لاہور:عرب امارات صرف بادل چھیدنے والی فلک بوس عمارتوں کی سرزمین نہیں ہے بلکہ بلند و بالا شخصیات کا گہوارہ بھی ہے:اطلاعات کے مطابق آج عرب امارات میں اس ملک کے قیام کی 50 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے اور اس مناسبت سے عرب امارات کی طرح پاکستان میں بھی خوشیاں منائی جارہی ہیں
اسی مناسبت کے حوالے سے معروف سماجی شخصیت سید شیراز بخاری جو کہ عرب دنیا کے حوالے سے بہت زیادہ معلومات رکھتے ہیںآج پھرایک خوبصورت بات کی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے عرب امارات کا چپہ چپہ چھان مارا ہے ، وہاں انہوں نے صرف فلک بوس عمارتیں ہی نہیں دیکھی بلکہ فلک بوس عرب دنیا کی وہ شخصیات بھی دیکھی ہیں جو خدمت انسانیت میں بہت زیادہ بلندوبالا ہیں
#UAE isn’t just the land of cloud piercing skyscrapers but also of towering personalities. I can never forget how my mother’s life was saved once at Shk Zayed Hospital Lahore & recently at Shk Rashid Hospital Dubai. These aren’t just names, these are legends that built a nation pic.twitter.com/9xibzmVQOd
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عرب امارات صرف بادل چھیدنے والی فلک بوس عمارتوں کی سرزمین نہیں ہے بلکہ بلند و بالا شخصیات کی بھی ہے۔ میں کبھی نہیں بھول سکتا کہ کس طرح میری والدہ کی جان ایک بار شک زید ہسپتال لاہور میں اور حال ہی میں شیخ رشید ہسپتال دبئی میں بچائی گئی۔
سید شیرازبخاری کہتے ہیں کہ سچ یہ ہے کہ عرب امارات کے یہ صرف نام نہیں ہیں، یہ وہ افسانے ہیں جنہوں نے ایک قوم کی تعمیر کی اور آج وہی قوم ایک درخشندہ ستارہ بھی ہے جو دنیا بھر میں چمک رہا ہے
یاد رہے کہ آج عرب امارات جسے 7 ملکوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے اپنے قیام کی 50 سالگرہ منارہے ہیں اور اس سلسلے میں آج عرب امارات میں رنگ برنگ دنیا نظر آرہی ہے ، پاکستان بھی آج اپنے برادرملک کے قیام کی 50 سالگرہ منارہا ہے اور امید کی جاری ہے کہ پاکستان اور عرب امارات کے درمیان یہ رشتے اور محبت مزید بڑھے گی
دنیا بھر کے ممالک کے بڑے شہروں میں بڑھتی قیمت، کاروبار اور مالی مسائل پر نظر رکھنے والے عالمی جریدے ‘ دی اکانامسٹ‘ کی جانب سے ہر سال کی طرح اس سال بھی دنیا کے مہنگے اور سستے ترین شہروں کی فہرست جاری کردی گئی ہے اکانومسٹ میگزین کے سالانہ سروے کے مطابق تل ابیب دنیا کا مہنگا ترین شہر ہے۔
باغی ٹی وی : چونکہ تمام شہروں کا نیویارک کی قیمتوں سے موازنہ کرکے انڈیکس کا حساب لگایا جاتا ہے، اس لیے امریکی ڈالر کی شرح مبادلہ میں تبدیلی ان کی درجہ بندی کو بھی متاثر کرے گی رپورٹ کے مطابق اس فہرست میں دنیا کے 10 مہنگے ترین شہروں میں تل ایب پہلے نمبر پر ہے، جبکہ پیرس اور سنگاپور ایک ساتھ دوسرے نمبر پر براجمان ہیں زیورخ چوتھے ، ہانگ کانگ پانچویں، نیویارک چھٹے، جنیوا ساتویں، کوپن ہیگن 8 ویں، لاس اینجلس 9 ویں اور اوساکا 10 ویں نمبر پر مہنگے ترین شہر رہے۔
جبکہ سستے شہروں کی فہرست میں پاکستان کا شہر کراچی چھٹے نمبر پر موجود ہے، جبکہ اس فہرست میں پہلے نمبر پر شام کا دارلحکومت دمشق ہے اس کی انڈیکس کی قدر گر گئی کیونکہ ملک کے دس سالہ تنازعہ نے اس کی کرنسی کو متاثر کیا ہے۔
دوسرا سستا ترین شہر لیبیا کا شہر تریپولی اور ازبکستان کا دارالحکومت تاشقند تیسرے نمبر پر رہا بھارت کا شہر احمد آباد 7ویں، الجزائر 8 ویں، بیونس آئرس 9 ویں اور زیمبیا کا دارالحکومت لوساکا 10 ویں نمبر پر سستے ترین شہر ہیں۔
2021 کے اس مہنگے اور سستے ترین شہروں کی فہرست میں 173 شہروں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ عالمی معیشت پر کورونا کے اثرات کو بھی مدنظر رکھا گیا جس کے بعد ان شہروں سے 50 ہزار اشیا اور سروسز کی قیمتوں کا ڈیٹا اگست اور ستمبر کے دوران جمع کیا گیا۔ 40 نئے شہروں کو بھی اس فہرست کا حصہ بنایا گیا۔
ماہرہ نے بتایا کہ ان کی نانی نے 5 سال کی عمر میں اپنی ماں کو کھو دیا تھا مگر وہ اپنی فیملی کیلئے زندہ رہیں ماہرہ خان نے اپنی مرحوم نانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہانی سنانے میں ماہر، ساڑھی زیب تن کرنے میں نفیس، بے حد خود مختار، اپنی صحت کا خیال رکھنے والی، دوسروں کی باتیں دھیان لگاکر سننے والی، پیار کرنے والی ماں اور اظہارِ خیال کرنے والی انسان تھیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ میری نانی سے جو بھی ملتا تھا وہ خود کو خاص محسوس کرتا تھا، اگرچہ انہیں ڈیمنشیا یعنی بھولنے کی بیماری تھی، وہ اکثر نام اور لوگوں کو ایک دوسرے سے ملا دیتی تھیں لیکن ایک چیز جو وہ کبھی نہیں بھولیں وہ اپنی اور نانا کی محبت بھری کہانی تھی، میرے نانا کا انتقال 32 برس قبل ہوگیا تھا لیکن پھر بھی نانی نے انہیں ہمیشہ یاد رکھا۔
ماہرہ نے کہا کہ میں دعا کرتی تھی کہ وہ جس طرح وقار سے رہتی تھیں اسی طرح چلی جائیں وہ اپنے بیٹے کے آنے کا انتظار کر رہی تھیں، وہ بہت تکلیف میں تھی اور یہاں تک کہ ان میں مزاح کا احساس بھی تھا۔ انہوں نے ہم سب کو اس کی دیکھ بھال کرنے کا موقع دیا اور سب کچھ سنبھالنے کے بعد اور اس بات کا یقین کرنے کے بعد کہ ان کا پورا خاندان ایک ہے –
انہوں نے مزید کہا کہ میں نانی کے ساتھ گزارے ہر وقت پر فخر محسوس کرتی ہوں ان کی نواسی بننا ایک اعزاز کی بات ہے آخر میں ماہرہ نے مداحوں سے اپنی نانی کی مغفرت کی دعا کے لیےاپیل بھی کی۔
گورنر پنجاب چودھری سرور کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قیادت سے متفق نہ ہوں تو کہا جاتا ہے اختلاف ہو گئے۔
باغی ٹی وی : آئی ایم ایف نے 6 ملین ڈالر قرض کے بدلے ہمارا سب کچھ لکھوا لیا یہ بیان گورنر پنجاب چودھری سرور نےلندن میں تقریب سے خطاب کے دیا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قیادت سے متفق نہ ہوں تو کہا جاتا ہے اختلاف ہو گئے پارٹی کی طرف سے عہدہ چھوڑنے کا کہا جانا جھوٹ ہے اور سائیڈ لائن کئے جانے کا تاثر بھی درست نہیں اگلے سال جماعتی بنیادوں پر مقامی حکومت کے انتخابات کرائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ جس ملک میں سزا و جزا کا نظام نہیں وہ نہیں چل سکتا ہم نے کے پی کے میں جزا و سزا کا نظام قائم کیا کے پی پولیس کی کارکردگی برطانیہ سے کم نہیں ۔ہم نے کے پی میں ڈیلیور کیا، لوگوں نے دو تہائی اکثریت دی۔
محمد سرور کی پارٹی سے ناراضگی سے متعلق سوال پر ساتھی رہنما انیل مسرت نے کہا بہن بھائیوں میں بھی لڑائی ہوجاتی ہے۔ محمد سرور پرانے ساتھی ہیں،آئندہ الیکشن میں بھی ہمارے ساتھ ہوں گے۔عمران خان آخری دو سال میں وعدے پورے کرنے کیلئے جان لڑا دیں گے۔
اس سے قبل انہوں نے لندن میں ہی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ گورنر بننے کی خواہش نہیں تھی لیکن پارٹی نے رسمی عہدہ دے کر سائیڈ لائن پر کردیا کام کا عہدہ دیا جاتا تو ڈلیور کرسکتا تھا ، اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے کام خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔
انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کا المیہ ہے کہ شخصیات کے پیچھے بھاگتے رہے اور ادارے مضبوط نہیں کیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات کرنے میں ناکام رہے ہیں، پولیس، عدلیہ اور پراسیکیوشن میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔چوہدری سرور نے کہا کہ ملک کا بوسیدہ نظام عوام کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہے، 1122 کو بہترین ریسکیو سروس میں تبدیل کردیا ہے، اس کا نظام برطانیہ کے نظام سے بھی بہتر ہے۔
متحدہ عرب مارات کے حکام نے اپنے پیغام میں کہا کہ کامیابیوں کے قابل رشک ٹریک ریکارڈ کی بدولت ہم اپنی تاریخ کے اگلے 50 سال کا ایک جامع، طویل مدت اور سوچے سمجھے تزویراتی وژن کے ساتھ آغاز کررہے ہیں متحدہ عرب امارات اچھی طرح قائم اقداراوراصولوں کے ٹھوس ماحولیاتی نظام پر مسلسل عمل جاری رکھے گا۔
باغی ٹی وی :” العربیہ” کے مطابق صدرشیخ خلیفہ نے کہا کہ اس میں انسانی سرمائے کو یواے ای کی مستقبل کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت ہے یہ قانون سازی کا لچکدار مجموعہ ہے جس نے ہماری قوم کوعلم واختراع پر مبنی معیشت، عالمی معیارکی صحت کی دیکھ بھال کے نظام، جدید تعلیمی شعبہ، مربوط جدید بنیادی ڈھانچا،ماحولیاتی پائیداری اور عالمی مسابقت کی درجہ بندی میں قابل رشک حیثیت کے ساتھ ایک مربوط معاشرہ قائم کرنے کے قابل بنایا ہے۔
فوٹو بشکریہ وام :ہم اپنی تاریخ کے اگلے 50 سال کا ایک جامع، طویل مدت اور سوچے سمجھے تزویراتی وژن کے ساتھ آغاز کررہے ہیں
صدر جمہوریہ نے اپنے بیان میں حالیہ عرصے کے دوران حاصل کردہ اہم سنگ میلوں پرروشنی ڈالی اور کہا کہ ہم نے خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنایا ہے اور متنوع معیشت کی ترقی میں ایک طویل سفرطے کیا ہے خلا میں ہمارے پہلے اماراتی خلاباز نے قدم رکھا اور ہمارا خلائی مشن امیدتحقیق ایک تاریخی ’’سنگ میل‘‘ ہے جس نے ہماری قوم کو عرب خطے میں اس شعبے میں پہلا اور دنیا بھر میں پانچواں مقام بنا دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے عرب خطے کا پہلا جوہری پلانٹ لانچ کیا جس نے متحدہ عرب امارات کو قابل تجدید اور صاف توانائی کا علاقائی مرکز بنا دیا اذہان کا رابطہ، مستقبل کی تخلیق ‘‘کے موضوع کے تحت ہم خطے کی تاریخ میں پہلی بارایکسپو 2020 دبئی کی میزبانی کررہے ہیں جو دنیا کا سب سے بڑا شو ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ملکی تاریخ کے گذشتہ پچاس سال میں پائیدار ترقی، سیاسی استحکام اور سلامتی، دنیا میں سب سے زیادہ مؤثر حکومت اور نجی شعبے کی ترقی سمیت متعدد کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ہم نے دنیا کے سامنے ترقی کی کامیابی سے ایک متاثرکن کہانی متعارف کرائی ہے جس نے ہمارے ملک کو ایک سرکردہ علاقائی اور بین الاقوامی مالیاتی مرکزاور رہنے، کام کرنے، سرمایہ کاری اور سفر کرنے کے لیے ایک مطلوبہ جگہ بنا دیا ہے ہم نے کووڈ-19 وبا کے مضمرات کا کامیابی سے سامنا کیا ہے اور جگہ جگہ حفاظتی احتیاطی قدامات کی مکمل تعمیل کا مشاہدہ کرتے ہوئے معمول کی صورت حال بحال کی ہے۔
کامیابیوں کے اس قابل رشک ٹریک ریکارڈ کی بدولت ہم اپنی تاریخ کے اگلے 50 سال کا ایک جامع، طویل مدت اور سوچے سمجھے تزویراتی وژن کے ساتھ آغاز کررہے ہیں ترقی کا یہ سفر آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فضیلت کے محتاط تعاقب پرمبنی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی قوم کو پائیدار اور متحرک معیشت کی بدولت دنیا کے بہترین ممالک میں دیکھیں گے۔ فوٹو بشکریہ: العربیہ گذشتہ نصف صدی کے دوران میں ہمیں سلامتی، سیاست اور معیشت میں مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے
حاکم دبئی شیخ محمد بن راشدآل مکتوم نے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارات کے بانی مرحوم شیخ زاید بن سلطان آلنہیان کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے جب ہم ملک کے پہلے 50 سال کی کامیابیوں کا جشن منا رہے ہیں اور اپنی ترقی کو سراہ رہے ہیں تو ہم اپنے ان باپ دادا کی یاد گار ہیں جنھوں نے ملک اور اس کی ترقی اور خوش حالی کی بنیادیں استوار کی تھیں ہم اپنے والد مرحوم شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کی یادگار ہیں اورالفاظ ان کی قیادت اوردانش مندی کی تعریف کا اظہار نہیں کر سکتے۔ان کی ولولہ انگیز قیادت کے بغیر متحدہ عرب امارات کبھی حقیقت نہیں بن سکتا تھا۔
انھوں نے کہاکہ العربیہ گذشتہ نصف صدی کے دوران میں ہمیں سلامتی، سیاست اور معیشت میں مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ہم نے ان چیلنجوں سے اس یقین کے ساتھ نمٹا ہے کہ ہماری قومی قدراعتماد ، ایمان اور امید کے ساتھ ان کا سامنا کرنے کے بارے میں ہے جمعرات کو ہم ترقی کے سفرمیں اپنے اگلے 50 کا آغاز کریں گے جس کی رہنمائی متحدہ عرب امارات کے سوسالہ 2071 کے وژن پلان، صدرعزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان نے یونین کو مضبوط بنانے، پائیدارمعیشت اور زیادہ خوشحال معاشرے کی تعمیرکے لیے یواے ای کے تمام اداروں کے لیے رہنما خطوط کے طور پر منظور کردہ 50 اور 10 اصول سے کی ہے۔ قومی اہداف کے حصول کے لیے مثبت علاقائی اور عالمی تعلقات کو فروغ دینا اور دنیا بھر میں امن و استحکام کی حمایت ان میں دو اہم اصول ہیں۔ فوٹو بشکریہ العربیہ:اس سال ہمارا قومی دن منانے کی خاص اہمیت ہے
ابوظبی کے ولی عہد اور مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس سال ہمارا قومی دن منانے کی خاص اہمیت ہے کیونکہ ہماری پیاری قوم اپنی بھرپور تاریخ کے 50 سال مکمل کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جو اہم اسباق سے لبریزہے اور حال اور مستقبل کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے متحدہ عرب امارات مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے اور بہت سے شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور روشن مستقبل کی تشکیل کے لیے پرعزم ہے
پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 8 افراد جاں بحق ہوگئے-
باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 44ہزار137کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید377کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔
Statistics 2 Dec 21: Total Tests in Last 24 Hours: 44,137 Positive Cases: 377 Positivity %: 0.85% Deaths : 8 Patients on Critical Care: 904
این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 85 ہزار631 ہوگئی جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار745 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.85فیصد رہی اس کے علاوہ 904 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 76ہزار17، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 80 ہزار146، پنجاب میں 4 لاکھ 43 ہزار240،اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار765، بلوچستان میں 33 ہزار488، آزاد کشمیر میں 34 ہزار563 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار412 ہو گئی ہے۔
کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار28افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار622، خیبرپختونخوا 5 ہزار851، اسلام آباد 956، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 360 اور آزاد کشمیر میں 742 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
کابل، تہران: افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیوں پرقبضہ کرلیا ،اطلاعات کےمطابق افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دونوں جانب سے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، یہ جھڑپ مغربی افغانستان کے صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کُنگ میں ہوئی ہے۔
فوری: منابع محلی میگویند نیروهای مرزی ایران و طالبان ساعتهاست باهم در ولسوالی کنگ ولایت نمیروز درگیر شدند و هردو طرف از سلاحهای سبک و سنگین استفاده میکنند . pic.twitter.com/6QMJT58zDC
افغان صحافیوں نے بتایا کہ طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپ نمروز کے سرحدی ضلع میں بدھ کی شام 5 بجے شروع ہوئیں۔ لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحہ کا بھی استعمال کیا گیا۔
Islamic Emirate deputy spokesman Bilal Karimi told TOLOnews that the Islamic Emirate and Iranian forces clashed today in border areas in Nimroz province. He said the clashes have stopped and did not provide information about their cause.#TOLOnewspic.twitter.com/Dp0CfMaFWJ
مقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے تین سرحدی چوکیوں پر قبضہ کا دعوی کیا گیا ہے، جبکہ طالبان نے مزید فوجی کمک بھی طلب کرلی ہے۔مقامی افغان صحافیوں کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹ کی تعمیر کی جارہی تھی۔
طلوع نیوز کے مطابق امارت اسلامی کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ نمروز کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپیں اب بند ہوچکی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلال کریمی نے جھڑپوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ لڑائی کے دوران بعض طالبان فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، لیکن ایران کی جانب کسی زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغان اور ایرانی سرحد پر یہ پہلی جھڑپ ہے۔دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی چیک پوسٹ پر قبضے کی خبریں غلط ہیں، طالبان نے غلط فہمی کی بنیاد پر ایرانی کسانوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔
اسلام آباد:شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے ٹکٹ جاری دیا گیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف سے ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔
شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنانے کے لیے انہیں سب سے پہلے سینیٹر منتخب کروایا جائے گا جس کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انہیں سینیٹر بنوانے کے لیے ٹکٹ جاری کر دیا ہے،
ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عامر کیانی نے دستخط کے بعد ٹکٹ جاری کردیا ، وہ خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹ الیکشن لڑیں گے۔ جس کے لیے مشیر خزانہ کل اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محمد ایوب نے سینیٹر کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد انہیں وزیراعظم عمران خان کا معاون خصوصی بنایا گیا تھا، ان کی اس سیٹ پر شوکت ترین سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں گے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا نے سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست کے لئے انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا، سینیٹ کی خالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی۔
الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کے جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی۔
الیکشن کمیشن کاکہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 2 دسمبر 2021 تک ہے، 11 دسمبر کو کاغذات جمع کرنے والے امیدواروں کی فہرست جاری ہوگی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے شوکت ترین کو اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے چھ ماہ کے وزیر خزانہ بنایا تھا اور امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سینیٹر اسحق ڈار کی سیٹ کی ڈی نوٹیفائی کر کے ان کی جگہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنایا جائے گا تاہم قانونی پیچیدگیوں کے باعث انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان نہ مل سکا جس کے باعث انہیں مشیر خزانہ کا قلمدان سونپا گیا تھا۔
اسلام آباد ،لاپتہ افراد کیلئے قائم قومی کمیشن نے نومبر 2021میں مختلف مقدمات نمٹانے سے متعلق پیشرفت رپورٹ جاری کر دی ہے ، رپورٹ کے مطابق کمیشن کو ملک بھر سے مارچ 2011سے 30نومبر 2021تک مبینہ طور پر لاپتہ افراد کے 8279کیسزموصول ہوئے ہیں ، ان کیسز میں سے کمیشن نے 6047کیسز نمٹا دیئے ہیں جن میں نومبر 2021کے دوران نمٹائے گئے 123کیسز بھی شامل ہیں ۔
چیئرمین کمیشن جسٹس(ر)جاوید اقبال کی صدارت میں لاہور میں سماعتیں کی گئیں جس کے نتیجے میں پنجاب سے متعلق 7کیسز نمٹائے گئے ، کمیشن کے ہیڈ آفس اسلام آباد اور سب آفس کراچی میں معمول کے مطابق سماعتیں کی گئیں۔ کمیشن نے لاپتہ افراد کی باضابطہ جامع فہرست کے علاوہ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کی جانب سے صوبہ بلوچستان سے متعلق لاپتہ افراد کی ایک پرانی فہرست جمع کروائی گئی ،
ذرائع کے مطبق تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اکثر کیسز میں لاپتہ افراد سے متعلق معلومات /دستاویزات ناکافی ہیں جو کہ لاپتہ فرد کی تلاش کے لئے بہت ضروری ہیں تاہم کمیشن نے ان مقدمات کے تناظر میں متعلقہ فریقوں سے رپورٹس طلب کر لی ہیں جس میں ان کا نام، والدین، لاپتہ ہونے والے علاقے ،تحصیل سے متعلق معلومات طلب کی گئیں ۔اس تناظر میں ڈپٹی کمشنر ضلع کیچ ، آواران اور پنجگور نے اپنا جواب بھیجا اور بعض لاپتہ افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کی تصدیق سے متعلق کمیشن کو سرٹیفکیٹ بھیجے ۔
ادھر ذرائع کے مطابق 748لاپتہ افراد کے اپنے گھروں کو واپس آنے کی اطلاعات ہیں ۔ بلوچستان کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کا معاملہ بھی کمیشن نے وزارت داخلہ بلوچستان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ ا ٹھایا ہے ۔ابتدائی نوٹس کے بعد یہ دیکھا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش میں تیزی کے لئے کمیشن کے ایک رکن کی ریجنل آفس کوئٹہ میں موجودگی ضروری ہے، اس تناظر میں کوئٹہ میں کمیشن کا ریجنل آفس قائم کر دیا گیا ہے جس نے 15نومبر 2021سے کمیشن کے سینئر ممبر اور ریجنل آفس کے انجارچ جسٹس فضل الرحمن کی سر براہی میں کام شروع کر دیا ہے حالانکہ ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں بھی ان کی خدمات کی اشد ضرورت ہے ۔بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نومبر 2021کے 15دنوں کے دوران 60سے زائد لاپتہ افراد کو تلاش کیا گیا ہے ۔
کمیشن کی طرف سے جاری حقائق کے مطابق بلوچستان کے بی ایریا سے تعلق رکھنے والے 808لاپتہ افراد کو تلاش کیا گیا ہے جو کہ اپنے گھر وں میں واپس پہنچ گئے ہیں باقی رہ جانے والے لاپتہ افراد کی تلاش کے لئے کوششیں جاری ہیں ۔ کمیشن کے چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال کی انتھک کوششوں اور شاندار قیادت میں 6047کیسز کو نمٹانا ممکن ہوا ہے ۔گھروں کو واپس لوٹنے والے لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے چیئرمین کمیشن جسٹس جاوید اقبال کا دلی شکریہ ادا کیا ہے ،
اسی طرح لاپتہ افراد کمیشن اقوام متحدہ کے لاپتہ افراد سے متعلق ورکنگ گروپ کے ہر اجلاس کے بعد اس کی رپورٹس پر جواب دیتا ہے ، کمیشن کو وزارت خارجہ کے ذریعے اس ورکنگ گروپ کے 20سے 29ستمبر 2021کو ہونے والے 125ویں اجلاس کی رپورٹ موصول ہو گئی ہے ۔ ورکنگ گروپ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لاپتہ افراد قومی کمیشن کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹس کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف 13کیسز کو فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے جبکہ 15لاپتہ افراد جو کہ افغانی ہیں اور 1985سے 1990کے دوران لاپتہ ہوئے تھے یہ کیسز لاپتہ افراد قومی کمیشن ، وزارت داخلہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس اور وزارت خارجہ اور جنیوا میں پاکستان کے مستقل مشن کی کوششوں سے افغانستان کی جانب منتقل کر دیئے گئے ہیں۔
کراچی :امریکی این جی او کی ڈونیشن کے پاکستان میں چرچے،اطلاعات کے مطابق امریکہ کی ایک بڑی این جی او جو کہ پاکستان میں خدمت خلق کےحوالے سے کام کرنا چاہتی تھی اور اس سلسلے میں اس این جی او کا یہ پروگرام تھاکہ وہ پاکستان کے کسی پسماندہ علاقے میں عوام الناس کی خدمت کرے لیکن یہ این جی اور چڑھ گئی کسی اور کے ہتھے،
اطلاعات ہیں کہ امریکہ کی ایک بڑی این جی او پاکستان میں چھ کروڑ ڈالر کی ڈونیشن دینا چاہتی تھی , صدر عارف علوی نے اس ڈونیشن کو پہلے دانتوں کے شعبے کے لئے مخصوص کروایا اور پھر اس ڈونیشن کو کھینچ تان کر اپنے بیٹے اواب علوی کی سربراہی میں چلنے والے اپنے ذاتی ڈینٹل کلینک کے سپرد کرا دیا ,
اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ اس سارے پروسیجر کو مکمل کرنے کےلیے حکومتی ذرائع استعمال کیے گئے جس کے بعد اتنی خطیر رقم کے عوض پاکستان میں کچھ کرنے کا عہد کیا گیالیکن بدقسمی ہے کہ امریکی این جی او کی یہ بڑی امداد کسی ایسی شخصیت کے ہتھے چڑھ گئی جس کا باپ اس وقت ملک کا صدر ہے