قصور
تھانہ صدر چونیاں کی بڑی کاروائی دکیٹ گینگ گرفتار
تفصیلات کے مطابق انسپیکٹر قاسم جاوید ایس ایچ او تھانہ صدر چونیاں نے کاروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کر لیا جن کے قبضے سے ناجائز اسلحہ اور نقدی رقم بھی برآمد ہوئی
ملزمان کے خلاف بجرم 395/13۔20۔65 کے تحت مقدمہ نمبر 209/19 درج کرکے کاروائی شروع کر دی
گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور امکان ہے کہ ان کے مذید ساتھیوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جائے گی اور ملزمان سے مذید بڑی وارداتوں کے انکشاف کی بھی توقع ہے
Tag: پولیس
-
تھانہ چونیاں صدر کی بڑی کاروائی
-
قصور پولیس میں تبادلے
قصور پولیس میں تقرریاں و تبادلے
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت نے تھانہ کوٹ رادھا کشن میں تعینات تمام ملازمین اور انچارج چوکی کو تبدیل کر دیا
جبکہ تنویر ASI چوکی انچارج بستی لال شاہ تعینات اے ایس آئی خالد بشیر انچارج چوکی بچڑ تعینات
کامران شہزاد چوکی انچارج سٹی کوٹ رادھا کشن تعینات
محمد شفیق محرر تھانہ کوٹ رادھا کشن تعینات
جبکہ باقی تمام ملازمین کو بھی کوٹ رادھا کشن سے تبادلہ کر کے مختلف تھانوں میں تعینات کر دیا گیا ہ -
پولیس لائزن آفیسر کی کامیابی
قصور گمشدہ بچہ قصور پولیس نے دھونڈ کر ورثاءکے حوالے کر دیا
تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں سے گزشتہ روز شعیب نامی بچہ لاپتہ ہو گیا جس کی گمشدگی کی درخواست اس کے والد نے تھانہ الہ آباد میں درج کروا دی
شعیب گھومتے پھرتے الہ آباد شہر میں پہنچ گیا جہاں لوگوں نے اس کی اطلاع پولیس کو دی تو تھانہ الہ آباد کی پولیس ہونے والے بچے شعیب کو پولیس ٹیم نے بچے سے پوچھ گچھ کے بعد اسے تھانہ چونیاں کے پولیس لائزن آفیسر سعید سندھو تک خود پہنچا دیا جہاں سے اس کے والدین اسے اپنے ساتھ لے گئے
شعیب کے والدین اور لوگوں نے پولیس تھانہ چونیاں اور پولیس تھانہ الہ آباد کا شکریہ ادا کیا -
قصور پولیس کی بڑی کاروائی
قصور
پولیس کی بڑی کاروائی منشیات فروش رنگے ہاتھوں گرفتار
تفصیلات کے مطابق تھانہ بی ڈویژن قصور کی چوکی بھسر پورہ کے چوکی انچارچ سید علی رضا گیلانی نے کاروائی کرتے ہوئے دو منشیات فروشوں فاروق اور عثمان کے قبضہ سے 1500 گرام چرس اور 100 لیٹر دیسی شراب برآمد کر لی
ملزمان کافی عرصے سے منشیات فروشی کا کام کر رہے تھے مگر ہر بار پولیس کو چکمہ دے کر نکل جاتے تھے ملزمان قصور کے علاوہ ملحقہ علاقوں میں بھی منشیات سپلائی کرتے تھے
اہلیان علاقہ نے قصور پولیس کے اس اقدام کی تعریف کی ہے -
غنڈہ پولیس اہلکار
قصور
الہ اباد پنجاب پولیس کا اہلکار خادم حسین تعینات چھانگا مانگا نے عوام کو لوٹنے کے نرالے طریقے ایجاد کر لیے
تفصیلات کے مطابق ماجد علی نے الہ اباد میں صحافیوں کو بتایا کہ خادم حسین جو کہ موضع جیتے کوٹ کا رہائشی ہے اور محکمہ پنجاب پولیس تھانہ چھانگا مانگا میں تعینات ہے نے بطور امانت 92 ہزار روپے دودھ دینے کے لئے وصول کیئے اور اب نہ ہی سائل کی رقم دیتا ہے اور نہ ہی دودھ اور الٹا ناجائز مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دے رہا ہے متاثرہ ماجد علی نے مزید بتایا کہ میں نے حصول انصاف کے لیے متعلقہ تھانہ میں درخواست دی ہوئی ہے -

پولیس اصلاحات کے مسودے پر ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئ !!! حجاب رندھاوا
پولیس اصلاحات کے مسودے پر ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئ
پنجاب میں سنئیر پولیس افسران نے دھمکی دی ہے کہ اگر نئی اصلاحات کے نام پر ضلعی پولیس کو ڈپٹی کمشنر کے مزید ماتحت کیا گیا تو وہ استعفی دے دیں گے پولیس کے مطابق بیوروکریسی پولیس کو کام ہی نہیں کرنے دیتی پولیس کے کاموں میں مداخلت کی جاتی ہے ،
پولیس اصلاحات میں بیورو کریسی کے پولیس میں عمل دخل پہ پولیس سروس آف پاکستان کے بھرپور احتجاج کے بعد، وزیراعلیٰ نے وزیر قانون راجہ بشارت کے ماتحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے اجلاس میں پولیس افسران اور بیوروکریسی آمنے سامنے آ گئ تلخ کلامی کے بعد افسران نے نوکریا ں چھوڑنے کی دھمکیاں بھی دیدیں۔ اجلاس میں صوبائی وزرا دونوں گروپوں کے افسروں میں صلح کروانے کی کوشش کرتے رہے ، تین گھنٹے سے زائد ہونیوالا اجلاس بے نتیجہ رہا
جبکہ راجہ بشارت کے مطابق کمیٹی کے اجلاس میں 90؍ فیصد پولیس ریفارم پیکیج کا اتفاق رائے سے جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ڈپارٹمنٹ کو بیوروکریسی (پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز) کے ماتحت کیے جانے کے حوالے سے پولیس کے تحفظات دور کرنے کیلئے کچھ تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیںسول سیکرٹریٹ کے ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاس میں دونوں طرف سے تلخ کلامی کے بعد ایک دوسرے کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں،بیوروکریسی نے واضح کر دیا کہ اب مسودہ تیار ہو چکا اب ہر صورت عملدآمدہوگا، پولیس کا موقف تھا کوشش کر کے دیکھ لیں اس پہ کسی صورت عمل نہیں ہوگا
پی ایس پی افسران کی رائے ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے سابقہ ڈی ایم جی گروپ (اور اب پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس) اصل میں پولیس پر اپنا کنٹرول واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ماضی میں نوآبادیاتی دور میں ہوا کرتا تھا۔
پولیس حکام ذرائع کا کہنا ہے پولیس ریفارمز سفارشات پرعمل درآمد پنجاب پولیس کو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے رحم وکرم پر لے آئے گا۔ پنجاب پولیس کی آپریشنل خود مختاری اور غیرسیاسی کرنے کے مسئلے کا حل بھی سفارشات نہیں۔پولیس حکام ذرائع نے کہا سفارشات کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو پولیس اور امن و امان سے متعلق بے پناہ اختیارات مل جائیں گے۔ سفارشات کے تحت بے بس عام آدمی ڈپٹی کمشنر کے رحم وکرم پر ہو گا۔ سفارشات میں تھانے کی اصلاح سے متعلق کوئی تجویز نہیں دی گئی۔
وفاق حکومت نے پولیس اصلاحات کیلئے سفارشات تیار کی ہیں۔ اصلاحات پنجاب اور خیبر پختونخوا میں لائی جائیں گی۔
وفاقی سطح پر پولیس اصلاحات، قانون سازی، کابینہ کے فیصلوں کے لیے پنجاب کو 30؍ ستمبر کی ڈیڈلائن دی گئی ہےسفارشات کے مطابق پولیس کو بیوروکریسی کے ماتحت کیا جائے گا۔ کارکردگی مانیٹرنگ کے لئے سیاستدانوں کو بھی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ سفارشات کے مطابق تھانوں کی انسپکشن کے لئے پولیس کو ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ہو گی۔
ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ون ونڈو ٹربلز شوٹر قائم کیا جائے گا۔ صوبے میں ون ونڈوٹربلزشوٹر کے نام سے چھتیس دفاتر قائم ہوں گے۔ عوامی وسائل کے انتخاب میں ڈپٹی کمشنر مکمل بااختیار ہو گا۔ انکوائریاں، انسپکشن بھی کراسکے گا
بیوروکریسی کے مطابق یہ سب تجاویز میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے تیار کی ہیں اور یہ بہت بہتر ہیں،
بیوروکریسی کی جانب سے کہا گیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس مکمل آزاد ہو، جو قانون بنائے گئے یہ اوپر سے احکامات ملے
ان کی ابتدائی منظوری وزیراعظم عمران خان دے چکے ہیں ، وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت ہنگامی طورپر اجلاس میں صوبائی وزراانصر مجید، تیمور بھٹی، ہاشم ڈوگر، چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ پنجاب سید علی مرتضیٰ، سیکرٹری آبپاشی سیف انجم، سیکرٹری بلدیات جاوید قاضی، آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ضعیم شیخ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر،ڈی آئی جی آئی ٹی ذوالفقار حمید، ڈی آئی جی احسن یونس، ڈی آئی جی جواد ڈوگر سمیت ریٹائرڈ پولیس افسران بھی موجودتھے ۔پولیس کی جانب سے کچھ تجاویز پیش کی گئیں ان میں کہا گیا کہ
سپیشل برانچ کو وزیراعلیٰ پنجاب کے ماتحت دینے کے بجائے آئی جی پنجاب کے ماتحت ہی کیا جائے
لیکن پولیس اصلاحات پیکج میں کہا گیا ہے کہ جیسے انٹیلی جنس بیوروکا سربراہ وزیراعظم ہے اسی طرح سپیشل برانچ کا سربراہ وزیراعلیٰ ہو گا، لیکن اس پر بیوروکریسی کو شدید اختلافات ہیں، دوسرا پوائنٹ یہ سامنے آیا ہے کہ پولیس کمپلینٹ کمیشن محکمہ داخلہ پنجاب یا سی ایم سیکرٹریٹ کے بجائے پنجاب کی امن و امان کی کیبنٹ کمیٹی کے ماتحت کیا جائے ، جبکہ نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن کو ایکٹو کیا جائے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے ، جبکہ پنجاب پولیس کا الگ سے کنٹرول انسپکٹوریٹ بنانے پر بھی اختلاف کیا گیا ہے ،
بیوروکریسی کی جانب سے مسلسل ان معاملات کی مخالفت کی گئی ،
اجلاس میں سید علی مرتضیٰ اور ایک صوبائی وزیر کی جانب سے کہا گیا کہ پولیس کی جانب سے یہ انتہائی خفیہ ڈرافٹ میڈیا کے ساتھ شیئر کیا گیا
جس پر پولیس افسران سخت ناراض ہوئے اور کہاکہ آپ ہم پر الزام تراشی کر رہے ہیں
پولیس اصلاحات پیکج میں افسران کی تقرریوں کے لائحہ عمل بھی طے کیا گیا ہے کہ سینئر پولیس افسران پر مشتمل ایک انٹرنل بورڈ کارکردگی کے مظاہرے کی بنیاد پر تقرریوں کی تجاویز پیش کرے گا۔
سفارشات آئی جی کو پیش کی جائیں گی اور پھر آئی جی پولیس ڈی پی او، آر پی او اور ایڈیشنل آئی جی کے عہدوں کیلئے تین تین افسران کے نام ترتیب وار ترجیح کے ساتھ پینل کو پیش کرے گا اور ساتھ ہی کارکردگی کا چارٹ بھی منسلک کرے گا، جس کے بعد یہ تجاویز منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کو بھجوائی جائیں گی۔ جواز پیش کرکے حکومت قبل از وقت ٹرانسفر بھی کر سکے گی۔ پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے اپنے پولیس آرڈر میں فوری تبدیلیاں لائے۔
دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ صرف تربیت یافتہ اور مصدقہ افسران کو تحقیقات (انوسٹی گیشن) اور سینئر انتظامی عہدوں پر تعینات کیا جائے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پی پی او سرٹیفکیشن فریم ورک کا تعین کرے گا۔ پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر سرٹیفکیشن کے متعلق شقیں پولیس آرڈر میں ترامیم کرکے شامل کرے۔ سرٹیفکیشن فریم ورک تیار کرنے کیلئے پنجاب حکومت کے پاس 60؍ دن ہیں۔ پنجاب حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسٹیشن ہائوس افسران (ایس ایچ اوز) کو ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کے طور پر بھی نامزد کرے اور اس مقصد کیلئے متعلقہ قوائد اور قانون میں ترامیم کی جائیں۔ فنانس ڈپارٹمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر پولیس اسٹیشن کیلئے بنیادی اخراجات کا تعین کرے اور اس مقصد کیلئے پولیس کے ساتھ مشاورت کی جائے۔ یہ کام 30؍ دن میں مکمل کرنے کیلئے کہا گیا ہے. -

پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ
یہ کوئی وقتی مشاہدے کی باتیں نہیں بلکہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے مسلسل سفر میں رہتے ہوئے ، پاکستان کے شہروں اور صوبوں میں گھومتے پھرتے جہاں اور بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا وہاں پولیس کے رویوں اور طریقہ کار کو بھی جانچنے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا رہا. ویسے بھی مسافر (ٹورسٹ) اور پولیس کا واسطہ اکثر ہی رہتا ہے. کے پی کے، پنجاب، سندھ اور حتیٰ کے بلوچستان کی پولیس کے ساتھ بھی گپ شپ بھی رہی اور واسطہ بھی پڑتا رہا ہے. جہاں بہت سارے تجربے پولیس کے برے رویے کے ہیں وہیں کافی تجربات پولیس کی بہترین مہمان نوازی اور مشفقانہ رویہ روا رکھنے کے بھی ہیں. ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے میں ہیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ اس محکمے میں ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے پولیس کے محکمے کی عزت برقرار ہے. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے. لیکن جو بات مسلمہ ہے وہ یہی ہے کہ اس محکمے میں بیشتر اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے، کرپشن اور ظلم کا دور دورہ ہے.جہاں ایس ایچ او اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے اشاروں پر لوگوں کی قسمتیں بن اور بگڑ رہی ہوتی ہیں وہیں ناکے پر کھڑا کانسٹیبل بھی چنگیز خان سے کم نہیں ہوتا جو چاہے تو چوری کے سامان سے بھری گاڑی کو گزرنے دے اور چاہے تو معمولی موٹر سائیکل سوار کو اپنی چائے پانی کے لیے خوار کرتا رہے اور تھانے میں بیٹھا محرر بھی کسی بنیئے سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے جب وہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھاؤ تاؤ کر رہا ہوتا ہے. یہ بات بطور لطیفہ بیان کی جاتی ہے مگر یہ انتہائی تکلیف دہ سچ ہے کہ دوسرے ممالک کے میں لوگوں کو پولیس کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر وطن عزیز میں پولیس کو دیکھ کر آپ کو لٹ جانے کا احساس ہوتا ہے. آپ روڈ پر سفر کر رہے ہیں آپ کی جیب میں آپ کا لائسنس، گاڑی کے کاغذات، شناختی کارڈ غرض کے سب کچھ موجود ہے اور آپ تمام روڈ سیفٹی قوانین کو بھی فالو کر رہے ہیں لیکن جب آپ کی نظر سامنے لگے ناکے پر موجود پولیس کے سپاہیوں پر پڑتی ہے تو بندہ غیر ارادی طور پر دل ہی دل میں دعائیں پڑھنا شروع ہوجاتا ہے کہ یا اللہ آج بچا لے ان سے. اگر آپ طاقتور ہیں کسی اونچی پوسٹ پر ہیں تو یہی پولیس آپ کی محافظ ہوتی ہے اور آپ غریب ہیں اور عام سے شہری ہیں تو اس پولیس سے جان چھڑوانا ناممکن اور عذاب بنا ہوتا ہے. میرے پاس بیسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں بلکہ تجربات ہیں کہ پولیس کے پاس شہریوں کو تنگ کرنے کے کتنے اور کون کونسے حربے ہوتے ہیں. ہمارے ملک میں کتنے ہی مجبور اور بے کس شہری ہیں جن کو پولیس کے ظلم اور تشدد نے کرپٹ اور مجرم بنا دیا ہے. کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو پولیس کی عدم توجہی اور ظالم کی پشت پناہی کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گرد اور ڈاکو کا خطاب پاتے ہیں. سانحہ ساہیوال، صلاح الدین کیس اور ان جیسے ناجانے کتنے کیس ہیں جو پولیس کی غنڈہ گردی اور ظلم کی عملی مثالیں ہیں. کوئی کتنا بھی کرپٹ کیوں نہ ہو، مجرم کیوں نہ ہو اس کے جرائم کی سزاء و جزا دینے کے لیے ا ملک میں ایک پورا عدالتی نظام موجود ہے تو پھر پولیس کو یہ جرات کیسے پیدا ہوتی ہے کہ وہ جعلی پولیس مقابلوں اور دوران تفتیش ماورائے عدالت قتل کرتے پھریں ؟؟؟ یہ کونسے قاعدے اور قانون میں ہے کہ پولیس مجرم سے اقبال جرم کروانے کے لیے اس پر غیر انسانی تشدد کرے؟ پاکستانی پولیس ایسا کیوں سمجھتی غریب کے جسمانی ریمانڈ کا مطلب اس کی چمڑی ادھیڑ دینا ہوتا ہے؟؟
"صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ
یہ ساری باتیں تقاضہ کرتی ہیں کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ نظام پولیس میں اصلاحات کی جائیں اور اس پورے نظام کو از سر نو ترتیب دیا جائے اور انسانی ہمدردی اور انسانی مدد کی بنیاد پر پولیس کے محکمے کو کھڑا کیا جائے اور ایسی پولیس معاشرے میں کھڑی کہ جائے جس کو جرم سے نفرت ہو نہ کہ انسانیت سے اور جس کو دیکھ ہی معاشرے کو تحفظ کا احساس ہو.

Muhammad Abdullah -

پولیس اہلکار نے صلاح الدین کے ذہنی معذور ہونے کی تصدیق کردی
اسلام آباد:صلاح الدین قتل کے حوالے سے تھانہ آئی نائن اسلام آباد پولیس کے سینئر اہلکار نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ صلاح الدین نامی شخص کو ہم نے بھی ایک مرتبہ آئی نائن تھانہ کی حدود سے گرفتار کیا تھا اس پر چوری کا
صلاح الدین پر بدترین پولیس تشدد کی تصویریں سامنے آگئیں
الزام تھا اور اس نے فوری جرم کا اعتراف بھی کیا وہ دیکھنے میں ذہنی معذور لگتا تھا اس کی کیفیت دوسرے ملزمان سے الگ تھی وہ جو گذرتا اسے آوازیں دیتا القابات سے پکارتا کبھی پانی مانگتا
صلاح الدین کی دوران پولیس حراست ہلاکت معاملہ ایس ایچ او اور تفتیشی آفیسر معطل مقدمہ درج
اور کبھی کھانا اور وہ کبھی کبھی سنجیدہ باتیں بھی کرتا. اہلکار نے بتایا کہ پولیس کو دوران تفتیش مارنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اس پر پریشر ڈال کر ہم اسے اگلواتے ہیں اس لئے اس نے فوری اعتراف کرلیا تھا اس
تھانوں میں ملزمان پر جانوروں کی طرح تشدد، اسمبلی میں قرارداد جمع
کے لواحقین سے رابطہ ہوا انہوں نے اس کے ذہنی معذور ہونے کی اطلاع دی اور اس کی ضمانت کروا لی تھی..
"صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ
یاد رہے گزشتہ چند دن پہلے رحیم یار خان میں اے ٹی ایم مشین توڑنے کے جرم میں صلاح الدین دوران تفتیش پولیس کے تشدد کے دوران ہلاک ہوا -

"صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ
عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.
Muhammad Abdullah -

ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر
ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدالتی نظام انصاف اور پولیس میں بہت زیادہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ جہاں پر ایک ملزم ۔! جی ہاں ایک ملزم جس پر صرف کوئی الزام ہوتا ہے جبکہ وہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا ہوتا ہے مگر اس انسان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انسان اور انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہوتی ہے ۔ جس کو ذلیل رسوا خوار کر کر کے 1 سال سے 20 سال کے بعد بے گناہ لکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر اس کی وہ جو تذلیل ہوتی ہے جو اس کی عزت کا جنازہ اٹھتا ہے اس کے بعد تو جیسے وہ مر ہی جاتا ہے اور ایک زندہ لاش بن جاتا ہے ۔ پہلے پہل تو پولیس کسی بھی سچے یا جھوٹے الزام میں کسی کو بھی ایک سادہ سی درخواست پر دھر لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو درخواست کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے بس کسی کی فرمائش یا پولیس کی اپنی مرضی پر بھی منحصر ہوجاتا ہے اور اس انسان کو حوالات میں بند کردیا جاتا ہے ۔
حوالاتوں میں جو ماحول ہے وہاں جانور بھی رہنا گوارہ نا کریں کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے ہر طرف بدبو کا راج کہیں بجلی نہیں ہوتی تو کہیں مچھر جو بھی شریف النفس انسان صرف کسی الزام میں ہی حوالات میں چلا جائے تو ساری زندگی اس حوالات کے گندے ماحول کا خیال اس کے ذہن سے نہیں جاتا ہے۔ پھر اس کے اس کی جو چھترول اور گندی گندی گالیوں سے خدمت کی جاتی ہے وہ بھی اس کے اندر کے انسان اور انسانیت کو مار دیتی ہیں جبکہ قیدیوں کی تربیت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے شائد کاغذوں میں ایسے منصوبے چلتے ہوں مگر عملی طور پر نظر نہیں آتے ہیں۔ تاکہ وہ اس جیل سے باہر نکلنے کے بعد اپنی اصلاح کرتے ہوئے اچھے شہری بن سکیں بلکہ وہاں پر ان کی شناسائی ایسے عادی مجرموں سے ہوجاتی ہے کہ پہلے مجرم نا ہونے یا چھوٹے موٹے ہونے کے بعد بڑے بڑے گروہوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
اس کے بعد پولیس کا اس کو بے گناہ لکھنے کرنے کے لیے ( بے گناہ ہونے کے باوجود ) اس کو قرضے لے کر یا اپنی جمع پونجی لٹا کر ہی وہ عدالتی لمبے سسٹم سے گزر کر بے گناہ ہو پاتا ہے ۔ پھر اس کو جیل میں بھیج دیا جاتا ہے وہاں پر بھی اس کو ہر سہولت یا ضروریات زندگی کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے ۔
پھر وکیلوں کی باری آتی ہے تو وہ بھی اس کے مال و دولت پر اپنے دونوں ہاتھ اچھے سے صاف کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں کئی مہینے سال بلکہ زندگی لگ جاتی ہے اپنے آپ کو بے گناہ ہونے کے باوجود بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ۔
ہم نے اپنے نظام انصاف کو چھوڑ کر انگریزوں کے کالے قانون کو اپنے لیے نجات کا راستہ سمجھ لیا اور اپنے اسلامی نظام انصاف کو چھوڑ دیا اور آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اب اس نظام کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے پولیس سے عدالت وکیل اور ان کے ساتھ وابستہ افراد کا روزگار چل رہا ہے اور سیاستدانوں کی سیاست بھی کامیابی کے ساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔
جو حقیقت حال احوال خود ملزم یا الزام علیہ خود جواب دے سکتا ہے وہ کوئی بھی نہیں دے سکتا ہے مگر ہزاروں لاکھوں کی فیس ادا کرکے وکیل رکھنا ضروری ہے کیوں کیونکہ یہ ہمارا فرسودہ قانون ہے ۔؟
بے گناہ ہونے کے باوجود پولیس کا اس کو پکڑنا پھر کیس بنا کر عدالتوں میں اس مظلوم کا اتنا ذلیل و خوار ہونا کیوں ۔؟
دوسری طرف جس کے ساتھ واقعی کوئی ظلم زیادتی ہوتی ہے اس کو حصول انصاف کے لیے پہلے ایف آئی آر کروانا بہت مشکل ہے جب آیف آئی آر کے موجودہ کیس کی نوعیت کے مطابق وہ تفتیشی افسر کو رشوت نا دے یا کسی سیاسی بااثر شخصیت کا حکم یا اجازت نامہ لے کر نا آئے اس کی شنوائی نہیں ہوتی ہے ۔ پھر وکیل جج عدالتیں پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں مگر انصاف حاصل کرنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے
بلکہ یہ کہنا بھی غلط نا ہوگا کہ انصاف خریدنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے کیونکہ جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے تو ایسے گھٹیا نظام انصاف کو آخر کیوں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے ۔؟
آخر کب تک اس ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو فوری اور سستا انصاف مل پائے گا آخر ستر سالوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس نظام کو بہتر کرنے میں کون رکاوٹ ہے ۔آخر انسانوں کو کب تک ذلیل و خوار کیا جاتا رہے گا ۔؟
آخر وہ کون ہوگا جو عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کی مخلصانہ کوشش و عمل کرے گا اس قوم کو اب بھی کسی مسیحا کی تلاش ہے ۔ موجودہ سیاستدان تو صرف اپنے پروٹوکول اور ذاتی مفادات کے لیے گرداں نظر آتے ہیں چھوٹے چھوٹے کام کرکے بس عوام کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں مگر اس ملک اور قوم کو آج تک شائد کوئی مسیحا نہیں مل سکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔