Baaghi TV

Tag: پنجاب اسمبلی

  • آخری آپشن گورنر راج بھی لگ سکتا ہے،وزیر داخلہ

    آخری آپشن گورنر راج بھی لگ سکتا ہے،وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سب سے پہلے پوری قوم کو مبارکباد دینا چاہوں گا جنیوا میں سیلاب سے مشکلات و نقصان ہوا اس کانفرنس میں پوری دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوئی،

    پنجاب اسمبلی میں میڈیا ٹاک کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کی کال پر دنیا پاکستان و اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا نے پاکستان کی مدد کی ہے جو اعتماد کااظہار ہے،ان لوگوں کے خلاف جو ملک میں تین ماہ سے ڈیفالٹ مہم ہے ان کے منہ پر طمانچہ ہے،آٹھ کے بجائے گیارہ ارب ڈالر کی جنیوا امداد حاصل کی جو ایک گرانٹ ہے وہ قرضہ نہیں، معیشت کو عمرانی ٹولہ نے تباہ کیا اس سے ڈالر سستا مہنگائی دور ہوگی،عمرانی ٹولے کا پاپولر ڈرامہ تین ماہ میں انجام کو پہنچے گا،ہم الیکشن جیت کر جس کا سفر جنیوا سے شروع ہوا پاکستان کو اس سطح پر لے جائیں گے جو ہمارے دور میں شروع ہوا تھا،معیشت بہت زیادہ خرابی کی طرف جا رہی تھی شکر ہے قوم کو مبارک کل پیسہ مل گئے ہیں،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اقلیتی حکومت جو پرویز الہی اس وقت مسلط ہیں حال یہ ہے میرا داخلہ بند کرنے کی کوشش کی ،سکیورٹی اہلکاروں نے مجھے دیکھ کرغیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کر دیا، ایسے ہتھکنڈوں پر آئے جب نمبر پورے نہیں ہیں، زمان پارک میں ملاقات میں تین ہزار ارب روپے کا وزیر اعلی پنجاب ، اعجاز نیازی پر بھی الزام لگایا گیا ہے،دو تین ماہ میں پنجاب کو اتنا لوٹا جس کی مثال نہیں ملتی،ڈالر خرید کر سمگلنگ و منی لانڈرنگ کی مہنگائی کے ذمہ دار عمران خان اور پرویز الہی ملوث ہیں جلد ہی سامنے آجائیں گی،ساری تحقیقات کاغذات میں موجود ہیں مونس الہی واپس آئیں آکر جواب دیں ، خود ہی چور کل آپس میں دست و گریباں ہوئے تین ہزار ارب روپے لوٹ لیا ہے،ان کا مکروہ چہرہ سامنے آ گیا ہےہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،سپیکر کا اندر جانے سے روکنے کا حکم غیر قانونی ہے میں خود بھی پارلیمنٹیرین ہوں اگر ایسا کریں گے انجام زیادہ نزدیک ہوگا،ہم نے نمبر پورے ہونے کی کبھی بات نہیں کی 179ہے کوشش ہے 189 ہوجائے، انکے پاس 186نہیں ہے اس صورتحال میں نیا وزیر اعلی کا الیکشن ہوتا تو رن آف الیکشن سے اکثریت والا ہی وزیراعلی منتخب ہو سکتا ہے،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ آخری آپشن گورنر راج بھی لگ سکتا ہے، ہم توقع کرتے ہیں سکیورٹی والے سپیکر کے غیر قانونی احکامات کو نہ مانیں،دائو لگاکر ہیرا پھیرا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہیرا پھیرا نہیں کرنے دیں گے، ای سی ایل میں نام ادارے کے کہنے پر ڈالے جاتے ہیں اگر وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان کے نام دئیے تو ای سی ایل میں ڈال دیں گے، مریم نواز سینئر نائب صدر پارٹی کا چیف آرگنائزر بننے کو ہزار فیصد قبول کیا ہے، نوازشریف بیماری کی وجہ سے بیرون ملک ہیں شہبازشریف معیشت کےلئے مصروف ہیں اس لئے کہامریم نواز کو ذمہ داری دی جائےعمران خان نے جتنی گالیاں گھٹیا گفتگو الیکشن کمیشن کے خلاف کی تو فیصلہ پر نااہل ہوں گے اور چئیرمین شپ بھی جائے گی، عمران خان نے میرے اوپر کیسز بنائے، شہزاد اکبر نے کہاتھاکہ تھیلا گاڑی میں رکھوا دیں،عمران خان نے اے این ایف کو مینج کرکے میری گرفتاری کی گئی تھی،اگر میں نے بے شمار قتل کئے تو جھوٹا مقدمہ کیوں بنایا اس قتل کیسز کی تحقیقات میں گرفتار کروا لیتے،اگر الیکشن سے برسراقتدار آیا تو مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرے گا اگر ناکام ہوگا تو الیکشن رزلٹ نہیں مانے گا ،الیکشن کسی مسئلے کا حل نہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ معیشت کو سنبھالا جائے،الیکشن وقت پر ہوں اس وقت اعمال و کام عوام کے سامنے ہوں گے،

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

  • اعتماد کےووٹ سےمتعلق لاہور ہائیکورٹ کےحکم کو درست تسلیم نہیں کرتا،ملک احمد خان

    اعتماد کےووٹ سےمتعلق لاہور ہائیکورٹ کےحکم کو درست تسلیم نہیں کرتا،ملک احمد خان

    لاہور: وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان نے کہا ہےکہ وہ اعتماد کے ووٹ سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو درست تسلیم نہیں کرتے۔

    باغی ٹی وی: ملک احمد خان نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے اراکین زیادہ تھے، اگر گنتی ہوتی توپھرفلور ٹیسٹ پاس ہوتا لیکن اسپیکر نے یس اور نوپرفیصلہ کردیا، یس اور نو کے ووٹ گننے کی ہماری درخواست بھی نہیں مانی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ اعتمادکے ووٹ سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے حکم کو درست تسلیم نہیں کرتا، اس حکم میں گورنر کا اختیار سلب کیا گیا جو عدالت کا اختیار ہی نہیں تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لیے جانے پر شور شرابہ کیا تھا جس کے بعداسمبلی کا اجلاس ملتوی ہوگیا تھا۔

    عمران خان کی وزیراعلیٰ پرویز الہی سے ملاقات،سیاسی صورتحال پر گفتگو

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے سے زائد کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس میں پرویز الٰہی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لیے جانے پراپوزیشن اور حکومتی ارکان نے شورشرابہ کیا۔

    حکومتی ارکان نے رانا ثنا اور عطاتارڑ کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور ایجنڈے کے کاغذات حکومتی ارکان کی طرف پھینک دیئے۔

    بلوں کی منظوری کے دوران اپوزیشن کے ایوان میں اعتماد کا ووٹ لو کے نعرے لگائے۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر اسمبلی اجلاس 10 جنوری دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

  • عدالتی وزیراعلی سے جلد ہی پاکستان کی جان چھوٹ جائے گی، عظمیٰ بخاری

    عدالتی وزیراعلی سے جلد ہی پاکستان کی جان چھوٹ جائے گی، عظمیٰ بخاری

    عدالتی وزیراعلی سے جلد ہی پاکستان کی جان چھوٹ جائے گی، عظمیٰ بخاری

    لیگی رکن ملک اسد کھوکھر پنجاب اسمبلی پہنچ گئے ، اس موقع پر ملک اسد کھوکھر کا کہنا تھا کہ ملک اسد جب بھی اسمبلی آتا ہے نمبرز پورے ہوتے ہیں،

    مسلم لیگ ن کے رکن غیاث الدین کی پنجاب اسمبلی آمد ہوئی ہے، میڈیا کے ن لیگ میں واپسی کے سوال پر غیاث الدین نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو خاموش رہا وہ بچ گیا، ن لیگ دوبارہ جوائن کیسی کرنی، میں نکلا ہی نہیں تھا واپس تو وہ آتا ہے جو چلا گیا ہو،

    ن لیگی رہنما عظمیٰ بخاری نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ہمیشہ سے ہی خوش رہتی ہو آج بھی خوش ہوں، جو جعلی خوش ہوئے تھے اب ان تھوڑے دن رہ گئے ہیں، پرویز الہی اعتماد کا ووٹ نہ لیں آخر گیارہ تاریخ تو آنی ہے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پرویز الہی اعتماد کا ووٹ لے سکیں گے، فلم ابھی باقی ہے جس کی پروڈیوسر خود ہوں، مونس الہی اپنے ابا جی کو بچانے اور بندے پورے کرنے کے بجائے کسی اور جگہ پر بیٹھے ہیں، عدالتی وزیراعلی سے جلد ہی پاکستان کی جان چھوٹ جائے گی، کس نے کہا ہمارے پاس نمبر پورے نہیں ہیں آپ کو نمبر دکھائیں گے، پرویز الہی کیلنڈر سے گیارہ تاریخ نوچ کر نہیں پھینک سکتے، عدالت کے حکم پر ڈنڈے کے زور پر اگر وہ اعتماد کا ووٹ لیں گے پھر بھی لوگ پورے نہیں ہیں،دیکھتے جائیں فلم ابھی باقی ہے

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

  • ہمارے پاس نمبرز پورے ہیں، خواجہ آصف پنجاب اسمبلی پہنچ گئے

    ہمارے پاس نمبرز پورے ہیں، خواجہ آصف پنجاب اسمبلی پہنچ گئے

    پنجاب اسمبلی کی مجوزہ تحلیل روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے مقامی وکیل کی درخواست پر سماعت کی درخواست میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہٰی اور عمران خان کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ارکان کی اکثریت اسمبلی تحلیل کی مخالف ہے،جب اکثریت اسمبلی کی تحلیل نہ چاہتی ہو تو وزیر اعلیٰ اسمبلی نہیں توڑ سکتے،

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا،پنجاب اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں وزیراعلٰی پنجاب پرویز الہٰی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل شامل نہیں ہے، تا ہم مسلم لیگ (ن) کی زیرِ قیادت اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے بھرپور تیاری کرلی ہے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج سپیکر کی صدارت میں دوپہر 2 بجے ہوگا

    وزیراعلی پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا معاملہ،مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر ارکان کی حاضری مکمل کرنے کیلئے متحرک ہیں،تحریک انصاف نے آج کے اجلاس میں ارکان کو حاضر رہنے کی ہدایت کی ہے ،اراکین کو کہا گیا ہے کہ بیرون ممالک کے علاؤہ تمام ارکان کو اسمبلی میں حاضری یقینی بنا نا ہو گی، تمام ڈویژن کے کوآرڈینیٹر ارکان سے رابطوں کے حوالے سے پالیمارنی لیڈرز کو آگاہ کریں گے ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ کا کہنا ہے کہ آج کے اجلاس سے ثابت ہو گا تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد مکمل ہے ۔

    وفاقی وزیر دفاع ، ن لیگی رہنما خواجہ آصف کی پنجاب اسمبلی آمد ہوئی ہے ، اس موقع پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا حساب تو مجھے نہیں آتا، لیکن نمبرز پورے ہیں ہمارے پاس،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

  • عدالت نے کہا تو ہم اعتماد کا ووٹ لیں گے،  عمران خان

    عدالت نے کہا تو ہم اعتماد کا ووٹ لیں گے، عمران خان

    پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کا معاملہ ،تحریک انصاف نے 9 جنوری کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اعتماد کا ووٹ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے

    پارلیمانی لیڈر نے اجلاس میں اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی،عمران خان کو قانونی ماہرین نے رائے دی ہے کہ اعتماد کا ووٹ عدالتی فیصلے سے مشروط کیا جائے،اعتماد کے ووٹ کیلئے گورنر کے حکم کی کوئی آئینی حیثیت نہیں،قانونی ماہرین نےعدالتی فیصلے کے بعد اعتماد کا ووٹ لینے کا مشورہ دیا، قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر اعتماد کا ووٹ لیتے ہیں تو گورنر کا آرڈر آئینی ہو جائے گا،رکن پنجاب اسمبلی زینب عمیر کا کہنا ہے کہ اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے تمام پہلوؤں پر مشاورت جاری ہے، پنجاب اسمبلی اجلاس کیلئے جاری ایجنڈے میں بھی اعتماد کے ووٹ کو شامل نہیں کیا گیا

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی زیرصدارت پنجاب کے صوبائی وزرا کا اجلاس ہوا، عمران خان نے اعتماد کے ووٹ کوعدالتی فیصلے سے مشروط کردیا، عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالت نے کہا تو ہم اعتماد کا ووٹ لیں گے، ہمیں اعتماد کے ووٹ کے لیے تیاری کرنی ہے ،عمران خان نے وزرا کو اراکین اسمبلی کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ہدایت کی، وزراء کا کہنا تھا کہ اعتماد کا ووٹ لینا پڑا تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا، ہر وزیر کو اس کی متعلقہ ڈویژن کی ذمہ داری سونپ دی گئی،عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر وزیر اپنی ڈویژن کے اراکین اسمبلی کے ساتھ رابطے میں رہے گا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اعتماد کا ووٹ لیتے ہی فوری اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی ،عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اسمبلی تحلیل کریں گے اس پر کوئی دو رائے نہیں، اعتماد کے ووٹ کے بعد ہم الیکشن کیلئے عوام کے پاس جائیں گے،
    تمام وزرا اپنے حلقوں اور ڈویژن میں اگلے انتخابات کی تیاری بھی کریں،

    خیال رہے کہ اسپیکر سبطین خان کی ہدایت پر اسمبلی سیکریٹریٹ نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 9 جنوری کو طلب کررکھا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے اعتماد کے ووٹ پر کارروائی شروع کی جائے گی تاہم 9 جنوری سے قبل ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے سے عمران خان سخت پریشان ہیں۔

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    اسمبلیوں کی تحلیل میں تاخیر، پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی طرح پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغورکر رہی ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اتحادی جماعت کی جانب سے اسمبلی تحلیل میں تاخیر پر استعفوں کی تجویز دی گئی، عمران خان نے تجویز پر مذید مشاورت کا فیصلہ کر لیا، تحریک انصاف کے رہنما حسان خاور کا کہنا ہے کہ اسمبلی تحلیل نہ ہوئی تو پلان بی تیار ہے،اسمبلیوں سے اراکین کے استعفوں کے معاملے پر پی ٹی آئی مشاورت کرے گی،

    عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر اسمبلی کی تحلیل میں تاخیر ہوئی تو ہمارے ارکان استعفے دیکر پنجاب اسمبلی سے باہر آجائیں گے، 11 جنوری سے پہلے وزیراعلیٰ کے اعتماد کے ووٹ کے عمل کو یقینی بنایا جائے، پارٹی ارکان اسمبلی میں مزید نہیں رہنا چاہتے اور اگر اسمبلی کی تحلیل میں کوئی رکاوٹ پیدا کی گئی تو پھر ہمارے ایم پی ایز مستعفی ہوجائیں گے

    دوسری جانب تحریک انصاف سے ناراض اراکین سے عمران خان نے رابطوں کی ہدایت کی ہے، مجلس وحدت المسلمین کی ناراض خاتون رکن کو عمران خان نے زمان پارک بلایا ہے، مجلس وحدت المسلمین کو پنجاب حکومت پر تحفظات تھے اسلئے پرویز الہیٰ کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ حافظ عمار یاسر نے پنجاب حکومت کو یرغمال بنایا ہوا ہے، عمران خان کے ساتھ ہیں لیکن پرویز الہیٰ کو ووٹ نہیں دیں گے

    خیال رہے کہ اسپیکر سبطین خان کی ہدایت پر اسمبلی سیکریٹریٹ نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 9 جنوری کو طلب کررکھا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے اعتماد کے ووٹ پر کارروائی شروع کی جائے گی تاہم 9 جنوری سے قبل ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے سے عمران خان سخت پریشان ہیں۔

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ تبدیل

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ تبدیل

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس 9 جنوری کو طلب کرلیا گیا

    اسمبلی سیکرٹریٹ نے 9 جنوری کے اجلاس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق اسمبلی کا اجلاس 11 جنوری کے بجائے 9 جنوری کو دوپہر 2 بجے ہوگا اس حوالے سے اسمبلی سیکرٹریٹ نے گزٹ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے

    پنجاب اسمبلی کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں غالب امکان ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے خلاف اعتماد کے ووٹ کی تحریک شروع کی جائے گی جس میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے اتحاد کے درمیان مقابلہ ہو گا ،تحریک کے دوران اگر اپوزیشن اتحاد 186 کا نمبر پورا کرنے میں ناکام ہو گئی تو عمران خان کی جانب سے اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان پر عملدرآمد کیا جائے گا

    دوسری جانب پنجاب کی سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی ہے،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    دوسری جانب پی ٹی آئی کی اتحادی مجلس وحدت المسلمین نے پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، مجلس وحدت المسلمین کی خاتون رکن پنجاب اسمبلی زہرا نقوی نے پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے،

  • سال 2022، بزدار گئے ، حمزہ وزیراعلیٰ بنے، پرویزالہٰیٰ بھی چھٹی کے قریب

    سال 2022، بزدار گئے ، حمزہ وزیراعلیٰ بنے، پرویزالہٰیٰ بھی چھٹی کے قریب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ سے چھٹی ہوئی، تو حمزہ شہباز نے بھی مختصر ترین عرصے کے لئے وزارت اعلیٰ کے مزے لوٹ لئے، پرویز الہیٰ دوبارہ وزیراعلیٰ بنے تو ہر وقت خدشہ ،کسی وقت بھی کرسی چھن جائے گی، نواز شریف لندن سے واپس نہ آئے، مریم نواز لندن روانہ ہو گئیں، شہباز شریف وزیراعظم بن گئے، پنجاب میں تحریک انصاف کے عثمان بزدار کا بطور وزیراعلی دور اقتدار ختم ہونے پر 88 روز کے لئے ن لیگی رہنما حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب کی مسند پر رہے، اسکے بعد عدالتی فیصلوں کے بعد ق لیگ کے چودھری پرویز الہیٰ کے حق میں قرعہ نکلا اور وہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہو گئے اور سپیکر کی کرسی سبطین خان کو مل گئی جو عمران خان کے قریبی سمجھے جاتے ہیں،ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی عہدے سے چھٹی ہو گئی

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    عمران خان نے 258 کنال اپنی اہلیہ بشری بی بی کے نام کروائی جبکہ 240 کنال اپنی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کے نام کروائی

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    آبادی کے لحاظ سے بڑے اور سیاسی اعتبار سے ملک کے اہم ترین صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں سال 2022 ہنگامہ خیز رہا، پونے چار سال عثمان بزدار کے وزیراعلی رہنے تک ایوان میں عموماً خاموشی چھائی رہی . تاہم ان کی تبدیلی کے ساتھ ہی سیاسی جنگ زور پکڑ گئی .12 اپریل 2022 کو قائد ایوان کے انتخاب کیلئے اجلاس میں بدترین ہنگامہ آرائی ہوئی ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری پر حملہ ہوا اور پولیس کو مداخلت کرنا پڑی، اسی روز، تحریک انصاف کے باغی ارکان کی حمایت سے ایوان نے حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنا دیا اسپیکر چودھری پرویز الہی نے ایوان کو تالے لگائے تو ن لیگ کی حکومت کو بجٹ اجلاس ایوان اقبال میں بلانا پڑا،

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کا معاملہ پہلے الیکشن کمیشن پھر سپریم کورٹ تک پہنچا باغی ارکان نااہل ٹھہرے، ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی اور پرویزالہی نے بطور وزیراعلی پنجاب کی کمان سنبھالی تحریک انصاف کے اتحادی پرویزالہی کے وزیراعلی منتخب ہونے کے بعد کچھ ماہ خاموشی رہی لیکن عمران خان نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا جس پر ن لیگ نے وزیراعلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی اور گورنر نے اعتماد کے ووٹ کا کہہ دیا ، گورنر نے اسمبلی کے جاری اجلاس میں اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر پرویز الہی کو ڈی نوٹیفائی کیا، تاہم عدالت نے وزیراعلی پرویز الہی کو دوبار بحال کر دیا، اب نئے سال کا آغاز ہونے جا رہا ہے دیکھتے ہیں پرویز الہیٰ کب تک وزیراعلیٰ رہتے ہیں

    وزیراعلیٰ پنجاب کی نیب میں طلبی،ترجمان پنجاب حکومت کا موقف آ گیا

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

  • لاہور ہائیکورٹ نے پرویزالہٰی سے اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی مانگ لی

    لاہور ہائیکورٹ نے پرویزالہٰی سے اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی مانگ لی

    لاہور ہائیکورٹ ،پرویز الہٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کی بینچ میں جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس محمد اقبال اور مزمل اختر شبیر اور جسٹس عاصم حفیظ شامل تھے آئینی پٹیشن میں گورنر پنجاب، اسپیکر ، حکومت پنجاب، چیف سیکریٹری کو فریق بنایا گیا، موقف اپنایا گیا کہ گورنر پنجاب نے آئین کےآرٹیکل 130سب سیکشن 7کی غلط تشریح کی، گورنر پنجاب نے اختیارات کاغلط استعمال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کیا

    پرویز الہٰی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دلائل دیئے گئے، وکیل نے کہا کہ وزیر اعلی ٰالیکشن میں پرویز الہٰی 186 ووٹ لے کر وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے،اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے 10 ووٹ نکال دئیے، ڈپٹی اسپیکر نے شجاعت حسین کے خط کی روشنی میں ق لیگی ممبران کے ووٹ تصور نہیں کیے معاملہ عدالت گیا جہاں سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، اگر گورنر تصور کریں کہ وزیر اعلیٰ اکثریت کھو چکے ہیں تو اعتماد کا ووٹ کے لیے کہہ سکتے ہیں اعتماد کے ووٹ کے لیے گورنر اجلاس سمن کرتا ہے ،گورنر کے پاس اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنے کے لیے ٹھوس وجوہات ہونی چاہیے،آئین کے آرٹیکل 130 کے سب سیکشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتا ہے، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز الہٰی ہوں گے ، وزیر اعلی ٰکو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے 20 اراکین اسمبلی کے دستخط کے ساتھ تحریک جمع ہو سکتی ہے، چیف منسٹر کو اسمبلی منتخب کرتی ہے، تعنیات نہیں کیا جاتا ،عدم اعتماد کے لیے الگ سے سیشن بلایا جاتا ہے گورنر عدم اعتماد کے لیے دن اور وقت کا تعین نہیں کر سکتا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب 3سے 7 دن کا وقت ہےتو اعتماد کے ووٹ کے لیے ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدم اعتماد کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے اراکین کو نوٹس دیتے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ رولز کے مطابق کیا اسی دن ووٹنگ نہیں ہو سکتی ؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کو اختیار ہے وہ ایک ہی دن نوٹس اور ووٹنگ کرا سکتا ہے اسپیکر پنجاب اسمبلی عدم اعتماد کی تحریک میں ممبران کو مناسب وقت دے سکتے ہیں اسپیکر کے پاس اختیار ہے کہ وہ مناسب وقت جو 10 سے 15 کا ہو دے سکتا ہے، گورنر نے اعتماد کے ووٹ کےلیے اسپیکر کو خط لکھا وزیر اعلی ٰنے اعتماد کا ووٹ لینے سے انکار نہیں ،اجلاس اسپیکر نے بلانا ہے وزیر اعلیٰ خود سیشن نہیں بلا سکتا ،اگر اجلاس ہوا ہی نہیں تو پھر گورنر نے خود سے کیسے فیصلہ کرلیا ؟اجلاس بلانے کے اختیارات اسپیکر کے پاس ہیں یہ تو ایسے ہی کہ دو افراد کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں سزا تیسرے کو دے دی جائے ،ضروری ہے کہ اسپیکر ووٹنگ کے لیے دن مقرر کریں ، جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر گورنر نے اعتماد کے ووٹ کا کہا ہے تو اس پر عملدرآمد تو ہونا چاہیے ،رولز کے مطابق گورنر کو اعتماد کے ووٹ کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا اختیار ہے، تاریخ کتنے دن کی ہوگی وہ الگ بحث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ رولز کے تحت کرسکتا ہے مگر آئین کے تحت نہیں، اجلاس ہوتا تو وزیر اعلیٰ اعتماد کا ووٹ لیتے وزیر اعلی ٰنے ہوا میں تو اعتماد کا ووٹ نہیں لینا،گورنر کو اختیار نہیں ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کو ہٹائے،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتا ہے یہ تو رولز میں ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے اسمبلی کا پروسیجز بھی ہے پورے پراسس کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے ،اگر کوئی سیشن ہی نہیں ہے تو وزیر اعلیٰ کہاں ووٹ لے گا ، میڈیا پر خبر آئی کہ ایک وزیر کی پرویز الہٰی کے ساتھ تکرار ہوئی اس نے استعفی ٰدے دیا ،کہا گیا عمران خان نے بیان دیا کہ پرویز الہٰی کی کابینہ میں ایک اور وزیر کا اضافہ ہوا اور انہیں پتا ہی نہیں کن بنیادوں پر عدم اعتماد اور اعتماد کے ووٹ کا کہا گیا ؟انکو یہ نظر نہیں آتا پرویز الہٰی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں یہ بیان بھی میڈیا پر آیا ، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر ٹی وی کون سا دیکھتے ہیں ، جسٹس عاصم حفیظ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا،

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کا اختیار ہے کہ وہ جب مرضی ووٹ کا کہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پڑوسیوں کی لڑائی میں سزا مجھے کیوں ملے عدالت نے استفسار کیا کہ اگر آپ پاس کےاکثریت ہے تو پھر ڈر کس بات کا ہے؟ یہ سارا بحران ختم ہوسکتا ہے فیصلہ تو اسمبلی نے ہی کرنا ہے ،پرویز الہیٰ کے وکیل نے کہا کہ ہمارا ایشو ہے کہ وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹی فائی کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نوٹیفکیشن معطل کر دیں تو کیا اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد پرویز الہٰی اسمبلی تحلیل کر دیں گے،

    لاہور ہائیکورٹ نے پرویزالہٰی سے اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی مانگ لی، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کے حکم پر عمل درآمد کیے بغیر آپ اسمبلی تحلیل نہیں کرسکتے، جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کر لیا، مشورہ کرلیں، 10 منٹ دیتے ہیں، اگر آپ اسمبلی کی تحلیل سے متعلق انڈر ٹیکنگ دیتے ہیں تو پھر اس کو دیکھتے ہیں علی ظفر صاحب آپ اپنے کلائنٹ سے ہدایات لے لیں ہم دوبارہ بیٹھتے ہیں

    گورنر پنجاب کی جانب سے معروف قانون دان خالد اسحاق کمرہ عدالت میں پہنچ گئے چودھری پرویز الہٰی کے وکیل علی ظفربھی دوبارہ کمرہ عدالت میں پہنچ گئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے ،چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل علی طفر نے تحریری یقین دہانی سے انکار کردیا ، جس پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی انڈر ٹیکنگ لینے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی غلط استعمال ناں کر سکے، اگر آپ تحریری یقین دہانی نہیں کرواتے تو عبوری ریلیف دینا مشکل ہوگا علی ظفر نے تحریری یقین دہانی مزید مہلت مانگ لی ،بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ تحریری طور پر یقین دہانی کے لیے کچھ وقت چاہیے، عدالت حکم جاری کر دے کہ اسمبلی تحلیل نہیں ہو گی ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ ہم ایسا آرڈر کیسے جاری کر سکتے ہیں ؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسمبلی تحلیل نہ کرنے کے حوالے سے یقین دہانی نہیں کراسکتے، عدالت نے مزید ایک گھنٹے کی مہلت دے دی، جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے آرڈر کا غلط استعمال ناں ہو،

    واضح رہے کہ ن لیگ نے پرویز الہیٰ کے خلاف عدم اعتماد پیش کی تھی، پرویز الہیٰ نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، جس کے بعد گورنر پنجاب نے گزشتہ شب پرویز الہیٰ کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے، پرویز الہیٰ عدالت پہنچ چکے ہیں اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دے دی ہے، درخواست پر آج ہی سماعت ہونی ہے، لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے .ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ کا کہنا ہے کہ گورنر نےآئین شکنی کی اور قانون کا مذاق بنایا،گورنر عوام کے نمائندے کو ڈی نوٹیفائی نہیں کر سکتے گورنر کی جانب سے آئین شکنی پر ہم صدر کو ریفرنس بھیجیں گے،اگر مستقبل میں آئین کی پاسداری کی توقع ہے تو آئین شکن گورنر کو نشان عبرت بنانا ضروری ہے،

    :گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

  •  سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر کے خط کا جواب دے دیا

     سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر کے خط کا جواب دے دیا

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر کے خط کا جواب دے دیا

    سپیکر نے گورنر کو لکھے گئے خط میں اپنی رولنگ کے حوالے سے آئینی پوزیشن واضح کر دی،سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر پنجاب کو خط میں کہا کہ آپ کا لکھا گیا خط حقائق کے منافی ہے، پنجاب اسمبلی رولز آف پروسیجر کے آرٹیکل 209 اے کے تحت 20 دسمبر کو دی جانے والی رولنگ کے تحت آپ کا طلب کردہ اجلاس غیرآئینی تھا، سپیکر کو ایوان میں پیش ہونے والے ہر معاملے پر رولنگ دینے کا اختیار ہے،سپیکر اسمبلی کی کارروائی پر آزادانہ فیصلہ کر سکتا ہے، سپیکر کی جانب سے دی گئی رولنگ کو آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے،آپ کی جانب سے بھجوائے گئے خط کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں ہے،

    سپیکر نے گورنر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ آپ کا یہ کہنا کہ میری وجہ سے وزیراعلی اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکے، غلط ہے،21 دسمبر کو اسمبلی کا کوئی اجلاس بلایا ہی نہیں گیا تھا تو وزیراعلی کیسے اعتماد کا ووٹ لیتے، میری 20 دسمبر کی رولنگ مکمل آئینی و قانونی اور آپ کا اس کے جواب میں 21 دسمبر کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،

    علاوہ ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا کہنا تھا کہ گورنر نے ایک لیٹر لکھا جس میں دو باتیں کیں، گورنر نے کہا چودھری پرویزالہٰی اور شجاعت حسین میں اختلافات ہیں، چودھری پرویز الہٰی پرالزامات کا تعلق گورنر پنجاب سے نہیں،ق لیگ کے پارلیمانی اجلاس میں 10کے 10اراکین اسمبلی موجود تھے،چودھری شجاعت قابل احترام ہیں، مگر انکا پنجاب سے کوئی لینا دینا نہیں،پنجاب میں ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے الگ سے ہیڈ ہیں،جاری سیشن کے دوران گورنر کیسے اجلاس طلب کر سکتے ہیں؟آئین میں درج ہے جو اجلاس گورنر بلائیں گے اسے ملتوی بھی گورنر ہی کریں گے،جو اجلاس اسپیکر بلوائیں گے وہ بھی اسپیکر ہی ملتوی کریں گے،گورنر پنجاب کے خطوط بدنیتی پر مبنی ہیں، گورنر پنجاب نے آرٹیکل 209 کی بات کی ہے، ہم نے آرٹیکل 209 کی بات ہی نہیں کی، ہم آرٹیکل 209 اے کی بات کر رہے ہیں، 209اے کے تحت اسپیکر کی رولنگ چیلنج کی ہی نہیں جا سکتی،میں ہاؤس کا کسٹوڈین ہوں، اس عمارت کی عزت کا ہم نے خیال کرنا ہے،آج گورنر کو ایک اور خط بھیج رہا ہوں، گورنر پنجاب کو بتاؤں گا کہ مجھے 209 اے اور 235 کے تحت اختیارات حاصل ہیں،ہر کوئی قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنا کام کرے، ابھی تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی ہے،اس پر ابھی نوٹس ہونا ہے، اسے سرکولیٹ ہونا ہے، عدم اعتماد پر ووٹنگ شاید جنوری کے پہلے ہفتے میں ہو،  ہم تو جلدی میں ہیں لیکن کچھ رکاوٹیں آ گئی ہیں، گورنر اجلاس بلوا سکتے ہیں اعتماد کے ووٹ کیلئے مگر وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی نہیں کر سکتے،  اگر وہ ڈی نوٹیفائی کریں گے تو ہمارا خط تیار ہے، چاہتے ہیں پہل وہ کریں،  فی الحال ہم نے صدر والا خط روک دیا ہے، ہم عوام کے پاس جانا چاہتے ہیں،گورنر چاہتے ہیں ہم عوام کے پاس نہ جائیں، ہمارے چیئرمین اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم عوام کے پاس جائیں، رکاوٹوں کو جلدی دور کریں گے،