Baaghi TV

Tag: پشاور

  • لیگی رہنما نے  اپنی ہی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بجٹ کو جعلی قرار دے دیا

    لیگی رہنما نے اپنی ہی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بجٹ کو جعلی قرار دے دیا

    پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلانے پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے محکمہ قانون سے رائے مانگ لی۔

    باغی ٹی وی: اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے محکمہ قانون سے پوچھا ہے کہ کیا گورنر کا اجلاس بلانا قانون کے مطابق ہے؟انہوں نے محکمہ قانون کو بھیجے گئے مراسلے میں لکھا کہ اسمبلی اجلاس بلانے کا گورنر کا آرڈر اپوزشن لیڈر عباداللہ ذاتی طور پر سیکرٹری کے دفتر میں پہنچایا، جو گورنر ہاوس سے خط و کتابت کا درست طریقہ کار نہیں، گورنر غلام علی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس کل طلب کر رکھا ہے، جس میں مخصوص نشستوں پر منتخب خواتین اور اقلیتی نمائندوں نے حلف اٹھانا ہے۔

    دوسری جانب پنجاب اسمبلی اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکن ذوالفقار علی شاہ نے اپنی ہی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بجٹ کو جعلی قرار دے دیا،بجٹ پر ہونے والے پنجاب اسمبلی اجلاس میں حکومتی رکن ذوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ جعلی بجٹ ہے، بار بار مکھی پرمکھی ماری جا رہی ہے، سانس نہیں آرہی، ہم بہت مشکل مراحل میں ہیں۔

    ضلع خیبر کے علاقہ ملاگوری میں اشتہاری مجرم گرفتار

    ذوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ جہاں ٹرانسپیرنسی نہ رکھنی ہو تو وہاں اتنی معلومات دے دی جاتی ہیں تاکہ ذہن کام ہی نہ کرے، ہم آئی ایم ایف کے سامنے لیٹے ہوئے ہیں، ذرائع آمدن کا درست استعمال کیا جائےہمیں سمجھایا جائے، پڑھایا جائےکہ ہم کیا کرنے آئے ہیں، ہمیں اندھیرے میں رکھ کر استحقاق مجروح کیا جا رہا ہےپنجاب اسمبلی اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکن ذوالفقار علی شاہ نے اپنی ہی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بجٹ کو جعلی قرار دے دیا۔

    ترک مرکزی بینک نے شرخ سود میں اضافہ کر دیا

    ذوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ جعلی بجٹ ہے، باربار مکھی پرمکھی ماری جا رہی ہے، سانس نہیں آرہی، ہم بہت مشکل مراحل میں ہیں، جہاں ٹرانسپیرنسی نہ رکھنی ہو تو وہاں اتنی معلومات دے دی جاتی ہیں تاکہ ذہن کام ہی نہ کرے، ہم آئی ایم ایف کے سامنے لیٹے ہوئے ہیں، ذرائع آمدن کا درست استعمال کیا جائےہمیں سمجھایا جائے، پڑھایا جائےکہ ہم کیا کرنے آئے ہیں، ہمیں اندھیرے میں رکھ کر استحقاق مجروح کیا جا رہا ہے۔

    ایشائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کی آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے پر مبارکباد

  • پشاور میں کورونا کے  ویریئنٹ جے این ون کی دو کیسز کی تصدیق

    پشاور میں کورونا کے ویریئنٹ جے این ون کی دو کیسز کی تصدیق

    پشاور : خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ جے این ون کے دو کیسز سامنے آئے ہیں،کورونا کے جے این ون ویریئنٹ کے پھیلاؤ کے پیش نظر ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹرجنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کو اس حوالے سے مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں بتایا گیا ہےکہ خیبرمیڈیکل یونیورسٹی کے 2 ملازمین جے این ون وائرس سے متاثر ہوئے ہیں،مراسلے میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنےکے لیے اقدامات کرنےکی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر ارشاد روغانی کا کہنا ہےکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جے این ون ویریئنٹ کا پھیلاؤ 83 فیصد ہے،کورونا کے جے این ون ویریئنٹ سے شرح اموات کم ہے، وائرس سے متعلق پبلک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے رواں سال صوبے میں کورونا سے متاثرہ 9 مریض سامنے آئے ہیں ،پشاور سے6 اور سوات سے کورونا کے 3 کیسز سامنے آئے ہیں۔

  • سینیٹ انتخابات،اعظم سواتی،مراد سعید، صنم جاوید کی اپیلیں دائر

    سینیٹ انتخابات،اعظم سواتی،مراد سعید، صنم جاوید کی اپیلیں دائر

    سینیٹ الیکشن؛ کاغذاتِ نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کیخلاف اپیلیں آج دائر کی جا سکتی ہیں

    سینٹ انتخابات کے لیے پولنگ 2 اپریل کو ہوگی ،امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہو گئی ہے، آج اپیلیں دائر کی جا سکتی ہیں، پی ٹی آئی رہنماؤں نے اپیلیں دائر کی ہیں،پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدواروں کی جانب سے الیکشن ٹربیونل میں اپیلیں دائر کی گئی ہیں،مراد سعید، اعظم سواتی اور خرم ذیشان کی نے پشاور ہائیکورٹ میں ایپل دائر کی گئیں،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزاروں کے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن نے بے بنیاد الزامات پر مسترد کیے، درخواست گزاروں کے کاغذات منظور کر کے انکو سینٹ الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے،

    دوسری جانب صنم جاوید نے سینٹ کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ الیکشن ٹربیونل چیلنج کر دیا ،درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے صنم جاوید کے کاغذات حقائق کے برعکس مسترد کیے ہیں ،صنم جاوید پر اعتراض عائد کیا گیا کہ کاغذات میں پلاٹ ظاہر نہیں کیا، صنم جاوید کے پاس ایسا کوئی پلاٹ نہیں ہے، ایپلیٹ ٹریبیونل صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا حکم دے،

    سنی اتحاد کونسل کے امیدوار کی جانب سے اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی چیلنج کردیئے گئے، اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کیا گیا کہ اسحاق ڈار کے سینیٹ کی نشت میں قانونی سقم ہیں،کاغذات نامزدگی میں سقم ہو تو کاغذات نامزدگی منظور نہیں ہوسکتے ،الیکشن کمیشن اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کرے

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

    سینیٹ انتخابات، امید ہے اپنے امیدوار کامیاب کروائیں گے،وزیراعلیٰ سندھ

    آصفہ بھٹونوابشاہ پہنچ گئیں،جیالوں کا رقص،این اے 207 سے لڑیں گی الیکشن

    سینیٹ میں خواتین کی نشست پر صنم جاوید کو الیکشن لڑوانے کا فیصلہ

    سینیٹ میں بلوچستان کی گیارہ خالی نشستوں کے انتخابات کا شیڈول

    سینیٹ انتخابات، اسلام آباد سے پیپلز پارٹی امیدوار یوسف رضا گیلانی کامیاب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سائفر نہ ہوتا تو ہماری حکومت 5 سال مکمل کرتی،اعظم سواتی
    تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے سینیٹ انتخابات کے لئے اپیل دائرکرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، اگر سائفر نہ ہوتا تو ہماری حکومت 5 سال مکمل کرتی،میرے اور خرم ذیشان کے کاغذات مسترد کیے گئے، دوستوں کے کہنے پر سینیٹ کے لیے کاغذات جمع کرائے، ہمارے کاغذات کا ایک حصہ لیا اور ایک چھوڑ دیا، سینیٹ میں 19 سال سے زیادہ عرصہ رہا، اب کاغذات مسترد ہونا افسوسناک ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے میں ٹیکنوکریٹ نہیں، سینیٹ انتخابات لڑنا ہمارا حق ہے پہلے بھی کاغذات مسترد ہوئے تھے، عدالتیں آزاد ہیں، کاغذات منظور ہو جائیں گے،

  • خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے جھٹکے

    خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے جھٹکے

    پشاور: خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    باغی ٹی وی : پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے جھٹکے محسوس کیے گئے، لوگوں میں خو ف و ہراس پھیل گیا،لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے،زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.5 ریکارڈ کی گئی،زلزلہ پیمامرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش میں 187 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔

    پی آئی اے ائیرہوسٹس بغیر پاسپورٹ ٹورنٹو پہنچ گئیں

    گٹر کی صفائی کےدوران دم گھٹنے سے 2 واسا ملازمین جاں بحق

    آسٹریلوی خاتون وزیرخارجہ نے اپنی سہیلی کے ساتھ شادی کر لی

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ریحان زیب کے خاندان سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ریحان زیب کے خاندان سے ملاقات

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ریحان زیب کے خاندان سے ملاقات کی ہے

    اس موقع پر منسٹر سوشل ویلفیئر،عشر وزکوٰۃ مشال یوسفزئی بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے ریحان زیب شہید فیملی سے اظہار تعزیت کیا اور ایصال ثواب کیلئے دعا کی، وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے ریحان زیب شہید تینوں بھائیوں کے لیے سرکاری نوکریاں ،والد،والدہ اور بھائی کیلئے حج وعمرہ ،فیملی کیلئے اپنا گھر ،ورکر پیکج ، شہدا پیکج اور دیگر مراعات کا اعلان کیا، علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ تمام حکام کو احکاماتِ بھی جاری کئے ہیں کہ ریحان زیب شہید قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور سی ٹی ڈی ڈی آئی جی سے فیملی ملاقات کیلئے بھی کہا گیا ہے،

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ انکی فیملی کے لیے آواز بنوں گا ،میں نے صدق دل سے تمام لیڈر شپ نوٹس میں لایا اور بھرپور مطالبہ بھی کیا باقی ٹکٹ میرے ہاتھ میں نہیں ہے ۔پی ٹی آئی رہنما یوسف دانش کا کہنا تھا کہ فیصلہ باجوڑ عوام نے کرنا ہے کہ وہ کس کو ووٹ دیتے ہیں اور ریحان زیب شہید فیملی فیصلہ کرے گا کہ وہ آزاد الیکشن لڑتے ہیں یا دستبردار ہوتے ہیں ۔

    واضح رہے کہ ریحان زیب کو31 جنوری کو انتخابی مہم کے دوران قتل کیا گیا تھا،مقتول تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر کےخلاف الیکشن لڑ رہے تھے، ریحان زیب کے قتل کے بعد تحریک انصاف نے انہیں پارٹی کا حمایت یافتہ اُمیدوار قرار دیا اور پھر بیان ہٹا دیا تھا۔باجوڑ میں قتل کیے گئے آزاد امیدوار ریحان زیب نے ٹکٹ تقسیم پر سوال اٹھائے تھے، انہیں قومی، صوبائی اسمبلی کیلئے تحریک انصاف نے ٹکٹ نہیں دیا تھا، ریحان زیب بطور آزاد امیدوار قومی، صوبائی اسمبلی الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔قومی اسمبلی کے حلقے این اے 8 میں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کا پارٹی ٹکٹ گل ظفر خان کو جبکہ پی کے 22 میں ٹکٹ گل داد خان کو جاری کیا تھا۔ریحان زیب نے 12 جنوری کو خیبر پختونخوا حکومت میں کرپشن کا بھی انکشاف کیا تھا، ان پر چند روز سے تحریک انصاف سے منسلک ٹرول اکاؤنٹس سے تنقید کی جا رہی تھی۔

    باجوڑ این اے 108 میں آزاد امیدوار ریحان زیب کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

  • کے پی حکومت کا  بلین ٹری پلس منصوبہ شروع کرنےکا فیصلہ

    کے پی حکومت کا بلین ٹری پلس منصوبہ شروع کرنےکا فیصلہ

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بلین ٹری پلس منصوبہ شروع کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: پشاور میں علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ جنگلات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں علی امین گنڈاپور نے ہدایت کی کہ بلین ٹری پلس منصوبہ شروع کرنے کے لیے متعلقہ حکام ہوم ورک مکمل کریں، جنگلات کی کٹائی روکنے اور ریونیو بڑھانے کے لیے متعلقہ حکام لائحہ عمل تیار کریں۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہدایت کی کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو روکنےکے لیے جرمانے کی رقم لکڑی کی قیمت سے زیادہ بڑھائی جائے، ٹمبر کی اسمگلنگ پر نظر رکھنے کے لیے چیک پوسٹس پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں۔

  • پشاور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    پشاور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد: پشاور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکےمحسوس کیے گئے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد اورراولپنڈی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں باہر نکل آئے تاہم زلزلے کے باعث کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، مردان ، کوہاٹ، دیربالا اور چترال زلزلے میں بھی جھٹکے محسوس کئے گئے، مینگورہ شہر اور گردونواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 3 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی گہرائی 130 کلومیٹر تھی، زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن افغانستان تھا۔

    روس تکنیکی طور پر جوہری جنگ کے لیے تیار ہے،صدر پیوٹن

    چئیر مین پی سی بی محسن نقوی کا ڈیف ٹیم کو مبارکباد

    خواجہ محمد آصف نے وزیر دفاع اور دفاعی پیداوار کا قلمدان سنبھال لیا

  • پولیس کے لئے  جدید آلات خریداری کے لئے تین ارب جاری کرنیکا فیصلہ

    پولیس کے لئے جدید آلات خریداری کے لئے تین ارب جاری کرنیکا فیصلہ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس ہوا

    چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی،متعلقہ حکام کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، چیلنجز، آئیندہ کے لائحہ عمل اور دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی،

    پولیس کو مستحکم کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ کا اہم اقدام سامنے آیا ہے،پولیس کے لئے بکتر بند گاڑیاں، اسلحہ اور دیگر جدید آلات خریداری کے لئے تین ارب روپے کا فنڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ نےپولیس شہداء کے ورثاء کو رمضان پیکج میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے،صوبائی حکومت کے رمضان پیکج کے تحت پولیس شہداء کے ورثاء کو 10، 10 ہزار روپے نقد دیئے جائیں گے،پولیس شہداء کے بچوں کے لئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے،شہداء کوٹہ کے تحت تمام شہداء کے بچوں کو پولیس میں بھرتی کرنے کے لئے ون ٹائم کوٹہ مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لئے کابینہ کی منظوری کے لئے کیس تیار کیا جائے، ون ٹائم کوٹہ مقرر کرنے سے شہداء کوٹہ کے تحت بھرتی کے منتظر تمام شہداء کے بچے بیک وقت بھرتی ہوسکیں گے۔ شہداء کوٹہ کم ہونے کی وجہ سے پولیس شہداء کے بچے کئی سالوں سے بھرتی کے منتظر ہیں۔ صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کرنے پر کام کیا جائے.

    اجلاس میں اہم شخصیات اور تنصیبات کی سکیورٹی کے لئے پولیس کے اندر سکیورٹی ڈویژن کے قیام سے متعلق امور پر بھی غوروخوص کیا گیا،وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اہم شخصیات کو سکیورٹی دینے سے متعلق ایک قابل عمل پالیسی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ امن و امان صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے،امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، موجودہ صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹنے کے قابل بنانے کے لئے پولیس کو ہر لحاظ سے مستحکم بنایا جائے گا،اس مقصد کے لئے پولیس کو درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے،

  • کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟  عدالت کا استفسار

    کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ عدالت کا استفسار

    پشاور ہائی کورٹ ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا

    جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل ہیں۔سنی اتحاد کونسل کی جانب سے قاضی انور، اعظم سواتی عدالت میں پیش ہوئے ، پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری، فیصل کریم کنڈی اور فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ جسٹس ارشد علی نےکہا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے تو خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، قاضی انور نے کہا کہ بالکل انکا کوئی امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوا، آزاد امیدواروں نے قانون کے مطابق 3 روز میں سنی اتحاد کونسل جوائن کی،

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنے کے بعد لسٹ دی، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی چھوڑ دی جائیں تو پھر پارلیمنٹ مکمل نہیں ہو گی،قاضی انور نے کہا کہ مخصوص نشستیں دوسری پارٹیوں کو نہیں دی جا سکتیں، اگلے الیکشن تک خالی رہیں گی،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل بھی پہنچ گئے، بیرسٹر ظفر نہیں آئے،سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ مجھے وقت دیں کہ میں تھوڑی تیاری کر لوں،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ سے کہا کہ آپ ہر وقت تیار رہتے ہیں، ہم انٹیرم ریلیف واپس لے لیں گے،پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کل سینیٹ کے انتخابات بھی ہیں

    کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے؟ عدالت
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، سیاسی جماعت انتخابات میں نشستیں لینے کے بعد پارلیمانی جماعت بن جاتی ہے۔عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ فراہمی کا طریقہ کار الیکشن ایکٹ میں موجود نہیں ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی میں مکس ممبران کی نمائندگی کا قانون ہے، اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، سیاسی جماعتوں کو الیکشن سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع کروانی پڑتی ہے، جنرل الیکشن میں درخواست گزار پارٹی نے حصہ نہیں لیا،عدالت نے کہا کہ لسٹ کا طریقہ کار قانون میں واضح نہیں، کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ا لیکشن کمیشن کے متعدد سیکشنز کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے یا نہیں یہ دیکھنا ہے، قانون کے مطابق جو سیاسی پارٹی جنرل الیکشن میں حصہ لے، کوئی سیٹ جیتے تو مخصوص نشستیں اسے ملیں گی، سیاسی پارٹی جب کوئی سیٹ جیت جائے اور پھر آزاد امیدوار شمولیت اختیار کریں تب ہی اسے مخصوص نشستوں کا فائدہ ہو گا، عدالت نے کہا کہ آپ کے دلائل کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل سیٹ جیتنے کے تناسب سے سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دی جاتی ہیں، عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 15 ڈی پر بحث کریں تاکہ واضح ہو جائے، کیا سنی اتحاد کونسل ایک پارٹی ہے یا نہیں؟ کیا وہ صدارتی، سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے؟ کیا سنی اتحاد کونسل اپوزیشن لیڈر بنا سکتی ہے؟

    سنی اتحاد کونسل سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون میں سیاسی جماعت کو کم از کم جنرل الیکشن میں سیٹ جیتنا لازمی ہے،عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا ایسا کیس کبھی سامنے نہیں آیا ہے، یہ کیس اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو،عدالت نے کہا کہ ایک اور قانون بھی ہے کہ آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنی ہو گی، پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی پارٹی میں کوئی آزاد امیدوار چلا جائے تو کیا ہو گا؟ الیکشن کمیشن کے ایکٹ 2017 کو پاس کرتے وقت پارلیمنٹ مخصوص نشستوں کا معاملہ زیر غور نہیں لائی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لسٹ جمع کرنا کسی سیاسی جماعت کیلئے لازمی ہوتا ہےالیکشن سے قبل لسٹ جمع کرانا لازمی ہوتا ہے، مخصوص نشستوں کو شائع کیا جاتا ہے، ووٹر مخصوص نشستوں کی لسٹ دیکھ کر کسی امیدوار یا جماعت کو ووٹ دیتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی جماعت مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہ کرائے؟ اگر وہ جماعت پاکستان کی بڑی جماعت ہو تو الیکشن ایکٹ اس معاملے میں کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت لسٹ جمع کراتی ہے الیکشن سے قبل کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ یہ مخصوص نشستیں بھی حاصل کریگی، کسی بھی جماعت کو مخصوص نشستیں لسٹ کے مطابق ملتی ہیں، اگر کوئی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو مخصوص نشستوں کے حصول سے انہیں نکالا جائے گا،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اب تو یہ صورتحال ہے کہ آزاد امیدواروں نے پارٹی جوائن کر رکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جنرل سیٹس کے علاوہ مخصوص نشستوں کا سوچ بھی نہیں سکتے،جسٹس عتیق شاہ نے اسفتسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ قانون میں اس بات کا ذکر تو نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں یہ بات واضح ہے، رولز کے مطابق سیٹ جیتنے والی پارٹی کو مخصوص نشستوں کی لسٹ پہلے جمع کرانی ہوتی ہے، عدالت نے کہا کہ اگر ایک جماعت 12 اور دوسری 18 جنرل نشستیں جیت جائے؟ آزاد امیدوار 12 جنرل نشستیں جیتنے والی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو پھر کیا ہوگا؟اس صورت میں تو وہ پارٹی آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد بڑی پارٹی بن جائیگی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پھر بھی امیدواروں کی لسٹ جمع کرانے کی شرط پوری کرنی پڑے گی، عدالت نے کہا کہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اگر آزاد امیدوار کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو کیا اس کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دی جاسکتی ہیں لیکن اگر پارلیمان میں اس پارٹی کی کوئی نمائندگی ہو تب، اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہو گئے.

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند کے دلائل شروع ہو گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کو سپورٹ کرتا ہوں، سنی اتحاد کونسل سیکشن 51 ڈی کے مطابق ایک سیاسی جماعت نہیں،سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں، مخصوص نشستوں کے امیدوار پورے صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں، مخصوص نشستوں کیلئے 3 مختلف سیکشنز پورے کرنے لازمی ہوتے ہیں، اگر کوئی جماعت اس میں ایک بھی پورا نہ کرے تو وہ سیاسی جماعت تصور نہیں ہو گی، قانون کے مطابق مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جو الیکشن میں حصہ لے گی، اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی جماعت کو ہی مخصوص نشستیں ملیں گی، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا، اگر سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تو اس کا کیا مطلب ہوا، کسی جماعت کو تب ہی مخصوص نشستیں ملیں گی جب کم از کم ایک جنرل نشست جیت جائے، پولیٹیکل پارٹی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو اسے مخصوص نشستیں ملیں گی، آرٹیکل 51 d اور سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک جنرل نشست ہوگی تو ان کو ملے گی،کاغذات نامزدگی کے آخری دن سے پہلے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی دینی ہوتی ہے، سنی اتحاد کونسل کی کوئی جنرل نشست نہیں ہے اور نہ مخصوص لسٹ پہلے جمع کرائی ہے، قانون میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے لیکن ابھی یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، : تشریح یہی ہے کہ کم از کم ایک سیٹ جیتنی لازمی ہے، اب یہ فیصلہ بنچ نے کرنا ہے کہ تشریح درست ہے یا نہیں

    مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، فاروق ایچ نائیک
    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، جب کوئی پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیتی تو لسٹ کیوں دے گی،مخصوص نشستوں کی فہرست میں اس وقت اضافہ ہوگا جب اس میں نام کم پڑتے ہیں، کوئی فہرست نہ دینے کی صورت میں پارٹی مقابلے سے باہر ہو جاتی ہے، فاروق ایچ نائک کے دلائل مکمل ہو گئے

  • وفاق سے پیسے نا ملنے پر اعلی امین کا  عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ

    وفاق سے پیسے نا ملنے پر اعلی امین کا عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے وفاق کے ذمہ واجب الادا پیسے نہ ملنے پر عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ کو وفاق کےذمہ صوبے کے واجبات اور مالی امور پر بریفنگ دی گئی حکام نے بتایاکہ پن بجلی کےخالص منافع کی مد میں وفاق کےذمہ 1510 ارب روپے واجب الادا ہیں، نیشنل گرڈ کو دی جانے والی بجلی کی مد میں 6 ارب روپے بقایاجات ہیں۔

    بریفنگ کے مطابق قبائلی اضلاع کا صوبےسے انتظامی انضمام ہوگیا لیکن مالی ابھی تک انضمام نہیں ہوا، قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبےکی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، آبادی کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کا شیئر 19.64 فیصد بنتا ہے اور صوبے کو اس وقت این ایف سی کا صرف 14.16 فیصد شیئر ملتا ہے، آبادی کے حساب سے این ایف سی میں سالانہ 262 ارب روپے ملنے چاہئیں۔

    وزیراعلیٰ نے معاملات وفاق کے ساتھ اٹھانےکیلئے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایک ماہ میں ہوم ورک مکمل کرکے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے مالی معاملات کا کیس مؤثرانداز میں پیش کرنے کیلئے دستاویزات تیار رکھی جائیں، واجبات اور آئینی حقوق کیلئے تمام فورمز پر آواز اٹھائی جائے گی، وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھانے کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں، وفاق سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائےگا۔

    دوسری جانب حکومت پنجاب نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اڈیالہ جیل کے دورے سے روک دیا، محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا گیا، جس میں لکھا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل پر ملک دشمنوں کی جانب سے حملوں کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا حکومت کے خط کے جواب میں پنجاب حکومت نے تحریری مراسلے میں لکھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث اڈیالہ سمیت مختلف جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے امن و امان کی صورت حال کے باعث وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دورہ کسی اور نئی تاریخ تک مؤخر کیا جائے۔

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورکے دورہ اڈیالہ جیل کیلئے 12 مارچ کو پنجاب حکومت کو خط ارسال کیا تھا-