Baaghi TV

Tag: پولیس

  • پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی

    پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی

    6 روز بعد موٹروے پر ٹریفک بحال ہو گئی جب پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد پولیس نے پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) کو ٹریفک کے لیے کھول دیا-

    صوابی پولیس کی ایک ٹیم صوابی انبار انٹرچینج پہنچی اور مظاہرین کو ہائیکورٹ کے حکم سے آگاہ کیا پولیس حکام کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز نے ایم ون موٹروے پر صوابی کے مقام پر دھرنا دے کر موٹروے بند کر رکھی تھی،جس وقت پولیس ٹیم پہنچی، اس وقت ورکرز کی تعداد انتہائی کم تھی، اور پولیس نے ورکرز کو ہٹا کر موٹروے کھول دی، جس کے بعد 6 روز بعد ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔

    پولیس کے مطابق موٹروے کھولنے کی کارروائی کے دوران پی ٹی آئی ورکرز نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی اور پرامن رہے جبکہ پولیس نے موٹروے پر رکھی گئی تمام رکاوٹیں ہٹا کر ٹریفک کو بحال کردیا مظاہرین اس وقت بھی موٹروے کے صوابی ریسٹ ایریا پر موجود ہیں، تاہم ان کی تعداد کم ہے اس وقت موٹروے مکمل طور پر ٹریفک کے لیے بحال ہے اور پولیس ٹیم نگرانی کر رہی ہے۔

    لاہور: فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبہ نے چھت سے کود کر خودکشی کرلی

    گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ میں روڈ بندش کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے پولیس اور صوبائی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیےکہ حکومت روڈ کھولنے کے حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے سماعت کے دوران چیف سیکریٹری اور آئی جی عدالت میں پیش ہوئے، اور ہائیکورٹ نے کارروائی کرنے اور روڈ کھولنے کا حکم دیا-

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟

    واضح رہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپوزیشن اتحاد نے احتجاج کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی خیبر پختونخوا نے جمعے سے صوبے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر دھرنے دے رکھے ہیں پی ٹی آئی کے مطابق اس وقت بھی دھرنا جاری ہےڈی آئی خان سے کوہستان تک دھرنے ہو رہے ہیں، جبکہ احتجاج ختم کرنے کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔

    سدھارتھ ملہوترا کے والدانتقال کر گئے

  • ڈی آئی خان:دہشتگردوں کا کسٹمز آفس پر حملہ، 2 اہلکار شہید 2 زخمی

    ڈی آئی خان:دہشتگردوں کا کسٹمز آفس پر حملہ، 2 اہلکار شہید 2 زخمی

    ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم دہشت گردوں نے کسٹم آفس اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید جبکہ دو زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق شہید ہونے والوں میں کسٹم اہلکار اسرار خان اور پولیس اہلکار محمد بلال شامل ہیں ، زخمیوں میں عمر اور خیال محمد شامل ہیں جنہیں فوری طور پر ڈی ایچ کیو ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے، شہید اہلکاروں کی لاشیں بھی ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق حملہ آوروں نے سی پیک روٹ پر چلنے والی مسافر بسوں پر بھی فائرنگ کی اس کے علاوہ دہشت گردوں نے کسٹم کی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی جس سے سرکاری املاک کو نقصان پہنچا ، جوابی کارروائی کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئےواقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیاعلاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملے میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔

    کوئٹہ میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 8 دہشتگرد ہلاک

    آمد رمضان پر شہریوں کی ضلعی انتظامیہ سے سخت اپیل

    
جسٹس انعام امین منہاس کی نجف حمید کی ضمانت بحالی کیس سننے سے معذرت

  • بنوں :پولیس تھانے کے باہر بم دھماکا، بچے سمیت 2 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    بنوں :پولیس تھانے کے باہر بم دھماکا، بچے سمیت 2 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    بنوں میں تھانہ میریان کے مرکزی گیٹ کے باہر بارود سے بھری گاڑی اور موٹر سائیکل میں نصب آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں بچے سمیت 2 افراد جاں بحق جبکہ کم از کم 20 افراد زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق دہشتگردوں نے بارود سے بھرا زرنج رکشہ تھانے کے مین گیٹ سے ٹکرایا، جبکہ ایک موٹر سائیکل میں بھی آئی ای ڈی نصب کی گئی تھی جو قریبی دکانوں کے سامنے کھڑی تھی،دھماکے کے وقت تھانے کے باہر دکانیں موجود تھیں جس کے باعث شہری نشانہ بنے۔

    ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کے مطابق آئی ای ڈی دھماکے میں پولیس اہلکار محفوظ رہے تاہم بچے سمیت دو افراد جان کی بازی ہار گئے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھار ی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث عناصر کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔

  • راولپنڈی: نجی کالج کے قریب 35 سالہ خاتون کی لاش برآمد

    راولپنڈی: نجی کالج کے قریب 35 سالہ خاتون کی لاش برآمد

    اولپنڈی:تھانہ گوجرخان کے علاقے میں نجی کالج کے قریب سڑک سے 35 سالہ خاتون کی لاش ملی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق خاتون کی تاحال شناخت میں نہیں ہو سکی اور بظاہر جسم پر زخم کا نشان بھی نہیں، پولیس اور فرانزک ماہرین موقع پر پہنچ گئے،ایس ایچ او طیب ظہیر بیگ کے مطابق شواہد اکھٹے کرکے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔

    نوشہرو فیروز میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق

    کراچی میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، فتنہ الہندوستان کے تین دہشت گرد گرفتار

    قصور میں شدید دھند،ٹریفک حادثہ میں بہن جانبحق ،بھائی شدید زخمی

  • نوشہرو فیروز میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق

    نوشہرو فیروز میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق

    نوشہرو فیروز کے قریب قومی شاہراہ پر تیز رفتار کار اور ٹریلر کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں کار میں سوار چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق سولنگی برادری سے بتایا جا رہا ہے حادثے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ ٹریلر سڑک کے کنارے جا رکا، مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کیں اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دی۔

    ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاشوں کو گاڑی سے نکال کر ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس کے ذریعے نوشہرو فیروز کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا اسپتال ذرائع کے مطابق تمام افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد لاڑکانہ سے کراچی جا رہے تھے حادثے کے بعد کچھ دیر کے لیے قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جسے پولیس کی مدد سے بحال کر دیا گیا۔

    پولیس نے ٹریلر کو تحویل میں لے کر ڈرائیور سے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں،حکام کے مطابق ابتدائی طور پر تیز رفتاری کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔

  • بھائی اور بہن نے مل کر باپ کو قتل کر دیا

    بھائی اور بہن نے مل کر باپ کو قتل کر دیا

    جھنگ میں بہن اور بھائی نے مل کر باپ کو قتل کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق جھنگ کے علاقے ماڑی بلوچاں میں بھائی بہن نے مل کر باپ کو قتل کر دیا15 سالہ فرخ نے 13 سالہ بہن کے ساتھ مل کر باپ کو قتل کرکے لاش صحن میں دفنا دی ملزموں کی نشاندہی پر آلہ قتل کلہاڑی گھر کی چھت سے برآمد ہوئی۔

    ملزم بہن بھائی سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے مقتول کی اپنی بیوی سے علیحدگی ہو چکی تھی ملزم بیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول باپ مجھے جنسی زیاد تی کا نشانہ بناتا تھا اور تشدد بھی کرتا تھا جب اپنے بھائی کو اس بارے میں بتایا تو اس نے باپ کو قتل کر دیا۔

    دوسری جانب گوجرانوالہ کے علاقے لدھے والا وڑائچ میں بیوی کے مبینہ آشنا نے فائرنگ کر کے اس کے خاوند کو قتل کر دیا،پولیس کے مطابق ملزم عثمان نے مقتول علی رضا کو گھر سے باہر بلایا اور فائرنگ کر کے اسے موقع پر ہی قتل کر دیا اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتول نے ملزم کو اپنی بیوی کو فون پر تنگ کرنے اور ہراساں کرنے سے منع کیا تھا، جس پر ملزم نے مبینہ طور پر رنجش رکھ لی،واقعے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا لدھے والا وڑائچ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں،ملزم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

  • سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج،  جماعت اسلامی کیخلاف مقدمہ درج

    سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج، جماعت اسلامی کیخلاف مقدمہ درج

    کراچی:جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہراحتجاج دھرنے اورہنگامہ آرائی کے خلاف آرام باغ تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق مقدمہ 34 نامزد ملزمان سمیت 325 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا سرکارمدعیت میں مقدمے میں ہنگامہ آرائی ، توڑ پھوڑ،سڑک بند کرنے،کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اورانسداد دہشت گردی سمیت دیگردفعات کے تحت درج کرلیا گیا۔

    احتجاجی دھرنے کے دوران پولیس ایکشن کے دوران جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس افسران و ملازمان زخمی بھی ہوئے۔

    مقدمے متن کے مطابق جماعت اسلامی کی سینئیر قیادت صفیان دیلا،عثمان شریف ، فیضان ،جواد شعیب اوردیگرنامعلوم سینیئرقیادت دھرنے اوراحتجاج کی سرپرستی کررہے تھےاوراپنی تقریروں کے ذریعے اشتعال پھیلاتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے۔

    احتجاج میں 300 سے 325 افراد شامل تھے دوران تقریراوردھرنے میں شامل افراد جو کہ ڈنڈوں ، لاٹھیوں اوراسلحہ سے مسلحہ ہوکراچانک مشتعل ہوگئے بلوا اورہنگامہ آرائی پراترآئے اورپولیس پرحملہ بول دیا جس کے نتیجے میں انسپکٹر راجہ مسعود،ایس ایچ او پریڈی ایوب میرانی ،ایس ایچ او انسپکٹر شاہ فیصل خان ، پو لیس کانسٹیبل زوہیب زخمی ہوئے۔

    متن کے مطابق مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اینٹی رائٹ کا استعمال کیا گیا اورمیگا فون کے ذریعے اعلانات کیے گئے کہ ہنگامہ آرائی نہ کریں اور منتشرہوجائیں لیکن ہجوم مشتعل رہااس کے بعد گیس شیلوں کے ذریعے ہجوم کومنشر کیا گیا۔ دوران ہنگامہ آرائی 30 افراد کوگرفتار کیا گیا جبکہ دیگر نامعلوم موقع پر سے فرار ہو گئے۔

    موقع پرسے 30 بور پستول کے 5 چلیدہ خون ، نائن ایم ایم پستول کے 5 چلیدہ خول ، 15 ڈنڈے ، مختلف سائز کے 35 پتھر،79گیس شیل کے خول پولیس قبضے میں لیے گئیے۔ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس موبائل کے شیشے ٹوٹ گئے جس سے گورئمنٹ پراپرٹی کو نقصان ہوا۔

  • طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں کا وین ڈرائیور پر شدید تشدد

    طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں کا وین ڈرائیور پر شدید تشدد

    بھکر کے نواحی علاقے برکت والا میں کالج طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں نے وین ڈرائیور پر شدید تشدد کیا۔

    پولیس کے مطابق چند اوباش افراد نے طالبات کو تنگ کرنے کی کوشش کی، جس پر وین ڈرائیور قاسم نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں منع کیا ڈرائیور کے روکنے پر ملزمان طیش میں آگئے اور اپنے دیگر ساتھیوں کو بلا کر قاسم پر تشدد کیا۔ بتایا گیا ہے کہ 4 افراد نے ڈرائیور کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے آدھ موا حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او بھکر شہزاد رفیق نے فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا –

    ڈی پی او شہزاد رفیق نے کہا ہے کہ خواتین اور بچیوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے اور اوباش عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا۔

  • نجی کمپنی کے مالک کی ساتھی کیساتھ مل کر ملازم حاملہ خاتون  سے اجتماعی زیادتی

    نجی کمپنی کے مالک کی ساتھی کیساتھ مل کر ملازم حاملہ خاتون سے اجتماعی زیادتی

    لاہور: کاہنہ میں حاملہ خاتون سے اجتماعی زیادتی پر کاہنہ پولیس نے 15 کال پر فوری کارروائی کرتے ہوئے زیادتی میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو جوہر ٹاؤن سے ٹریس کیا گیا مقدمے کی کارروائی کی نگرانی ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی خود کر رہی تھیں، متاثرہ خاتون سات ماہ کی حاملہ تھی اور نجی کٹرنگ کمپنی کے ساتھ بطور ویٹر منسلک تھی، کٹرنگ کمپنی کے مالک نے بہانے سے خاتون کو ڈیفنس روڈ پر واقع نجی سوسائٹی کے ایک گھر بلایا، جہاں اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    ایس پی ماڈل ٹاؤن کے مطابق ایک ملزم نے خاتون کو زیادتی سے منع کرنے پر تھپڑ بھی مارا واقعے پر تھانہ کاہنہ میں دفعہ 375A کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے گرفتار ملزمان عباس اور اعظم کو مزید تفتیش کے لیے جینڈر سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے، ایس پی شہربانو نقوی نے کہا کہ خواتین کا استحصال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کی پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔

    مریم نوازکی زیر صدارت اجلاس میں پولیس نظام میں بہتری، شفافیت اور عوام دوست رویے کو یقینی بنانے کے لیے شارٹ، مڈ اور لانگ ٹرم پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب بھر میں 14 ہزار باڈی کیمز اور 700 پینک بٹن نصب کیے جائیں گے جبکہ ہر پولیس اسٹیشن کے کم از کم 10 اہلکاروں کو باڈی کیم فراہم کئے جائیں گے۔

    وزیراعلیٰ نے باڈی کیمز کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دے دی، تھانوں کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے فوری ازالے کے لیے پینک بٹن نصب کیے جائیں گے۔

    حکومت نے انوسٹی گیشن کے عمل کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ، ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ سسٹم اور کاغذات و شناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرانے کا نظام متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، بریفنگ میں کہا گیا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس صرف پانچ سوالات کر سکے گی تاکہ تاخیر ختم ہو اور مجرم فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر شہری کو ”سر“ کہہ کر مخاطب کیا جائے اور کسی پولیس اہلکار کو سر یا جناب کے بغیر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے چھوٹی شکایات 2 سے 3 گھنٹوں میں حل کرنے، 80 منٹ کے رسپانس ٹائم کو یقینی بنانے اور سائلین کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کی تاکید کی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی جرائم میں 48 فیصد جبکہ بڑے جرائم میں 80 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، ساہیوال اور گجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کالز نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ پراپرٹی تنازعات میں کمی سے بھی جرائم میں کمی آئی ہے، ہر سال ایک کروڑ 68 لاکھ افراد تھانوں کا رخ کرتے ہیں جن میں سے 68 فیصد پولیس خدمت مراکز کی سروسز کے لیے آتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے عوام کو نہیں انہوں نے ہراسمنٹ کی شکایات پر توہین آمیز رویے کے خاتمے، خواتین کی حوصلہ افزائی اور غریب افراد کے اعتماد کی بحالی پر زور دیا۔

    مزید برآں، ٹریفک کو لین میں چلانے کی پابندی، ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کے آغاز، سٹیزن مینجمنٹ سسٹم اور ای ٹیگ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کا بھی اعلان کیا گیا، وزیراعلیٰ نے آئی جی اور سینئر افسران کو خود عوامی فیڈ بیک لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اوپر کی سطح پر کرپشن ہوگی تو اس کے اثرات تھانے تک جائیں گے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ عوام سے بڑا کوئی وی آئی پی نہیں، وی آئی پی موومنٹ کے نام پر شہریوں کی تذلیل برداشت نہیں کی جائے گی اگر ابھی اصلاحات نہ کیں تو پھر کبھی نہیں کر سکیں گے، قانون کو بلا امتیاز نافذ کرنے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، اب پولیس میں رویوں کی تبدیلی ناگزیر ہے