Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری،  دال، چینی، انڈے اور سیلنڈر سمیت 23 اشیا ضروریہ مہنگی ہو گئیں

    مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری، دال، چینی، انڈے اور سیلنڈر سمیت 23 اشیا ضروریہ مہنگی ہو گئیں

    وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ٹماٹر، دال، چینی، انڈے، لکڑی اور ایل پی جی سیلنڈر سمیت 23 اشیائے ضروریہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مہنگی ہو گئی ہیں۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 118 روپے 3 پیسے مہنگا ہو گیا ہے جس کے بعد گھریلو سلنڈر کی قیمت 2355 روپے سے بڑھ کر 2463 ہوگئی ہے۔

    آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے الوداعی ملاقات

    ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر فی کلو 5 روپے 42 پیسے مہنگے ہوگئے ہیں جب کہ چینی کی قیمت میں فی کلو ایک روپے 32 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

    مہنگائی رپورٹ کے تحت گزشتہ ایک ہفتے کے دوران انڈوں کی فی درجن قیمت میں 5 روہے 3 پیسے بڑھ گئی ہے جب کہ دال ماش کی فی کلو قیمت میں تین روپے 47 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں ہفتے لکڑی کی فی من قیمت میں 3 روپے 43 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے صرف 5 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے اعداد و شمار کے تحت گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آلو 2 روپے 5 پیسے فی کلو سستے ہوئے ہیں جب کہ پیاز، گڑ اور آٹے کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چاول اور کوکنگ آئل سمیت 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام پایا گیا ہے۔

  • کورونا نے برطانوی معیشت کوڈبودیا:4 ارب پونڈز میں بہت بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹوربیجنے پرمجبور

    کورونا نے برطانوی معیشت کوڈبودیا:4 ارب پونڈز میں بہت بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹوربیجنے پرمجبور

    لندن :کورونا نے برطانوی معیشت کوڈبودیا:4 ارب پونڈز میں بہت بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹوربیجنے پرمجبور،اطلاعات کے مطابق جہاں کورونا نے غریب اور بہت زیادہ آبادی والے ملکوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے وہاں اس وبا کی وجہ سے کم آبادی والے اور بہت زیادہ وسائل والے ترقی یافتہ ممالک بھی متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکے ، ،تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیاہے کہ برطانیہ جسے ایک امیر ملک اور کم آبادی کے ساتھ بہت زیادہ وسائل والا ملک کہا جاتاہے اب ماضی کا حصہ بن گیا اور معیشت اس قدر تباہ حال ہوگئی ہے کہ ڈپارٹمنٹ اسٹورکو4 ارب برطانوی پونڈز میں فروخت کرنا پڑا

    گروپ کی طرف سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سودا ‘دنیا کے معروف اومنی چینل لگژری ڈپارٹمنٹ اسٹور گروپس سے کیا گیا ہے
    یہ بھی کہا گیاہے کہ یہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور 4 ارب برطانوی پونڈز میں فروخت ہوا اور اس میں انگلینڈ، نیدرلینڈز اور آئرلینڈ میں 18 ڈیپارٹمنٹل اسٹورز شامل ہیں۔

    وہ ڈپارٹمنٹل اسٹوراور اس کی شاخیں ایک مشترکہ سینٹرل اور سگنا پورٹ فولیو کا حصہ بنیں گے جس میں اٹلی میں Rinascente، ڈنمارک میں Illum، سوئٹزرلینڈ میں Globus اور جرمنی اور آسٹریا میں KaDeWe گروپ شامل ہیں۔سنٹرل گروپ، جس کا کنٹرول تھائی چیراتھیواٹ فیملی، اور آسٹریا کے رئیل اسٹیٹ ماہرین سگنا گروپ، 50-50 مشترکہ منصوبے میں سیلفریجز کا کنٹرول سنبھالیں گے۔

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہاہےکہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی اس ڈیپارٹمنٹل اسٹور کی کامیاب بولی لگانے میں ناکام رہی

     

     

    ویسٹنز کے ساتھ معاہدے میں کھانے پینے کے برطانیہ کے چار اسٹورز شامل ہوں گے – دو مانچسٹر میں، ایک برمنگھم میں اور لندن کی آکسفورڈ اسٹریٹ پر اس کی فلیگ شپ سائٹ – نیز آئرلینڈ میں آرنٹس اور براؤن تھامس سمیت 14 دیگر دکانیں شامل ہوں گی۔

    سیلفریجز کی بنیاد 1908 میں ہیری گورڈن سیلفریج نے رکھی تھی۔ ڈبلیو گیلن ویسٹن نے 2003 میں فلیگ شپ آکسفورڈ اسٹریٹ سیلفریج اسٹور خریدا اور 2010 میں سیلفریجز گروپ بنایا۔

    یہ برطانوی ہائی اسٹریٹ کے لئے ایک تباہ کن خبر ہے، اس سے پہلے معاشی تباہی کی وجہ سے ڈیبن ہیمس، ٹاپ شاپ اور ڈوروتھی پرکنز سمیت بڑے ریٹیل گروپس بھی اب اپنا وجود کھو چکے ہیں‌

    سیلفریجز گروپ کے چیئرمین، اور ڈبلیو گیلن ویسٹن کی زندہ بچ جانے والی بیٹی، ایلانا ویسٹن نے کہا کہ یہ حصول ‘خوبصورت، واقعی تجرباتی، ڈپارٹمنٹ اسٹورز کے ایک مشہور گروپ کے لیے میرے والد کے وژن کی کامیابی کا ثبوت ہے’۔

    سینٹرل گروپ نے تھائی لینڈ کا پہلا ڈپارٹمنٹ اسٹور 1956 میں کھولا اور اب دنیا بھر میں تقریباً 3,700 اسٹورز ہیں۔اس کے نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر Vittorio Radice نے 1996 اور 2003 کے درمیان Selfridges چلایا اور 2006 سے اٹلی میں ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور کا انتظام کر رہے ہیں۔

  • پاکستان سارک سربراہی اجلاس کی بھی مہمان نوازی کرنا چاہتاہے     :وزیراعظم نے درخواست کردی

    پاکستان سارک سربراہی اجلاس کی بھی مہمان نوازی کرنا چاہتاہے :وزیراعظم نے درخواست کردی

    اسلام آباد: سارک سربراہی اجلاس پاکستان مہمان نوازی کرنا چاہتاہے:وزیراعظم نے درخواست کردی ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں سارک سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے آج سیکریٹری جنرل سارک ایسالا رووَن ایراکون نے ملاقات کی، جو اِن دنوں دورہ پاکستان پر ہیں، وزیر اعظم نے سارک سیکریٹری جنرل سے سیالکوٹ واقعے میں سری لنکن شہری کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔

    وزیر اعظم نے کہا اس طرح کی کارروائیوں کا کوئی جواز نہیں تھا، قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا سارک اقتصادی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے خطے میں سازگار ماحول فراہم کر سکتا ہے، سارک کا کردار جنوبی ایشیا کے لوگوں کے معیار زندگی کو بدل دے گا۔

    عمران خان نے ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، اور غربت کے خاتمے کے چیلنجز پر تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا، اور سارک کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے سیکریٹری جنرل کی کوششوں کو سراہا۔

    وزیر اعظم نے اپنی حکومت کی جانب سے سارک کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حمایت جاری رکھنے کا عزم کیا، اور پاکستان میں سارک سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے کا عندیہ دیا۔

    سیکریٹری جنرل سارک نے متعلقہ امور پر رہنمائی پر وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کیا، انھوں نے کہا جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کوششیں تیز کریں گے۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے پاکستان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان نے 40 سال بعد اوآئی سی کی میزبانی کا شرف حاصل کرکے اداسیاں ختم کردی تھیں ، ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستان نے اوآئی سی جنرل سیکرٹری سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وزرائے خارجہ کی سطح پرہونے والا آو آئی سی کا اجلاس بھی پاکستان میں منعقد کروانے کےلیے پاکستان نے میزبانی کا شرف ایک بارپھرحاصل کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں‌

  • غریب جیلوں میں اورملک کا اربوں‌ لوٹنے والے نوازشریف کی سیاسی دباوپرسزا کا خاتمہ ہو:یہ ناممکن ہے:وزیراعظم

    غریب جیلوں میں اورملک کا اربوں‌ لوٹنے والے نوازشریف کی سیاسی دباوپرسزا کا خاتمہ ہو:یہ ناممکن ہے:وزیراعظم

    اسلام آباد:غریب جیلوں میں بےبس اورملک کا اربوں‌ لوٹنے والے نوازشریف کی سیاسی دباوپرسزا کا خاتمہ ہو:یہ ناممکن ہے:،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے عوام کا پیسہ لوٹ کر باہر منتقل کیا، عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کا خاتمہ ممکن نہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، بلدیاتی الیکشن سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختوانخوا کے معاون خصوصی بیرسٹر سیف نے وزیراعظم کو بریفنگ کے دیتے ہوئے بلدیاتی الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے سے متعلق اعدادوشمار سے بھی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ویلیج کونسل کے نتائج میں بہتری کی امید ہے۔ تحریک انصاف کے پی کے میں ووٹوں کے تناسب سے مقبول اور بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف کو ووٹ زیادہ پڑا، اس کو اجاگر کیا جائے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا خیبرپختونخوا الیکشن سے متعلق خوشیاں منانا حیران کن ہے، یہ ممکن نہیں کہ ہے کہ سزا یافتہ شخص کی سزا ختم ہو جائے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے عوام کا پیسہ لوٹا اور باہر منتقل کیا، پانامہ میں نواز شریف کا نام آیا اور عدالت نے نا اہل کیا، نواز شریف آج تک منی ٹریل بھی نہیں دے سکے، تحریک انصاف کا ووٹر اور عوام ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔

    عمران خان نےکہا کہ پیڈ میڈیا اور سیاسی دباو سے ایک مجرم شخص کی سزا معاف کردی جائے اور غریب جیلوں میں بے بس تڑپ رہے ہوں ایسے ممکن نہیں ہوسکتا ،

    ادھراطلاعات کے مطابق لاہور کی بینکنگ جرائم کورٹ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں عدالت کے دائرہ اختیار پر وکلاء کو تیاری کے لیے حتمی مہلت دے دی۔

     

     

    بینکنگ کورٹ کے جج سردار طاہر صابر نے ایف آٸی اے کی جانب سے دائرہ اختیار پر دائراعتراض پر سماعت کی، وکلا نے کیس پر تیاری کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی جس کو منظور کرتے ہوٸے عدالت نے سماعت چار جنوری تک ملتوی کر دی۔

    عدالت نے قرار دیا کہ آٸندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء عدالتی دائرہ اختیار پر دلائل مکمل کریں۔ شوگر انکواٸری منی لانڈرنگ کیس میں ایف آٸی اے نے عدالت کے داٸرہ اختیار پر اعتراضات اٹھاٸے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ بینکنگ کورٹ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت نہیں کر سکتی۔

    اس حوالے سے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ آج منی لانڈرنگ کیس سے شہباز شریف کے وکلا غیر حاضر رہے، روز روز چالان مانگنے والے آج عدالت سے فرار ہوگئے۔

    دوسری جانب شہبازگل نے بھی طنزیہ وار کرتے ہوئے کہا کہ اب چابی بھری ترجمان کیا فرماتی ہیں، جھوٹی باجی کو اطلاع دینی تھی کہ شہباز شریف عدالت سے بھاگ رہے ہیں۔

    دوسری طرف سوشل میڈیا پر شریف فمیلی کے اس شاہانہ طرز عمل پر ایک طوفان بدتمیزی بپا ہے ، پاکستانی پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ہے ایک پاکستان جہاں طاقتور کے لیے قانون اور جبکہ غریب کے لیے قانون اور

    بعض نے لکھا ہے کہ اس ملک کی تباہی میں ان بڑے لوگون کا ہاتھ ہے اور ان کو خودساختہ قانون کا ساتھ بھی نصیب ہے

    بعض نے لکھا ہے کہ اس ملک کی عدالتوں میں غریب رسوا ہورہے ہیں اور شرفائے سیاست عدالتوں کو جوتے کی نوک پربھی نہیں سمجھتے یہ کیا ہورہا ہے ، ہمیں اس نظام سے کون بچائے گا

  • منی لانڈرنگ کیس :طاقتور شہباز شریف اور حمزہ شہبازعدالت کو پھرچکردے گئے:غریب دیکھتے رہ گئے

    منی لانڈرنگ کیس :طاقتور شہباز شریف اور حمزہ شہبازعدالت کو پھرچکردے گئے:غریب دیکھتے رہ گئے

    لاہور:منی لانڈرنگ کیس : شہباز شریف اور حمزہ شہبازعدالت کو پھرچکردے گئے،اطلاعات کے مطابق لاہور کی بینکنگ جرائم کورٹ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں عدالت کے دائرہ اختیار پر وکلاء کو تیاری کے لیے حتمی مہلت دے دی۔

     

    بینکنگ کورٹ کے جج سردار طاہر صابر نے ایف آٸی اے کی جانب سے دائرہ اختیار پر دائراعتراض پر سماعت کی، وکلا نے کیس پر تیاری کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی جس کو منظور کرتے ہوٸے عدالت نے سماعت چار جنوری تک ملتوی کر دی۔

     

    عدالت نے قرار دیا کہ آٸندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء عدالتی دائرہ اختیار پر دلائل مکمل کریں۔ شوگر انکواٸری منی لانڈرنگ کیس میں ایف آٸی اے نے عدالت کے داٸرہ اختیار پر اعتراضات اٹھاٸے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ بینکنگ کورٹ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت نہیں کر سکتی۔

     

    اس حوالے سے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ آج منی لانڈرنگ کیس سے شہباز شریف کے وکلا غیر حاضر رہے، روز روز چالان مانگنے والے آج عدالت سے فرار ہوگئے۔

    دوسری جانب شہبازگل نے بھی طنزیہ وار کرتے ہوئے کہا کہ اب چابی بھری ترجمان کیا فرماتی ہیں، جھوٹی باجی کو اطلاع دینی تھی کہ شہباز شریف عدالت سے بھاگ رہے ہیں۔

     

    دوسری طرف سوشل میڈیا پر شریف فمیلی کے اس شاہانہ طرز عمل پر ایک طوفان بدتمیزی بپا ہے ، پاکستانی پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ہے ایک پاکستان جہاں طاقتور کے لیے قانون اور جبکہ غریب کے لیے قانون اور

     

    بعض نے لکھا ہے کہ اس ملک کی تباہی میں ان بڑے لوگون کا ہاتھ ہے اور ان کو خودساختہ قانون کا ساتھ بھی نصیب ہے

     

    بعض نے لکھا ہے کہ اس ملک کی عدالتوں میں غریب رسوا ہورہے ہیں اور شرفائے سیاست عدالتوں کو جوتے کی نوک پربھی نہیں سمجھتے یہ کیا ہورہا ہے ، ہمیں  اس نظام سے کون بچائے گا

  • آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے الوداعی ملاقات

    آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے الوداعی ملاقات

    راولپنڈی :آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے الوداعی ملاقات ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامی ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق آسٹریلیا کے ہائی کمشنر ڈاکٹر جیفری نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے الوداعی ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آرمی چیف نے افغانستان میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو روکنے کے لیے مخلصانہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

  • نوازلیگ میں وزیراعظم کا نام نوازشریف:باقی خواہشمندوں کواطاعت کرنا پڑے گی:ورنہ آوٹ:رانا ثنااللہ

    نوازلیگ میں وزیراعظم کا نام نوازشریف:باقی خواہشمندوں کواطاعت کرنا پڑے گی:ورنہ آوٹ:رانا ثنااللہ

    اسلام آباد:نوازلیگ میں وزیراعظم کا نام نوازشریف:باقی خواہشمندوں کواطاعت کرنا پڑے گی:ورنہ آوٹ:اطلاعات کے مطابق نواز لیگ کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ کا کہنا ہےکہ (ن) لیگ میں وزیراعظم کے امیدوار کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں اور پارٹی میں جب بھی وزیراعظم کی بات آتی ہے تو وہ ایک ہی نام نواز شریف ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ الیکشن سے پہلے نوازشریف کی واپسی کا فیصلہ ان کا اپنا ہوگا اور وہ جب واپس آنا چاہیں گے آجائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پارٹی نوازشریف کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی چاہتی ہے اور پارٹی کا فیصلہ ہے کہ جب تک انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی نہیں ہوتی انہیں واپس نہیں آنا چاہیے۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ میں وزیراعظم کے امیدوار کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں، پارٹی میں جب بھی وزیراعظم کی بات آتی ہے تو وہ ایک ہی نام نوازشریف ہے، اگرکسی وجہ سے نوازشریف نہیں ہوں گے تو ان کی جگہ ہمارے سینئرترین شہبازشریف ہیں۔

    ادھر رانا ثنااللہ کے اس بیان کے بعد ان خبروں کی تصدیق اور تقویت ملتی ہے کہ جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ نواز لیگ میں وزیراعظم کے لیے ایک سرد جنگ چل رہی ہے ، مریم نوازخود وزیراعظم بننا چاہتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مریم نواز یہ سمجھتی ہیں کہ اگرشہبازشریف وزیراعظم بن گئے تو ایک تو وہ غیر فعال ہوجائیں گی دوسرا شہبازشریف اپنے آپ کوایڈجسٹ کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ رکھیں گے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایسی صورت میں نوازشریف اور مریم نواز کی علامتی حیثیت کے سوا کچھ نہیں

  • وزیراعظم صاحب:سچ سچ بتا رہا ہوں :کے پی میں کپتان کوہرانے والے پی ٹی آئی رہنما سامنے آگئے

    وزیراعظم صاحب:سچ سچ بتا رہا ہوں :کے پی میں کپتان کوہرانے والے پی ٹی آئی رہنما سامنے آگئے

    پشاور: وزیراعظم صاحب:سچ سچ بتا رہا ہوں :کے پی میں کپتان کوہرانے والے پی ٹی آئی رہنما سامنے آگئے ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی شکست کے معاملے پر الیکشن سے قبل رکن اسمبلی ہشام انعام کا وزیراعظم کو لکھا گیا خط منظرعام پر آگیا ہے

    تحریک انصاف کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی ڈاکٹر ہشام انعام اللہ اور وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔یاد رہے کہ ڈاکٹر ہشام انعام اللہ نے بلدیاتی الیکشن سے قبل وزیراعظم عمران خان کے نام خط میں لکی مروت میں ٹکٹوں کی غلط تقسیم کی نشاندہی کی تھی۔

    تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ڈاکٹر ہشام انعام اللہ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں علی امین گنڈا پورکے من پسند امید وار بری طرح ہار گئے جبکہ علی امین کے من پسند لوگوں کے مقابل میرے لوگ جیت گئے۔ڈاکٹر ہشام انعام اللہ کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی کو جیتے ہوئے امید وار دوں گا لیکن پارٹی میں مجھے میرا مقام ملنا چاہیے۔

    تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی کا مزید کہنا تھا علی امین گنڈا پور نے پریس کانفرس میں کہا ہے کہ ہشام انعام اللہ کو پارٹی سے بھی نکالوں گا۔ہشام انعام اللہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ گورنر کے پی شاہ فرمان اور وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے سازش کر کے مجھے وزارت سے ہٹوایا۔

    ہشام انعام نے وزیراعظم کے نام خط میں لکھا تھا کہ میرے حلقے میں علی امین گنڈا پور نے میرے سیاسی مخالفین کو پار ٹی ٹکٹ دیا اور لکی مروت میں ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیے گئے جن کا پارٹی سے تعلق نہیں تھا، میرے سیاسی دوست پی ٹی آئی کے ضلعی جنرل سیکرٹری کے بجائے ٹکٹ کسی عام شخص کو دیا گیا۔

    ہشام انعام کا خط میں کہنا تھا کہ پارٹی کے سینئر رہنما کو اس طرح خلاف ورزی کے لیے چھوڑنا پارٹی کے لیے نقصان دہ ہے، مجھے پارٹی سے نکالنے کے لیے میرے علاقے میں پارٹی کی بدنامی کی جارہی ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے خط میں وزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ پارٹی کو تباہی سے بچانے کے لیے نوٹس لیا جائے۔

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا (کے پی) بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) تحصیل چیئرمین کی 18 اور سٹی میئر کی 3 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، اے این پی نے میئر کی ایک اور تحصیل کونسل کی 5 نشستیں جیتیں، تحریک انصاف نے تحصیل چیئرمین کی 13، آزاد امیدوار 8، ن لیگ 3، جماعت اسلامی 2، پی پی اور تحریک اصلاحات کو ایک ایک نشست ملی۔

  • کورونا وبا:مزید 4 افراد جاں بحق ، 322 نئے کیسز رپورٹ

    کورونا وبا:مزید 4 افراد جاں بحق ، 322 نئے کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 4 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی :نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 47 ہزار811 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 322 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    نیا میں کورونا اوراومی کرون نے سراٹھا لیا :امریکا میں پونے دو لاکھ نئے کیسز رپورٹ

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 92 ہزار728 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار 898 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.6 ریکارڈ کی گئی۔

    اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں امریکی صدر

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 80 ہزار 077، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 81 ہزار 121، پنجاب میں 4 لاکھ 44 ہزار438،اسلام آباد میں ایک لاکھ 8 ہزار392، بلوچستان میں 33 ہزار 617، آزاد کشمیر میں 34 ہزار 654 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 429 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 062افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 658، خیبرپختونخوا 5 ہزار 919، اسلام آباد 964، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 363 اور آزاد کشمیر میں 746 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • ایک دفعہ کاذکرہے”ڈاکٹرفردوس عاشق”معاون خاص ہوتی       تھیں:میڈیاکےپاس ہوتی تھیں،میڈیاکی باس ہوتی تھیں:

    ایک دفعہ کاذکرہے”ڈاکٹرفردوس عاشق”معاون خاص ہوتی تھیں:میڈیاکےپاس ہوتی تھیں،میڈیاکی باس ہوتی تھیں:

    لاہور:ایک دفعہ کا ذکرہےکہ”ڈاکٹرفردوس عاشق”کسی کی خاص ہوتی تھیں:میڈیا کےپاس ہوتی تھیں:اطلاعات کےمطابق آج پھرڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کی یادیں آنے لگیں‌ ہیں ، لوگ پوچھتے ہیں کہ ماضی قریب میں ایک وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کی خاص الخاص یعنی معاون خصوصی ہوا کرتی تھیں جن کا نام اخبارات اور سیاست کی تاریخ میں شاید ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان تھا

    اس حوالے سے بہت سے لوگوں کے ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان سے متعلق پچھلے چند دنوں سے کچھ احساسات آرہے تھے ، انہیں احساسات کو محسوس کرتے ہوئے معروف صحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان نے بھی عوام الناس کے احساسات کو اپنے اندازسے پیش کردیا اورپھرتاریخ کا ایسا سبق پڑھایا کہ واقعی یاد آنے لگا کہ ایک دفعہ کا ذکر کہ کہ پاکستان کی سیاست میں ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا ڈنکا بجتا تھا مگراب توان کے غائب ہونے کے نقارے بج گئے ہیں‌

     

    سنیئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میری انتہائی محترم ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان مجھے نظرنہیں آتیں، ان کے بغیرتومیڈیا بھی کچھ اداس اداس لگتا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ وہ وقت بہتر تھا جب وہ ایک عہدے پرتھیں اور کسی نہ کسی بہانے اپنے ہونے کا احساس دلاتی تھیں مگراب کافی دن ہوگئے ہیں نہ تو ان کو کسی نے دیکھا ہے اور نہ ہی ان کی کسی نے آواز تک سنی

    مبشرلقمان کہتےہیں کہ اس قدر روٹھ جانا بھی بہتر نہیں، کسی کوسیاسی یا ذاتی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ان کی دبنگ شخصیت اور پھر ان کی مخالفین سے کامیاب سیاسی جنگ کو تو ہرکوئی تسلیم کرتا ہے ، وہ کہتے ہیں وہ بھی ان کی خوبیوں کے معترف ہیں‌ ، بس ان کا پس منظر سے غائب ہوجانا اچھا نہیں لگتا

    وہ کہتے ہیں کہ اگرکسی کو ملیں تو ان کو میرا سلام ضرور کہنا اورپھرمجھے بھی ان کے ظہور سے متعلق وفتا فوقتا آگاہ کرتے رہنا ،

    شاید شاعر نے ان کے بارے میں ہی کچھ ہدیہ الفت بیان کیا ہے "شاعر کہتا ہے کہ

    یہ یاد ہی تو یاد ہے کہ ہر یاد میں تو یاد ہے
    جس یاد میں تو یاد نہیں وہ بھی کوئی یاد ہے
    یہ جو یاد یاد کا ہے سلسلہ، اس سلسلہ یاد میں
    اے میری زندگی! فقط تو ہی تو یاد ہے

    آگے چل کر شاعر نے ان کی غیرموجودگی کا کچھ اس طرح احساس کیا ہے

    میں نے یہ محسوس کر کے دیکھا ہے
    تمہارے دکھ کو اپنا کر کے دیکھا ہے
    ِبن تمہارے جینا ہے کتنا کٹھن
    میں نے خود کو تنہا کر کے دیکھا ہے۔

    آگے چل کر شاعر نے ان کے لیے دعا کی ہے کہ خواہش ہے کہ آپ ہردورحکومت میں ہر حکومت کی ضرورت رہیں اورآپ کی اس خوبی پر کسی کو حسد نہیں کرنا چاہیے ،

    عروج تجھے اللہ کچھ ایسا عطا کرے
    کہ رشک تیری قسمت پہ آفتاب کرے

    آگے چل کر مزید اپنے جزبات کا شاعر نے کچھ اس طرح اظہار کیا ہے

    وہ دل ہی کیا جو تیرے ملنے کی دعا نہ کرے
    میں تجھ سے دور ہو کر زندہ رہوں خدا نہ کرے
    یہ ٹھیک ہے کہ کوئی کسی کے لیئے مرتا نہیں
    لیکن خدا کسی کو کسی سے جدا نہ کرے
    رہے گا میرا پیار تیرے ساتھ زندگی بن کر
    یہ اور بات ہے کہ میری زندگی وفا نہ کرے
    سنا ہے اُس کو محبت دعائیں دیتی ہے
    جو دل پہ تو چوٹ کھائے مگر گلہ نہ کرے۔

    شاعر کا ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کی عقیدت میں جزبات کا یہ منظر دیکھ کرشاید مبشرلقمان بھی یہی کہنا چاہتےہیں‌

    قاصرہے تیری دید سے میری شہر کی دنیا

    وابستہ تیری حیات سے سیاست کی حیات ہے