Baaghi TV

Tag: پشاور

  • مقامی انتظامیہ الیکشن کمیشن اور انتخابی عملے کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی یقینی بنائے،نگران وزیراعلیٰ کے پی

    مقامی انتظامیہ الیکشن کمیشن اور انتخابی عملے کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی یقینی بنائے،نگران وزیراعلیٰ کے پی

    پشاور: نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے صوبائی حکومت کی تیاریوں کا مفصل جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں متعلقہ صوبائی وزرا، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ ڈویژنل کمشنرز اور آر پی اوز نے بذریعہ وڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی، اجلاس کو عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تیاریوں اور اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں پہلی دفعہ ضم شدہ اور بندوبستی اضلاع میں بیک وقت صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں، صوبے میں قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی اسمبلی کی 115 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ عام انتخابات کے لیے صوبے میں 15737 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، ان میں سے 4812 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین، 6581حساس جبکہ 4344 نارمل قرار دئے گئے ہیں، 1919 پولنگ اسٹیشنز برفانی علاقوں میں ہوں گےرجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو کروڑ 16 لاکھ 92 ہزار 381 ہےضم اضلاع اور جنوبی اضلاع کےحساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 11 سیکیورٹی اہلکار فی پولنگ اسٹیشن تعینات کیے جائیں گے، باقی اضلاع کے حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 7،7 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    ساس بہو کا جھگڑا سپریم کورٹ پہنچ گیا

    ضم اور جنوبی اضلاع کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر بھی 7، 7 جبکہ نارمل پولنگ اسٹیشنز پر چار،چار اہلکار تعینات کیے جائیں گے،باقی اضلاع کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر پانچ، پانچ جبکہ نارمل پولنگ اسٹیشنز پر چار، چار اہلکار تعینات کیے جائیں گے صوبائی حکومت کو انتخابات کے لیے 115430 سیکیورٹی اہلکار درکار ہوں گے جبکہ صوبائی حکومت کے پاس 89959 اہلکار دستیاب ہیں، اس طرح 25471 سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے فرنٹئیر کور کے چار ونگز اور فرنٹئیر کانسٹیبلری کی 165 پلاٹونز کی فراہمی کے لیے معاملہ وزارت داخلہ کے ساتھ اٹھایا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر عام انتخابات کے لیے مختلف صوبائی محکموں سے 26213 اضافی اہلکاروں کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ انتخابات کے دن امن و امان کی مانیٹرنگ کے لیے محکمہ داخلہ میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے، پولیس کی جانب سے اضلاع کی سطح پر ڈسٹرکٹ کنٹیجنسی پلان ترتیب دیے گئے ہیں، عام انتخابات کے لیے سیکیورٹی پلانز کے علاوہ ریسکیو ایمرجنسی پلانز ، ہیلتھ ایمرجنسی پلانز بھی ترتیب دیے گئے ہیں پولنگ اسٹیشنز میں تنصیب کے لیے 5552 سی سی ٹی وی کیمرے دستیاب ہیں، اور مزید 11668 کیمروں کی فراہمی کے لئے 986 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں خصوصی افراد کی سہولت کے لیے 11689 پولنگ اسٹیشنز میں ریمپس موجود ہیں جبکہ مزید 1536 ریمپس تعمیر کیے جارہے ہیں۔

    قومی ترقی کا راستہ پی او ایف واہ جیسی مقامی صنعتوں سے متعین ہوتا …

    اجلاس کو بتایا گیا کہ برفانی علاقوں میں انتخابی عمل کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز نے پلانز ترتیب دیے ہیں، برفانی علاقوں میں انتخابات کے انعقاد کے لیے سڑکوں سے برف ہٹانے کے لیے درکار مشینری اور افرادی قوت کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا عام انتخابات کے پرامن، صاف اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہر سطح پر تمام شراکت داروں کے درمیان کوآرڈینیشن کا ایک جامع نظام وضع کیا گیا ہے، پولنگ کے دن سرکردہ سیاسی رہنماؤں کی سیکیورٹی کے لیے ڈی پی اوز کی سطح پر پلان ترتیب دیے جارہے ہیں۔

    دوران اجلاس نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا کہ نگراں صوبائی حکومت عام انتخابات کے پر امن، صاف اور شفاف انعقاد کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنائے گی۔

    چودھری سرور کا این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا …

    انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ڈویژنل کمشنرز، آر پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز عام انتخابات سے متعلق صوبائی حکومت کے پلانز اور فیصلوں پر من و عن عملدرآمد یقینی بنائیں، مقامی انتظامیہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور انتخابی عملے کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی یقینی بنائے عام انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کے احکامات اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، عام انتخابات کے انعقاد کے لیے صوبائی حکومت کی تمام مشینری اور وسائل دستیاب ہوں گے۔

    جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے مزید ہدایت کی کہ انتخابات کے پرامن، صاف اور شفاف انعقاد کے لیے ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کی بطریق احسن انجام دہی کو یقینی بنائیں، صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے درکار تمام وسائل اور تعاون کی فراہمی ممکن بنائے گی۔

    طیبہ گل ہراسانی کیس: سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال آئندہ سماعت پر ذاتی …

  • مولانا فضل الرحمان اور ایمل ولی کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھنے والے دو خود کش حملہ آور گرفتار

    مولانا فضل الرحمان اور ایمل ولی کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھنے والے دو خود کش حملہ آور گرفتار

    سی ٹی ڈی کی بڑی کاروائی، مولانا فضل الرحمان اور ایمل ولی پر خود کش حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنیوالوں کو گرفتار کر لیا

    سی ٹی ڈی نے پشاور کے علاقے متنی میں کاروائی کرتے ہوئے دو خود کش حملہ آوروں کو گرفتار کیا ، ایس ایس پی آپریشنز سی ٹی ڈی نجم الحسنین لیاقت نے پریس کانفرنس میں تفصٰلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ متنی سےگرفتار خودکش حملہ آور کی شناخت عادل خان کے نام سے ہوئی، گرفتار دہشت گرد کی نشاندہی پر اس کے دوسرے ساتھی طاہر کو اچینی سے گرفتار کیا ہے،گرفتار دہشت گردوں کا تعلق داعش خراسان سے ہے، دہشت گردوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کو نشانہ بنانا تھا

    نجم الحسنین نے کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت بعض مقامات کی ریکی بھی کی تھی، حملہ آوروں نے مفتی محمود مرکز کی ریکی بھی کی تھی،دہشتگردوں کی نشاندہی پر 2 خودکش جیکٹس، 3 عدد ہیند گرنیڈ اور پستول برآمدکر لئے گئے،گرفتار دہشتگردوں کی نشاندہی پر زیرزمین دفنائے گئے 2 ہینڈ گرنیڈ برآمد کئے گئے، اچینی پشاور کے ضلع خیبر سے متصل باونڈری سے 2 عدد خوکش جیکٹس بھی برآمد کر لی گئیں، برآمد بارود کو بم ڈسپوزل یونٹ نے ناکارہ بنایا،دہشتگردوں نے پکتیا افغانستان مرکز سے فدائی ٹریننگ حاصل کی ہے

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

  • میں نے بیماری یا خودکش حملے میں مر جانا ہے یہ فیصلہ اللہ کا ہو گا،وزیراعظم

    میں نے بیماری یا خودکش حملے میں مر جانا ہے یہ فیصلہ اللہ کا ہو گا،وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے پشاور میں پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے بیماری یا خودکش حملے میں مر جانا ہے یہ فیصلہ اللہ کا ہو گا،

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ کے پی پولیس کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں، کے پی پولیس کے شہداء کے ورثاء کوئی معمولی نہیں بہت بڑے لوگ ہیں، میں ایک مقروض کی حیثیت سے یہاں آیا ہوں،آپ لوگوں کا مجھ پر بہت بڑا قرض ہے، بعض اوقات ہم لوگ آپ کو وہ مالی امداد نہیں دے پاتے جو دینی چاہیئے،یہ گرے ہوئے لوگ ہیں جنہوں نے اس شہر میں بچوں کو قتل کیا، یہ دین اور اسلام کے نام پر لوگوں کو ڈراتے ہیں،کچھ خیر کا اور کچھ بدبخت شر کا ساتھ دیتے ہیں، بدبخت قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہیں اور فساد برپا کرتے ہیں، اے پی ایس میں بچوں کے ٹکڑے کیے، ہم ان سے نہیں ڈرتے،یہ لوگ دس حملے کریں گے، ہزار بار جواب دیں گے، یہ کس کو ڈراتے ہیں، خیبرپختونخوا کے باہمت اور باوفا پولیس اہلکاروں کو سلام پیش کرتا ہوں، لوگ کہتے ہیں کہ 20 دن بعد آپ نہیں ہوں گے، سخت باتیں نہ کریں،دہشت گرد بزدل ہیں جو چھپ چھپ کر حملہ کرتے ہیں، بے غیرت ہیں، کیا کریں سجدہ ریز ہو جائیں ان کے سامنے اگر ان میں غیرت اور حیا ہو تو سامنے آکر لڑیں کوئی بھی مسلح کارروائی کرے، اس کو روکنا پولیس کی ذمے داری ہے،خوشی ہے کہ شہید ملک سعد اور صفوت غیور کے ورثاء میرے سامنے ہیں

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد ہمدردی کے لائق نہیں ہیں، کیا صفت صاحب شہید ہوگئے تو یہ جنگ ختم ہوگئی؟ 2 ہزار سے زیادہ دہشت گرد مر چکے ہیں کسی کو ان کا نام یاد نہیں، شہداء کے نام یاد ہیں یہ جیتی ہوئی جنگ ہے، یہ جنگ آپ جیت چکے ہیں، صرف جیت کااعلان باقی ہے، جیت کے اعلان میں کچھ وقت لگے گا، شرعی طور پر آپ درست سائڈ پر ہیں، آپ غازی بھی ہیں اور شہید بھی، میری دعا ہے آپ میں غازی زیادہ ہوں، ہم حماقت سے نہیں، ہمت اور حکمت سے یہ لڑائی لڑیں گے، ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے، ایک دوسرے سے سیکھیں گے

     پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • پشاور میں گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کرنیوالے گروہ کا سرغنہ گرفتار

    پشاور میں گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کرنیوالے گروہ کا سرغنہ گرفتار

    پشاور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے( ایف آئی اے) کی گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کے دھندے میں ملوث گروہ کے خلاف کارروائی، گروہ کا سرغنہ گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: ایف آئی اے کے مطابق کوہاٹ روڈ پر کارروائی کے دوران گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث گروہ کا سرغنہ گرفتار کیا گیا، ملزم شعیب میڈیکل ٹیکنیشن ہے اور خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتا تھا ، ابتدائی تفتیشن کے مطابق مکروہ دھندے میں متعدد ڈاکٹرز بھی ملوث ہیں، ملزمان پرائیوٹ اسپتالوں میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کرتے تھے، ملزم کے موبائل فون سے ڈونرز کے حوالے سے بھی اہم معلومات حاصل کر لی گئیں، گرفتار ملزم سے تفتیش کر کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

    آئندہ ہفتے بارش کی پیشگوئی

    دوسری جانب ایف آئی اے انٹرپول نے قتل کے مقدمے میں مطلوب اشتہاری ملزم کو عرب امارات سے گرفتار کرلیا،ایف آئی اے انٹرپول نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے قتل کے مقدمے سمیت سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزم کو عرب امارات سے گرفتار کرلیا ہے۔

    ن لیگ کے لاہور کی 12 نشستوں پر امیدواروں کے نام فائنل،سردار ایاز صادق شامل …

    ترجمان ایف آئی کے مطابق گرفتار ملزم محمد کاشف پنجاب پولیس کو مطلوب تھا، جسے یو اے ای سے گرفتار کرکے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے،ملزم کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت گجرانوالہ میں مقدمہ درج تھا، اور ایف آئی اے انٹرپول پاکستان نے ملزم کی گرفتاری کے لئے ریڈ نوٹسسز جاری کیا تھا، ایف آئی اے امیگریشن اسلام آباد نے ملزم کو متعلقہ پولیس حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

    لیگی رہنما کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، تحریک انصاف سے "بلا”پھر لے لیا گیا

    پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، تحریک انصاف سے "بلا”پھر لے لیا گیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے بلے کا نشان واپس لئے جانے کے فیصلہ آنے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا
    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کیخلاف کل سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے،تحریک انصاف سے بلا لینے پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگا، آپ ہم سے انتخابی نشان بلا لیں گے تو دنیا کبھی الیکشن قبول نہیں کرے گی،سپریم کورٹ کہہ چکی کہ پارٹی سےانتخابی نشان لینا اسے تحلیل کرنے کے مترادف ہے سپریم کورٹ تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا بحال نہیں کرتی تو ہر امیدوار الگ الگ نشان پر لڑے گا جس سے کنفیوژن پیدا ہوگی،اس سے آپ کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد رکھیں گے

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس، الیکشن کمیشن کی ہائیکورٹ کے 26 دسمبر آرڈر پر نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی،پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے حکم امتناع واپس لے لیا،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل منظور کی اور الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا،

    جسٹس اعجاز خان نے سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہنمد اور پی ٹی آئی کے وکیل شاہ فیصل اتمانخیل عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس اعجاز خان نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپکے دلائل ہم نے سنے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں سماعت سننے کے لئے آیا ہوں، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سینئر وکیل قاضی انور آرہے ہیں پھر دلائل پیش کریں گے، ہمیں تھوڑا وقت دیا جائے، عدالت نے کہا کہ ٹھیک ہے جب آپکا مین کونسل آجائے پھر سن لیں گے

    الیکشن کمیشن کیخلاف آپکی توہین عدالت کی درخواست نہیں آئی،پشاور ہائیکورٹ کے جج کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ
    دوبارہ سماعت ہوئی، تو پی ٹی آئی کے سینئر وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ پیش ہو گئے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ قاضی انور ایڈووکیٹ میرے استاد ہیں، میں نے وکالت کی پریکٹس ان کے ساتھ شروع کی تھی،قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں اور بیرسٹر گوہر اس کیس میں وکیل ہیں،سیاسی جماعتوں نےعدالت میں کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑی ہیں،جسٹس اعجاز خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ سے سیکھا ہے کہ قانون کے لیے یہ باتیں بے معنی ہیں عدالت سے باہر کیا ہوتا ہے اس کا سماعت کے ساتھ کچھ کام نہیں،قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس کی بھاری نفری موجود ہے، ادھر آتے ہوئے مجھے روکا گیا،میری تلاشی لی گئی، کیا الیکشن کمیشن ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت آ سکتا ہے؟ ان کی رٹ ٹھیک نہیں ہے، 26 دسمبر کو فیصلہ آیا، اس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا، الیکشن کمیشن نے اب تک ویب سائٹ پر انٹرا پارٹی انتخابات سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ کیا اس کے خلاف توہین عدالت درخواست دائر کی ہے۔ آپ کی طرف سے کوئی توہین عدالت درخواست نہیں آئی۔ قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے الیکشن کمیشن بتائے انھیں نے کیا کیا۔9 جنوری کو سماعت کے لئے مقرر ہے, 9 جنوری میں کتنے دن باقی ہیں،الیکشن کمیشن نے استدعا کی ہے کہ 26 دسمبر کا آرڈر واپس لیا جائے۔یہ کیس 9 تاریخ کو ڈویژن بینچ نے سننا،جب انہوں نے ویب سائٹ پر سرٹیفکیٹ پبلش نہیں کیا تو ان کو مسئلہ کیا ہے، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ یہ اب ان سے ہم پوچھیں گے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایک سیاسی جماعت کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا، الیکشن کمیشن کو اس آرڈر سے مشکلات ہے۔جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن عدالت سے رجوع کر سکتا ہے ؟

    جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس کو پہلے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کیا تھا پھر یہاں آگئے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس کا مجھے پتہ نہیں ہے، معلومات کروں گا، اس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل والے بھی پیش ہوئے، جسٹس اعجاز خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا ہے ہم اس میں فریق نہیں ہیں،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ اس دن پیش ہوئے لیکن پھر بعد میں ان کو پتہ چلا، اور ان کو کسی نے بتایا کہ آپ کا کام نہیں ہے، اس دن ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ایک گھنٹے سے زائد دلائل دیے، ہم کہتے رہے آپ دلائل پیش نہ کریں آپ کا کام نہیں،

    عدالت نےفریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کےپاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینےکااختیار نہیں،پی ٹی آئی نے 2013 اور 2018 انتخابات بلےکے نشان پر لڑے ہیں،

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • پشاور میں پولیس چوکی پر  دہشت گردوں کے حملے کی کوشش ناکام

    پشاور میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کی کوشش ناکام

    پشاور : تھانہ ریگی کی حدود میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنادیا گیا-

    باغی ٹی وی: پولیس کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کرکے 8 سے زائد دہشت گردوں کو بھاگنے پر مجبور کردیاابتدائی اطلاعات کے مطابق 8 سے زائد دہشت گردوں نے حملہ کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے تھرمل ویپن کی مدد سے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنایا –

    ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا ہے کہ جمعہ خان خوڑ کے قریب شدت پسند حملے کیلئے پوزیشن ڈھونڈ رہے تھے کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرکے 8 سے زائد دہشت گردوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا، دہشت گردوں کے فرار کے بعد پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔

    جنگ بندی سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر کوئی بات …

    مولانا فضل الرحمان کا الیکشن میں تاخیر کا مطالبہ

    بجلی کے بلوں میں سرچارجز کے علاوہ بھی متعدد ٹیکسز وصولی کا انکشاف

  • ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    انسان کی زندگی میں کچھ لمحے، کچھ واقعات ایسے یادگار ہوتے ہیں جو اگرچہ لوٹ کر نہیں آتے مگر وہ دل و دماغ پر ایسے نقش ہوجاتے ہیں کہ انسان ان کے سحر میں تادم مرگ جکڑا رہتا ہے۔ آل پاکستان رائٹز ویلفیئرایسوسی ایشن(اپووا) کے بانی وصدر ایم ایم علی نے مجھے دعوت دی کہ اپووا خواتین ونگ کی گورنر ہاوس میں محترم گورنر محمد بلیغ الرحمان صاحب کے ساتھ میٹینگ ہے تو کیا آپ آسکتی ہیں؟ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔ میرے لئے تو بہت اعزاز کی بات تھی۔ میں نے فورا ًاوکے کیا اور دن گننے شروع کردیئے کہ کب وہ دن آئے گا؟ نا سردی کی پرواہ نا ہی بیماری، بچے اور میاں جی ہنس رہے تھے کہ جی اب تو گھٹنے بھی ٹھیک ہو گئے ہیں۔میں ان کی باتوں کو انجوائے کرتی لاہور پہنچ ایک دن پہلے ہی لاہور پہنچ گئی۔ رات خوشی کے مارے نیند ہی نا آئی، صبح سویرے اٹھ گئی ساتھ ہی بیٹے ڈاکٹر محمد عمر کو بھی اٹھا دیا کہ دو بجے سے پہلے پہنچنا ہے گورنر ہاوس۔قصہ مختصر! دوپہر دو بجے سے بھی پہلے میں گورنر ہاوس لاہور کے گیٹ پر تھی دور جو نظر پڑی تو کچھ خواتین مجھ سے بھی پہلے موجود تھیں اس چمکیلی سی دوپہر میں جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی تو میری سوچ کی پرواز آج سے 40 سال پہلے پشاور کے گورنر ہاوس میں پہنچ گئی جب میں فرسٹ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی میٹرک میں ضلع پشاور میں ٹاپ کیا تھا اور اس وقت کے گورنر جناب فضل حق (مرحوم) صاحب نے پہلی بار تمام ٹاپرز کو بلوایا اور انعامات سے نوازا (ابھی تک اس تقریب کے سحر میں تھی) یہ 1983 کی بات ہے اور اب دسمبر 2023 میں وہ بچی ٹھیک 40 سال بعد گورنر ہاوس لاہور میں کھڑی تھی اور کبھی سوچا ہی نا تھا حد سے زیادہ خوشی تھی۔پورے دو بجے اپووا صدر ایم ایم علی،صدر خواتین ونگ اپووا ثمینہ بٹ،اورایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول کی قیادت میں ہم سب کانفرنس روم میں پہنچے، وہاں چائے کے ساتھ دیگر لوازمات سے تواضع کی گئی،

    punjab

    کچھ دیر بعد محترم جناب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب تشریف لائے اور تمام شرکاء کو بہت عزت و احترام سے، نہایت خوشدلی سے خوش آمدید کہا۔۔صدر خواتین ونگ ثمینہ طاہر نے تنظیم کی مجموعی کارکردگی پر بریف دیا جبکہ ایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول نے تنظیم کا تفصیلی تعارف پیش کیا اس کے بعد تمام لکھاریوں سے تعارف ہوا جسے بہت دلچسپی سے گورنر صاحب نے سنا اور مجھ ناچیز کو اسپیشل پشاور سے آنے پر بہت سراہا تعارف مکمل ہونے کے بعد انہوں نے ہمیں گورنر ہاوس کی تاریخ کے بارے میں کافی تفصیل سے آگاہ کیا۔ گورنر ہاوس پنجاب کی تاریخ سوا چار سو سال پرانی ہے یہ 700 کنال پر پھیلا ہوا ہے،اکبر بادشاہ نے 1600میں یہاں اپنے کزن (چچا زاد بھائی) قاسم خان کا مقبرہ تعمیر کروایا جو اس کی بیسمینٹ میں آج بھی موجود ہے بعد میں سکھوں اور انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا اور انگریزوں کے ہی دور میں اس عمارت کو گورنر ہاوس کا درجہ دیا گیا۔ گورنر پنجاب جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر گورنر ہاوس لاہور میں گایئڈڈ ٹور کا افتتاح کیا اور مزید بتایا کہ یہ ایک تاریخی عمارت اور قومی ورثہ ہے اس میں قائداعظم محمدعلی جناح بھی بطور گورنر جنرل ٹھہر چکے ہیں۔اس میں قائد، ملکہ وکٹوریہ اور دیگر شخصیات کے کمرے بھی موجود ہیں جہاں انہوں نے قیام کیا تھا۔سکولوں، کالجوں کے طلباء، عام عوام،ملکی و غیر ملکی سیاح سب گایئڈڈٹورز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ سب عالمی معیار کا ہوگا اور لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔استاد اللہ بخش کی شاہکار پینٹنگز بھی یہاں موجود تھیں جنہیں گورنر صاحب نے اکٹھی کرکے کمروں میں تزیئن و آرائش کے لئے استعمال کیا استاد اللہ بخش کی تصاویر مصوری کا نایاب شاہکار ہیں ان کا استاد کوء نہیں تھا ان کی ایک پینٹینگ 1 ملین میں فروخت ہوئی نامور مصور چغتائی کے بارے میں بھی بتایا۔

    punjab

    گورنر صاحب نے تمام لکھاریوں، صحافیوں، شعراء کی کاوشوں کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی نسبت لکھاری زیادہ حساس ہوتا ہے اگر وہ حساس نا ہو تو کبھی لکھ نا پائے لیکن جو بھی لکھیں بغیر تحقیق کے نا لکھیں کبھی بھی سنی سنائی بات کو آگے نا پہنچایئں کہ اس سے معاشرے میں بہت خرابی پھیلتی ہے اور کچھ ہی دیر جھوٹی خبر ایسے پھیلتی ہے کہ وہ سچ لگتی ہے خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس بات کا احساس دلایئں کہ اس سے معاشرے میں خرابی پھیلتی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق کسی قوم کو ناکام کرنا ہو تو اسے مایوس کردو اور آج کل ہماری نوجوان نسل میں بہت مایوسی پھیلائی جارہی ہے آپ جو بھی لکھیں اس سے صرف مایوسی یا پریشانی نا بتائیں بلکہ اس کے پازیٹیو اور نیگیٹو دونوں پہلو لکھیں صرف نیگیٹیو لکھیں گے تو پڑھنے والا مایوس ہوگا ملکی معشیت کے پہلووں پر بھی روشنی ڈالی گئی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت بارے بھی گفتگو ہوئی ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت ایسی ہو کہ ان کو خرابی کی پہچان ہو تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں مایوسی بہت بڑی خرابی ہے اور نوجوانوں کو اس سے باہر نکالنا ہوگا جو اچھائیاں ہیں ان کی قدر کریں ان پر شکر کریں اور مایوس ہونا چھوڑ دیں۔پھر مادری زبان میں تعلیم،عربی اور ناظرہ کی تعلیم پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے حوالے سے بھی تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم پر گفتگوہوئی اس گفتگو میں، نوجوانوں کے حوالے میں نے بھی ایک عرض پیش کی کہ نوجوان طبقہ ڈپریسڈ ہے بیروزگار ہے اور میری درخواست ہے کہ خاص کر فارن گریجویئٹیس کے لئے کچھ کریں یہ صرف ایک میری آواز نا سمجھیں یہ ان ہزاروں ماوں کی اور ان نوجوان ڈاکٹرز کی آواز سمجھیں جو باہر سے پڑھ کر آئے ہیں ان کو جابز نہیں تو کم از کم لائسسنس ایشو کر دیئے جائیں تاکہ گھر کے کسی کمرے میں ہی کلینک بنا لیں کچھ تو کرسکیں اس بارے میں بھی گورنر صاحب کی مشکور ہوں کہ انہوں نے توجہ سے سنااور تمام سوالات کے مفصل جوابات بھی دیئے اور تمام مسائل کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے کا عہد بھی کیا میٹینگ اور گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ وقت کا پتہ ہی نا چلا اور آدھے گھنٹے کی بجائے دورانیہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک چلا گیا۔

    دل تھا کہ یہ ابھی کچھ دیر اور جاری رہتی کیونکہ ایسے خوبصورت مواقع، یادگاری لمحے زندگی میں قسمت سے کبھی کبھار ہی ملتے ہیں آخر میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے وفد کے تمام اراکین کو یادگاری سرٹیفیکیٹس سے اور خوبصورت قلم و تحائف سے نوازا، مصنفین نے اپنی کتابوں اور رسائل کا تحفہ گورنر صاحب کو پیش کیا اختتام پر گروپ فوٹو کے بعد گورنر صاحب کے حکم پر وفد کو تاریخی گورنر ہاوس کا تفصیلی ٹور بھی کروایا گیا جو میں بوجہ اپنی صحت نا کرسکی اور دور کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی اور سوچ میں وہ بچی تھی جس نے 83 میں گورنر ہاوس پشاور کا کونا کوناایسے بھاگ بھاگ کر دیکھا تھا اور آج؟ پھر اللہ پاک ہزاروں بار شکر ادا کیا کہ جس نے آج یہ موقع دیا کہ جس عمارت کے اندر چڑی بھی پر نہیں مار سکتی وہاں آکر بیٹھنا، گفتگو کرنا، اتنی عزت افزائی یہ سب کیا کسی نعمت سے کم ہے۔۔؟ سب دوستوں سے اجازت لی اور بیٹے کے ساتھ گھر کو روانہ ہوء بہت سی حسین اور خوشگوار یادوں کے ہمراہ۔۔ ابھی پشاور کو جاتے ہوئے راستے میں اس خوبصورت اور یادگار دن کو قلمبند کررہی ہوں اور آخر میں گورنر جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب کی بے حد ممنون ومشکور ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے ہمیں اتنا وقت، اتنی عزت اتنا مان دیا۔۔ اپووا کی تمام ٹیم کی شکرگزار ہوں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو سلامت رکھے صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ آمین ثم آمین
    punjab

  • ریٹرننگ افسر کی معطلی،الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کیا سپریم کورٹ میں چیلنج

    ریٹرننگ افسر کی معطلی،الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کیا سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ: کوہاٹ سے ریٹرنگ افسر عرفان اللہ کی بطور ریٹرنگ آفیسر معطلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کر دی،الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا 27 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کوہاٹ کا حلقہ بغیر ریٹرننگ آفیسر کے ہے، الیکشن کمیشن کیلئے انتخابی عمل میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں،درخواست میں پشاور ہائیکورٹ میں درخواست گزاروں کو فریق بنایا گیا ہے

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • انتخابات 2024: اہلکاروں کی کمی، کے پی حکومت نے ایف سے مدد مانگ لی

    انتخابات 2024: اہلکاروں کی کمی، کے پی حکومت نے ایف سے مدد مانگ لی

    پشاور:خیبرپختونخوا حکومت کو انتخابات کیلئے 42 ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق انتخابات کیلئے 1 لاکھ 34 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار درکار ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کے پاس 90 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار موجود ہیں انتخابات کے دوران سیکیورٹی کیلئے صوبائی حکومت نے وفاق سے فرنٹیئرکانسٹیبلری(ایف سی) کی خدمات مانگ لیں ہیں-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں 15 ہزار 737 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، جن میں سے 4 ہزار 812 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین، 6 ہزار581 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب نگران وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ الیکشن میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں ماحول فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں، سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے دوران قواعد ضوابط پرعمل درآمد یقینی بنائیں۔

    عام انتخابات2024 : کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری روز ہ

    واضح رہے کہ عام انتخابات 2024 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری روز ہے۔ ای سی پی کی جانب سے 2 روزہ توسیع آج ختم ہو جائے گی، چاروں صوبوں میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ آج مکمل ہوگا، گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں 2 روز کی توسیع کی تھی، الیکشن کمیشن کے نظرثانی شدہ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 25 سے 30 دسمبر تک ہوگی۔ ای سی پی کے مطابق ریٹرننگ افسر کے فیصلوں کیخلاف اپیل 3 جنوری تک دائر ہوگی، پولنگ شیڈول کے مطابق 8 فروری 2024 کو ہوگی۔

    حوثی باغیوں کا بحیرہ احمر میں بھارتی تیل بردار جہاز پر ڈرون حملہ

  • قیمتی موبائل فونز چھیننے والا منظم افغان گینگ گرفتار

    قیمتی موبائل فونز چھیننے والا منظم افغان گینگ گرفتار

    پشاور۔ حیات آباد میں قیمتی موبائل فونز چھیننے والا منظم راہزن گینگ بے نقاب ، ملوث ملزمان گرفتار کر لئے گئے

    پوش اور رہائشی علاقہ میں سنیچنگ کی وارداتوں میں ملوث گرفتار ملزمان کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان سے ہے،دوران تفتیش ٹیم کو اہم کامیابی ملی، جس کے دوران سرگرم راہزن گروہ کے سرغنہ ہمت خان کا سراغ لگا کر گرفتار کیا گیا،گرفتار سرغنہ ہمت خان کی نشاندہی پر گروہ کے دیگر تین ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے،گرفتار ملزمان میں ہمت خان (سرغنہ)، بلال، ادریس اور راج دار شامل ہیں ،تمام ملزمان ہمسایہ ملک افغانستان کے رہائشی ہیں ،ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران سنیچنگ کی متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے،کارروائی کے دوران ملزمان سے ابتدائی طور پر 19 عدد چھینے گئے قیمتی آئی فونز برآمد کر لئے گئے ہیں ،ملزمان سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا موٹر سائیکل اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے

    ،اے ایس پی حیا ت آباد نایاب رمضان کا کہنا ہے کہ ملزمان وادارتوں کے بعد موٹر سائیکل کے نمبر پلیٹس تبدیل کرتے تھے جن سے مختلف جعلی نمبر پلیٹس بھی برآمد کر لئے گئے ہیں ،گرفتار ملزمان نے چھینے گئے آئی فونز کی ایک کھیپ افغانستان سمگل کرنے کا انکشاف کیا ہے،ملزمان برآمد شدہ آئی فونز کی دوسری کھیپ افغانستان سمگل کرنے کی تیاری کر رہے تھے،ملزمان لوکل مارکیٹ میں چھینے گئے آئی فونز سپیر پارٹس کی شکل میں بھی فروخت کرتے تھے جن سے متعدد آئی فونز سپیر پارٹس کی شکل میں بھی برآمد کر لئے گئے ہیں ،برآمد شدہ فونز کے اصل مالکان کا سراغ لگایا جا رہا ہے جن میں سے ابتدائی طور پر ایک شہری کی شناخت ہو چکی ہے جس کو موبائل فون حوالہ کیا گیا،ملزمان کی نشاندہی پر متعدد دیگر افراد کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے جن میں چوری شدہ موبائل فونز کے لین دین کرنے والے ریسیورز بھی شامل ہیں ،گرفتار ملزمان کی سزا کے بعد ملک سے بیدخلی کے لئے متعلقہ حکام سے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے،

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    خواجہ سراؤں نے دوستی کے بہانے نشہ دے کر نوجوان کا عضو خاص کاٹ دیا