Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • جنوبی ایشیائی موسیقی کی دھنوں سے مزیّن :‌گلوکارطاہر عباس نیا البم ’’رمز‘‘ ریلیز کرنے کو تیار

    جنوبی ایشیائی موسیقی کی دھنوں سے مزیّن :‌گلوکارطاہر عباس نیا البم ’’رمز‘‘ ریلیز کرنے کو تیار

    لاہور”جنوبی ایشیائی موسیقی کی دھنوں سے مزیّن :طاہر عباس نیا البم ’’رمز‘‘ ریلیز کرنے کو تیار،اطلاعات کے مطابق جنوبی ایشیائی موسیقی کے شائقین اپنے آنے والے البم ’’رمز‘‘ میں طاہر عباس کی مکمل جدید اور سنسنی خیز موسیقی کا مشاہدہ کریں گے۔

    جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے نامور گلوکار، میوزک کمپوزر، گیت نگار اور اداکار طاہر عباس نے اپنے میوزک کیرئیر کا آغاز شروع سے کیا اور اب لاکھوں لوگوں کے دل جیت رہے ہیں۔ انہوں نے پنجابی میوزک انڈسٹری کو بہت سے شاہکار گانے دیے ہیں جنہیں لوگ آج بھی پسند کرتے ہیں۔ اس کے بعد طاہر عباس نے ایک اور بہترین میوزک البم ’’رمز‘‘ پیش کیا۔ رامز ایک اردو لفظ ہے جس کا مطلب اشارہ یا اشارہ ہے، اور عنوان اس البم کے بارے میں بہت کچھ کہتا ہے۔

    طاہر عباس واقعی ایک نوجوان گلوکار ہے جس نے موسیقی میں نوجوانوں کے ذوق کو بدل دیا۔ وہ پنجابی صوفی موسیقی کو جدید تناظر اور ذائقے کے ساتھ ایک نئی زندگی بخشتا ہے۔ نئی نسل ایسے فنکاروں کو سننے کو ترجیح دیتی ہے جن کے گانوں، بولوں اور کمپوزیشن میں تنوع ہے۔ طاہر عباس نوجوانوں کی فنتاسیوں کو سمجھتے تھے اور ہمیشہ مختلف قسم کی موسیقی کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایک مشہور اداس گانا "روسا نا کیر” سے کیا، بعد میں ان کا البم فنک فوک سے متعلق تھا۔ لیکن اس بار انہیں ’’رمز‘‘ میں کچھ مختلف لانے کی بھرپور کوشش کرنی پڑی۔

    آپ اس آنے والے البم "رمز” میں تین بہترین گانے دیکھیں گے۔ یعنی رانجھنا وی، زندگی مبارک اور من میریاں۔ یہ تینوں نام گانوں کے پیچھے پوری کہانیوں اور خیالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس نے کتنی خوبصورتی سے جدید صوفی وبس کو ملایا اور گانوں کی ایک پرکشش فہرست بنائی۔ ان گانوں کا بنیادی مقصد سامعین کو ایسے گانوں سے محظوظ کرنا ہے جو ایک مستند احساس فراہم کرتے ہیں۔ طاہر عباس کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں سریلی آواز سے نوازا جاتا ہے اور وہ ایک حقیقی فنکار ہیں جو گانے اور موسیقی خود لکھتے اور کمپوز کرتے ہیں۔

    کہا جاتا ہے کہ یہ کثیر الصلاحیت صلاحیت اسے ہجوم میں نمایاں کرتی ہے۔ "رمز” کے گانے بھی طاہر عباس نے دستاویزی، منظم اور گائے ہیں۔ لیکن اس بار، ان کے ساتھی علی سجاد تھے جو کہ گانے کے بول اور کمپوزیشن قائم کر کے انہیں مزید منفرد بناتے ہیں۔ اس البم کی موسیقی کامران اختر نے ترتیب دی ہے، بانسری باقر عباس نے دی ہے اور کنیز کے پیچھے آدمی عمران اختر ہیں۔ طاہر عباس اور ان کی ٹیم اپنے البم ’’رمز‘‘ کے ذریعے کمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    ہر کوئی جانتا ہے کہ اس دور کی میوزک انڈسٹری غیر ضروری ارتقا کی وجہ سے موسیقی کی دلکشی کھو چکی ہے۔ طاہر عباس کا موسیقی خصوصاً پنجابی موسیقی کا جذبہ اس سے آگے ہے۔ وہ سنسنی خیز تبدیلیوں اور کلاسک وائبز کی دلکشی کو شامل کرنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ طاہر عباس گاتے رہے ہیں جہاں بعض اوقات گلوکاروں کو کئی چیزوں کے لیے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس البم کے تمام گانے طاہر عباس نے اکیلے گائے ہیں۔ تو یقینی طور پر، آپ انہیں حقیقی اور باصلاحیت طاہر عباس سے بھرے مکمل طور پر اپڈیٹ شدہ ورژن میں دیکھیں گے۔ یہ البم پاکستان کی میوزک انڈسٹری میں انقلاب لانے کے ان کے مقصد کو پورا کرے گا۔ طاہر عباس جیسے گلوکار زیادہ پہچان کے مستحق ہیں کیونکہ ان کی محنت اور موسیقی کے لیے جنون میوزک انڈسٹری میں ایک مثبت تبدیلی کا آغاز کر رہا ہے۔

  • ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان:اضافہ زیادہ کمی برائے نام

    ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان:اضافہ زیادہ کمی برائے نام

    اسلام آباد:ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان:اضافہ زیادہ کمی برائے نام ،اطلاعات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا)نے جنوری کیلئے ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

    اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 5 روپے 90 پیسے، گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 69 روپے 63 پیسے کمی کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق جنوی کیلئے ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 2ہزار 320 روپے مقررکی گئی ہے جبکہ دسمبر میں ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت دو ہزار 390 روپے تھی۔

    وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ صحت کارڈ کے بعد حکومت نے نئے سال کے تحفے کے طور پر ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 6روپے تک فی کلو کمی کر دی ہے، ملک کی 72 فیصد آبادی جو پائپ گیس سے محروم ہے اس کو براہ راست فائدہ ہو گا ، آئندہ سال میں توانائی اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئے گی۔

    قبل ازیں ملک میں مہنگائی تھم نہ سکی اور17 ہزار روپے ماہانہ کمانے والے افراد کے لیے 21.92 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ ایک ہفتے کے دوران22 اشیائے ضروریہ کی قیتموں میں اضافہ ہوا ۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے ہفتہ وار رپورٹ جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ حالیہ ہفتے برائلر مرغی 4 روپے 25 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی ،انڈے 2 روپے 69 پیسے فی درجن ،دال مسور 2 روپے 27 پیسے فی کلو ،اڑھائی کلو گھی کا ڈبہ 8 روپے 77 پیسے مہنگا ہوا ۔

    اعدادوشمار کے مطابق اڑھائی کلو گھی کے ڈبے کی قیمت 1014 روپے 15 پیسے ہوگئی ہے ، دال چنا 1 روپے 29 پیسے فی کلو ،لہسن ایک روپے 82 پیسے فی کلو ،چینی 59 پیسے فی کلو مہنگی ،مٹن 4 روپے 53 پیسے فی کلواور بیف کی قیمت میں98 پیسے فی کلو اضافہ ہوا ۔

    حالیہ ہفتے 7اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی ،ٹماٹر 24 روپے 68 پیسے فی کلو ،آلو 3 روپے 57 پیسے فی کلو سستے ہوئے ،سرخ مرچ کے 200 گرام پیکٹ کی قیمت میں 20 روپے 51 پیسے کمی ہوئی، ایک ہفتے کے دوران پیاز 88 پیسے فی کلو سستے ہوئے جبکہ ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 39 روپے 15پیسے سستا ہوا۔

  • بد زبانی کنٹرول کرنے کا زبردست فارمولا:عوامی مقامات پر گالم گلوچ کرنے پر جرمانہ عائد:بل منظور

    بد زبانی کنٹرول کرنے کا زبردست فارمولا:عوامی مقامات پر گالم گلوچ کرنے پر جرمانہ عائد:بل منظور

    پشاور:بد زبانی کنٹرول کرنے کا زبردست فارمولا:عوامی مقامات پر گالم گلوچ کرنے پر جرمانہ عائد:بل منظور،اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل 2021 منظور کرلیا گیا، وادی سوات میں تجاوزات کرنے، ماحولیاتی اور صوتی آلودگی پھیلانے پر جرمانہ عائد کردیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل 2021 منظور کرلیا گیا، بل کے تحت بغیر اجازت وادی میں تعمیرات پر جرمانہ کیا جائے گا۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ تجاوزات کرنے والے کو 3 سال قید اور 50 پچاس لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ اتھارٹی کے قیام کے بعد صفائی اور ترقیاتی منصوبے ڈائریکٹر جنرل کی زیر نگرانی ہوں گے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ کچرا پھینکنے پر 5 ہزار روپے جرمانہ ہوسکتا ہے، ماحولیاتی آلودگی اور گندگی پھیلانے پر 10 سے 20 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ پریشر ہارن اور تیز آواز میں موسیقی سننے پر بھی 3 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔

    بل کے مطابق عوامی مقامات پر گالم گلوچ پر 3 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، پیشہ ور گداگری کرنے پر 2 ہزار روپے جرمانہ اور غیر قانونی اسپیڈ بریکر بنانے پر 20 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔

    دوسری طرف عوام الناس نے اس بل کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ جہاں بدزبانی کرنےوالوں کے سامنے بدزبانی سے روکنے والے بے بس ہوجاتے ہیں وہاں‌اس قانون کے اطلاق سے بدکلامی کرنے والے سزا کے ڈر سے اجتناب کریں گے

  • کیا ن لیگ کوواقعی پاکستان مخالف قوتوں نے پارٹی فنڈنگ کی؟فارن فنڈنگ کیس:بڑے انکشافات

    کیا ن لیگ کوواقعی پاکستان مخالف قوتوں نے پارٹی فنڈنگ کی؟فارن فنڈنگ کیس:بڑے انکشافات

    اسلام آباد: کیا ن لیگ کوواقعی پاکستان مخالف قوتوں نے پارٹی فنڈنگ کی؟فارن فنڈنگ کیس:بڑے انکشافات ،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن میں جاری فارن فنڈنگ کیس میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے پاس کروڑوں کے عطیات کی رسیدیں نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے فارن فنڈنگ کیس کے معاملے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی فنڈنگ کے حوالے سے نیا پنڈورا باکس کھلنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی، ن لیگ کی الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ تفصیلات میں کئی انکشافات ہوئے ہیں، اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اعتراضات سامنے آ گئے ہیں، پی ٹی آئی آئندہ ہفتے یہ اعتراضات اسکروٹنی کمیٹی کو جمع کرائے گی۔

    ذرائع نے بتایا کہ ن لیگ اور پی پی کے پاس کروڑوں روپے مالیت کے عطیات کی رسیدیں نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، کس نے چندہ اور کس نے امداد دی، اس سلسلے میں بڑی اہم رقوم کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

    ذرائع کے مطابق ن لیگ کے 9 اکاؤنٹس میں سے 7 اکاؤنٹس کی بینک اسٹیٹمنٹ نہیں دی گئی ہے، پی ٹی آئی آڈیٹرز نے اس سلسلے میں 2013 سے 15 تک ن لیگ کے مبینہ 7 اکاؤنٹس کی نشان دہی کر دی ہے جو الیکشن کمیشن سے چھپائے گئے ، ان میں سے 5 اکاؤنٹ پنجاب، کے پی اور سندھ میں چل رہے تھے۔

    اعتراضات پر مبنی پی ٹی آئی کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ن لیگ مبینہ طور پر 45 کروڑ سے زائد کا حساب دینے میں ناکام رہی ہے، اور صرف 2 فی صد کا مسلم لیگ ن ریکارڈ پیش کر سکی ہے، پارٹی ٹکٹ کی مد میں ساڑھے 16 کروڑ کا ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق حنیف خان کے نام سے 45 کروڑ، بھون داس کے 3 کروڑ کا ریکارڈ پیش نہیں ہوا، ن لیگ کو 2013 سے 15 کے 3 سال میں 46 کروڑ کے عطیات آئے، ایک کروڑ 65 لاکھ کے اخراجات کا کوئی حساب نہ دیا جا سکا۔

    اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی اور پی پی پارلیمنٹیرین کے ایک دوسرے کو رقوم منتقل کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی پی پارلیمٹیرین نے 10 کروڑ کے قریب پی پی کو خلاف ضابطہ دیے۔پیپلز پارٹی کا 45 کروڑ عطیات کا تصدیق شدہ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، جب کہ 10 اکاؤنٹس کی پیپلز پارٹی نے بینک اسٹیٹمنٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائی۔

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ن لیگ کی پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کی مہم اصل میں اپنے خفیہ فنڈز سے توجہ ہٹانے کا ایک منصوبہ تھے جو آج بہت سے نئے الزامات کے ساتھ خود ن لیگ کے گلے کی ہڈی بن گیا

  • نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک:اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں حتمی فیصلہ صدرمملکت کا ہوگا

    نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک:اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں حتمی فیصلہ صدرمملکت کا ہوگا

    اسلام آباد: نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک:اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں صدرمملکت کریں گے فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

    تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی کے بعد اب نئے چیئرمین نیب کے لیے بھی ناموں پر ڈیڈلاک کا سامنا ہے، اپوزیشن اور حکومت تاحال نئے چیئرمین نیب کے ناموں کا فیصلہ نہ کر سکی ہے۔

    اسی حوالے سے فکر مند ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس سلسلے میں کہا کہ نئے ناموں سے متعلق حکومت نے الٹا طریقہ شروع کر دیا ہے، نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے صدر کا اختیار ہی نہیں بنتا۔

    راناثنا اللہ نے کہا ہونا یہ چاہیے تھا کہ لیڈر آف دی ہاؤس، اور اپوزیشن لیڈر مشاورت کرتے، لیکن جو کام وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کا تھا وہ حکومت نے صدر کو سونپ دیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اب صدر مملکت دونوں لیڈرز کو خط لکھ رہا ہے اور نام مانگ رہا ہے۔

    یاد رہے کہ پیر کو ذرائع نے خبر دی تھی کہ حکومت کی جانب سے نئے چیئرمین نیب کے لیے سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکر کا نام تجویز کیا گیا ہے، تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کے عہدے کے لیے پی ٹی آئی نے کوئی ‏نام تجویز نہیں کیا، نام تجویز کرنے سے متعلق خبریں درست نہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے اگرکوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا توپھرحتمی اوربہترفیصلے کے لیے صدرمملکت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کوئی تقرر کریں‌گے

    اس صورت میں‌ یہ امکان بھی ہوسکتا ہے کہ ن لیگ صدر کے اختیارات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردے اور کسی متفقہ فیصلے کوقبول کرنے سے بھی انکار کردے ، تاہم یہ امکان زیادہ ہے کہ اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور معاملات درست سمت میں چل جائیں گے

  • افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    کابل:افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے لئے روس کےخصوصی نمائندے ضمیر کابلوف کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو عملی طورپر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے روس کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ضمیر کابلوف کہتےہیں کہ اسی سلسلے میں‌ آنے والے سال کے پہلے مہینے جنوری کے آخر میں کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس منعقد کی جارہی ہے۔

    روسی میڈیاکو دیئےگئے انٹرویو میں افغانستان کے لئے روسی خصوصی نمائندے ضمیرکابلوف کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے سوال پر کہنا تھا کہ سیاسی طور پر تسلیم کرنا ایک علامتی عمل ہے، تاہم عملی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ طالبان وفد نے ماسکو اجلاس میں شرکت کی جس میں انہیں 10ممالک کےمندوبین سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ ضمیر کابلوف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جامع حکومت، خواتین کےحقوق کے احترام کی ضرورت ہے۔

    طالبان حکام کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچناچاہیے، افغان خواتین کیلئے تعلیم، سماجی، سیاسی سرگرمیوں تک رسائی ہونا اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل میں جنوری کےآخر میں ٹرائیکا پلس کانفرنس ہوگی،کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس کی حتمی تاریخ متعین نہیں کی گئی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان کی طرف سے افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں اوراب پاکستان افغان بھائیوں‌کے لیے دنیا بھر میں آواز بلند کررہاہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی اس کانفرنس میں چین اور پاکستان بھی شامل ہوں گے ، تاہم یہ نہیں بتایا گیاکہ کیا افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی پہل پہلے چین کرے گا یا پھر روس ، پاکستان کی دونوں صورتوں میں کامیابی ہے

  • پاکستان کشمیری طلبا کو تعلیم کے نام پر عسکریت پسند بنانے لگا،مودی سرکار کا ایک اور الزام

    پاکستان کشمیری طلبا کو تعلیم کے نام پر عسکریت پسند بنانے لگا،مودی سرکار کا ایک اور الزام

    پاکستان کشمیری طلبا کو تعلیم کے نام پر عسکریت پسند بنانے لگا،مودی سرکار کا ایک اور الزام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آئے طلبا پر مودی سرکار نے دہشت گردی کا الزام عائد کر دیا

    مودی سرکار جو ہمیشہ پاکستان پر الزامات لگاتی رہتی ہے، اب تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنے کے لئے ایک اور الزام عائد کیا ہے ، جموں کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ کشمیر سے پاکستان ایم بی بی ایس کے لئے جانے والے طلبا کو پاکستان رقم دیتا ہے اور وہ رقم کشمیر میں استعمال ہوتی ہے ،خبر رساں ادارے کے مطابق جموں کشمیر پولیس اس حوالہ سے گزشتہ برس ماہ جولائی سے تحقیقات کر رہی تھی اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان ان لوگوں کو تعلیم کے لئے بلایا جاتا ہے جن کے گھر کا کوئی فرد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہو

    رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر پولیس نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں کی مدد کی اور ان طلبا کو رقم دے کر واپس کشمیر بھیج کر بھارتی فوج کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے عسکریت پسندی ختم نہیں ہو رہی کیونکہ نئی کمک مل جاتی ہے ، خبر رساں ادارے کے مطابق حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں ثبوت ملے ہیں، سی آئی ڈی، سی آئی کے بھی اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں،

    پولیس نے حریت کانفرنس کے گروپ سالویشن موومنٹ کے صدر محمد اکبر بھٹ عرف ظفر اکبر بھٹ کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ہے جس میں عبدالجبار، فاطمہ شاہ، الطاف احمد بھٹ قاضی یاسر، محمد عبداللہ شاہ، سبزار احمد شیخ، منظور احمد شاہ، سید خالد گیلانی ، محمد اقبال میر کے نام بھی شامل ہیں، اس چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر پولیس نے تحقیقات کے دوران زبانی اور دستاویزی ثبوت جمع کئے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان طلبا کو بھیجا جاتا ہے جو شہید ہونے والوں کے قریبی رشتے دار ہوتے ہیں، پھر انکو رقوم دے کر واپس بھیجا جاتا ہے اور کشمیر میں عسکریت پسندی کو فروغ دیا جاتا ہے،

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کشمیری طلبا کو تعلیم سے روکنے کے لئے مودی سرکار نے ایسا حربہ استعمال کیا ہو، پہلے بھی ایسا ہوتا رہا اور کشمیری طلبا پر غداری کے مقدمے بھی مودی سرکار نے درج کئے ہیں،گزشتہ برس مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی

    مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے طلبا کو کہا گیا ہے آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے طلبا کے خلاف کاروائی ہو گی، کوئی بھی مقبوضہ کشمیر کا طالب علم آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلہ نے لے کیونکہ آزاد کشمیر کے تعلیمی ادارے بھارت میں تسلیم شدہ نہیں ہیں

    آل انڈیا کونسل برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی جانب سے ایک پبلک نوٹس جاری کیا گیا ہے جسے کشمیری اخبارات نے شائع کیا ہے، جس میں کشمیری طلبا کو کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تعلیمی اداروں بشمول یونیورسٹیز، میڈیکل کالجر، ٹیکنیکل اداروں میں داخلے لینے سے گریز کریں کیونکہ بھارت ان اداروں کو تسلیم نہیں کرتا

    واضح رہے کہ جموں کشمیر ہائیکورٹ میں ایک کیس آیا تھا جس میں ایک کشمیری طالبہ نے درخواست دائر کی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ آزاد کشمیر کے علاقے میر پور میں ایک یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لی تھی جسے بھارت سرکار تسلیم نہیں کر رہی، سری نگر سے تعلق رکھنے والی ھادیہ چشتی نے عدالت کا دروازہ اس وقت کٹھکٹھایا تھا جب انہیں نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشن نے فارن میڈیکل گریجویٹ ایگزامینیشن سکریننگ ٹیسٹ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

  • فیک نیوز,جھوٹےتبصروں اورپیڈتجزیوں کےخاتمےکاوقت:     سمجھیں”کھراسچ”آگیا:پیرسےجمعرات صرفPNNپر

    فیک نیوز,جھوٹےتبصروں اورپیڈتجزیوں کےخاتمےکاوقت: سمجھیں”کھراسچ”آگیا:پیرسےجمعرات صرفPNNپر

    لاہور: فیک نیوز,جھوٹےتبصروں اورپیڈ تجزیوں کےخاتمےکاوقت آگیا:سمجھیں”کھراسچ”آگیا:پیرسےجمعرات صرف پی این این پر،اطلاعات کے مطابق جہاں ایک طرف ملک میں عوام الناس فیک نیوز اور خودساختہ جھوٹے تبصروں اور تجزیوں سے اس وقت بہت تنگ آچکے ہیں وہاں عوام الناس حقیقت پرمبنی خبروں ،تبصروں اور تجزیوں کے متلاشی بھی ہیں

    پاکستان میں میڈیا کا ایک بڑا نام جسے "پی این این ” کے نام سے لوگ یاد کرتے ہیں‌سنیئر صحافی مبشرلقمان پیرسے جمعرات تک رات دس بج کر پانچ منٹ پراپنے چاہنے والوں‌کے لیے پیش کریں گے "کھرا سچ”

     

    پاکستان کی جانی پہنچانی شخصیت جن کو دنیا ان کے نام سے زیادہ ان کی پہچان یعنی کھرے سچ اور جھوٹ کے خلاف باغی کے طور جانتی ہے ایک بار پھر اپنے چاہنے والوں کے مطالبے پر بڑی سکرین پرآرہے ہیں ، یہ وہ شخصیت ہے جن کے پاکستان اور دنیا بھر میں چاہنے والوں کی تعداد آدھے کروڑ سے زیادہ لوگ شامل ہیں

    یہ جانی پہچانی شخصیت جن کو دنیا مبشرلقمان کے نام سے جانتی ہے اور ان کے تعارف کی ایک وجہ ملک میں سچی ، حقیقت پر مبنی صحافت ہےیہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عوام الناس کی شدید خواہش پر فیک نیوز ، جھوٹے تبصروں اورتجزیوں کے خاتمے کےلیے میدان میں اترنے کا فیصلہ کرلیا ہے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق مبشرلقمان کی ٹیم کی طرف سے ایک بڑی سکرین پرنمودارہونے کے حوالے سے باقاعدہ ایک پیغام بھی جاری کیا ہے

    یاد رہےکہ اس سے پہلے مبشرلقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پران خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ واقعی پھر سے عوام الناس کی خدمت میں‌ حق ، سچ اور معیاری خبروں ، تجزیوں اور تبصروں کے ساتھ بڑی سکرین پراُتر رہے ہیں‌

     

    آج ان کی ٹیم کی طرف سے خوشخبری دیتے ہوئے اس پیر سے جمعرات تک رات دس بج کرپانچ منٹ پرسکرین پرآنے کا اعلان کیا ہے

    مبشرلقمان اپنے معروف برانڈ "کھراسچ "کے پلیٹ فارم سے بہت جلد پاکستان کی "دنیا”میں فیک نیوز سے پاک حقیقی خبروں ، تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ نمودار ہورہےہیں‌

  • خان صاحب:آخرآپ اس قوم سے کیا چاہتےہیں؟اگرحکومت نہیں چل رہی توعوام کا کیا قصورہے:بلاول بھٹو

    خان صاحب:آخرآپ اس قوم سے کیا چاہتےہیں؟اگرحکومت نہیں چل رہی توعوام کا کیا قصورہے:بلاول بھٹو

    کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے منی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے مزید ایک ارب ڈالر لینے کے لئے عمران خان نے منی بجٹ پیش کرکے عام آدمی کو دیوار سے لگادیاہے۔

    حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے منی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ عمران خان کی آئی ایم ایف ڈیل ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچادے گی، پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف سے غلط ڈیل کی بھاری قیمت پاکستان کے عوام ادا کررہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بیکری کی اشیاء سے نومولود بچوں کے دودھ تک پر عمران خان نے ٹیکس بڑھا کر سفاکیت کی انتہا کردی، ڈبے کا دودھ اور ماچس بھی عمران خان نے منی بجٹ میں مہنگی کرکے اپنے عوام دشمن ہونے کا ثبوت دیا ہے، موبائل فون کالز کے پیسے بڑھادئیے، کتابوں تک پر ٹیکس عائد کردیا گیا، ملک میں اندھیر نگری کا راج نہیں چلے گا۔

    ادھرعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے منی بجٹ میں کن کن اشیاء پر ٹیکس لگا رہی ہے، تفصیلات سامنے آ گئیں۔

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مالیاتی ترمیمی بل میں موبائل فونز پر یکساں 17 فیصد ٹیکس، سونے چاندی پر ٹیکس 1 فیصد سے 17 فیصد آئل سیڈ کی درآمد پر ٹیکس 5 فیصد سے 17 فیصد ،مائننگ کیلئے درآمدی مشینری پر 17 فیصد نیا ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں‌

    پرچون فروشوں کا ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ساشے میں فروخت ہونے والی اشیاء کا ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، غیر ملکی سرکاری تحفوں اور عطیات پر 17 فیصد ٹیکس لاگوکیے گئے ہیں‌

    قدرتی آفات کیلئے موصو لہ مال پر ٹیکس لاگو ، پوسٹ کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو درآمدی جانوروں اور مرغیوں پر 17 فیصد ٹیکس ، زرعی بیج، پودوں، آلات اور کیمیکل پر ٹیکس 5 فیصد سے 17، پولٹری سیکٹر کی مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے 17 فیصد کردیا ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 سے بڑھا کر 17 فیصد ، بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ، ڈیوٹی فری شاپس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا ہے

    بڑی کاروں پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، درآمدی الیکٹرک کاروں پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد بزنس ٹو بزنس رقم منتقلی پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 17 فیصد کردیا ادویات کے خام مال پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو ، بیکریوں، ریسٹورنٹ اور فوڈ چین پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو، کیٹررز، ہوٹلز اور بڑے ریسٹورنٹس پر ٹیکس 7.5 فیصد 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ، درآمدی سبزیوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد ، پیکنگ میں فروخت ہونے والے مصالحوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیئے گئے ہیں‌

    فلور ملز پر بھی 10 فیصد ٹیکس لگایا جائے عائد،ماچس، ڈیری مصنوعات، الیکٹرک سوئچ پر 17 فیصد ٹیکس عائد، برانڈڈ مرغی کے گوشت کے گوشت پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد ، پراسس کئے ہوئے دودھ پر ٹیکس 10 فیصد سے 17 فیصد، پیکنگ میں دہی، پنیر، مکھن، دیسی گھی اور بالائی پر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد،ڈیری کیلئے مشینری پر بھی ٹیکس شرح 17 فیصد لاگو کردیا ہے

  • بلوچستان پھر لہولہان ہوگیا:کوئٹہ میں جناح روڈ پر دھماکا، 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    بلوچستان پھر لہولہان ہوگیا:کوئٹہ میں جناح روڈ پر دھماکا، 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    کوئٹہ:بلوچستان پھر لہولہان ہوگیا:کوئٹہ میں جناح روڈ پر دھماکا، 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکے میں 4 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 14 افراد زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں جناح روڈ پر سلیم کمپلیکس کے قریب دھماکا ہوا ہے، دھماکے کے بعد ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ایدھی ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد 4 افراد جاں بحق جبکہ 14افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے دھماکے والی جگہ کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی جگہ کا تعین کیا جا رہا ہے۔

    اُدھر وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ دھماکے کی مزمت کی ہے اور دہشت گردی کی کارروائی کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کوئٹہ کے سکیورٹی انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات اور واقعہ سے متعلق آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے

    وزیراعلیٰ نے صوبائی مشیر داخلہ کو شہر کے سکیورٹی پلان کا جائزہ لیکر مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ بزنجو کا کہنا تھا کہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے والے سخت سزا کے مستحق ہیں،عوام کے جان ومال کا تحفظ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی زمہ داری ہے۔

    دوسری طرف چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو جلد طبی امداد فراہم کرنے ہدایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہوں، دھماکا ملک دشمن عناصر کی بزدلانہ کاروائی ہے، ملک دشمن عناصر بلوچستان کی پرامن فضا کو خراب کرناچاہتے ہیں جو ہمیشہ ناکام رہیں گے۔

    اس سے قبل 18 دسمبر کو کوئٹہ میں دھماکا ہوا تھا جس میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا اور 10 افراد زخمی ہو گئے تھے۔پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا، واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ 4 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔