Baaghi TV

Tag: پشاور ہائیکورٹ

  • سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

    با ی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ کے 5 رکنی لاجر بینچ نے 14 مارچ کو مختصر فیصلہ سنایا تھا تاہم اب ہائیکورٹ کے جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے 30 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستوں کی تقسیم کا فیصلہ آرٹیکل 51 کے مطابق ہے اور ہائیکورٹ کے پاس صوبے تک مخصوص نشستوں کے کیسز سننےکا اختیار ہے،سنی اتحاد کونسل خواتین مخصوص نشست کی حق دار نہیں ہے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے اعتراض کیا کہ مخصوص نشستیں دوسری سیاسی جماعتوں میں تقسیم نہیں ہوسکتیں، سنی اتحاد کونسل خواتین کی مخصوص نشستوں کی حق دار نہیں، مقررہ وقت گزرنےکے بعدمخصوص نشست کی لسٹ جمع نہیں کرائی جاسکتی، اس لیے درخواست خارج کی جاتی ہے۔

    صحافیوں کو جاری نوٹسز سے متعلق کیس،اگرگزشتہ درخواست پر فیصلہ ہو جاتا تو آج یہ …

    فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی جماعت کا مخصوص نشستوں پرحق ہوتا ہے لیکن جنرل الیکشن میں ایک بھی سیٹ نہ جیتنے والی جماعت مخصوص نشستوں کی اہل نہیں، یہ دلیل کہ مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو نہیں دی جاسکتیں غیرآئینی ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کو آئینی طریقے سے تقسیم کیا۔

    پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف کیلئے رٹ دائر کردی

  • پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف کیلئے رٹ دائر کردی

    پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف کیلئے رٹ دائر کردی

    پشاور: خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینے کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے عدالت سے رجوع کر لیا-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف کیلئے رٹ دائر کردی،ن لیگ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کی جانب سے رٹ دائر کی گئی ۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا کی مخصوص نشستوں پر ممبران سے حلف نہ لینا بدنیتی ہے،مخصوص نشستو ں پر منتخب ممبران سے حلف لیا جائے، ممبران سے حلف لیا جائے تاکہ سینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں،حلف نہ لینے کی صورت میں سینیٹ انتخابات کو ملتوی کیا جائے، پشاور ہائیکورٹ بھی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ کرچکی ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران کا نوٹیفیکشن جاری کیا۔

    علی امین گنڈا پور نے خواب میں ٹرین چلائی ہو گی، کیپٹن (ر) صفدر

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے خواتین کیلئے 20 مخصوص اور3 اقلیتی نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دینے سے انکارکیا تھا، 7 مارچ کو پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کیخلاف دائر درخواست پر منتخب ارکان کو حلف اٹھانے سے روکنے کے حکم میں 13 مارچ تک توسیع کردی تھی، 14 مارچ کو ہائیکورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف درخواست مسترد کردی تھی۔

    خاتون بازیابی کیس:لاہور ہائیکورٹ کی پولیس کو مہلت

  • علی امین گنڈا پور کی نااہلی کیخلاف درخواست پر حکم امتناع جاری

    علی امین گنڈا پور کی نااہلی کیخلاف درخواست پر حکم امتناع جاری

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی نااہلی کیلئے درخواست پر الیکشن کمیشن کی کارروائی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس اعجاز انور اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی،پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روک دیا، ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کر کے کارروائی معطل کر دی ،سکندر شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو علی امین کیخلاف اثاثے ظاہر نہ کرنے پر شکایت کی گئی ہے، الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈاپور کو 26 مارچ کو طلب کیا ہے، علی امین کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے اور حلف بھی لے چکے ہیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ابھی تو صرف نوٹس ہوا ہے،وکیل نے کہا کہ دراصل انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس کارروائی کا اختیار نہیں، کاغذات نامزدگی کے وقت اعتراض کا موقع تھا، اس وقت کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن نے کارروائی کا آغاز کیا، جسٹس اعجاز انوار نے کہا کہ اب تو سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آ گیا کہ کسی ادارے کے پاس صادق و امین قرار دینے کا اختیار نہیں، عدالت نے الیکشن کمیشن کی کارروائی معطل کر کے جواب طلب کر لیا

    قومی اسمبلی ،سپیکر کیسے غیر قانونی کام کرتے رہے،من پسند افراد کی بھرتیاں، لوٹ مار،سب سامنے آ گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • پشاور ہائیکورٹ  کے چئیرمین ایف بی‌آر کی تںخواہ روکنے کے احکامات جاری

    پشاور ہائیکورٹ کے چئیرمین ایف بی‌آر کی تںخواہ روکنے کے احکامات جاری

    اسلام آباد : پشاور ہائیکورٹ نےفیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین ملک امجد زبیر ٹوانہ کی تنخواہ روکنے کے احکامات جاری کردئیے۔

    باغی ٹی وی: پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار نے اکاوٴنٹنٹ جنرل، حکومت پاکستان کو چیئرمین ایف بی آر کی تنخواہ منجمد کرنے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے جاری کردہ حکم پر عمل درآمد کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں ،عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کی طرف سے پیرا وائز کمنٹس و جواب جمع کروانے تک ان کی تنخواہ منجمد رہے گی اور پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کیلئے فیصلے کی کاپی ایڈیشنل رجسٹرار کی طرف سے متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کو بھجوائی گئی ہے۔

    اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ کے حکم ہر عملدرآمد کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر ملک امجد زبیر ٹوانہ کی تنخواہ کی روک دی ہے،ایف بی آر حکام نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر چیئرمین ایف بی آر کی تنخواہ روکے جانے کی تصدیق کردی ہے،جبکہ متعلقہ ڈیپارٹمنٹس نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرکے آگاہ کردیا ہے –

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی،اسٹاک مارکیٹ میں تیزی

    اس حوالے سے ٹیکس وکیل وحید شہزاد بٹ نے نجی خررساب ادارے کو بتایا کہ رٹ پٹیشن نمبر میں دائر 1318-M of2023مظفر خان بمقابلہ حکومت پاکستان وغیرہ کیس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے جواب و کمنٹس زیر التواء ے اور اس میں چیئرمین ایف بی آر ملک امجد زبیر ٹوانہ بھی پارٹی ہے اس کیس میں ایف بی آر سے پیرا وائز کمنٹس مانگے گئے تھے جس کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 15نومبر 2023 کو خط لکھا گیا اس کے بعد 26 دسمبر2023 کو 16 جنوری 2024 اور14فروری 2024کو ریمائنڈر بھجوائے گئے لیکن اس کے باوجود پیراوائز کمنٹس جمع نہیں خروائے گئے جس پر کاروائی کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ نے چیئرمین ایف بی آر ملک امجد زبیر ٹوانہ کی تنخواہ روکنے کے احکامات جاری کردیئے۔

    لندن:پرواز کے دوران مسافر کی خود کشی کی کوشش،ر طیارے کی ہنگامی لینڈنگ

  • قومی المیہ ہے کہ عوام کا اداروں پر اعتماد نہیں،پشاور ہائیکورٹ

    قومی المیہ ہے کہ عوام کا اداروں پر اعتماد نہیں،پشاور ہائیکورٹ

    پشاورہائیکورٹ میں ایم ڈی کیٹ کےد وبارہ انعقاد کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی،

    جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس شکیل احمد نے سماعت کی،درخواست گزار نے عدالت میں کہاکہ پہلے ٹیسٹ میں ہمارے نمبرزیادہ تھے، دوسرے میں کم نمبر حاصل کئے،دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے اس کو واپس کیا جائے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ میڈیکل کالجز میں داخلے ہو چکے ہیں، کلاسز جاری ہیں،بے قاعدگیوں پر ٹیسٹ دوبارہ کرایا گیا،ہم اس معاملے میں اب مداخلت نہیں کر سکتے،آپ سے ہمدردی ہے لیکن فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں، دوران سماعت طالب علم نے عدالت میں کہاکہ میرے ٹیسٹ میں کوئی غلطی ثابت ہوئی تو مجھے پھانسی دی جائے، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ہم آپ کو ڈاکٹر دیکھنا چاہتے ہیں پھانسی کیوں دیں گے،آپ وقت ضائع کرنے کی بجائے اگلے سال ٹیسٹ کیلئے تیاری کرلیں،

    جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ایٹا نے طلبا کو تکلیف دی ان کی ناہلی کی وجہ سے ٹیسٹ دوبارہ کرانا پڑا، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ کوئی ٹیسٹ نہیں کراسکتا تو ذمے داری نہ لے،قومی المیہ ہے کہ عوام کا اداروں پر اعتماد نہیں، ایم ڈی کیٹ میں جو ہوا آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہئے،عدالت نے ایم ڈی کیٹ سے متعلق 35درخواستیں خارج کردیں،

    ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، چیف جسٹس

    یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چیف جسٹس برہم

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • پشاور ہائیکورٹ نے   پی ٹی آئی  رہنما شاندانہ گلزار کیخلاف کارروائی سے روک دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار کیخلاف کارروائی سے روک دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار کے خلاف کارروائی سے روک دیا۔

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ میں رکنقومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار کیخلاف کیس کی سماعت ہو، سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ثنا اللہ نے بتایا کہ ایف آئی اے لاہور نے نوٹس دیا ہے اور انکوائری بھی لاہور میں ہو رہی ہے،لاہور میں کیس ہے لہٰذا اس درخواست کی سماعت کا اختیار اس عدالت کے پاس نہیں ہے۔

    وکیل درخواستگزار نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کے نوٹس میں بہت سی چیزیں مسنگ ہیں جو قانونی طور پر نوٹس میں ہونا ضروری ہے، درخواست گزار کو پتہ نہیں کہ اس نے کیا کیا ہے اس کے خلاف کیا سیکشنز لگائے گئے ہیں۔

    سردار اویس احمد خان لغاری نے پاور ڈویژن کا قلمدان سنبھال لی

    جسٹس سید ارشد علی نے وکیل درخواست گزار سے استفسار کیا کہ اگر لاہور میں انکوائری شروع ہوئی ہے اور نوٹس وہاں سے جاری ہوا ہے تو درخواست گزار یہاں پر کیوں آئی ہے؟،وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ایف آئی اے کی پورے پاکستان میں دائرہ اختیار ہے لہٰذا اس کے خلاف پورے پاکستان میں کیس ہوسکتا ہے، درخواست گزار پشاور کی رہائشی ہے وہ یہاں پر درخواست دے سکتی ہیں اور ایان علی کیس میں لاہور کے نوٹس کو سندھ ہائیکورٹ نے کالعدم کیا تھا۔

    روسی صدر کی مغربی ممالک کو تیسری عالمی جنگ کی دھمکی

    پشاور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو رکن قومی اسمبلی اور رہنما پی ٹی آئی شاندانہ گلزار کے خلاف کارروائی سے روک دیا،عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی اور سماعت 25 مارچ تک ملتوی کردی-

    آئی ایم ایف کا سیاست میں استعمال کروڑوں عوام کی تقدیر سے کھیلنے کے برابر …

  • مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج

    مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،سنی اتحاد کونسل کے وکیل بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے،علی ظفرنے گزشتہ روز پیش نہ ہونے پر عدالت سے معذرت کی اور کہا کہ الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی سے بلّے کا نشان لیا گیا، پشاور ہائی کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر بلّا واپس کردیا تھا، سپریم کورٹ نے دوبارہ الیکشن کمیشن کے حق میں فیصلہ دے کر نشان واپس لیا، سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، الیکشن کمیشن نے ہماری سیٹیں ایک طرف کر کے باقی سیاسی جماعتوں کو دے دیں،عدالت نے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ یہ کیس کس حد تک ہم سن رہے ہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ کیس قومی اسمبلی اور کے پی اسمبلی حد تک محدود ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ ان 78 سیٹوں کا ہم فیصلہ کریں گے، الیکشن کمیشن کو 6 درخواستیں موصول ہوئیں کہ سنی اتحاد کونسل حقدار نہیں، پہلا نکتہ سنی اتحاد سیاسی جماعت نہیں، دوسرا سنی اتحاد کونسل نے لسٹ نہیں دی، تیسرا نکتہ یہ کہ سیٹیں اگر ان کو نہیں ملتیں تو ہمیں دے دیں، کچھ سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کو درخواستیں دیں کہ یہ سیٹیں انہیں دے دیں، درخواستیں دینے والی سیاسی جماعتیں تھیں، درخواست گزاروں نے اپنے لیے سیٹیں مانگ لیں، الیکشن کمیشن نے 2 وجوہات پر فیصلہ دیا کہ سنی اتحاد سیاسی پارٹی نہیں اور لسٹ نہیں دی، الیکشن کمیشن کے ایک رکن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کی مخالفت کی، 4 نے حمایت کی، سنی اتحاد کونسل رجسٹرڈ پارٹی ہے اور اس کا انتخابی نشان بھی ہے، الیکشن میں حصہ نہ لینا اتنی بڑی بات نہیں، بعض اوقات سیاسی جماعتیں انتخابات سے بائیکاٹ کر سکتی ہیں، سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے،

    جسٹس شکیل احمد نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ اگر انتخابات میں حصہ نہیں لیتے پھر کیا ہو گا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں پہلے اس پر بات کر رہا ہوں کہ میں سیاسی جماعت ہوں، میں سیاسی جماعت ہوں تو میرے بنیادی آئینی حقوق کیا ہیں؟ آرٹیکل 17 کے تحت میرے کئی بنیادی حقوق بنتے ہیں، آئین کہتا ہے کہ جس جماعت نے جتنی سیٹیں جیتی ہیں، اس کے مطابق مخصوص نشستیں دی جائینگی، ہم نے الیکشن کمیشن کا سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ چیلنج کیا ہے، ہم نے الیکشن کمیشن کے سیکشن 104 کو بھی چیلنج کیا ہے، الیکشن کمیشن نے سیکشن 104 اور 51 کی غلط تشریح کی ہے، سوال آیا کہ سیاسی پارٹی؟ میرے خیال میں جماعت وہ ہے جو ان لسٹ ہے، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 210 اور 202میں سیاسی پارٹی کا ذکر موجود ہے، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا لیکن یہ ضروری نہیں، بائیکاٹ بھی الیکشن کا حصہ ہوتا ہے، عدالت نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اگر ایک پارٹی الیکشن نہ لڑے تو پھر پولیٹیکل پارٹی ہوتی؟ پولیٹیکل پارٹی تو سیٹیں جیتنے کیلئے الیکشن میں حصہ لیتی ہے، علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے پاس انتخابی نشان ہے اور الیکشن لڑنے کا اختیار ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی پارٹی الیکشن میں حصہ نے لے تو وہ پارٹی رہتی ہے یا نہیں ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے، کوئی سنی اتحاد کونسل کا حق نہیں لے سکتا جب تک سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہو، آئین میں پولیٹیکل جسٹس کا ذکر واضح لکھا ہوا ہے، ہر وہ شہری جو سرکاری ملازم نہ ہو وہ سیاسی جماعت بنا سکتا ہے یا کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے، آرٹیکل 72 کہتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کئی حقوق حاصل ہیں، سیاسی پارٹیاں الیکشن میں حصہ لے سکتی ہیں،حکومت بنا سکتی ہے، مخصوص نشستیں حاصل کر سکتی ہے،

    جو پارٹیاں الیکشن میں حصہ نہیں لیتی ان کا حق نہیں بنتا ،زیرو کے ساتھ جو بھی جمع کریں وہ زیرو ہی ہوتا ہے،عدالت
    عدالت نے کہا کہ پاکستان میں 100 سے زائد سیاسی جماعتیں ہیں،کل تو ہر کوئی بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑے گا، کامیاب ہونے کے بعد پھر وہ بھی مخصوص نشستیں مانگے گا، مخصوص نشستیں کیوں دوسری جماعتوں کو نہ دی جائیں؟ علی ظفر نے کہا کہ پہلی بار لوگوں نے شخصیات کو ووٹ دیا ہے، جس نے جتنی سیٹیں جیتیں اسے اسی تناسب سے سیٹیں ملتی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ انکی سیٹیں بڑھا دی جائیں، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اگر یہ سیٹیں نہیں دی گئیں تو پارلیمنٹ پوری نہیں ہو گی؟علی ظفر نے کہا کہ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ آپ آئین کی ایسی تشریح کریں کہ یہ خلا پیدا نہ ہو، یہ کہیں نہیں لکھا کہ آپ لسٹ دوبارہ نہیں دے سکتے، یہ دوسرا شیڈول بھی جاری کر سکتے ہیں، جنرل الیکشن کا بھی انہوں نے سیکنڈ شیڈول جاری کیا، یہ کہنا کہ آپ لسٹ اب نہیں دے سکتے یہ غلط ہے، عدالت نے کہا کہ جو پارٹیاں الیکشن میں حصہ نہیں لیتی ان کا حق نہیں بنتا ،زیرو کے ساتھ جو بھی جمع کریں وہ زیرو ہی ہوتا ہے، علی ظفر نے کہا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ لسٹ کب دینی ہے،بہتر سمجھ یہ ہو گی کہ انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں کا الیکشن شیڈول آ جائے، سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک دن مخصوص ہو گا، یہ نہیں لکھا کب ہوگا، دوسری لسٹ پر کوئی پابندی نہیں کہ آپ لسٹ نہیں دے سکتے، سیکشن 104 ہم سے ہمارے آئینی حقوق نہیں چھین رہا،

    آئین کو وقت کی ضرورت کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے،علی ظفر
    جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کو انکا مخصوص نشست کا حصہ مل چکا؟ علی ظفر نے کہا کہ یہ جو حالات بن گئے پہلی مرتبہ ایسا ہوا، جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کیا یہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہنی چاہئیے، علی ظفر نےکہا کہ بلکل خالی بھی رہنی چاہئیے اور دوبارہ الیکشن ہونا چاہئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایسا کبھی پہلے ہوا ہے، علی ظفر نے کہا کہ باپ پارٹی کو 2018 میں مخصوص سیٹ الاٹ کی گئیں ہیں ،جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا ہے کہ آپ نے وہ دستاویزات نہیں دیئے، علی ظفر نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ باب کا حق تو زیادہ ہے۔ جس پر عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا، علی ظفر نے کہا کہ ہمیں پھر آپ بیٹا سمجھ لیجیے، کے پی میں اکثریت کو کیسے اپنے مخصوص نشستوں سے محروم رکھا جائے، آئین کو وقت کی ضرورت کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے،یہاں پر پارٹی کو ووٹ ملا ہے, جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ پارٹی کو ووٹ ملا ہے،

    سکندر بشیر نے کہا کہ یہ درخواستیں تمام اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے لیے ہیں جو کہ اس عدالت کے دائرہ اختیار سے بھی باہر ہیں،سندھ ہائیکورٹ میں درخواستیں ان درخواستوں سے مماثلت رکھتی ہیں،تمام درخواستوں میں ایک ہی درخواست گزار ہے،درخواستوں میں ایک ہی پیٹرن کو فالو کیا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں بھی لارجر بینچ کے لیے استدعا کی گئی ہے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ پہلی درخواست ہمارے سامنے موجود ہیں, دیگر صوبوں کےہائیکورٹ اپنے فیصلے دیں گے،الیکشن کمیشن کے وکیل کے بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مبشر عدالتی معاونت کے لیے روسٹرم پر آگئے،ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل اسی کیس میں پہلے وکیل ہونے کے باعث عدالتی معاون نہیں ہوسکتے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کیا تو پھر وہ پارلیمنٹری پارٹی بن گئی،پولیٹکل پارٹی کی تعریف یہ ہے کہ اس نے الیکشن میں حصہ لیا ہو.

    مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج کر دیا ہے،پشاور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنادیا ،پانچ رکنی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کا کیس خارج کردیا

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    مفتی قوی نے مجھے گاڑی میں نشانہ بنایا،غلط کام کیا:حریم شاہ نے شرمناک حرکتوں کوبیان کرتے ہوئے شرم نہ کی

    میرا وجود ،میرا جسم ….. نازیبا ویڈیو کے بعد مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو آ گئی

    مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے

  • پشاورہائیکورٹ،ایک اور پی ٹی آئی رہنما کی ضمانت منظور

    پشاورہائیکورٹ،ایک اور پی ٹی آئی رہنما کی ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ ،پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کی راہداری ضمانت کے لئے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    سماعت چیف جسٹس محمد ابراہیم خان نے کی،عدالت نے شبلی فراز کی راہداری ضمانت کی درخواست منظور کر لی، عدالت نے شبلی فراز کو 20 دن میں متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کا حکم دے دیا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شبلی فراز کے خلاف 20 سے زائد مختلف نوعیت کے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔شبلی فراز  متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونا چاہتے ہیں لیکن گرفتاری کا خدشہ ہے۔شبلی فراز کے خلاف اسلام آباد, راولپنڈی, اور پنجاب کے دیگر شہروں میں 20 مقدمات درج ہیں۔

    عدالت نے شبلی فراز کی راہداری ضمانت منظور کرلی،عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں پر ضمانت دے دی۔عدالت نے شبلی فراز کو 20 دن میں متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کا حکم دے دیا،

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی ،خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں پر حکم امتناع میں توسیع

    اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی ،خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں پر حکم امتناع میں توسیع

    پشاور: اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی کے باعث پشاور ہائیکورٹ نے خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں پر حکم امتناع میں 13 مارچ تک توسیع کردی-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لاجر بینچ نے مخصوص نشست نہ ملنے کے معاملے پر سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر سماعت کی، لارجر بینچ میں جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس اعجاز انور، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل تھے۔

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بابر اعوان اور قاضی انور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی پر کیس ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی، قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس میں سوال اسٹے آرڈر کا ہے اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو رہا ہے۔

    بیوی کے جہاز میں نہ پہنچنے پر فلائٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے …

    بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ صدارتی الیکشن ہو رہا ہے اور 93 سیٹوں والی پارٹی کو مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں، جس کا صوبے میں ایک اسمبلی ممبر ہے اسے 2 مخصوص نشستیں ملی ہیں،الیکشن کمیشن نے گفٹ میں ان پارٹیوں کو مخصوص نشستیں دی ہیں۔

    اعظم سواتی کے خلاف مقدمات کی رپورٹ عدالت میں جمع

    قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس کیس کی مکمل سماعت کے بعد ہی عدالت کوئی فیصلہ جاری کرے گی، انٹرم آرڈر کو تھوڑا موڈیفائی کر دیں، منتخب خواتین کا بھی حق ہے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر پیش ہوں، حکم امتناع بدھ کے دن تک ہوگی، بدھ کے دن اس کیس کو دوبارہ سنیں گے، بعدازاں پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں پر حکم امتناع میں 13 مارچ تک توسیع کردی۔

    پاکستان کا غزہ میں رمضان المبارک میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

  • الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی رہنماؤں کو انتخابی نتائج کے تصدیق شدہ دستاویزات فراہم کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنماؤں کی انتخابی نتائج کی دستاویزات کی فراہمی کے لیے درخواستوں پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی نے پی ٹی آئی رہنما تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش اور دیگر کی الیکشن نتائج کے مصدقہ دستاویزات حصولی کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزار وں کے وکیل شمائل احمد بٹ نے کہا کہ الیکشن رولز کہتا ہے امیدوار کو مصدقہ دستاویزات دینا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے، ہم الیکشن کمیشن کے پاس جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے آر او کے پاس جائیں، وہاں جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل محسن کامران نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس فارم 45 اور 47 جب آئے تو ہم نے اپلوڈ کیے، جن آر اوز نے 14 دن کے اندر فارم جمع نہیں کیے الیکشن کمیشن نے ان آر اوز کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے، الیکشن کمیشں نے ویب سائٹ پر فارم اپلوڈ کئے ہیں وہاں سے یہ حاصل کرسکتے ہیں۔

    اعظم سواتی کے خلاف مقدمات کی رپورٹ عدالت میں جمع

    جسٹس سید ارشد علی نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں کو مصدقہ کاپی کون دے گا؟ جس پر وکیل محسن کامران نے جواب دیا کہ یہ آر اوز سے بھی دستاویزات لے سکتے ہیں، وہاں پر درخواست دیں، جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ الیکشن رولز میں الیکشن کمیشن کا ذکر ہے کہ دستاویزات دے گا۔

    بیوی کے جہاز میں نہ پہنچنے پر فلائٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے …

    درخواست گزاروں کے وکیل علی گوہر درانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ رولز 91 کہتا ہے کہ الیکشن کمیشن مصدقہ دستاویزات فراہم کرے گا، دستاویزات ہر امیدوار کا حق ہیں، ہمیں خدشہ ہے کہ فارم 45 اور 47 میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کی جا رہی ہے۔

    جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ آپ کو تصدیق شدہ فارم دیں گے تو پھر اس کے بعد کیسے تبدیلی کریں گے؟ آپ کے پاس فارم ہو گا، بعد ازاں عدالت نے الیکشن کمیشن کو درخواست گزاروں کو انتخابی نتائج کے تصدیق شدہ دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخوا ستیں نمٹا دیں۔

    پاکستان کا غزہ میں رمضان المبارک میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ