Baaghi TV

Tag: پشاور

  • پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 30 جنوری تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی راہداری ضمانت کی درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے سماعت کی۔ اس موقع پر اسد قیصر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں اور وہ اس وقت اپنی راہداری ضمانت کی درخواست دائر کر رہے ہیں۔جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس وقت درخواست گزار کہاں ہیں تو اسد قیصر کے وکیل نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں اور عدالت آ رہے ہیں۔ جسٹس کامران حیات میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ "ٹھیک ہے، جب وہ عدالت آئیں گے تو پھر کیس کی سماعت کریں گے۔”اس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے اسد قیصر کو 2 لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض راہداری ضمانت دی اور پولیس کو 30 جنوری تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما،سابق اسپیکر اسد قیصر کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہیں

    پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد اسد قیصر نے میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے خلاف بے تحاشا مقدمات درج ہیں اور ان کے ارکان اسمبلی کے خلاف بھی جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اسد قیصر نے 26 نومبر کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دن پی ٹی آئی کے کارکنوں پر تشدد کیا گیا، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ "26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے، ” انہوں نے بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ان کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک کارکنوں کی رہائی نہیں ہوگی، وہ خود کو رہائی کے لیے پیش نہیں کریں گے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے بتایا کہ حکومت کے سامنے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، جبکہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ "ہمیں افغانستان کے ساتھ کشیدگی پر افسوس ہے، اور اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔”اسد قیصر نے افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اپنا کلچر ہے اور ہمیں افغانستان کے ساتھ مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 کے دوران بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات پیش آئے، جس میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 28 ملزمان کو گرفتار کیا۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق، پشاور کے مختلف تھانوں کی حدود میں بی آر ٹی سروس کے دوران یہ وارداتیں رونما ہوئیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پشاور کے 9 مختلف تھانوں میں بی آر ٹی میں چوری کی وارداتیں ہوئیں، جن میں سے سب سے زیادہ واقعات تھانہ خان رازق کی حدود میں پیش آئے جہاں پانچ چوری کے واقعات ہوئے۔ اس کے علاوہ، تھانہ ٹاؤن اور تھانہ مغربی میں ہر ایک تھانے میں 4 چوری کے کیس رپورٹ ہوئے، جب کہ تھانہ شہید گلفت میں 4 اور حیات آباد کی حدود میں تین چوری کی وارداتیں ہوئی ہیں۔پولیس رپورٹ کے مطابق، ان چوری کی وارداتوں میں بی آر ٹی کے مسافر 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم سے محروم ہوئے، اور اس کے ساتھ ساتھ تقریباً ڈھائی تولہ سونا اور 18 موبائل فونز بھی چوری ہوگئے۔ یہ وارداتیں مسافروں کے لیے پریشانی کا سبب بنی اور ان کی حفاظت اور مال کی حفاظت کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پولیس نے چوری کی وارداتوں میں ملوث 28 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں 8 خواتین بھی شامل ہیں۔ ملزمان سے 3 لاکھ روپے سے زائد رقم اور 17 موبائل فونز برآمد کیے گئے ہیں۔پشاور پولیس کی جانب سے اس حوالے سے مزید کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں بی آر ٹی سروس کے دوران چوری کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی کے اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی قیمتی اشیاء کی حفاظت کریں اور بی آر ٹی سروس میں سفر کرتے وقت محتاط رہیں۔

    پشاور میں بی آر ٹی سروس کے بڑھتے ہوئے مسائل، خاص طور پر چوری کی وارداتوں، نے عوامی سطح پر تحفظات پیدا کیے ہیں، اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن کے معاملے کو جلد حل کرنے کا حکم دے دیا ہے

    خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کروانے سے متعلق درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابرہیم اور جسٹس وقار احمد نے کی،دوران سماعت وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا گزشتہ سماعت پر الیکشن تاریخ کیلئے الیکشن کمیشن نے وقت مانگا تھا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ معاملے پر الیکشن کمیشن نے کچھ حد تک غور کیا، الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن سے متعلق میٹینگز کی ہیں،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ آپ کو ہم دو ہفتے کا وقت دیتے ہیں، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ زیادہ وقت دیں، ہو سکتا ہے سپریم کورٹ بھی کوئی فیصلہ کرے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں کرائیں گے نہ کرانا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد نے کہا پہلے آپ نہیں کروانا چاہ رہے تھے، اب الیکشن کمیشن کروانا چاہ رہا۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا ہمیں مزید وقت دیا جائے، کوشش کریں گےمعاملے کو حل کریں،پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن کے معاملے کو جلد حل کرنے کا حکم دے دیا.

    ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

    داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کا فلیٹ قبضے میں لے لیا گیا

  • پشاور: اپیکس کمیٹی  اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں تمام بنکرز کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ پشاور میں ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکریٹری کے پی، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کرم میں قیامِ امن کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو کرم میں امن و امان کی صورت حال اور وہاں کی تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس بریفنگ میں گرینڈ جرگے کی جانب سے کرم میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا گیا، جس نے علاقے میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    اجلاس میں کرم میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکمتِ عملی پر بھی غور کیا گیا۔ اس حکمتِ عملی میں علاقے میں اسلحے کے خاتمے اور اسلحہ کی غیر قانونی موجودگی کے معاملے پر خاص توجہ دی گئی۔ مزید برآں، کرم میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لیے اقدامات پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی، تاکہ علاقے میں عوامی مشکلات کم کی جا سکیں۔کرم میں بنکرز کے خاتمے کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا کہ یہ بنکرز غیر قانونی طور پر استعمال ہو رہے تھے اور علاقے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے تھے۔ اس فیصلے کے تحت تمام بنکرز کو بند کیا جائے گا تاکہ علاقے میں مزید امن قائم کیا جا سکے اور لوگوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ علاقے میں اسلحہ کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے تاکہ کرم کے عوام کو ایک پرامن اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔ اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا اور غیر قانونی اسلحہ کی فراہمی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔پشاور کے اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس میں کیے گئے فیصلے کرم میں امن کی بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے علاقے میں طویل عرصے تک پائیدار امن قائم رہے گا۔

    دوسری شادی کی اجازت کیوں نہ دی، شوہر نے بیوی کو کروایا قتل

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

  • کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی پشاور میں وزیراعلی آفس آمد ہوئی ہے

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا خیر مقدم کیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور کرم میں قیام امن کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو قیام امن کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادکار بڑھانے میں پورا سپورٹ کریں گے۔ کرم میں قیام امن اولین ترجیح ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرم میں پائیدار امن کا قیام کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ، محسن نقوی نے کہا کہ شہداء ہمارے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔ لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ مل کر دہشتگردی کے عفریت کا مقابلہ کریں گے۔

    دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا، فیصل کریم کنڈی نے ضلع کرم کی تشویشناک صورتحال پر صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کرم میں حالات بدتر ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے حالات پر قابو پانے کے لئے کوئی واضح اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ "کرم جل رہا ہے، اور صوبائی حکومت و وفاقی حکومت کہاں ہیں؟ صوبائی حکومت ایک پارا چنار روڈ نہیں کھول سکتی، تو باقی معاملات کیسے سنبھالے گی؟” فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ "صوبائی حکومت کا کوئی ایجنڈا نہیں، ان کے پاس رہائی کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ اس لیے انہیں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔”

    پی ٹی آئی کے اتحادی، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس نے بھی خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی رہنما کو کئی بار بتایا کہ کرم کے حالات بہتر بنانے کے لئے ڈپٹی کمشنر کو تبدیل کیا جائے، لیکن ان کی باتوں کو نظر انداز کیا گیا۔علامہ ناصر عباس کا مزید کہنا تھا کہ "کرم میں 150 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، اور وہاں نہ وفاقی حکومت نظر آتی ہے، نہ صوبائی حکومت، اور نہ ہی سیکیورٹی ادارے موجود ہیں۔” انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس علاقے میں کسی بھی ادارے کی موجودگی نہیں ہے، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

    کرم کے علاقے میں جاری تشویشناک حالات پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی غفلت کی وجہ سے عوام میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ اس علاقے میں کئی مہینوں سے جاری دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی بے حسی کی وجہ سے ان کی جان و مال کی حفاظت کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔کرم کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر حکومتوں کی طرف سے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتیں فوری طور پر کرم میں امن قائم کرنے کے لئے موثر اقدامات کریں اور عوام کی زندگی کو تحفظ فراہم کریں۔اس وقت کرم کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہے اور عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ حکومتیں ان کے مسائل کا فوری حل نکالیں تاکہ ان کے علاقوں میں امن قائم ہو سکے۔

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    بپن راوت ہیلی حادثہ انسانی غلطی قرار،پارلیمانی کمیٹی رپورٹ پیش

  • پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دی اور سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    بشری بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد شامل تھے۔درخواست گزار کے وکیل عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ بشری بی بی کو آج اسلام آباد میں توشہ خانہ ٹو کے کیس میں پیش ہونا ہے، اور وہ وہاں پر پیش ہوں گی۔ وکیل نے عدالت سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ حفاظتی ضمانت میں مزید توسیع دی جائے تاکہ درخواست گزار کو قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہو سکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشری بی بی کے خلاف دو مختلف کیسز عدالت کے سامنے زیر سماعت ہیں، اور پہلے کیس میں انہوں نے رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید کاروائی کے لیے رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔سپیشل ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے بھی عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی اور بتایا کہ بشری بی بی کے خلاف نیب کے تین مختلف کیسز زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے۔عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ بشری بی بی کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے اور مزید قانونی کارروائی کو جاری رکھا جائے۔ اس کے بعد عدالت نے بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 16 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    یہ مقدمات بشری بی بی اور ان کے شوہر عمران خان کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، جن میں نیب اور دیگر ادارے کرپشن اور دیگر الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں۔اب بشری بی بی کو اس عرصے میں قانونی معاملات میں راحت ملے گی اور انہیں حفاظتی ضمانت کی توسیع کا فائدہ حاصل ہوگا۔ ان کی آئندہ پیشیوں کا فیصلہ عدالت کی جانب سے 16 جنوری 2024 کو کیا جائے گا۔

  • سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ایک ماہ کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے۔

    یہ فیصلہ عدالت میں علی امین گنڈاپور کی درخواست پر سماعت کے بعد دیا گیا، جس میں انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیل پیش کرنے کی درخواست کی تھی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے خلاف درج مقدمات پر بات کی، جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے انہیں ایک ماہ کے لیے حفاظتی ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کیا جائے۔

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف اسلام آباد میں 32 اور پنجاب میں 33 مقدمات درج ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروا دی گئی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول نافرمانی تحریک صرف اس وقت شروع ہوگی جب پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اس کا حکم دیں گے۔ انہوں نے کہا، "بانی پی ٹی آئی جب بتائیں گے، تب سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی۔ ان کے احکامات آئیں گے، پھر اس پر عمل ہوگا۔”علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ انہیں گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے سے روکا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے پہنچنے کے باوجود انہیں کہا گیا کہ "آپ کو ملاقات کی اجازت نہیں ہے”۔ وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ وہ پورے خیبرپختونخوا کے نمائندہ ہیں اور انہیں کسی سے کلیئرنس کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جو افراد اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، کیا ان کی کلیئرنس ہے؟میری عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی،جو عمران خان کا حکم ہو گا اس پر عمل ہو گا، میں صوبے کا نمائندہ ہوں مجھے ضمانت کی ضرورت نہیں پھر بھی کروا رہا ہوں،

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے کل (پیر کے روز) عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئے تھے تاہم انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس واقعے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں ملاقات سے روکا جانا ایک غیر مناسب عمل تھا۔

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

  • علی امین گنڈاپور سے سابق سنیٹر محمد علی درانی  کی ملاقات

    علی امین گنڈاپور سے سابق سنیٹر محمد علی درانی کی ملاقات

    پشاور: خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے سابق وفاقی وزیر اور سابق سنیٹر محمد علی درانی نے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور سے محمد علی درانی کی ملاقات کے موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف بھی موجود تھےملاقات میں ملک کے موجودہ سیاسی حالات اور سیاسی مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر ملک کے سیاسی میدان میں مفاہمت کے عمل کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔

    درایں اثنا وزیراعلیٰ نے جماعت اسلامی کے سنئیر رہنما لیاقت بلوچ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے مرکزی رہنما صفدر عباسی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ملک کی سیاسی صورت حال میں مفاہمت کے عمل کو موقع دینے اور اس سلسلے میں کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

  • گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری

    گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری

    پشاور: گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کی زیر صدرارت منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : 1. صوبہ کی سیاسی قیادت صوبہ میں امن و امان کی خوفناک حد تک بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتی ہے جاری سال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ خونریزی کا شکار رہا گزشتہ مہینہ 70 سے زیادہ سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت ہوئی کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں 200 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں مرکزی اور صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں-

    2. یہ اجلاس صوبہ کی مالی اور سیاسی صورتحال اور صوبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر سیاسی کمیٹی اور ٹیکنیکل کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کرتا ہے-

    3. ساتویں این ایف سی ایوارڈ تقریبا گزشتہ دو ڈھائی سال سے غیر موثر ہو چکا ہے لہذا فوری طور پر گیارواں این ایف سی ایوارڈ جاری کیا جائے این ایف سی ایوارڈ میں سابقہ فاٹا کے لیے مختص تین فیصد رقم گزشتہ پانچ سالوں میں ریلیز نہیں کی گئی فاٹا کے لیے مختص واجب الادا تین فیصد رقم سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے مطابق جاری کیے جائیں اور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر من و عمل کیا جائے نئے این ایف سی ایوارڈ صوبہ کی مردم شماری کے مطابق کی جائے اور فارمولا میں فارسٹ اور ماحولیات کو شامل کیا جائے-

    4. یہ فورم متفقہ طور پر اس تاریخی حقیقت کا اعادہ کرتا ہے کہ صوبے میں پائی جانے والی مائز اینڈ منرلز صوبوں کی عوام کی ملکیت اور انے والی نسلوں کی امانت ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبہ بھر میں دی گئی لیز اس کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں-

    5. پاک افغان بارڈر کے تمام تاریخی تجارتی راستوں کو ہر قسم کی تجارت کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے-

    6. وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق صوبے کی عوام کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنائیں اور آئین کے آرٹیکل 161 کے مطابق این ایچ پی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی آن آئل صوبے کو ادا کریں-

    7. مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آئینی مدت کے مطابق باقاعدگی سے بلایا جائے –

    8. صوبائی حکومت پی ایف سی کی تشکیل کر کے باقاعدگی کے ساتھ ایوارڈ کا اجراء کرے-

    9. موثر بلدیاتی نظام اور بلدیاتی نمائندوں کو لوکل گورنمنٹ کے مطابق بلا تفریق فنڈ جاری کیے جائیں-

    10. صوبائی حکومت سے آئی ڈی سی جو دو فیصد لاگو کیا گیا ہے وہ افغان تجارت کو متاثر کر رہی ہے اس کو واپس لیا جائے-

    11. آبی وسائل میں صوبے کا جو حصہ 1991 ڈبلیو اے اے میں پیرا دو ، چار اور 10 کے مطابق بنتا ہے مرکز صوبے کو اس کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کرے جس طرح باقی صوبوں کو مرکز نے فراہم کیا ہے –

    12. تمام قبائلی اضلاع میں آپریشنوں سے ہونے والے تمام آئی ڈی پیز کو باعزت اور وعدوں کے مطابق واپس اپنے علاقوں کو بھیج دیا جائے-

    13. صوبہ خیبر کے پرامن پشتونوں کو دوسرے صوبوں اورمرکز اسلام آباد میں بیجا تنگ نہ کیا جائے –

    14. صوبائی حکومت کی کارکردگی کی پرفارمنس آڈٹ کی جائے-

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس

    خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس

    خیبرپختونخوا میں قیام امن، صوبائی حقوق کے حصول اور درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کے لیے آل پارٹی کانفرنس گورنر ہاوس پشاور میں جاری ہے

    کانفرنس کی صدارت و میزبانی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کر رہے ہیں۔کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہیں جن میں آفتاب شیر پاؤ، میاں افتخار حسین، انجنیئر امیر مقام، مولانا لطف الرحمان، پروفیسر ابراہیم، محمد علی شاہ باچا، محسن داوڑ، سکندر شیر پاؤسمیت دیگر قائدین شامل ہیں۔۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کا مقصد صوبے میں امن و امان اور اس کے وسائل کے بارے بات چیت کرنی ہے۔ صوبے کو بد امنی نے اپنے لپٹ میں لے رکھا ہے۔صوبائی حکومت کو کل جماعتی کانفرنس بلانی چاہیے تھی۔مجبور ہو کر ہم نے یہ اقدام اٹھایا۔ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں مسائل کے حل کیلئے اپنی تجاویز   پیش کر سکیں ۔گورنر نے کہا جنوبی اضلاع اور کرم کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔انھوں نےُ کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے تجاویز پر غور کیا جائے گا اور آخر میں ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس صوبے میں امن و استحکام اور سیاسی یکجہتی میں معاون ثابت ہوگی۔

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا خیبرپختونخوا میں حقیقی مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ کی غیرفعالیت اس کے برعکس عوام کے لیے مایوسی کا سبب بنی ہے،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی قیادت نے صوبے میں امن و امان اور مسائل کے حل کے لیے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں 16 سے زائد جماعتوں کو یکجا کرنا اتحاد کی جانب بڑا قدم ہے

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان