Baaghi TV

Tag: پشاور ہائیکورٹ

  • سانحہ سوات :  رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع ، حکومتی اقدامات اور نظام میں خامیوں کا انکشاف

    سانحہ سوات : رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع ، حکومتی اقدامات اور نظام میں خامیوں کا انکشاف

    پشاور ہائیکورٹ میں سانحہ سوات سے متعلق 384 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرا دی گئی۔

    عدالت نے دریا کنارے غیر محفوظ تعمیرات اور سیلابی خطرات کے پیش نظر دریاؤں کو محفوظ بنانے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی تھی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے 10 افسران اور ذمے دار افراد کے بیانات قلمبند کیے اور واقعے کی تحقیقات کیلئے محکموں کے افسران کو الگ الگ تفتیش کیلئے بلایاجن میں سوات پولیس کے سربراہ، ڈی جی ریسکیو، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈپٹی کمشنر سوات، ٹی ایم او سوات، اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پولیس، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر محکموں نے اپنی تفصیلی رپورٹس جمع کرائیں۔ ان رپورٹس میں سیلاب سے پہلے اور بعد میں کی گئی تیاریوں، حکومتی ردعمل اور معطل کیے گئے افسران کے حوالے سے تفصیلات موجود ہیں رپوٹ میں واقعے کے بعد حکومتی اقدامات، معطل افسران، سیلاب سے پہلے اوربعد میں کی گئی تیاریوں کی تفصیلات، اور سانحہ سے قبل کیے گئے اقدامات اور نظام میں موجود خامیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سانحہ سوات کے 3 دن بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کی ہدایت کی تاہم اس سے پہلے کسی موثر اقدام کا کوئی ثبوت نہیں ملا، رپورٹ میں بارشوں سے جاری پیشگی آگاہی پیغامات کے ثبوت بھی عدالت کو فراہم کیے گئے،رپورٹ میں محکموں کی باہمی کوآرڈینیشن کی کمی اور خطرات سے نمٹنے کے لیے مناسب حکمت عملی نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مون سون بارشوں کی پیش گوئی، دفعہ 144 کے نفاذ اور خطرات سے آگاہی سے متعلق جاری کردہ اعلامیے موجود تھے، تاہم ان پر موثر عملدرآمد نہیں کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بروقت پیشگی آگاہی دینے کے شواہد بھی رپورٹ میں شامل ہیں، مگر نظام کی خامیوں نے نقصان کو بڑھا دیا۔

    آئندہ ماہ ای وی پنک موٹر سائیکل مفت میں خواتین کو دی جائیں گی، شرجیل میمن

  • پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی درخواستیں قابل سماعت قرار

    پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی درخواستیں قابل سماعت قرار

    پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی جانب سے دائر درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تحریری حکم نامے کے ذریعے سنایا۔

    عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دینے کے دلائل مسترد کر دیے۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ اپنے آئینی اختیارات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے ملزمان کو آئین کے تحت ہائیکورٹ میں رٹ دائر کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

    حکم نامے کے مطابق، وکیلِ صفائی نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزاروں کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ان پر الزام کیا ہے۔ عدالت نے وفاق کا یہ مؤقف ناقابلِ قبول قرار دیا کہ اپیل کا وقت گزر چکا ہے، کیونکہ اگر اپیل کا کوئی فورم دستیاب نہ ہو یا وقت گزر چکا ہو تو رٹ پٹیشن ہی واحد راستہ بچتا ہے۔

    مزید کہا گیا کہ وفاقی حکومت یہ ثابت نہیں کر سکی کہ ملزمان کو فیصلے کی کاپی یا مقدمے کا ریکارڈ فراہم کیا گیا، لہٰذا یہ ملزمان کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ضروری ریکارڈ تک رسائی حاصل کریں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ متعلقہ ریکارڈ اور تفصیلات ملزمان کو فراہم کی جائیں۔

    نادرا کی یتیم و لاوارث بچوں کی رجسٹریشن مہم، 106 بچوں کا اندراج مکمل

    بلوچستان میں 6 ماہ کے دوران دہشتگردی کے 501 واقعات، 257 افراد جاں بحق

    پی ٹی آئی قافلہ لاہور پہنچ گیا، یاسر گیلانی سمیت 4 کارکن گرفتار

    کراچی میں بچوں کے اغوا اور گمشدگی میں خطرناک اضافہ

    ایران سے 5 لاکھ افغان باشندے ملک بدر، کریک ڈاؤن تیز

  • مخصوص نشستوں کی تقسیم کار کے خلاف  ن لیگ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    مخصوص نشستوں کی تقسیم کار کے خلاف ن لیگ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کار کے خلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا-

    پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اعلامیہ معطل کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن کو 10 روز میں صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشستیں دوبارہ سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرنے کا اعلامیہ جاری کرنے کی ہدایت کردی،پشاور ہائی کورٹ نے دوبارہ سیٹوں کی تقسیم تک مخصوص نشستوں پر حلف برداری سے بھی روک دیا۔

    پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن 10 روز میں تمام سیاسی جماعتوں کو سن کر فیصلہ کرے اور مخصوص نشستیں ان جماعتوں میں تقسیم کرے، الیکشن کمیشن مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف) اے این پی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو سن کر دوبارہ یہ تشستیں تقسیم کرے۔

    قبل ازیں جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کار کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی، جس میں اسپیشل سیکرٹری لا الیکشن کمیشن محمد ارشد، وکیل الیکشن کمیشن محسن کامران، مسلم لیگ ن کے وکیل عامر جاوید، بیرسٹر ثاقب رضا، جے یو آئی کے وکیل نوید اختر، فاروق آفریدی عدالت میں پیش ہوئے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے جب مخصوص نشستوں کی تقسیم کی تو اس وقت مسلم لیگ ن کے 6 ارکان کاؤنٹ کیے مسلم لیگ ن نے 8 فروری الیکشن میں 5 جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کی امیدوار کی کامیابی نوٹیفکیشن کے بعد 3 دن میں آزاد امیدواروں کو کسی پارٹی کو جوائن کرنا ہوتا ہے اور آزاد امیدوار حسام انعام اللہ مقررہ وقت میں مسلم لیگ ن کو جوائن کیا ابھی امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن باقی تھا، الیکشن کمیشن نے 22 فروری کو مخصوص نشستوں کی تقسیم کی۔

    مخصوص نشستوں کی تقسیم کار کے خلاف ن لیگ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    درخواست گزار کے وکیل کے مطابق خیبرپختونخوا میں 26 خواتین کی مخصوص نشستیں ہیں اور 4 اقلیت کی نشستیں ہے پی کے 82 سے ملک طارق اعوان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن 22 فروری کو جاری کیا جاتا ہے، 23 فروری کو ملک طارق اعوان نے مسلم لیگ کو جوائن کیا اور اسی دن الیکشن کمیشن کو لیٹر جاری کیا جاتا ہے مسلم لیگ ن کی اسمبلی میں 7 نشتیں ہوگئیں، 4مارچ کو اقلیت کی نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، اقلیت کی نشست ایک جے یو آئی، ایک مسلم لیگ ن، ایک پی پی پی کو دی گئی جب کہ ایک سیٹ کو خالی رکھا کہ یہ ٹاس کے ذریعے مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کو دی جائے گی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس: جلد سماعت کیلئےعمران خان ، بشریٰ بی بی کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    وکیل کے مطابق اسی 4 مارچ کو خواتین کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن کی 6 نشستیں کاؤنٹ کی جاتی ہیں۔ طارق اعوان کو اقلیت کی نشست پر مسلم لیگ ن کا شمار کیا جاتا ہے اور خواتین کی سیٹوں پر آزاد قرار دیا جاتا ہے،جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ مسلم لیگ ن کی اب 8 مخصوص نشستیں ہیں؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ ملک طارق اعوان نے 22 فروری کے بعد جوائن کیا جب کہ آئین میں لکھا ہے کہ آزاد امیدوار 3 دن میں کسی پارٹی کو جوائن کرے گا، 22 کو نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے اور ایک دن بعد وہ مسلم لیگ ن کو جوائن کرتے ہیں۔

    وکیل کے مطابق مقررہ مدت میں جوائن کرنے کے باوجود ملک طارق اعوان کو آزاد ڈکلیئر کیا جاتا ہے۔ ہم نے الیکشن کمیشن کو بھی درخواست دی کہ دو آزاد امیدوار مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے، نشستوں کی تعداد 7 ہے۔ مسلم لیگ ن کی مخصوص نشستوں کی تعداد 9 ہونی چاہیے اور اقلیت کی ایک نشست ٹاس پر کی جائےے یو آئی کو فریق نہیں بنایا، ہم اقلیت کی نشست پر منتخب گجرال سنگھ کی طرف سے ہیں۔

    محسن نقوی کا حوالہ ہنڈی اور بھکاری مافیا کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کا حکم

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ سینٹ الیکشن ملتوی ہوں۔ عدالت اس کو الیکشن کمیشن بھیجنا چاہتی ہے تو 3 دن میں الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرےجسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ ہمیں سمجھا دیں کہ جب پراسس مکمل نہیں ہوتا تو کیسے نشستوں کی تقسیم کرسکتے ہیں؟ جس پر الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکرٹری لا نے بتایا کہ الیکشن کے 21 دن بعد اسمبلی کا اجلاس ہونا ہوتا ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ 22 فروری آخری تاریخ دیتے ہیں کہ اس وقت تک پارٹی جوائن کریں۔ آپ نے 5 سیٹیں 22 فروری کی پارٹی پوزیشن پر دی ہیں۔ 21 سیٹیں تو مارچ میں دی ہیں، اس کی کیا لاجک ہے؟۔

    اسپیشل سیکرٹری لا نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے 22 فروری کی پارٹی پوزیشن پر نشستیں دی ہیں، جس پر جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ اگر آپ 22 کو ساری مخصوص نشستیں دیتے تو پھر اور بات تھی،جے یو آئی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جس پارٹی کی نشستوں کو چیلنج کیا ہے اس پارٹی کو فریق بنایا جائے۔

    مودی سرکار نے بھارت کو مندر، مسجد اور نفرت کی سیاست میں الجھا دیا ہے، کانگریس رہنما

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ایک جولائی کو مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ اس پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن میں سریش کمار نے درخواست دائر کی تھی، وہ یہاں پر درخواست گزار نہیں ہے۔ طارق اعوان بھی یہاں پر درخواست گزار ہے۔

    بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال

    سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال کر دیا۔

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے گھی اور اسٹیل ملز ایسوسی ایشن کی اپیلوں پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال کر دیا ،گھی واسٹیل ملز ایسوسی ایشن کے وکیل حافظ احسان کا کہنا تھا ہائیکورٹ پارلیمان کے متبادل قانون سازی نہیں کر سکتی، ہائیکورٹ درخواست میں کی گئی استدعا سے بڑھ کر ریلیف نہیں دے سکتی۔

    وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا پشاور ہائیکورٹ نے اختیارات سے تجاوز کیا، یہ اربوں روپے کے ٹیکس کا معاملہ ہے، فاٹا اور پاٹا کیلئے کسٹم کلیئرنس کراتے وقت آرڈر دینا ہوتا تھاعدالت نے قانون سے ہٹ کر چیک دینے کا حکم دے دیا۔

    سچ بولنے کا جرم،بھارت میں بین الاقوامی میڈیا پر بھی پابندیاں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے اور اپیلوں پر مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ترمیمی ایکٹ کالعدم قرار دیا تھا۔

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی:صدر عالمی بینک بھی بول پڑے

  • خدیجہ شاہ کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    خدیجہ شاہ کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی رہنما خدیجہ شاہ کی حفاظتی ضمانت میں 12 مارچ تک توسیع کردی۔

    باغی ٹی وی : پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس عبد الفیاض نے پی ٹی آئی رہنما خدیجہ شاہ کی مقدمات کی تفصیل کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی، عدالت نے خدیجہ شاہ کی ضمانت میں 12 مارچ تک توسیع کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کو کسی بھی درج مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔

    درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ خدیجہ شاہ کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں لیکن تفصیل اب تک نہیں بتائی گئی ہے نیب کے وکیل نے کہا کہ نیب کی رپورٹ ابھی تک نہیں آئی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے سنیارٹی کے خلاف درخواست دائر کر دی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ منی لانڈرنگ کیس میں ایک انکوائری زیر التوا ہے وفاقی حکومت کی رپورٹ بھی ابھی تک نہیں آئی، عدالت نے وفاقی حکومت سمیت متعلقہ فریقین سے دوبارہ تفصیل طلب کرلی۔

    کلائمیٹ رسک انڈیکس 2025 کی رپورٹ جاری

  • پی ٹی آئی احتجاج کیس وکلاء لڑ پڑے، ججز سماعت چھوڑ گئے

    پی ٹی آئی احتجاج کیس وکلاء لڑ پڑے، ججز سماعت چھوڑ گئے

    پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اور وکلاءالجھ پڑے تو ججز سماعت ادھوری چھوڑ کر چلے گئے.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ارشدعلی اور جسٹس وقار احمد نے کی،عدالت نے 24نومبر احتجاج کیلئے سرکاری وسائل کے استعمال پر ایڈووکیٹ جنرل سے رپورٹ طلب کرلی۔ججز نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا الزام ہے کہ صوبائی حکومت سرکاری وسائل لے کر اسلام آباد جاتی ہے، کیا صوبائی حکومت نے ہدایات جاری کی ہے کہ مشینری کا استعمال کیا جائے۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے روسٹرم پر بلالیا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ یہ غلط بیانی ہے۔حکومت نے کوئی ہدایت نہیں دی اس لئے درخواست قابل سماعت نہیں خارج کی جائے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ درخواستگزار کا الزام ہے کہ آپ سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ نے کہاکہ اسلام آباد میں اس نوعیت کا کیس چل رہا ہے سر یہ درخواست قابل سماعت نہیں۔وکیل درخواستگزار نے کہاکہ حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ میں آگ لگی تو ریسکیو گاڑیاں کم پڑ گئی تھیں۔پی ٹی آئی احتجاجوں میں ریسکیو گاڑیاں لے کر گئی۔گاڑیاں اب اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔جسٹس ارشد نے ریمارکس دیئے کہ درخواست میں ہے سرکاری وسائل اور ملازمین کو احتجاج میں آنے کا حکم دیا گیا۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا ہم نے سرکاری وسائل سے متعلق کوئی احکامات جاری نہیں کئے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ چیف سیکرٹری سے پوچھ کر بتائیں کہ ان کو ایسے احکامات ملے ہیں یا نہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ میں گزشتہ روز وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھ بیٹھاتھا ایسے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے، میں پھر بھی پوچھ لیتا ہوں۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ ہمیں کچھ دیر تک آگاہ کریں کہ کیا معاملہ ہے۔وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب کیا احکامات ہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ درخواست درست نہیں، ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔جسٹس ارشدعلی نے ریمارکس دیئے کہ ہم دائرہ اختیار پر بات نہیں کر رہے ہیں۔
    جسٹس ارشد علی نے سوال کیا کہ یہ بتائیں حکومتی اداروں کو کوئی احکامات جاری ہوئے یا نہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ نہیں، سرکاری اداروں اور اہلکاروں کو کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایسے معاملات میں تحریری احکامات جاری نہیں ہوتے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ اگر سرکاری ملازمین خود جاتے ہیں تو ہم ان کو تو نہیں روک سکتے۔جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دئیے کہ ایسا احتجاج نہ ہو کہ سڑکیں بند ہو لوگوں کو مشکلات نہ ہو ۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ احتجاج سے تکلیف تو ہمیں بھی ہوتی ہے،ایک دفعہ سوات سے آرہے تھے تمام راستے بند تھے،کن کن راستوں سے آنا پڑا۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمارے گھر کو آگ لگے گی اور انہوں نے مشینری احتجاج پر لگائی ہوگیہم ایسا آرڈر کیسے کر سکتے ہیں جو کل نافذالعمل نہ ہو۔ان کو روڈ بند کرنے سے روکیں، سرکاری وسائل استعمال کرنے سے روکیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 800 کنٹینرز لگا رکھے ہیں، شہری حقوق سلب ہورہے ہیں تو جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دئیے کہ عوام صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں سے تنگ ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئین مجھے جلسے کرنے کی اجازت دیتا ہے اور یہ کسی اور کے کہنے پر رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔درخواست گزار کے وکلا اور ایڈوکیٹ جنرل آپس میں الجھ پڑے جس پر پشاور ہائیکورٹ کے ججز احتجاجاً اٹھ کر چلے گئے اور سماعت کو ادھورا چھوڑ دیا۔

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • بشریٰ بی بی کو درج مقدمات میں 14 روز تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    بشریٰ بی بی کو درج مقدمات میں 14 روز تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پشاور ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کو درج مقدمات میں 14 روز تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : بشریٰ بی بی کی راہداری ضمانت اور مقدمات کی تفصیل سے متعلق درخواستوں کی پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللّٰہ نے درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت پشاور ہائی کورٹ نے عدالت نے نیب، ایف آئی اے، وفاق اور صوبائی حکومت سے مقدمات کی تفصیل طلب کر لیں،بعد ازاں بشریٰ بی بی کو حفاظتی ضمانت دے دی اور درج مقدمات میں 14 روز تک گرفتار نہ کرنے کا حکم بھی دیا۔

    دوسری جانب بشریٰ بی بی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا امکان ہے، ذرائع کاکہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کچھ دیر بعد اڈیالہ جیل روانہ ہوں گی،پشاور ہائیکورٹ سے راہداری ضمانت کے بعد بشریٰ بی بی کسی بھی صوبے میں جا سکتی ہیں،ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی بانی پی ٹی آئی سے کئی اہم معاملات پر گفتگو کریں گی۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ کو گزشتہ جمعرات کو رہا کیا گیا تھا جس کے ایک دن قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری تحائف کی غیر قانونی فروخت سے متعلق کیس میں ان کی ضمانت منظور کی تھی، اڈیالہ جیل راولپنڈی سے ان کی رہائی کے نتیجے میں ان کی تقریباً 9 ماہ کی قید ختم ہوئی، بشریٰ بی بی کی رہائی کو عمران خان ​​اور ان کی فیملی کیلئے گزشتہ سال اگست کے بعد سے سب سے بڑا قانونی ریلیف سمجھا جا رہا ہے،عمران خان مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کی اہلیہ کو غیر منصفانہ طور پر گرفتار کیا گیا اور ان پر دباؤ ڈالنے کیلئے مختلف مقدمات میں پھنسایا گیا-

    متعلقہ حکام اور پی ٹی آئی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بشریٰ بی بی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے میرٹ پر ضمانت دی تھی لیکن ماضی کے برعکس اس مرتبہ انہیں جیل میں مزید عرصہ کیلئے قید رکھنے کیلئے کسی اور کیس میں گرفتار نہیں کیا گیا،ایک اہم سرکاری ذریعے نے بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں لیکن انہوں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ عدالت کی جانب سے ضمانت منظور ہونے پر انہیں جیل میں نہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

  • پشاور ہائیکورٹ کا عدالتوں، ججز کی سکیورٹی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ کا عدالتوں، ججز کی سکیورٹی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے عدالتوں اور ججز کی سکیورٹی سے متعلق درخواست پر صوبائی اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی: پشاور ہائیکورٹ میں عدالتوں اور ججز کے سیکیورٹی سے متعلق کے پی بار کونسل کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے درخواست کی سماعت کی، ایڈووکیٹ جنرل کے پی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

    ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہاکہ عدالت نے سکیورٹی پر 6سوالات پوچھے تھے،آئی جی پی نے تفصیلی جواب جمع کرنے کیلئے 2دن مانگے ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک کے بعد دوسرا واقعہ پیش آتا ہے،اب کیا کریں، ہم بندوقیں اٹھائیں کیا؟حکومت کو ججز کی سکیورٹی کا معاملہ سنجیدگی سے لینا ہوگا، وفاق بھی سنجیدگی سے غور کرے، یہ ان کا بھی کام ہے۔

    پشاور ہائیکورٹ نے عدالتوں، ججز کی سکیورٹی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 30اکتوبر تک ملتوی کردی۔

  • علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کیخلاف  پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

    علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کیخلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

    پشاور: وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کیخلاف پی ٹی آئی وکلا ونگ نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: وزیراعلی کے وکیل عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے بتایا کہ وزیراعلی کی بازیابی کے لئے درخواست تیار کرلی ہے، ہائیکورٹ عملہ آجائے تو درخواست دائر کریں گے، ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل نے کہا کہ رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ سے رابطہ ہوا ہے، چیف جسٹس سے آج درخواست پر سماعت کی استدعا کی ہے، امید ہے چیف جسٹس آج خصوصی بنچ تشکیل دیں گے۔

    عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور صوبے کا وزیراعلی ہے، صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کی گرفتاری سے وفاق کیا پیغام دینا چاہتی ہے-

    جب تک کپتان حکم نہیں دیتے احتجاج جاری رہے گا،شیخ وقاص اکرم

    دوسری جانب وزیراعلیٰ کی گمشدگی سےمتعلق اجلاس کے لیے ایڈووکیٹ جنرل کو اسپیکر ہاؤس طلب کیا گیا ہے اجلاس میں پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور قانونی ماہرین کو بھی طلب کیا گیا ہے اور اجلاس میں وزیراعلیٰ کی گمشدگی سے متعلق قانونی کارروائی پرمشاورت ہوگی۔

    ادھر علی امین گنڈا کی گرفتاری سے متعلق محسن نقوی کا کہنا تھا وزیراعلیٰ کے پی ہماری حراست میں نہیں ہیں، علی امین کسی اور ادارے کی حراست میں بھی نہیں ہیں، علی امین کے پی ہاؤس میں موجود نہیں، وہاں سے بھاگ گئے تھے، علی امین گنڈا پور خود بھاگے ہیں، ہم نے 2،3 چھاپے مارے تھے، شک تھا کہ وہ موجود ہوں گے لیکن وہ وہاں نہیں تھے، علم نہیں کہ علی امین کے پی پہنچ گئے یا نہیں، کے پی ہاؤس سے علی امین کے بھاگنے کی فوٹیج موجود ہے۔

    علی امین گنڈا پور پولیس یا کسی ادارے کی حراست میں نہیں، وزیر داخلہ

  • پشاور ہائیکورٹ میں علی امین گنڈا پور کی 2مقدمات میں ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ میں علی امین گنڈا پور کی 2مقدمات میں ضمانت منظور

    پشاور:پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی 2 مقدمات میں 25 اکتوبر تک راہداری ضمانت منظور کرلی-

    باغی ٹی وی:پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے لاہور جلسے اور راولپنڈی احتجاج کے بعد درج 2 مقدمات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی راہداری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل عالم خان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے راہداری ضمانت کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

    وکیل نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار کے خلاف اسلام آباد میں مقدمات درج کیے گئے ہیں، درخواست گزار متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونا چاہتا ہے لیکن گرفتاری کا خدشہ ہے، درخواست گزار کو راہداری ضمانت دی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالتوں میں پیش ہو سکے۔

    بعدازاں عدالت نے وزیراعلی خیبرپختوںخوا علی امین گنڈاپور کو 25 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی اور درخواست گزار کو متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر راہداری ضمانت کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، لاہور جلسے اور راولپنڈی احتجاج کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے تاہم انہوں نے درج مقدمات میں راہداری ضمانت کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

    پشاور ہائیکورٹ میں دائر راہداری ضمانت کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف اسلام آباد میں مقدمات درج کیے گئے ہیں، درخواست گزار خیبرپختونخوا کا وزیر اعلی ہے درخواست گزار متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونا چاہتا ہے لیکن گرفتاری کا خدشہ ہے، درخواست گزار کو راہداری ضمانت دی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالتوں میں پیش ہو سکے۔

    احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں،اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ …

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے درخواست آج سماعت کے لیے مقرر کرنے کی بھی استدعا کی ہے،وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور عدالت سے راہداری ضمانت ملنے کے بعد پشاور ہائیکورٹ سے ڈی چوک پر احتجاج کے لیے روانہ ہوں گے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہرصورت ڈی چوک جائیں گے، اکیلا بھی رہ گیا، تب بھی جاؤں گا، اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دار ہوگا، میرے پاس احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں،بانی قائدعمران خان کا حکم میرے لیے ریڈ لائن ہے، مجھ سے احتجاج کے حوالے سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میرے پاس احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں ہے، میرا اختیار عمران خان کے پاس ہےجب تک بانی قائد کا حکم نہیں آتا میں آگے بڑھتا رہوں گا، اگر جلوس میں اکیلا بھی رہ جاتا ہوں تب بھی اگے بڑھتا رہوں گا۔

    پی ٹی آئی کا ی چوک پر احتجاج :موبائل سروس معطل، ڈبل سواری پر پابندی،سڑکیں …

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آج اسلام آباد میں ڈی چوک پر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، حکومت نے بھی احتجاج سے نمٹنے کا پلان فائنل کرلیا ہےاسلام آباد کے تمام راستے کنٹینرز لگاکر بند کردیے گئے، وفاقی دارالحکومت میں تمام نجی اسکول آج بند ہیں، میٹروسروس معطل رہے گی جبکہ 60 افغانوں سمیت 400 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا-