Baaghi TV

Tag: پنجاب

  • عطا تارڑ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    عطا تارڑ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    عطا تارڑ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    سیشن کورٹ لاہور میں ن لیگی رہنما عطا تارڑ کی عبوری ضمانت 14 ستمبر تک منظورکر لی گئی

    عدالت نے قلعہ گجر سنگھ پولیس کو عطا تارڑ کو گرفتار کرنے سے روک دیا سیشن کورٹ لاہور نے عطا تارڑ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا عدالت نے عطا تارڑ کی 50 ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے سیشن کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی تھی،جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ عدالت عبوری ضمانت منظور کر کے پولیس کو گر فتاری سے روکے پولیس نے پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں نامزد کیا، ریکارڈ یافتہ نہیں ہوں، پولیس نے بدنیتی کی بنیاد پر نامز د کیا،

    عدالت پیشی کے موقع پرعطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام اور جلسے جلوسوں کے علاوہ قوم کی خدمت بھی اہم ہے، پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ ہم نے نہیں کیا نہ کروایا،سیلاب متاثرین کے دکھ کا انداز ہے ،سیلاب متاثرین کی امداد کی جائے ،یہ جلسوں اور دورے کرنے کا وقت نہیں ،سیلاب متاثرین کے علاقوں کے دورے کرنے چاہیے، پنجاب کو بڑے بھائی ہونے کے ناطے آگے بڑھنا چاہیے تھا ،

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

     سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس، یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس، یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت نے یونیورسٹی آف کمالیہ بل2022 پیش کیا.

    محکمہ سوشل ویلفیئر سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران لیگی رکن ملک ارشد نے صوبائی وزیر غضنفر عباس چھینہ کو دلچسپ مبارکباد دی،ملک ارشد کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے غضنفر عباس چھینہ نے وزیر بننے کے لیے بہت تگ و دو کی ہے، خیر جیسے بھی وزیر بنے میں مبارک باد دیتا ہوں۔

    ایوان میں جہیز فنڈ کے استعمال سے متعلق غلط جواب پر ملک ارشد اور صوبائی وزیر بیت المال کے درمیان تکرارہو گئی،ملک ارشد نے کہا کہ میرے سوال کا جواب محکمے کی جانب سے غلط جواب دیا گیا ہے۔جس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ آپ میرے ساتھ بیٹھ جائیں میں آپکے خدشات دور کر دیتا ہوں۔ملک ارشد نے کہا کہ میں یہاں نہیں بیٹھوں گا آپ میرے ساتھ ساہیوال چلیں وہاں بیٹھیں گے۔جس پرسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے صوبائی وزیر بیت المال کو ملک ارشد کے ساتھ ساہیوال میں جاکر مسئلہ حل کرنے کی رولنگ دے دی.

    صوبائی وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے ایوان میں خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ملک میں ایسی صورتحال قائم کر دی جسے لوگ سویلین مارشل لاء کہتے ہیں، سویلین مارشل لاء وفاقی وزیر داخلہ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں، راجہ بشارت اور خود بیٹھ کرنجی ٹی وی چینل اے آر وائی کو کھلوانے کےآرڈر کو دیکھیں گے،عارف حمید بھٹی کو آف ائیر کر دیا سمجھ نہیں آتی کرتے کیا ہیں؟ ، سوشل میڈیا کی خبریں ملکی مفاد میں نہیں ہوتیں، جو حکومت کام کررہی ہے تو انہیں بھیانک خواب آیا کریں گے، شور کوٹ میں بدقسمتی سے یونس نومی قاتلانہ حملے میں شہید ہوئے ہیں ڈی پی او سے رپورٹ لوں گا.

    حسنین بہادر دریشک کا ایوان میں کہنا تھا کہ نہر تین سو کیوسک ہے راوی میں پچاس ہزار کیوسک پانی آ جائے تو کہتے سیلاب آگیا ہے، دو ہزار دس میں سیلاب آیا تھا دریائے سندھ میں دس لاکھ کیوسک تک پانی آیا تو پھر شہروں کے درمیان پانی ہی پانی تھا،یقین دہانی کرواتا ہوں ڈی جی خان اور راجن پور میں ایسا اقدام اٹھائیں گے کہ مسائل حل کریں گے.

    پیپلزپارٹی کے رہنما سید حسن مرتضیکا ایوان میں کہنا تھا کہ ہمارے مسائل کو سنجیدہ ہی نہیں لیاجاتا، کہتے رہے دس سال سے چناب چنیوٹ پر اپنا رخ تبدیل کررہا ہے زرعی زمین دریا برد ہو رہی ہیں،چنیوٹ والے لوگ بہت خوشحال تھے لیکن سیلاب سے وہ بے زمین ہوگئے اب غیر کاشتکار بے گھر اور فصلیں تباہ ہو گئیں وہ سڑک پر آ گئے،چھوٹے چھوٹے بچے بزرگوں کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ہے انہیں لوگ سالن روٹی دے رہے ہیں، اے سی چنیوٹ اتنے نواب ہیں کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں آنا پسند نہیں کرتے،ہم افسر شاہی کی نذر ہوئے ہیں لوگوں کا کیا قصور ہے ان کا نمائندہ لوٹا نہیں ہوتا، رولنگ دیں کہ چنیوٹ میں سرکاری زمین پر بے گھر لوگوں کو پانچ سے دس مرلہ جگہ دیں.

    سپیکر سبطین خان نے کہا کہ ڈی سی چنیوٹ سے پوچھیں کہ لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے،راجہ بشارت نے ایوان میں یقین دہانی کرائی کہ اے سی بھوانہ سے بھی رپورٹ منگوا لی ہے.

    پنجاب اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کی گونج بھی سنائی دی، چودھری ظہیر الدین نے ایوان میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنایا جائے تاکہ سیلابوں سے بچا جائے، جس طرح سیلاب آ رہے ہیں ہمیں کالا باغ ڈیم بنانا ہوگا، کالا باغ ڈیم میں دس میلن ایکٹر پانی اکٹھا ہوگا پچیس ملین ایکٹر پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کےلئے مزید ڈیموں کی ضرورت ہوگی، ڈیموں کو بنانے کےلئے ایک سکیم ہونا چاہئیے کہ نہروں تک انہیں بلترتیب پہنچایا جائے، پاکستانیوں پر سیلاب کی شکل میں ایک عذاب آیا ہے.

    چودھری ظہیر الدین کا مذید کہنا تھا کہ جو سیلاب سے متاثر ہوئے انہیں سرکاری زمین دی جائے،جو ہوٹل سیلاب میں گرے ہیں اس کے بعد ایس او پیز طے کی گئی ہیں کہ دو سو گز سے دور ہوٹل بنائیں گے،لوگ پانی اورآگ کے عذاب کے بعد خوف کے عذاب میں بھی مبتلا ہیں،دریائوں کی گزر گاہوں پر تعمیرات کرکے کر کاشتکاری کی جائے، پینتس ملین ایکٹر پانی سمندر برد کیاجاتا ہے جبکہ دس ملین ایکٹر فصلوں کو درکار ہوتاہے.

    راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں کہا کہ سیلاب پر دنیا ہمدردی اور مدد کرنے کےلئے پہنچ گئی ہے، وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سیلاب زدگان کی مدد کےلئے کوشاں ہے، ویر اعظم ریلیف فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریلیف فراہم کریں، کھڑی فصلیں تباہ ہو چکیں ادویات اور کھانا نہیں ہے گھر مٹی کے ڈھیر بن چکے ہیں، سیلاب سے پاکستانیوں کے مویشی پانی میں بہہ گئے نہ ان کے گھر اور نہ ہی زمین رہی، سیلاب پر لوگوں کو نہیں بتایا جا رہا ہے کہ حکومت متاثرین کو ادویات خواتین و بچوں کو کیسے ریسکیو کررہی ہے، سیلاب کی صورتحال پر اجلاس تو چل رہا ہے ممبران کی عدم دلچسپی ہے اسے ختم کردیں تاکہ ممبران حلقوں میں جاکر متاثرین کی مدد کر سکیں، کیا وزیر اعلی کو ایوان میں موجود نہیں ہونا چاہئیے، پرویز الہی اپنے بیٹے سمیت بنی گالہ میں حاضریاں لگوا رہے ہیں متاثرین پر کسی کی توجہ نہیں ہے، عدالتی وزیر اعلی کو جنوبی پنجاب کے عوام ڈھونڈ رہے ہیں کدھر ہیں جس نے فنڈز ریلیز کروانے تھے،ان کی زمینیں ہی نہیں تو بیانہ کیا لیں گے، قیامت میں آپکوجوابدہ ہونا چاہیے تھا ہم تو حکومت میں نہیں ہیں.

    اس سے قبل سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار تشویش کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی،قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی
    قرارداد کےمتن میں کہا گیا کہ یہ ایوان سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، ٹماٹر 400روپے اور پیاز 300روپے سے زائد کے کلو فروخت ہورہے ہیں، جبکہ باقی سبزیوں کی ریٹ بھی آسمان سے باتیں کررہے ہیں ، سبزی منڈی ،عام مارکیٹ یا دکان ہر جگہ من پسند ریٹ وصول کیے جارہے ہیں، صوبے بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا نام و نشان نہیں ہے، جبکہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں عام مارکیٹ سے غائب ہیں، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ  سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے، صوبے میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کو متحرک کیا جائے.

  • سندھ کے بعد پنجاب میں کتوں کے کاٹنےکےہزاروں واقعات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    سندھ کے بعد پنجاب میں کتوں کے کاٹنےکےہزاروں واقعات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    لاہور:کراچی :؛پنجاب اسمبلی میں جمع کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں رواں برس کتوں کے کاٹنے کے ساڑھے سات ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات میں 8 افراد انتقال کرگئے۔

     

     

     

    صوبےمیں کتوں کے کاٹنے کے سب سے زیادہ 1878 کیسز شیخوپورہ میں رپورٹ ہوئے۔راولپنڈی میں 1819 ، ساہیوال میں 1552 اور گوجرانوالہ میں 1159 کیسز رپورٹ ہوئے۔فیصل آباد میں 319 کیسز، ڈی جی خان میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے 227 کیسز رپورٹ ہوئے۔

     

    آرمی چیف سیلاب زدگان کے لیئے سوات پہنچ گئے

    حکومت سندھ نے شہریوں کوپاگل اور آوارہ کتوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا،محکمہ بلدیات سندھ کا پاگل اور آوارہ کتوں کی نس بندی کا ایک ارب روپے کا پروگرام ناکام ہوگیا، صرف کراچی میں 7ماہ کے دوران 18ہزار سے زائد لوگوں کو آوارہ کتوں نے کاٹ لیا، 2 مریض جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے،

    محکمہ صحت سندھ کی جانب سے رواں سال جنوری سے اب تک سگ گزید گی کیسز کے متعلق رپورٹ جاری کردی گئی ہے، کراچی کے چار بڑے اسپتالوں کے چونکا دینے والے اعدادوشمارسامنے آئے ہیں، رواں سال جنوری سے ابتک آوارہ کتوں نے 18560 لوگوں کو کاٹا ہے، شہر میں کتے کے کاٹنے سے دو افرادجاں بحق ہو گئے، جبکہ سال 2021میں 25 ہزار افراد سگ گزیدگی کا شکار ہوئے، انڈس اسپتال میں کتے کے کاٹنے کے 6 ہزارکیسزرپورٹ ہوئے، اسی طرح جناح اسپتال میں سگ گزیدگی کے 5983کیسز رپورٹ درج ہوئے،شہر کے سب سے بڑے سول اسپتال کراچی میں کتوں کے کاٹنے سے 5628کیسز رپورٹ ہوئے،

    عباسی شہید اسپتال میں کتوں کے کاٹنے کے 949کیسز سامنے آئے۔کراچی میں بلیوں کی جانب سے بھی شہریوں کو کاٹنے کے باعث مریض اسپتال پہنچے، شہر کے اسپتالوں میں بلیوں کے کاٹنے سے 49کیسز رپورٹ ہوئے،بندروں اور گدھوں کے کاٹنے سے 8 کیسز سول اسپتال میں رپورٹ ہوئے، تمام مریضوں کو ریبیز کی ویکیسن لگا دی گئی۔

    دوسری جانب محکمہ بلدیات سندھ نے لاکھوں لوگوں کو پاگل اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے کیسز کے بعد سال 2020 میں ریبیز کنٹرول پروگرام شروع کیا، 96 کروڑ روپے کی لاگت کے منصوبے کے تحت ہزاروں کتوں کی نسبندی ہونی ہے، دو سال گزرنے کے باوجود محکمہ بلدیات سندھ کتوں کی نسبندی کرنے کے پروگرام پر پیش رفت کرنے میں ناکام ہوگیا ہے، جون 2022تک 13 کروڑ روپے خرچ کردیے ہیں، کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نتائج سامنے نہیں آئے اور کتوں کی کاٹنے کے کیسز کم نہیں ہوسکے، کتوں کی نسبندی کے پروگرام پر صرف 14 فیصد کام ہوسکا ہے، رواں برس پروگرام کیلئے 10کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

  • پنجاب کابنیہ نے ایک ماہ کی تنخواہ اور پرویزالہیٰ نے ہیلی کاپٹر سیلاب ذدگان کیلئے وقف کر دیا

    پنجاب کابنیہ نے ایک ماہ کی تنخواہ اور پرویزالہیٰ نے ہیلی کاپٹر سیلاب ذدگان کیلئے وقف کر دیا

    وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا.پنجاب کابینہ نے سیلاب متاثرین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا. پنجاب کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کا اپنا ہیلی کاپٹر سیلاب متاثرین کے لئے وقف کرنے کا اعلان کر دیا.
    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ میرا ہیلی کاپٹر مصیبت زدہ بہن بھائیوں کو ریلیف دینے کے لئے استعمال کیا جائے۔

    وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ دیگر صوبوں کی ضروریات پوری کرنے کا فیصلہ کیا گیا .

    چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کیلئے ادویات اور میڈیکل سٹاف بھجوائے گی۔ بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخواکے سیلاب متاثرہ بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں۔پنجاب حکومت دیگر صوبوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    پنجاب کابینہ نے راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور میانوالی کے سیلاب متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کے فیصلے کی توثیق کردی،وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے ریلیف کی سرگرمیو ں کو منظم انداز میں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی.

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ضرورت کے مطابق ٹینٹ،فوڈ ہیمپرز او ردیگر ضروری سامان مہیا کیاجائے گا۔ گھروں،فصلوں او رلائیوسٹاک کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ازالہ کریں گے۔ہر حقدار کو اس کا حق دیاجائے گا،کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے۔

    پنجاب کابینہ نے بارشوں او رسیلاب سے آبپاشی کے انفراسٹرکچر کو پہنچنے وا لے نقصانات کی تعمیر و مرمت کے لئے 4ارب روپے کے خصوصی فنڈز کے اجراء کی منظوری دے دی
    ڈیرہ غازی خان ضلع میں سرکاری اراضی کی نیلامی کے عمل کو کابینہ سٹینڈنگ کمیٹی برائے پرائیوٹائزیشن کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے.کمیٹی تمام امور کاجائز ہ لے کر اپنی حتمی سفارشات پیش کرے گی

    کابینہ نے نکلسن روڈ کو سینئر سیاستدان نوابزادہ نصر اللہ مرحوم کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری دے دی ،پی ایس ڈی پی / اے ڈی پی فنڈڈ پروگرام برائے اصلاح کھالا جات کے فیز ٹو کے سٹاف کا معاملہ کمیٹی کے سپرد کر دیئے.ایل ڈی اے ٹربیونل کے صدر منصور احمد خان کے عہدے میں توسیع کی منظوری بھی دی گئی،سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کی تقرری کے لئے نئی سرچ کمیٹی کی تشکیل کی منظوری بھی دی گئی،سرچ کمیٹی کے کنونئر شفقت محمود ہوں گے .

    پنجاب کابینہ نے پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ایپلٹ ٹربیونل کی چیئرپرسن اور جوڈیشل ممبر ز کی تعیناتی کی منظوری دی،پنجاب اسمبلی کے 5 ویں پارلیمانی سال2022-23 کے سالانہ کیلنڈ اور پنجاب پبلک سروس کمیشن برائے سال 2021کی سالانہ رپورٹ کی بھی منظوری دے دی. اجلاس میں صوبائی محتسب پنجاب کی سالانہ رپورٹ 2021 ء کی منظوری دی گئی
    اجلاس میں کابینہ کے پہلے اجلاس میں تشکیل دی جانے والی کابینہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کی ازسرنو تشکیل کی منظوری دی گئی.اجلاس میں کابینہ کے پہلے اجلاس کے فیصلو ں کی توثیق کی گئی،کا بینہ کو سیلاب سے ہونے والے جانی ومالی نقصانا ت اورامدادی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی،صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی،چیف سیکرٹری اور اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی.

  • تباہی پر ہر آنکھ اشکباراوردل دکھی ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب

    تباہی پر ہر آنکھ اشکباراوردل دکھی ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کی ملاقات ہوئی ہے

    سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی اور پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی محمد خان بھٹی بھی موجود تھے،ملاقات میں  باہمی دلچسپی کے امور اورسیلاب سے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال پر گفتگو کی گئی، امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا، راولپنڈی کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے ممکنہ وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے متاثرین کے لئے مالی امداد کی اپیل کیلئے کہا ہے۔  متاثرین سیلاب کی مدد کرنا ہی اصل سیاست ہے۔ مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے- متاثرین کی پکار پر سب کو یکجان ہو کر ان کا سہارا بننا ہوگا۔ جنوبی پنجاب، بلوچستان، کے پی کے اور سندھ میں تباہی پر ہر آنکھ اشکباراوردل دکھی ہے انسانی المیہ کو روکنے کیلئے سب کو ملکر مشترکہ اور مربوط انداز میں بحالی کا کام کرنا ہے۔ راولپنڈی میں مدراینڈ چائلڈ ہسپتال کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچا یا جائے گا۔راولپنڈی میں گرلز ڈگری کالج پراجیکٹ کو جلد مکمل کریں گے۔ نالہ لئی ایکسپریس وے پراجیکٹ سے ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی۔ راولپنڈی کے عوام کے لئے فلاحی منصوبوں کی ذاتی طورپر مانیٹرنگ کروں گا۔

    اس موقع پر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اجتماعی کاوش ضروری ہیں۔ شمصیبت زدگان کی مدد ہر صاحب استطاعت کیلئے فرض ہے۔ ہنگامی حالات میں حکومت پنجاب کے اقدامات قابل تحسین ہیں

     بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    ہ وادی کمراٹ میں 18 سیاح پھنسے ہوئے ہیں

     شرجیل میمن نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں بدترین مخالفین کے بھی ساتھ کام کرنےکو تیار ہیں

  • عمرانی حکومت اس قدر گر سکتی ہے اندازہ نہیں تھا،حنا پرویز بٹ

    عمرانی حکومت اس قدر گر سکتی ہے اندازہ نہیں تھا،حنا پرویز بٹ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما ، رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے

    حنا پرویز بٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمرانی حکومت اس قدر گر سکتی ہے اندازہ نہیں تھا، ایک کارکن کو بغیر وجہ کے گرفتار کرنا کمزوری اور پستی کی علامت ہے۔ یہ لوگ سیاسی انتقام میں اندھے ہو چکے ہیں۔۔۔۔

    حنا پرویز بٹ نے ن لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کی ٹویٹ کو کوٹ کیا ہے، عظمی بخاری اپنی ٹویٹ میں لکھتی ہیں کہ ابھی میری طاہر مغل کی بیوی سے بات ہوئی ہے، طاہر کو رات دو بجے اسکے گھر سے اٹھایا گیا ہے،اور میرا خدشہ یہ ہے کہ اور بھی بہت سے کارکنان کو اٹھایا گیا ہوگا،لیکن کہیں کوئی خبر اور اطلاع نہیں،ڈاکو ڈوگر راج اسطرح سکور سیٹل کرنا ہے؟؟تو ٹھیک ہے،وکلا کی ٹیم بھیج دی ہے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    واضح رہے کہ ن لیگی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، طاہر مغل کو گزشتہ شب گھر سے گرفتار کیا گیا ہے، طاہر مغل عظمیٰ بخاری کے سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں، طاہر مغل ن لیگ کا جیالا ہے جو ہرریلی، جلسے میں پہنچتا ہے، طاہر مغل کی گرفتاری پر ن لیگ کی جانب سے مکمل خاموشی ہے، عظمیٰ بخاری اور حنا پرویز بٹ نے صرف طاہر مغل کے لئے آواز اٹھائی ہے

    ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پنچاب میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا عمل شروع
    طاہر مغل کو لاہور پولیس نے رات دو بجے گرفتار کرلیا۔ایک عام مسلم لیگ ن کے ورکر کو سیاسی انجنیئرنگ کا شکار کر دیا ہے انتقامی سیاست سے ملک کو تباہیوں و بربادیوں میں دھکیل دیا گیا

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ طاہر مغل سیاسی کارکن ہے کوئی ممبر یا پارٹی کے بڑے عہدے پر فائز بھی نہیں پرویز الہی نے گرفتار کرکے عارضی طور پر نیازی اور اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے جو نہایت قابل مزمت ہے

     

  • جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص

    جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین کی آبادکاری کیلئے ”وزیراعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف فنڈ“ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے ہرممکن وسائل فراہم کریں گے۔مخیر حضرات اپنے مشکل میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد کیلئے آگے آئیں۔”وزیراعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف فنڈ“ کی پائی پائی متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔

     

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

     

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ آفس میں صوبائی وزراء اور ارکان صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی۔سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی اور پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمد خان بھٹی بھی اس موقع پرموجود تھے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی پوری مشینری مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد میں مصروف ہے۔

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی

     

    انہوں نے کہا کہ میری ہدایت پر چیف سیکرٹری پنجاب کامران افضل متاثرہ علاقوں میں خود امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تونسہ، ڈی جی خان اور راجن پور میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دلی دکھ اور افسوس ہے۔ سیلاب سے ہونے والی تباہی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔جو کچھ انسانی بس میں ہوا، آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے بہن بھائیوں کیلئے کر گزریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے نقصانات کے ازالے کیلئے سروے کا حکم دے دیا ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت پنجاب کی پہلی ترجیح ہے۔

    پنجاب حکومت مشکل کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور متاثرین کی دوبارہ آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔سیلاب سے متاثرہ ہر فرد کو اس کا حق دیا جائے گا اور انشاء اللہ قوم کی تائید و حمایت سے اس چیلنج سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے کاموں میں پاک فوج کا تعاون لائق تحسین ہے۔ ریسکیو اینڈ ریلیف کے حوالے سے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہیں۔پاک فوج قابل فخر ادارہ ہے جو ناگہانی صورتحال سے دوچار لوگوں کی مدد میں بھی پیش پیش ہے۔فوجی جوان سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ زلزلہ ہو یا سیلاب یا کوئی اور ناگہانی آفت، پاک فوج ہر آزمائش کی گھڑی میں قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے۔پاک فوج کے دستوں نے لوگوں کی بروقت مدد کی اور محفوظ انخلاء کو یقینی بنایاجس پر کورکمانڈر ملتان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔پاک فوج کے تعاون سے کئی قیمتی جانوں کو پچاناممکن ہوا۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں غضنفر عباس چھینہ،شہاب الدین خان، محمد عامر عنایت شاہانی،غضنفر عباس شاہ، غلام علی اصغر خان لہری،گلریز افضل گوندل،تیمور علی لالی، سردار محمد محی الدین خان کھوسہ، محمد علی رضا خان خاکوانی، محمد اعجاز حسین اور محمد احسن جہانگیرشامل تھے۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس،اپوزیشن کا احتجاج،عمران خان کے حق میں قرارداد منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس،اپوزیشن کا احتجاج،عمران خان کے حق میں قرارداد منظور

    مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کا پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر عمران خان کے خاتون جج کو دھمکی دینے کے خلاف احتجاج کیا،مسلم لیگ ن کے ارکان نے فتہ خان نامنظور اور خاتون کی توہین نامنظور کے نعرے لگائے ۔لیگی ارکان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

    حنا پرویز بٹ نے کہا عمران خان کے خاتون جج کے متعلق ریماکس ناقابل معافی ہیں۔پولیس کی اعلی قیادت کو دھمکیاں دینا عمران خان کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔حیرت ہے کیسا ذہنی مریض وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہا ہے۔کل تک یہ پولیس افسران اور ججز اچھے تھے آج عمران خان کی کرسی چھن گئی تو سب برے لگ رہے ہیں۔

    راحیلہ خادم نے کہا تحریک انصاف ایک فاشسٹ جماعت ہے۔جو خواتین کے متعلق اپنا گندہ ذہن پہلے ہی عیاں کر چکی ہے۔خاتون جج کی تذلیل تمام پاکستانی خواتین کی بے عزتی کے برابر ہے۔ہم خاتون جج زیبا چوہدری کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔سعدیہ تیمور نے کہا عمران خان ایک فتنہ ہے جس کا ایجنڈا ملک میں انتشار پھیلانا ہے۔اداروں کے افسران کو دھمکیاں قابل مذمت ہے۔تحریک انصاف پاکستان کی دشمن جماعت ہے جو غیر ملکی فنڈنگ سے چل رہی تھی اور انکا ایجنڈا بھی غیر ملکی تھا۔

    کنول لیاقت نے کہا پوری مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت خاتون اور پولیس افسران کے ساتھ کھڑی ہے اب عدلیہ کو بھی چاہیے کہ اس ذہنی مریض کو لگا ڈالے۔اس موقع پر لیگی رکن خلیل طاہر سندھو،سنبل ملک،رابعہ فاروقی،زیب النساء اعوان،راحت افزاء،حسینہ بیگم،طارق گل سمیت دیگر ارکان موجود تھے۔

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کا ترمیمی بل پنجاب اسمبلی میں متعارف کرایا گیا.بل صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ کی جانب سے متعارف کرایا گیا،ایوان نے لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا،علاوہ ازیں راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل بھی پنجاب اسمبلی میں متعارف کرایا گیا،یہ بل بھی صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ نے متعارف کرایا،تاہم ایوان نے راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ذرائع کے مطابق دونوں بل قواعد کو معطل کر کے منظور کرائے گئے.

    میاں محمود الرشید کی جانب سے قواعد معطل کر کے عمران خان پر بے بنیاد مقدمات کے خلاف قرارداد پیش کی گئی ،قرار داد میں کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی کا یہ ایوان عمران خان پر ہونے والے بے بنیاد مقدمات کی مذمت کرتا ہے، عمران خان پاکستانی قوم ور عالم اسلام کے حقیقی لیڈر ہیں،عمران خان پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے، ان مقدمات سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے روشن چہرے کو مسخ کیا گیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ان مقدمات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، بین الاقوامی جریدے بھی ایسے واقعات کی مذمت کر رہے ہیں، ایسے اوچھے ہتھکنڈے تحریک انصاف کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے، یہ ایوان عمران خان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہے،یہ ایوان امپورٹڈ حکومت کی جانب سے درج کئیے جانے والے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے، سیاسی میدان میں سیاسی طور پر جواب دیا جائے ، قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ متفقہ قرارداد منظور ہونے پر ہاوس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں.میاں محمود الرشید نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کے ذمہ داران ہوش کے ناخن لیں ،ایک ایسا لیڈر جس کے ساتھ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے دل دھڑک رہے ہیں ،منتخب حکومت کو راتوں رات بیرونی سازش کر کے فارغ کیا گیا،عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ قوم نے جس طرح عمران خان کی آواز پر لبیک کہا اس کی مثال نہیں ملتی،یہ عمران خان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا قصور یہ ہے کہ وہ ریاست مدینہ کی بات کر رہا ہے ،وہ اس ملک کے پسے ہوئے طبقے ، جوانوں کے لیے کسانوں کے عوام کی بات کرتا ہے ،اگر یہ جرم ہے تو یہ صرف عمران خان نہیں ان کے ساتھ چلنے والا ہر شخص کرے گا،ملک میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں عوام باہر نہ نکلے ہوں
    ،انہوں نے اس امپورٹڈ حکومت کو مسترد کیا ہے ،کیا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمران خان اور ہمارے اوپر دہشتگردی کے مقدمات درج کر ہمیں دبا لیں گے ،اپوزیشن والے حوصلہ کرتے اور یہاں بیٹھ کر ہماری بات سنتے ،یہ جتنا دبائیں گے عوام عمران خان کے ساتھ نکلیں گے.

    حکومتی اراکین نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات پر عدم دلچسپی کا اظہار کیا،
    سپیکر پنجاب اسمبلی اراکین کو بار بار نشستوں پر بیٹھنے کی رولنگ دیتے رہے جبکہ حکومتی اراکین سپیکر کی رولنگ کو نظر انداز کرتے رہے،وقفہ سوالات پر لیگی رکن اسمبلی ارشد ملک بھی سپیکر ہاؤس ان آرڈر کا کہتے رہے،حکومتی اراکین اسمبلی ایک دوسرے سے خوش گپیوں میں مصروف رہے

    راحیلہ خادم حسین نے کہا کہ ہم آپ کو عزت دینے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن آپ کو عزت راس نہیں آئی،جو خود دسویں فیل ہیں وہ ہمیں جواب دے رہے ہیں، سردار شہاب الدین کا کہنا تھا کہ یہ وطیرہ ہمارا نہیں ہے میں نے ان کو عزت سے جواب دیا ہے ،104 میلین روپے کی آمدن ہوئی اسے سرکاری خزانے میں جمع کرایا ہے ،جو ویکسین تیار ہوتی ہے وہ نو پرافٹ نو لاس پر مہیا کی جاتی ہے ،جو لیب سے آمدن اکٹھی ہوتی ہے سرکاری خزانے میں جمع کرائی جاتی ہے،انسداد بے رحمی حیوانات ایک سوسائٹی ہے جو پندرہ اضلاع میں کام کر رہی ہے
    ،اس کے لیے بجٹ ن لیگ کی حکومت نے رکھا تھا

    ملک محمد ارشد نےجواب میں کہا گیا ہے موجودہ وزیراعظم ، جبکہ سابقہ وزیر اعظم نے قوم کو کٹوں وچھوں کے پیچھے لگایا گیا،جو جواب دیا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے ، آج کے وزیر اعظم کی ایسی کوئی پالیسی نہیں تھی ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ جب انہوں نے سوال جمع کرایا تھا اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے اس لیے جواب اسی مطابق دیا گیا ہے

    ملک محمد ارشد کا کہنا تھا کہ یہ ڈیپارٹمنٹ کی غلطی ہے انہوں نے سابق وزیر اعظم نہیں لکھا،مجھے کوئی ایشو نہیں ہے، کل اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی تھے آج آپ ہیں ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ اس سکیم کو اس وقت کی اپوزیشن نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا،خلیل طاہر سندھو نے ضمنی سوال میں کہا کہ چار مرغیاں اور ایک مرغا دینا تھا، لیکن غلطی سے چار مرغے اور ایک مرغی دے دی گئی،اس کا کیس چل رہا ہے کیا یہ درست ہے،جب اگلا سیشن ہو گا تو میں مقدمہ کی ایف آئی آر لے آؤں گا

    محمد ارشد ملک نے کہا کہ بتائیں کہ کتنی ادویات کم ہیں ساہیوال میں ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ میں ان کے پاس جا کر چائے پئیوں گا اور ان کو جواب بھی دوں گا،ان کے اپنے فارم ہاؤس میں ادویات کی ضرورت ہے تو میں مہیا کرا دوں گا،لک ظہیر عباس کھوکھر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں قرار داد منظور کرنے پر پورے ہاؤس کا شکریہ ادا کرتا ہوں،وفاقی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کی بھر پور مذمت کرتے ہیں،عمران خان کو کسی نہ کسی حوالے سے ذچ کرنا، ان کی حرکت کو کنٹرول کرنا، ان کے خلاف مقدمات درج کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وفاقی حکومت عمران خان کی پزیرائی سے گھبرائی ہوئی ہے،عمران خان عوامی لیڈر ہیں یہ ان کو پریشان رکھنا چاہتے ہیں ،عمران خان کو عوام میں انے سے روکنے کی کوششوں پر عوام کو تشویش ہے ،وفاقی حکومت نے میرا نام بھی عمران خان کے ساتھ ایف آئی آر میں درج کر ہے پنجاب اسمبلی کی توہین کی ہے،عمران خان جب بھی بلائیں گے ہم ان کی آواز پر لبیک کہیں گے

  • پنجاب پولیس کی  ڈی جی خان اور راجن پور میں امدادی سرگرمیاں

    پنجاب پولیس کی ڈی جی خان اور راجن پور میں امدادی سرگرمیاں

    آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کی ہدایات پر ڈی جی خان اور راجن پور میں پولیس کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    ترجمان پنجاب پولیس کی مطابق چوبیس گھنٹوں میں پولیس نے سیلابی پانی میں پھنسے 1380 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ۔ پولیس نے605 مویشیوں کو ریسکیو کیا۔

    آر پی او ڈی جی خان کے مطابق ڈی جی خان ریجن کے سیلاب زدہ علاقوں میں مجموعی طور پر پولیس کے1200سے زائد جوان امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ڈیرہ غازی خان ریجن کے سیلاب زدہ علاقوں میں پولیس نے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان و فوڈ پیکٹ بھی تقسیم کیے۔امدادی سامان میں راشن، دودھ، جوس، بسکٹ و دیگر ضروریات کی اشیاء شامل ہیں۔

    آئی جی پنجاب کے حکم پر آر پی او اور ڈی پی اوز سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کے لیے متحرک ہیں،آر پی او محمد سلیم نے راجن پور کے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں حصہ لیا۔

    آر پی او محمد سلیم کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان پولیس اپنے وسائل سے تقسیم کر رہی ہے۔ ایس ایچ اوز امدادی سامان ضرورت مندوں تک اپنی نگرانی میں پہنچا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پولیس امدادی کارروائیوں کے ساتھ جان و مال کا تحفظ بھی کر رہی ہے ۔ سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کا عمل جاری ہے ۔ پولیس کے جوان سیلابی پانی سے شہریوں، مویشیوں اور انکے سامان کو باہر نکال رہے ہیں۔ متاثرین کو ریلیف کیمپوں میں تمام سہولیات اور سکیورٹی فراہم کی گئی ہے ۔

  • پنجاب حکومت کا پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت کا پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ کرلیا.

    صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) ہاشم ڈوگر نے محکمہ پراسیکیوشن اور پولیس کو پی ٹی آئی کارکنان پر قائم مقدمات کے بارے میں مکمل انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے.

    وزیر داخلہ پنجاب کرنل (ر) ہاشم ڈوگر کا کہنا ہے کہ فاشسٹ حکومت نے 25 مئی کو ہمارے کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے جھوٹے مقدمات درج کیے۔ متعلقہ محکموں اور حکام سے جھوٹے مقدمات پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ 25 مئی کو پی ٹی آئی کارکنوں پر بنائے گئے تمام جھوٹے مقدمے خارج ہوں گے.

    وزیر داخلہ پنجاب نے کہا کہ جن افسران نے سیاسی لوگوں کے کہنے پر جھوٹے مقدمے درج کیے ان سے جواب طلبی جاری ہے۔ جھوٹے مقدمے درج کرانے پر فاشسٹ حکومت کے نمائندوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ فاشسٹ حکومت نے پہلے پنجاب میں اور اب اسلام آباد میں قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں۔

    وزیر داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے پنجاب اور اسلام آباد پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اب گرفتاریوں کے خوف سے کاغذی شیروں کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی، خاطر جمع رکھیں، ہم آپ سے وہ سلوک نہیں کریں گے جو آپ ہمارے لوگوں سے کر رہے ہیں، آپ کتنے دن بلوں میں چھپیں گے، قانون کے مطابق اپنے کیے کا جواب دینا ہوگا.