Baaghi TV

Tag: پاک فضائیہ

  • ستمبر 1965کی جنگ کے دوران فضائی معرکے پر مختصر دستاویزی فلم جاری

    ستمبر 1965کی جنگ کے دوران فضائی معرکے پر مختصر دستاویزی فلم جاری

    راولپنڈی: پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے ستمبر 1965کی جنگ کے دوران فضائی معرکے پر مختصر دستاویزی فلم جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی:پاک فضائیہ کی جانب سے یہ ویڈیوز سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری کی گئیں ایک ویڈیو کا دورانیہ 4 منٹ 17 سیکنڈز ہے جبکہ دوسری ویڈیو کا دورانیہ 7منٹ 45 سیکنڈ کی ہے ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق دستاویزی فلم قوم کےبہادر سپوتوں کی جرات و شجاعت کو اجاگر کرنے لیے جاری کی گئی ہے دستاویزی فلم 2 اور 3 ستمبر 1965 کےدن لڑے جانے والے فضائی معرکےکے احوال پر مبنی ہے۔

    بجلی کے بلوں میں اضافے پرسراج الحق نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    1965 میں پاکستان پر خاموشی کے ساتھ اچانک حملے کا پس منظر بھی یہی تھا ،کہ پاکستان کیوں برصغیر کی تقسیم کے تصفیہ طلب مسئلہ ،کشمیر کی بات کر رہا ہے، قیام پاکستان کے بعد کشمیر میں تحریک آزادی بہت زور پکڑ رہی تھی، اور حالات بھارت کے کنٹرول سے باہر ہو رہے تھے اس سے گھبرا کر عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحد پر پاکستان کے خلاف جارحیت کی، بھارتی فوج کے کمانڈر انچیف نے بڑھک ماری کہ ’’کل دوپہر کا کھانا آپ کو شالامار باغ میں کھلاؤں گا ‘‘ لیکن ہماری بہادری جری اور شہادت کے جذبہ سے سرشار افواج نے ان کی یہ امید خاک میں ملا دی اور وہ بی آر بی نہر بھی عبور نہ کر سکا۔

    برطانوی حکام کی برمنگھم کی گرین لائن مسجد کے خلاف کارروائی

    اس جنگ میں پاکستان کی بری، فضائی اور بحری فوج نے بہادری کے وہ لازوال کارنامے دکھائے کہ دنیا حیران اور دنگ رہ گئی۔ پاک فضائیہ کے ایم ایم عالم نے دنیا کی حربی تاریخ میں اپنا نام رقم کرایا، چند منٹوں میں نو جہاز گرا دیئے، پاکستان کے شاہینوں سیسل چودھری ،سرفراز صدیقی، اور یونس اور دیگر نے بھارتی فوجی اڈوں، ہلواڑہ ،جام نگر، جمشید نگر، انبالہ کو روئی کے گالوں کی طرح اڑا کر رکھ دیا ،لاہور برکی کے محاذ پر میجر عزیز بھٹی شہید نے اپنے سینے پر دشمن کے وار سہے اور اسے آگے نہیں بڑھنے دیا، مسلح افواج کے ساتھ ساتھ پوری قوم اور ہمارے فن کاروں نے بھی اپنے وطن سے محبت کا ثبوت دیا-

    امریکا کا یوکرین کوڈیپلیٹڈ یورینیم گولہ بارود فراہم کرنے کا فیصلہ

  • مسلح ڈاکو کی فائرنگ نائیجیریا کی فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر تباہ

    مسلح ڈاکو کی فائرنگ نائیجیریا کی فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر تباہ

    مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نائیجیریا کی فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر شمالی وسطی نائجیریا کی ریاست نائیجر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

    باغی ٹی وی: فضائیہ کےترجمان ایئر کموڈور ایڈورڈ گبکویٹ نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر ریاست کے شیرو مقامی حکومت کے علاقے میں چوکوبا گاؤں کے قریب گر کر تباہ ہوا تفتیش جاری ہے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ جہاز میں کتنے لوگ سوار تھے۔

    دو فوجی ذرائع نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے اس ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی جسے اتوار کے روز حملے کے متاثرین کو نکالنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس حملےکم از کم 10 فوجی ہلاک ہو گئے تھے، شمالی نائیجیریا میں اسلامک اسٹیٹ آف ویسٹ افریقہ کے ساتھ ساتھ سرگرم ہے، جو کہ اسلامک اسٹیٹ کا علاقائی الحاق ہے۔

    اقتصادی کامیابی کیلئے پاکستان کی بھرپورحمایت جاری رکھیں گے،یوم آزادی پر امریکا کا پیغام

    نائیجر ریاست دارالحکومت نیامی کے جنوب مشرق میں سینکڑوں کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں گزشتہ ماہ ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا گیا تھا مسلح گروہ نائیجیریا کے شمال مغرب میں پھیلے ہوئے ہیں جہاں وہ لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ حالیہ برسوں میں ہونے والے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بھارت:شملہ میں لینڈ سلائیڈنگ سے مندر تباہ ، کالج کی عمارت سیالبی ریلے میں بہہ …

  • میرون لیزلی مڈلکوٹ پاک فضائیہ کا جنگجو پائلٹ ،جو وطن پہ قربان ہوا اور سمندر نے آج تک اس کی لاش واپس نہ کی

    میرون لیزلی مڈلکوٹ پاک فضائیہ کا جنگجو پائلٹ ،جو وطن پہ قربان ہوا اور سمندر نے آج تک اس کی لاش واپس نہ کی

    میرون لیزلی مڈلکوٹ پاک فضائیہ کے جنگجو پائلٹ

    وہ جو وطن پہ قربان ہوا اور سمندر نے آج تک اس کی لاش واپس نہ کی اس وطن پہ قربان ہونے والے ہر فرد کو سلام ہے۔

    یہ 1967 کا ذکر ہے ۔ عرب اسراٸیل جنگ شروع ہوچکی تھی ۔ یہ جنگ صرف عرب تک محدود نہ تھی بلکہ اسلام اور یہود کی وہ جنگ تھی جس کا حقیقی آغاز میثاقِ مدینہ اور خیبر کی فتح کے بعد ہوچکا تھا ۔ جیسا کہ تاریخ اور دینیات کا ہر طالبِ علم جانتا ہے کہ قومِ یہود اپنے شر اورشرارتوں کی وجہ سے اللہ کی نافرمان قوم ہے جس نے انبیاٸے کرام علیہم السلام کو بھی شہید کیا ۔ اسی قوم کی گردن پہ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کا خون بھی ہے تو روح اللہ سیدنا عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کو بھی شہید کرنے کی کوشش کی اور پھر سیدہ مریم علیہا السلام کے کردار پر بھی نعوذ باللہ کیچڑ اچھالنے کی جسارت اسی قوم کے افعال میں شامل ہے اسی لیے مسلمان ہوں یا مسیحی دونوں ہی کے نزدیک یہ شّری قوم ہے بلکہ کیتھولک مسیحی آج تک اس نافرمان قوم پہ تبرا بھیج کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔ اسی لیے عرب اسراٸیل جنگ شروع ہوٸی تو عرب کے نسطوری اور کیتھولک مسیحیوں کے جذبات بھی مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ صیہونی طاقت امنِ عالم کی سب سے بڑی دشمن ہے ۔ اس جنگ نے نظریاتی رخ اختیار کیا تو اسراٸیل نے جرمن اور امریکی یہودی فوجی افسران بھی جنگ میں جھونک دیئے ۔

    عرب ممالک اس وقت جدید جنگی حالات سے واقف نہ تھے چنانچہ اُن کی نگاہیں اپنے بڑے بھاٸی پاکستان پر گٸیں جو دو سال قبل بھارت جیسی مضبوط قوت کو شکست دے چکا تھا ۔ پاکستان جس کے متعلق اسراٸیل نے اپنے ناجاٸز وجود کے دن ہی کہہ دیا تھا کہ ہمارا دشمن پاکستان ہے تو پاکستان اب عرب ممالک کا ساتھ دینے کے لیے حق بجانب تھا پھر یہی وہ دور تھا جب اسراٸیل بھارت کی خفیہ ایجنسی ” را ” کو مضبوط کر رہا تھا اسی لیے اس جنگ میں پاکستان نے اپنے فضاٸی مجاہد عربوں کے دفاع کے لیے بھیجنے کا تہیہ کرلیا ۔ مگر اس جنگ میں جانا پاک فضاٸیہ کے افسران کے لیے ایک آپشن تھا اسی لیے وہی افسران جاسکتے تھے جو خود جانا چاہیں ۔ ابھی فضاٸیہ میں یہ اعلان ہی ہوا تھا کہ مسرور بیس کراچی پر تعینات ایک مسیحی اسکواڈرن لیڈر جو جنگِ ستمبر میں شاندار کارنامے دکھا کر ستارہ جرأت حاصل کرچکا تھا اس نے خود کو پیش کردیا ۔ بیس کمانڈر نے درخواست موصول ہونے کے ساتھ اسے اپنے دفتر بلوایا اور کہا مسٹر میروِن ! یہ جنگ سراسر مسلمانوں اور یہودیوں کی ہے آپ اس میں کیوں شریک ہونا چاہتے ہیں ؟ مسیحی افسر نے جواباً کہا ” سر ! مجھے پاکستان عزیز ہے اور اسراٸیل یقینی طور پر پاکستان کا دشمن ہے تو میری خواہش ہے کہ پاکستان کے دشمن کو سبق سکھاٶں تاکہ وہ جان لے کہ پاکستان کیا چیز ہے –

    ایرون کا یہ حوصلہ دیکھ کر بیس کمانڈر نے پھر سمجھایا تو اب کی بار میرون نے کہا ” سر ! یہودی قوم موت کے خوف سے جنگ سے ہمیشہ بھاگتی ہے ۔ اب کی بار ہاتھ آٸی ہے تو دشمنِ خدا اور دشمنِ یسوع کو سبق سکھانے کا اس سے اچھا موقع پھر نہیں آٸے گا ۔ اسی لیے میں جانا چاہتا ہوں یہ سن کر بیس کمانڈر نے اسے نامزد کردیا اور وہ مسیحی پاٸلٹ اپنے رہبر ونگ کمانڈر سیف الاعظم اور دیگر پاکستانی پاٸلٹس کے ساتھ شام روانہ ہوگیا ۔

    ملکِ شام پہنچے تو جنگ شدت اختیار کرچکی تھی ۔ عرب کی مشترکہ فضاٸیہ کے پاس ابھی فضاٸی جنگ کا عملی تجربہ نہیں تھا اسی لیے پاکستانیوں کو دیکھ کر ان کے حوصلے بلند ہوگٸے ۔ اب پاکستانیوں نے عربوں کو حوصلہ دیتے ہوٸے وہی حکمتِ عملی اپناٸی جو جنگِ ستمبر میں خود اپناٸی تھی یعنی دفاعی پوزیشن کی بجاٸے جارحانہ حکمتِ عملی اور دشمن کو اس کے گھر ہی میں گھس کر مارنا !

    عرب افیسران پہلے منع کرتے رہے لیکن اسکوڈرن لیڈر سیف الاعظم نے انہیں سمجھایا تو انہوں نے مگ طیارے ان پاکستانی پاٸلٹوں کے حوالے کردیئے ۔ پہلے دن ہی میرون اور سیف الاعظم نے سرحدوں پہ فضاٸی گشت کرکے اسراٸیلی فضاٸیہ کا جاٸزہ لیا جو اس وقت بے حد مضبوط تھی ۔ لیکن ان دونوں پاٸلٹس کو یقین تھا کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے اسی لیے وہ اسراٸیل کو بھی دھول چٹادیں گے ۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ صبح ہوتے ہی تل ابیب کے قریب اسراٸیل کے ہواٸی پر حملہ کیا جاٸے گا اسی لیے پاک فضاٸیہ کے شاہینوں نے اگلے دن کا انتظار کیا اور سورج نکلتے ہی مشن پر روانہ ہوگٸے ۔ میرون اور سیف کے پاس روسی مگ طیارے تھے جو شامی فضاٸیہ سے لیے گٸے تھے دونوں نے اڑان بھرتے ہوٸے جولان کے پہاڑوں کا رخ کیا جہاں سے ہدف قریب تھا۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ انبیإ کے شہر بیت المقدس کے اوپر سے گذر رہے تھے جہاں مسجدِ اقصیٰ کے آنسو یقیناً انہوں نے محسوس کیے ہوں گے ۔ پھر وہ وقت بھی آگیا جب یہود کے جنگی جنون کا اہم ہواٸی مستقر ان کے نیچے تھا ۔

    اسراٸیل کو یقین ہی نہ تھا کہ عربوں میں اتنی جرأت کہ وہ یہاں آسکیں اسی لیے راستے میں کوٸی مزاحمت بھی نہ ہوٸی اور ایٸر بیس پر بھی سناٹا تھا ۔ ان پاٸلٹس کا مشن رن وے تباہ کرنا تھا تاکہ بیس شام ،اردن اور لبنان پر حملوں کے لیے ناکارہ ہوجاٸے اسی لیے وقت ضاٸع کیے بغیر دونوں نے بمباری شروع کردی ۔ دھماکے ہوتے ہی اسراٸیلی فضاٸیہ حرکت میں آٸی اور ان پر جھپٹ پڑی لیکن یہ شاہین اپنا کام کرچکے تھے ۔ اسراٸیل نے متبادل راستے سے اپنے طیارے بھیجے تو تل ابیب کی سرحد پر ایروِن نے اسراٸیلی طیارہ مار گرایا !! راستے میں ایک اور مدبھیڑ ہوٸی جس میں ایک جرمن نژاد یہودی بھی طیارے سمیت جھلس گیا ۔ اس کے بعد اسراٸیل سے جولان کی وادی میں مقابلہ ہوا تو اسراٸیلیوں کے لیے وہ معرکہ یومِ موت بن چکا تھا جس میں ایرون اور سیف الاعظم نے ناصرف اسراٸیلی طیاروں کو خاک میں ملایا بلکہ اسراٸیلی برّی فوج کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ عربوں سے مقابلہ کررہی تھی !! یہ شاندار اور تاریخی معرکہ انجام دینے کے بعد دونوں شاہین واپس آگٸے تو فضاٸیں نعرہ تکبیر سے بلند تھیں ۔ گوکہ اسراٸیل نے چھ روزہ برّی جنگ میں جدید ساز و سامان کے باعث برتری حاصل کرلی تھی لیکن فضاٸی محاذ پر اسراٸیل کو شدید نقصان اٹھانا پڑا اسی لیے اسراٸیل نے جنگ بندی پہ دستخط کردیئے کیونکہ اسے یقین تھا کہ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو کوٸی بعید نہیں کہ عرب مجاہدوں کے ہاتھوں سارے یہودی ہی مارجاٸیں جبکہ ابھی اسراٸیل نے عربوں کے صحراٸے سینا سمیت کچھ علاقے ہتھیالیے تھے جس کے جواب میں عرب مجاہدوں کی جانب سے شدید مزاحمت جاری تھی ۔ مصری فوج کی پسپاٸی کے بعد اب اخوان المسلمون سمیت عالمِ اسلام کے رضاکار بھی تیار بیٹھے تھے ( یہود کتنا مقابلہ کرتے علاقوں پہ قبضے کے بعد اُنکی جانیں بھی بہرحال جارہی تھیں اور اہلِ یہود کو سب سے زیادہ خوف موت ہی کا ہوتا ہے !! ) ۔ا

    سراٸیلی وزیرِ دفاع موشے دیان نے کہا کہ ” تل ابیب تک آنا اور پھر جولان میں فضاٸیہ کا بہادری سے لڑنا سمجھ نہیں آتا ۔ یہ عربوں کی نہیں بلکہ پاکستانیوں کی اڑان لگتی ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ شامی ، مصری یا اردنی نہیں بلکہ پاکستانی تھے ” ۔ ” دجال نما” موشے دیان کی بات بھی درست تھی ( تقریباً یہی بیان 1973 میں گولڈا ماٸر نے بھی دیا تھا جو مزید دھمکی آمیز تھا ) کیونکہ یہ پاکستانی ہی تھے جو سیف الاعظم کی قیادت میں عرب مجاہدین کے ساتھ نیلے آسمان تلے سینہ سپر تھے ۔ اور وہ مسیحی پاٸلٹ میروِن بھی اس جنگ میں عربوں کا ہیرو بن کر ابھرا جسے تاریخ ” ونگ کمانڈر میروِن لیزلی مڈل کوٹ ” کے نام سے جانتی ہے ۔

    جی ہاں پاکستان کے یہ مسیحی فرزند جنہوں نے 1954 میں پاک فضاٸیہ میں شمولیت اختیار کی، ایک بے مثال پاٸلٹ تھے جنھوں نے جنگ ستمبر اور پھر جنگِ دسمبر 1971 میں دوبار ستارہٕ جرأت لیا اور وہ ایم ایم عالم کے بعد پاک فضاٸیہ کی تاریخ میں دوسرے فرد بنے جنھیں بارِ دگر یہ اعزاز ملا ہو !!

    ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل میرون لیزلی مڈلکوٹ 6 جولائی 1931 کو لدھیانہ کے ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام پرسی مڈلکوٹ اور والدہ کا نام ڈیزی مڈلکوٹ تھا۔ جب پاکستان بنا تو انکا گھرانہ بھی ہجرت کر کے لاہور میں بس گیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ اینتھونی ہائی اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں لارنس کالج گھوڑا گلی مری سے استفادہ حاصل کیا۔ انہوں نے 1954ء میں پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی۔

    1965 کی پاک بھارت جنگ میں یہ کراچی کے PAF بیس مسرور میں F86 جہازوں کا ایک سکواڈرن کمانڈ کر رہے تھے۔ اسی جنگ کی ایک رات بھارتی جہازوں نے کراچی پر بھرپور حملہ کیا۔ سکواڈرن لیڈر مڈلکوٹ نے ایک F86 طیارے میں take off کیا اور آناً فاناً میں دشمن کے دو طیارے مار گرائے۔ ان طیاروں کے دونوں بھارتی پائلٹ بھی مارے گئے۔ پوری جنگ کے دوران مڈلکوٹ نے ایسی بہادری کا مظاہرہ کیا کہ ان کے زیر کمان افسر اور جوان بھی ان کی دیکھا دیکھی شیروں کی طرح لڑے۔ جنگ کے اختتام پر ان کی بہادری کے صلے میں انہیں ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔

    1967 میں عرب اسراٸیل جنگ کے بعد اردنی فضاٸیہ نے انہیں اپنے اسکوڈرنز کی تربیت کے لیے رکھ لیا اور وہ اردنی اور لبنانی فضاٸیہ کی تربیت کرتے رہے ۔ اسی دوران دسمبر 1971 آگیا ۔ میرون کو چونکہ اپنے دیس پاکستان سے محبت تھی چنانچہ انہوں نے اردنی حکام سے اجازت لی ۔ جارڈن ایٸر چیف نے انھیں روکا تو ایرون نے صاف منع کردیا اور کہا ” آپ سب کی محبتوں کا شکریہ لیکن ابھی میرا وطن مجھے پکار رہا ہے ۔ وہاں حالات شدید خراب ہیں اسی لیے میری غیرت اجازت نہیں دیتی کہ میں یہاں امن و سکون سے رہوں ”

    وہ 11 دسمبر 1971 کو وطن واپس آٸے ۔ اور آتے ہی مسرور بیس کراچی میں دوبارہ اپنا ونگ جواٸن کرلیا ۔ بھارت نے کچھ دن قبل ہی کراچی پر حملہ کیا کرکے یہاں ریفاٸنری میں بمباری کی تھی اسی لیے اس کے حوصلے بلند تھے چنانچہ پاک فضاٸیہ نے فیصلہ کیا کہ 1965 کی طرح ایک بار پھر بھارت کے خلاف جارحانہ اقدام اٹھایاجاٸے اور اس کے شہر جام۔نگر کے ہوٸی اڈے کو تباہ کرکے بھارتی پرواز کی ناکہ بندی کی جاٸے ۔ 1965 میں بھی بھارت نے کراچی پر حملہ کیا تھا تو پاک فضاٸیہ نے اپنے اس شاہین میروِن مڈل کوٹ کو سیبر طیارے کے ساتھ بھیجا تھا اور انھوں نے بھارت کے دو طیارے کراچی کے ساحل میں گرا کر ” محافظِ کراچی” کا لقب حاصل کیا تھا اور اسی کارنامے پر انھیں ستارہ جرأت بھی دیا گیا تھا ۔

    12 دسمبر 1971 کو پاک فضاٸیہ نے جنگِ ستمبر والی حکمتِ عملی اپناتے ہوٸے جارحانہ اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا اور ونگ کمانڈر میرون مڈل کوٹ کو امرتسر کے مشن پر بھیجا گیا جہاں ان کا ٹارگٹ رن وے اور ریڈار تباہ کرنا تھا ۔ یہی وہ امرتسر کا ہواٸی اڈا تھا جہاں پر نصب ریڈار سسٹم سے بھارت پاکستانی فضاٸیہ کی نقل و حرکت دیکھتا تھا ۔ میرون نے مشن قبول کیا اور وہ اپنی فارمیشن کے ساتھ روانہ ہوگٸے ۔ امرتسر کے ہواٸی اڈے پر حفاظتی دستے موجود تھے لیکن میرون کی جھپٹ نے ان سب کو للکارتے ہوٸے جام نگر کے ” شیطان خانے ” کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا ۔ تقریباً چار منٹ میں آپریشن مکمل ہوگیا تو میرون کامیاب و کامران واپس پلٹے ۔ وہ ابھی بحیرہ عرب سے گذر ہی رہے تھے کہ ان کی بھارتی جہازوں سے مدھ بھیڑ ہوگٸی ۔ نیچے گہرا سمندر تھا اور اوپر آگ کا فضاٸی معرکہ ! میرون نے ہتھیار نہ ڈالے بلکہ بھارتی جہازوں کا تنہا مقابلہ کرنے لگے ۔ چار بھارتی طیاروں نے انھیں گھیر لیا تھا مگر ہر بار بار وہ فضاٸی ناکہ توڑ جاتے ۔ اسی دوران ان کے جہاز کو بھارتی پاٸلٹ بھوشن سونی نے نشانہ بنالیا ۔ اب میروِن کا جلتا ہوا طیارہ فضإ میں قلابازیاں کھانے لگا تو میرون نے Eject کرلیا ۔ اور سمندر میں اپنے پیراشوٹ سمیت آگٸے لیکن وہ سمندر ہی نہیں بلکہ شارک مچھلیوں کی مضبوط کمین گاہ تھی ۔ میرون کو آتے دیکھ کر ساری شارک مچھلیاں ان پر ٹوٹ پڑیں اور یوں ونگ کمانڈر اپنا کامیاب فرض نبھا کر واپسی پر شارک کا نوالا بن گٸے لیکن آسمان پر موجود بھارتی طیاروں نے بھی ان کی عظمت کی داد دی کہ انھوں نے پاک وطن کی خاطر خود کو سمندر کی اور شارک کی نذر کردیا لیکن بھارت کے ہاتھوں جنگی قیدی نہ بنے ۔۔ !! ( یہی ہماری ریت ہے کہ ہم دشمن کی قید میں Tea was Fantasitic نہیں کہتے ! )
    میرون کی خبر جیسے ہی پاکستان میں پہنچی تو اہلِ پاکستان کے ساتھ ساتھ اردن، لبنان اور شام میں بھی افسردگی چھا گٸی بلکہ اردن کی حکومت نے کہا تھا کہ اگر میرون کی باقیات مل جاٸیں تو وہ انھیں دے دی جاٸیں یا ان کے جسدِ خاکی کو اردنی پرچم میں لپیٹ کر سپردِ خاک کیا جاٸے ۔یوں پاکستان کا یہ مسیحی سپوت جس نے بھارت اور اسراٸیل کو ان ہی کے ” گھر میں گھس کر مارا” تھا تاریخ میں اپنا خون دے کر امر کرگیا ۔

    جنگ کے بعد ان کی اس بے مثال بہادری پر ان کو ایک دوسرے ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ مڈلکوٹ کی قربانی پر اردن کے شاہ حسین نے نہ صرف ان کے اہل خانہ کے ساتھ ذاتی طور پر تعزیت کی بلکہ یہ درخواست بھی کی کہ اگر ان کے جسم کو پاکستان کے قومی پرچم کے ساتھ دفنایا جائے تو اس کے ساتھ اردن کے پرچم کو ان کے سر کے نیچے رکھا جائے۔ اس اعزاز کی وجہ 1967ء کے دوران میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں ان کی خدمات تھیں-

    میرون لیزلی مڈلکوٹ نے 27 ستمبر 1957 کو جینی ویگاس سے شادی کی جن سے 21 اکتوبر 1959 کو ایک بیٹی پیدا ہوئی۔این لیزلی۔ یہ بچی جب 8 سال کی تھی تب ایک دن اسے اسکول کے ایک بچے نے کہا "تمہارا نام عجیب ہے آپ پاکستانی نہیں ہو آپ اس ملک کو چھوڑ دو”۔ یہ روداد سن کر بچی کے والد نے کہا کہ پاکستانی جھنڈے میں سبز حصہ مسلمانوں کی علامت ہے اور سفید حصہ لیزلی کے لیے ہے۔

  • پی اے ایف ایئروارکالج انسٹی ٹیوٹ میں 36 ویں ایئروار کورس کی گریجویشن تقریب

    پی اے ایف ایئروارکالج انسٹی ٹیوٹ میں 36 ویں ایئروار کورس کی گریجویشن تقریب

    پی اے ایف ایئر وار کالج انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ 36 ویں ایئر وار کورس کی گریجویشن تقریب

    پی اے ایف ایئر وار کالج انسٹی ٹیوٹ، کراچی میں آج 36 ویں ایئر وار کورس کی کانووکیشن اینڈ گریجویشن تقریب منعقد ہوئی۔ ائیر مارشل عبدالمعید خان ڈپٹی چیف آف دی ایئر سٹاف (ایئر ڈیفینس) اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔

    فارغ التحصیل ہونے والے افسران سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے انہیں کورس کی کامیاب تکمیل اور اپنے کیریئر میں اس اہم سنگِ میل کو عبور کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتا ہوا جغرافیائی سیاسی منظر نامہ، قومی سلامتی کی پیچیدہ صورتحال اور مسلسل تغیر پزیر عسکری ماحول، حصولِ علم کے تقاضوں میں تکنیکی ترقی سے باخبر رہنے اور قومی دفاعی آلات کے دانشمندانہ استعمال کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے عسکری عناصر کے باہمی تعاون کی اہمیت پر مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ روایتی اور غیر روایتی جنگی صورتحال میں کوئی بھی عسکری فوج تنہا کامیابی حاصل نہیں کر سکتی اور اس زمرے میں مشترکہ تزویراتی منصوبہ بندی کے کردار کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے قومی سلامتی کے ماحول میں ملکی استحکام اور خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی طاقت کے بہترین آلہ کار کی حیثیت سے ایئر پاور کے استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ایئر وائس مارشل حسین احمد صدیقی، صدر ایئر وار کالج انسٹی ٹیوٹ نے وار کورس اور اس کے دوران نمایاں کارکردگیوں کا جائزہ پیش کیا۔ بعد ازاں مہمان خصوصی نے فارغ التحصیل ہونے والے افسران میں اسناد تقسیم کیں۔

    ایئر وار کالج انسٹی ٹیوٹ پاک فضائیہ کا ایک بہترین ادارہ ہے، جہاں پاکستان کی مسلح افواج اور دوست ممالک کے سینئر اور درمیانے درجے کے افسران کو ایئر پاور کےنظریات، حکمت عملی اور اعلیٰ فوجی قیادت میں بہترین کردار ادا کرنے کے لیئے مختلف شعبے میں تربیت دی جاتی ہے۔ فارغ التحصیل ہونے والے افسران میں افواج پاکستان سمیت بحرین، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، عراق، اردن، ملائیشیا، نائیجیریا، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور زمبابوے کے فوجی افسران بھی شامل تھے۔ تقریب میں دوست ممالک سے اعلیٰ سفارت کاروں سمیت سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔

    ہمیشہ امن کے لئے کھڑے ہیں، پاکستان کے کپتان نے مودی سمیت دنیا کو دیا اہم پیغام

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

  • پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے پچیس برس مکمل،مسلح افواج کا سائنسدانوں اور انجینئیرز کو خراج تحسین

    پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے پچیس برس مکمل،مسلح افواج کا سائنسدانوں اور انجینئیرز کو خراج تحسین

    پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے پچیس برس مکمل ہوگئے-

    باغی ٹی وی: یوم تکبیر کی سِلور جوبلی پرمُسلح افواج کی جانب سے ملک کو جوہری طاقت بنانے والوں کوشاندار خراج عقیدت کیا جارہا ہے۔

    جہانگیر ترین نے پارٹی کا نام فائنل کر لیا


    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آج پوری قوم یوم تکبیر کی سلور جوبلی منارہی ہے کم سے کم قابل اعتماد ڈیٹرنس کے کامیابی سے شاندار حُصول کا دن منایا جارہا ہے اس کامیابی سے ہمارے خطے کی طاقت کی ڈائنامکس نے نئی شکل اختیار کی ہے-


    آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھرپور چیلجنز کے باوجود اس کامیابی میں کارفرما شاندار دماغوں کو مسلح افواج خراج عقیدت پیش کرتی ہیں ہم ناممکن کو حقیقت بنانے والے سائنسدانوں اور انجینئیرز کو سلام پیش کرتے ہیں،جنہوں نے ناممکن کو حقیقت میں بدل دیا، یہ وطن ہمیشہ قائم رہے گا، پاکستان زندہ باد-

    افغان طالبان اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپ، 3 افراد ہلاک

    دوسری جانب ترجمان پاک فضائیہ نے کہا کہ یوم تکبیر کے تاریخی دن، پاکستان کی جانب سے کیے گئے ایٹمی تجربات کی سلور جوبلی کے موقع پر پاک فضائیہ پوری پاکستانی قوم کے عزم کو سلام پیش کرتی ہے۔


    ترجمان کہا کہ 28 مئی 1998 کے دِن پاکستان نے بھارت کے اشتعال انگیز ایٹمی تجربات کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرکے اپنی ایٹمی صلاحیت کا ثبوت دیا پاک فضائیہ نے اس دوران اپنے سی-130 طیاروں کے ذریعے جوہری اور حساس آلات کو ٹیسٹ سائٹ تک پہنچایا۔

    پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ٹیسٹ سے قبل اور اس کے دوران فضائی سیکیورٹی فراہم کی اس دوران پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے ہائی الرٹ پر رہے جبکہ ہمارے شاہین پائلٹس دشمن کی کسی بھی قسم کی جارحیت سے نمٹنے اور پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہمہ تن تیار تھے۔

    سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنادیا


    ترجمان پاک فضائیہ نے کہا کہ اس تاریخی دن کی مناسبت سے پاک فضائیہ، پاکستان کی فضائی سرحدوں کی حفاظت کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ اسی لگن اور عزم کے ساتھ ملک کی فضائی سرحدوں کا دفاع جاری رکھے گا۔

    پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے پچیس برس مکمل ہونے پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دشمنوں کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ افواج اور عوام کو ٹکرا دے، قوم کا اتحاد ہی پاکستان کی اصل جوہری قوت ہےاس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نےکسی سپرپاورکی دھمکیوں کی پروا نہیں کی اور نہ ہی اربوں ڈالر کی پیش کش انہیں آہنی عزم و ارادے سے ہٹاسکی ہمیں پاکستان کو اب معاشی قوت بنانا ہے، معاشی کمزوری دور کرنا آج کا ایٹمی پروگرام ہے۔

    خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی گروپ بندی شروع

  • سربراہ پاک فضائیہ سے متحدہ عرب امارات کے سفیر کی ملاقات

    سربراہ پاک فضائیہ سے متحدہ عرب امارات کے سفیر کی ملاقات

    سربراہ پاک فضائیہ سے متحدہ عرب امارات کے سفیر کی ملاقات.

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق جناب حماد عبید الزابی نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران سربراہ پاک فضائیہ نے پی اے ایف کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اپنے وژن کا ذکر کیا، سربراہ پاک فضائیہ کی جانب سے اتحادی ممالک سے سمارٹ ٹیکنالوجیز کے حصول، انفراسٹرکچر کی توسیع اور آپریشنل و تربیتی شعبوں کی ازسرنو تشکیل کے مختلف منصوبوں کا بھی ذکرکیا، ایئر چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتہ استوار ہے جو دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلقات کا مظہر ہے۔ ایئر چیف کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون، اسٹریٹیجک اتحاد اور تربیتی شعبے میں پہلے سے موجود تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا

    ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا تھا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے مضبوط سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین تعلقات، علاقائی امن، سلامتی اور استحکام سے متعلق تمام اہم امور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے سفیر پاک فضائیہ کی جانب سے خاص طور پر خود انحصاری کے میدان میں کی گئی غیرمعمولی پیش رفت کے معترف نظر آئے، معزز سفیر نے پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ جناب حماد عبید الزابی کی جانب سے دوطرفہ عسکری تعلقات کو ہر سطح پر فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی، معزز سفیر کی جانب سے تربیتی شعبے، نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ہوا بازی کی صنعت میں باہمی تعاون کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا، ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق معززین کے درمیان یہ ملاقات دونوں ممالک کے مابین گہری دوستی کے ساتھ ساتھ پرامن اور مستحکم خطے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے

    سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    محمد بن زید النہیان متحدہ عرب امارات کے نئے صدر بن گئے،

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سلیم الزیبی کی ملاقات

    مقامی ہوٹل میں متحدہ عرب امارات کے 51ویں قومی دن کی تقریب منعقد ہوئی

  • قیام امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے،وزیراعظم

    قیام امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے،وزیراعظم

    اقبال اور پاک فضائیہ کے شاہین جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کا جھپٹنے کو تیار،پاک فضائیہ اکیڈمی اصغر خان میں کیڈٹس کی گریجویشن پریڈ کی تقریب ہوئی،

    وزیراعظم محمد شہباز شریف گریجویشن پریڈ کی پروقار تقریب کے مہمان خصوصی تھے، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گارڈ کا معائنہ کیا اور پریڈ سے خطاب کیا، اکیڈمی سے 147 ویں جنرل ڈیوٹی پائلٹ، 93ویں انجنئیرنگ کورسز کے کیڈٹس فارغ التحصیل ہوئے، 103ویں ایئر ڈیفنس، 24ویں ایڈمن اینڈ سپیشل ڈیوٹی کورسز کے شرکاء بھی پاس آؤٹ ہوئے، ساتویں لاجسٹک اور 129ویں کامبیٹ سپورٹ کورسز کے کیڈٹس بھی فارغ التحصیل ہوئے ،

    پاک فضائیہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کہ پاس آؤٹ ہونے والے تمام کیڈٹس کو مبارکباد دیتا ہوں کیڈٹس کے والدین کو دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں پاک فضائیہ نےکسی بھی چیلنج میں ملک کا نام روشن کیا پاک فضائیہ بہترین پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سےدنیا بھرمیں نمایاں ہے یقین ہےکہ مسلح افواج ہمیشہ قوم کی امنگوں کے مطابق صلاحیتوں کامظاہرہ کرتی رہے گی، اس وقت دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سمیت بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے اور پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے یقین دلاتا ہوں معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ہرکوشش کی جائے گی اور جلد ملک کے معاشی حالات بہتر ہوں گے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تمام ملکوں سے دو طرفہ مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات چاہتے ہیں مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ناممکن ہے بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے بھارت نے اگست 2019 سے کشمیرکو جیل میں تبدیل کررکھا ہے خطے میں امن کے لیے ہمسائیہ ملکوں کے ساتھ مل کرکوشش جاری رکھیں گے جب کہ قیام امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

  • سوڈان میں پھنسے 149 پاکستانی کراچی پہنچ گئے

    سوڈان میں پھنسے 149 پاکستانی کراچی پہنچ گئے

    پی اے ایف ایئربس اور سی 130 ہرکولیس طیارے سوڈان سے جدہ کے راستے پھنسے پاکستانیوں کو نکال رہے ہیں۔

    وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاک فضائیہ کے پی اے ایف ٹرانسپورٹ فلیٹ کو جنگ زدہ سوڈان سے پھنسے پاکستانیوں کو تیزی سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ پی اے ایف ایئربس 149 مسافروں کو لے کر جدہ سے براستہ کراچی بحفاظت لینڈ کر گئی ہے۔ PAF C-130 110 پاکستانی مسافروں کو لے کر دن کے آخر میں لینڈ کرے گا۔ فضائیہ وزارت خارجہ اور سوڈان اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانوں کے ساتھ مل کر پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔ پورٹ سوڈان نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بازیاب کیے گئے پاکستانیوں کو پی اے ایف کے طیارے کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ مصیبت میں گھرے بھائیوں اور بہنوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ نکالے گئے خاندانوں نے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور سوڈان میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان بروقت ریسکیو کرنے پر پاک فضائیہ کو سراہا۔

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور سوڈان سے نکالے گئے 149 پاکستانیوں کی پہلی کھیپ کا گھر پر خیرمقدم کیا ہے،

    https://twitter.com/Waqar_Bhayo_786/status/1651827108631412738

    دوسری جانب وزیراعظم نے 847 پاکستانیوں کے بحفاظت سوڈان کی بندرگاہ پہنچنے پر اظہار اطمینان کیا، وزیراعظم نے 107 پاکستانیوں کے جدہ پہنچنے پر اظہار تشکرکیا، وزیراعظم نے جدہ میں سرکاری رہائش اور پاکستانیوں کو واپس لانے کے لئے پاک فضائیہ کے انتظامات کی بھی تعریف کی وزیراعظم نے وزیرخارجہ بلاول بھٹو، وزیرمملکت خارجہ حنا ربانی کھر اور سیکرٹری وزارت خارجہ کو خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم کا سوڈان میں پاکستانی سفیر، میر بہروز ریگی، ہیڈآف چانسری محمد سعید، ڈیفنس اتاشی کرنل محمد ہارون، کمرشل اتاشی عطاءاللہ کی بھی تحسین کی ،وزیراعظم نے سوڈان میں پاکستانی سفارت خانے کے عملے محمد بلال شفیق اور راشد خان کو بھی خصوصی شاباش دی، وزیراعظم نے ٹیم کو ہدایت کی کہ سوڈان سے تمام پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی تک بھرپور جذبے سے کام جاری رکھیں،

  • ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا،وزیراعظم شہباز شریف

    ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا،وزیراعظم شہباز شریف

    لاہور: ملک بھر میں ’یوم پاکستان‘ بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے یوم پاکستان کے موقع پر علی الصبح تمام صوبائی دارالحکومت میں 21 جبکہ وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامی دی گئی ، ایوان صدر اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ کی پُروقار تقریب منعقد ہوگی۔

    باغی ٹی وی: دن کا آغاز نماز فجر کے بعد خصوصی دعاؤں سے کیا گیا جس میں پاکستان اور مسلم امہ کی سالمیت خوشحالی اور ترقی کےلئے دعا کی گی علی الصبح تمام صوبائی دارالحکومت میں 21 جبکہ وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامی سے ہوا، توپوں کی سلامی کے بعد جوانوں نے نعرہ تکبیر، اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے پرجوش نعرے بھی لگائے۔

    یومِ پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جائے گا

    پاک فضائیہ کے شاہینوں نے پاکستانی قوم کو سلام پیش کیا، ترجمان پاک فضائیہ نے کہا کہ قراردادِ پاکستان پیش کیے جانے کے 83 سال مکمل ہونے پر ملک ’یوم پاکستان‘ بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

    مزار اقبال پر 23 مارچ یوم پاکستان کے حوالے سے پاک فضائیہ کی تقریب منعقد کی گئی، ایئروائس مارشل سیدعمران ماجدعلی تقریب کے مہمان خصوصی بنے پاک فضائیہ کے چاک وچوبند دستے نے ستلج رینجرزکی جگہ پر مزاراقبال پرحفاظتی ذمہ داریاں سنبھالیں ایئر کموڈور تنویر احمد بیس کمانڈر پی اے ایف بیس لاہور بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    پاک فضائیہ کے ترجمان نے کہا کہ 23 مارچ 1940 کو تاریخی قرارداد لاہور کے تحت برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے علیحدہ وطن حاصل کرنے کا عزم کیا۔ یوم تجدیدِ عہد وفا کی مناسبت سے پاک فضائیہ کے شاہینوں کا پوری پاکستانی قوم کے جذبہ حب الوطنی کو سلام پیش کرتے ہیں پاک فضائیہ کا ہر جوان پاکستان کے دفاع،سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، پاک فضائیہ کا ہر جوان ملک کی سالمیت کی خاطر کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔

    لاہور میں واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی جبکہ ملک بھر میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے زیراہتمام یوم پاکستان کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی جائیں گی پاک فوج کی پریڈ شکر پڑیاں کے بجائے ایوان صدر میں منعقد ہو گی اور روایتی پریڈ محدود پیمانے پر کروانے کا فیصلہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت کیا گیا۔

    23 مارچ؛ یوم پاکستان منایا جائے گا

    واضح رہے کہ 23 مارچ 1940 ء کو لاہور میں منظور ہونے والی قرارداد بعد ازاں آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی1938 میں سندھ مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانوں کیلئے الگ ریاست کا تصور پیش کیا گیا، اس نظریے کو شرکاء کی اکثریت نے منظور کرلیا بعد ازاں اے کے فضل الحق نے اس پر عمل درآمد کی تجویز پیش کردی۔

    قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ وہ مطالبہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

    23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ جب تک مسلمانوں کو آزاد ریاست نہیں ملتی وہ ہندوستان کے کسی بھی قانون کو ماننے کے پابند نہیں ہوں گے 23 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین اپنایا گیا اور یوں مملکت پاکستان پہلا اسلامی جمہوریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا-

    رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد سیاسی و سماجی شخصیات کی قوم کو …

    یوپ پاکستان کے موقع پر جاری کئے گئے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا قیام 20 ویں صدی کا ایک معجزہ ہے، 23 مارچ ہماری قومی تاریخ کا عہد ساز دن ہے جو ہمیں ماضی کی یاد دلاتا ہے آج کا دن موجودہ حالات پر غور و فکر کی دعوت اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کی تحریک دیتا ہے، 23 مارچ 1940 کو برصغیر کے مسلمانوں نے علیحدہ وطن کے قیام کی قرارداد منظور کی تھی۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہمارے پچھلے 75 سالوں کے سفر نے ہمیں جنگوں سے نبرد آزما ہوتے دیکھا، قدرتی آفات سمیت بہت سے بحرانوں سے لڑتے دیکھا ہے، کئی مواقع ایسے آئے جب ہم نے مشکلات پر قابو پالیا اور کئی سنگ میل حاصل کئے پاکستان نے انسانیت کو درپیش مسائل کے حل اور عالمی امن کے لیے ذمے دار قوم کا کردار ادا کیا، یوم پاکستان پر اپنے بانیوں کی قربانیوں کی خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہمیں ان چیلنجز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو ہمارے سامنے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آج ہمیں سیاسی و معاشی عدم استحکام کا سامنا ہے، پاکستان سیاسی و آئینی جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا، پاکستان کا مستقبل آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے میں مضمر ہے پاکستان کا مقدر عظیم کامیابیاں اور بلندیاں حاصل کرنا ہے، ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا۔

    سابق دبنگ سی پی او لاہور عمر شیخ وفات پاگئے

  • پی اے ایف کالج سرگودھا میں فاؤنڈرز ڈے کا انعقاد

    پی اے ایف کالج سرگودھا میں فاؤنڈرز ڈے کا انعقاد

    پی اے ایف کالج سرگودھا میں فاؤنڈرز ڈے کا انعقاد کیا گیا

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اس موقع پر مہمان خصوصی تھے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا تھا کہ 1953ء سے قائم شدہ پی اے ایف کالج سرگودھا ایک قابلِ فخر تاریخ اور اعلیٰ میراث کا حامل ہے ۔یہ کالج بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کی نرسری رہی ہے جو کہ دیانتداری، خلوص اور خدمت جیسی اعلیٰ اقدار کے ساتھ ساتھ خود سے بڑھ کر فرض سے لگن کے جذبے سے سرشار تھے۔پی اے ایف کالج سرگودھا کو پاک فضائیہ کے عالمی شہرت یافتہ فضائی جنگجو پیدا کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔تیزی سے تغیر پذیر اور غیر مستحکم قومی سلامتی کا ماحول ایسی تربیت یافتہ تکنیکی افرادی قوت کا متقاضی ہے جو اس ٹیکنالوجی سے بھرپور ماحول کا مقابلہ کر سکے۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق ایئر چیف نے بچوں کی کامیابی پر انکے والدین کو بھی مبارکباد دی اور بہترین کارکردگی پر اساتذہ کی کاوشوں کو سراہا۔ سپورٹس کی چیگ ول شیلڈ بھی اقبال ہاؤس کے نام ہوئی، ہم نصابی سرگرمیوں میں بہترین کارکردگی پر جنرل سروس ٹریننگ کپ عالم ہاؤس نے جیتا ۔اکیڈمکس کی چیف آف دی ائیر سٹاف ٹرافی منیر ہاؤس نے حاصل کی۔سال کا چیمپئین ہاؤس بننے پر اقبال ہاؤس کو قائداعظم شیلڈ سے نوازا گیا۔ ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) آصف مقصود، پرنسپل پی اے ایف کالج، سرگودھا نے کالج کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ دفاعی اہلکاروں سمیت ریٹائرڈ اساتذہ، سینئر بیوروکریٹس اور پری کیڈٹس کے والدین کی بڑی تعداد موجود تھی ۔

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام