Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر:  محمد عبداللہ

    "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے پہلے بھی اس موضوع پر تفصیل سے لکھا تھا ابھی پھر بتائے دیتے ہیں کہ یہ بات حقیقت ہے کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو آج باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے اور کشمیر کو دو یونٹس کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیا ہے. اس پر ہمارے لوگ بہت ہی افسردہ ہیں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کا افسردہ ہونا بنتا ہے لیکن افسردگی، غم و غصے اور مایوسی میں فرق ہونا چاہیے ایسے نہیں ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا ہے اور وہاں کی حریت قیادت نے یا عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے.

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    دیکھیں کشمیر پر بھارت کا قبضہ کوئی پچھلے 87 روز سے نہیں ہوا بلکہ ستر سال سے جاری ہے تو کیا کبھی آزادانہ ترنگا لہرا پایا بھارت کشمیر کے کسی بھی علاقے میں؟ کیا جموں و کشمیر کی عوام نے بھارت کے اس قبضے کو تسلیم کیا؟ کیا انہوں نے بھارتی مراعات اور پیکجزو آفرز کو قبول کیا ہو؟ جب ماضی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور کشمیری ڈٹے رہے اور سبز ہلالی پرچم کو لہراتے رہے تو یاد رکھیں کشمیر میں کل بھی سبز ہلالی لہراتا تھا اور آئندہ بھی سبز ہلالی ہی لہرائے گا ان شاءاللہ، بھارتی ترنگے کے لیے نہ کل کشمیر میں جگہ تھی نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی جگہ ہوگی. سر دست مسئلہ یہ ہے بھارت نے اس ساری بدمعاشی کے لیے وقت چنا ہے وہ کشمیریوں کے وکیل پاکستان کے لیے مشکل ترین وقت ہے. اندرونی خلفشار سب کے سامنے ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جو بچی کچھی بات اور سفارتی اور عالمی سطح پر جو کوششیں ہو رہی تھیں وہ بھی گرفتاریوں، رہائیوں، دھرنوں اور نام نہاد آزادی کے مارچوں کی نظر ہوگئیں اور مسئلہ کشمیر بیک فٹ پر چلا گیا.

    "علی گڑھ یونی ورسٹی کا اسکالر اور مجاہدین کا کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    دوسرا بہت بڑا ایشو ان حالات میں پاکستان کی بدخال معیشت ہے اتنے تنگ معاشی اور سیاسی ابتری کے حالات میں آپ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے. تیسری بات کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سے بھارت نے فائدہ اٹھایا کہ جب تک امریکہ یہاں ہے اسی ٹائم کے اندر اندر یہ فیصلہ لے لو وگرنہ امریکہ کے جانے کے بعد تو بھارت کو دہلی کے لالے پڑے ہونگے، تیسری اور سب سے اہم چیز جو پاکستان کا سب سے اہم ہتھیار تھا وہ ایف اے ٹی ایف کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے کوئی سلسلہ ایسا نہیں جو پاکستان شروع کرسکتا ہو. پاکستان کے لیے یہ نہایت کٹھن دن ہیں اور بھارت نے انہی دنوں کا انتخاب کرکے کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرکے اپنے اندر ضم کرنا چاہا ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا یہ کشمیر نہ نگلا جائے گا اور نہ اگلا جائے بھارت اور بالآخر یہ ممبئی سے شملہ تک پھیلا بھارت ٹکڑوں اور حصوں میں بٹے گا. منی پورہ کی آزادی کی اعلان ہوچکا، خالصتان موومٹ تیزی سے جاری ہے اور کرتارپور کوریڈور اس میں نہایت اہم سنگ میل ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہمارے اینڈ سے ہونا چاہیے کہ مایوس نہ ہوں اور ڈٹے رہیں مسلسل آواز بلند کرتے رہیں اور جو قوتیں اور گماشتے کشمیر ایشو سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ان کو کامیاب نہ ہونے دیں. جب کشمیر کی حریت قیادت پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتی ہے اور پاکستان پر اعتماد کرتی ہے تو پاکستان کا جذباتی نوجوان کیوں نہیں سمجھتا. ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ یہ ایمانی اور عقیدے کی کمزوریاں ہی ہیں جو ہم زمینی حقائق کی بات کرکے دلاسے دیتے اور دلاتے ہیں اگر دل ایمان سے بھرپور ہوں تو ابابیلیں بھی ہاتھیوں کو شکست دیتی ہیں اللہ کی مدد سے.
    ہمارے اداروں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اتنے نازک اور سنجیدہ حالات میں جب غیر سنجیدگی اور لاپرواہی دکھائی جاتی ہے شمشیر و سناں پر طاؤس و رباب کو ترجیح دی جاتی ہے تو قوم کا غصہ فطری ہے.

    <img src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2019/10/IMG_20191031_133721-271×300.jpg” alt=”محمد عبداللہ” width=”271″ height=”300″ class=”size-medium wp-image-112485″ /> محمد عبداللہ

  • "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز سے کشمیر کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کو لے کر کچھ لوگ بہت پریشان ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو باضابطہ طور پر ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کیا جا رہا ہے کشمیر اور لداخ کے مابین تو اس کی وجہ سے یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا. دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کام اسی دن ہوگیا تھا جس دن بھارت کی فاشسٹ اور متشدد حکومت نے اپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا تھا اور کرفیو عائد کیا تھا. لیکن تقریباً تین ماہ کے اس کرفیو میں جب وادی میں مواصلات و رابطے کے سبھی ذریعے بند تھے اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس تک معطل تھی تو کیا بھارت وادی میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوگیا تو اس کا جواب سو فیصد نفی میں آتا ہے. اگرچہ کشمیر کی بزرگ حریت قیادت مقید ہے لیکن تحریک آزادی کشمیر کی کمانڈ جن سرپھرے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ان کا اپنا مضبوط نظام ہے وہ سبھی مواصلاتی ذرائع کی بندش کے باوجود جہاں چاہتے ہیں جمع ہوتے ہیں کرفیو توڑتے ہیں بھارت سرکار کی ظالمانہ بندشوں کو چیلنج کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں اسی طرح تحریک آزادی کے وہ بیٹے جو بھارتی مسلح افواج سے برسر پیکار ہیں وہ بھی خاموش نہیں ہیں اگر ہم تک اطلاعات نہیں پہنچ رہیں تو یہ اور بات ہے. باقی رہی بات کشمیر کو تقسیم کرنے اور وہاں ہندو پنڈتوں کو جائدادیں دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی تو یہ بات خوش آئند نہیں ہے لیکن جب ہم افغانستان والے ایشو سے مماثلت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں سترہ اٹھارہ سالوں میں امریکہ ناٹو اور خود افغانی افواج کی مدد کے باوجود بھی آج اس کیفیت میں ہے کہ امارات اسلامی جب چاہتی ہے کابل کو لرزا کر رکھ دیتی ہے ماسوائے کابل کے تو بات ہی الگ ہے تو یہ صاف بات ہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر جب بات میدانوں اور جوانوں کی آتی ہے تو پھر مدد بھی آسمانوں سے آتی ہے. اس سے سارے معاملے میں جس پر بہت زیادہ افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ کچھ ٹھیک بھی ہے وہ ہے پاکستان کا کردار کہ وہ کیا ہے. جذباتیت سے ہٹ کر اگر ہم حقائق پر بات کریں تو عرض ہے کہ پاکستان جو اہل کشمیر کا سب سے بڑا وکیل تھا وہ فقط تقاریر اور سفارت کاری تک محدود ہے (یہی بات کشمیر کا درد رکھنے والوں کے لیے دکھ کا باعث ہے). کشمیر کے لیے اٹھنے والی آوازوں اور بڑھنے والے قدموں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے. لیکن اس سارے معاملے میں اہل نظر لوگوں کے ہاں باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت مکمل طور پر بے بس ہے، پاکستان کے پاس اہل کشمیر کی نصرت و مدد کا سوائے سفارتی اور اخلاقی مدد کے کوئی آپشن نہیں بچا ہے. عالمی حالات اور پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی صورت جکڑ بندیاں سب کے سامنے ہیں. رہی سہی کسر پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے پوری کردی ہے. جب پاکستان اقوام عالم میں کشمیر کا مسئلہ اچھی طرح سے اٹھا رہا تھا اور دنیا کا بڑا حصہ کشمیر کی طرف متوجہ ہو رہا تھا اور دنیا کے کونے کونے سے کشمیر کے حق میں بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں تھیں تو پاکستان میں مفاداتی سیاست کے گماشتوں نے حکومت اور میڈیا کی مکمل توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی اور کشمیر ایشو ہمیشہ کی طرح پس پشت ڈال دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں. تقریباً پچھلے ایک ماہ سے دھرنوں، عدالتی ریلیف، این آر او، بیماریوں کے ڈراموں نے مسئلہ کشمیر کو ذرائع ابلاغ اور سرکاری زبانوں سے مکمل طور بلیک آؤٹ کردیا ہے. جب بحثیت قوم ہی ہم مفادات کے پجاری ہیں تو پھر اہل کشمیر کے دکھ درد پر افسوس سے کیا حاصل…

  • اولمپکس 2020 ہاکی کوالیفائرز : پاکستان بمقابلہ نیدر لینڈ پہلا میچ برابر ہوگیا

    ایمسٹرڈیم: اولمپکس ہاکی کوالیفائنگ راؤنڈ کا ۔پہلا میچ پاکستان اور نیدر لینڈ کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا میچ 4۔4 گول سے برابر ہو گیا ، پاکستان ہاکی ٹیم نیدر لینڈ کیخلاف اپنا دوسرا میچ کل بروز اتوار کھیلے گی ،

    پاکستان کی جانب سے مبشر علی ، غضنفر علی،محمد رضوان اورعلی مبشر نے گول کئے، پہلے کوارٹر تک اختتام تک پاکستان کو 0۔1کی برتری حاصل تھی ، وقفے تک مقابلہ 2۔2گول سے برابر تھا ، دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا میچ کل کھیلا جائے گا
    اولمپک کوالیفائرز کی فاتح ٹیم اولمپک گیمز ٹوکیو 2020 کیلئے کوالیفائی کرے گی

  • نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ فائنل میں بلوچستان پر جرمانہ عائد

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلواوور ریٹ کے باعث بلوچستان کرکٹ ٹیم پر جرمانہ عائد کردیا ہے۔

    اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں کھیلے گئے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے فائنل میچ میں بلوچستان کرکٹ ٹیم نے مقررہ وقت سے 2 اوورز کم کیے ۔ قوانین کے مطابق بلوچستان کرکٹ ٹیم پر 22 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
    آن فیلڈ امپائرز احمد شہاب اور آصف یعقوب نے بلوچستان کرکٹ ٹیم کو پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 24. کی خلاف ورزی کرنے پر چارج کیا۔ میچ کے اختتام پر ریفری محمد جاوید نے بلوچستان کرکٹ ٹیم کے کپتان حارث سہیل کو فیصلے سے آگاہ کیا۔
    حارث سہیل کی جانب سے اعتراف جرم کرنے پر میچ ریفری نے بلوچستان کرکٹ ٹیم پر جرمانہ عائد کردیا۔

  • نویں چیف آف دی نیول اسٹاف گالف چیمپین شپ کب اور کہاں کھیلی جائے گی ؟

    پاک بحریہ کی سربراہی میں ہونے وای نویں چیف آف دی نیول اسٹاف ایمیچیور گالف چیمپئن شپ 2019 کی تفصیلات بتانے کیلئے میڈیا بریفنگ کا لاہور میں انعقاد کیا گیا ،اسٹیشن کمانڈر لاہور کموڈور نعمت اللہ نے میڈیا کو بریفنگ دی۔

    تفصیلات کیمطابق چیمپئن شپ 25 سے 27 اکتوبر تک ڈیفینس رایا گالف اینڈ کنٹری کلب لاہور میں منعقد کی جائے گی۔ ترجمان پاک بحریہ کیمطابق اسٹیشن کمانڈر نے گزشتہ چیمپئن شپس کی کامیابی میں میڈیا کے کردار کو سراہا۔ اسٹیشن کمانڈر لاہور کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ، چیمپئن شپ کے اختتامی روز یعنی 27 اکتوبر کو کشمیری بہن بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا جائے گا۔

    مزید پڑھیں

    بنگلہ دیش کے خلاف قومی ویمن ٹی 20 ٹیم کا اعلان

  • عالمی مارکیٹ سمیت پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ

    عالمی مارکیٹ سمیت پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ

    کراچی: سونے کی فی تولہ قیمت 300 روپے اضافے کے بعد 87 ہزار 200 روپے ہو گئی، باغی ٹی وی رپورٹ کیمطابق بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 1 ڈالر کا اضافہ ہوا اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 1492 ڈالر پر پہنچ گئی،

    دوسری جانب مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 300 روپے اور 257 روپے کا اضافہ ہو گیا ، قیمتوں میں اضافے کی نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، سکھر ، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام اباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 87 ہزار 200 روپے اور دس گرام سونے کی قیمت 74 ہزار 760 روپے ہو گئی،تاہم اس کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1000 روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت 857 روپے 34 پیسے پر مستحکم رہی۔

  • پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    اب تک تقریبا ہر شخص یہ تسلیم کرچکا ہے کہ کھپت پر مبنی ترقی کا ماڈل جس پر پاکستان بہتر شرح نمو کو حاصل کرنے کے لئے بھروسہ کرتا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ زیادہ تر مبصرین اس بات سے بھی متفق ہیں کہ پاکستان کو ترقی کے کلیدی محرک کی حیثیت سے برآمدات کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ اس بیانیہ نے موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو استحکام کے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لئے اہم گنجائش فراہم کی ہے جس کا مقصد کھپت پر قابو پانا ہے جبکہ بیک وقت ، صنعتوں کو برآمد کرنے کے لئے مراعات فراہم کرنا ہے۔

    تاہم ، بیشتر مبصرین کی یہ اور اس جیسی پالیسی تجاویز نے اس غلط فہمی کو جنم دیا ہے کہ معاشی عدم توازن کا ازالہ کرنے کے لئے صرف استحکام کی پالیسیاں ہی کسی نہ کسی طرح اعلی نمو کے راستے کو جنم دیتی ہیں جو کہ آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج سے بچا لیتی ہیں یہ غلط ہے۔

    استحکام کی پالیسیاں جس میں مالی اور مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں معیشت کو اس کی بنیادی پیداواری شرح نمو کے گرد مستحکم کرتی ہیں۔ اس کو دیکھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ، جب بھی جی ڈی پی بنیادی پیداواری شرح نمو سے زیادہ بڑھتی ہے ، معاشی عدم توازن سامنے آنا شروع ہوتا ہے ، جس سے پالیسی سازوں کو استحکام کی پالیسیوں کے ساتھ جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اگر 2013 سے 2018 تک کے مالی سال اور ان کی جی ڈی پی گروتھ کی بات کی جائے تو ان سالوں میں شرخ نمو 4 فیصد سے زائد رہی لیکن کرنٹ اکاونٹ خسارہ کل جی ڈی پی کا 1.54- سے 6.14- تک جا پہنچا ، جس کے نتائج ابھی تک موجودہ حکومت بھگت رہی ہے،

    اسی طرح کی صورتحال مالی سال 2004 سے 2008 کے درمیان پیدا ہوئی جب جب ملک کی جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد سے زائد تھی لیکن پانچ سال بعد کرنٹ اکاونٹ خسارہ جو کہ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد تھا وہ 9.2 فیصد تک جا پہنچا، ان دونوں ادوار میں خسارے کی بنیادی وجہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ کا دیر بعد ہونا ثابت ہوئی، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ اپنی ترقی کی شرخ 5 فیصد سے اوپر لیکر جانا چاہتے ہیں تو اس کی بنایدی وجہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے نہ کہ مانیٹری یا مالیاتی پالیسی کی توسیع ہونی چاہیے،

    مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا

    ہماری توجہ کو پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی طرف موڑنے کی اہمیت کو اس اہم کردار کو تسلیم کرکے مزید سراہا جاسکتا ہے جو اس نے ملک کی برآمدات کی کارکردگی میں ادا کیا ہے۔ جرنل آف انٹرنیشنل اکنامکس میں شائع ہونے والے 2002 کے ایک مقالے میں ، محققین ہسپانوی مینوفیکچرنگ فرموں کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ برآمدی منڈی میں داخل ہونے کا امکان زیادہ تر پیداواری فرموں کے پاس ہے۔جائزہ برائے عالمی اقتصادیات میں شائع ہونے والے 2005 کے ایک مقالے میں ، بوکونی یونیورسٹی اور سنٹر فار یورپی اقتصادی تحقیق کے محققین نے جرمن مینوفیکچرنگ فرموں کے لئے اسی طرح کے نتائج برآمد کیے۔ امریکن اکنامک ریویو میں شائع ہونے والا 2008 کا ایک مقالہ تائیوان کے الیکٹرانکس پروڈیوسروں کے لئے بھی یہی دکھایا گیا ہے۔

    معیشت کی پیداواری صلاحیت کا تعین کرنے والے عین عوامل بہت زیادہ چرچ کا موضوع بنے ہوئے ہیں جو ابھی تک حل طلب نہیں ہیں۔ لیکن نسبتا یقین کے ساتھ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ پیداواری شرح نمو اس بات پر منحصر ہے کہ کسی ملک کے معاشی وسائل پیداواری مقاصد کے لئے کس طرح موثر انداز میں اکٹھے ہوسکتے ہیں، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی خاطر، پالیسی سازوں کو اپنی توجہ صرف وسائل کے معیار پر ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ اس کے بجائے ، اور جیسا کہ رابرٹ سولو (ایک اور نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات) کہتا ہے کہ ، معاشرتی اصول اور ادارے بھی کسی ملک کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی جستجو میں عوامل کو محدود کرنے یا ان کو بہتر کرنے میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گوادر پورٹ پوری طرح فعال ہے، برآمدات میں کتنا ہوا اضافہ؟ مشیر تجارت نے بتائی اہم باتیں

    اس پر غور کرتے ہوئے ، ایسی کوئی بھی پالیسی جو کسی ملک کے وسائل یعنی زمین ، مزدوری اور سرمایے کے مابین تعامل کو سہولت فراہم کرتی ہے یا اس طرح کے وسائل کے معیار کو بہتر بناتی ہے وہ معیشت کی پیداوری کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔
    بہت سے معاملات میں ، قدیم اور ناقص تحقیق شدہ قواعد و ضوابط کی بہتات معاشی وسائل کو اکٹھا کرنے میں کلیدی رکاوٹ پیش کرتی ہے۔ دوسرے معاملات میں ، مناسب قوانین کا فقدان وہ ہے جو مارکیٹوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    اسی طرح علاقائی وسطی اور جنوبی ایشین معیشتوں کے ساتھ تجارتی روابط کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ اہم انفراسٹرکچر اور سفارتی راہداری میں رکاوٹوں کا ازالہ کرنا معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں بہت آگے جاسکتا ہے۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کی اصلاح ایک اور شعبہ ہے جس پر ضروری توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے استحکام کے بیشتر اقدامات پہلے ہی کر رکھے ہیں ، لہذا توجہ مرکوز کو پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کی طرف ہونا چاہئے۔ توقع ہے کہ ایک سال کے عرصے میں معیشت مستحکم ہونے لگے گی۔ تاہم ، یہ سارے اسباب کم و بیش چار فیصد کی معمولی شرح سے بڑھ رہے ہیں۔

    اور اب اگر حکومت ان اصلاحات کا آغاز نہیں کرتی تو الیکشن کے قریب حکومت کو ایک بار پھر پرانے گھسے پٹے نعروں اور ترقی کے اشاروں کا سہارا لینا ہوگا جو کہ عین ممکن ہے کہ ایلکشن میں کامیاب نہ کرو سکیں،

  • وزیراعظم نے مہنگائی کی لہر کو قابو کرنے کا حکم جاری کر دیا

    وزیراعظم نے مہنگائی کی لہر کو قابو کرنے کا حکم جاری کر دیا

    وزیر اعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے ، اس بات کا اعلان حکومت کے چیف ترجمان فردوس عاشق اعوان نے پیر کو کابینہ کے بعد ہونے والی ایک نیوز بریفنگ میں کیا

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وزیر اعظم نے افراط زر پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی وضع کرنے کے لئے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ایک اجلاس کے لئے بھی بلایا ، جس میں ستمبر تک ریکارڈ ہونے والا سالانہ اضافہ 11.4 تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ کابینہ کے اراکین نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبوں کی قیمت کمیٹیوں کو فعال کیا جائے گا اور قیمتوں میں اتار چڑھاو اور ذخیرہ اندوز عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

    پی آئی اے انتظامیہ کا بڑا فیصلہ

    وزیر اعظم نے حکام کو زندگی بچانے والی دوائیوں کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ 89 ادویات کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے سمری لی جارہی ہے۔وفاقی کابینہ نے آج کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی منظوری دی، مشیر اطلاعات کے مطابق ، وزیر اعظم عمران نے ملاقات کے دوران کابینہ کے اراکین کو اپنے حالیہ چین اور ایران کے دوروں پر اعتماد میں لیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اپنی کوششوں سے کابینہ کو آگاہ کیا۔

    سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

    آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل دیگر امور میں ، کابینہ کے ممبروں کو بتایا گیا کہ حکومت کے ایواکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ای ٹی پی بی) نے گذشتہ ایک سال کے دوران 1،262 ایکڑ اراضی بازیافت کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ہیلتھ کیئر ایکٹ کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس کے تحت بورڈ ممبروں کی تقرری کی بھی منظوری دی ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے اسلام آباد کے لئے ماسٹر پلان اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری دی۔

  • ایف بی آر نے اگلے تین ماہ کیلئے بڑا ٹیکس ٹارگٹ سیٹ کر لیا

    ایف بی آر نے اگلے تین ماہ کیلئے بڑا ٹیکس ٹارگٹ سیٹ کر لیا

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کیلے 1295 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا ٹارگٹ سیٹ کر لیا، اور اکتوبر کے ماہ کیلئے ایف بی آر نے 376 ارب روپے کا ٹارگٹ رکھا ہے،

    ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کیلئے 1100 ارب روپے کا ٹیکس ٹارگٹ رکھا تھا جس میں سے حاصل ہونے والا ٹیکس 1000 ارب روپے تھا، اور اب ٹیکس محصولات کی مد میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کیلئے بڑا پہلے سے بڑا ٹارگٹ سیٹ کر لیا، اس مالی سال کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر سے دسمبر) تک انکم ٹیکس کی وصولیوں کا ٹارگٹ 491 ارب روپے جبکہ سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کی جانے والی رقم کی ٹارگٹ 499 ارب روپے رکھا گیا ہے، اسی طرح ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ٹیکس ٹارگٹ 84 ارب روپے جبکہ کسٹم ٹیکس کی مد میں ٹیکس ٹارگٹ 219 ارب روپے رکھا گیا ہے،

    مزید پڑھیں
    ہاکی کے 4قومی کھلاڑی سڑک حادثہ میں جاں بحق