Baaghi TV

Tag: پشاور

  • کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟  عدالت کا استفسار

    کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ عدالت کا استفسار

    پشاور ہائی کورٹ ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا

    جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل ہیں۔سنی اتحاد کونسل کی جانب سے قاضی انور، اعظم سواتی عدالت میں پیش ہوئے ، پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری، فیصل کریم کنڈی اور فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ جسٹس ارشد علی نےکہا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے تو خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، قاضی انور نے کہا کہ بالکل انکا کوئی امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوا، آزاد امیدواروں نے قانون کے مطابق 3 روز میں سنی اتحاد کونسل جوائن کی،

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنے کے بعد لسٹ دی، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی چھوڑ دی جائیں تو پھر پارلیمنٹ مکمل نہیں ہو گی،قاضی انور نے کہا کہ مخصوص نشستیں دوسری پارٹیوں کو نہیں دی جا سکتیں، اگلے الیکشن تک خالی رہیں گی،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل بھی پہنچ گئے، بیرسٹر ظفر نہیں آئے،سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ مجھے وقت دیں کہ میں تھوڑی تیاری کر لوں،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ سے کہا کہ آپ ہر وقت تیار رہتے ہیں، ہم انٹیرم ریلیف واپس لے لیں گے،پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کل سینیٹ کے انتخابات بھی ہیں

    کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے؟ عدالت
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، سیاسی جماعت انتخابات میں نشستیں لینے کے بعد پارلیمانی جماعت بن جاتی ہے۔عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ فراہمی کا طریقہ کار الیکشن ایکٹ میں موجود نہیں ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی میں مکس ممبران کی نمائندگی کا قانون ہے، اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، سیاسی جماعتوں کو الیکشن سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع کروانی پڑتی ہے، جنرل الیکشن میں درخواست گزار پارٹی نے حصہ نہیں لیا،عدالت نے کہا کہ لسٹ کا طریقہ کار قانون میں واضح نہیں، کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ا لیکشن کمیشن کے متعدد سیکشنز کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے یا نہیں یہ دیکھنا ہے، قانون کے مطابق جو سیاسی پارٹی جنرل الیکشن میں حصہ لے، کوئی سیٹ جیتے تو مخصوص نشستیں اسے ملیں گی، سیاسی پارٹی جب کوئی سیٹ جیت جائے اور پھر آزاد امیدوار شمولیت اختیار کریں تب ہی اسے مخصوص نشستوں کا فائدہ ہو گا، عدالت نے کہا کہ آپ کے دلائل کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل سیٹ جیتنے کے تناسب سے سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دی جاتی ہیں، عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 15 ڈی پر بحث کریں تاکہ واضح ہو جائے، کیا سنی اتحاد کونسل ایک پارٹی ہے یا نہیں؟ کیا وہ صدارتی، سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے؟ کیا سنی اتحاد کونسل اپوزیشن لیڈر بنا سکتی ہے؟

    سنی اتحاد کونسل سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون میں سیاسی جماعت کو کم از کم جنرل الیکشن میں سیٹ جیتنا لازمی ہے،عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا ایسا کیس کبھی سامنے نہیں آیا ہے، یہ کیس اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو،عدالت نے کہا کہ ایک اور قانون بھی ہے کہ آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنی ہو گی، پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی پارٹی میں کوئی آزاد امیدوار چلا جائے تو کیا ہو گا؟ الیکشن کمیشن کے ایکٹ 2017 کو پاس کرتے وقت پارلیمنٹ مخصوص نشستوں کا معاملہ زیر غور نہیں لائی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لسٹ جمع کرنا کسی سیاسی جماعت کیلئے لازمی ہوتا ہےالیکشن سے قبل لسٹ جمع کرانا لازمی ہوتا ہے، مخصوص نشستوں کو شائع کیا جاتا ہے، ووٹر مخصوص نشستوں کی لسٹ دیکھ کر کسی امیدوار یا جماعت کو ووٹ دیتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی جماعت مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہ کرائے؟ اگر وہ جماعت پاکستان کی بڑی جماعت ہو تو الیکشن ایکٹ اس معاملے میں کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت لسٹ جمع کراتی ہے الیکشن سے قبل کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ یہ مخصوص نشستیں بھی حاصل کریگی، کسی بھی جماعت کو مخصوص نشستیں لسٹ کے مطابق ملتی ہیں، اگر کوئی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو مخصوص نشستوں کے حصول سے انہیں نکالا جائے گا،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اب تو یہ صورتحال ہے کہ آزاد امیدواروں نے پارٹی جوائن کر رکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جنرل سیٹس کے علاوہ مخصوص نشستوں کا سوچ بھی نہیں سکتے،جسٹس عتیق شاہ نے اسفتسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ قانون میں اس بات کا ذکر تو نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں یہ بات واضح ہے، رولز کے مطابق سیٹ جیتنے والی پارٹی کو مخصوص نشستوں کی لسٹ پہلے جمع کرانی ہوتی ہے، عدالت نے کہا کہ اگر ایک جماعت 12 اور دوسری 18 جنرل نشستیں جیت جائے؟ آزاد امیدوار 12 جنرل نشستیں جیتنے والی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو پھر کیا ہوگا؟اس صورت میں تو وہ پارٹی آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد بڑی پارٹی بن جائیگی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پھر بھی امیدواروں کی لسٹ جمع کرانے کی شرط پوری کرنی پڑے گی، عدالت نے کہا کہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اگر آزاد امیدوار کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو کیا اس کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دی جاسکتی ہیں لیکن اگر پارلیمان میں اس پارٹی کی کوئی نمائندگی ہو تب، اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہو گئے.

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند کے دلائل شروع ہو گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کو سپورٹ کرتا ہوں، سنی اتحاد کونسل سیکشن 51 ڈی کے مطابق ایک سیاسی جماعت نہیں،سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں، مخصوص نشستوں کے امیدوار پورے صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں، مخصوص نشستوں کیلئے 3 مختلف سیکشنز پورے کرنے لازمی ہوتے ہیں، اگر کوئی جماعت اس میں ایک بھی پورا نہ کرے تو وہ سیاسی جماعت تصور نہیں ہو گی، قانون کے مطابق مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جو الیکشن میں حصہ لے گی، اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی جماعت کو ہی مخصوص نشستیں ملیں گی، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا، اگر سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تو اس کا کیا مطلب ہوا، کسی جماعت کو تب ہی مخصوص نشستیں ملیں گی جب کم از کم ایک جنرل نشست جیت جائے، پولیٹیکل پارٹی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو اسے مخصوص نشستیں ملیں گی، آرٹیکل 51 d اور سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک جنرل نشست ہوگی تو ان کو ملے گی،کاغذات نامزدگی کے آخری دن سے پہلے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی دینی ہوتی ہے، سنی اتحاد کونسل کی کوئی جنرل نشست نہیں ہے اور نہ مخصوص لسٹ پہلے جمع کرائی ہے، قانون میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے لیکن ابھی یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، : تشریح یہی ہے کہ کم از کم ایک سیٹ جیتنی لازمی ہے، اب یہ فیصلہ بنچ نے کرنا ہے کہ تشریح درست ہے یا نہیں

    مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، فاروق ایچ نائیک
    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، جب کوئی پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیتی تو لسٹ کیوں دے گی،مخصوص نشستوں کی فہرست میں اس وقت اضافہ ہوگا جب اس میں نام کم پڑتے ہیں، کوئی فہرست نہ دینے کی صورت میں پارٹی مقابلے سے باہر ہو جاتی ہے، فاروق ایچ نائک کے دلائل مکمل ہو گئے

  • وفاق سے پیسے نا ملنے پر اعلی امین کا  عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ

    وفاق سے پیسے نا ملنے پر اعلی امین کا عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے وفاق کے ذمہ واجب الادا پیسے نہ ملنے پر عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ کو وفاق کےذمہ صوبے کے واجبات اور مالی امور پر بریفنگ دی گئی حکام نے بتایاکہ پن بجلی کےخالص منافع کی مد میں وفاق کےذمہ 1510 ارب روپے واجب الادا ہیں، نیشنل گرڈ کو دی جانے والی بجلی کی مد میں 6 ارب روپے بقایاجات ہیں۔

    بریفنگ کے مطابق قبائلی اضلاع کا صوبےسے انتظامی انضمام ہوگیا لیکن مالی ابھی تک انضمام نہیں ہوا، قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبےکی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، آبادی کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کا شیئر 19.64 فیصد بنتا ہے اور صوبے کو اس وقت این ایف سی کا صرف 14.16 فیصد شیئر ملتا ہے، آبادی کے حساب سے این ایف سی میں سالانہ 262 ارب روپے ملنے چاہئیں۔

    وزیراعلیٰ نے معاملات وفاق کے ساتھ اٹھانےکیلئے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایک ماہ میں ہوم ورک مکمل کرکے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے مالی معاملات کا کیس مؤثرانداز میں پیش کرنے کیلئے دستاویزات تیار رکھی جائیں، واجبات اور آئینی حقوق کیلئے تمام فورمز پر آواز اٹھائی جائے گی، وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھانے کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں، وفاق سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائےگا۔

    دوسری جانب حکومت پنجاب نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اڈیالہ جیل کے دورے سے روک دیا، محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا گیا، جس میں لکھا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل پر ملک دشمنوں کی جانب سے حملوں کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا حکومت کے خط کے جواب میں پنجاب حکومت نے تحریری مراسلے میں لکھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث اڈیالہ سمیت مختلف جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے امن و امان کی صورت حال کے باعث وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دورہ کسی اور نئی تاریخ تک مؤخر کیا جائے۔

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورکے دورہ اڈیالہ جیل کیلئے 12 مارچ کو پنجاب حکومت کو خط ارسال کیا تھا-

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا  کی خواتین کیلئے  قوانین میں ضروری ترامیم کی ہدایت

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خواتین کیلئے قوانین میں ضروری ترامیم کی ہدایت

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے خواتین کو وراثت میں حصہ دینے کیلئے قوانین میں ضروری ترامیم کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت بورڈ آف ریونیو کا اجلاس ہوا، جس میں بورڈ آف ریونیو کے انتظامی معاملات، اصلاحات اور دیگر امور پر علی امین گنڈا پور کو بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ نے وراثت میں خواتین کو حق دلانے کیلئے قوانین میں ضروری ترامیم کرنے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ صوبے میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا پہلا مرحلہ جون 2024ء تک مکمل کیا جائے۔

    علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ لینڈ کمپیوٹرائزیشن مکمل ہونے سے پہلے اضلاع میں درکار ضروری عملہ تعینات کیا جائے۔اور بنیادی اصلاحات کیلئے ریونیو کے لیگل فریم ورک میں ضروری ترامیم پر کام شروع کیا جائے، مجوزہ ترامیم جلد سے جلد متعلقہ فورمز کی منظوری کیلئے پیش کی جائیں، شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ہر قسم کے اسٹیمپز کو ای۔ اسٹیمپز پر منتقل کیا جائے اور صوبے میں خانہ کاشت مسائل سنجیدہ نوعیت کے ہیں، حل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

  • وزیر اعلیٰ کے پی  کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پربریفنگ

    وزیر اعلیٰ کے پی کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پربریفنگ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات سے متعلق اہم اجلاس ہوا،

    متعلقہ حکام کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے متعلقہ حکام کو یہ معاملات وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کر دی،اور کہا کہ ایک مہینے کے اندر اس سلسلے میں ہوم ورک مکمل کرکے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے،وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات کا کیس مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لئے تمام متعلقہ دستاویزات تیار رکھی جائیں، صوبے کے واجبات اور آئینی حقوق کے لئے تمام دستیاب فورمز پر بھر پور آواز اٹھائی جائے گی، وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ موثر انداز میں اٹھانے کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں،وفاق سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا،

    اجلاس میں دوران بریفنگ بتایا گیا کہ اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت پن بجلی کے خالص منافع جات کی مد میں وفاق کے ذمے 1510 ارب روپے واجب الادا ہیں،نیشنل گرڈ کو بیچی جانے والی صوبائی حکومت کی بجلی کی مد میں چھ ارب روپے بقایا جات ہیں،سابقہ قبائلی اضلاع کا صوبے کے ساتھ انتظامی انضمام ہوگیا ہے مگر مالی انضمام نہیں ہوا، سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبے کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، صوبے کی موجودہ آبادی کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کا شیئر 19.64 فیصد بنتا ہے، جبکہ صوبے کو اس وقت این ایف سی کا صرف 14.16 فیصد شیئر ملتا ہے،صوبے کی موجودہ آبادی کے حساب سے صوبے کو این ایف سی میں سالانہ 262 ارب روپے ملنے چاہئیں، ضم اضلاع کے دس سالہ ترقیاتی پلان کے تحت صوبے کو 500 ارب روپے کے مقابلے میں اب تک صرف 103 ارب روپے ملے ہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • مدرسوں کو شمسی توانائی فراہم کرنا ضروری ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    مدرسوں کو شمسی توانائی فراہم کرنا ضروری ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ انرجی اینڈ پاور کا اجلاس ہوا،

    مساجد اور عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کے منصوبے میں دینی مدرسوں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیراعلی نے متعلقہ حکام کو بندوبستی اور ضم اضلاع کے دینی مدارس کو سولرائزیشن منصوبے میں شامل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی،وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر کے 1000 سے 1500 رجسٹرڈ دینی مدرسوں کو منصوبے میں شامل کیا جائے،اس منصوبے میں تمام اضلاع سے مدرسوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے، مدرسوں میں زیر تعلیم ہزاروں طلباء رہائش پذیر ہوتے ہیں، ان کی سہولیات کے لئے مدرسوں کو شمسی توانائی فراہم کرنا ضروری ہے،

    متعلقہ حکام کی جانب سے محکمے کے ترقیاتی منصوبوں، انتظامی و مالی معاملات اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ پیڈو کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران کی تعیناتی جلد سے جلد عمل میں لائی جائے، پن بجلی کے جاری منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل یقینی بنائی جائے، ان منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت قبول نہیں، منصوبے مقررہ مدت تک مکمل نہ کرنے والے ٹھیکیداروں پر جرمانے عائد کئے جائیں، ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لئے ترجیحات کا تعین کیا جائے، صوبے کے لئے آمدن کا ذریعہ بننے والے منصوبوں کی تکمیل کو پہلی ترجیح دی جائے،

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

  • کے پی میں صحت کارڈ کا استعمال سرکاری اسپتالوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ

    کے پی میں صحت کارڈ کا استعمال سرکاری اسپتالوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی متعدد طبی سہولیات کو سرکاری اسپتالوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یکم رمضان المبارک سے صوبہ بھر میں صحت کارڈ پلس پر خدمات کی بحالی سے متعلق انشورنس کمپنی کے زونل ہیڈز کے نام مراسلے لکھے گئے تھے،مراسلے پشاور اور سوات زون کے زونل ہیڈ کے نام لکھے گئے،مراسلے میں لکھا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ 7 مارچ کو وزیراعلیٰ ہاﺅس میں اجلاس ہوا، جس میں علی امین گنڈا پور نے انشورنس کمپنی کو صحت کارڈ پلس کی بحالی کی ہدایت کی۔

    مراسلے میں کہا گیا تھا کہ صحت کارڈ کی بحالی خیبرپختونخوا کے 100 فیصد آبادی کے لئے کی گئی ہے۔ یکم رمضان المبارک سے صوبہ بھر میں صحت کارڈ پلس پر خدمات بحال ہوجائیں گی،مریضوں کی سہولیات کیلئے تمام اسپتالوں میں کاؤنٹرز کا قیام یقینی بنایا جائے، اسپتالوں میں پروگرام کی برانڈنگ اور ہیلپ لائن نمبرز کی نمائش کی جائے، تمام مریضوں کو بلا تعطل خدمات فراہم کی جائیں۔

    مسلم لیگ ن نے کابینہ کیلئے اپنے نام فائنل کر لئے

    تاہم اب انشورنس کمپنی نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق صحت کارڈ پر سی سیکشن، انجیو گرافی، اپینڈیکس کا علاج سرکاری اسپتال میں ہوگا پتھری، ٹانسل، آنکھ اور ناک کا علاج بھی سرکاری اسپتال میں ہوگا۔

    بابراعظم جلد شادی کرنے والے ہیں،محمد رضوان

    رمضان ریلیف پیکج کاحجم بڑھا دیا گیا

  • پشاور میں  دھماکا خود کش نہیں تھا،ابتدائی رپورٹ

    پشاور میں دھماکا خود کش نہیں تھا،ابتدائی رپورٹ

    پشاور کے علاقے بورڈ بازار میں دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : ایس ایس پی آپریشنز کاشف آفتاب عباسی کے مطابق پشاور میں بورڈ بازار کے قریب مبینہ خودکش دھماکا ہوا ہے، دھماکے میں 2 افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا،زخمی اور لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ زخمی شخص کی حالت بھی تشویشناک بتائی جارہی ہ، دھماکا خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب تھا-

    ایس ایس پی کے مطابق دھماکا ناصر باغ میں موٹر سائیکل پر بارودی مواد سے آج صبح کیا گیا،موٹرسائیکل پر 3 افراد سوار تھے، شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں، پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ کی طرف روانہ کردی گئی ہے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی نے کہا کہ دھماکے میں 4 سے 5 کلو بارودی مواد استعمال ہوا، بم ڈسپوزل یونٹ رپورٹ کےمطابق دھماکا خودکش نہیں تھا،بارودی مواد کی منتقلی کے دوران دھماکا ہوا۔

    علی امین گنڈاپور کاآصف زرداری کی تقریب حلف برداری میں نہ جانے کا اعلان

    پولیس کے مطابق دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جس میں بتایا گیا کہ واقعہ میں کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا،ہلاک اور زخمی ہونے والے دہشتگرد ہیں ج کی شناخت ہوچکی ہے ہلاک اور زخمی دہشتگرد کا تعلق پشاور سے ہے جو کہ سی ٹی ڈی کو مطلوب تھے،دہشتگردوں سے موبائل فونز اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بورڈ بازار دھماکے کی مذمت کی ہے،وزیر اعلیٰ نے انسپیکٹر جنرل پولیس سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی۔

    حکومت کس طرح پرفارم کر ے گی،یہ رمضان المبارک کا مہینہ کلیئر کر دے گا،فیصل …

    حیدرآباد میں چار ٹانگوں اور ہاتھ والے بچے کی پیدائش

  • ڈنڈے کے زور پر نہیں عاجزی کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    ڈنڈے کے زور پر نہیں عاجزی کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی صدارت میں کابینہ کا پہلا اجلاس ہوا

    کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ تمام کابینہ ارکان کو مبارک باد اور پہلے کابینہ اجلاس میں خوش آمدید کہتا ہوں، تجربے کار اور نئے ارکان پر مشتمل اچھی کابینہ تشکیل دی ہے، مشکل حالات میں ہمیں بڑی ذمے داری ملی ہے، ہم نے ایک ٹیم کی طرح کام کرنا ہے، بڑے بڑے کاموں پر توجہ دینی ہے، تمام کام اور فیصلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے،سب نے کارکردگی دکھانی ہو گی، عوامی توقعات کے مطابق ڈیلیور کرنا ہو گا، صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود ہماری ترجیح ہو گی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے معاشی حالات خان کو ہٹانے کے بعد برے ہیں، عوام کی فلاح امن و امان پر کام کریں گے،یکم رمضان سے ہیلتھ کارڈ اوپن کریں گے، رمضان میں لوگوں کی مدد کریں گے،8 لاکھ 50 ہزار خاندانوں کو 10 ہزار امداد دیں گے، لنگر خانوں کو بحال کرنے کا کام شروع کر دیا ہے، لوگوں کو ان کا حق پہنچائیں گے، رمضان دسترخوان کے ذریعے سحری افطاری دیں گے،اسکل ٹریننگ اور قرضے دے کر بے روزگاری کم کریں گے،عوام کی فلاح پر کام کریں گے،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اور نظریاتی اختلاف رہے گا، بدترین مہنگائی ہمارے اوپر مسلط کی گئی، فارم 45 کے مطابق ہمارا حق دیا جائے، ہم وفاق کے ساتھ ورکنگ ریلیشن رکھیں گے، ان کے ساتھ بیٹھیں گے، ہماری معاشی ٹیم ان کے ساتھ بیٹھ کر معاملات دیکھے گی، ڈنڈے کے زور پر نہیں عاجزی کے ساتھ ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، رشتے داروں کو وزارتیں دینا گناہ تو نہیں، یہ موروثی سیاست نہیں، پارٹی نے قربانی دینے والوں کو موقع دیا ہے، کابینہ میں کوئی ڈیلیور نہیں کرے گا تو فارغ ہو گا،

    تمام سابق وزراء اعلی سے مراعات واپس،وزیراعظم سے صوبے کے حقوق سے متعلق ضرور ملوں گا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
    قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ تمام سابق وزراء اعلی سے مراعات واپس لے لی گئی ہیں کسی کو شوق ہے تو اپنے خرچے سے سکیورٹی بھی رکھے اور عیاشی بھی کرے جو جب تک کرسی پر ہے سب ملے گا لیکن بعد میں زندگی بھر کیلئے عوام کے ٹیکس سے ادائیگی نہیں ہوگی۔وفاق کے پاس خیبر پختونخوا کو دینے کے لیے پیسہ نہیں ہیں تو ہم پھر بجلی اور گیس کا آدھا بل دیں گے،کیونکہ ہم سستی بجلی اور گیس دے رہے ہیں،پاکستان ہمارا ملک ہے، لیکن خیبرپختونخوا کو اس کا جائز حق دینا ہوگا،صوبے کے بہت سے حقوق نہیں مل رہے، بجلی کے خالص منافع کے پیسے نہیں مل رہے ہیں، اے جی این قاضی فارمولا سی سی آئی نے منظور کیا، بھیک یا خیرات نہیں مانگ رہے ہیں، ہمارا حق ہے کہ وقت پر ہمیں ہمارے صوبے کے پیسے ملیں، 1510 ارب روپے بقایاجات ہیں، 200 ارب ہم کو فوری طور پر دیں، بجلی اور گیس کم قیمت میں دیں، وہ پیسے ہمارے بقایاجات سے کاٹیں، عوام کو بجلی اور گیس فراہم کرنا چاہتے ہیں، فاٹا انضمام کی مد میں وفاق نے پیسے دینے ہیں وہ بھی نہیں مل رہے،صوبے میں ترقیاتی کام کرنے ہیں، بجلی کے ریٹس زیادہ ہوگئے پر لوڈشیڈنگ یہاں زیادہ ہے، چوری 10 فیصد ہے اور لائن لاسز 17 فیصد ہیں، بجلی کا یونٹ 80 روپے کا ہوگیا ہے، صوبے میں انڈسٹریز کم ہو گئی ہیں، آئی ایم ایف کی بات مانتے ہیں اور میری بات نہیں مانتے کیونکہ میں کمزور ہوں، وزیراعظم سے آئینی فورمز اور صوبے کے حقوق سے متعلق ضرور ملوں گا،وزیر اعظم نے حلف لیا، اب وہ آئینی طور پر وزیر اعظم ہیں، ان سے ملوں گا،

    مریم نواز مخالف تاہم ایک مرتبہ انکی تعریف کی،خوبصورت ہیں،لیکن سرجری کروائی ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
    علی امین گنڈاپورکا مزید کہنا تھا کہ فارم 45 اور 47 کے حوالے سے ہمارا جو موقف ہے، وہ رہےگا،نو مئی کی فوٹیج نہیں مل رہی لیکن ثوبیہ شاہد کی فوٹیجز ہیں ہمارے پاس ،جس وقت واقعہ ہوا ہم میں سے کوئی ایوان میں نہیں تھا،جس وقت غیر اخلاقی زبان استعمال ہوئی ہم نہیں تھے،ثوبیہ شاہد نے کہا کہ پستول لا کر ان کو مار دوں گی، ثوبیہ شاہد نے ہجوم کو پرووک کیا، میں نے ان سے معذرت کی اور ان کو سمجھایا، ثوبیہ شاہد نے مجھے بھی لوٹا اور گھڑی دکھائی میں چپ رہا، مریم نواز مخالف ہیں تاہم ایک مرتبہ انکی تعریف کی کہ خوبصورت ہیں،لیکن سرجری کروائی ہے،اگر کہا کہ یہ غلط ہے تو مریم نواز سے معافی مانگ لوں گا، اداروں کے درمیان فرق آیا ہے،الیکشن سے پہلے جو کچھ کیا گیا،پولیس کو کہا ہے غیر قانونی مقدموں کو ختم کیا جائے، فورسز والے بھی ہمارے بھائی ہیں کوشش کر رہا ہوں مسئلہ حل کروں، پولیس کو نچلی سطح سے مضبوط کیا جائیگا، خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے والوں کی فیس معاف کروا رہا ہوں،مریم نواز نے خاتون اول کیخلاف نازیبا زبان استعمال کی لیکن کوئی نہیں بولا، صوبے کو پاؤں پر کھڑا کرونگا ٹیکس نیٹ بڑھائیں گے، وفاق سے حق لینے کیلئے مذاکرات بھی کرونگا اور قانونی راستہ بھی اختیار کر سکتا ہوں، صوبائی کابینہ بانی پی ٹی آئی کے حکم سے بنی، اپنا ان پٹ دیا، مزمل اسلم فنانس کیلئے ٹیکنیکل ساؤنڈ بندہ ہے، انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا، آئی ایم ایف کو انگیج کرنے کی کوشش کریں گے، مگر وہ بھی دیکھتا ہے کہ کیا ہم قرض واپس کر سکتے ہیں،

    رہنما و ترجمان مسلم لیگ ن اختیارولی خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ وزیراعلٰی کے پی کو سیاسی اختلاف سے بالاتر ہوکر وفاق کیساتھ مفاہمت کی پالیسی اپنانی چاہیئے۔ خیبر پختونخوا کا 90 فیصد انحصار وفاق کی سپورٹ پر ہے۔ہمارا صوبہ وفاق کیساتھ مزاحمت اور مخالفت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بجلی کا خالص منافع آج تک نوازشریف کی حکومتوں میں سب سے زیادہ دیا گیا۔ وزیراعلٰی علی امین خود وزیراعظم کیساتھ بیٹھیں گے تو معاملات درست ہو سکتے ہیں۔وفاق کی مدد کے بغیر پختونخوا دو ماہ کی تنخواہ نہیں دے سکتا ۔صحت کارڈ دو ماہ تک مشکل سے چل پائیگا کیونکہ صوبے کو گزشتہ دس سال میں دیوالیہ کردیا گیا ہے۔

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • خیبرپختونخوا کی 15 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    خیبرپختونخوا کی 15 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    پشاور:خیبرپختونخوا کی 15 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا۔

    باغی ٹی وی: گورنر ہاؤس کے پی میں ارکان صوبائی اسمبلی کی حلف بردادی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور ، آئی جی اور چیف سیکرٹری سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئےگورنر خیبر پختونخوا غلام علی نےکابینہ سے حلف لیا،حلف اٹھانے والوں میں ارشد ایوب، شکیل احمد، فضل حکیم خان ، محمد عدنان ،عاقب اللہ، محمد سجاد، مینا خان،فضل شکور ،نذیر احمد عباسی، پختون یار، آفتاب عالم، خلیق الرحمان، سید قاسم علی شاہ ،فیصل خان ترکئی اور محمد ظاہر شاہ طورو بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی جس میں صوبائی کابینہ کے ارکان کے حوالے سے مشاورت کی گئی تھی۔

    خیبرپختونخوا کی 15 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    صحافی عمران ریاض 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل

    واٹس ایپ میں نیا دلچسپ فیچر متعارف کرانے کا اعلان

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے حلف اٹھا لیا

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے حلف اٹھا لیا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے حلف اٹھا لیا ہے

    گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے حلف لیا، اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما بھی موجود تھے،
    گورنر ہاؤس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی تقریب حلف برداری شروع ہونے سے پہلے ہی بے نظمی کا شکار ہوگئی تھی،تقریب میں داخل ہونے کے لیے کارکنان نے دھکم پیل کی جس کی وجہ سے اراکین اسمبلی کو نشستوں پر بیٹھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    علی امین گنڈا پورکا وزیر اعلی خیبر پختونخوا منتخب ہونے کے بعد پہلا حکم
    پشاور:علی امین گنڈا پورکا وزیر اعلی خیبر پختونخوا منتخب ہونے کے بعد پہلا حکم سامنے آگیا،علی امین گنڈا پور کی جانب سے حکم میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں اشیاء خوردنوش کی قیمتوں پر کنٹرول اور دستیابی یقینی بنائی جائے،تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنروں کو وضع کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں، محکمہ داخلہ و قبائلی أمور، خیبر پختونخوا نے ڈپٹی کمشنرز کے نام تفصیلی مراسلہ ارسال کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر معیاری ضروری اشیائے خوردونوش کی دستیابی کو یقینی بنائے،مارکیٹ میں مستقل معائنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفت میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے،ضعی پرائس ریویو کمیٹیوں کے اجلاس 4 مارچ کو بلانے کی ہدایت کی گئی ہے،مقرر کردہ قیمتوں کو سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ایف ایم ریڈیوزپر جاری کیا جائے ،خوراک اور ملاوٹ کی جانچ کے لیے تمام آؤٹ آف آرڈر مشینری کو فعال بنایا جائے ،سحری اور افطاری کے أوقات میں پکوان بیچنے والی دکانوں کے معائنہ پر توجہ مرکوز رکھی جائے،ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور سمگلنگ کو روکنے کے لئے خصوصی چک پوسٹیں قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،قیمتوں کے کنٹرول اور شکایت کا مکمل نظام 8 مارچ 2024 تک مکمل طور پر فعال کرنے کا حکم دیا گیا ہے.

    دوسری جانب نو منتخب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی حلف برداری کی تقریب آج ہو گی، علی امین گنڈا پور خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ منتخب ہو چکے ہیں، علی امین گنڈا پور نے اسمبلی میں خطاب کے دوران عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟