Baaghi TV

Tag: پرویز الہی

  • صوبہ پنجاب میں ایک اور آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    صوبہ پنجاب میں ایک اور آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    لاہور:پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم صوبے پنجاب میں ایک بار پھر آئینی بحران پیدا ہونے جارہاہے ، یہ بحران اس وقت بہت ہی زیادہ شدت اختیار کرنے لگا ہے ، اطلاعات ہیں کہ پنجاب کےموجودہ گورنر بلیغ الرحمان وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہٰی کی کابینہ سے حلف نہیں لیں گے۔

    گورنرپنجاب نےآرڈیننس جاری کرکےنہایت غیرقانونی کام کیا ہے:چوہدری پرویز الٰہی

    پنجاب کے حوالے سے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگریہ صورت حال برقرار رہی تومعاملات حد سے زیادہ بگڑسکتےہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے گورنر بلیغ الرحمان کی منظوری کے بغیر پنجاب کابینہ کی تشکیل مکمل نہیں ہوسکے گی۔

    قائم مقام گورنرپنجاب،پرویزالہی کی قانونی ماہرین سے مشاورت

    دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان وزیراعلیٰ پرویزالہٰی کی کابینہ سے حلف نہیں لیں گے، جب کہ کابینہ کی تشکیل گورنرکی منظوری کے بغیر مکمل نہیں ہوسکے گی۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اسمبلی کی آئینی دستاویز کے مطابق صوبائی وزراء گورنر پنجاب سےعہدے کا حلف لینے کے پابند ہوتے ہیں، اور آئین کے تحت گورنر ہی وزیراعلیٰ کی تجویز پر کابینہ کے نام فائنل کرتا ہے، اور گورنر کےعلاوہ کسی کے پاس صوبائی وزراء سے حلف لینے کا اختیار نہیں۔

    ‘گورنرپنجاب کوئی درباری اوتھ کمشنرنہیں’:کسی دباوپرغیرآئینی کام نہیں‌

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پنجاب میں آئینی بحران پیدا ہوا تھا جب پنجاب میں پہلی بار دو الگ الگ بجٹ اجلاس طلب کئے گئے تھے

    موجودہ وزیراعلیٰ پرویز الٰہی جو کہ اس وقت اسپیکرپنجاب اسمبلی تھے ، انہوں نے بلڈنگ میں بلائے گئے اجلاس میں حکومت کا کوئی رکن شریک نہیں ہواتھا ۔ اجلاس میں اسپیکرکے حکم پر سیکرٹری پارلیمانی امورعنایت اللہ لک نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا، پینل آف چیئرمین میں نوابزادہ وسیم خان باروزئی،میاں شفیع محمد، ساجد احمد خان بھٹی اور شازیہ عابد شامل تھے۔

    اس کے ساتھ ساتھ ایک آور آئینی بحران بھی پیدا ہوا تھا جب پنجاب میں گورنرشپ کا معاملہ حل کرن کے لیے وزیراعظم شہبازشریف کو بھی میدان میں آنا پڑا ،عمرسرفراز چیمہ کے بعد جب بلیغ الرحمن نے گورنرپنجاب کا حلف اٹھایا تو یہ بحران وقتی طورپرٹل گیا تھا

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا ریسکیو 1122 کا دائرہ کار مزید بڑھانے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کا ریسکیو 1122 کا دائرہ کار مزید بڑھانے کا فیصلہ

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی نے ریسکیو 1122 کا دائرہ کار مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں تمام تحصیلوں میں ریسکیو1122 کو توسیع دینے کی منظوری دے دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : وزیر اعلی پرویز الہٰی کا کہنا ہے کہ رواں برس پنجاب کی مزید 86 تحصیلوں میں ایمرجنسی سروس کا دائرہ کاربڑھایا جائے گا، حکومت ایمرجنسی سروس کی توسیع پنجاب کی تمام تحصیلوں تک کرے گی-

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ موٹر بائیک ریسکیو سروس کا دائرہ کار رواں برس پنجاب کے مزید 27 اضلاع تک بڑھا یاجائے گا، پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 صوبے کا قابل قدر او رباعث فخر ادارہ ہے۔

    قبل ازیں وزیراعلی نے ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان کیا تھا وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو 8،8لا کھ روپے مالی امداد دے گی، گھروں، فصلوں او رمویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی، سیلاب متاثرہ علاقوں میں سب سے پہلے ریسکیو 1122کا عملہ پہنچا۔

    چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی جلد تعمیر ومرمت کاحکم دیاتھا ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیاجائے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگانے کی ہدایت بھی کی.

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جائے، سانپ کاٹنےاور ہیضہ سے بچاؤ کی ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہونی چاہئیں، سیلاب متاثرین میں خشک راشن تقسیم کیاجائے، ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے سیلابی پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے-

    سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

  • عمران خان لاہور نہ آئے، پرویز الہیٰ سے ویڈیو لنک پر گپ شپ

    عمران خان لاہور نہ آئے، پرویز الہیٰ سے ویڈیو لنک پر گپ شپ

    عمران خان لاہور نہ آئے، پرویز الہیٰ سے ویڈیو لنک پر گپ شپ

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے آج ویڈیو لنک ملاقات کی۔ ڈاکٹر شہباز گل اور پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی محمد خان بھٹی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    ویڈیولنک ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی و انتظامی امور اور عوام کے فلاح وبہبود کے پروگرامز پر تبادلہ خیال کیاگیاجبکہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں اور عوام کے مسائل کے فوری حل کے لائحہ عمل پر بھی گفتگو کی گئی۔عمران خان نے پنجاب میں احساس پروگرام، صحت انصاف کارڈ اور دیگر فلاحی پروگرام فی الفور شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت نے ہمارے فلاحی پروگراموں کو نظر انداز کیا۔انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ بلاتاخیرفلاح عامہ کے پروگراموں کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے

    ۔وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پنجاب میں احساس پروگرام،صحت انصاف کارڈاوردیگر فلاح عامہ کے پروگراموں کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے اورعوام کو ریلیف دینے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    قبل ازیں تحریک انصاف کی مرکزی رہنما و چیئر پرسن قائمہ کمیٹی داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ جعلی حکومت نے ہمارے دور کے جتنے بھی عوامی فلاح کے منصوبے ختم کئے تھے انہیں دوبارہ شروع کیا جارہا ہے ،جعلی حکومت نے عمران خان کے بغض میں پنجاب میں جاری عوامی فلا ح و بہبود کے درجنوں منصوبے روک دئیے تھے لیکن ان شا اللہ اتحادی حکومت ان تمام منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے جارہی ہے جس کے لئے پالیسی مرتب کر لی گئی ہے۔ اب عمران خان کی قیادت میں ملک کے طول و عرض میں عوام کے راج کا دور دورہ ہوگا اتحادی ابھی تک صدمے سے باہر نہیں نکل سکے اور دھمکیاں دے رہے ہیں

  • پنجاب میں ایک بار پھر حکومت عوام کو ڈلیور کر ے گی،وزیراعلیٰ پنجاب

    پنجاب میں ایک بار پھر حکومت عوام کو ڈلیور کر ے گی،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی سے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ملاقات ہوئی ہے

    اس موقع پرایوب آفریدی بھی موجود تھے ،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،اسد قیصر اور ایوب آفریدی نے چودھری پرویزالٰہی کو وزارت اعلی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی ،وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں ،پنجاب میں تحریک انصاف کی دوبارہ حکومت عمران خان کے بیانیہ کی فتح ہے ،عمران خان کا بیانیہ وطن کی محبت اور اداروں کی بالادستی پر مبنی ہے ،عمران خان نے ہر پاکستانی کو آزاد قوم کا شعور دیا پنجاب میں ایک بار پھر تحریک انصاف کی حکومت عوام کو ڈلیور کر ے گی ۔ صحت کارڈ، احساس پروگرام اور دیگر عوامی منصوبے تیزی سے آگے بڑھیں گے ۔

    https://twitter.com/CMOPunjabPK/status/1552587447862759425

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی وزیراعلیٰ آفس آمد ہوئی تو وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلی آفس آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی ،وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے وزیراعلیٰ آفس کے سٹاف سے ملاقات کی وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سٹاف کو جانفشانی سے سرکاری فرائض انجام دینے کی ہدایت کی وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے دعائے خیر کرائی

    اراکین اسمبلی نے چودھری پرویز الٰہی کو وزارت اعلی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی ،اراکین پنجاب اسمبلی راجہ بشارت، حافظ ممتاز احمد، رفاقت گیلانی،علی عباس شاہ، عمر فاروق، محمد رضوان، پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی پنجاب محمد خان بھٹی، دیگر منتخب نمائندے اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • پرویز الہیٰ کی عمران خان سے ملاقات، سپیکر کون بنے گا نام پر ہوا اتفاق

    پرویز الہیٰ کی عمران خان سے ملاقات، سپیکر کون بنے گا نام پر ہوا اتفاق

    پرویز الہیٰ کی عمران خان سے ملاقات، سپیکر کون بنے گا نام پر ہوا اتفاق

    سابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کور کمیٹی کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیراعلیٰ کے پی، شہباز گل، فواد چودھری شریک تھے عمران اسماعیل، غلام سرور خان، شیریں مزاری سمیت دیگر بھی شریک تھے اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور پنجاب کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں پنجاب کی کابینہ کی تشکیل پر بھی مشاورت کی گئی اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے نامزدگی بھی زیر غور آئی، اجلاس میں آئندہ انتخابات سے متعلق بھی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا.

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی سے زیادتی نہیں کی،عمران خان جو بھی پالیسی دے گا اس پر عمل ہوگا،عمران خان اسمبلی توڑنے کا کہیں تو ایک منٹ بھی نہیں لگاوں گا میں عمران خان کی پالیسی اور ویژن کو آگے لے کر جاوں گا عمران خان جو بھی پالیسی دیں گے اس پر عمل ہوگا،

    قبل ازیں چئیرمین تحریک انصاف عمران خان اور وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی ملاقات ہوئی ہے،فیصلہ ہوا ہے کہ سطبین خان کو سپیکر پنجاب اسمبلی بنایا جائے گا، میاں محمود الرشید سپیکر کی دوڑ سے خود باہر نکل گئے نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق سبطین خان کی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے امیدوار کی منظوری دے دی گئی

    عمران خان کا کہنا ہے کہ کل شام بے ساختہ باہر آنے پر قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں،قوم نے سپریم کورٹ کے آئین کو برقرار رکھنے والے فیصلے کی حمایت کی، آج رات 10 بجے عوام سے خطاب کروں گا، عوام کو ایک خودمختار پاکستان کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ بتاؤں گا،

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    ۔ پنجاب میں گورنر راج کی سمری پر کام شروع 

  • پرویزالہیٰ کا وزیراعلیٰ بننے کے بعد تبادلے شروع

    پرویزالہیٰ کا وزیراعلیٰ بننے کے بعد تبادلے شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کا وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ بننے کے بعد تبادلوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے

    پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کے بعد افسران کے تقرر و تبادلے کا سلسلہ جاری ہے ،سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ڈی جی اینٹی کرپشن رانا عبدالجبار کو پنجاب سے ریلیو کردیا گیا ہے دونوں پولیس افسران کو آئی بی رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، ڈی پی او جھنگ سردار غیاث گل کو بھی پنجاب سے ریلیو کر دیا گیا ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    بلال صدیق کمیانہ اور ڈی پی او جھنگ پر پی ٹی آئی نے الیکشن میں تحفظات کا اظہار کیا تھا، ڈی جی اینٹی کرپشن کو بھی عثمان بزدار کے خلاف کارروائی پر تبدیل کیا گیا ہے

    دوسری جانب سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی پرنسپل سیکریٹری ٹو سی ایم پنجاب تعینات کر دیئے گئے ہیں اس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری نبیل اعوان گورنر پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری تعینات کر دیئے گئے ہیں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رات چودھری پرویز الہیٰ نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھا لیا ہے، پی ٹی آئی قیادت اسپیکر اور ڈپٹی ا سپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے مختلف ناموں پر مشاورت کر رہی ہے ،نجی ٹی وی کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی کے لیے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا نام زیر غور ہے اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے محمود الرشید اور زین قریشی کے نام بھی زیر غور ہیں زین قریشی کا نام ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے زیرغورہے، پنجاب کابینہ کیلئے بھی پی ٹی آئی قیادت کی مشاورت جاری ہے عثمان بزدار کی کابینہ میں شامل رہنماؤں کو دوبارہ شامل کرنے کا امکان ہے عثمان بزدار کی کابینہ میں شامل وزرا اپنے اپنے محکموں کو ہی دیکھیں گے وزیرداخلہ پنجاب کیلئے بھی مختلف نام زیر غورہیں شہباز گل کو اسپیشل اسسٹنٹ داخلہ ٹو وزیراعلیٰ لگائے جانے پر غورکیا جا رہا ہے محکمہ داخلہ پنجاب کیلئے راجہ یاسر ہمایوں ،فیاض الحسن چوہان، اسلم اقبال کے نام پر غور کیا جا رہا ہے وزیر صحت کے لیے یاسمین راشد ،سبطین خان سینئر وزیر کے مضبوط امیدوار ہیں پنجاب کابینہ میں ق لیگ کے حافظ عمار یاسر اورمحمد رضوان شامل ہوگے مشاورت کے بعد چیئرمین عمران خان سے منظوری لی جائے گی

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • مشاورت سے چلیں گے، پرویز الٰہی نے اپنے اختیارات عمران خان کو سونپے ہیں،شاہ محمود قریشی،شیخ رشید کا بیان بھی سامنے آگیا

    مشاورت سے چلیں گے، پرویز الٰہی نے اپنے اختیارات عمران خان کو سونپے ہیں،شاہ محمود قریشی،شیخ رشید کا بیان بھی سامنے آگیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہےکہ پرویز الٰہی نے اپنے اختیارات عمران خان کو سونپے ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کےکیس کےعدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دوست مزاری نے قانون کا بھی لحاظ نہیں کیا، وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر آئے تھے، عدلیہ نے تحمل سے تنقید برداشت کی اور اپنی ذمہ داری نبھائی۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے پرنواز شریف اور مریم نواز کا سخت ردعمل

    سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے تاخیری حربے استعمال کرنےکی کوشش کی، وزیر قانون کو روسٹرم پرآکر گفتگو کرنےکا کیا اختیار تھا؟ انہوں نے دھمکانے کی کوشش کی، آج ثابت ہوگیا پاکستان کی عدلیہ آزاد ہے، حکومت کو پنجاب کی عوام نے 17 جولائی کو مسترد کردیا تھا،نصاف کی فتح پر پوری قوم کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں،پاکستان کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا گیا ہے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پرویزالٰہی نےکہا ہے کہ عمران خان کی مشاورت سے چلیں گے، پرویز الٰہی نے اپنے اختیارات عمران خان کو سونپے ہیں۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ کے فیصلے پر شیخ رشید نے کہا کہ جج صاحبان نے تاریخی فیصلہ دیا ہے، فسادی ٹولے نے پرائم منسٹر ہاؤس میں گندی پریس کانفرنس کی جسے مسترد کردیا گیا، سپریم کورٹ پر حملے کرنے والا قبضہ گروپ شکست سے دوچار ہوا ہے۔

    شیخ رشید نے کہا کہ فیصلے پر پرویز الہیٰ اور عمران خان کی محنت کوسلام پیش کرتا ہوں، عمران خان نے 20 میں سے 15 نشستیں جیت کر آج کی فتح یقینی بنائی ۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ درست نہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہےکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا کوئی قانونی جواز نہیں، پنجاب کابینہ بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے، حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ فوری طور پر عہدہ چھوڑیں۔

    عدالت نے حکم دیا ہےکہ آج رات 11:30 تک پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیں، گورنر پنجاب آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ کا حلف لیں، فیصلے پر فوری عمل یقینی بنایا جائے،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائےسپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد  پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لاہور میں پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن شروع ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں پرویز الٰہی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ کالعدم قراردے دی اور پرویز الہیٰ کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دے دیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لاہور میں پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن شروع ہوگیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف اور ق لیگ کے حامی پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ درست نہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہےکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا کوئی قانونی جواز نہیں، پنجاب کابینہ بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے، حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ فوری طور پر عہدہ چھوڑیں۔

    عدالت نے حکم دیا ہےکہ آج رات 11:30 تک پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیں، گورنر پنجاب آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ کا حلف لیں، فیصلے پر فوری عمل یقینی بنایا جائے،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے-

  • سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی سخت،پیپلز پارٹی،جے یو آئی کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی سخت،پیپلز پارٹی،جے یو آئی کی درخواست دائر

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویزالہٰی کی درخواست پر سماعت آج ہوگی

    سپریم کورٹ میں سماعت ڈیڑھ بجے ہو گی، سپریم کورٹ ،ریڈ زون کی سیکورٹی سخت کی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، سماعت کے باعث سپریم کورٹ آنے والے راستوں کو بند کردیا گیا سیرینا چوک اور مارگلہ روڈ سے گاڑیوں کا ریڈزون میں داخلہ ہوگا ریڈزون میں میڈیا اور سرکاری ملازمین کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی

    پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر سپریم کورٹ پہنچے لسٹ میں نام نہ ہونے کے باعث پولیس نے داخلے کی اجازت نہ دی
    فرحت اللہ بابر واپس روانہ ہوگئے،پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں صرف کیس سے متعلقہ افراد کو داخلے کا حکم دیا گیا صرف کیس سے متعلقہ وکلاء اور فریقین کو سپریم کورٹ میں داخلے کی اجازت ہوگی ،وکلا کی جانب سے سپریم کورٹ میں زبردستی داخلے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس نے گیٹ لاک کردیا، آغا حسن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں،قانون پارلیمان کا کام ہے، عدلیہ کا کام غیرجانبداری سے انصاف ہے،

    سپریم کورٹ کے داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا، موبائیل جیمزز فعال کر دیا گیا سیاسی قائدین کے سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ نے عدالت میں ہمارے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے پرسوں لاہور میں تو عدالت کے شیشے ٹوٹ گئے تھے وہاں پابندی کیوں نہیں لگائی؟

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی لگا نے کی مذمت کرتے ہیں، سپریم کورٹ میں میڈیا پر بھی پابندی لگادی گئی

    سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جگہ محدود ہے صورتحال کنٹرول کرنامشکل تھا،سپریم کورٹ کے باہر بھی کارروائی سننے کا شاید انتظام کیا گیا ہے، جائز تنقید پر قدغن نہیں ، عدلیہ پر تنقید قابل مذمت ہے جو کہنا ہے عدالت کے سامنے کہیں،سپریم کورٹ میں دونوں طرف سے چند لوگوں کے داخلے کا فیصلہ کیا گیا، جب کوئی فل کورٹ کا مطالبہ کرتا ہے تو مجھے شک ہوتا ہے کہ ان کے پاس دفاع کے کوئی دلائل نہیں،

    آج شاہ محمود قریشی،اسد عمر،فواد چودھری،شیریں مزاری اور عمر ایوب سپریم کورٹ جائیں گے پی ٹی آئی کے بابر اعوان ،پرویز خٹک اور عامر کیانی بھی سپریم کورٹ جائیں گے بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان ،اسعد محمود،خالد مقبول صدیقی اور امیر حیدر ہوتی بھی سپریم کورٹ آئیں گے اختر مینگل،اسلم بھوتانی ،شاہد خاقان عباسی ،خرم دستگیر اور رانا ثنا اللہ کی بھی سپریم کورٹ آمد متوقع ہے اعظم نذیر تارڑ،احسن اقبال،سعد رفیق ، امیر مقام ، ایاز صادق،عطا تارڑ،ملک احمد بھی عدالت جا ئیں گے سربراہ ق لیگ چودھری شجاعت،سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ کی بھی عدالت آمد متوقع ہے

    حمزہ شہباز نے فل کورٹ بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی اور آرٹیکل 63 اے کی نظرثانی کی درخواستیں بھی ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کر دی،الیکشن کمیشن کے خلاف منحرف ارکان کی اپیلیں بھی رولنگ کیس کیساتھ سننے کی استدعا کر دی،درخواست میں کہا گیاکہ منحرف ارکان کے الیکشن کمیشن فیصلے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی 22 جولائی کو دی گئی رولنگ درست ہے الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کیخلاف عمران خان کی ہدایات کو تسلیم کیا،سپریم کورٹ میں منحرف ارکان کی اپیلیں منظور ہوگئیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی،اپیلیں منظور کی گئیں تو 25 منحرف ارکان کے نکالے گئے ووٹ بھی گنتی میں شمار ہونگے

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویزالہٰی کی درخواست پر سماعت کے حوالہ سے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں عدالت سے استدعا کی کہ درخواست خارج کی جائے،

    پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پرویز الہی کی درخواست میں فریق بننے کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی پیپلز پارٹی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان موجود ہیں۔ اس ساری صورتحال میں پیپلز پارٹی کا موقف سنا جائے۔

    سپریم کورٹ میں جے یو آئی نے بھی فریق بننے کی درخواست دائر کردی اور عدالت سے استدعا کی کہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے، موقف سنا جائے ،ایڈووکیٹ سینیٹرکامران مرتضٰی کے ذریعے درخواست دائر کی گئی

    مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس میں فریق بننے کے لیے درخواست دائر کردی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ڈپٹی سپیکر کو خط 22 جولائی کو لکھا گیا اور ڈپٹی سپیکر نے خط کی بنیاد پر پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ گنتی سے نکال دیئے ایم پی ایز کی جانب سے پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی تھےمیں اس کیس کا متعلقہ فریق ہوں لہٰذا مجھے کیس میں پارٹی بنایا جائے

    حکومتی اتحاد فل بینچ بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے، اس ضمن میں ن لیگی رہنماؤں سمیت مولانا فضل الرھمان نے بھی پریس کانفرنس کی اور مطالبہ کیا کہ فل بینچ بنایا جائے،

    دوسری جانب پی ٹی آئی اور ق لیگ نے پنجاب کابینہ کی تشکیل پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،وکیل پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ آج سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کررہے ہیںعدالت نے مختصر کابینہ بنانے کا حکم دیا تھا،عدالت نے حکم دیا کہ کوئی سیاسی فائدہ نہیں دیا جائے گا، عدالت نے حمزہ شہبازکو ٹرسٹی وزیراعلیٰ بنایا لیکن انہوں نے تجاوز کیا،

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

  • سپریم کورٹ کے دروازے کھل گئے سٹاف کو سپریم کورٹ پہنچنے کی ہدایت

    سپریم کورٹ کے دروازے کھل گئے سٹاف کو سپریم کورٹ پہنچنے کی ہدایت

    لاہور:سپریم کورٹ کے دروازے کھل گئے سٹاف کو سپریم کورٹ پہنچنے کی ہدایت کردی گئی ہے ، اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے خلاف درخواست دائر کرنے کیلئے سپریم کورٹ رجسٹری پہنچ گئے۔

    پی ٹی آئی اور ق لیگ کے پارلیمانی پارٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد ارکان اسمبلی لاہور میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچ گئے۔
    چوہدری ‏پرویز الہیٰ ،‏ریاض فتیانہ،ثناء اللہ خان مستی خیل سمیت ق لیگ اور پی ٹی آئی کے تمام ایم پی ایز سپریم کورٹ رجسٹری پہنچ گئے

    ادھر اس حوالے سے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جارہے ہیں، اس بار بھی انصاف کی امید ہے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ میں اپنی پارٹی کا صدر ہوں لیکن ڈپٹی اسپیکر نے کہا آپ خود کو ووٹ نہیں دے سکتے۔

    چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ سارے جہاں کو علم ہے کہ ہم نے 186 ووٹ لئے، ڈپٹی اسپیکر پر آرٹیکل6 اور توہین عدالت لگنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ آج وزارت اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں تحریک انصاف اور ق لیگ کے مشترکا امیدوار پرویز الہیٰ 186 ووٹ لینے کے باوجود وزارت اعلیٰ کا عہدہ حاصل نہ کرسکے۔

    ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے چوہدری شجاعت حسین کے خط کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ مسترد کردیے جس کے بعد حمزہ شہباز 179 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے خلاف درخواست دائر کریں گے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں یاسمین راشد کا کہنا تھاکہ 186 ارکان اسمبلی اس وقت سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر موجود ہیں لہٰذا عدالت سے درخواست کروں گی فوری عدالت لگائیں۔