Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • او آئی سی اجلاس:اسلام آباد میں 3روز کیلئے تعلیمی ادارے بند:موبائل فون سروس بھی بند رکھنے کا اعلان

    او آئی سی اجلاس:اسلام آباد میں 3روز کیلئے تعلیمی ادارے بند:موبائل فون سروس بھی بند رکھنے کا اعلان

    اسلام آباد:او آئی سی اجلاس:اسلام آباد میں 3روز کیلئے تعلیمی ادارے بند:موبائل فون سروس بھی بند رکھنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق او آئی سی اجلاس کے باعث حکومت نے وفاقی دارالحکومت میں 3روز کے لئے موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق 17،18،19دسمبرکواسلام آبادبھرمیں موبائل فون سروس بندہوگی، وزارت داخلہ نےپی ٹی اےکوموبائل فون سروس بندکرنےکاحکم جاری کردیا ہے۔

    دوسری جانب وزات خارجہ نے20دسمبرکواسلام آبادمیں عام تعطیل دینےکی سفارش کردی ہے ۔ذرائع وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ چھٹی کامقصدوی آئی پی موومنٹ کےدوران فول پروف سکیورٹی کوممکن بناناہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کانفرنس 19 دسمبر کو منعقد کی جائے گی۔

     

     

    اس کانفرنس میں شرکت کے لئے سعودی عرب سمیت تمام اسلامی ممالک نے شرکت کی یقین دہانی کروائی ہے،کانفرنس کا مقصد افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بحث کرنا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے معاون برائے مشرق وسطیٰ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود 18 دسمبر کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے افغانستان میں جاری بحران سے متعلق اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے۔

    او آئی سی کا 17واں وزرا خارجہ کا خصوصی اجلاس سعودی عرب کی دعوت پر بلایا جارہا ہے اور اس کی میزبانی پاکستان 19 دسمبر کو کرے گا۔اس اجلاس میں افغانستان میں جاری انسانی بحران اور عنقریب قحط کی صورتحال جیسے معاملات زیر بحث آئیں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، تقریباً دو کروڑ تیس لاکھ افغان آخری درجے کے فاقوں سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

  • کل سے آج تک:فوزیہ عمران کے منفی رویے کومثبت ثابت کرنے کے لیے سرتوڑکوششیں:مگران میں بھی تضادات

    کل سے آج تک:فوزیہ عمران کے منفی رویے کومثبت ثابت کرنے کے لیے سرتوڑکوششیں:مگران میں بھی تضادات

    لاہور:کل سے آج تک:ڈاکٹرفوزیہ عمران کے منفی رویے کومثبت ثابت کرنے کے لیے سرتوڑکوششیں:مگران میں بھی تضادات،اطلاعات کے مطابق کل سے آج تک میڈیا پرایک خبر بہت زیادہ وائرل ہورہی ہے جس میں یہ دعویٰ‌کیا گیا تھا کہ ڈاکٹرفوزیہ عمران نامی خاتون نے وزیراعظم عمران‌ خان کے معاون خصوصی شہبازگل سے اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے سے محض سیاسی وجوہات کی بنا پرانکار کردیا تھا ،

    اس خبر کے بعد ڈاکٹرفوزیہ عمران کی ڈیلیٹ شدہ ٹویٹ کا عکس بھی ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ، دوسری طرف شہباز گل کے ردعمل کو بھی پیش کیا گیا جس میں انہوں نے خاتون کے رویے کو برداشت کرتے ہوئے تنقید نہیں بلکہ یہ کہہ کرنظرانداز کردیا کہ یہ کسی بھی شخص کا حق ہے کہ وہ کسی سے مانوس ہویا نہ

    ادھر کل کی یہ اہم ترین ڈویلپمنٹ ابھی جاری تھی کہ ڈاکٹرفوزیہ عمران کے منفی رویےپرپردہ ڈالنے کےلیے من گھڑت تاویلیں بھی کی گئیں ، مزے کی بات یہ ہےکہ”سیانے سچ کہتے ہیں کہ ایک جھوٹ کو چپھانے کے لیے سوجھوٹ بولنے پڑتے ہیں”اور پھرواقعی ایسے ہی ہورہا ہے

    بعض میڈیا چینلز کو کچھ اس طرح موقف دیا گیا کہ خاتون نے وقت سے پہلے ڈگری حاصل نہ کرنے کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا اور انتظامیہ نے سیکیورٹی اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسے یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روکیں۔ تاہم، انتظامیہ بعد میں اس کا نام فہرست سے خارج کرنا بھول گئی۔

    دوسری طرف یونیورسٹی ترجمان نوید اقبال کہتے ہیں کہ روکنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے ، یہ جھوٹ ہے اورایک غلطی کو چپھانے کے لیے سوبہتان لگائے جارہے ہیں‌

    دوسری طرف یہ بھی تاویلیں پیش کی گئیں‌ کہ ” گورنمنٹ سمن آباد کالج برائے خواتین کی اسسٹنٹ پروفیسر لاہور کالج برائےخواتین یونیورسٹی کی طالبہ ڈاکٹرفوزیہ عمران نے مبینہ طور پروزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے سے انکار کر دیا، سماجی رابطےکی سائٹ پر ان کا پیغام گردش کرتا رہا جس میں انہوں نے لکھا کہ شہباز گل لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی جیسے باوقار ادارےکے کانووکیشن میں مہمان خصوصی بننے کے لائق نہیں، لیکن بعد ازاں یکدم نہ صرف یہ پیغام سائٹ سے غائب ہو گیا ،بلکہ ڈاکٹر فوزیہ عمران نامی کوئی بھی صارف سماجی رابطے کی سائٹ پر نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ سمن آباد کالج کی پرنسپل کا کہنا ہےکہ خاتون پروفیسر کا اکاؤنٹ ہیک کیا گیا، انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ لاہور کالج فاروویمن یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ مذکورہ طالبہ پہلے ہی ڈگری وصول کر چکی ہے ، ٹوئیٹر اکاونٹ سے جاری ہونے والے پیغام کی کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن کانووکیشن میں اس خاتون کا نام پکارا گیا مگر وہ اسٹیج پرنہ آئیں

    اگراس بات کو مان لیا جائے تو پرنسپل کی کل کی اس حوالے سے جو معیاری گفتگو تھی تواس کا مطلب ہے کہ وہ بے بنیاد تھی ،

     

    یاد رہے کہ لاہورکالج برائےخواتین یونیورسٹی کے کانووکیشن میں ڈاکٹرفوزیہ نے سیاسی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاون خصوصی وزیراعظم شہبازگل سےڈگری لینےسےانکار دیا۔جس کے بعد اہل علم لوگوں کی طرف ڈاکٹرفوزیہ کے اس رویے پرسخت تنقید کی جارہی ہے

    یاد رہےکہ آج لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی کے16ویں کانووکیشن کا انعقاد کیا گیا جس کے دوسرےروز مہمان خصوصی شہبازگل تھے ۔

    ایسوسی ایٹ پروفیسرپولیٹیکل سائنس سمن آبادکالج ڈاکٹر فوزیہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جانی تھی تاہم ڈاکٹر فوزیہ نے شہباز گل سے ڈگری نہ لینے سے متعلق ٹویٹ کر دیا۔

     

    انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ شہباز گل کانووکیشن کے مہمان خصوصی بننے کے لائق نہیں،اس لئے ان سے ڈگری وصول نہیں کروں گی۔

    خاتون کے ڈگری لینے کے انکار پرسوال کا جواب دیتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کواپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے،ڈگری لینے سے انکار کرنے والی خاتون خواجہ سعد رفیق کی رشتے دار ہے۔

    لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلر(وی سی ) بشریٰ مرزا نے کہا کہ میری نظر میں کانووکیشن کے مہمان خصوصی شہباز گل بننے کے اہل ہیں اس لیے انکو بلایا،ہر کسی کا اپنا حق ہے، کسی کو زبردستی کچھ نہیں کہ سکتے۔

    ادھر ذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹرفوزیہ نے سخت عوامی ردعمل کے بعد یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کردی ہے ،

  • افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌

    افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌

    واشگنٹن: افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌اطلاعات کے مطابق افغانستان میں 20 سال کے دوران اربوں ڈالرز اور جدید فوجی ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود امریکا اور اتحادیوں کو شکست کی تحقیقات کے لیے امریکی کانگریس کے اراکین پر مشتمل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔

    قائم کردہ کمیشن 768 ارب ڈالر کے سالانہ دفاعی بجٹ کا حصہ ہے جسے ایوان نمائندگان کے بعد امریکی سینیٹ نے بھی منظور کیا، افغانستان پر بنایا جانے والا کمیشن 16 ارکان پر مشتمل ہوگا۔

    دونوں بڑی جماعتوں ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کی طرف سے نامزد کیے جانے والے ارکان کو ایک سال کے اندر طالبان کی فتح کی ابتدائی اور3 سال میں مکمل وجوہات کا پتہ چلانا ہو گا۔

    یاد رہے کہ 20 سال تک افغانستان میں 50 ملکوں کی حمایت سے جنگ لڑنے والا امریکہ جس طرح رسوا ہوکرافغانستان سے نکلا ہے اس منظر نے دنیا سے امریکہ کا خوف ختم کردیا ہے اور اب تو امریکہ کی اپنی ریاستوں نے سراٹھان اشروع کردیا ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان ریاستوں نے الگ حیثیت سے ملک کے طور پردنیا کے نقشنے پرانے کا فیصلہ کرلیا ہے

    اس اثنا میں دوسری طرف چین اور روس سے معاذ آرئی بھی امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ نے زمینی جنگ کی بجائے خلائی جنگ کا منصوبہ بنایا ہے ،

    یہ سارے حالات ایک طرف مگرامریکی جرنیل اس بات پرپریشان ہیں‌کہ چند ہزارنہتے افغان طالبان نے دنیا کے 50 ملکی اتحاد کو کسیے ذلت آمیز شکست دی یہ ایک قابل غور سوال ہے تاکہ آئندہ سے ایسی شکست سے بچا جاسکے ، اسی مقصد کے تحت یہ کمیشن قائم کیا گیا ہے

  • خانیوال:ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری

    خانیوال:ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری

    پنجاب کے ضلع خانیوال کے حلقہ پی پی 206 میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 206 میں ضنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل صبح اپنے وقت پر شروع ہو گیا تھا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا –

    عمران نیازی کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہے، حمزہ شہباز

    خانیوال کے حلقے 206 میں 183 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جہاں 2 لاکھ 30 ہزار 689 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں حلقے میں پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت 13 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔

    لیسکو کا کارنامہ سردیوں میں بھی بجلی غائب مبشر لقمان پھٹ پڑے

    ووٹنگ کے دوران ڈی ایس پی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار میر واثق کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد پولیس نےمیر واثق کے گارڈ کو گرفتار کرلیا پولیس کے مطابق میر واثق کا سیکیورٹی گارڈ پولنگ اسٹیشن کے اندر اسلحہ لے کر گیا تھا۔

    لاہور: دھند اور سموگ کے باعث ائیر پورٹ بند،فلائٹ آپریشن متاثر

    واضح رہے کہ مذکورہ نشست مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے نشاط احمد ڈاہا کی وفات پر خالی ہوئی تھی تاہم اب مرحوم نشاط احمد ڈاہا کی اہلیہ بیگم نورین نشاط تحریک انصاف کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہی ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سابق امیدوار رانا سلیم مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر میدان میں موجود ہیں۔

    چڑیا گھرغیرقانونی، جانوروں کو قید نہیں رکھا جا سکتا،عدالت

  • ویسٹ انڈیز ٹیم کے مزید 5 ممبران کا کورونا ٹیسٹ مثبت، سیریز شبہات کا شکار

    ویسٹ انڈیز ٹیم کے مزید 5 ممبران کا کورونا ٹیسٹ مثبت، سیریز شبہات کا شکار

    کراچی میں ویسٹ انڈیز ٹیم کے مزید 5 ممبران کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا.

    باغی ٹی وی : ویسٹ انڈیز کے 3کھلاڑی اور 2معاون اسٹاف کا کورونا مثبت آیا ہے ویسٹ انڈیز کے متاثرہ کھلاڑی اور معاون ا سٹاف قرنطینہ کریں گے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی شائے ہوپ، عقیل حسین ، جسٹن گریوز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔ویسٹ انڈیز کے اسسٹنٹ کوچ ، ٹیم فزیشن میں بھی کورونا کی تصدیق ہوئی ہے ڈیون تھامس پہلے ہی فنگر انجری کے باعث سیریز سے باہر ہوگئے تھے۔

    آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے شیڈول کا اعلان

    اس صورتحال میں ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ (سی ڈبلیو آئی) آج پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اجلاس کررہا ہے جس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کیا دورہ یہیں ختم کردیا جائے۔

    خیال رہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو پاکستان میں 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز بھی کھیلنے تھے۔

    میچز اسٹیڈیم میں اسٹوڈنٹس کی انٹری مفت کردیں، اسد عمرکی رمیز راجہ سے درخواست

    برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے کراچی میں ہونے والے تیسرے ٹی 20 سے چند گھنٹے قبل ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بورڈز اس بات کا فیصلہ کرنے کے اجلاس کررہے ہیں کیا دورہ جاری رہنا چاہیے۔

    کامران اکمل کا پی ایس ایل 7 سے دستبرداری کا فیصلہ واپس لینے کا اعلان


    ویسٹ انڈیز بورڈ کے بیان میں کہاگیا کہ چنانچہ تینوں کھلاڑی آئندہ میچز میں شرکت نہیں کریں گے اور پانچوں افراد ویست انڈیز اسکواڈ سے الگ ہو کر آئسولیشن میں رہیں گے وہ 10 یا اس وقت تک آئسولیشن میں رہیں گے جب تک ان کے پی سی آر ٹیسٹ منفی نہیں آجاتے‘

    ٹی ٹوئنٹی کرکٹ: پاکستان کا نیشنل اسٹیڈیم میں منفرد ریکارڈ

    خیال رہے کہ اسے قبل پاکستان آنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر شیلڈن کوٹریل اور آل راؤنڈرز روسٹن چیز اور کیل میئرز کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے تھے جبکہ ایک نان کوچنگ رکن میں بھی وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

  • ایک ہی دشمن کے دو زخم   ازقلم :غنی محمود قصوری

    ایک ہی دشمن کے دو زخم ازقلم :غنی محمود قصوری

    ایک ہی دشمن کے دو زخم

    ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام پاکستان سے ہی ہندوستان نے اس ارض پاک کو بے شمار زخم دیئے ہیں مگر اس نجس ہندو پلید کے دو زخم ایسے ہیں کہ جو ہم سدا یاد رکھینگے اور کبھی بھلا نا پائین گے اللہ کی حکمت ہے اللہ رب رحمان جو بھی کرتا ہے سب اچھا ہی کرتا ہے اس کے فیصلے میں ہمیشہ ہی بہتری ہوتی ہے بس ہمیں وقتی نامناسب لگتا ہے مگر وہ نامناسبیتی ہمیں بہت سے سبق دے دیتی ہے جو کہ ہمارے آنے والے وقت اور آنے والی نسلوں کیلئے بہت سود مند ہوتا ہے

    آج ارض پاک پاکستان کو دولخت ہوئے 50 سال اور سانحہ اے پی ایس پشاور کو ہوئے 7 سال ہو چکے ہیں

    یہ دونوں زخم بہت بڑے ہیں اور ان دونوں زخموں کو دینے والا ہمارا پڑوسی اور سب سے بڑا دشمن ملک بھارت ہے اس رزدیل نے مشرقی پاکستان میں شورش بپا کروائی اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کروا دیا اس نے سیاستدانوں کی غلط پالیسوں کو بنیاد بنا کر علیحدگی کا نعرہ لگوا کر مکتی باہنی جیسی علیحدگی پسند تنظیم کی بنیاد رکھی اور اسے مسلح تربیت دی جس نے مشرقی پاکستان میں قومیت،لسانیت جیسا نفرت انگیز نعرہ لگا کر علیحدگی کی شروعات کی-

    اس شورش کا آغاز تو 1971 سے پہلے ہی ہو چکا تھا مگر باقاعدہ آغاز مارچ 1971 کو ہوا تھا مشرقی پاکستان یعنی موجودہ بنگلہ دیش ہمارا حصہ اور صوبہ تھا جس کے بیچ انڈیا سینڈوچ بنا ہوا تھا اور اس کی ہر تدبیر پاکستان کو دولخت کرنے کیلئے ہوتی تھی مشرقی پاکستان میں ہماری مسلح وج یعنی ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان میں ہمارے کل فوجی جوانوں کی تعداد 42 ہزار تھی 90 ہزار بتائے جانے والے بات ایک بہت بڑا جھوٹ ہے-

    جبکہ ان کے مدمقابل مکتی باہنی کے غنڈوں کی تعداد تقریبا 190000 اور اس کی پشت پناہی کیلئے بھارتی فوج کی تعداد 250000 تھی یعنی کہ 42 ہزار کے مقابلے میں ساڑھے چار لاکھ مگر اس کے باوجود ہمارے فوجی جوانوں نے انتہائی کم وسائل کے باوجود تقریباً 9 ماہ تک اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر دشمن کے عزائم کو روکے رکھا اور ان کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا تاہم ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان کے کمانڈر ان چیف امیر عبداللہ خان نیازی کے حکم پر 16 دسمبر 1971 میں ہتھیار ڈالے گئے-

    تاریخ گواہ ہے اور آج بھی بنگالی اپنی زبان سے بتلاتے ہیں کہ پاک فوج کے جوان بھوکے پیسے اور زخمی ہو کر بھی خالی بندوقوں کی سنگینوں سے لڑتے رہے مگر ہتھیار ڈالنے کو تیار نا تھے جس پر ہندو درندہ صفت فوج اور مکتی باہنی کے غنڈوں نے عام مشرقی،و مغربی پاکستانیوں کو شہید کرنا شروع کر دیا تو جنرل نیازی نے سختی سے ہتھیار ڈالنے کا حکم جاری کیا اور واسطہ دیا کہ اپنی جانیں دے کر ان سویلینز کو بچا لو جو کہ ایک سپاہی کا اصل کام ہوتا ہے
    تب ہمارے شیر دل جوان مجبوراً ہتھیار ڈالنے پر راضی ہوئے-

    واضع رہے کہ مشرقی پاکستان میں بہت زیادہ تعداد میں سول محکموں میں سویلین مغربی پاکستانی تعینات تھے جن کو مکتی باہنی و بھارتی فوج نے بے تحاشہ قتل کرنا شروع کر دیا تھا اور یہی سب سے بڑی وجہ ہتھیار ڈالنے کی بنی نیز چائنہ و امریکہ کی طرف سے باوجود وعدہ کے عین ٹائم پر ہتھیاروں کی کھیپ روک لی گئی اور محض تسلیاں ہی دی گئیں جس سے ہماری مسلح طاقت ختم ہو کر رہ گئی تھی-

    بھارت کے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کی سربراہی میں تقریباً 40 ہزار فوجی جوانوں و 50 ہزار عام مغربی پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں انڈیا میں 1974 تک قید رکھا گیا تھا-

    واضع رہے دو طرفہ سیاستدانوں کی نااہلی و ذاتی مفاد پرستی کے باعث جنگ عظیم دوئم کے بعد ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہےتاہم مغربی محاذ پر پاکستان کو ہر لحاظ سے بھارت پر برتری حاصل تھی اس کے کئی شہروں پر پاکستانی فوج نے قبضہ کر لیا تھا مگر مکار ہندو بنئے نے موقع دیکھ کر سلامتی کونسل سے جنگ بندی کروائی اور مشرقی پاکستان میں اپنی فتح کو مغربی پاکستان میں شکست میں تبدیل ہونے سے بچا لیا ارض پاک کو دولخت کرنے کا یہ زخم ہمیشہ ہمارے سینوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا-

    بھارت مکار نے 1971 کے بعد پاکستان میں اپنی مکاریوں کا جال مذید بچھا دیا اس نے قومیت،لسانیت،صوبائیت،فرقہ واریت،مہاجریت جیسے مکروہ نعروں کو پروان چڑھایا اور مغربی ماندہ پاکستان کو بھی ختم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں مگر رب کریم نے ہر مرتبہ بھارت کو افواج پاکستان و عوام پاکستان سے ذلیل ہی کروایا-

    16 دسمبر 2014 کو انڈیا نے اپنی لے پالک اور تربیت یافتہ مسلح خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردانہ حملہ کروایا جس میں سکول میں پڑھنے والے 8 سال سے 18 سال کے لگ بھگ 132 طالب علموں کو شہید کیا گیا اور دیگر 17 اساتذہ و سکول عملے کو بھی شہید کیا گیا کہ جن میں خواتین بھی شامل تھیں-

    دشمن کی یہ حرکت انتہائی تکلیف دہ ہے اس نے ہمارے بچوں کو تعلیم سے دور کرنے اور جہاد جیسے مقدس فرض کو بدنام کرنے کیلئے بدنام زمانہ خودساختہ جہادی اور حقیقتاً خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے یہ کام کروایا تھا جنہوں نے بڑے فخر سے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی-

    واضع رہے کہ متعدد بار پاکستان نے تحریک طالبان کی انڈین را سے فنڈنگ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے حتی کہ اس خارجی جماعت کے نہاد مجاھدین کا حال یہ ہے کہ ان کو کلمہ تک نہیں آتا اور ان کے ختنے تک نہیں ہوئے بلکہ ماضی میں امریکن سی آئی اے کے ایجنٹ بھی پکڑے گئے جو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کے خلاف لڑتے تھے اور باقاعدہ ان نام نہاد خودساختہ مجاھدین کو ٹریننگ بھی دیتے تھے-

    یہ ظالم درندے بھول گئے کہ اسلام تو بچوں،بوڑھوں،عورتوں حتی نا لڑنے والے نوجوانوں تک کو بھی قتل کرنے سے منع کرتا ہے مگر اس سب کے باوجود ان نام نہاد جہادیوں نے جہاد کو بدنام کرنے اور انڈیا کو خوش کرنے کیلئے معصوم بچوں کا قتل عام کیا اور دن کا انتخاب بھی سقوط ڈھاکہ والے دن کا کیا تاکہ زخمی محب وطنوں کو مذید دکھی کیا جائے-

    میرے پاک نبی کا فرمان ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کے نام پر ناحق قتل کرنے والے خارجی ہیں اور ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ لوگ پکے جہنمی ہیں جبکہ اللہ تعالی کا بے گناہ مارے جانے اور اللہ کے راستے میں لڑتے ہوے مارے جانے والوں کیلئے ارشاد ہے-

    "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انھیں مردہ نہ کہو ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں-"( 154 آل بقرہ)

    یقیناً بھارت نے سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر کی یاد تازہ کرنے کیلئے آرمی کے سکول میں اس لئے بچوں کا قتل عام کروایا تھا کہ کل کو یہی بچے بڑھے ہو کر فوج میں بھرتی ہو کر بھارت کے خلاف لڑینگے اسی لئے بھارت نے بچوں میں خوف و ہراس پیدا کرکے تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کی مگر بچ جانے والے بچوں نے بھارت کو بڑا سخت پیغام دیا-

    مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

    غور کیجئے یہ بچے کہہ رہے ہیں ہم تعلیم حاصل کرکے اپنے دشمن کے بچوں سے بدلہ لینا ہے مگر کون سا بدلہ؟ وہ بدلہ اس ظالم کی نسلوں کو اسلام کا سبق دے کر اصلاح کرکے دین اسلام کی حقانیت دکھا کر دین حنیف میں لانا ہے –

    سانحہ اے پی ایس پشاور میں زخمی ہونے والے بچوں کے بیانات پوری دنیا نے بذریعہ میڈیا دیکھے اور سنے اور سبھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ ایک آہنی قوم ہے اس کے بچوں کے جذبے بلند ہیں تو بڑے تو پھر فولادی عزم سے بھی اوپر عزم رکھتے ہیں ایک ہی دشمن کے یہ دو زخم ہمارے دل میں اس نجس دشمن کیلئے مذید نفرت ڈال رہے ہیں-

  • کورونا وبا: مزید 6 افراد جاں بحق،302 نئے کیسز رپورٹ

    کورونا وبا: مزید 6 افراد جاں بحق،302 نئے کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 6 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھرمیں42 ہزار895 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 302 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 90 ہزار215 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار 849 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.70 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 78 ہزار 564، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 80 ہزار 825، پنجاب میں 4 لاکھ 44 ہزار 32،اسلام آباد میں ایک لاکھ 8 ہزار198، بلوچستان میں 33 ہزار 540، آزاد کشمیر میں 34 ہزار 627 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 428 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 53 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 640، خیبرپختونخوا 5 ہزار 900، اسلام آباد 963، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 363 اور آزاد کشمیر میں 744 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

    سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

    ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ آج 16 دسمبر جمعرات کو منایا جائے گا –

    باغی ٹی وی : اس سانحہ کے حوالے سے سیاسی و سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقریبات اور سیمینارز کا اہتمام کیا جائے گا ،سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971 ء کو پیش آیا جسے سقوط ڈھاکہ بھی کہا جاتا ہے۔سقوط ڈھاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں بنگلا دیش دنیا کے نقشے پر ابھرا۔بھارتی سازشوں کے نتیجے میں 26 مارچ 1971 ء کو جنگ کا آغاز ہوا اور 16 دسمبر 1971 ء کو مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا جس کی وجہ سے پاکستان آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ایک بڑی ریاست سے محروم ہو گیا ۔

    بنگلہ دیش کی جنگ آزادی، جسے بنگالی میں مکتی جدھو اور پاکستان میں سقوط مشرقی پاکستان یا سقوط ڈھاکہ کہا جاتا ہے، پاکستان کے دو بازوؤں، مشرقی و مغربی پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان آزاد ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

    چودہ اگست 1947 کو اسلام کے نام پر ایک نیا ملک پاکستان وجود میں آیا، بھارت نے دنیا کی اس سب سے بڑی اسلامی مملکت کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا پڑوسی ملک نے پاکستان کے قیام کے بعد ہی اس کے خلاف سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے، بھارت کو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کے روپ میں ایک غدار بھی مل گیا 1970 کے انتخابات کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے بھارتی ایما پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا اور مشرقی پاکستان کے حالات تیزی سے خراب ہونے لگے۔

    جنگ کا آغاز 26 مارچ 1971ء کو حریت پسندوں کے خلاف پاک فوج کے عسکری آپریشن سے ہوا جس کے نتیجے میں مقامی گوریلا گروہ اور تربیت یافتہ فوجیوں (جنہیں مجموعی طور پر مکتی باہنی کہا جاتا ہے) نے عسکری کارروائیاں شروع کیں اور افواج اور وفاق پاکستان کے وفادار عناصر کا قتل عام کیا۔

    مارچ سے لے کے سقوط ڈھاکہ تک تمام عرصے میں بھارت بھرپور انداز میں مکتی باہنی اور دیگر گروہوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کرتا رہا بھارتی فوج کے زیر اثر قائم مکتی باہنی کے غنڈے سرعام قتل کرنے لگے حکومتی رٹ قائم کرنے اور امن وامان برقرار رکھنے کی غرض سے فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا، بھارت نے تمام بین الاقوامی ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے مشرقی و مغربی پاکستان پر جنگ مسلط کر دی مکتی باہنی نامی دہشت گرد تنظیم نے لاکھوں غیر بنگالی مسلمانوں کا قتل عام کیا اور دہشت گردی کی تاریخ رقم کی اس جنگ کا اختتام پاکستان کے قیام کے صرف چوبیس سال بعد ہی اس کے دولخت ہونے پر ہوا اور بالآخر دسمبر میں مشرقی پاکستان کی حدود میں گھس کر اس نے 16 دسمبر1971ء کو ڈھاکہ میں افواج پاکستان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔

    یہ جنگ عظیم دوم کے بعد جنگی قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہتھیار ڈالنے کا سب سے بڑا موقع تھا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے نتیجے میں پاکستان رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے بلاد اسلامیہ کی سب سے بڑی ریاست کے اعزاز سے محروم ہو گیا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب جاننے کے لیے حمود الرحمٰن کمیشن تشکیل دیا گیا، جس نے حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ جاری کی۔

    سقوط ڈھاکہ میں بھارتی کردار کو اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی تسلیم کیا اندرا گاندھی نے تو جوش خطابت میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہےپاکستان کو دولخت کرنے کے بعد بھی بھارت اپنے مذموم ارا دوں سے باز نہ آیا اور اب بھی انتہا پسند ہندو سوچ اَکھنڈ بھارت بنانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

  • مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ ؛ بوریوں میں بند لاشیں کون دیتا تھا؛ناصر  شاہ

    مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ ؛ بوریوں میں بند لاشیں کون دیتا تھا؛ناصر شاہ

    پی پی رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پی پی پی نے ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کی اور احترام کیا ؛ پکا قلعہ سے پی پی پی کا کیا واسطہ تھا ؛ یہ پی پی پی حکومت کے خلاف سازش تھی جس کا ایم کیو ایم حصہ تھی؛

    ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ عامر خان بتائیں کہ مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ کس نے کیے؛ بوریوں میں بند لاشیں کو ن دیتا تھا؛ سٹی کورٹ میں وکیلوں کوزندہ کس نے جلایا؛ ایم کیو ایم کے خلاف تو جنگی جرائم جیسے کیسز چلانے چاہیے تھے؛ کے ایم سی کے اسپتال سندھ حکومت کو جانے سے ایم کیو ایم کے گھوسٹ ملازمین فارغ ہوجائیں گے؛ یہی خوف ایم کیو ایم کو کھائے جارہی ہے؛ ہم نے ایم کیو ایم کو کھلی آفر دی کہ اسمبلی میں بل پر بات کریں لیکن اُن کو سیاست کرنی تھی؛ایم کیو ایم کو تو پی ٹی آئی کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا ؛ جماعت اسلامی کو بھی ایم کیو ایم کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا ؛ مصطفیٰ کمال کو اگر کراچی کے عوام مسترد کررہے ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور؛ پی پی پی دشمنی میں ایم کیو ایم ، پی ٹی آئی ، پاک سر زمین اور جماعتیں اکھٹی ہوگئی ہیں ؛ حلیم عادل کا صدر کے خط کا جائزہ لے رہے ہیں ؛یہ خط سیڈیشن /غداری کے زمرے میں آتا ہے ؛یہ جماعتیں کچھ بھی کریں کراچی کے عوام ان کو فارغ کردیں گے؛ عامر خان کہتے ہیں جتنی بلاول بھٹو کی عمر ہے اتنی انہوں نے جیل کاٹی ہے ؛ آپ نے تو جیل قتل و غارت ، جلائو گھیرائو میں کاٹی ، کس منہ سے کریڈٹ لے رہے ہیں ؛ایم کیو ایم اب کچھ بھی کرے عوام ان کے مکروہ چہرے دیکھ چکی ہے ؛کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تباہ کرنے والے اب دوبارہ وائسرائے بنانا چاہتے ہیں؛

    واضح رہے کہ بلدیاتی قانون پر شروع ہونے والی محاذ آرائی کے بعد سندھ کی سیاسی لڑائی عروج پر پہنچ گئی ہے اور سیاسی ماحول پر پارہ ہائی ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ایک دوسرے پر تنقیدی نشتر چلا دیئے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کیخلاف قرار داد لے آئی۔

    کراچی سے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے یہ اعلان سندھ حکومت کے بلدیاتی قانون کے جبری اطلاق کے بعد کیا ہے ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد سندھ کے عوام سیاسی وڈیروں ، جاگیرداروں اور سیاسی گدی نشینوں سے نجات دلوا کرانکو ایک آزاد شہری بنانے کا اعلان کیا ہے

    کراچی میں نجی یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے الزام لگایا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کی خیرخواہ نہیں ہے، یہ شہر کو پھر ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں، ہم اس شہر کو آگ و خون کی ہولی میں جھونکنے نہیں دیں گے۔ ایم کیو ایم 2008ء میں دھمکیاں دیکر حکومت کا حصہ بنی، تاجروں کو دھمکایا گیا تھا اقتدار میں شامل نہ کیا گیا توکاروبار نہیں کرنے دیں گے، پیپلز پارٹی نے مجبوراً کڑوا گھونٹ پیا

    دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان نے پی پی رہنماوں کے بیانات پر ایک بہت ہی دلچسپ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول زرداری کی جتنی عمر ہے اتنی تو ہم نے جیل کاٹی ہے۔

    کراچی میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں عامر خان نے پی پی چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول زرداری صاحب جتنی آپ کی عمر ہے اتنی ہم نے جیلیں کاٹی ہیں۔ دو عملی سیاست نہیں چلے گی، لاڑکانہ اور دادو سمیت سب کو حق دیا جائے۔ جھوٹی اور جعلی اکثریت سے سندھ کا نیا بلدیاتی قانون پاس کرایا گیا ہے۔ ہم اس کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں، صوبے کی اہم جماعتیں اس کالے قانون کو مسترد کرچکی ہیں۔

    ادھرعامر خان نے کہا ہے کہ ہم سندھ کی عوام کوقدامت پسند سیاسی غلامی سے نجات دلوا کررہیں گے اور ایم کیو ایم ہر شہری کوایک باعزت اورقابل احترام مقام دلا کررہے گی

    اُدھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی اسمبلی کے ممبران نے وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ کیخلاف نفرت انگیز تقریر پر قرار داد جمع کروا دی ہے۔ قرارداد خرم شیر زمان، بلال غفار، جمال صدیقی و دیگر نے جمع کرائی۔

    قرار کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے ریاست پاکستان کے خلاف تقریر کی، وزیر اعلیٰ سندھ نے ارکان کو ایوان سے نکال کر باہر پھینکنے کے جملے استعمال کیے، ہمارا مطالبہ ہے وزیر اعلیٰ اپنے نفرت انگیز بیان واپس لیں اور معذرت کریں اور ارکان کا باہر پھینکنے کے جملے سے معافی مانگیں۔

  • یہ ہے نیا پاکستان:محکمہ پاسپورٹ میں تبادلوں کا بازار گرم ہو گیا پیسے لے کر افسران مرضی کا تبادلہ کرنے لگے

    یہ ہے نیا پاکستان:محکمہ پاسپورٹ میں تبادلوں کا بازار گرم ہو گیا پیسے لے کر افسران مرضی کا تبادلہ کرنے لگے

    لاہور:محکمہ پاسپورٹ میں تبادلوں کا بازار گرم ہو گیا پیسے لے کر افسران مرضی کا تبادلہ کرنے لگے ،اطلاعات کے مطابق تبدیلی کے اس دور میں ملک کے بڑے حساس اداروں میں نوکریوں کی بندربانٹ اور مرضی کی پوسٹ حاصل کرنا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ سن کرلوگ بھی حیران رہ گئے ہیں‌

     

     

    اس حوالے سے تازہ ترین انکشاف پاکستان وزارت داخلہ کے ایک بڑے ہی حساس شعبے کے متعلق ہوا ہے جس میں پیسوں‌ کے ذریعے موقع پرست اپنی مرضی کی پوسٹ پر آکر قبضہ جمانے میں‌ پہل کررہے ہیں‌،اس سے حوالے سے لاہور کا پہلا نمبر ہےجہاں لاہور افسران کی جیب گرم کر کے اپنی مرضی کے شہر میں تبادلے کروانے کا بازار گرم ہو گیا پیسے نہ دینے والوں کو صوبہ بدر کیا جانے لگا

     

    اس حوالے سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ من مرضی کا یہ بازار اس قدر گرم ہے کہ لاہور نو دن کے اندر ایک ہی افسر کے دو دو مرتبہ تبادلے ہوگئے اور کسی نے اس کا نوٹس تک نہ لیا

     

    اس کی وجہ بتاتے ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل میں وزارت داخلہ کی عدم توجہ کے باعث پیسے لے کر تبادلے کیے جاتےہیں‌، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گریڈ 19 کے افسران کا تبادلہ کر کے گریڈ 18 کے آفیسر کو تمام چارج دے دیے جاتےہیں اور اعلیٰ افسران کو پرواہ تک نہیں ہوتی

    اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ وفاق کے افسران نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال اس قدر زیادہ کرتے ہیں‌کہ محکمہ کے اندر یہ ایک کھیل اور تماشے سے تعبیر کیا جارہا ہے

    اس حوالے سے ملنے والی دستاویزات کے مطابق ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں کہ ایک ہی مہینے کے اندر ایک ہی افسر کی دو دو مرتبہ ٹرانسفر کی گئی ہے اوران کی مرضی کےمطابق کی گئی

    دستاویزات کے مطابق عظمت حسین اور حسن شیراز وہ افسران ہیں کہ جن کے دو دو مرتبہ تبادلے دو ہفتوں کے اندر کردیئے گئےجس سے اس محکمے کی چوربازاری سب پرعیاں ہوجاتی ہے