکران کوسٹل ہائی وے بلاک کیا جائےگا۔

    انہوں نے کہا کہ 10فروری کو سربندن کراس پر مکران کوسٹل ہائی وے بند ہو گی جب کہ 27 ‏فروری اوتھل زیرو پوائنٹ پر دھرنا ہو گا اور یکم مارچ کو غیرمعینہ مدت کیلئےدوبارہ گوادر میں ‏دھرنا دیا جائےگا۔

    واضح رہے کہ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں گوادر دھرنا ایک ماہ سے زائد عرصے جاری رہا جس کا وزیراعظم نے نوٹس لیا اور حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کیا گیا تھا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے مابین ہونے والے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

    یاد رہےکہ گوادر کی عوام اس وقت ایک طرف بنیادی سہولیات سے بہت دور ہیں اور دوسری طرف وہاں کی سیاسی اور مذہبی قیادت عوام کو اپنی سیاسات چمکانے کےلیے بار بار دھرنوں اور احتجاجوں پر مجبور کررہی ہے

  • عمران خان خطےاورعالم اسلام کی ضرورت:اگلے5سال بھی کپتان کی حکومت ہوگی:فواد چوہدری

    عمران خان خطےاورعالم اسلام کی ضرورت:اگلے5سال بھی کپتان کی حکومت ہوگی:فواد چوہدری

    لاہور : عمران خان خطےاورعالم اسلام کی ضرورت:اگلے5سال بھی کپتان کی حکومت ہوگی: وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ لوٹ مار کرکے بھاگنے والےمعیشت پر لیکچر دے رہےہیں، انہیں بتاتا چلوں کہ اگلے5سال بھی ہم کہیں نہیں جارہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستانیوں اور عالم اسلام کی ضرورت ہیں اور سب یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کی قیادت خطے کے مفاد میں بہت ہی بہتر ثآبت ہوگی

    تفصیلات کے مطابق لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے اپوزیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، ان کے مارچ کا شور پہلے دن سے سنتے آرہے ہیں، آئندہ بھی کوشش کرکے دیکھ لیں۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کامستقبل روشن ہے، کچھ لوگوں کاخیال ہےکہ عمران خان مہنگائی کی وجہ سےآگے نہیں آئینگے، 1100سیٹوں پرالیکشن ہوگا اور پی ٹی آئی کے علاوہ ان سیٹوں پر کوئی جماعت امیدوار کھڑے نہیں کرسکتی، صرف عمران خان ہےجسکا ووٹ کےپی،پنجاب،باقی شہروں میں ہے، اپوزیشن سن لیں اگلے5سال بھی ہم کہیں نہیں جارہے۔

    وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ سے ہیلتھ کے مسائل حل ہوں گے، جس پر ہر خاندان 10 لاکھ روپے تک علاج کروا سکے گا، نجی اسپتال جائیں تو علاج کا خرچہ حکومت اٹھائے گی، حادثے میں زخمی شخص کا بھی صحت کارڈ کے تحت فوری علاج ہو سکے گا، صحت کارڈ کا سب سے زیادہ فائدہ سفید پوش اور مڈل کلاس طبقے کو ہوگا۔

    وزیراطلاعات نے کہا کہ سب سے زیادہ مشکل میں تنخواہ دار طبقہ ہے جن کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں، آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو مہنگائی زیادہ لگتی ہے، نواز شریف کا مسئلہ مہنگائی سے جڑا ہوا ہے، 1947 سے 2008 تک 6 ہزار ٹریلین کا قرضہ لیا گیا، جب کہ 2008 سے 2018 تک 23 ٹریلین قرضہ لیا گیا، پی ٹی آئی کی حکومت 32 ارب ڈالر قرضہ واپس کرچکی ہے، نوازشریف لندن کی سب سے مہنگی پراپرٹی میں بیٹھے ہوئے ہیں، لندن میں آصف زرداری چرچل ہوٹل کا مہنگا ترین اپارٹمنٹ لے کر رہتے ہیں۔

  • ایف بی آر کی شہری سے ناانصافی، صدر پاکستان عارف علوی  نے معافی مانگ لی:سُن کرہرکوئی خوش

    ایف بی آر کی شہری سے ناانصافی، صدر پاکستان عارف علوی نے معافی مانگ لی:سُن کرہرکوئی خوش

    اسلام آباد:ایف بی آر کی شہری سے ناانصافی، صدر پاکستان عارف علوی نے معافی مانگ لی:سُن کرہرکوئی خوش ،اطلاعات کے مطابق صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے انتظامی نا انصافی پر شہری سے معذرت کرلی ۔

    صدر عارف علوی نے 82 سالہ ٹیکس دہندہ کے ساتھ نارواسلوک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین ایف بی آرغیر ذمہ داری اوربدعنوانی کاجائزہ لیں۔ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ معاملے میں ملوث تمام افراد کیخلاف کارروائی ہوگی۔

    ادھر ذرائع کے مطابق جس شہری سے صدرپاکستان ڈاکٹر عارف الرحمن علوی نے معافی مانگی ہے وہ بہت ہی زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا جو ہوگیا ، اس شہری کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کی بہت زیادہ خوشی ہوئی ہےکہ ایک بڑے عہدے پربیٹھا شخص کس طرح بڑا دل کرکے ایک عام شہری سے کسی دوسرے کی غلطی پرمعافی مانگ رہا ہے

    اس شخص کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اچھے رویے کی دنیا میں‌ کسی بھی بادشاہت میں‌ اعلیٰ ظرفی کی مثال نہیں ملتی

    ادھر سوشل میڈیا پر عوام الناس کا کہنا ہےکہ وہ اپنے سربراہ مملکت کے رویے سے بہت ہی زیادہ متاثر ہوئے ہیں کہ کیسے گناہ ایف بی آ کاہےاورمعذرت صدرمملکت کررہے ہیں ، اکثروبیشتر کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے کو ایسے رویوں کی ضرورت تھی جس کا آغاز صدرمملکت نے کرکے ایک مثال قائم کردی ہے اور اب ہمیں بھی ایسے رویوں سے ایک دوسرے سے پیش آنا چاہیے

  • پہلی قومی سلامتی پالیسی   ۔۔۔   دوست کون، دشمن کون ؟ تحریر: فیصل رانا

    پہلی قومی سلامتی پالیسی ۔۔۔ دوست کون، دشمن کون ؟ تحریر: فیصل رانا

    سیاسی ہلڑبازی اور معاشی افراتفری کی ہنگامی خیزیوں پر تو ہم روز بات کرتے ہیں ، آج پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے متعلق بات کریں گے جس کا اجرا کردیا گیا ہے۔ 100 صفحات پر مشتمل اس پالیسی ڈاکومنٹ کے آدھے حصے کو پبلک کیا گیا ہے جبکہ باقی آدھے حصے کو مخفی رکھا گیا ہےکیونکہ قومی سلامتی کے تمام امور کو عوام کے سامنے نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی یہ عام معلومات کیلئے ہوتی ہے۔ یہ قومی سلامتی پالیسی ڈاکومنٹ سول اور ملٹر ی اتفاق رائے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ کل چھ حصوں پر مشتمل اس دستاویز کو مرتب کرنے کیلئے 600 سے زائد ماہرین سے آراء لی گئیں اور مشاورت کی گئی ہے حتی کہ اس کی جامعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹز کے طلبا سے بھی اس پر آرا ء لی گئی ہیں۔

    یہ پالیسی معاشی، عسکری اورانسانی سکیورٹی کے 3 بنیادی نکات پرمشتمل ہےجبکہ معاشی سلامتی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی اور نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا کیونکہ سالانہ نظرثانی کا مقصد ہی یہ ہے کہ آنے والے وقت کے تقاضوں کے مطابق پالیسی کو پرکھا اور ماحول کے مطابق ڈھالا جاسکے۔ اس پالیسی کا محور پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے دنیا میں پاکستان کے مقام کو نمایاں کرنا ہے اور اس کے لئے جیو-اسٹریٹیجک اور جیو-پولیٹیکل امور کلیدی جز ہیں اور اس میں معاشی سلامتی اور تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

    قو می سلامتی کے چھ بنیادی حصے ہیں۔ 1۔ قومی ہم آہنگی، 2۔معاشی مستقبل کاتحفظ، 3۔دفاع اور جغرافیائی سالمیت، 4۔داخلی سلامتی، 5۔ بدلتی دنیا میں خارجہ پالیسی ، 6۔ اور انسانی سلامتی

    اب ان حصوں پر بھی فردا فردا بات کرلیتے ہیں کہ ان کی الگ الگ اہمیت کیا ہے اور ان کو کیوں انفرادی طور پر زور دیکر بیان کیا گیا ہے ۔

    قومی ہم آہنگی : اس حصے کا پہلا جز ہے کہ اسلامی جمہوریہ اور آئین کے مطابق ہمارے کرداراور وسیع ثقافت کےتحفظ کویقینی بنانے کا تعین کیا گیا ہے یعنی ہمارے ملک میں اسلامی تشخص کے مطابق فردی آزادیوں کا پاس رکھا جائے گا لیکن مادر پدر آزاد معاشرت ہماری قومی سلامتی کے منافی ہے۔

    اس حصے کا دوسرا جز ہے کہ سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کا خاتمہ کیا جائے گا یعنی ملک میں امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی تفریق چاہے وہ معاشی لحاظ سے ہے کہ جہاں امیر تو امیر تر ہوتا جارہا ہے اور غریب مزید غریب ہورہا ہے تو اس کی وجہ سے بھی معاشرے میں ایک تقسیم پیدا ہوتی ہے جسے ختم کرنا اب قومی سلامتی کے اہم پہلو کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ مضبوط وفاق کے قیام کیلئے اتحاد اور اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی استحکام کے ذریعے ان اہداف کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔
    قومی ہم آہنگی کا تیسرا جز بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت اور ادارہ جاتی استعداد یا صلاحیت کو بڑھانا اب ہماری قومی سلامتی ذمہ داری بن چکی ہے۔ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ، ای گورننس کے ذریعے لوگوں تک سہولیات کی فراہمی اور رسائی کو آسان بناتے ہوئے عوامی خدمت کو مؤثر بنایا جائے گا۔ اب اسکا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کے ذریعے ایک حکومت سے دوسری حکومت کے قیام کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں عوام کو کچھ ڈلیور کرنا بھی ہوتا ہے اور اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو اس سے عدم مساوات اور بدانتظامی پھیلے گی ، لوگوں کا اپنی ریاست پرسے یقین کمزور ہوگا اور ہم ان حالات کا سامنا ایک طویل عرصے سے کررہے ہیں لیکن اب اگر مقتدرہ میں یہ سوچ پیدا ہوئی ہے تو یقینا نیک شگون ہے۔

    قومی سلامتی پالیسی کے مرکزی نکتے پر اب بات کریں تو وہ ہےمعاشی مستقبل کا تحفظ اور یہ نکتہ زیادہ توجہ طلب ہے کیونکہ یہی وہ مدعا جس پر موجودہ قومی سلامتی پالیسی کا دارومدار ہے۔معاشی مستقبل کا تحفظ کیسے ممکن ہے۔ معاشی تحفظ اور خودمختاری کا حصول پائیدار ، مجموعی اورجامع مالی ترقی کےذریعے یقینی بنانا ہے۔ یعنی اگر ہم مسلسل گروتھ کو یقینی بنائیں اور تمام طبقات کی مشترکہ ترقی اور مالی بہتری کریں تو ہماری قومی سلامتی کا تحفظ یقینی ہوگا۔ پالیسی کے اس حصے کو مزید ذیلی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

    1۔بیرونی عدم توازن:( یعنی روپوں میں کمانے اور ڈالر میں خرچ کرنے کے درمیان عدم توازن ہے جس کے سبب قرضے لینے پڑتے ہیں، اسکو ختم کرنے کیلئے ڈالر کمانے کے ذرائع بڑھانے ہوں گے اور یہ ایکسپورٹ اور ترسیلات زر کے ذریعے ممکن ہے۔ چنانچہ ان پہلوؤں پر سب سےزیادہ توجہ دینا ہوگی۔

    2۔ عمودی عدم مساوات: ( یعنی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کے قبضہ کو ختم کرنا ہوگا جس میں ایک طبقہ پالیسی اور معیشت پر قابض ہے اوردوسرے کا استحصال کررہا ہے۔ مافیاز کاراج ، چینی، تیل، پیٹرول ، کھاد وغیرہ وغیرہ جس سے معاشرے میں عدم مساوات ہے ۔ اب یہ سلسلہ ختم کرنا ہوگا ورنہ یہ قومی سلامتی کیلئے ایک خطرے کے طور پر موجود رہے گا۔

    3۔افقی عدم مساوات: اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں علاقائی سطح پر ترقی یافتہ اور پسماندہ کے لحاظ سے جو تقسیم ہے اس کو ختم کیا جائے، بلوچستان، سابقہ فاٹا ، گلگت بلتستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے بہت سے علاقے ہیں جن کو مواقع ، وسائل فراہم کیے جائیں اور انہیں ترقی دی جائے تاکہ لوگوں کو بڑے شہروں کی طرف ہجرت نہ کرنی پڑے یوں معاشی اورمعاشرتی ترقی کا حصول یکساں طور پر ممکن ہوسکے گا۔

    4۔گروتھ اینڈ ڈویلپمنٹ: (عام طور پر اردو میں ہم ان دونو ں کو ایک ہی لفظ کے طور پر لیتے ہیں لیکن گروتھ کا مطلب بڑھوتری یا نشوونما ہے اور ڈویلپمنٹ کا مطلب ترقی ہے۔ جب ہماری انڈسٹری اور سروسز سیکٹر میں نشوونما ہوگی تو اسکا ایک مجموعی مثبت اثر آئے گا، ٹیکس جمع ہوگا اور زیادہ پیسہ ہوگا تاکہ ترقیاتی کاموں میں لگے اور اس طرح ہم ترقی کر سکیں گے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ہماری گروتھ مستحکم ہو ، کم از کم 6 فیصد کے حساب سے ہم ہر سال اپنی معیشت میں اضافہ کریں تو 20 لاکھ نوجوان جو ہر سال جاب کے مارکیٹ میں آتے ہیں انہیں کھپایا جا سکے گا ، اس لئے یہ ایک مسلسل عمل ہے جسے یقینی بنانا ہوگا۔

    تجارت ، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری: ہم نے اگر ڈالر کمانے ہیں تو اس کیلئے ہماری انڈسٹر ی کا مضبوط ہونا ضروری ہے ، ٹیکسٹائل ہو یا کوئی اور شعبہ اس کی استعداد ِ کار بڑھانا ہوگی تبھی ہم درآمد ات بڑھا سکیں گے اور صرف یہی نہیں مزید نئی مارکیٹس ڈھونڈنا ہوں گی اور دوسروں کو اپنے ملک میں پیسہ لگانے کیلئے آمادہ کرنا ہوگا ، ایز آف ڈوئنگ بزنس کے ذریعے ، پھر پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو استعمال اور بروئے کا ر لاتے ہوئے علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دیکر ہم قوم سلامتی کیلئے معاشی تحفظ کو حاصل کرسکتے ہیں۔
    5۔مالیاتی مینجمنٹ: ہم ہمیشہ ایک ہی مسئلے کا شکار رہتے ہیں کہ گروتھ بڑھانے کیلئے ڈالر خرچ کریں توہمارا مالیاتی خسارہ بڑھنے لگ جاتا ہے ، اب یہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن رہا ہے کیونکہ اسکی وجہ سے ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں اور پھر قرض داروں جیساکہ آئی ایم ایف وغیرہ کی شرائط ماننا پڑتی ہیں، اس کی مینجمنٹ بہتر کرنا ناگزیر ہے اگر ہم قومی سلامتی اور معاشی تحفظ چاہتے ہیں۔

    6۔توانائی کا تحفظ: پہلی بار پاکستان میں حکومتی سطح پر انرجی سیکیورٹی پر زور دیا گیا ہے کیونکہ موجودہ توانائی کے حصول کا نظام ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ بجلی ، گیس اور پیٹرول تینوں توانائی کے حصول کے ذرائع ہیں ۔ بجلی اور گیس میں گردشی قرضہ ہمارے لئے قومی سلامتی خطرہ بن چکا ہے اور پیٹرول چونکہ باہر سے لینا ہماری مجبوری ہے تو اس کے لئے ڈالر خرچ ہوتے ہیں، چنانچہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب اپنے گھریلو ذرائع یعنی ہائیڈرو الیکٹرک انرجی اور ونڈملز وغیرہ سے توانائی کا حصول کیا جائے گا ۔ جو ڈیم زیر تعمیر ہیں ان سے ہم 2030تک اپنی 60 فیصد ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ اس کیلئے توانائی کے حصول کے مقامی ذرائع، اسٹوریج کپیسٹی کو بڑھانا ہوگا تاکہ آئے روز کی عالمی قیمتوں کے اضافےسے زرمبادلہ پر دباؤ کم آئے، اس کے علاوہ ہمیں توانائی ذرائع کیلئے مقامی سطح پر مزید وسائل کی تلاش پر بھی کام کرنا ہوگا جوکہ معاشی مستقبل کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہے۔

    7:تعلیم، تکنیک اور جدت: سستی معیاری تعلیم کا حصول اور اس کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی اور جدت یا ایجادات کی اہلیت سے لیس کرنا ہوگا، موجودہ حالات میں اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو آئندہ 30 سال میں ہمارے تعلیم یافتہ لوگ عالمی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق کارآمد نہیں رہیں گے اور فرسودہ ہونے کی وجہ سے ورک فورس سے باہر نکل جائیں گے، اس لئے اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ جدید علم سے روشناس کرانا ہوگا بصورت دیگر ہم اس ریس سے نکل جائیں گے۔ اب گوگل ، فیس بک، وٹس ایپ سے بات آگے نکل چکی ہے ، ربوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہیومن ریسورس کی تعریف بدل چکے ہیں، اب مشین پیزا تیار اور ڈرونز ڈلیور کرتے ہیں تو اس لحاظ سے ہمیں اپنی تیاری کرنی ہوگی ۔ مجھے خوشی ہے کہ بالاخر ہم اس بارے میں سوچنا شروع کررہے ہیں، اس لئے آج کے دور کے اعتبار سے معاشی تحفظ قومی سلامتی کا لازمی جز ہے ۔

    گلوبل ہیومن ریسورس(عالمی افرادی قوت): معاشی مستقبل کے تحفظ کے حصول کیلئے قومی سلامتی تناظر میں یہ اہم بات ہے جو اس ڈٖاکومنٹ میں سامنے رکھی گئی ہے، دنیا بھر میں لیبر یا ورک فورس کا 30 فیصد جنوبی ایشاء سے مہیا کیا جاتا ہے، اس لئے اب وقت کی ضرورت ہے کہ آپکی ورک فورس یا لیبر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، اسکلڈ یا سیمی اسکلڈ لیبر کی ہی اب گلوبل مارکیٹ میں جگہ ہے ، ووکیشنل ٹریننگ سے بات اب آگے نکل چکی ہے ، اس لئے آپ کو جدید تعلیم و تربیت سے لیس کر کے ہنر مند افراد کو بیرون ملک بھیجنا ہوگا ۔ لوگوں کا باہر جانا اور وہاں سے زرمبادلہ کماکرملک میں بھیجنا معاشی تحفظ کیلئے چونکہ ضروری ہے اس لئے اس شعبے پر توجہ دینی ہوگی۔ جب پوری دنیا انفراسٹرکچر کی بہتری کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ ایک ان-پڑھ کو کرین آپریٹر کے طور پر بھیج دیں، 70 کی دہائی والی اپروچ اب نہیں چلے گی، اپنی ورک فورس کے ذریعے بہترین افرادی قوت ہمیں عالمی منڈیوں کیلئے تیار کرنا ہوگی۔

    معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے قومی سلامتی کے جن امور کو پالیسی فریم ورک کا حصہ بنایا گیا ہے ابھی میں نے صرف ان پر بات کی ہے ، مضمون کے دوسرے حصے میں سیکیورٹی اور دیگر پالیسی ایشوز پر بات کریں گے۔

    پہلی قومی سلامتی پالیسی ۔۔۔ دوست کون، دشمن کون ؟

    تحریر: فیصل رانا

  • شریف فیملی چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ

    شریف فیملی چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ

    فیصل آباد :شریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق جن چارافراد کی ڈیل مانگی گئی ہے، ان میں شہبازشریف، ان کا بیٹا، نوازشریف اوران کی بیٹی شامل ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے دعویٰ کیا ہے کہ شریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کی ڈیل مانگ رہی ہے تاکہ یہ لوگ ملک سے باہر جا سکیں۔

    فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو میں شہباز گل کا کہنا تھاکہ ڈیل مانگی جارہی ہے کہ شہبازشریف،مریم کوبھی باہرجانے دیا جائے، شاہد خاقان یہاں رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ جن چارافراد کی ڈیل مانگی گئی ہے، ان میں شہبازشریف، ان کا بیٹا، نوازشریف اوران کی بیٹی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ آپ کو ڈیل اور ڈھیل جتنی میسرآنی تھی آگئی، شریف فیملی کو ڈیل نہیں ملے گی، آپ کے سامنے عمران خان کھڑا ہے، ہم آپ کوابلا ہوا آلونہیں دیں گے، آپ چکن برگرمانگ رہے ہیں، آپ کوڈیل ملنے والی نہیں آپ کے مقدر میں گالیاں دینا اورکھانا لکھا ہوا ہے۔

    معاون خصوصی کا کہنا تھاکہ احتساب ہوگا اور جلد ہی شہباز شریف سلاخوں کے پیچھے ہوں گے، چپراسیوں کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے کہاں سے آئے اس کا جواب دینا پڑے گا۔

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چاروں شریف سیاست سے مائنس ہیں، اپوزیشن شکست کھائے گی، عمران خان 5 سال پورے کریں گے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں چلے گی، پہلے شاید ڈھیل کی بات تھی اب ڈھیل بھی نہیں ہو گی۔ اپوزیشن اندھی وہیل مچھلیوں کی طرح ان ہاؤس تبدیلی کے خواب دیکھ رہی ہے، ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا، عدم اعتماد لائے تو اپوزیشن کے 12 کے بجائے 25 ارکان کم ہوں گے۔ جو لوگ بیمار ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں، حقیقت میں بیمار ہو جاتے ہیں۔ شہبازشریف عمران خان کیلئے ڈراونا نہیں سہانا خواب ہیں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ دنیا کورونا کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے ، کم وسائل کے باوجود الحمد للہ بہتر انداز سے کورونا اور دیگر وائرسوں سے نبرد آزما ہیں ،

    شیخ رشید نے کہا کہ یہ عمران خان کے دشمن بھی کہتے ہیں کہ عمران خان اپنی ذات کےلیے نہیں بلکہ ملک وقوم کے لیے سارے طعنے ، بغض اور مخالفتیں برداشت کررہا ہے ، یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ایک مخلص لیڈر ہے اس لیے امید ہے کہ وہ یہ پانچ آرام سے پورے کریں گے اور پھر انشااللہ آگے ایک نئے انداز سے حکومت کےلیے میدان میں اتریں‌ گے

  • سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا

    سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا

    تہران : سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا.اطلاعات کے مطابق ایرانی کمیٹی برائے خارجہ پالیسی کے رکن جلیل رحیمی جہان آبادی کے مطابق ایران اور سعودی عرب اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں جنہیں 2016 میں سعودی ڈپلومیٹک مشن پر ہجوم کے حملے کے بعد سے بند کر دیا گیا تھا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور قانون ساز جلیل رحیمی جہان آبادی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایران اور سعودی عرب سفارتی تعلقات بحال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو مذکورہ واقعے کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔

    دو جنوری 2016 کو متشدد افراد کی قیادت میں مشتعل ہجوم نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں اس کے قونصل خانے پر حملہ کیا، توڑ پھوڑ کی اور املاک کو نذر آتش کر دیا تھا۔

    جلیل رحیمی جہان آبادی نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور عالم اسلام کے اتحاد کو فروغ دینے میں اہم اثر ڈالیں گے۔

    انہوں نے ایران کے سیکورٹی اور میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ ’شیطان اسرائیلیوں اور احمق بنیاد پرستوں‘ کی سرگرمیوں سے محتاط رہیں جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    حال ہی میں ایرانی حکام کی جانب سے اس امر پر اصرار دیکھا گیا کہ ایران سعودی مذاکرات کا نیا دور ہونا چاہیے لیکن سعودی عرب کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک لبنان میں حزب اللہ کے لیے ایران کی حمایت ہے۔

    سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات کی بحالی کے مقصد سے کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ سال مذاکرات کیے تھے لیکن سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔

  • گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب حیران

    گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب حیران

    لاہور:گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب حیران،اطلاعات کے مطابق گجرات پولیس نے ہسپتال سے اغواء ہونے والے نومولود بچے کو 2 گھنٹوں میں بازیاب کروا لیا سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اغواء کار خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    گجرات پولیس کی کارکردگی کو پنجاب پولیس کے افسران نے سراہتےہوئے اس واقعہ کی خبر سنا کرجہاں والدین کو خوش کردیا وہاں معاشرے کا ہرفرد بھی خوش ہے اور پنجاب پولیس کی کارکردگی سے متاثر ہے

     

     

    پولیس کے مطابق گجرات کے ہسپتال سے نومولود بچہ اغواء ہو گیا تھا۔ جس کی رپورٹ بروقت تھانے میں درج کروائی گئی تھی ۔ ملزمان کی گرفتاری اور شناخت کے لئے وقوعہ کی CCTV فوٹیج سے مدد حاصل کی گئی

     

     

    ڈی پی او گجرات نے فوٹیج موصول ہونے پر تمام تھانہ جات کے ایس ایچ اوز کو ویڈیوکا بغور ملاخطہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے بڑی ذہانت سے اور بڑے ہی جدید انداز سے اس مجرم کو پکڑا

    اعلیٰ پولیس افسران نے بچے کو برآمد کرنے کے بعد اور اغوا کاروں کو گرفتارکرنے کے بعد جس پر نومولود بچے کو اٴْسکے اصل والدین کے حوالے کر دیا گیا۔جس پر بچے کے والدین نے ڈی پی او گجرات اور گجرات پولیس کا شکریہ ادا کیا۔