Baaghi TV

Tag: پنجاب اسمبلی

  • الیکشن کمیشن کے فیصلے نے آئینی بحران پیدا کردیا ہے،شیخ رشید

    الیکشن کمیشن کے فیصلے نے آئینی بحران پیدا کردیا ہے،شیخ رشید

    راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے آئینی بحران پیدا کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر پر جاری بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے آئینی بحران پیدا کردیا ہے۔ آئین واضح ہے کہ 90 دن کے اندر الیکشن ہوں گےسپریم کورٹ کاامتحان ہےکہ وہ بہروپیوں کی غیرآئینی، غیرقانونی حکومت کوچلنے دیتی ہے یا ان پر آرٹیکل 6 لگاتی ہےچیف جسٹس کہہ چکےہیں شفاف انتخابات میں بدنیتی ہوئی تومداخلت کریں گےنگران حکومت کی اب کوئی حیثیت نہیں-


    انہوں نے کہا کہ آئین میں90 دن کا ذکر ہے سکیورٹی اور پیسوں کا نہیں انہوں نے اپنی سیاسی ساکھ کےساتھ پاکستان کی ساکھ بھی کھودی ہے ملک خانہ جنگی کے دہانے پر آگیا ہے یا آئین کا فیصلہ چلے گایا اب عوام کا فیصلہ چلے گا دنیا کوشک تھا یہ الیکشن آگے لےکرجائیں گےعمران خان کا راستہ روکنے کے لیےساری جمہوریت کو داؤ پر لگا دیا ہے-


    شیخ رشید نے کہا کہ جب حکومت آئین کوتسلیم نہیں کرے گی توعوام حکومت کوکیوں تسلیم کریں گے آج چھٹی ہے کل سے سپریم کورٹ کےدروازے کی طرف لوگوں کی نظریں ہوں گی ملکی غیر ملکی سرمایہ کاروں کےلیے منفی پیغام گیاہےقوم کوبتایاجائےملک کوکس طرف لےکرجاناہے۔ترکی میں زلزلےسے50ہزار آدمی مرےلیکن الیکشن شیڈول تبدیل نہیں ہوا-

  • الیکشن کمیشن  نے پنجاب کے انتخابات ملتوی کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے،عمران خان

    الیکشن کمیشن نے پنجاب کے انتخابات ملتوی کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے،عمران خان

    لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب کے انتخابات اکتوبر تک ملتوی کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر پراپنے ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ اکتوبر تک پنجاب کےانتخابات ملتوی کرکےالیکشن کمیشن پاکستان آئین سے کھلےانحراف کا مرتکب ہوا ہے۔آج ہر کسی کو اِس امید کےساتھ کہ یہ دستور کا تحفّظ کریں گے،عدلیہ اور قانونی برادری کی پُشت پرکھڑا ہوناہوگا۔کیونکہ آئین پر یہ سنگین حملہ اگر آج قبول کرلیا جاتا ہےتو پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خون ہوجائےگا۔

    عمران خان چار پانچ پولیس والوں کو مروا کر ملک میں افراتفری چاہتا. خواجہ محمد


    عمران خان نے کہا کہ ہم نےاپنی 2 صوبائی اسمبلیاں اس امید پرتحلیل کیں کہ 90 روز میں انتخابات کروائےجائیں گے،جسکا ہمارا دستور واضح حکم دیتاہے۔ہم نےیہ قدم فسطائیوں کےایک ٹولے کو آئین سےانحراف اور قانون کی حکمرانی سےفرار کےذریعےخوف و دہشت کا راج قائم کرنےکی اجازت دینے کیلئےنہیں اٹھایا تھا۔

    ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا،وزیراعظم شہباز شریف

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات ملتوی کردیئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے نوٹی فکیشن کے مطابق پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے امن و امان کی صورتحال سازگار نہیں ہےکمیشن کی تمام تر کوششوں کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز پنجاب میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے کمیشن کی مدد نہیں کر سکے۔

    پنجاب اسمبلی کے 30 اپریل کو ہونے والے الیکشن ملتوی، 8 اکتوبر کی نئی تاریخ …

  • پنجاب اسمبلی کے انتخابات :حمزہ شہباز نے 3 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے

    لاہور: پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے مسلم لیگ ن کے نائب صدر حمزہ شہباز نے 3 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے۔

    باغی ٹی وی: پنجاب اسمبلی کے انتخابات 30 اپریل کو ہوں گے جس کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد، صدر مملکت کی مبینہ آڈیو لیک ، منصوبہ بندی آئی سامنے

    مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے بھی پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے 3 حلقوں سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، حمزہ شہباز نے پی پی 146، پی پی 147 اور پی پی 163 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز بھی پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے لاہور سے الیکشن لڑیں گی۔

    خیال رہےکہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیےکاغذات نامزدگی جمع کرانےکا سلسلہ جاری ہے قبل ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما بلال یاسین نے پی پی 173 سے کا غذات جمع کرائے ہیں، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو بھی اس حلقے سے الیکشن لڑنےکی دعوت دی ہے، مریم نواز نے اس حلقے سے کاغذات حاصل کیے ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ کا زمان پارک میں پولیس کا آپریشن فوری روکنے کا حکم

    واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے پنجاب کے انتخابات کے لیے 30 اپریل کی تاریخ کی منظوری دی ہے

    الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو پنجاب میں الیکشن کےلیے 30 اپریل سے 7 مئی تک کی تاریخیں تجویز کی تھیں صدر مملکت نے پنجاب میں الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ تاریخوں پر غور کے بعد 30 اپریل کی تاریخ کی منظوری دی۔

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں صدر مملکت اور گورنر کے پی کو مراسلہ جاری کیا تھا جس میں کے پی کے میں الیکشن کے لیے گورنر سے جواب مانگا گیا ہے۔

    آج عمران خان کہتا ہے کہ میں ایماندار ہوں تو سب سے بڑا جھوٹ ہے،وزیراعظم

  • اسپیکر پنجاب اسمبلی نےپنجاب میں انتخابات کی تاریخ سے متعلق گورنرپنجاب کے خط کا جواب دے دیا

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نےپنجاب میں انتخابات کی تاریخ سے متعلق گورنرپنجاب کے خط کا جواب دے دیا

    لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ سے متعلق گورنرپنجاب کے خط کا جواب دے دیا۔

    باغی ٹی وی: اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے خط میں گورنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے آئین کی تشریح اپنی مرضی کے مطابق کی،یہ کہنا بلاجواز ہے کہ اسمبلی از خود تحلیل ہوئی اورگورنر انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا،میں نے وہ خط دیکھا جو گورنر نے الیکشن کمیشن کو لکھا۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تعیناتی کے خلاف درخواست میں وفاقی حکومت، گورنر پنجاب،…

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر پنجاب کے نام خط میں کہا کہ حیران ہوں گورنر نے نامعلوم اسٹیک ہولڈز سے مشاورت کیلئے کہا،گورنر پنجاب نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی،التجا ہے کہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے خط میں کہا کہ اسمبلی ٹوٹنےکے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان ضروری ہے جو آپ نے ابھی تک نہیں کیا، ایسا نہ کرکے آپ آئین سے انحراف کررہے ہیں، آپ جلد سے جلد الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں تاکہ آئینی بحران پیدا نہ ہو۔

    خط میں مزید کہا گیا ہےکہ انتخابات کی تاریخ نہ دینے کے حوالے سے آپ کے خط سے اتفاق نہیں کرتا، آئینی طورپر اسمبلی کی تحلیل کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان ضروری ہے جو آپ نےابھی تک نہیں کیا۔

    اسپیکر کے خط میں کہا گیا ہے کہ آپ ایسا نہ کرکے آئین سے انحراف کررہے ہیں، آئین کی شق 105 سے واضح ہےکہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرناگورنرکی ذمہ داری ہے ، اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 دن کے اندر انتخابات کا انعقاد لازم ہے۔

    خیبرپختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں کے الیکشن کی تاریخ دینے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،الیکشن…

    واضح رہے کہ دو روز قبل گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے الیکشن کمیشن،اسپیکر پنجاب اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سابق پارلیمانی لیڈر عثمان بزدار کو خط لکھا تھا،گورنر پنجاب نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے آگے بڑھنا چاہیے،ملکی اقتصادی اور سکیورٹی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔

    الیکشن کمیشن موجودہ صورتحال کے مطابق تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے،میرا آفس انتخابات سے متعلق ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

    قبل ازیں پنجاب اور خیبر پختو نخوا میں انتخابات کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے گورنرز کو دوبار خط لکھے۔الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبر پختو نخوا میں انتخابات کی تاریخ کیلئے گورنرز کو خط لکھے۔

    خط میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی 14 جنوری کو تحلیل ہوئی مگر اب تک الیکشن کی تاریخ نہیں دی گئی،اسی طرح خیبر پختوا نخوا اسمبلی 18 جنوری کو تحلیل ہوئی لیکن اس اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔

    پی ایس ایل 8: کمنٹری پینل کے نام سامنے آگئے

    خط میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت تحلیل کی صورت میں گورنرز کا الیکشن کی تاریخ دینا ضروری ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کی تاریخ کے لئے گورنرز کو دو بار خط لکھ چکا ہے۔

  • پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے،بزدار کا گورنر کو خط

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے،بزدار کا گورنر کو خط

    پی ڈی ایم پارلیمانی کمیٹی کے رکن ملک ندیم کامران پنجاب اسمبلی پہنچ گئے،

    اس موقع پر ملک ندیم کامران کا کہنا تھا کہ پنجاب میں عام انتخابات کے راستے میں رکاوٹ مردم شماری ہے، نگران وزیراعلی کے لئے دئیے جانے والے اپنے دونوں ناموں کے ساتھ کھڑے ہیں حکومت بھی لچک دکھائے، پارلیمنٹ کے فیصلے پارلیمنٹ کے اندر ہی ہونے چاہئیں،

    پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف کے ناموں پر میں تو بغیر تحقیق کے کسی قسم کا شک نہیں کرتا دونوں اطراف سے دے گئے نام پاکستانی ہیں اور قابل غور ہیں چارسال تک اس ہاؤس کے اندر میں عوامی مسائل پربات کرتا تھا جب ہاؤس چھوٹا ہوتا تھا تو لوگ بڑے ہوتے تھے اب ہاؤس بڑا ہوگیا لوگ چھوٹے ہوگئے ہم نےآج تک عوامی مسائل کو ایڈریس ہی نہیں کیا ہم دن بدن گراوٹ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں تقسیم ہوتے جارہے ہیں اس کو روکنا ہو گا کسی کے تسلیم کرنے یا نا کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے بات تو یہ ہے کہ اتفاق رائے سے معاملات حل ھونے چاہئیں حکومتی اراکین سے خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ ایک مائنڈ سیٹ ہے حکومتی اراکین کا ایک مخصوص پیٹرن اور انداز ہے

    دوسری جانب پنجاب میں انتخابات کرانے کیلئے تاریخ کا معاملہ ،تحریک انصاف نے گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کو خط لکھ دیا ،خط پی ٹی آئی کے پنجاب میں پارلیمانی لیڈر عثمان بزدار کی طرف سے لکھا گیا ہے ،خط میں گورنر پنجاب سے صوبے میں انتخاب کی فوری تاریخ کے اعلان کا مطالبہ کیا گیا،خط میں کہا گیا کہ گورنر کو اسمبلی تحلیل کرتے ہی الیکشن کی تاریخ دینا ہوتی ہے، آپ نے ابھی تک الیکشن کی تاریخ نہیں دی،فوری طور پر پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔

    پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں، نگران وزیراعلیٰ کی تقرری ہونی ہے اور پھر الیکشن کا اعلان ہو گا، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن لڑنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں اور پارلیمانی اجلاس ہو رہے ہیں وہیں ساتھ ٹکٹ دینے کے لئے کمیٹیاں بھی بن رہی ہیں، ن لیگ نے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تو پی ٹی آئی بھی متحرک ہو چکی ہے،

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟ قرعہ کس کے نام کا

  • عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل

    عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی

    پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری کر دیا گیا، پارلیمانی پارٹی میں اپوزیشن اور حکومت کے تین تین افراد کو شامل کیا گیا ہے پارلیمانی کمیٹی میں تحریک انصاف اور ق لیگ کی جانب سے راجہ بشارت، میاں اسلم اقبال، ہاشم جواں بخت شامل ہیں، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ملک احمد خان، ملک ندیم کامران اور سید حسن مرتضی شامل ہیں کمیٹی تین دن میں وزیراعلی پرویز الہی اور اپوزیشن لیڈر کی جانب سے دئے گئے ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق کرے گی ،پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق نہ ہونے پر عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کا معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا

    ن لیگی رہنما ملک احمد خان کا پی ٹی آئی کے راجہ بشارت سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے،راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ ملک احمد خان نے رات تک ملاقات کا عندیہ دیا ،پی ٹی آئی کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کے لیے د یئے گئے نام بہترین ہیں،

    پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں، نگران وزیراعلیٰ کی تقرری ہونی ہے اور پھر الیکشن کا اعلان ہو گا، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن لڑنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں اور پارلیمانی اجلاس ہو رہے ہیں وہیں ساتھ ٹکٹ دینے کے لئے کمیٹیاں بھی بن رہی ہیں، ن لیگ نے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تو پی ٹی آئی بھی متحرک ہو چکی ہے،

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟ قرعہ کس کے نام کا

  • الیکشن کمیشن پنجاب اور کے پی اسمبلی کے عام انتخابات کرانے کے لیے تیار

    الیکشن کمیشن پنجاب اور کے پی اسمبلی کے عام انتخابات کرانے کے لیے تیار

    الیکشن کمیشن پنجاب اور کے پی اسمبلی کے عام انتخابات کرانے کے لیے تیار

    الیکشن کمیشن کی جانب سے اپریل کے پہلے ہفتے میں عام انتخابات کرانے کی تجویزدی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق عام انتخابات کے لیے پولنگ کب ہو گی، حتمی فیصلہ گورنرز کریں گے،اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن 90 روز میں عام انتخابات کرانے کا پابند ہے،صوبہ پنجاب اور کے پی کے عام انتخابات میں کوئی قانونی رکاوٹ آڑے نہیں آ سکتی،وفاقی حکومت کی جانب سے نئی مردم شماری کرانے پر بھی الیکشن مقررہ دنوں میں ہی کروائیں گے،

    الیکشن کمیشن نے آئندہ دو ہفتوں میں مشاورت کر کے عام انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے الیکشن کمیشن نے اتوار کے روز پولنگ کرانے کی تجویز دی ہے، اور کہا ہے کہ چھٹی کے روز ٹرن آوٹ زیادہ ہوتا ہے

    پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں، نگران وزیراعلیٰ کی تقرری ہونی ہے اور پھر الیکشن کا اعلان ہو گا، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن لڑنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں اور پارلیمانی اجلاس ہو رہے ہیں وہیں ساتھ ٹکٹ دینے کے لئے کمیٹیاں بھی بن رہی ہیں، ن لیگ نے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تو پی ٹی آئی بھی متحرک ہو چکی ہے،

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟ قرعہ کس کے نام کا

  • پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟  قرعہ کس کے نام کا

    پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟ قرعہ کس کے نام کا

    پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟ قرعہ کس کے نام کا
    پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ اور حمزہ شہباز کے مابین ناموں پر اتفاق نہ ہو سکا، تحریک انصاف کے تین نام اور ن لیگ کے دو نام سامنے آئے تھے تا ہم ناموں پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ روز گورنر پنجاب نے سپیکرپنجاب اسمبلی کو خط لکھ دیا تھا جس میں آئین کے تحت نگران وزیراعلیٰ مقرر کرنے کا عمل مکمل کرنے کا کہا گیا تھا

    باخبر ذرائع کے مطابق ن لیگ کی جانب سے دیئے گئے دو ناموں میں سے ایک نام محسن نقوی کا نام نگران وزیراعلیٰ کے لئے تقریبا یقینی ہے، محسن نقوی کے لئے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے لابنگ کی ہے، قوی امکان کے کہ محسن نقوی کو ہی نگران وزیراعلیٰ بنایا جائے گا، اب فیصلہ سپیکر کے اختیار میں ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی گورنر پنجاب کے حکم کے بعد نگران وزیراعلیٰ کا تقرر باہمی مشورے سے کریں گے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان آئین کے آرٹیکل 224A(2) کے تحت نگران وزیرِ اعلیٰ کے تقرر کے آئینی عمل کو آگے بڑھائیں گے

    سابق وزیراعظم نواز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ نگران وزیراعلی کے نام پر مُحسن نقوی کے نام سے مطمئن ہیں،محسن نقوی سٹی 42 اور 24 چینل کے مالک ہیں محسن نقوی سیاسی اور صحافتی برادری میں جانی مانی شخصیت ہیں اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں محسن نقوی نے کریسنٹ سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی محسن نقوی لاہور کی معروف گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے بھی تعلیم یافتہ ہیں ،محسن نقوی نے امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی او ر معروف امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے صحافت کا آغاز کیا 2009 میں محسن نقوی نے پاکستان میں ضلعی سطح کا چینل( سٹی 42 ) شروع کیا محسن نقوی نے سٹی نیوز پیپر شروع کیا سٹی 41، یو کے 44، روہی ٹی وی شروع کیا محسن نقوی نے قومی ٹی وی چینل ، چینل 24 لانچ کیا محسن نقوی اس وقت ایک میڈیا گروپ کے مالک ہیں

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

  • پنجاب اسمبلی تحلیل کا معاملہ، سمری گورنرہاؤس میں موصول

    پنجاب اسمبلی تحلیل کا معاملہ، سمری گورنرہاؤس میں موصول

    گورنر بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی توڑنے کی سمری موصول ہونے کی تصدیق کر دی۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کر کے سمری گورنر پنجاب کو ارسال کی تھی جو کہ گورنر ہاؤس میں موصول ہو گئی ہے جس کی تصدیق ٹوئٹر پر گورنر پنجاب نے اپنی ٹوئٹ میں کی ہے-


    واضح رہے کہ لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں مرکزی قیادت نے اسمبلی فوری تحلیل کرنے کی رائے دی اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی عمران خان سے ملاقات ہوئی جس میں اسمبلی توڑنےکا حتمی فیصلہ کیا گیا۔

    ایم کیو ایم کے دھڑے ملکر کراچی کو ایک بار پھر تباہ و برباد کرنے کی سازش کر رہے ہیں،حافظ نعیم الرحمان


    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے پنجاب اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کردیئے ہیں، پنجاب اسمبلی تحلیل کی ایڈوائس گورنر پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے، گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتے تو 48 گھنٹے میں اسمبلی خود تحلیل ہوجائے گی۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم مسلم لیگ ق، پرویز الہٰی اور مونس الہٰی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، نگران حکومت کے قیام کے لیے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو خط لکھنے جا رہے ہیں اسی طرح سے ہم خیبر پختونخوا اسمبلی کو بھی تحلیل کریں گے، دونوں صوبوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنے بل سے باہر آنا چاہیے، اسپیکرکوبھی کہہ رہے ہیں ہمارے استعفےقبول کریں۔

    اسمبلی کی تحلیل موخر کرنے کی تجویز ،عمران خان کا ردعمل

    دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان اور معاون خصوصی بیرسٹر سیف نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کوتحلیل کرنے کے لیے ایڈوائس دودن بعد گورنرکوارسال کی جائے گی پنجاب کی اسمبلی 48 گھنٹوں میں ٹوٹے گی جس کے بعد وزیراعلی خیبرپختونخوامحمود خان , گورنرکواسمبلی تحلیل کے لیے ایڈوائس ارسال کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی مسلہ نہیں، ہم پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا انتظارکرینگے، کے پی اسمبلی تحلیل ہونے پر اپوزیشن لیڈراکرم خان درانی کو نگران وزیراعلی کے تقررکے لیے خط لکھا جائے گااب امپورٹڈ حکومت کے پاس نئے انتخابات کرانے کے سواکوئی چارہ نہیں۔

  • عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کامیاب ہو گئے ہیں.

    پرویز الہیٰ نے گزشتہ شب پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد ووٹ لے لیا، پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ حاصل کئے، اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا، ن لیگ جوڑ توڑ کر رہی تھی تا ہم ن لیگ کو کامیابی نہیں ہو سکی،گزشتہ روز رانا ثناء اللہ نے بیان دیا تھا کہ اب پنجاب حکومت تبدیل کروا کر ہی اسلام آباد جاؤں گا تا ہم وہ مشن میں کامیاب نہ ہو سکے، تحریک انصاف کی جانب سے 186 ووٹ پورے ہونے پر لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف نے اظہار برہمی کیا ہے اور پارٹی رہنماؤ‌ں سے رپورٹ طلب کی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ نواز شریف ن لیگ کی صوبائی قیادت پر شدید برہم ہوئے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے استفسار کیا کہ پارٹی قیادت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے کم از کم 7 ناراض اراکین پی ڈی ایم سے رابطوں میں ہیں ناراض اراکین کیسے ووٹنگ کے لئے پہنچ گئے انہیں مینیج کیوں نہیں کیا جا سکا۔ ن لیگ پنجاب کے صدر، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نواز شریف اور مریم نواز کو معاملے پر ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مریم نواز کی فوری وطن واپسی کی تجویز دے دی، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز فوری وطن واپس نہیں آتی تو پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے، ضروری ہے کہ مریم نواز فوری وطن واپس آئیں اور پارٹی کو سنبھالیں،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں