سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملے ناکام بناتے ہوئے 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ 2 روز میں مجموعی طور پر 133 دہشتگرد مارے گئے، اس دوران سیکیورٹی فورسز کے 15 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے گردونواح میں متعدد دہشتگرد کارروائیاں کرکے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی غیر ملکی آقاؤں کی ہدایت پر کی جانے والی ان بزدلانہ دہشتگرد کارروائیوں کا مقصد مقامی آبادی کی زندگی کو مفلوج کرنا اور بلوچستان کی ترقی کو نقصان پہنچانا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان حملوں کے دوران ضلع گوادر اور خاران میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں دہشتگردوں نے بدنیتی سے 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کرگئے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ تھے اور انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔
چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ،محسن نقوی
آئی ایس پی آر کے مطابق بہادر افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان بھر میں طویل، شدید اور جرات مندانہ کلیئرنس آپریشن کے دوران 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کردیاکلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر سپوتوں نے جرات و بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور ان انسانیت سوز و بزدلانہ کارروائیوں میں ملوث منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، معاونین اور حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر تصدیق کی ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر سرگرم دہشتگرد عناصر نے منصوبہ بندی کے تحت کروائے، جو پورے واقعے کے دوران دہشتگردوں سے براہِ راست رابطے میں تھے۔
پیپلز پارٹی نے سیاست کے بجائے ریاست کے مفاد کو ترجیح دی، راجا پرویز اشرف
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں سیکیورٹی فورسز ’عزم استحکام‘ کے تحت غیرملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 41 دہشت گرد مارے گئے تھے گزشتہ 2 دنوں کے دوران کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں بلوچستان میں جاری آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو چکی ہے۔
ٹیلی گراف نے مودی دور کی بدترین سفارتی ناکامیوں کا پردہ چاک کر دیا