گزشتہ ہفتہ کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ کھیلا گیا دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین نے انتہائی دلچسپی اور جوش و خروش سے اپنی اپنی ٹیموں کو نعرے بازی اور جھنڈے لہرا کر سپورٹ کیا اس میچ کے دوران لڑائی جھگڑے کے چند ایک ناخوشگوار واقعات بھی پیش ائے۔ ویسے تو اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر چند یورپی ممالک کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان اسٹیڈیم میں لڑائی مار کٹائی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن گزشتہ کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پاکستانی شائقین پر تشدد کے واقعات بلکل الگ نوعیت کے ہیں کیونکہ ان واقعات میں ملوث پشتون قوم کی نام نہاد نمائندہ جماعت پی ٹی ایم ہے جس نے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ کرنے اور مارکٹائی کے لیے کرکٹ میچ کو منتخب کیا۔ اسی میچ کے دوران ہوائی جہاز اسٹیڈیم کے اوپر سے گزرا جس کے پیچھے بینرز پر پاکستان مخالف تحریریں درج تھیں ان واقعات کے بعد پاکستانی عوام میں بھی افغانیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے پی ٹی ایم اس سے پہلے بھی پاکستان اور اس کی افواج کو اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اب تو مسلح کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے جن میں سے ایک کا تزکرہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی پی ٹی ایم کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ میں جا کر اس طرح کے متشدد پاور شو کر سکتی ہے؟ دراصل حقائق اس کے منافی ہیں کرکٹ میچ کے دوران لڑائی مارکٹائی، پاکستان مخالف نعرے بازی اور جہاز کے پیچھے بینرز لہرانا اس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہیں افغانیوں اور پاکستانی پختونوں سے بہادر، مہمان نواز اور وفادار قوم دنیا میں کہیں اور کوئی نہیں ہے دشمن (انڈیا، امریکہ، اسرائیل اور چند پچھلی صفوں میں شامل مسلم ممالک) اپنے اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے چند پختونوں (پی ٹی ایم) کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے چہرے کے پیچھے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں کرکٹ میچ میں بھی شرپسند افغانی، انڈین اور پی ٹی ایم کا بکائو مال تھا تاکہ پاکستانیوں کو پختونوں اور پختونوں کو پاکستانیوں کے خلاف کر کے نفرت کی آگ کو بھڑکایا جائے اور پاکستان میں قومیت اور فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوں ایک بار پھر کہتا ہوں پاکستانی پختونوں اور افغانیوں سے زیادہ پاکستان کا وفادار اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا پختونوں اور افغانیوں کو برا مت کہیں بلکہ پاکستانی اداروں کو پی ٹی ایم، این ڈی ایس اور راء کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ قارئین جس وقت میرا یہ کالم پڑھ رہے ہوں اس وقت پی ٹی ایم کے جھنڈے کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور افغانستان کی این ڈی ایس امریکہ میں قوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پاکستان مخالف زہریلا احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہوں جس میں ممکنہ طور پر مظاہرین ان پاکستانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی ہو سکتے ہیں جو اس وقت پی ٹی ایم کے نہاد لیڈروں کے پروٹیکشن آرڈرز کی فکر میں ہیں اور ان کو بہادر بچے کہتی ہیں۔ آخر میں پاکستانی قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہر پختون یا افغانی پی ٹی ایم نہیں ہے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور پاکستان کے اصل دشمنوں انڈیا، امریکہ، اسرائیل، این ڈی ایس اور ان کے ایجنٹوں کو پہچانئے۔ دشمن پاکستان میں قومیت کی بنیاد پر اور فرقہ وارانہ فسادات چاہتا ہے آپ اس سازش کو ناکام بنائیں اور پاکستانی افواج کے ساتھ کھڑے رہیں۔
پاکستان ذندہ باد
Tag: پاکستان
-

کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری
-

کیا ٹیم پاکستان ایک اور سرپرائز دے پائے گی ؟؟؟ اسد عباس خان
انگلستان کا موسم اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بارے پیش گوئی کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ یہ کب °360 ڈگری کی پِھرکی لے نہ تو اعداد وشمار اور تیکنیک کی باریکیوں میں پھنسے تجزیہ نگار بتا سکتے ہیں نہ جدید ٹیکنالوجی "Unpredictable team” کی اس گتھی کو سلجھا سکتی ہے۔ ہونی کو انہونی اور ناممکن کو ممکن بنانا کوئی ان سے سیکھے، غیر متوقع نتائج دینے میں ٹیم پاکستان بین الاقوامی کرکٹنگ سرکل میں ہمشیہ بریکنگ نیوز کی صورت مرکز نگاہ رہتی ہے۔
ورلڈ کپ سے قبل پہلے آسٹریلیا اور پھر انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچز کی لگا تار دو سیریز وائٹ واش ہو گئے۔ ورلڈ کپ وارم اپ میچ میں افغانستان کی بے نام (بے بی) ٹیم سے ہار گئے۔ اس مایوس کن کارکردگی پر شائقین کرکٹ پریشان تو تھے ہی، رہی سہی کسر ویسٹ انڈیز کے خلاف نکل گئی جب گرین شرٹس صرف 105 رنز پر ڈھیر ہو کر باآسانی سات وکٹوں سے شکست کھا گئے تو ورلڈ کپ میں کچھ اچھا کرنے کی سب امیدیں ٹوٹ گئیں۔ لیکن دنیا اس وقت حیرت زدہ رہ گئی جب ٹیم پاکستان نے 3 جون کو نوٹنگھم کے کرکٹ گراؤنڈ پر اس ورلڈ کپ کی "موسٹ فیورٹ” اور ورلڈ نمبر ون انگلینڈ کو گھر میں گھس کر مار دیا تو امیدوں کے چراغ ایک بار پھر روشن ہو گئے۔ 7 جون کو سری لنکا بمقابلہ پاکستان برسٹل کے کرکٹ گراؤنڈ میں جیت بارش کے نام درج ہوئی اور 16 جون کو ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلے میں ہندوستان سے بری ہار پر ہر کوئی اس ٹیم کو کوسنے لگا اور معاملات کھیل سے نکل کر کھلاڑیوں کی ذاتیات اور ان کے اہل خانہ پر گالم گلوچ تک پہنچ گئے۔ غصیلے شائقین کرکٹ کا کپتان سرفراز احمد اور چیف سلیکٹرز سابقہ لیجنڈ انضمام الحق خاص طور پر نشانہ بنے۔ اور جب اگلا میچ آسٹریلیا سے بھی ہارا تو شائقین کرکٹ کا غم و غصہ بجا تھا لیکن۔۔!
سوشل میڈیا سے ریگولر میڈیا تک عوام، ریٹائرڈ سابقہ پلیئرز، تجزیہ نگار، سیاست دان غرض ہر کوئی اپنے دل کی بھڑاس نہایت منفی انداز میں نکالنے لگے جو من حیث القوم ہمارے لیے واقعی قابل تشویش بات ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان سے نیچے صرف افغانستان کی ٹیم تھی اور ٹیم پاکستان کا ورلڈ کپ میں سفر تمام ہونے کے تبصرے شروع ہو چکے تھے۔ جبکہ کچھ سر پِھرے اب بھی 92 کے ورلڈ کپ کے ساتھ مماثلت ڈھونڈ ڈھونڈ کر اعلان کناں تھے۔ ٹویٹر پر کسی دیش بھگت نے لکھا کہ میری والدہ بتاتی ہیں جب 92 میں پاکستان اپنا پانچواں میچ ہارا تھا تو اس دن ہم نے ٹینڈے پکائے ہوئے تھے اور آج 2019 میں بھی پانچویں میچ کی ہار اور ٹینڈے ہی پکے ہیں۔
اور پھر ابھی تک ہوا بھی کچھ یوں ہی ہے۔ شاہینوں نے اونچی پرواز لی اور 23 جون کو لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر ساوتھ افریقہ کی ٹیم کو پھینٹا لگانے کے بعد 26 جون کو اب تک ورلڈ کپ میں ناقابل شکست نیوزی لینڈ کو بھی رگید ڈالا تو ایک بار پھر دنیا ورطہ حیرت تھی۔ لیکن ابھی عشق کے دو امتحان اور بھی ہیں افغانستان اور بنگلادیش کے خلاف باقی بچے دو میچز میں کامیابی حاصل کر کے ہی ٹیم پاکستان سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتی ہے۔ جہاں بالخصوص بنگلادیش کے خلاف پوری طاقت لگانی ہو گی وہ ٹیم 2015ء ورلڈ کپ کے بعد سے شاندار کرکٹ کھیل رہی ہے۔ اور ٹیم پاکستان کو گزشتہ چار میچز میں لگا تار شکست کا مزہ بھی چکھا چکی ہے جہاں سال 2015ء میں اظہر علی کی کپتانی میں دورہ بنگلادیش پر تین ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں وائٹ واش کی خفت کا سامنا کرنا پڑا اور گزشتہ برس متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیاء کپ مقابلوں میں سرفراز احمد کی کپتانی میں شکست بھی شامل ہے۔ اس ورلڈ کپ میں بھی پوائنٹس ٹیبل پر ٹیم پاکستان کے برابر جبکہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر وہ ہم سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ لیکن یہاں بھی اگر مگر کی صورتحال کا خطرہ بہرحال موجود ہے۔ انگلینڈ کو اپنے آئندہ دو میچز (بمقابلہ ہندوستان و بمقابلہ نیوزی لینڈ) میں سے کم از کم ایک میچ ہارنا بھی ہو گا۔ جو کہ پاکستان سے پِٹنے کے بعد سری لنکا اور آسٹریلیا سے بھی شکست کھا کر شدید مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔
کون کہاں کھڑا ہو گا یہ تو اگلے ہفتے ہی پتہ چلے گا البتہ دنیا اس بات کی قائل ہے کہ پاکستان کو جب بھی "Underestimate” کیا گیا تو ہمیشہ ٹیم پاکستان نے "Strike” کرتے ہوئے مخالف کو "Surprise” دیا ہے اور یہ رِیت کھیل کے علاوہ باقی شعبہ ہائے زندگی میں بھی شامل ہے۔
1992ء کا ورلڈ کپ ہو یا 2017ء کی چیمپیئن ٹرافی ٹیم پاکستان ہمیشہ ایسے سرپرائز دینے کے لیے مشہور ہے۔ کیا اس بار بھی ایسا ہونے والا ہے۔۔۔۔ یا سرفراز دھوکہ دے گا۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ چند روز تک سب سامنے آ جائے گا لیکن ایک بات تو طے ہے "تم جیتو یا ہارو سنو ہمیں تم سے پیار ہے” کے نغمے گاتے شائقین کرکٹ کو اس ٹیم سے بے لوث محبت ہے۔ -

بوم بوم کے بعد ایک اور آفریدی کی دھوم ۔۔۔ سلمان آفریدی ۔۔۔
ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے کے بعد پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر دنیا میں ہونے والے چرچوں کا موضوع بن چکی ہے۔ پاکستان بلاشبہ دنیا کو ہر طرح سے سرپرائز دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کی 360 درجے کی Unpredictibility کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا , ہارنے پر آئیں تو برادرانہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت آئ سی سی رینک بورڈ پر پڑی دسویں نمبر کی افغان ٹیم سے ہار جائیں اور اگر دھول چٹانے کا ارادہ کر لیں تو نمبر ون کو بھی اڑا کے رکھ دیں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اس کم بیک کی تعریف دوست دشمن ہر ایک کی زبان پر ہے۔ اپنے اتحاد اچھی پلاننگ اور کھلاڑیوں پر اعتماد کے نتیجے میں پاکستان نے ایک ایسی ٹیم کو شکست سے دوچار کیا جو اس ورلڈ کپ میں ایک بھی میچ نہیں ہاری تھی ۔ آئ سی سی سکور بورڈ پر پوائنٹ سکورنگ کا یہ سفر بطور ٹیم ایک ساتھ پرفارم کرنے سے ہی ممکن ہوا۔ حارث سہیل اور اور
بابر اعظم کی پائیدار بیٹنگ اور محمد عامر اور شاہین شاہ آفریدی کی جنہیں شہنشاہ آفریدی کہا جا رہا ہے کی خوبصورت باؤلنگ نے اس میچ کو یادگار بناتے ہوے ٹیم کی کارکردگی کو چار چاند لگا دیے۔ یہ میچ ایک Must Win میچ تھا جس میں ہار یا جیت پاکستان کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے یا اس دوڑ کاحصہ بنے رہنے کا فیصلہ کرتی۔ اس میچ نے جہاں ٹیم سلیکشن اور اس کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کی ضرورت کو نمایاں کیا وہیں ٹیم کی جانب سے پاکستان کو جتانے کے لیے پیش کیاجانیوالا جذبہ بھی قابل قدر قرار پایا۔اگر بیٹنگ لائن کی بات کریں تو پاکستان کی جانب سے بابر اعظم نے پریشر کے باوجود شاندار سینچری مکمل کی اور مشکل پچ پر جہاں بال ڈیڑھ ڈیڑھ گز تک سپن ہو رہی تھی نہایت عقلمندی سے پریشر پوائنٹس کھیلے۔ ایسی مشکل پچ پر حارث سہیل کی بابر اعظم کے ساتھ شاندار پارٹنرشپ اور Run Chase نے پاکستان کو جتانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شاندار بیٹنگ کے ساتھ ساتھ جاندار باؤلنگ نے اس وکٹری کے اس سفر کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 19 سالہ شاہین شاہ آفریدی کی جانب سے سات لگاتار اوورز جن میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو باندھ کر رکھا اور تین وکٹیں حاصل کیں کمال کے تھے۔فریدی کی جانب سے Maiden Overs , نیوزی لینڈ کے ٹاپ آرڈر کو دھبڑدوس کرنا , بہترین باؤلنگ ٹیکنیکس کا استعمال اور ہارڈ لیگ پر بے مثال باؤلنگ کا مظاہرہ اس ورلڈ کپ کے بہترین باؤلنگ سپیلز میں شمار کیا جا رہا ہے ۔
اس بہترین کارکردگی سے جہاں کھلاڑیوں کے اپنے وقار اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے وہیں پاکستان کرکٹ ٹیم اجتماعی طورپر بھی مزید پر اعتماد ہوئی ہے۔ بابر اور حارث کی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ آفریدی صاحب کی باؤلنگ نے گیم پر قوم کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں جب ٹیم نے ان پر اعتماد کیا اس اعتماد پر پورا اتر کر دکھایا۔ اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر محو گردش ایک خوبصورت اور محظوظ کرنے والا جملہ جو اس بلاگ کے لکھنے کا باعث بھی بنا نظر سے گزرا جو کچھ یوں تھا کہ
"نیوزی لینڈ والے تیاری عامر کی کر کے آئے تھے پیپر میں آفریدی آ گیا ”
اس جملے کو پڑھنے کے بعد چہروں پر ابھرنے والی دلکش مسکراہٹوں کو ہمارا سلام ۔۔۔
-

حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ
پاکستان میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے حمزہ علی عباسی آج کل ایک نجی ٹی وی چینل سے رئیلٹی شو کو جج کر رہے ہیں۔ اس شو میں ایک بچی کی پاکستانی آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر کی گئی پرفارمنس کو حمزہ علی عباسی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حمزہ نے لڑکی کو پرفارمنس کے دوران ہی روک دیا اور بھاشن دیتے ہوئے کہا ” میں پاکستانی فلم ڈائریکٹرز و پروڈیوسرز کی منتیں کرتا ہوں کہ ہماری فلموں میں آئٹم سانگ نہ رکھا کریں ہماری بچیاں ان گانوں پر پرفارم کرتی ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے”۔
مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ
حمزہ علی عباسی کے اس رویے کو مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف طریقے سے جج کیا۔ جہاں بعض حلقوں نے حمزہ کی اس بات کو سراہا وہاں کئی حلقوں نے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر ان کی اس رائے کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔
شوبز کے اندرونی حلقوں نے حمزہ کی رائے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حمزہ عباسی اپنی فلم میں نازیبا اور فحش سین بھی فلما چکے ہیں۔ فلم "جوانی پھر نہیں آنی” میں انہوں نے مختصر لباس میں موجود لڑکی کے ساتھ سوئمنگ پول میں اور ساحل سمندر پر ایسے سین عکسبند کئے جن پر آج وہ تنقید کر رہے ہیں۔مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ
شوبز کی بعض حلقوں میں تو یہ چہ مگوئیاں بھی ہیں کہ اس آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر فلم میں صدارتی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمسٹار مہوش حیات نے پرفارم کیا تھا اور چونکہ حمزہ علی عباسی اور مہوش حیات کی آپس میں بنتی نہیں ہے تو حمزہ علی عباسی نے موقع کا فائدہ اٹھا کر در پردہ مہوش حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ
رئیلٹی شو میں حمزہ علی عباسی کے اس رویے اور لڑکی کے آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کی تنقید کو "پبلسٹی سٹنٹ” بھی کہا جا رہا ہے تاکہ اس سے رئیلٹی شو اور چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اگر چینل اور ججز آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کے خلاف تھے تو وہ گانا اس سٹیج پر کیوں چلایا گیا اور ظاہر ہے یہ گانا چینل کی مینجمنٹ کی اجازت اور پروڈیوسر/ڈائریکٹر کی مرضی سے ہی چلایا گیا ہوگا۔ اگر چینل اور ججز کی پالیسی میں ایسے گانے نہیں تھے تو ایسا گانا منتخب کیوں ہوا اور اس پر پرفارمنس کیسے ہو گئی، یہ ایک ایسا سوال ہے جو حمزہ عباسی کی تنقید کے بعد ججز اور انتظامیہ کے کردار کو مشکوک بناتا ہے کیونکہ شو میں حصہ لینے والی بچی اور گانا تو پہلے سے ہی فائنل کیا جا چکا ہوتا ہے تو پھر پرفارمنس کی بعد ایسی دوغلی پالیسی کیوں ؟
امید ہے کہ چینل انتظامیہ اور حمزہ علی عباسی اس کی وضاحت ضرور دیں گے۔اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
naveedsheikh123@hotmail.comٹویٹر پر فالو کریں
-

بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
اللہ کی عظیم نعمتوں اور معدنیات سے مالا مال مگر حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار ہمارا بلوچستان پاکستان کا ہی صوبہ ہے. دوران سفر میں نے کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے فورٹ منرو تک بلوچستان کے بیسیوں شہر دیکھے، سنگلاخ چٹانیں، خشک پہاڑ، میلوں تلک پھیلی سطح مرتفع، کہیں کہیں فروٹس کے باغات اور درختوں کے جھنڈ، بکریوں کے ریوڑ اور خوبصورت بچے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں.

لیکن یہ سحر بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے کہ جب بیسیوں میل تک آپ کو پانی میسر نہ آئے، جب وہاں سے نکلنے والی بیش قیمت گیس تو لاہور، پشاور تک مل جائے ،اس کی رائلٹی سرداروں کی جیب میں چلی جائے اور سوئی کا باسی پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں جاتی گیس کے پائپ کے اطراف سے لکڑیاں اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے اپنی پیٹھ پر لادے گھر جائے اور اس سے چولہا جلائے، جب سفر کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹرز تک آپ کو موبائل سگنلز نہ ملیں.عورت اور اسلامی معاشرہ… محمد عبداللہ
ہم گرائمرز، ایچی سن، کیڈٹس کالجز اور اسکول کے رسیا لوگوں کا بلوچستان کی خوبصورتی کا سحر اس وقت دھڑام سے گرتا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خیمہ اور ٹاٹ اسکول بھی میسر نہ ہوں. جہاں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین بیماریوں تک کے علاج پر اس لیے نہ توجہ دی جائے کہ بوڑھی ماں اور باپ کی دو چار سال مزید عمر کے لیے کون سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے کوئٹہ اور کراچی جائے. مجھے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایک بھی شہر پنجاب کے شہروں کے ہم پلہ نظر نہ آئے نہ سہولیات کے اعتبار سے اور نہ بلند و بالا بلڈنگز کے اعتبار سے. ہاں سرداروں کے وسیع و عریض محل، نت نئی گاڑیوں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی فوج ظفر موج آپ کو بتائے گی کہ بلوچستان کے مسائل کے پیچھے کیا عوامل کارفرماء ہیں.
کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
میں نے بلوچستان کا بڑا مہذب نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ مجھے الفاظ نہیں میسر کہ بلوچستان کی محرومیوں کی جو صورتحال جو آنکھوں نے دیکھی اس کو بیان کروں.

تعلیم و صحت وغیرہ بنیادی انسانی حقوق ہیں مگر بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کو یہ انسانی حقوق میسر نہیں ہیں. ہاں میسر ہے تو وہ دھماکے ہیں، سازشیں ہیں، کلبھوشنز ہیں، براہمداغ و ماما قدیر ہیں، سرمچار ہیں، فراری ہیں اور ان سب کی وجہ سے فوجی آپریشنز میسر ہیں.
جب صادق سنجرانی، قاسم سوری، جام کمال، طلال و سرفراز بگٹی اور اختر مینگل جیسے لوگ جو پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں اور پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ بلوچستان کے جائز حقوق کی آئینی اور قانونی جنگ نہیں لڑیں گے اور بلوچستان کی دگردوں صورتحال پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر براہمداغ بگٹی وغیرہ جیسے راتب اغیار پر دم ہلانے والے محرومیوں کے ستائے بلوچوں کو استعمال کریں گے، پھر کلبھوشن دہشت گردی کے نیٹ ورک قائم کریں گے. پھر محمود اچکزئی جیسے لوگ این ڈی ایس کے آلہ کار بنیں گے.
پاکستان کے دیگر صوبوں اور ہر طرح کی سہولیات سے لیس شہروں میں بیٹھ کر یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے کہ بلوچستان کی بات نہ کرنا، وہاں کے حقوق پر آواز نہ اٹھانا کہیں دشمن تمہارے ان مطالبات کو غلط استعمال نہ کرلے تو جناب والا پھر پنجاب اور کے پی کے اور سندھ کے مسائل اور جرائم پر بات کرنے اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کو بھی تو دشمن غلط مقصد اور بدنامی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن ہم وہ متواتر کیے چلے جاتے ہیں.
ہمیں اور نہ ہی بلوچستان کے لوگوں کو اپنی افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں سے کوئی گلہ یا شکوہ ہے کیونکہ یہ ادارے تو ان کو سازشوں سے بچاتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں اور آفات اور مسائل میں حتیٰ المقدور بلوچستان کے غریب باسیوں کی مدد بھی کرتے ہیں.
ہمیں شکوہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان کے سرداروں سے ہے، پاکستان کے ستر سال کے حکمرانوں سے ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے مسائل و معاملات کو پاکستان کا مسئلہ نہیں سمجھتے.
اگر آپ واقعی بلوچستان میں امن لانا چاہتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، کلبھوشنوں اور براہمداغ جیسوں کے نیٹورکس قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تو بلوچستان میں تعلیم و صحت اور روزگار پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیجیئے کہ بلوچستان بھی پاکستان ہے.
Muhammad Abdullah -

تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ
یہ بات ہی غلط ہے کہ عمران حکومت نے یہ اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔ دو اضافی منی بجٹوں سے تحریک انصاف اس قوم کو پہلے ہی نواز چکی ہے۔جن کے ثمرات سے ہم رمضان اور عید پر استفادہ حاصل کرچکے ہیں. اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جو صرف اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔
سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں۔ کہ جب سے عمران خان اقتدار میں آئیں ہیں انھوں نے کیا تیرچلائے ہیں اور کتنے پیسے اکٹھے کر لیے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ حکومت اقتصادی سروے کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں مکمل فیل ہو گئی ہے۔ یہ وہ کارکردگی ہے جس کے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے تھے ۔ اور اب بھی کیے جارہے ہیں۔ اس نئے بجٹ میں ہر چیز پر نئے ٹیکس لاگوکر دیے گئے ہیں۔ شاید ہی کوئی چیز بچی ہو جو ٹیکسوں سے مستثنی ہو۔ چلیں سگریٹ، مشروبات، سی این جی، ایل این جی، سیمنٹ اور گاڑیوں پر عائد ٹیکسز کی شرح میں اضافہ توشاید یہ سوچ کر کیا گیا ہو کہ یہ سب عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور اس ملک میں عیاشی صرف حکومت اور وزیروں کا ہی حق ہے ۔ مگرتبدیلی کے دعوے داروں نے کوکنگ آئل، گھی، چینی پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ثابت کردیا۔ کہ تبدیلی سرکار بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح ہی عوام دشمن اور غریب دشمن ہے ۔

مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ
عمران خان کی نظر میں چینی اتنی بڑی عیاشی ہے کہ اس پرعائد 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصدکردیا گیا ہے۔ جس سے چینی کی فی کلو گرام قیمت میں ساڑھے 3 روپے سے زائد کا اضافہ ہونے کی نوید ہے۔ ایسا ہوناہی تھا۔اس عوام کا مقدر ہی ایسا ہے جب حکومت بنی ہی شوگرمافیا کی مدد سے ہو ۔ جب شوگرمافیانااہلی کے باوجود کابینہ اجلاسوں میں ڈھٹائی سے بیٹھتی ہو۔ تو عوامی استعمال کی اشیاء پر ہی ٹیکس لگائے جاتے ہیں مافیاز پر نہیں ۔ چکن، مٹن اور مچھلی کی سیمی پروسسڈ اور ککڈ اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ کیونکہ غریب تو کھاتا ہی دال سبزی ہے ۔ گو شت تو امیروں کے چونچنلے ہیں۔ سو اچھا ہی ہوا اس پر ٹیکس لگا دیا گیا ۔ حکومت نے دودھ، بالائی، خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر بھی 10 فیصد ٹیکس تجویز کیا ہے۔ یہ بھی لگثرری ایٹمز ہیں ۔غریبوں کی پہنچ سے تو یہ پہلے ہی بہت دورہیں۔

مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ
حکومت نے ہزار سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیو ں پر 2.5فیصد ٹیکس عائد کرکے بھی احسن اقدام کیا ہے۔ کیونکہ گاڑی تو صرف امیر بندہ ہی رکھ سکتا ہے۔مگر متوسط طبقہ پتہ نہیں کیوں اس فیصلے پر تڑپ اُٹھا ہے۔ عام آدمی پیدل چلے ، سائیکل رکھے ، موٹرسائیکل چلائے گاڑی سے اس کا کیا لینا دینا۔ حکومت کا یہ بہت اچھا فیصلہ ہے ۔ اس ملک میں تمام حقوق صرف امیروں کے لیے ہیں ۔ اسی لیے تو مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کر کے امیر افراد کو مزید فائدہ پہنچایاگیا ہے۔ کیونکہ امیروں کے پیسوں سے ہی تو کپتان حکومت میں آئے ہیں ۔ غریبوں اور متوسط طبقے کے ووٹ تو ہر کوئی لے لیتا ہے۔شاید نوجوانوں کے لیڈر کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کم پاور اور نسبتاً کم قیمت گاڑیاں متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جنہیں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ ٹیکسی کے طور پر چلا کر سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدو جہد میں استعمال کرتے تھے جن پر اب ٹیکس لگا کر حکومت نے صرف ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ اپنا ووٹ بینک بھی متاثر کر لیا ہے۔
اعلی تعلیم بھی صرف امیروں کے بچوں کا حق ہے اس لیے اس بجٹ میں اعلی تعلیم کا بجٹ 57 ارب سے کم کرکے 43 ارب کردیاگیاہے۔کیونکہ تمام جاگیردار اور وڈیرے خود اسمبلیوں میں موجود ہیں اس لیے زراعت پر ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا ۔ اس اسمبلی میں جتنے بیٹھے ہیں۔ یہ خود تو دور کی بات شاید ان کے ملازم بھی17500 روپوں میں اپنے گھر کا خرچہ نہ چلا سکیں ۔ ٹیکسوں کی بھرمار اور اتنی مہنگائی کے بعد سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنا حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ
حکومت خود تو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مکمل ناکام رہی ہے مگر جو پہلے سے ٹیکس دے رہے تھے ان کو مزید نچوڑا جا رہا ہے۔ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہر چیز پر ہر کسی نے ہر حال میں ٹیکس دینا ہے ۔ پہلے صرف ان ڈائریکٹ ٹیکس دیتے تھے ۔ اب ان ڈائریکٹ ٹیکس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔ جس طرح اس حکومت نےٹیکسوں کی بھرمار کی ہے۔ اب ٹیکس ادا کرنے کے لیے بھی ہر کسی کو ایک نئی نوکری کرنی پڑے گی ۔
ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگا کرتحریک انصاف نے اس قوم کے ساتھ وہ کیا ہے کہ شاید یہ قوم آئندہ کبھی کسی کا اعتبار نہ کرے۔ اس بجٹ سے اندازہ ہواہے کہ اصل نیا پاکستان اب بنا ہے ۔
شکریہ تحریک انصاف
شکریہ عمران خان
اگر اجازت ہو تو اب تھوڑا سا گھبرا لیں ۔اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
naveedsheikh123@hotmail.comٹویٹر پر فالو کریں
Tweets by naveedsheikh123 -

ملک ترقی کیسے کر سکتا ہے…. فیصل ندیم
کیا آپ کو یہ بات مذاق نہیں لگتی کہ ہم ایٹم بم بنا چکے ہیں طیارے بنا رہے ہیں ٹینک بنا رہے ہیں دنیا کا بہترین میزائل سسٹم بھی ہم نے ہی تخلیق کیا ہے کل ہم دفاعی ضروریات پوری کرنے کیلئے دنیا کے محتاج تھے آج ہم دنیا کو یہ چیزیں برآمد کررہے ہیں اگر ہم یہ سب کرسکتے ہیں تو سب کچھ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔
ایک ایسا ملک جو ہمیشہ درآمدی بل کے خسارہ کا شکار رہتا ہے وہ کیسے ترقی کرسکتا ہے اگر اس کے ہر بازار کی ہر دکان کی ہر الماری غیر ملکی مصنوعات سے بھری ہوگی گاڑیاں بسیں ہیوی ٹرک تو بڑی شے ہے بچوں کیلئے بنایا گیا پلاسٹک کا کھلونا بھی ہم کسی اور ملک سے درآمد کررہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ق
ایسا نہیں ہے کہ ہم میں صلاحیت نہیں ہے اگر صلاحیت نہ ہوتی تو دفاعی سازوسامان کے ساتھ دنیا کے بہترین سرجیکل آئٹمز ، اسپورٹس کا بہترین سامان ، معیاری الیکٹریکل اپلائنسز اور بہترین سینیٹری آئٹمز ہم نہ بنا رہے ہوتے ۔۔۔۔۔
اس پوری کیفیت کی سب سے بڑی ذمہ دار ہمیشہ سے ہماری حکومتیں رہی ہیں جو صنعتکار کو اپنی صنعت چلانے کیلئے بہتر سہولیات اور ماحول دینے میں ناکام رہی ہیں چھوٹے چھوٹے اجازت ناموں کیلئے لمبے اور تھکا دینے والے طریقہ کار اور ہر منظوری پر رشوت کا بھاری بھرکم بوجھ کبھی بھی صنعتی ترقی کے فروغ کو سبب نہیں ہوسکتا مہنگی بجلی مہنگی گیس اور سازگار ماحول کی غیر موجودگی میں درآمدات کوگھٹا کر برآمدات بڑھانا مشکل نہیں ناممکن ہے ۔۔۔۔بھاری بھرکم بیرونی و اندرونی قرضہ ،بجٹ خسارہ ، گردشی قرضہ جات ہمیشہ ہر حکومت کا مسئلہ رہے ہیں بدقسمتی سے ہر آنے والی حکومت نے اپنی سیاست اور ووٹ بنک کو تحفظ دینے کیلئے حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے ان کے شارٹ ٹرم حل کی جانب توجہ کی ہے نتیجتاً ہر آنے والی حکومت میں ہم مسائل کے حل کے بجائے مسائل کی دلدل میں مزید دھنستے چلے گئے ہیں ۔۔۔۔۔
ان مسائل کے حل کا ایک ہی طریقہ ہے درآمدی اشیاء کی آمد کے طریقہ کار کو مشکل سے مشکل تر بنایا جائے غیرملکی اشیاء پر ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا جائے جبکہ ملکی صنعت کو سازگار ماحول سستی بجلی سستی گیس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک موجود سفارتخانوں کو استعمال کرتے ہوئے اس کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں ( یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بیرون ممالک پاکستان کی نمائندگی کیلئے بننے والے سفارتخانوں میں تقرریاں سیاسی رشوت کے طور پر کی جاتی ہیں نتیجتاً سفارتخانے عیاشی کے اڈے کے طور پر تو استعمال ہوتے ہیں پاکستان کی نمائندگی کیلئے نہیں ) ۔۔۔۔
ملکی صنعت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ اس کیلئے خام مال کی فراہمی کو نہایت آسان اور سہل بنایا جائے ضرورت پڑنے پر حکومت ان اشیاء پر سبسڈی بھی فراہم کرے تاکہ صنعتکار کی دلچسپی بڑھائی جائے سکے پاکستان میں کارخانے لگانے والے ہر بیرونی سرمایہ کار کو ضروری سہولیات فوری اور آسانی کے ساتھ فراہم کرنے کے ساتھ انہیں پابند کیا جائے کہ وہ ٹیکنالوجی بھی ٹرانسفر کریں گے ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر اغیار کی محتاجی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔۔جان لیجئے حکومتیں عوامی تعاون کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی اس لیے عوامی سطح پر شعور کی بیداری کی مہم چلانا ضروری ہے ہر دکان ہر مارکیٹ میں میڈ ان پاکستان اشیاء کو نمایاں کرکے رکھنا ضروری ہے عوام کو سمجھانا ضروری ہے کہ آپ کے شوق کی تکمیل یا چند روپوں کی بچت ملک و قوم کی بہت بڑی تباہی کا سبب ہے اس لئے میڈ ان پاکستان اشیاء کا انتخاب کیجئے تاکہ ہم غیرملکی قرضہ جات سے نجات حاصل کرکے غیروں کے تسلط سے حقیقی آزادی حاصل کرسکیں ۔۔۔۔
ململ شعور کے ساتھ ہم یہ سمجھتے ہیں تمام کاموں سے پہلے یہ کام ضروری ہے پورا زور لگا کر اپنی عوام کو میڈ ان پاکستان پر لانا چاہئے پاکستان کیلئے پاکستانیوں کیلئے اپنے لئے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری ہے پاکستانی میڈ ان پاکستان اشیاء کا استعمال کریں ۔۔۔۔
اس مقصد کے حصول کیلئے نصاب تعلیم میں باقاعدہ مضامین شامل کئے جائیں جن میں طلبہ کو اس مسئلہ کی حساسیت سمجھائی جاسکے اور وہ عملی میدان میں اترنے کے بعد خود غرضی کا شکار ہوکر غیروں کے آلۂ کار بننے کے بجائے محب وطن اور مفید شہری بن سکیں ۔۔۔۔
علماء اور مساجد کے خطیب حضرات اس مسئلہ میں بہت زیادہ معاونت کرسکتے ہیں ان کی باقاعدہ ورکشاپس کروائی جائیں تاکہ وہ میڈ ان پاکستان کو ایک قومی و ملی مسئلہ سمجھ کر اپنے متعلقین کو قائل کرسکیں ۔۔۔۔
میڈیا ( پرنٹ الیکٹرانک سوشل ) کو عوامی شعور کی بیداری کیلئے بھرپور طور پر استعمال کیا جائے تاکہ عام پاکستانی جان سکے کہ اس کا حقیقی نفع نقصان کہاں پر ہے ۔۔۔۔۔امید ہے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر لکھی گئی اس تحریر کو آپ تحریک بنا کر آگے چلائیں گے پاکستان اللہ کا انعام ہے اس انعام کی قدر اسی طرح ممکن ہے کہ اسے ہر طرح سے غیر ملکی تسلط سے آزاد کروایا جائے
پاکستان زندہ باد
پاکستانی قوم پائندہ باد -

رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ
رمضان مسلمانوں کے لیے سب سے متبرک مہینہ ہے ۔ اسی ماہ میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔مگر پاکستان میں ہر سال اس ماہ میں لڑائی جھگڑے اور دیگر غلط کاموں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس ماہ میں شیطان تو قید ہو جاتاہے مگر ہمارانفس آزادہوجاتاہے ۔ بے شک بابا بلھے شاہ نے درست فرمایاتھا کہ – میری بُکل دے وچ چور – یعنی میری چادر میں ہی چور چھپا ہے۔
رمضان آتے ہی سب نماز،تروایح، باقاعدہ قرآن پاک تلاوت میں مشغول ہو جاتے ہیں . مساجد میں حاضری میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو جاتاہے ۔ داڑھیاں بڑھا لی جاتی ہیں۔ہاتھ میں تسبیح اورسر پر ٹوپیاں بڑے اہتمام سے پہنی جاتی ہیں۔جو کہ بہت اچھی بات ہے ۔مگر جھوٹ،چغل خوری، سود ، حرام کمانا، ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی،جعلی دوائیاں، رشوت لینا ، رشوت دینا،چوری چکاری،دھوکہ دہی،لعن طعن کرنا نہیں چھوڑتے ۔کسی کا حق مارنا ہو تو ہم میں سے کو ئی پیچھے نہیں رہتا۔ بھائی بھائی کاحق مار لیتا ہے بیٹا باپ کو مار دیتا ہے بھائی بہن کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے ۔

مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ
بڑے بڑے رئیس۔ امیر کبیر۔ روزانہ سینکڑوں لوگوں کو سحری اور افطاری کروا کر نیکیاں تو کماتے ہیں مگر اپنے ورکروں کو وقت پر تنخواہ دیتے وقت ان کو موت پڑ جاتی ہے۔امیر تو پھر امیر ہیں- عام آدمی بھی کچھ کم نہیں ۔ورکر طبقہ روزہ رکھ کر اگر کام پر آہی جائے تو ایسا محسوس کروا تا ہے کہ جیسے اس کا کام پر آنا احسان ہو ،روزہ رکھ کر کام میں ڈنڈی مارنا ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا ، گالی گلوچ کرنا اُس نے سب روضے کے نام پر حلال کر لیا ہے۔
دکان دار جہاں افطاریاں کرواتے ہیں وہیں قوم شعیب علیہ السلام کے وطیرہ پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔ ناپ تول میں کمی، مہنگائی، ملاوٹ پہلے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کیونکہ نیکیوں کے ساتھ ساتھ سیزن بھی تو سمیٹنا ہے۔ دوکانداروں کے لیے رمضان کی برکتیں ایسی ہوتی ہیں کہ باقی گیارہ مہینوں کے برعکس صرف اس ماہ میں ہر چیز دو گنا،تین گنازیادہ قیمت پر بیچی جاتی ہے۔جگہ جگہ گھٹیا تیل سے بنے پکوڑے، سموسے ، جلیبیاں، گلے سڑے پھلوں والی فروٹ چاٹ روزہ رکھ کر دھڑلے سے لوگوں کو بیچی جاتی ہیں ۔

مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ
صدقہ ، زکوة، خیرات دیتے وقت ذاتی تشہیر پر زورزیادہ رہتا ہے ۔فیس بک ،ٹویٹر، اخبارات ایسی تصویروں سے بھرے ہوتے ہیں جس میں کبھی کوئی راشن تو کبھی عیدکے کپڑے غربیوں میں تقسیم کررہا ہوتا ہے۔ مسجدوں کی رونقیں خوب بحال کی جاتی ہیں ہر کوئی اس تیزی میں رہتا ہے کہ ہر حال میں نماز باجماعت ادا کی جائے ۔مگر کوئی یہ فکر نہیں کرتاکہ دن بھر اس نے روزہ رکھ کرکیسے کیسے دونمبریاں کی ہیں ۔ کتنے جھوٹ بولے ہیں ۔کتنے لوگوں کا حق مارا ہے ۔رمضان کے آخری عشرے میں جب ہر کوئی عید کے لیے نئے کپڑے اور جوتے خریدتا ہے ۔ لاری اڈوں پر پردیسیوں کا رش بڑھ جاتا ہے ۔ تب کاروباری حضرات اپنے ریٹس ایسے بڑھاتے ہیں جیسے یہ عید ان کی زندگی کی آخر عید ہو۔

مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ
رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو آدمی روزہ رکھتے ہو ئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔(صحیح بخاری،جلدنمبر 1،صفحہ نمبر:255)
رمضان کا مقدس مہینہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم کھانے پینے سے ہاتھ روک کے اپنے اردگرد بسنے والے غریبوں،مسکینوں اور بے سہاروں کا خیال کریں۔یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ پاک اپنے حقوق تو معاف کردے گا مگر جو دھوکا،مکر و فریب ، چور بازاری اور منافع خوری ہم اپنے بھائیوں سے کرتے ہیں وہ اللہ پاک ہر گز معاف نہیں کرے گا۔
اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
naveedsheikh123@hotmail.comٹویٹر پر فالو کریں
Tweets by naveedsheikh123 -

دیکھنا کہیں وقت گزر نہ جائے؟؟؟ صفی اللہ کمبوہ
آج وقت ہے ہر پاکستانی اپنا کردار ادا کرے
سوشل میڈیا کا مورچہ سنبھالے. پوسٹ, ویڈیو پیغام اور کمنٹ کے ساتھ اپنے ملک کی سالمیت اور افواج پاکستان کے لیے بھرپور آواز اٹھائے.
PTM ہو یا ان کی حمایتی کوئی بھی سیاسی جماعت اور اس کے نام نہاد لیڈر جوکہ ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کے دوست ہیں. ان سب کی گز گز لمبی زبانوں کو بند کروانا آج ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے.آج اپنی سیاسی وابستگی کسی سے بھی ہو.. مطلب کسی سے بھی.. کسی بھی سیاسی پارٹی سے. مگر ہمیں سیاسی وابستگی نہیں دیکھنی بلکہ ملک کی سالمیت دیکھنی ہے. جو ملک کے دشمنوں کو افطاریوں میں دعوت دیں وہاں پلان بنائیں, آرمی کی چیک پوسٹ پر حملہ کریں وہ دہشت گرد گروہ اور سیاسی گماشتے ان کی سپورٹ کریں زبان درازی کریں اپنے اداروں پر, افواج پاکستان پر. یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا.
میں مرسکتا ہوں مگر اپنے شہدا, کے خون سے غداری نہیں کرسکتا. پاک فوج ہماری فوج ہے. ہر پاکستانی اس خطرناک سازش کو سمجھیں. ڈراموں, فلموں, کہانیوں, کارٹونوں اور میچوں سے باہر نکل کر زرا حیقیت کی دنیا میں آجاو. اب وقت نہیں ہے زیادہ کہ ہم غفلت کی نیند سوئیں. دشمن اب پھر گھیرا ڈال رہے ہیں. اندر اور باہر سے ملک مخالف آوازیں اٹھانے والے متحرک ہوچکے ہیں. منظور پشتین, گلالئی اسماعیل, علی وزیر, محسن ڈارڑ, محمود اچکزئی, اسفند یار ولی, ملالہ اور دیگر سیاسی جماعتوں میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کے حمایتی اپنا کام پوری محنت سے کررہے ہیں. مگر پاکستانی نوجوان سویا ہوا ہے. لڑکوں لڑکیوں کو پتا ہی نہیں کہ ملک کے خلاف کتنی بڑی سازش ہورہی ہے, کل میں نے ایک تقریب میں لڑکوں کی بڑی تعداد سے پوچھا کہ بتاو PTM کیا ہے اور اس نے پاکستان کے خلاف کیا محاذ گرم کیا ہوا ہے تو کوئی بتانے والا نا تھا , کیونکہ ہماری نوجوان نسل کی دلچسپی کچھ اور ہے. شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے. اقبال کا شاہین ایسا تو نا تھا. پاکستانی نوجوان, مسلمان عوام, کو ایسا ہونا چاہیے کہ یہ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں تو پتا چل جائے کہ صورتحال کیا ہے اور میرے کرنے کا کام کیا ہے.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے وہ مجاہد سپاہی وہ لشکر جو تکفیری اور ملک دشمنوں سے ٹکرا گئے وہ پاک فوج کے جانباز جو دفاع وطن میں جان کی بازی ہار گئے ان کو کل قیامت کے دن کیا منہ دکھاؤ گئے. سوچو زرا ؟؟؟
ان شہدا نے کس بات پر قربانیاں دی ہیں کبھی خیال تو کرو. آؤ آگے بڑھو اور کردار ادا کرو ایک ایک دوست کو, کلاس فیلو, رشتہ دار کو, ہمسائے کو, امام مسجد کو, سکول ٹیچر کو, عالم دین کو, تاجر کو, ریڑھی والے کو, محنت کش کو, کسان کو, مزدور کو, دکاندار کو, ہر پاکستانی بھائی جان کو آج صورتحال سے آگاہ کرو اور ذہن سازی کرو ورنہ کہیں کل ہم بھی عراق, شام, فلسطین, افغانستان نا بن جائیں.
اللہ تیری پناہ مانگتے ہیں ہم.
اللہ ہمیں توفیق عطا فرما ہم تیرے دئیے ہوئے ملک کی حفاظت کریں اللہ ہماری افواج پاکستان کے سپاہیوں اور مجاہدوں کو ہمت و حوصلہ عطا فرما تاکہ دشمنان پاکستان کو نیست و نابود کریں.
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد -

میں کھلاڑی تو اناڑی …. فرحان شبیر
آج کل کھلاڑیوں کا مقابلہ اناڑیوں کے ساتھ پڑا ہوا ۔ شور اتنا ہے کہ رگ رگ میں محشر برپا ۔ ارے روکو، پکڑو یہ دیکھو اناڑی اور اسکی اناڑیوں کی ٹیم کیا کر رہی ہے ، ہائے کاروبار کو جان کر رہے ہیں ۔ یہ ملک ڈبو رہے تباہ کررہے ہیں ۔ پیاز کی پرتوں کی طرح کھل رہے ہیں برف کی باٹ کی طرح پگھل رہے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ
جب تک کھلاڑی حکومت میں تھے سارے دانشوڑ ٹریڈ ڈیفیسٹ کے خطرناک حد تک بڑھنے ، امپورٹ میں پانچ سالوں تک ایک ڈالر تک اضافہ نہ ہونے ، ڈیٹ ٹو جی ڈی ریشو ریڈ لیول کراس کر جانے تک کی خبروں کو ایک آنکھ پر ہاتھ رکھ کر پڑھتے رہے دوسری آنکھ کے سامنے ہمیشہ اشتہارات نظر آتے تھے لہذا معیشت پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہوتا تھا ۔ ہائے یہ اگر اس وقت اپنے کیلکولیٹر نکال لیتے تو شاید اسوقت اتنی بھک منگی صورتحال نہ ہوتی ۔ یہ سیانے گرگئے تھے سجدے میں جب وقت قیام آیا ۔کھلاڑی اتنے فنکار تھے کہ آنے والی حکومت کے ہاتھ پاوں باندھنے کے لئیے جاتے جاتے کمال ڈھٹائی کے ساتھ آنے والے سال بجٹ تک خود بناکر گئے ۔ جس میں ریونیو کی قربانی کر کے مختلف طبقات کو ٹیکسز کی چھوٹ دے کر نوازا گیا ۔ تاکہ آنے والی حکومت ریونیو کلیکشن کا ہدف پورا کر ہی نہ پائے ۔ سب کو خوش کرنا تھا لہذا سیلیریڈ پرسن کے ٹیکس کی شرح سے لیکر slabs تک ریلیکس کر کے چلے گئے ۔ بظاہر عوام کو اچھا لگا کہ حکومت نے ریلیف دیا لیکن یہ ریلیف حب علی سے زیادہ بغض معاویہ کا شاخسانہ تھا ۔
پھر اس ٹیم کے سب سے بڑے کھلاڑی اسحاق ڈار کا کارنامہ غلط اعداد و شمار پیش کرنا تھا ۔ ملکی قرضوں کی تفصیل 2016 میں آن ریکارڈ اسمبلی میں غلط جمع کرائی ، فارن ریزرو کے حوالے سے جھوٹ ، بانڈز کے اجرا اور انکی شرح منافع پر جھوٹ ، پاور کمپنیز کی ادایگیوں کے بارے میں جھوٹ ، حتی کہ ملکی اثاثے کی گروی رکھے جانے کی ڈیٹیل بھی غلط اور جھوٹ کہ آج پتہ چل کر حکومت کے ہوش آڑ رہے ہیں ساورن گارنٹیز کی مد میں ہی ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کا قرضہ چڑھا دیا کھلاڑیوں نے ۔ حالانکہ ان کھلاڑیوں نے سب سے پہلا چونا ہی قرض اتارو ملک سنوارو نعرے سے لگایا تھا ۔
پھر جاتے جاتے اک ہور وڈے کھلاڑی ، پندرہ بیس سالوں میں تیزی سے ترقی کرتی ائیر لائن ائیر بلو کمپنی کے مالک، شاہد خاقان عباسی صاحب، خزانے پر ایسی جھاڑو پھیر کر گئے کہ آنے والوں کے پاس ایک پیسہ نہ رہے ۔ چودہ سو سے سولہ سو ارب روپے تک کی ادئیگیاں کرکے گئے ۔ جن ایکسپورٹرز کو پانچ سال ریبیٹ کے لئیے رلایا انہیں بھی کچھ ادئیگیاں اسی دور میں ہوئیں ۔ پھر ادئیگیاں ہی نہیں عباسی صاحب نے تو ایک ارب روپیہ الیکشن سے پہلے وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈ سے نکال کر اپنے بیٹے کے کے حوالے کر دئے، قوم کے ان پیسوں سے جو صوابدیدی فنڈ میں ضرورت مندوں کی مدد کے لئیے ڈالے جاتے ہیں عباسی صاحب کے حلقے کے لوگوں کو عمرہ پیکج دیا گیا ۔ کیا یہ اندھے تھے جو خزانے کی خانہ خراب حالت نظر نہیں آرہی تھی یا واقعی آنے والی حکومت کو ہر حالت میں کانا کرنا تھا ۔ادھر پنجاب گورنمنٹ کے کھلاڑیوں نے اپنی تصویروں اور شہزادے شہزادیوں کی پروجیکشن پر میڈیا بھر میں 430 ارب روپے کے ادھار اشتہار چلا دئیے کہ دیتے رہینگے آنے والے ۔ ورنہ تو میڈیا جانے اور نئی حکومت ۔ میڈیا خود ہی قدموں پر جھکا کر اپنے پیسے نکال لے گا ۔ ۔ واہ یہی تو کھلاڑی پن ہوتا ہے ۔ اپنی ہینگ لگے نہ پھٹکری عوام کے پیسوں سے پبلسٹی کا ڈھول بجاو اور سیاست میں رنگ بھی چوکھا لاو ۔ اب یہی 430 ارب روپیہ اس نئی پنجاب گورنمنٹ کے گلے پڑ گیا ۔ انہی پیسوں کا نہ دینا ہی تو ہے جو میڈیا پر ہر صافی و ناصافی اناڑی اناڑی کی گردان لگائے ہوئے ہے ۔ کسی کو چائے کے نہ پوچھے جانے کا غم ہے تو کسی کو اپنی بے قدری کا ۔ یہ کھلاڑیوں کی عنایت خسروانہ کا فیضان ہے جو آج بڑے بڑے دانشوڑ عمران خان کو ناکام ٹہرانے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔
مسلہ یہ ہے یا تو یہ بے چارے معیشت جانتے نہیں اور اگر جانتے تو کھلاڑیوں سے دو چار Basic سے سوال کبھی نہ کبھار تو ضرور پوچھتے ۔ کیونکہ سوال تو یہ بنتا ہے کہ دو ارب ڈالر کے ٹریڈ ڈیفیسیٹ کو بیس ارب ڈالرز تک پہنچانے پر اسحاق ڈار کو اچھا تو کیا صرف معیشت دان بھی کیسے گردانا جاسکتا ہے اتنا تو ایک منشی بھی سمجھتا ہے آمدنی اٹھنی اور خرچہ ایک روپئیا اور جو گدھے اس ٹریڈ ڈیفیسٹ میں نو ماہ میں ہی 30 فید کمی لے آئے وہ آپکی نظر میں کیسے اور بھلا کس طرح اناڑی ہیں ۔
اناڑیوں نے PIA کا loss روک دیا واہ بھئی واہ بڑے زبردست اناڑی ہیں ۔ کھلاڑیوں کو تو شرم آنی چاہئیے کہ پی آئی اے کے نام پر دس سالوں سے ری ویمپنگ ری ویمپنگ کا شور مچانے کے باوجود بھی خسارہ 400 ارب پر پہنچا دیا ۔ جو کہ جمہوریت کے بہترین انتقام کے سب سے بڑے کھلاڑی زرداری کے دور میں شاید 200 ارب تھا ۔ دماغ گھوم کر رہ جاتا ہے کہ آج کے اس دور میں بھی پی آئی اے پر حاضری یا attendance ہاتھ سے رجسٹر میں لکھی جاتی تھی ان بچوں نے اٹیینڈنس کا سسٹم Thumb والا کیا جو آج کے چورن چٹنی بیچنے والوں نے بھی کرالیا ہے ۔ کیا عباسی صاحب کی اپنی ائر لائن ائیر بلو میں بھی اٹینڈینس کا یہی نظام ہوگا اسکا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔
اور کیا گنوائیں کھلاڑیوں کی فنخاریاں ؟ چلو یہ ہر وقت کھلاڑی اناڑی کا شوڑ مچانے والے دانشوڑ ہی کسی ایک ادارے کا ، بس صرف کسی ایک ادارے کا نام بتا دیں جسے ان مہان کھلاڑیوں نے خسارے سے نکال کر منافع میں لایا ہو ۔ کوئی ایک ادارہ ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ دنیا کے ملکوں کے ادارے نہیں کما رہے تھے ۔ Emirates ائیر لائن ہماری PIA کو منہ چڑاتی چڑاتی دنیا کے آسمانوں پر چھا گئی ۔ اور اسکی انگلی پکڑ کر اڑانے والی پی آئی اے اپنے بال و پر نچتے دیکھتی رہی ۔
اسٹیل مل تباہ حال ، جالے پڑھ گئے ۔ وہ اسٹیل مل جو ہماری آج کی امپورٹ بل کی کئی ادائگئیوں سے نجات دلا جو آج ہم اسٹیل کی امپورٹ کی صورت میں لاد رہے ہیں ، ایک بوچھ بن گئی ہے ۔ اسکے ایمپلائز کی تنخواہیں بھی یہ اناڑی کلئیر کر رہے ہیں کہ وہ چلے تو آنے والے دنوں میں چار پیسے بھی کمائے ۔ کوئی سوچ سکتا یے کہ جس ملک میں CPEC سے لیکر دیگر بڑے بڑے پراجیکٹس میں اسٹیل کی بے تحاشہ کھپت ہو، چائنا سے لیکر ملک کی دیگر اسٹیل ملز سے حکومت کو اسٹیل کی Buying کرنا پڑھ رہی ہو اسکی اپنی خود کی سمندری جیٹی رکھنے والی اسٹیل مل سسک سسک کر گھٹ گھٹ کر دم توڑ رہی ہو مسلسل خسارے میں چلانی پڑھ رہی ہو لیکن ریاض لال جی سے لیکر شریفوں کی اپنی اسٹیل فیکٹریاں فولاد پہ فولاد ڈھالے جارہی ہوں ۔ ہذا من فضل ربی ۔ اپنی فیکٹری میں ایک مزدور اضافی نہ رکھو ۔ PIA، اسٹیل مل ، OGDCL , PPL ,M اور ان جیسے سارے کماو پوت اداروں کو بھر دو سیاسی کارکنوں سے ، مس مینیجمنٹ کے ذریعے ڈس انٹیگریٹ کرا دو تباہ کرا دو ۔ اور بعد میں اسکریپ بھی نہ چھوڑو ۔
اسی پاکستان میں ہم دیکھ رہے تھے کہ کورئیر سروسز کے میدان روز روز نئی کمپنیاں نمودار ہورہی تھیں ۔ چیتا ، لیپرڈ، ٹی سی ایس ، DHL ، پھر ڈائیئوو والوں کی بھی کارگو ہینڈلنگ ، پھر ٹرک ٹرالر سے کارگو ہینڈلنگ الگ بزنس ۔ 2۔2 بلین ڈالرز کی کارگو ہینڈلنگ مارکیٹ سے ساری یہ پرائویٹ کمپنیاں اپنا اپنا حصہ وصول کر رہی تھیں وہیں ہمارا اپنا Pakistan post ” ڈاکیا ڈاک لایا ڈاکیا ڈاک لایا والے” سسٹم میں پھنسا ہوا تھا ۔ کسی کھلاڑی کو کبھی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ پاکستان پوسٹ کے گاوں گاوں دوردراز کے علاقوں تک بنے بنائے اس سسٹم کو ذرا سا اپ گریڈ کر کے، ڈیجیٹلائز کرکے اور موبائل ایپس پر لاکر کچھ کما کر ملک کے خزانے میں تھوڑا کچھ پیسہ ڈال بھی دیں ۔ اب یہی ” اناڑی” اسی پاکستان پوسٹ کو ڈیجیٹل مارکیٹ میں لے آئے ۔ منی ٹرانفسر کی سہولیات سے موبائل بینکنگ انڈسٹری میں سے بھی اپنا شئیر لیا اور ساتھ میں سامان کی زیادہ ترسیل سے کام بھی زیادہ ہوا ۔6 ارب کا منافع ہوگیا پاکستان پوسٹ کو ۔ یہ آگے اور زیادہ ہونا ہے کیونکہ Cpec کی صورت میں اس پورے خطے میں ٹرانسپوٹیشن سیکٹر میں بیس فیصد کا اضافہ ہوگا ۔ تبھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ روٹھی ہوئی ائیر لائینز پھر سے پاکستان واپسی کے روٹس کھول رہی ہیں ۔
مجھے یہ بھی حیرانی ہوتی ہے کہ مُحَمَّد بن سلمان بھی بے وقوف تھا کہ اس نے کہا کہ وہ عمران خان وزیراعظم بننے کا انتظار کرہے تھے ۔ زمانے کے سرد و گرم دیکھے ہوئے ملائیشیا کے قابل احترام وزیراعظم مہاتیر مُحَمَّد بھی غالبا عقل سے پیدل ہوگئے ہیں بقول نارووال کے ارسطو ” اناڑی کے ہاتھ استرا دیکھ کر بھی سنبھل نہیں رہے جو بھاگ بھاگ کر دامے درمے سخنے پاکستان میں انویسٹمینٹ کے پلان لیکر آرہے ہیں ابھی کل ہی کویت نے 22 ارب ڈالرز کی انویسٹمینٹ کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ 2 لاکھ 20 ہزار فی یونٹ کے لحاظ سے آسانی سے بنائے والے گھروں کی اسکیم تک لانچ کرنے کا ارادہ ظاہر کرہے ہیں ۔
پھر سب بڑھ کر کیا یہ چین کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ” او تیری تو۔۔۔ لٹ گئے۔۔ برباد ہوگئے۔۔۔ یہ پاکستان میں کون اناڑی آگئے۔۔۔ یہ کس کے ہاتھوں میں استرا آگیا ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔ یہاں تو چین کا عالم یہ ہے انہی اناڑیوں کے وزیراعظم کو دورے پر بلا کر پاکستان کو آسیان ممالک ( ملائشیا ، ویٹ نام وغیرہ ) کی طرح کا ڈیوٹی فری معاہدہ کرلیتا ہے کہ ” چل جانی 313 پراڈکٹس ڈیوٹی فری لے آو ” ۔ اس میں پاکستان اگر صرف گارمنٹس میں ہی فوکس کر لے تو وہ ہی اپنے کو کافی ہے بھائی ۔ ایک تو پاکستان کی بہترین کپاس ، ہمارا پہلے سے ٹیکسٹائل میں برسوں کا تجربہ اور ابھی بھی انسٹالڈ اینڈ ان پلیس انڈسٹری اور تیسری اور سب سے بڑی بات چین کی کپڑے کی پوری مارکیٹ ۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ چین سالانہ 625 ارب ڈالرز کے کپڑے ، گارمنٹس اور اس سے متعلقہ آرٹیکلز import کرتا ہے یعنی دنیا سے خریدتا ہے تو اب ہمارے پاکستانی گارمنٹس ایکسپورٹرز کے لئیے سوا ارب لوگوں کی ایک بہت بڑی مارکیٹ کھل گئی ہے ۔ جوکہ بہت بڑی اپرچونٹی ہے پاکستان کے لئیے اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے ہونے کے لئیے ۔ کیونکہ ٹیکسٹائل فارن ایکسچینج کے ساتھ لیبر فورس کو کھپانے میں بھی نمبر ون سیکٹر رہا ہے پاکستان کا ۔میں حیران ہوں کہ یہ اچھے اناڑی ہیں جو ٹیکس کی دنیا کا معتبر ترین نام شبر زیدی کو لے آتے ہیں ایف بی آر کو سنبھالنے کے لئیے ۔ جس نے آتے آہی پاکستان کی معیشت کی خرابی کی روٹ کاز کو ختم کرنے کے لئیے کام شروع کردیا ۔ یعنی معیشت کی ڈاکومینٹیشن ۔ بلیک اکانومی جب سامنے ائیگی تب ہی پاکستان کی معیشت بھی سدھرے گی ۔ ہاں جہاں تک بات آئی ایم ایف کے معاہدے کی ہے تو اس منزل تک نوبت نہ پہنچنے کی ہم نے بھی بہت دعا کی تھی لیکن” بیگرز آر نوٹ چوزرز” والی بات کہ اگر پچھلوں نے اس حال میں چھوڑا ہوتا تو کچھ اکڑ بھی دکھاتے ۔ وہ تو ابتدائی بھاگ دوڑ رنگ لائی دوست ممالک بروقت آگے بڑھے اور یوں پچھلے ایک سال میں پندرہ سولہ ارب روپیہ اسی پاکستان بچاو مد میں آگیا ۔ یہ تھوڑی بہت اکڑ اور بھاگ دوڑ ہی کام آگئی کہ آئی ایم ایف کا شکنجہ اتنا سخت نہیں جتنا پہلے لگنے کا امکان اور رویوں کا پلان تھا ۔ تھوڑا اطمینان یہ تسلی دیکر بھی ہوا کہ امریکہ ہی کے نہیں روس اور چین کے بھی آئی ایم ایف میں شئیرز ہیں ۔ لہذا وہ بھی اب آئی ایم ایف کو اپنا گندہ کھیل کھل کر نہیں کھیلنے دینگے ۔
اپنا کہنا تو یہ ہے اناڑی ٹن کے لگے رہیں دو چار اناڑیوں نے بھی کام دکھا دیا تو قوم کی ان کھلاڑیوں سے جان چھوٹ جائیگی جو ملک کے لئیے نہیں اپنی سینچریاں بنانے کے لئیے کھیلتے رہے اور قوم کی جان بھی ایسے کمنٹریٹروں سے چھوٹ جائے جنہوں نے مداریوں کو کھلاڑی بتا بتا کر قوم کو چونا لگائے رکھا ۔