Baaghi TV

Tag: پنجاب

  • لودھراں میں تیزاب سے جلی ہوئی لڑکی کی لاش برآمد،بہاولنگر میں بھی 18 سالہ لڑکی قتل

    لودھراں میں تیزاب سے جلی ہوئی لڑکی کی لاش برآمد،بہاولنگر میں بھی 18 سالہ لڑکی قتل

    پاکستان کے ضلع پنجاب کے علاقے لودھراں میں کھیتوں سے ایک لڑکی کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق نامعلوم ملزمان نے لڑکی کو تیزاب سے جلا کر قتل کیا گیا اور لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحویل میں لے لیا اور مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے-

    تین سال قبل بہن کو بھگا کر شادی، سالے نے بہنوئی کو گلا دبا کر قتل کر دیا

    دوسری جانب بہاولنگر میں 18سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کردیا گیا جبکہ پولیس کا کہنا ہے لڑکی کی لاش پنکھے سے لٹکا کر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے پولیس کو لگتا ہے کہ یہ قتل غیرت کے نام پر کیا گیا ہے تاہم پولیس نے لڑکی کے والد کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا ہے-

    فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی

    قبل ازیں لاہوروحدت کالونی کے علاقے میں تین سال قبل بہن کو بھگا کر شادی کرنے پر سالے نے بہنوئی کو گلا دبا دیا تھا مقتول کی شناخت 23 سالہ نفرعباس کے نام سے ہوئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم اسد نے نوجوان نفر عباس کو قتل کیا ،مقتول کا بہنوئی اور بہن بھی زخمی تھے-

    نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے ڈاکٹر اور اس کا بیٹا ہلاک

    ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا تھا کہ03 سال قبل مقتول نفر قاتل کی بہن کو بھگا کر لے گیا تھا بعد ازاں صلح کے بعد قاتل کی بہن اپنے گھر واپس چلی گئی مقتول نفر اور اسد آپس میں رابطہ میں رہے قاتل اسد مقتول کے گھر ہی تھا آج صبح نفر کو قتل کرکے اور مقتول کی بہن اور بہنوئی کو زخمی کرکے فرار ہو گیا-

    اٹلی میں برفانی تودہ گرنے سے 6 کوہ پیما ہلاک اور 8 زخمی

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس،بجٹ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس،بجٹ منظور

    گورنرپنجاب کی جانب سے بلایا جانیوالا پنجاب اسمبلی کا 41 واں اجلاس جاری ہے. پنجاب اسمبلی کااجلاس دو گھنٹہ اکاون منٹ کی تاخیر سے پینل آف چئیرمین خلیل طاہر سندھو کی زیر صدارت شروع ہوا. پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز بھی شریک ہیں.پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ منظور کر لیا گیا.

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے وزیر خزانہ سردار اویس لغاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالجز میں ہیومن ریسورس، سکول انفراسٹرکچر، ملازمین کا تحفظ بھی بجٹ میں مدنظر رکھیں گے، چودہ ہزار ملازمین جو بھرتی کیا آج وہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں،وزیر اعلی نے صحت کارڈ کی بہتر پرفارمنس اور مڈل کلاس کی علاج کےلئے رسائی کو یقینی بنائیں گے،

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ غریبوں کی صحت پر جو ڈاکا ڈالا جارہاہے اسے ختم کریں گے، ادویات کی فراہمی بجٹ میں اہم تجویز تھیں۔ بی ایچ یوز اور ٹی ایچ کیوز میں غریب مریضوں کو بہترین علاج فراہم کریں گے، پی ٹی آئی حکومت نے انٹر روڈ ٹرانسپورٹ تباہ کر دی روڈ خراب کردیا، روڈز انفراسٹرکچر کو بین الاقوامی معیار پر پنجاب بھر میں لاگو کریں گے.

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پینتس ارب روپے روڈز کےلئے مختص کئے گئے ہیں اور ڈیڑھ سو روڈ نئی بنائی جائیں گی، بجلی کے بلوں پر ریلیف کےلئے گرین انرجی امپورٹڈ فیول سے دور لے جائے گی گرین انرجی کی طرف جائیں گے، ڈیڑھ ماہ میں کیبنٹ کے بغیر اور صدر ،گورنر کی کنفیوژن کے دوران حکومت نے عوامی مفاد کے اقدامات کئے،بڑھتی آبادی میں اضافہ پاکستان کےلئے خطرہ ہے.

    اویس لغاری نے ایوان کو بتایا کہ آئی ٹی سیکٹر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوجاری رکھیں گے، پنشن پانچ فیصد بڑھائی باقی پانچ اپریل میں بڑھائی تھی تو انہیں دس فیصد پنشن ملے گی، مسلم لیگ ن جانتی ہے اس بار چالیس فیصد اضافے سے خواتین کو بااختیار پروگرام کو شروع کریں گے، ن لیگ کا لگایا ہوا سیف سٹی اور امن و امان کا انفراسٹرکچر تھا اسے ختم کرو تو ایسی ذہنیت کو ختم کرناہوگا،
    الیکشن تک ہمیں بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں ڈویلپمنٹ ساڑھے تین سو ارب روپے زیادہ ہوتا اگر ہم پر قرض نہ ہوتا، ڈیڑھ سال میں حکومت ثابت کرے گی امن و امان بہتر اور عوام کو ریلیف دے کر جائیں گے

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ڈویلپمنٹ کا کمیشن اور حرام کا پیسہ نہیں کھائیں گے اوس حج سکینڈلز کو ختم کریں گے، وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی سربراہی میں کام کریں گے اور کوئی کرپشن کا کیس سامنے نہیں آئے گا، کسانوں کو بیس ارب روپے سے زائد قرضے دے گی، نیک نیتی سے چلنے کا وعدہ کرتے ہیں اتحادیوں سے مل کر پنجاب کی ترقی کے سفر کو جاری رکھیں گے، ڈیڑھ سال سے بزدار اور پی ٹی آئی کے پنجاب سے مختلف پنجاب قوم کے سامنے لائیں گے.

    پنجاب اسمبلی میں بجٹ 2022-23کی منظوری کا آغاز ہو گیا.حکومت نے 27 کھرب 11ارب 67کروڑ 23لاکھ 26 ہزار روپے کے چالیس مطالبات زر منظور کر لئے گئے، حکومت نے امن و امان اور پولیس کےلئے ایک کھرب 49ارب ایک کروڑ89 لاکھ 78ہزار روپے منظور کرلئے، حکومت نے تعلیم کےلئے 81ارب50کروڑ 62 لاکھ 52ہزار منظور کرلئے جبکہ صحت کے شعبے کےلئے ایک کھرب 83ارب64کروڑ 4لاکھ 46ہزارروپے کی مد میں منظور کرلئے،زراعت کےلئے 20ارب 4 کروڑ42لاکھ72ہزار روپے منظور کرلئے گئے، محکمہ آبپاشی کےلئے 24ارب 91کروڑ 64لاکھ 82ہزار روپے منظور کئے گئے، جیل خانہ کےلئے 13ارب79کروڑ37لاکھ44ہزار روپے منظور، مواصلات کےلئے 8ارب95کروڑ87لاکھ24ہزار روپے منظور کیے گئے.

    سڑکوں اور پلوں کیُ تعمیر کےلئے ایک کھرب ایک ارب 77کروڑ 30 لاکھ روپے منظور کرلئے گئے۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پنشن کی مد میں 3کھرب12ارب روپے منظور کئے گئے، سبسڈیز کےلئے 42ارب 63کروڑ96لاکھ65ہزار روپے مختص کئے گئے، نظام عدل کےلئے 28ارب13کروڑ97لاکھ14ہزار روپے منظور کئے گئے،جنگلات کےلئے 4ارب 88کروڑ28لاکھ 28 ہزار روپے منظور کرلئے گئے.سرمایہ کاری کےلئے 55ارب55کروڑ51لاکھ 17 ہزار روپے منظور کئے گئے، صنعت کے شعبے کےلئے 11ارب 45 کروڑ73لاکھ71ہزار روپے مختص کئے گئے.

    پریس کلب کی گرانٹ روکنے اور جرنلسٹ ہاوسنگ کالونی میں قبضوں کے خلاف صحافیوں نے پریس گیلری سے ٹوکن واک آوٹ کر دیا پینل آف چیئرمین نے صحافیوں سے مزاکرات کیلئے خواجہ عمران نزیر ، مجتبیٰ شجاع الرحمن پر مشتمل تین رکنی قائم کردی

  • ضمنی انتخابات، پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ن لیگ کی حمایت کا اعلان

    ضمنی انتخابات، پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ن لیگ کی حمایت کا اعلان

    ضمنی انتخابات، پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ن لیگ کی حمایت کا اعلان

    پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی سے متعلق آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پی ٹی آئی کی ایم پی اے زینب عمیر نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ گورنر نے 14 جون کواسمبلی کے اختیارات کے حوالے سے آرڈیننس جاری کیا،آرڈیننس سے سیکریٹری اسمبلی کے اختیارات محدود کر دیئے گئے،اجلاس نوٹیفائی، ڈی نوٹیفائی کرنے کا اختیار سیکریٹری قانون کو دیدیاگیا،گورنرکاجاری کردہ اختیار رولزآف اسمبلی سے متصادم ہے اورآئین کے خلاف ہے، ایوان اقبال میں بلائے گئے اجلاس کو غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دیا جائے

    واضح رہے کہ گورنر پنجاب کی جانب سے سیکریٹری پنجاب اسمبلی کے اختیارات محکمہ قانون کے سپرد کر دیئے گئے ہیں جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے اختیارات کو بھی کم کیا گیا ہے

    دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت ، وزیر داخلہ عطا ءاللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ملکر ساتھ چلنے سے جمہوریت مضبوط ہوگی،پیپلزپارٹی نےضمنی انتخاب میں ن لیگ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے پی ٹی آئی حکومت کو گھر بھجوانے میں آصف زرداری کا اہم کردار ہے،عمران خان لوگوں کو احتجاج کی کال دیکر خود گھر میں بیٹھ گئے،آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دیں گے پیپلزپارٹی نےضمنی الیکشن میں ہماری سپورٹ کا اعلان کیا ہے، ضمنی الیکشن میں سپورٹ کے اعلان پر پیپلزپارٹی کےمشکورہیں ضمنی الیکشن پی ٹی آئی کیلئےمشکل مرحلہ ہوگا،پیپلزپارٹی کے امیدوارکاغذات نامزدگی واپس لیں گے موجودہ حکومت مشترکہ ہے،کسی ایک جماعت کی نہیں،

    پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی وجہ عمران خان ہے،

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم

    عدلیہ کی غیر متعلقہ حدود میں مداخلت شرمندگی کا باعث بنتی ہے،سپریم کورٹ

    عدلیہ کے خلاف نازیبا اور توہین امیز ریمارکس،سینئر اینکر پرسن بارے عدالت کا بڑا حکم

  • پنجاب میں سرکاری افسران کے تقرر و تبادلے

    پنجاب میں سرکاری افسران کے تقرر و تبادلے

    لاہور: پنجاب میں سرکاری افسران کے تقرر و تبادلے کئے گئے-

    باغی ٹی وی : عارف عمر عزیز ایڈیشنل کمشنر کنسولیڈیشن گوجرانوالہ تعینات ہوئے ،نعمان حفیظ کی بطورڈائریکٹر ڈیویلپمنٹ اینڈ فنانس گوجرانوالہ میں تعیناتی ہوئی-

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

    ذوہیب مشتاق کو محکمہ سروسز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ عمر فاروق ڈپٹی سیکریٹری ڈیویلپمنٹ ٹرانسپورٹ پنجاب تعینات ہوئے –

    گریڈ22کے ریٹائرڈ افسر خالد مسعود 3سال کیلئے ممبر پنجاب پبلک سروس کمیشن تعینات ہوئے جبکہ گریڈ22کے ریٹائرڈ افسر محمد عرفان تارڑ 3سال کیلئے ممبر پنجاب پبلک سروس کمیشن تعینات ہوئے-

    بلوچستان کےآئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیاجائے گا

    گریڈ21کے ریٹائرڈ افسر محمد صالح طاہر 3سال کیلئے ممبر پنجاب پبلک سروس کمیشن تعینات ہوئے علاوہ ازیں گریڈ22کے افسر ڈاکٹر راشد منصور 3سال کیلئے ممبر پنجاب پبلک سروس کمیشن تعینات ہوئے-

  • اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مارکیٹوں سے متعلق دفعہ 144 کےتحت پابندیوں کا اطلاق

    اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مارکیٹوں سے متعلق دفعہ 144 کےتحت پابندیوں کا اطلاق

    بجلی کی بچت کیلئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مارکیٹوں اور تجارتی مراکز سے متعلق دفعہ 144 کےتحت پابندیوں کا اطلاق ہوگیا ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :گورنر پنجاب نے کا روباری مراکز جلد بند کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ہول سیل اور پرچون کی دکانیں، شاپنگ مالز، بیکریاں، دفاتر، اسٹور رومز، گودام، ویئرہاؤسز رات 9 بجے بند ہوجائیں گے شادی ہالز، شادی کی تقریبات، لائٹنگ 10 بجےتک بند کی جائیں گی-

    پنجاب بھر میں مارکیٹیں، بازاررات 9 بجے بند کرنا ہوں گے،حمزہ شہباز

    نوٹیفکیشن کے مطابق سینما ہالزاورتھیٹر بھی رات ساڑھے گیارہ بجےکے بعد نہیں کھولے جاسکتے کمرشل اور انڈسٹریل عمارتیں، ریسٹو رنٹس، کلب، تندور، کیفے بھی رات ساڑھے گیارہ بجے بند کرنا ہوں گے۔ سیرو تفریح کے تمام مقامات بھی ساڑھے گیارہ بجے کے بعد نہیں کھولے جاسکتے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق ہفتے کو کاروباری مراکز ساری رات کھولے جاسکیں گے۔ جمعہ یا اتوار میں سے ایک دن کاروبار مکمل بند رکھنا ہوگا ایمبولینس سروس، طبی مراکز، پیٹرول پمپ اور بس اڈے پابندی سےمستثنیٰ ہوں گے، تندور، دودھ دہی کی دکان اور سبزی منڈی کو بھی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

    دوسر جانب تاجروں نے مارکیٹوں کی جلد بندش کا فیصلہ مسترد کر دیا۔ صدر انجمن تاجران پاکستان خالد پرویز نے کہا کہ دکانیں جلد بند کرنے کا فیصلہ عوام دشمن ہے کاروبار پہلے ہی تباہ حالی کا شکار ہیں، بازارجلد بند کرنے کا فیصلہ عید تک مؤخر کیا جائےعید تک دکانیں رات دیر تک کھولنے کی اجازت دی جائےعید کے بعد جلد دکانیں بند کرنے کے حوالے سے مذاکرات کریں گے۔

    نیو جرسی: امریکی پاکستانی نے ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھال لیا

    اس حوالے سے تاجر رہنما اجمل بلوچ نے کہا کہ شام 8 بجے دکانیں بند کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں، تاجر کسی صورت اپنا کاروبار شام 8 بجے بند نہیں کریں گے، حکومت تاجر برادری کیلئے آسانیاں پیدا کرے نہ کہ مشکلات، ہر اس سیکٹر کی بجلی بند کریں جو مفت دی جارہی ہےحکمران اپنے اے سی بند کریں گے تو غریب کا پنکھا چلے گا، حکومت بجلی نہیں دےسکتی تو جنریٹیر چلا کر کام کرنے دے، اتنی شدید گرمی میں دن میں خریدار کا گھر سے نکلنا ممکن ہی نہیں، خریدار شام سے پہلے گھر سے خریداری کیلئے نہیں نکلتا،صبح دکانیں کھولنے کی تجویز بھی نا قابل عمل ہے۔

    سیکرٹری جنرل آل پاکستان انجمن تاجران نعیم میر کا کہنا ہے کہ حکومت فیصلے تھوپنے کے بجائے ہم سے مشاورت کرے، حکومت تاجر نمائندوں، پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی مشترکہ کمیٹیاں بنائے، حکومت کےساتھ مشروط تعاون کرنے کو تیار ہیں۔

    ملک بھر کے مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے تیز بارش،بلوچستان میں سیلابی صورتحال

  • بجلی کی بچت: پنجاب میں بھی رات 9 بجے مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ

    بجلی کی بچت: پنجاب میں بھی رات 9 بجے مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ

    سندھ کے بعد پنجاب میں بھی رات 9 بجے مارکیٹیں بند کردی جائیں گی-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق پنجاب میں بھی بجلی بچت پلان پر عمل کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے حکومت نے تاجر تنظیموں اور چیمبرز سے مشاورت مکمل کرلی ہے، اگلے ہفتے سے پنجاب میں بجلی بچت پلان پر عمل کرانےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت کے حکم کی خلاف ورزی، کلفٹن میں 4 ریسٹورینٹس سیل

    ذرائع کے مطابق پنجاب میں بھی رات 9 بجےمارکیٹیں بندکردی جائیں گی، پہلےمرحلے میں یہ پابندی 2 ماہ کےلیےلگائی جائےگی، ریسٹور ینٹس بھی جلد بندکرنےکی تجویز پر غور جاری ہے۔

    صدر لاہور چیمبر نعمان کبیرکا کہنا ہےکہ قومی مفاد کے فیصلوں پر ساتھ ہیں، بچت پلان پر عمل سے بجلی اور پیٹرول کی بچت ہوگی۔

    واضح رہےکہ گزشتہ روز محکمہ داخلہ سندھ نے تمام بازار، مارکیٹیں، شاپنگ مال اور دکانیں رات 9 بجے بند کرنےکا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا تمام شادی ہال، بینکوئٹ میں شادی اور دیگر تقاریب رات 10:30 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ تمام ہوٹل، کافی شاپ اور کیفے را ت 11 بجے بند کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا-

    ملک کے بیشترعلاقوں میں بارش اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

    میڈیکل اسٹور، اسپتال، پیٹرول پمپ،سی این جی اسٹیشن، بیکریز اور دودھ کی دکانوں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے نوٹیفکیشن میں کہنا تھا کہ حکومت نےتوانائی بحران سے نمٹنےکے لیے کاروباری اوقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نئے کاروباری اوقات کا اطلاق فوری ہوگا جب کہ یہ فیصلہ ایک مہینے کے لیے کیا گیا ہے۔

    لانگ مارچ کیس:پی ٹی آئی کے 9 رہنماؤں کی عبوری ضمانتیں منظور

  • پنجاب حکومت اور سر مائیکل باربرکا پارنٹر شپ بحال کرنے پر اتفاق

    پنجاب حکومت اور سر مائیکل باربرکا پارنٹر شپ بحال کرنے پر اتفاق

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا سستے آٹے کے بعد عوام کو سستے داموں کچن آئیٹمز کی فراہمی کیلئے سرگرم

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ3 روز کے اندر پلان آف ایکشن پیش کیا جائے
    مہنگائی کے باعث عام آدمی کی مشکلات کا ادراک ہے۔ میری اولین ترجیح ہے کہ عام آدمی پر معاشی بوجھ کم کیا جا سکے۔ سبزیوں کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کیلئے ہر ضلع میں باقاعدگی سے فیلڈ وزٹ کئے جائیں۔

    حمزہ شہبازنے ڈپٹی کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ کی مقرر کردہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنائیں۔وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا کہ کی ڈپٹی کمشنرز کو منڈیوں میں نیلامی کے عمل کو خود مانیٹر کریں، فیلڈ وزٹ کا مستند ڈیٹا ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ ہونا چاہیئے۔ فیلڈ وزٹ اور دیگر متعلقہ ڈیٹا میں مطابقت ہونی چاہیئے۔ پرائس کنٹرول کے حوالے سے فیلڈ وزٹ نہ کرنے والے افسروں کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔

    حمزہ شہبازنے کہا کہ پرائس کنٹرول کے حوالے سے ہر اقدام کی خود مانیٹرنگ کر رہا ہوں۔سستے آٹے کی فراہمی پر 200 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، اس کی ایک ایک پائی عام آدمی تک پہنچنی چاہیئے۔ سستے آٹے کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔آٹے کی گندم کی سمگلنگ روکنے کیلئے پنجاب کے خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت پرائس کنٹرول کے حوالے سے خصوصی اجلاس معقد ہوا،اجلاس میں سردار اویس احمد خان لغاری، بلال یاسین، ذیشان رفیق، پولیٹیکل اسسٹنٹس، چیف سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی جبکہ کمشنرز اورڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے.

    علاوہ ازیں وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف صوبے میں تعلیم وصحت کی سہولتوں اور کریمنل جسٹس سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے بھی سرگرم عمل ہیں،وزیر اعلی حمزہ شہباز کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا، ڈلیوری ایسوسی ایٹس کے چئیرمین سر مائیکل باربر اور برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی.

    پنجاب حکومت اور سر مائیکل باربر نے پارنٹر شپ بحال کرنے پر اتفاق کیا. سر مائیکل باربر تعلیم، صحت اور کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کے لیے ایک بار پھر پنجاب حکومت سے تعاون کریں گے .مشترکہ ٹیم آئندہ کا لائحہ عمل کے لئے سفارشات تیار کرے گی،جامع روڈمیپ تیار کرکے تیزی سے آگے بڑھا جائے گا

    سر مائیکل باربر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بے پناہ کام ہوا۔پنجاب حکومت کی اب بھی ہر ممکن معاونت کرینگے.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ سر مائیکل باربر کے ساتھ مل کر اپنجاب کے عوام کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتیں فراہم کریں گے۔ سر مائیکل باربر کے تجربے سے استفادہ کرکے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم روڈمیپ کے ذریعے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے گا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ سر مائیکل باربر نے وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں شاندار اصلاحات متعارف کرائیں۔ اب بھی سر مائیکل باربر کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے اور عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لائیں گے۔وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے سر مائیکل باربر کی مسلم لیگ ن کے سابق دور میں تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی بہتری کے لئے گراں قدر خدمات کو سراہا .برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنرنےپنجاب حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی.

    اجلاس میں خواجہ سلمان رفیق، رانا مشہور احمد، چیف سیکرٹری، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز، علی رضا اور متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی.

  • اب سیاست پنجاب بیٹھ کر کروں گا،آصف زرداری

    اب سیاست پنجاب بیٹھ کر کروں گا،آصف زرداری

    پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ اب پنجاب میں بیٹھ کر سیاست کریں گے.

    سابق صدر آصف زرداری نے بلاول ہاؤس لاہور میں پیپلزپارٹی لاہور ڈسٹرکٹ 1 اور پیپلزپارٹی لاہور ڈسٹرکٹ 2 کے کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی اور قومی سیاست میں ہمیں بات چیت کرنی پڑتی ہے اور اس بات چیت کے دوران سامنے والے کے ردعمل سے اندازہ لگا کر صحیح فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میں اب پنجاب میں بیٹھ کر سیاست کروں گا اور پنجاب میں پارٹی کو کارکنوں کے ساتھ مل جل کر کھڑا کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کی طویل جدوجہد ہے ۔ پنجاب کی نئی حکومت سے پارٹی کے لوگوں کی توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کروائی جائے گی۔

    اجلاس میں رانا فاروق سعید، ثمینہ خالد گھُرکی، اسلم گل، شاہد عباس،احمد رضا اور اسرار بٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں شہزاد سعید چیمہ ، حاجی عزیزالرحمن چن، فیصل میر ، جمیل منج اور افنان بٹ بھی موجود تھے۔

    آصف زرداری ان دنوں لاہور میں موجود ہیں اور لاہور سے پارٹی کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں ،آصف زرداری نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا اور پنجاب کے سیاسی معاملات پر مشاورت بھی کی .

    بلاول ہاوس لاہور میں سابق صدر آصف زرداری اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہبازکے درمیان ملاقات میں ضمنی الیکشن مل کر لڑنے پر اتفاق کیا گیا تھا.علاوہ ازیں سابق صدر آصف زرداری اپنے لاہور قیام کے دوران مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے گھر بھی گئے اور ان کی خیریت دریافت کی تاہم دونوں رہنماوں نے ملک کی سیاسی صورتحال پر مشاورت بھی کی ،اس موقع پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین پلک کا آثاثہ ہیں،جبکہ شجاعت حسین کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ حکومت کے اتحادی ہیں اور رہیں گے.

  • پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس شروع ہو گیا.جبکہ دوسری طرف ایوان اقبال میں بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 12 منٹ کی تاخیر سے شروع ہو گیا.اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کر رہے ہیں .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف بھی ایوان اقبال پہنچ گئے ہیں .قبل ازیں گورنر پیجاب نے 40 واں اجلاس برخواست کر دیا تھا اور 41 واں اجلاس ایوان اقبال میں منعقد کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا .

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کا طلب کردہ اجلاس 1 گھنٹہ 41 منٹ کی تاخیر سے پنجاب اسمبلی میں شروع ہوا جس میں تحریکِ انصاف اور ق لیگ کے ارکان نے شرکت کی۔تاہم کوئی بھی حکومتی رکنِ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔

    ایوان اقبال میں گورنر پنجاب کی جانب سے بلائے گئے بجٹ اجلاس صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ چوردروازے سے آنے والوں کےعزائم ناکام ہوئے، سابق دورمیں صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیزنہیں تھی،عوام نے شہبازشریف سے متحرک لیڈر نہیں دیکھا، سفاک حکمرانوں نے عوام کے ساڑھے 3سال ضائع کیے، گزشتہ حکومت نے کرپشن کے ریکارڈقائم کیے،3سال میں کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیاگیا،(ن) لیگ کے دور میں ترقی کی شرح بڑھ رہی تھی ،چوربازاری سےآنےوالےشعبدہ بازوں کو(ن)لیگ نےناکام بنادیا، سی پیک کےتحت 51ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی،ا ہم نے گزرنے والے کل کوبدلا، آنے والاکل بھی بدلیں گے، توانائی کا مسئلہ تمام مسائل کی جڑہے، مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا تھا،متعدد توانائی منصوبے(ن)لیگ کے دورمیں لگائے گئے، گزشتہ حکومت نےاسپتالوں میں مفت ادویات کانظام لپیٹ دیا،مسلم لیگ کےصحت کارڈ کوانصاف صحت پروگرام کانام دیا گیا.
    وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنجاب حکومت کا مالی سال برائے 2022-23 کا میزانیہ 3226 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ بجٹ کا میزانیہ ٹیکس فری ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فی صد اضافہ، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 15 فی صد اضافے کی تجویز ہے۔ مقامی حکومتوں کے لئے 528 ارب روپے، ترقیاتی اخراجات کے لئے 685 ارب روپے، تنخواہوں کے لئے 435 ارب روپے ، پینشن کے لئے 312 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    بجٹ میں سرکاری ملازمین کےلیے مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا۔ گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرت 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے۔

    آمدن کا تخمینہ 2521 ارب روپے لگایا جا رہا ہے، جس میں وفاقی محاصل سے 2020 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے اور صوبائی محصولات کا تخمینہ 500 ارب روپے ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 24 فی صد اضافے سے 163 ارب روپے، ایکسائز کے محاصل کی وصولی کے اہداف 2 فی صد اضافے سے 43 ارب روپے، بورڈ آف ریونیو کے محاصل 44 فی صد اضافے کے ساتھ 96 ارب روپے، پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فی صد اضافے سے 190 ارب روپے مقرر ہے۔

    آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں، 312 ارب روپے پنشن، 528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لیے مختص کئے گئے ہیں ۔ 685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں۔ شعبہ صحت پر 10 فیصد اضافے کے ساتھ 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تعلیم پر 428 ارب 56 کروڑ روپے صحت کارڈ کے لئے 125 ارب رکھے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکیج کے تحت 200 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ 650 روپے والا 10 کلو آٹے کا تھیلہ اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز میں ٹیکس ریلیف کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔ رحمت اللعالمین پروگرام کے تحت تعلیمی وظائف کے لیے 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لئے 239 ارب 79 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا.
    پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان نے کثیر تعداد میں شرکت کی.اس موقع پر حمزہ شہباز نے کہا کہ3 ماہ سے چند انا پرست لوگوں کے پیدا کردہ بحران سے گزر رہے ہیں۔غیر یقینی صورتحال میں صوبے نہیں چل سکتے، 3 دن سے بجٹ نہیں پیش کرسکے۔آئین اور قانون کے رکھوالوں کو غنڈوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لوگ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دیتے تو صوبہ بنینا ری پبلک بن جاتا۔

    حمزہ شہبازنے کہا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران وردی میں ملبوس افسروں کو ٹھڈے اور مکے مارے گئے۔سب جانتے ہیں کہ ایوان میں غنڈے کس طرح ڈپٹی سپیکر کی طرف لپکے تھے۔احتجاج کے دوران شہید پولیس اہلکار بیٹے کی سسکیاں دل چیر دیتی ہیں۔چار سال سے ایک پائی کی کرپشن یا منی لانڈرنگ ثابت نہیں کرسکے۔ضمانت کیس میں کرپشن کا ثبوت نہ ملنے کا فیصلے میں بھی ذکر کیا گیا۔عوام کی سہولت کیلئے ریلیف والا بجٹ دینے جا رہے ہیں۔حمزہ شہباز
    ارکان اسمبلی بجٹ اجلاس میں حاضری یقینی بنا کر اپنا حق ادا کریں۔

    صوبائی وزیر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ مصالحت کی ہرممکن کوشش کی گئی، بچگانہ حرکتوں سے بجٹ زیر التوا رکھا گیا۔ایسے شخص سے مقابلہ ہے جو واضح ہار بھی ماننے کو تیار نہیں۔آئینی اور قانونی طور پر گورنر کو اجلاس کے وقت اور مقام کا تعین کرنے کا اختیار ہے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے اختتام پر دعائے خیر بھی کی گئی

    پرویز الہٰی کے طلب کردہ اسمبلی کے اجلاس میں عطاء تارڑ کے خلاف متفقہ طور پر تحریکِ استحقاق منظورکر لی گئی۔ تحریکِ استحقاق پی ٹی آئی رکنِ اسمبلی ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں جمع کرائی۔ تحریکِ استحقاق کے متن کے مطابق صوبائی وزیر عطاء اللّٰہ تارڑ نے ایوان میں نازیبا اشارہ کیا، خواتین کی موجودگی میں ایوان کے اندر غلط اشارے کیے گئے۔

    پی ٹی آئی کی رکن ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عطاء تارڑ کے نازیبا اشارے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہاتھ میں آئینِ پاکستان کی کتاب، دوسرے سے اشارہ ناقابلِ برداشت ہے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    ڈاکٹر مراد راس نے اپیل کی کہ مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعا کرنی چاہیے، اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت میں جگہ دے۔ پنجاب اسمبلی میں مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

    اسپیکر کے حکم پر سیکریٹری پارلیمانی امور عنایت اللّٰہ لک نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا۔ پینل آف چیئرمین میں نوابزادہ وسیم خان باروزئی، میاں شفیع محمد، ساجد احمد خان بھٹی اور شازیہ عابد شامل ہیں۔

    پنجاب اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے میاں محمودالرشید نے عطاء تارڑ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سوچ کے لوگوں کا وزیر بننا لمحۂ فکریہ ہے، وکلاء برداری ان کا لائسنس منسوخ کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریکِ استحقاق کو فوری کمیٹی کے سپرد کریں، ایسے افراد کے ایوان میں آنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگائی جائے۔

    ایوان میں پی ٹی آئی رکن میاں اسلم اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے اور میرے بھائیوں کے خلاف پرچے کاٹنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، عطاء تارڑ کی حرکت سے پوری قوم کا استحقاق مجروح ہوا۔

    سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی اسمبلی پہنچ گئے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اجلاس چل رہا ہو تو آرڈیننس پیش نہیں ہو سکتا، ابھی پہنچا ہوں، دیکھنا پڑے گا کہ اسمبلی کے اختیارات کیسے محدود کیے گئے۔اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے اپنا طلب کردہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی کر دیا۔

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کا اسمبلی اجلاس ایوان اقبال میں ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید پنجاب حکومت نے اسمبلی کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے ایوان اقبال میں یہ اجلاس بلایا ہے،ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی بلڈنگ والے اجلاس میں جائیں اور اپنے اختیارات کا تحفظ کریں، آجکل سیاست تماش بینوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے، ڈر ہے کہ تماش بین ملک کا تماشہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اسمبلی اجلاس تماش بینوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائے،کیونکہ تماشبین اپنا تماشہ لگا رہے ہیں وہ قوم کو تماشہ نہ بنائیں.