Baaghi TV

Tag: پرویز مشرف

  • بھارت میں پرویز مشرف خاندان کی جائیداد نیلام

    بھارت میں پرویز مشرف خاندان کی جائیداد نیلام

    بھارت نے سابق آرمی چیف و صدر مملکت پرویز مشرف کی جائیداد نیلام کر دی
    سابق صدر پرویز مشرف کے خاندان کی بھارت کے شہر باغپت میں واقع 13 بیگھہ زمین 1.38 کروڑ میں نیلام کی گئی ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق تین افراد نے پرویز مشرف خاندان کی جائیداد کی قیمت 1.38 کروڑ روپے لگائی ہے،خسرہ نمبر آٹھ کی اراضی کی ای نیلامی کا عمل صبح گیارہ بجے سے رات نو بجے تک جاری رہا، پراپرٹی بیچنے کے بعد باغپت میں پرویز مشرف اور ان کے خاندان کے افراد کا نام جائیداد سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے،لکھنؤ سے ای نیلامی میں کامیاب ہونے والے باغپت کے پنکج کمار نے بھی 13 میں سے تقریباً پانچ چوتھائی بیگھہ زمین خریدی ہے،سابق صدر پرویز مشرف کی کوٹانہ گاؤں میں ان کے ایک رشتہ دار کے نام پر رجسٹرڈ جائیداد کی نیلامی 5 ستمبر کو آن لائن ہوئی،کوٹانہ گاؤں اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ نہ صرف سابق صدر پاکستان کے ماموں بلکہ ان کے والد کے والدین کی رہائش گاہ بھی تھا ،لکھنؤ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق کوٹانہ میں نورو کی تقریباً دو ہیکٹر اراضی جو کہ اینمی پراپرٹی کے طور پر رجسٹرڈ ہے وہ نیلام کر دی گئی ہے ،

    کوٹانہ کے گاؤں والوں کو یاد ہے کہ پاکستان کے سابق صدر مشرف کے دادا اور دادی کا تعلق ان کے گاؤں سے تھا، ان کی والدہ بیگم زرین مشرف اور والد مشرف الدین نے 1943 میں اپنی شادی کے بعد کوٹانہ چھوڑ دیا،پرویز مشرف دہلی میں پیدا ہوئے لیکن وہ کبھی کوٹانہ گاؤں نہیں گئے کیونکہ ان کا خاندان 1947 میں ملک کی تقسیم کے وقت پاکستان میں آ کر آباد ہوا تھا،گاؤں والوں کے مطابق پرویز مشرف کے رشتہ دار نورو قیام پاکستان کے بعد 18 سال تک کوٹانہ میں مقیم رہے اور 1965 میں پاکستان چلے گئے۔

    قبل ازیں بنجر کھیتوں کے ایک وسیع حصے کے درمیان میں بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے ایک نوٹس میں لکھا گیا تھا کہ، "یہ دشمن کی جائیداد، پلاٹ نمبر۔ 1078، گاؤں کوٹانہ بنگر، تحصیل براؤت، ضلع باغپت کو ای نیلامی کے ذریعے فروخت کے لیے ہدایت کی گئی ہے۔پرویز مشرف خاندان کی جائیداد کو بھارتی حکومت نے دشمن کی جائیداد قرار دیا تھا،یہ جائیدادیں بھارتی حکومت کی تحویل میں تھیں،49میں سے 41 جائیدادیں اترپردیش میں تھیں، ان جائیدادوں میں سے ایک سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کی آبائی حویلی اور باغپت ضلع کے کوٹانہ میں کچھ زمین ہے

    دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی،آرمی چیف

    یوم دفاع پاکستان،ملکی سلامتی کیلئے دعائیں،شہدا کی قبروں پر سلامی

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

  • پرویز مشرف حملہ کیس، تحقیقاتی افسر قتل کے ملزمان سپریم کورٹ سے بری

    پرویز مشرف حملہ کیس، تحقیقاتی افسر قتل کے ملزمان سپریم کورٹ سے بری

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف حملہ کیس کے تحقیقاتی افسر کے قتل کا معاملہ،سپریم کورٹ نے راجہ ثقلین قتل کیس کے ملزمان کو بری کر دیا

    عدالت نے ملزمان ارشد ستی،طاہر عباسی اور قاری یونس بری کر دیا،سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو ایک کے تناسب سے ملزمان کی بریت کا فیصلہ سنایا،جسٹس عائشہ ملک نے فیصلہ سے اختلاف کیا،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس ملک شہزاد احمد تین رکنی بینچ کا حصہ تھے، ملزمان کی طرف سےعادل عزیز قاضی ایڈوکیٹ پیش ہوئے،انسپکٹر راجہ ثقلین کو 2004 میں راولپنڈی میں قتل کیا گیا تھا،چار ملزمان میں سے ایک ملزم مفتی عید محمد سکنہ ٹمن دوران قید انتقال کر گیا تھا

    پنجاب پولیس کے مایہ ناز ،بہادر اور فرض شناس پولیس آفیسر انسپکٹر راجہ محمد ثقلین شہید کی سالانہ برسی ،جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہونے والے پولیس آفیسر کوراولپنڈی پولیس کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے،

    پنجاب پولیس کے 007 کے نام سے مشہور راجہ محمد ثقلین شہید کون؟
    10جولائی 2004کو راولپنڈی پولیس کے بہادر اور فرض شناس پولیس آفیسر انسپکٹر راجہ محمد ثقلین دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اپنے ڈرائیور کانسٹیبل الطاف حسین کے ہمراہ شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے، شہید انسپکٹر راجہ محمد ثقلین انتہائی قابل اوردلیر پولیس آفیسر تھے جوہمیشہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے ،انسپکٹر راجہ محمد ثقلین شہید نہ صرف راولپنڈی بلکہ پاکستان کے مایہ ناز پولیس افسران میں شمار ہوتے ہیں،وہ ایک ماہر تفتیشی آفیسرتھے جس کی بناپر انہوں نے متعدد اہم مقدمات کی تفتیش کرتے ہوئے نہ صرف ملزمان کوگرفتارکیابلکہ ان کوقانون کے مطابق سز ا بھی دلوائی ،انہوں نے بے شمار اہم مقد ما ت کی تفتیش میں اپنا کردار ادا کیاجن میں ایرانی کیڈٹ حملہ کیس ،انٹرنیشنل صحافی قتل کیس ،اہم سرکاری و مذہبی شخصیات کے قتل کے مقدمات کے علاوہ دہشت گردی کے متعدد مقدمات کی تفتیش کرتے ہوئے نہ صرف مقدمات کوٹریس کیابلکہ دہشت گردوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی ،پیرودھائی مسجد پر دہشت گرد حملہ ،ٹیکسلا ہسپتال پر دہشت گرد حملہ ،مری سکول پر دہشت گرد حملہ ،صدرپاکستان حملہ کیس میں انہوں نے تفتیش کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ریکٹ کونہ صرف توڑا بلکہ ان کی گرفتار ی بھی کی ،انہوں نے القاعدہ کے دہشت گردوں کوبھی گرفتارکرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا،ان کی پیشہ وارانہ مہارت کایہ عالم تھاکہ آپ جس علاقہ میں تعینات ہوتے جرائم پیشہ عناصر اس علاقے کو چھوڑ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے تھے ،منشیات سمگلرز کے خلاف بھی انہوں نے بے مثال کارروائیاں کرتے ہوئے منشیات کی فیکٹریاں بند کروانے کے ساتھ ان گنت ملزمان کی گرفتارکیے اور منشیات برآمد کیں،راجہ محمد ثقلین بہادری کی ایک مثال تھے اورجان کی پرواہ کیے بغیر دہشت گردوں کے خلاف مصروف جنگ تھے ،ان کی مہارت اورپیشہ وارانہ قابلیت کی وجہ سے دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں پے درپے ناکامیوں کاسامناتھا،اسی وجہ سے 10جولائی 2004 کودہشت گردوں نے منصونہ بندی کی تحت ان پر حملہ کیا، راجہ محمد ثقلین عباس کو 24 گولیاں لگیں اورانہوں نے اپنے ڈرائیور کانسٹیبل الطاف حسین کے ساتھ جام شہادت نوش فرمایا،راجہ محمد ثقلین عباس کی بے پناہ خدمت اورجرات وبہادری کی مثال پر ستارہ شجاعت اورپریزیڈنٹ پولیس میڈل سے نوازا گیا،آپ کوایس ایچ اوپاکستان اورپنجاب پولیس کے 007 کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

  • پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری

    پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ججز کو بادشاہوں کی طرح لامحدود اختیارات حاصل نہیں، قانون کی حدود میں رہ کر فیصلے کرتے ہیں

    سابق صدر پرویز مشرف (مرحوم) کے خلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دے دیا،عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خصوصی عدالت کو کالعدم قرار د ے کر لاہور ہائیکورٹ نے پورے عدالتی نظام کو نیچا دکھایا،مصطفیٰ ایکٹ کیس کے فیصلے کا اطلاق خصوصی عدالت پر نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصی عدالت کی شق 9 کے تحت ملزم کا ٹرائل غیر حاضری میں بھی ہو سکتا ہے۔ ہائیکورٹ نے مشرف کو وہ ریلیف بھی دیا جو مانگا ہی نہیں گیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ ہی میں ہو سکتی ہے۔ مشرف کے ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ سے 2 مرتبہ رجوع کیا گیا، ججوں کو بادشاہوں کی طرح لامحدود اختیار نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کی حدود میں رہ کر فیصلے کرتے ہیں۔ ججوں کو غیر متزلزل خود مختار صوابدیدی اختیار حاصل نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کے محافظ ہوتے ہیں۔ ججز کو چاہیے کہ وہ طے شدہ قانون اور اصول کے تحت فیصلے کریں۔ ججز کو ذاتی مفاد اور ذاتی خواہشات کے بجائے طے شدہ عدالتی نظائر اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کیوں کہ مشرف نے پی سی او جی ایچ کیو راولپنڈی سے جاری کیا اس لیے لاہور ہائی کورٹ کیس سن سکتی ہے۔ سپریم کورٹ پی سی او کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔ پرویز مشرف کیخلاف غداری کی شکایت اسلام آباد میں درج ہوئی.

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سُنا دیا، عدالت نے ورثاء کیطرف سے عدم پیروی پر سزا کیخلااف اپیل مسترد کردی۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیدیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو خصوصی عدالت سے ہونے والی سزا درست قرار دے دی

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کی اپیل پر کسی نے بھی نمائندگی نہیں کی ،وکیل پرویز مشرف نے کہا کہ پروہز مشرف کے لواحقین نے میرے پیغامات پر کوئی جواب نہیں دیا، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی اپیل عدم پیروی پر غیر موثر قرار دے دی ،فیصلے میں کہا کہ عدالت کے سامنے دو سوالات تھے،کیا مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپیل سنی جا سکتی ہے،اگر سزائے موت برقرار رہتی ہے تو کیا مشرف کے قانونی ورثاء مرحوم کو ملنے والی مراعات کے حقدار ہیں، متعدد بار کوشش کے باوجود بھی مشرف کے ورثاء سے رابطہ نہیں ہو سکا،ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے سوائے اس کے کہ سزائے موت برقرار رکھیں،

    سزائے موت لاہور ہائی کورٹ کے جج مظاہر حسین نقوی نے ختم کی تھی ،پرویز مشرف 5 فروری 2023 کو وفات پاچکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے،وکیل حامد خان اور وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کرمنل اپیل ہے،جبکہ ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ کے سزا کالعدم کرنے کے فیصلے کیخلاف ہے جو آئینی معاملہ ہے، دونوں اپیلوں کو الگ الگ کر کے سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار اور اپیل دو الگ معاملات ہیںپہلے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو سن لیتے ہیں،

    وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی مخالفت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سے استفسار کیا کہ آپ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں یا حمایت؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اہلخانہ سے کوئی ہدایات نہیں اور نہ ہی اہلخانہ کو کیس بارے علم ہے،نومبر سے ابھی تک 10 سے زائد مرتبہ رابطہ کیا ہے،کیس بارے حق میں یا خلاف کوئی ہدایات نہیں دی گئیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست بھی انکو نوٹسز جاری کیے تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے اہلخانہ کو اخبار اشتہار کے زریعے نوٹس بھی کیا تھا، میں دو صورتوں میں عدالتی معاونت کر سکتا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ صرف قانونی صورتحال پر ہی عدالتی معاونت کرسکتے ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہیے، ورثا کے حق کیلئے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے،عدالت 561اے کا سہارا کیسے لے سکتی ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس عدالت کے اٹھائے گئے اقدام کو سراہتا ہوں، مشرف کے ورثا پاکستان میں مقیم نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکے لاہور ہائی کورٹ بارے تحفظات کیا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس بارے آپکے چیمبر میں کچھ گزارشات ضرور کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی کو چیمبر میں نہیں بلاتے، پرویز مشرف کے ورثاء کی عدم موجودگی میں تو ان کے وکیل کو نہیں سن سکتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 12 کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی دروازے تو کھلے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے،اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی ملوث تھے،پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی، ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام پر الگ کر کے سزا دی گئی،

    سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ سنانے کا عندیہ دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم شائد آج ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیں، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس میں پانچ منٹ کا وقفہ کردیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف مرحوم کی سنگین غداری کیس میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،توفیق آصف کے وکیل حامد خان روسٹرم پر پیش ہوئے اور کہا کہ آخری سماعت کے دوران میں اپنے دلائل مکمل کرہا تھا،میں عدالت میں تحریری دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تحریری دلائل کمرہ عدالت میں پڑھیں گے یا ہم خود پڑھ لیں ؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں میں نے تحریری معروضات جمع کروا دیں ہیں، توفیق آصف کے وکیل حامد خان نے دلائل مکمل کرلئے

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر کیا؟ کیا کہیں ذکر ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،ایسا نہیں تو پھر خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آن فیلڈ ہی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے جب فیصلہ دیا تو کیا خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی تھی،لاہور ہائیکورٹ نے جب خصوصی عدالت کے فیصلے پر کچھ نہیں کہا تو اکیڈمک مشق کی کیا ضرورت تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے پاکستان بار کونسل کے نمائندے کی تیاری نہ ہونے پر ناگواری کا اظہار کیا، مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاونت نہیں مل رہی،لاہور ہائیکورٹ سنگل بینچ نے جب فل کورٹ تشکیل تجویز کی تو اگلی تاریخ کیسے دی؟فل کورٹ تشکیل دینا نہ دینا تو پھر چیف جسٹس کا اختیار تھا،عدالت کا فیصلہ آجانے کے بعد تو ہائیکورٹ میں زیر التواء درخواست غیر موثر ہو چکی ہے،فیصلے کے بعد ہائیکورٹ میں درخواست ترمیم کے بعد کی چل رہی تھی،ہائیکورٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو نظرانداز کر کے عدالت کی حیثیت پر فیصلہ نہیں دے سکتی ،خصوصی عدالت ایک ریگولیٹر عدالت تھی ہی نہیں،وہ تو ایک فیصلے کیلئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مشرف بھی سمجھتے تھے کہ لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے بعد بھی خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار ہے،پرویز مشرف نے اسی لیے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان صفدر سے سوال کیا کہ آپ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو جانتے ہیں یا نہیں؟خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے, ہائیکورٹ کے حکم میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو ختم کرنے کا نہیں کہا گیا,

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم کرنے کی تو استدعا ہی نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کا فیصلہ آچکا تھا،سارے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر نہیں،وکیل نے کہا کہ اسی وجہ سے پرویز مشرف نے بھی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے ایک روز کا نوٹس دیا ،کیا ہائیکورٹ میں ایک روز کا نوٹس دیا جاتا ہے، فل کورٹ کی تشکیل کیلئے معاملہ بھجواتے ہوئے تاریخ کیسے دی جا سکتی ہے،ممکن ہے چیف جسٹس فل کورٹ سے متفق ہو یا نہ ہو، خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم ہونی چاہیے تھی، خصوصی عدالت صرف اسی کیس کیلئے بنائی گئی تھی جو فیصلہ سناتے ہی ختم ہو گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے متفق تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرا موقف ہے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ فیصلے کو تسلیم کرتے تو پھر یہ اپیل نہ کرتے، پرویز مشرف کے وکیل آج بھی اپیل پر کھڑے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ میں وفاقی حکومت نے اعتراض کیا تھا یا سیم پیج پر تھی،خصوصی عدالت کے فیصلے بارے ہائیکورٹ کو بتانا تو تھا، اگر آئین غصب ہو جائے تو پھر عدالت 1956 تک بھی جا سکتی ہے

    سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نےویڈیو لنک پر دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ پاکستان بار کے دلائل اپنانا چاہتے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب ماضی میں کب تک جائیں گے،کہ کیا کیا ہوا،رشید رضوی نے کہا کہ مجھے جسٹس اطہر من اللہ کا احترام ہے مگر بالکل جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں، بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،پرویزمشرف کےمارشل لاء کو قانونی کہنے والے ججوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے، کاروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کاروائی ہو گی تو فئیر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہدایات کی بات نہ کریں آپ خود ایک قانونی ماہر کی حیثیت سے بتائیں،کیا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو فیصلہ مانتے ہیں؟ پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری نظر میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، فیصلہ نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تھینک یو،آپ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا جو راستہ چنا تھا ہم اس سے متفق ہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتےہوئے کہا کہ کیا آپ بھی لاہور ہائیکورٹ میں سیم پیج پر تھے،کیا وفاق نے بھی لاہور ہائیکورٹ کو نہیں بتایا کہ اب خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی،کیا آپ نے لاہور ہائیکورٹ سے کہا نہیں کہ آپ آگے نہیں چل سکتے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سوال کا واضح جواب نہ دے سکے.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید اے رضوی صاحب ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر کسی فیصلے کوختم ہونا ہے تو اسے ہونا چاہیے،جس نے مارشل لاء کو راستہ دیا،ان ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ماضی میں ہو چکا اسے میں ختم نہیں کرسکتا،کیا ساوتھ افریقہ میں سب کو سزا ہی دی گئی تھی؟ قوم بننا ہے تو ماضی کو دیکھ کر مستقبل کو ٹھیک کرنا ہے، سزا اور جزا اوپر بھی جائے گی،کئی بار قتل کے مجرمان بھی بچ نکلتے ہیں،وکیل آکر بتائیں نہ آئین توڑنے والے ججوں کی تصویریں ہی یہاں کیوں لگی ہیں،جج ہی یہاں بیٹھ کر کیوں پوائنٹ آوٹ کریں،میڈیا بھی ذمہ دار ہے ان کا بھی احتساب ہوناچاہیے،بتائیں نہ کتنے صحافی مارشل لاء کے حامی کتنے خلاف تھے؟ ہمیں تاریح سے سیکھنا چاہیے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تاریخ پھر یہ ہے کہ جب کوئی مضبوط ہوتا ہے اس کے خلاف کوئی نہیں بولتا،جب طاقتور کمزور پڑھ جاتا ہے اس کے بعد عاصمہ جیلانی والا فیصلہ آجاتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب آپ مزید جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں سلمان صفدر آپ آج مزید کچھ کہنا چاھیں گے یا پھر اپیل تک محدود رہیں گے۔ سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس کیس میں مزید دلائل دینا چاہتا ہوں،جس قانونی نکتے پر عدالتی معاونت کرنا چاہتا ہوں اس پر آئندہ سماعت پر دلائل دونگا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو مزید مہلت دے دیتےہیں آپ تیاری کرکے آئیں اس دن آپ کو مزید مہلت نہیں ملے گی۔اس عدالت میں اگر کوئی نہیں آنا چاہتا تو زور زبردستی نہیں کرسکتے۔سلمان صفدر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عدالت پرویزمشرف کے اہل خانہ کو سوچنے کی مزید مہلت دے۔ وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ میں ججوں کے کنڈکٹ کا معاملہ بھی عدالت کے نوٹس میں لے آیا ہوں،پرویز مشرف کے اقدام کو جواز فراہم کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی کے دلائل مکمل ہوگئے

    لاہور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف توفیق آصف کی اپیل پر وکیل حامد خان نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا عدالتی معاون نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں جاری کارروائی کی حمایت کی؟وفاق نے بھی کارروائی پر اعتراض نہیں کیا،اس وقت حکومت کس کی تھی؟ وکلا نے جواب دیا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب اب ہم آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے،حامد خان صاحب آپ اپنے گھر سے ہوئی غلط بات کو غلط کہنے کھڑے ہیں،حامد خان صاحب اسی لیے آپ کا قد بڑا ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں سب ایک ہی پیج پر تھے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیج کیا تھا؟ سلمان صفدر نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگرہم اتنی دیر تک مہلت دیتےہیں تو اس کیس کی محرکات، اثرات پر جتنی بھی قانونی معاونت ہے اس پر تیاری کرکے آئیے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ کیس بہت اہم ہے اس میں تشریح کا معاملہ بھی ہے،سلمان صفدر نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ اس میں مئوکلان سے ہدایات لے کر عدالت کی معاونت کروں،

    عدالت نے کہا کہ سماعت کے دوران حامد خان، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ، سندھ بار کونسل کے وکیل رشید رضوی اور دیگر وکلا نے دلائل دیئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف جب کارروائی شروع ہوئی اسوقت کی حکومت بھی کارروائی نہیں چاہتی تھی،اس وقت کی حکومت کو بھی اس عدالت نے کارروائی کی طرف مائل کیا،سنگین غداری کیس جب شروع ہوا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کے باوجود انہوں نے 12 اکتوبر کو کارروائی کا حصہ نہیں بنایا؟چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ کی باتوں سے یہی لگتا ہے کہ ایک شخص ہی حکومت چلارہا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سب سول حکومتیں ایک ہی پیج پر تھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو برملا الفاظ میں پرویز مشرف کو جواز دینے والے فیصلے کی مزمت کیوں نہیں کرنی چاہیے،حامد خان کے دلائل مکمل ہو گئے

    پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آگئے ،کہامیں صرف سزا کے خلاف اپیل پر فوکس کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو آئندہ سماعت پر سنیں گے،سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں ٹرائل چلا کر سزا سنائی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کا پرویز مشرف کے ورثا سے رابطہ ہوا،سلمان صفدر نے کہا کہ میں نے کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی،میری استدعا ہے پرویز مشرف کی فیملی کو وقت دیا جائے انہوں نے 4 سال یہ اپیل مقرر ہونے کا انتظار کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سزا برقرار رہتی ہے تو پرویز مشرف کی پینشن اور مراعات پر بھی اثر پڑے گا،اس سوال پر بھی آئندہ سماعت پر معاونت کریں،ہم سزا بھی برقرار رکھیں اور سب کو پینشن اور مراعات بھی ملتی رہیں یہ نہیں ہو گا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے وفاق کا موقف تو سنا نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کنفیوز لگ رہے ہیں انہیں شاید وہ سیم پیج مل نہیں رہا،تاریخ میں نہیں جانا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ کب تک کہیں گے تاریخ میں نہیں جانا چاہیے، ہمیں اب ان باتوں پر جانا ہے کہ کس نے کیا کیا،
    آج ہم ملک کی 76 ویں سالگرہ منارہے ہیں میں آپ کو سننا چاہتا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف نے آئین توڑا اسمبلیوں کو معطل کیا، ان ججز کو کیا کہیں گے جنہوں نے اس سارے عمل کو قانون جواز بنایا،بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،کارروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کارروائی ہوگی تو فیئر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، اس عدالت کے ججز نے اپنے کاز کیلئے فیصلے دیئے، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے تھا، تین نومبر پر کاروائی ہوئی لیکن 12 اکتوبر پر نہیں، ہمیں سچ بولنا چاہیے جو حقیقت ہے،جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افریقہ اور جرمنی نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا، جزا سزا تو اللہ دے گا، کم از کم تسلیم تو کریں کیا صحیح تھا کیا غلط، اسکولوں میں بھی آئین پڑھایا جانا چاہیے،انگلینڈ میں اب موومنٹ آ رہی ہے کہ غلطیوں کو مانیں، جس کی لاٹھی اسکی بھینس والا اصول درست نہیں ہو سکتا،جنہوں نے بھی ڈکٹیٹر کے فیصلوں کو تسلیم کیا ان کا بتائیں،قانون کے توڑنے کو درست نہیں کہا جا سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائی لارڈ نے درست کہا قومیں غلطیوں سے سیکھتی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے لوگ تھے جو مضبوط رہے، آپ کو آئندہ تاریخ کب کی چاہیے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سردی کی چھٹیوں کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ لیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکمنامہ لکھواتے ہوئے کہا کہ مشرف کے وکیل نے بتایا کہ انہیں مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے کی ہدایت کی تھی،وکیل کے مطابق پرویز مشرف نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار کی ہدایت نہیں کی،پرویزمشرف کے وکیل نے چھٹیوں کے بعد تاریخ مانگی،پرویزمشرف کے وکیل اس دوران مرحوم جنرل کی فیملی سے رابطے کی کوشش کریں گیے،پرویز مشرف کے وکیل سے عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟کیا سزا برقرار رہنے پر مشرف کی فیملی کو مراعات دینی چاہیں یا نہیں؟

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • سپریم کورٹ،پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے منظور

    سپریم کورٹ،پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے منظور

    سپریم کورٹ،سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کی سزا سے متعلق مختلف اپیلوں پر سماعت ہوئی
    پاکستان بار کونسل کی جانب سے عابد ساقی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچھا ہے کہ تمام وکلاء موجود ہیں،بینچ کے بارے میں چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں،وضاحت کرنا چاہتا ہوں میں بینچز تبدیل کرنے کے حق میں نہیں،اس بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ کو شامل کرنے کی ایک وجہ ہے،جسٹس منصور علی شاہ ماضی میں کیس سننے والے بینچ کا حصہ تھے،اس کیس میں کچھ اپیلیں 2019 اور کچھ 2020 کی ہیں،2019سے اب تک کیس مقرر کیوں نہیں ہوا ؟کیا کسی وکیل نے التوا کی درخواست دی تھی،وکلا نےعدالت میں کہا کہ ہم میں سے کسی نے التوا کی درخواست نہیں کی کیس ویسے ہی نہیں لگایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس کو پہلی مرتبہ سن رہے ہیں اس لیے ایک ایک نکتہ سمجھ کر آگے بڑھیں گے،

    سپریم کورٹ نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کی سزا کیخلاف اپیل کو ابتدائی سماعت کیلئے منظور کر لیا
    سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے دلائل دیئے گئے،سابق صدر پرویز مشرف سنگین غداری کیس،سپریم کورٹ نے پھانسی کی سزا کیخلاف پرویز مشرف کی اپیل پر اعتراضات ختم کر دیئے عدالت نے پرویز مشرف اپیل کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتراضات ہم نے ختم کر دیئے اب نمبر لگ جائے گا۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں جنرل ر پرویز مشرف کی نمائندگی کر رہا ہوں،پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سنائی گئی سزا کیخلاف براہ راست اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف براہ راست اپیل سپریم کورٹ میں آسکتی ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ فوجداری قانون میں ترمیم کے بعد خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،خصوصی عدالت کا پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ متفقہ نہیں تھا،جنرل ر پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ میں آپ کی درخواست کو نمبر کیوں نہیں لگا؟ سلمان صفدر نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا کہ سزا یافتہ کے سرنڈر کیے بغیر اپیل دائر نہیں ہو سکتی،سپریم کورٹ نے ان چیمبر سماعت میں اپیل اعتراضات کے ساتھ کھلی عدالت میں مقرر کرنے کا حکم دیا،پرویز مشرف کی سزا کا فیصلہ اس لیے چیلنج کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی،میرا موقف تھا کہ ایک شخص کا ٹرائل اور سزا عدم موجودگی میں ہوسکتی ہے تو اپیل کیوں نہیں،میں کہتا رہا کہ پرویز مشرف کی غیر حاضری بدنیتی نہیں،مشرف سزا کے بعد ملک سے نہیں بھاگے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ چمبر اپیل میں جج اپیل مسترد کرتا ہے یا منظور، تیسرا آپشن یہ ہے کہ جج اپیل کو اوپن کورٹ میں مقرر کردے، اپیل اوپن کورٹ میں کیوں مقرر نہ ہوئی، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب شاید نہ دے سکوں،میں مشرف کے ساتھ اس طرح رابطہ میں نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم جب اپنا احتساب نہیں کریں گے تو دوسروں کا کیسے کریں گے،چیمبر اپیل میں جب آرڈر ہوگیا تھا تو اس اپیل کو مقرر ہونا چاہئے تھا، سلمان صفدر نےبے نظیر بھٹو احتساب کمشنر کیس کا حوالہ دیا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے پہلے اپیل کا سنا جانا بنیادی حق ہے،چیمبر میں بھی استدعا کی تھی کہ معاملہ عدالت میں مقرر کیا جائے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیمبر سماعت کے بعد اپیل کب مقرر ہوئی تھی؟ وکیل نے کہا کہ چیمبر سماعت کے بعد آج اپیل سماعت کیلئے مقرر ہوئی ہے، اپیلیں اتنی تاخیر سے سماعت کیلئے کیوں مقرر ہوئیں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالت کی غلطی ہے تو بتائیں آپ سینئر وکیل ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ٹرائل تو عدالت نے جلد بازی میں کیا تھا لیکن اپیل سننے میں عدالتوں کو جلدی نہیں تھی،جب تک پرویز مشرف سے رابطے میں تھا وہ اپیل مقرر کرانا چاہتے تھے،پرویز مشرف کے اہل خانہ سے تین دن قبل رابطہ ہوا اور وہ اپیل سماعت کیلئے منظور نہ ہونے پر غم و غصے میں ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیمبر میں جج کا موقف تھا کہ لارجر بینچ اپیلوں پر سماعت کرے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کی وفات کب ہوئی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرے پاس ان کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ نہیں، فروری 2023 میں مشرف کا انتقال ہوا،2022 کے بعد سے پرویز مشرف بول چال کے قابل نہیں تھے،اس کے بعد سے میں ان سے ہدایت لینے کیلئے رابطہ میں نہیں رہ سکا،سلمان صفدر نے مشرف کے لواحقین سے تازہ ہدایات لینے کی مہلت مانگ لی،کہا پرویز مشرف کی فیملی میں اپیل مقرر نہ ہونے پر ناراضگی پائی جاتی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابھی ہم پرویز مشرف کی مرکزی اپیل نہیں متفرق درخواست کی بات کر رہے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ متفرق درخواست میں مرکزی اپیل مقرر کرنے کی استدعا تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل فکس کرنے کی متفرق درخواست پر کسی کو اعتراض تو نہیں، کسی فریق کی جانب سے اپیل فکس کرنے پر اعتراض نہیں اٹھایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پرویز مشرف کے لواحقین سے تازہ ہدایات لے لیں کیا وہ اپیل کی پیروی کریں گے،عدالت نے پرویزمشرف کے وکیل کو آئندہ سماعت پر اسلام آباد آنے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر متفرق درخواست کی حد تک بات ختم ہے تو آگے بڑھیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دینے والے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر معاونت نہیں کروں گا، میں اپنا کیس صرف سزا کے خلاف اپیل تک رکھوں گا،

    مشرف کیس پر سپریم کورٹ نے متفرق درخواستوں پر اپیلیں منظور کرتے ہوئے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکمنامہ جاری کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ مشرف کے وکیل نے بتایا کہ اپیل پر رجسٹرار نے اعتراض لگایا تھا،وکیل نے بتایا کہ اعتراض کے خلاف اپیل جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں مقرر ہوئی،وکیل نے بتایا کہ چیمبر سے جج نے کیس لارجر بینچ میں لگانے کا کہا،وکیل نے بتایا اس کے بعد کیس مقرر نہیں ہوا اور مشرف کی وفات ہو گئی،مشرف کے وکیل نے کہا کہ آئین پاکستان بھی اپیل کا حق دینے کی بات کرتا ہے،کیس میں تمام فریقین سے پوچھا گیا کہ مشرف کی اپیل کو مقرر کرنے پر کسی کو اعتراض تو نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل سمیت کسی فریق نے اعتراض نہیں اٹھایا،افسوس ناک ہے کہ چیمبر میں جج کے حکم کے باوجود اپیل آج تک مقرر نہیں ہوئی،کیس مقرر نہ ہونے پر پرویز مشرف یا ان کے وکیل ذمہ دار نہیں،عدالت کے کنڈکٹ کی وجہ سے سزا یافتہ مجرم کا بھی اپیل کا حق متاثر نہیں ہونا چاہیے، عدالت نے سلمان صفدر کو پرویز مشرف کے اہل خانہ سے اپیل کی پیروی پر ہدایات لینے کا حکم دے دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ شفاف ٹرائل کا بنیادی حق آئین ہر شہری کو دیتا ہے،پرویز مشرف کی اپیل زیرالتوا ہونے کے دوران انتقال کا معاملہ بعد میں دیکھا جائے گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف کے اہلخانہ پاکستان میں ہیں؟وکیل نے کہا کہ میرا خیال ہے سابق صدر کی بیوہ ملک میں موجود ہیں،عدالت نے پرویز مشرف کی سزا کیخلاف اپیل کی حد تک آج کی عدالتی کاروائی نمٹا دی

    حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کا قیام ہی غیرقانونی قرار دیدیا تھا، سپریم کورٹ نے سابق صدر کیخلاف خصوصی عدالت کو جلد ٹرائل مکمل کرنے کو حکم دیا تھا،لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ احکامات کو بھی خاطر میں نہیں لایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ کی اپیلوں پر نمبر کیوں نہیں لگا؟ رشید رضوی نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں فریق نہ ہونے کی وجہ سے درخواستوں کو نمبر الاٹ نہیں ہوا تھا، عدالت نے توفیق آصف، پاکستان بار، سندھ ہائی کورٹ بار کی اپیلوں کو نمبر لگانے کی ہدایت کر دی،حافظ عبدالرحمان انصاری کی اپیل پر بھی رجسٹرار آفس کو نمبر الاٹ کرکے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی، حامد خان نے کہا کہ خصوصی عدالت اسلام آباد میں قائم ہوئی یہاں ہی فیصلہ ہوا تھا، لاہور ہائی کورٹ کا اسلام آباد کی عدالت کیخلاف دائرہ اختیار نہیں بنتا تھا، سپریم کورٹ یکم اپریل2019 میں خصوصی عدالت کے حوالے سے احکامات دے چکی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے شاید یکم اپریل کی تاریخ کی وجہ سے فیصلے کو سنجیدہ نہیں لیا، کیا آپ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو عدالتی فیصلہ مانتے ہیں؟ حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیرآئینی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر اس وقت کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا خصوصی عدالت کے حوالے سے ماضی میں کوئی مثال ملتی ہے؟ حامد خان نے کہا کہ پہلی مرتبہ آئین شکنی پر کسی کو ٹرائل ہوا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا اسکی بھی کوئی مثال نہیں ملتی، سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کا قیام کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری کر دیئے،عدالت نے کہا کہ پرویز مشرف کے اہلخانہ، وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف سے متعلقہ اپیلوں پر مزید سماعت 21 نومبر تک ملتوی کر دی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ دینے والی خصوصی عدالت سے متعلق اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ دینے والی خصوصی عدالت سے متعلق اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے آئین شکنی پر سزائے موت کے فیصلے کے خلاف سابق صدر پرویز مشرف کی اپیل اور سزائے موت دینے والی خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دینے کے خلاف بار کونسل کی دائر اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ دونوں اپیلوں کی سماعت کرے گا عدالت نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دئیے۔

    پرویز مشرف کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مرحوم وقار سیٹھ، سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس نذر اکبر اور لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد فضل کریم پر مشتمل خصوصی عدالت نے 2014میں دائر مقدمہ چلانے کے بعد اکثریتی رائے سے17دسمبر 2019 کو سزائے موت دی تھی جس کے خلاف پرویز مشرف نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی۔

    لاہور چڑیا گھر کو تین ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ

    تاہم بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں بینچ نے اس خصوصی عدالت کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا تھا ،لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیلیں وکلا کی جانب سے داخل کی گئیں تھیں جو 2019سے سپریم کورٹ میں زیر التوا رہیں اور 5 سال بعد پہلی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔

    پرویز مشرف رواں سال علالت کے باعث بیرون ملک انتقال کر گئے تھے۔

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

  • پرویز مشرف کی بہن کے گھر 2002 میں واردات کرنیوالے گینگ کےکارندے گرفتار

    پرویز مشرف کی بہن کے گھر 2002 میں واردات کرنیوالے گینگ کےکارندے گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 2002 میں سابق صدر جنرل ر پرویز مشرف کی بہن کے گھر ڈکیتی کرنے والے گینگ کے کارندوں کو گرفتار کیا ہے

    سرجانی ٹاؤن پولیس نے کاروائی کی، کاروائی کے دوران چھ رکنی گینگ کو گرفتار کیا گیا، کاروائی ناردرن بائی پاس کے قریب کی گئی، برمی گینک کے نام سے مشہور جرائم پیشہ افراد بین الصوبائی وارداتیں کرتے تھے، پولیس حکام کے مطابق گینگ کے اراکین وارداتوں کے دوران خواتین کے ساتھ نازیبا حرکات بھی کرتے تھے، ایس ایس پی ویسٹ نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ برمی گینگ کے ساتھیوں نے 2002 میں سابق صدر پرویز مشرف کی بہن کے گھر بھی واردات کی تھی،پولیس حکام کے مطابق برمی گینگ کا ماسٹر مائنڈ 2 روز قبل پاکستان بازار میں پولیس مقابلے میں مارا گیاہے،

    پولیس حکام کے مطابق شہر میں اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتیوں سمیت سنگین جرائم کی وارداتوں میں ملوث غیر ملکی،برمی گینگ ے گرفتار کیے گئے ڈاکوؤں میں محمد علی ، اسماعیل، سکندر، حبیب الرحمن، کبیر اور یونس شامل شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان کا ایک ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا

    دوسری جانب پاکستان بازار میں پولیس مقابلے میں مارے گئے برمی گینگ کے ماسٹر مائنڈ کی شناخت عبدالحفیظ اور ابوالحسن کے ناموں سے سے ہوئی، ملزمان خود کو پولیس اور ایجنسیوں سے تعلق ظاہر کر کے گھروں میں داخل ہوتے تھے،ملزمان زیادہ تر وارداتیں ڈسٹرکٹ کورنگی ، ایسٹ ، سینٹرل اور ویسٹ میں وارداتیں کرتے تھے

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    نوجوان کے گلے میں زنجیر ڈال کر ملزمان کا تشدد، ویڈیو وائرل

  • پرویز مشرف پر مبینہ قاتلانہ حملے کے قیدی کی جیل میں موت

    پرویز مشرف پر مبینہ قاتلانہ حملے کے قیدی کی جیل میں موت

    سابق صدر جنرل ر پرویز مشرف پر مبینہ قاتلانہ حملے کے قیدی کی جیل میں موت ہو گئی ہے
    پرویز مشرف پر مبینہ قاتلانہ حملے کا قیدی پنجاب کے ضلع ساہپوال کی جیل میں قید تھا، کرم دین نامی قیدی کو انسداد دہشت گردی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی ، کرم دین 18 برس سے جیل میں تھا اور اسکی عمر 50 برس تھی، گزشتہ روز کرم دین جیل میں اچانک بیہوش ہو گیا ،اسکو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسکی موت ہو گئی، پولیس نے نعش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی،ورثا نعش کو صادق آباد لے گئے

    دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساہیوال نے قیدی کرم دین کی موت کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کو انکوائری آفیسر مقرر کر دیا ہے اور قیدی کی ہلاکت کی رپورٹ طلب کر لی ہے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست خارج

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے پرویز مشرف نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست خارج کردی۔ عدالت نے درخواست غیر موثر ہونے پر خارج کی ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کیا یہ درخواست غیر موثر نہیں ہوگئی ،درخواست گزار توفیق آصف نے عدالت میں کہا کہ اگر درخواست چھ سال پہلے لگ جاتی تو غیر موثر نہ ہوتی۔ایڈووکیٹ توفیق آصف نے کہا کہ ہمارے خدشات تو درست ثابت ہوئے ،پرویز مشرف باہر گئے پھر واپس نہیں آئے۔ جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بس اب اللہ پر چھوڑ دیں۔ وکیل نے کہا کہ بس اب تو اللہ پر ہی چھوڑ رہے ہیں۔

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے