Baaghi TV

Tag: پشاور

  • پشاور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  کی حفاظتی ضمانت میں  توسیع

    پشاور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی حفاظتی ضمانت میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے علی امین گنڈاپور کی حفاظتی ضمانت اور ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اس وقت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں اہم مذاکراتی میٹنگ میں شرکت کے لیے گئے ہیں، جس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ اس وجہ سے انہوں نے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کی حفاظتی ضمانت میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی اور ساتھ ہی علی امین گنڈاپور کو ان کے خلاف درج مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 فروری 2025 تک ملتوی کر دی۔

    اب تک علی امین گنڈاپور کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں، جن میں ان کے خلاف کارروائی کا امکان تھا، مگر عدالت نے اس مرحلے پر ان کو گرفتاری سے بچانے کے لیے حفاظتی ضمانت فراہم کی۔

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

  • ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فرقوں کو حکومت لڑاتی ہے ان کے درمیان اشتعال انگیزی حکومت پیدا کرتی ہیں اور پھر اس کے ذمہ دار ہم کو ٹھکراتے ہیں

    26 ویں آئینی ترمیم میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی شاندار کارکردگی، اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کے اعزاز میں جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام عظیم الشان "استقبالیہ تقریب” کا انعقاد کیا گیا، مولانا فضل الرحمن ، مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری ،مولانا امجد خان ودیگر قائدین اسٹیج پر موجود تھے، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، اور بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے ،ابھی کل الیکشن ہوا ہے 15 پولنگ سٹیشن پر ،تو ہمارے امیدوار کے پہلے بھی فارم 45 پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان جیتے تھے اور کل بھی لیکن نتائج پھر بھی دوسرے امیدوار کے حق میں دیا،پاکستان کی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست معیاری نہیں اور عوام کو مسلسل غلط فہمی کا شکار کیا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا، "ہمیں پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں جو کرم کے مسئلے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟” ان کا اشارہ کرم ایجنسی میں جاری فرقہ وارانہ فسادات کی طرف تھا، جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کرم کے علاقے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے کہا کہ "کب تک آپ معاشرے کو غلط فہمی کا شکار کرتے رہیں گے؟” انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس دونوں فریقین کے وفود آئے تھے اور انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کی تھیں، لیکن اگلے دن ہی فسادات کا آغاز ہوگیا ۔” میرے پاس پرسوں ایک سفیر بھی آئے، جنہوں نے مختلف مسائل پر بات کی اور کرم کے فساد کا ذکر بھی کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ یہ سننا چاہتے ہیں کہ یہ شیعہ سنی فساد ہے، لیکن ہمیں اس مسئلے کا حل بخوبی معلوم ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔” مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ کرم کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اس موقع پر پاکستان کے اسلامی ریاست کے قیام میں اکابرین کے پارلیمانی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے میں ہمارے اکابرین نے پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا، اور ہم اسی راستے پر چلتے ہوئے ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ولانا نے مزید کہا کہ "حالات بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں ان حالات کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سیاست میں مسلسل تبدیلیوں کے باوجود، ہمیں اپنے اصولوں پر قائم رہ کر قوم کے لیے بہتر فیصلے کرنے ہوں گے۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا یہ خطاب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، کرم کے علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات اور امدادی سرگرمیوں کی تاخیر کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ عوام کو مسائل سے نجات مل سکے اور امن قائم ہو سکے۔

    مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمعیت علمإ اسلام پاکستان جناب مولانا امجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے جمعیت علما اسلام کے سیلاب میں بہہ گئے، مستقبل نوجوانوں کا ہے، مولانا جب بات کرتے ہیں تو بڑوں بڑوں کو سر جھکانا پڑتا ہے، 26 ویں آئیں ترمیم میں وہی ہوا جو مولانا نے چاہا،مدارس کی ترمیم بارے مولاناکی خواہش کے مطابق کام ہوا، مولانا نے کہا تھا کہ مدرسوں کے نظام کے راستے میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں ہو گی، حکمرانوں نے ہماری قیادت کے فیصلے کو تسلیم کیاہماری قیادت نے مدرسہ، مسجد کی جنگ لڑی اور کامیابی ملی، ہم مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں پاکستان میں اسلامی نظام لا کر دم لیں گے.

    بہاولپور: نادرا آفس کی ملازمہ نے شوہر سے جھگڑے کے بعد خودکشی کر لی

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

  • گورنر خیبرپختونخوا  کی ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود اور دیگر زخمیوں کی عیادت

    گورنر خیبرپختونخوا کی ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود اور دیگر زخمیوں کی عیادت

    پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سی ایم ایچ پشاور کا دورہ کیا اور وہاں زیر علاج ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود اور دیگر زخمیوں کی عیادت کی-

    باغی ٹی وی: گورنر خیبرپختونخوا نے اس موقع پر زخمی ڈپٹی کمشنر جاوید محسود اور دیگر زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی انہوں نے کہا کہ جاوید محسود جیسے آفیسر ہمارے صوبہ کا اثاثہ ہیں مشکل حالات میں عوام کے مسائل کے حل اور انہیں سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے سپاہی نذر عباس ، مثل خان ، رضوان کی بھی عیادت کی ان کے لواحقین سے ملے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا گورنر خیبرپختونخوا نے وہاں زیر علاج دیگر فوجیوں کی بھی عیادت کی، پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا بھی ان کے ہمراہ تھے ۔

    امریکا میں سردی سے اموات میں اضافہ

    قبل ازیں وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے سی ایم ایچ پشاور کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے بگن فائرنگ واقعے میں زخمی ہونے والے ڈپٹی کمشنر کرم و دیگر زخمیوں کی عیادت کی وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور زیر علاج تمام زخمیوں سے ملے اور ان کی کی خیریت دریافت کی ،وزیر اعلیٰ نے ہسپتال میں انتظامیہ سے زخمیوں کو فراہم کی جانے والی علاج معالجے کی سہولیات کے بارے بھی معلومات حاصل کیں ۔

    امریکی وزیر خارجہ کے جنوبی کوریا کے دورے کےدوران ہی شمالی کوریا کا میزائل تجربہ

    وزیر اعلیٰ زخمیوں کے لواحقین سے بھی ملے اور انہیں زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
    علی امین گنڈا پور نے نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، کمشنرز پشاور، ڈپٹی کمشنر پشاور اور دیگر متعلقہ حکام بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے-

    بھارت نےٹیسٹ کرکٹ کو اپنے ہاتھوں میں لینے کا منصوبہ بنا لیا

  • پشاور میں بلدیاتی نمائندوں کے احتجاج پر پولیس کی شیلنگ

    پشاور میں بلدیاتی نمائندوں کے احتجاج پر پولیس کی شیلنگ

    پشاور: فنڈ نہ ملنے پر خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے والے بلدیاتی ملازمین پر پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کردی۔

    باغی ٹی وی: چند روز قبل بلدیاتی ملازمین نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے بلدیاتی فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یکم جنوری کی ڈیڈ لائن دی تھی،فنڈز کی فراہمی کے معاملے پر حکومت کی جانب سے کوئی سرگرمی نظر نہ آنے اور کسی حکومتی عہدے دار کے مذاکرات نہ ہونے پر بلدیاتی ملازمین نے اپنی دی گئی ڈیڈلائن پرعمل کیا اور آج یکم جنوری کو صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج شروع کیا-

    پاراچنار واقعے کا مطلب یہ نہیں کہ کراچی میں بدامنی پھیلائی جائے،وزیرِ داخلہ سندھ

    بلدیاتی نمائندے جناح پارک سے نکل کر خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے پہنچ گئے مظاہرین نے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر گیٹ کو بند کر دیا گیا، خیبر پختونخوا اسمبلی روڈ دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کیا گیا جبکہ ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھےاور انہوں نے حکومت کےخلاف نعرے بازی کی، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج بھی کیا گیامظاہرین تھوڑی دیر کے لیے وہاں سے منتشر ہوئے جس کے بعد انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے جی ٹی روڈ بند کردیا۔

    پائلٹ کی عقلمندی، طیارہ حادثے کا شکار ہونے سے بال بال بچ گیا

  • پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 30 جنوری تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی راہداری ضمانت کی درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے سماعت کی۔ اس موقع پر اسد قیصر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں اور وہ اس وقت اپنی راہداری ضمانت کی درخواست دائر کر رہے ہیں۔جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس وقت درخواست گزار کہاں ہیں تو اسد قیصر کے وکیل نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں اور عدالت آ رہے ہیں۔ جسٹس کامران حیات میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ "ٹھیک ہے، جب وہ عدالت آئیں گے تو پھر کیس کی سماعت کریں گے۔”اس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے اسد قیصر کو 2 لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض راہداری ضمانت دی اور پولیس کو 30 جنوری تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما،سابق اسپیکر اسد قیصر کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہیں

    پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد اسد قیصر نے میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے خلاف بے تحاشا مقدمات درج ہیں اور ان کے ارکان اسمبلی کے خلاف بھی جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اسد قیصر نے 26 نومبر کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دن پی ٹی آئی کے کارکنوں پر تشدد کیا گیا، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ "26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے، ” انہوں نے بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ان کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک کارکنوں کی رہائی نہیں ہوگی، وہ خود کو رہائی کے لیے پیش نہیں کریں گے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے بتایا کہ حکومت کے سامنے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، جبکہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ "ہمیں افغانستان کے ساتھ کشیدگی پر افسوس ہے، اور اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔”اسد قیصر نے افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اپنا کلچر ہے اور ہمیں افغانستان کے ساتھ مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 کے دوران بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات پیش آئے، جس میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 28 ملزمان کو گرفتار کیا۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق، پشاور کے مختلف تھانوں کی حدود میں بی آر ٹی سروس کے دوران یہ وارداتیں رونما ہوئیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پشاور کے 9 مختلف تھانوں میں بی آر ٹی میں چوری کی وارداتیں ہوئیں، جن میں سے سب سے زیادہ واقعات تھانہ خان رازق کی حدود میں پیش آئے جہاں پانچ چوری کے واقعات ہوئے۔ اس کے علاوہ، تھانہ ٹاؤن اور تھانہ مغربی میں ہر ایک تھانے میں 4 چوری کے کیس رپورٹ ہوئے، جب کہ تھانہ شہید گلفت میں 4 اور حیات آباد کی حدود میں تین چوری کی وارداتیں ہوئی ہیں۔پولیس رپورٹ کے مطابق، ان چوری کی وارداتوں میں بی آر ٹی کے مسافر 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم سے محروم ہوئے، اور اس کے ساتھ ساتھ تقریباً ڈھائی تولہ سونا اور 18 موبائل فونز بھی چوری ہوگئے۔ یہ وارداتیں مسافروں کے لیے پریشانی کا سبب بنی اور ان کی حفاظت اور مال کی حفاظت کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پولیس نے چوری کی وارداتوں میں ملوث 28 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں 8 خواتین بھی شامل ہیں۔ ملزمان سے 3 لاکھ روپے سے زائد رقم اور 17 موبائل فونز برآمد کیے گئے ہیں۔پشاور پولیس کی جانب سے اس حوالے سے مزید کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں بی آر ٹی سروس کے دوران چوری کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی کے اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی قیمتی اشیاء کی حفاظت کریں اور بی آر ٹی سروس میں سفر کرتے وقت محتاط رہیں۔

    پشاور میں بی آر ٹی سروس کے بڑھتے ہوئے مسائل، خاص طور پر چوری کی وارداتوں، نے عوامی سطح پر تحفظات پیدا کیے ہیں، اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن کے معاملے کو جلد حل کرنے کا حکم دے دیا ہے

    خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کروانے سے متعلق درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابرہیم اور جسٹس وقار احمد نے کی،دوران سماعت وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا گزشتہ سماعت پر الیکشن تاریخ کیلئے الیکشن کمیشن نے وقت مانگا تھا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ معاملے پر الیکشن کمیشن نے کچھ حد تک غور کیا، الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن سے متعلق میٹینگز کی ہیں،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ آپ کو ہم دو ہفتے کا وقت دیتے ہیں، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ زیادہ وقت دیں، ہو سکتا ہے سپریم کورٹ بھی کوئی فیصلہ کرے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں کرائیں گے نہ کرانا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد نے کہا پہلے آپ نہیں کروانا چاہ رہے تھے، اب الیکشن کمیشن کروانا چاہ رہا۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا ہمیں مزید وقت دیا جائے، کوشش کریں گےمعاملے کو حل کریں،پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن کے معاملے کو جلد حل کرنے کا حکم دے دیا.

    ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

    داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کا فلیٹ قبضے میں لے لیا گیا

  • پشاور: اپیکس کمیٹی  اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں تمام بنکرز کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ پشاور میں ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکریٹری کے پی، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کرم میں قیامِ امن کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو کرم میں امن و امان کی صورت حال اور وہاں کی تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس بریفنگ میں گرینڈ جرگے کی جانب سے کرم میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا گیا، جس نے علاقے میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    اجلاس میں کرم میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکمتِ عملی پر بھی غور کیا گیا۔ اس حکمتِ عملی میں علاقے میں اسلحے کے خاتمے اور اسلحہ کی غیر قانونی موجودگی کے معاملے پر خاص توجہ دی گئی۔ مزید برآں، کرم میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لیے اقدامات پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی، تاکہ علاقے میں عوامی مشکلات کم کی جا سکیں۔کرم میں بنکرز کے خاتمے کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا کہ یہ بنکرز غیر قانونی طور پر استعمال ہو رہے تھے اور علاقے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے تھے۔ اس فیصلے کے تحت تمام بنکرز کو بند کیا جائے گا تاکہ علاقے میں مزید امن قائم کیا جا سکے اور لوگوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ علاقے میں اسلحہ کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے تاکہ کرم کے عوام کو ایک پرامن اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔ اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا اور غیر قانونی اسلحہ کی فراہمی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔پشاور کے اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس میں کیے گئے فیصلے کرم میں امن کی بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے علاقے میں طویل عرصے تک پائیدار امن قائم رہے گا۔

    دوسری شادی کی اجازت کیوں نہ دی، شوہر نے بیوی کو کروایا قتل

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

  • کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی پشاور میں وزیراعلی آفس آمد ہوئی ہے

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا خیر مقدم کیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور کرم میں قیام امن کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو قیام امن کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادکار بڑھانے میں پورا سپورٹ کریں گے۔ کرم میں قیام امن اولین ترجیح ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرم میں پائیدار امن کا قیام کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ، محسن نقوی نے کہا کہ شہداء ہمارے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔ لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ مل کر دہشتگردی کے عفریت کا مقابلہ کریں گے۔

    دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا، فیصل کریم کنڈی نے ضلع کرم کی تشویشناک صورتحال پر صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کرم میں حالات بدتر ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے حالات پر قابو پانے کے لئے کوئی واضح اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ "کرم جل رہا ہے، اور صوبائی حکومت و وفاقی حکومت کہاں ہیں؟ صوبائی حکومت ایک پارا چنار روڈ نہیں کھول سکتی، تو باقی معاملات کیسے سنبھالے گی؟” فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ "صوبائی حکومت کا کوئی ایجنڈا نہیں، ان کے پاس رہائی کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ اس لیے انہیں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔”

    پی ٹی آئی کے اتحادی، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس نے بھی خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی رہنما کو کئی بار بتایا کہ کرم کے حالات بہتر بنانے کے لئے ڈپٹی کمشنر کو تبدیل کیا جائے، لیکن ان کی باتوں کو نظر انداز کیا گیا۔علامہ ناصر عباس کا مزید کہنا تھا کہ "کرم میں 150 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، اور وہاں نہ وفاقی حکومت نظر آتی ہے، نہ صوبائی حکومت، اور نہ ہی سیکیورٹی ادارے موجود ہیں۔” انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس علاقے میں کسی بھی ادارے کی موجودگی نہیں ہے، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

    کرم کے علاقے میں جاری تشویشناک حالات پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی غفلت کی وجہ سے عوام میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ اس علاقے میں کئی مہینوں سے جاری دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی بے حسی کی وجہ سے ان کی جان و مال کی حفاظت کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔کرم کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر حکومتوں کی طرف سے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتیں فوری طور پر کرم میں امن قائم کرنے کے لئے موثر اقدامات کریں اور عوام کی زندگی کو تحفظ فراہم کریں۔اس وقت کرم کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہے اور عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ حکومتیں ان کے مسائل کا فوری حل نکالیں تاکہ ان کے علاقوں میں امن قائم ہو سکے۔

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    بپن راوت ہیلی حادثہ انسانی غلطی قرار،پارلیمانی کمیٹی رپورٹ پیش

  • پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دی اور سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    بشری بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد شامل تھے۔درخواست گزار کے وکیل عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ بشری بی بی کو آج اسلام آباد میں توشہ خانہ ٹو کے کیس میں پیش ہونا ہے، اور وہ وہاں پر پیش ہوں گی۔ وکیل نے عدالت سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ حفاظتی ضمانت میں مزید توسیع دی جائے تاکہ درخواست گزار کو قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہو سکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشری بی بی کے خلاف دو مختلف کیسز عدالت کے سامنے زیر سماعت ہیں، اور پہلے کیس میں انہوں نے رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید کاروائی کے لیے رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔سپیشل ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے بھی عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی اور بتایا کہ بشری بی بی کے خلاف نیب کے تین مختلف کیسز زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے۔عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ بشری بی بی کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے اور مزید قانونی کارروائی کو جاری رکھا جائے۔ اس کے بعد عدالت نے بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 16 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    یہ مقدمات بشری بی بی اور ان کے شوہر عمران خان کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، جن میں نیب اور دیگر ادارے کرپشن اور دیگر الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں۔اب بشری بی بی کو اس عرصے میں قانونی معاملات میں راحت ملے گی اور انہیں حفاظتی ضمانت کی توسیع کا فائدہ حاصل ہوگا۔ ان کی آئندہ پیشیوں کا فیصلہ عدالت کی جانب سے 16 جنوری 2024 کو کیا جائے گا۔