Baaghi TV

Tag: پولیس

  • ایران: میراتھن میں بغیر حجاب کے خواتین کی دوڑ، منتظمین گرفتار

    ایران: میراتھن میں بغیر حجاب کے خواتین کی دوڑ، منتظمین گرفتار

    ایران کے جزیرۂ کیش میں ہونے والی سالانہ میراتھن کے دو منتظمین کو ملک میں بے حیائی کے فروغ اور مملکت کے اقدار کے منافی کام کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خوبصوت سیاحتی جزیرے میں چھٹی کیش میراتھن میں علی الصبح تقریباً 5 ہزار افراد نے شرکت کی،خواتین کی دوڑ صبح 5:30 بجے ہوئی جب کہ مردوں کی ریس کا آغاز ساڑھے 8 کے بعد ہوا، خواتین نے روایت کے برعکس ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن رکھا تھا،خواتین کی اکثریت نے اس یونیفارم کے ساتھ حجاب نہیں پہنا جو کہ اس قسم کے کھیلوں میں حصہ لینے والی کھلاڑیوں کے لازمی ہے۔

    ایران کی ایتھلیٹکس فیڈریشن نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ میراتھن ملک کے قانونی اور مذہبی معیارات پر پوری نہیں اترتی.اس کے باوجود منتظمین نے اس پر توجہ نہ دی اور جب میراتھن کی وڈیوز وائرل ہوئیں توپولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو منتظمین کو حراست میں لے لیا جن پر شرعی قوانین سمیت ملکی قانونی اور مذہبی تقاضوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔

    انڈونیشیا کے صدر دو روزہ دورے پر پیر کو پاکستان پہنچیں گے

    گرفتار ہونے والوں میں کیش فری زون آرگنائزیشن کا سرکاری عہدیدار اور ایک نجی کمپنی کا نمائندہ جو میراتھن کے انعقاد کا ذمہ دار تھا، شامل ہے ان دونوں افراد کو عدالت نے پوچھ گچھ کے بعد ضمانت پر رہا کردیا مگر ان پر عدالتی نگرانی عائد کر دی گئی ہے،علاوہ ازیں سرکاری عہدیدار کو ملازمت سے بھی معطل کردیا گیا جب کہ نجی کمپنی کے منتظم پر کسی بھی اسپورٹس ایونٹ کے انعقاد یا انتظام پر پابندی لگا دی گئی۔

    ترکیے پاکستان میں جنگی ڈرون اسمبل کرنےکے لیے فیکٹری بنانا چاہتا ہے،بلوم برگ

  • جنوبی افریقا میں ہاسٹل پر حملہ: 11افراد ہلاک اور 14 زخمی

    جنوبی افریقا میں ہاسٹل پر حملہ: 11افراد ہلاک اور 14 زخمی

    جنوبی افریقا کے دارالحکومت پریٹوریا کے نزدیک ساولز ویل ٹاؤن شپ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک ہاسٹل پر دھاوا بول دیا۔

    میڈیارپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے ہاسٹل میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئےہلاک ہونے والوں میں طلبا اساتذہ اور عملہ سمیت ہاسٹل سے باہر کے متعدد لوگ بھی شامل ہیں، 3 سالہ بچہ، 12 سالہ لڑکا اور 16 سالہ لڑکی بھی ہلاک ہوئی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ صبح کے وقت کیا گیا تین مشتبہ ملزمان کی تلاش میں جاری ہے تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی،البتہ ابتدائی تحقیقات سے شبہ ہے کہ واقعہ کا تعلق ہاسٹل کے اندر موجود غیر قانونی بار سے ہوسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ جنوبی افریقا میں غیر قانونی بارز، منظم جرائم اور آتشیں اسلحے کی آسان دستیابی کے باعث اجتماعی فائرنگ کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے غیر قانونی مراکز قتل و غارت کے بڑے مراکز بن چکے ہیں جن کی روک تھام ایک گھمبیر مسئلہ بن چکی ہے

  • اوورسیز فیملی کو ہراساں کرنے والا آن لائن ٹیکسی ڈرائیور گرفتار

    اوورسیز فیملی کو ہراساں کرنے والا آن لائن ٹیکسی ڈرائیور گرفتار

    لاہور: گلبرگ کے علاقے میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کی جانب سے فیملی کو ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آیا، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق گلبرگ کے علاقے میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کی جانب سے فیملی کو ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آیا، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا،واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ایک اوورسیز پاکستانی فیملی نے گلبرگ سے کینٹ جانے کے لیے آن لائن ٹیکسی بک کی،ڈی آئی جی آپریشنز نے اوورسیز پاکستانی کی آن لائن درخواست پر نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا، جس کے بعد ایس ایچ او گلبرگ نے ٹیم کے ہمراہ ڈرائیور طفیل کو ٹریس کرکے عزیز بھٹی روڈ کے قریب سے گرفتار کر لیا۔

    کرینہ کپور میری بیوی رہی ہیں، مفتی قوی کا دعویٰ

    ایس پی ماڈل ٹاؤن شہر بانو نقوی نے ایس ایچ او گلبرگ اور ٹیم کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر شاباش دی، اوورسیز پاکستانی نے بھی لاہور پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    ریاستی اداروں پر حملہ، شہدا کی توہین،افواج کیخلاف بیانیہ، سب دشمن کا ایجنڈا ہے،عظمیٰ بخاری

  • کراچی: 7سالہ بچے کا اغوا کے بعد قتل

    کراچی: 7سالہ بچے کا اغوا کے بعد قتل

    لانڈھی کے علاقے سے اغوا کرکے قتل کیے جانے والے کمسن بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے شواہد مل گئے۔

    تفصیلات کے مطابق لانڈھی تھانے کے علاقے 36 بی لعل مزار سے اغوا کر کے قتل کیے جانے والے سات سالہ کمسن بچے سعد علی کا پوسٹ مارٹم مکمل کر کے لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی،پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران مقتول کمسن بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے شواہد ملے ہیں، بچے کی موت سر پر وزنی چیز سے چوٹ لگنے کے باعث ہوئی ہے، پوسٹ مارٹم کے دوران مقتول بچے کے مختلف اعضا کے سیمپل لے کر کیمیکل ایگزامن کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں، مقتول مغوی بچے کی نماز جنازہ اور تدفین ظہر میں ادا کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ مقتول کمسن بچہ سعد علی 18 ستمبر کی شام گھر کے باہر سے لاپتا ہوا تھا جس کے اغواء کا مقدمہ لانڈھی تھانے میں درج کیا گیا اور پانچ روز بعد پیر کی شب گھر کے قریب کچرا کنڈی سے چند روز پرانی لاش ملی تھی۔

  • کراچی:ملزم شبیر تنولی کا 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف

    کراچی:ملزم شبیر تنولی کا 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف

    بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم شبیر تنولی نے 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیاکہاکہ، ایک ایک بچی کو کئی کئی مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا-

    ملزم نے کوڈیشل مجسٹریٹ کراچی کی عدالت میں اعترافی بیان دیتے ہوئے بتایا کہ وہ بچوں کو پیسوں کا لالچ دے کر اپنے کمرے اور ویران جھاڑیوں میں لے جاتا تھا جہاں ان سے غیر اخلاقی حرکات کرتا تھا،بیان ریکارڈ کرانے سے قبل عدالت نے ملزم کو 2 گھنٹے کا وقت دیا تاکہ وہ اپنے فیصلے پر غور کر سکے۔

    عدالت نے ملزم سے سوال کیاکہ،پولیس کی جانب سے تمہیں تشدد کا نشانہ تو نہیں بنایا گیا؟ مارا تو نہیں گیا؟ جس پر ملزم نے کہا کہ نہیں مجھے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا،عدالت نے ملزم کو واضح کیا کہ آپ بیان دیں یا نہ دیں، آپ کو جیل کسٹڈی میں رکھا جائے گا، آپ کا بیان آپ کے خلاف جا سکتا ہے، کیا آپ کسی دباؤ میں بیان نہیں دے رہے؟ملزم نے کہا کہ میں کسی کے دباؤ میں بیان نہیں دے رہا۔

    تحصیل آفس میں مبینہ بدعنوانیاں ،سائل پریشان،نوٹس کی اپیل

    عدالت کے سوال پر کہ آیا اس کے ساتھ کوئی شریک جرم ہے، ملزم نے انکار کرتے ہوئے کہاکہ،نہیں، میرے ساتھ کوئی شریک جرم نہیں ہے،میں 8 دن قبل گرفتار ہوا، میرے ساتھ کوئی اور موجود نہیں تھا میں 2011 میں کراچی آیا تھا، میں نے 2022 میں ایک بچے سے دوستی کی، اسے اپنے کمرے میں لے جا کر کئی بار غلط کام کیا کئی بار ویران جھاڑیوں میں بھی لے گیا ہوں، بچیوں کو بھی پیسوں کا لالچ دے کر اپنے کمرے میں لے جاتا تھا وہاں ان سے غلط کام کرتا تھا اور اس کی ویڈیوز بھی بناتا تھا میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔

    عدالت نے 6 مقدمات میں ملزم کا الگ الگ اقبالی بیان ریکارڈ کیا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ملزم کو پڑھ کر سنایا گیا، جس پر ملزم نے اپنا جرم قبول کیا، عدالت نے ملزم کا دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ پر رکھ لیا۔

    چین اور امریکا کے دفاعی مذاکرات کا آغاز، فوجی روابط بہتر بنانے پر زور

    11 ستمبر کو کراچی کے علاقے قیوم آباد میں 100 سے زائد کمسن بچوں اور بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی ویڈیوز بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا، جس نے دوران تفتیش اعتراف کیا تھا کہ بچوں کو پیسے دیکر اپنے کمرے میں لاتا تھا اور انہیں ریپ کرتے ہوئے ویڈیوز بھی بناتا تھا،پولیس کے مطابق، ایبٹ آباد کے رہائشی گرفتار ملزم شبیر نے زیادتی کا نشانہ بننے والے 5 سے 12 سال کے بچوں اور بچیوں کے ناموں کی فہرست بنا رکھی تھی تفتیش کے مطابق ملزم 2011 میں کراچی آیا اور قیوم آباد میں پرچون کی دکان کھولی جہاں وہ اسٹیشنری کا سامان رکھتا تھا چھوٹی بچیاں دکان پر آتیں جنہیں وہ رقم کے لالچ میں گھر لے جاتا۔

    2016 میں ملزم قیوم آباد منتقل ہو گیا اور شربت کا ٹھیلا لگا لیا، جہاں وہ 5 سے 12 سال کے بچوں کو انعام کے لالچ میں بدفعلی کا نشانہ بناتا رہا، ملزم نے ایک ڈائری میں بچوں کی تفصیلات لکھ رکھی تھیں، ملزم کے موبائل اور یوایس بی ڈرائیوز سے 200 سے زیادہ ویڈیوز برآمد ہوئیں، ایک بچی کے ملزم کی یوایس بی موبائل شاپ پر لے جانے کے بعد ملزم کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

    ایچ-1 بی ویزا فیس میں ڈاکٹرز کو استثنیٰ دینے پر غور

    ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ ڈیفنس پولیس نے قیوم آباد کے سی-ایریا میں 28 سالہ پھل فروش شبیر احمد کو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں لوگوں کی مدد سے پکڑا تھا،پولیس کے مطابق ملزم نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران نابالغ لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور اپنے موبائل فون سے ان کی ویڈیوز بنانے کا اعتراف کیا تھا۔

  • کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    کراچی کے میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، گزشتہ روز 3 خواجہ سراؤں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا جن کی لاشیں میمن گوٹھ میں سپرہائی وے سے ملی تھیں۔

    میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ قتل کی دفعہ 302 کے تحت ان کے گرو ظفر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے،مدعی مقدمہ نے موقف اپنایا ہے کہ ہم سب خواجہ سرا ایک ہی علاقے میں مختلف کمروں میں رہائش پذیر تھے، ہمیں بذریعہ واٹس ایپ معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھیوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہےمقتولین میں ایلکس، جیئل اور اسما شامل ہیں، تینوں خواجہ سراؤں کو نامعلوم افراد نے نامعلوم وجوہات پر قتل کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تینوں خواجہ سراؤں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے، شواہد کی مدد سے قاتلوں کی گرفتاری کی کوششیں کی جارہی ہیں،واجہ سراؤں کے قتل کو ہائی پروفائل کیس کے طور پر دیکھ رہے ہیں، قاتلوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہیں۔

    واضح رہے کہ 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں گزشتہ روز میمن گوٹھ کے علاقے میں ناگوری سوسائٹی کے قریب سپر ہائی وے سے ملی تھیں،دو خواجہ سراؤں کو سینے جبکہ ایک کو سر پر ایک ایک گولی ماری گئی تھی، جائے وقوع سے نائن ایم ایم کے دو خول ملے ہیں، کرائم سین پر کوئی کیمرا نہیں لگا ہوا، خواجہ سراؤں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی،واقعے کے بعد لاشیں جناح ہسپتال منتقل کی گئی تھیں جہاں خواجہ سراؤں نے قاتلوں کی گرفتار کے لیے احتجاج بھی کیا تھا اور ملزمان کی عدم گرفتاری کی صورت میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کی دھمکی دی تھی۔

  • کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی

    کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی

    سندھ رینجرز اور پولیس نے کشمور کے کچے کے علاقے میں بدنام زمانہ بھیو گینگ کے خلاف کارروائی کرکے مغوی پولیس کانسٹیبل کو بازیاب کرالیا،جبکہ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 اغوا کار ڈاکو ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

    ترجمان رینجرز نے بتایا کہ کشمور میں کچے کے علاقے میں مغوی پولیس اہلکار کو بازیاب کروانے کے لیے رینجرز اور پولیس نے آپریشن کیا، دوران کارروائی ڈکیت گروہ کے ٹھکانے کو بھی مسمار کر دیا گیاآپریشن کے دوران ڈاکوؤں نے نفری پر فائرنگ کر دی، بعد ازاں فائرنگ کے تبادلے میں 3 اغوا کار ڈاکو ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق اغوا برائے تاوان میں ملوث خادم بھیو ڈکیت گینگ نے دوران ڈیوٹی پولیس کانسٹیبل کو اغوا کیا تھا، ڈکیت گروہ نے پولیس کانسٹیبل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی،بدنام زمانہ خادم بھیو جس کے سر پر 10 لاکھ روپے انعام مقرر ہے، وہ بھی زخمی ہونے والے ڈاکوؤں میں شامل ہے، اس کے علاوہ واجد بھیو، مالک جاگیرانی سمیت 9 ملزمان زخمی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ میں کچے کے علاقوں میں آئے روز شہریوں کو ہنی ٹریپ کرکے اغوا کرنے کی وارداتیں عام ہیں، ڈاکوؤں کے گینگ سادہ لوح شہریوں کو خواتین اور سستی گاڑیوں سمیت کاروباری لالچ دے کر بلاتے ہیں اور انہیں اغوا کرکے تاوان طلب کیا جاتا ہےڈاکوؤں کی جانب سے تاوان ادا کرنے کے لیے مغویوں کی ویڈیو بھی جاری کی جاتی ہے، اور تاوان نہ دینے پر قتل کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

  • کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی

    کراچی کے علاقے میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایم نائن موٹر وے کے ساتھ میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی ہیں، تینوں خواجہ سراؤں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، تینوں کے سر سینے اور ہاتھوں پر گولیاں لگی ہوئی ہیں، بظاہر لگتا ہے تینوں افراد سڑک کنارے لفٹ لینے کے لیے کھڑے تھے، ممکنہ طور پر تینوں کو فائرنگ کرکے قتل کیاگیا اور ملزم فرار ہوگیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جائے واقعے گولیوں کے دو خول ملے ہیں، تینوں لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، پوسٹ مارٹم کے بعد مزید شواہد سامنے آسکیں گے، تمام پہلوؤں پر تحقیقات کر رہے ہیں، جائے وقوعہ ویران جگہ ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کا خواجہ سراؤں کے قتل کا نوٹس، آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی، مراد علی شاہ نے میمن گوٹھ کے قریب سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس کو قاتلوں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مراد علی شاہ نے ہدایت کی ہے کہ خواجہ سراؤں کے قاتلوں کو ہرصورت گرفتار کر کے رپورٹ پیش کی جائےخواجہ سرا معاشرے کا وہ مظلوم طبقہ ہے جسے ہم سب نے عزت اور احترام دینا ہے، ریاست کسی بھی مظلوم اور معصوم شہری کا قتل برداشت نہیں کرے گی۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی ملیر واقعے سے متعلق ابتدائی معلومات سے آگاہ کریں، جائے وقوعہ سے شواہد کی تفتیش جدید اور ماڈرن تیکنیک کی بنیاد پر کی جائے، قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری میں انٹیلیجینس ذرائع بھی استعمال کیے جائیں۔

  • 100کمسن بچیوں سے زیادتی کے ملزم کو عدالت میں سائلین کے تشدد کا سامنا

    100کمسن بچیوں سے زیادتی کے ملزم کو عدالت میں سائلین کے تشدد کا سامنا

    کراچی کے علاقے قیوم آباد میں کمسن بچیوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی عدالت میں پیشی کے موقع پر متاثرہ بچی کی والدہ اور عدالت آنے والے سائلین نے ملزم کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

    کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ملزم کو اعترافی بیان ریکارڈ کرانے کے لیے عدالت میں پیش کیا تھا،عدالتی ذرائع کے مطابق ملزم کا اعترافی بیان ریکارڈ کرنے والے جج کی طبیعت ناساز ہونے پر عدالت نے سماعت میں وقفہ کیا،احاطہ عدالت میں متاثرہ بچی کی والدہ نے ملزم پر تشدد کیا جبکہ عدالت آنے والے سائلین نے بھی ملزم کو مارا پیٹا جس سے ملزم کی حالت بگڑ گئی، جس کے بعد پولیس نے ملزم کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا،ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔ ملزم کے خلاف 7 مقدمات درج ہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل کراچی کی مقامی عدالت میں 100 سے زائد کمسن بچوں سے زیادتی کے کیس کی سماعت کے دوران متاثرہ 4 بچیوں نے جج کے روبرو ملزم شبیر کو شناخت کرلیا اور جج کے سامنے اپنا 164 کا بیان قلمبند کروا دیا تھا،ملزم کو قیوم آباد سی ایریا سے 11 ستمبر کو قبل اہل علاقہ نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا، ملزم کے موبائل فون سے 300 سے زائد بچوں اور بچیوں کی نازیبا ویڈیوز ملی تھیں۔

    سونے کی قیمت نئی بلند سطح پر پہنچ گئی

    پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران نابالغ لڑکیوں اور لڑکوں کا ریپ کرنے اور اپنے موبائل فون سے ان کی ویڈیوز بنانے کا اعتراف کیا،پولیس نے اس کے قبضے سے ایک موبائل فون برآمد کیا ہے جس میں اس کے کمرے میں 8 سے 12 سال کی عمر کی نابالغ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی/جنسی زیادتی کی سیکڑوں ویڈیوز موجود ہیں۔

    دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا تھا کہ وہ سینکڑوں نابالغ لڑکیوں کو چند سو روپے دے کر بہلاتا تھا، اس نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ وہ کمسن بچیوں کو اپنے کمرے میں لاتا تھا جہاں وہ اکیلا رہتا تھا اور قیوم آباد کے سی-ایریا میں اپنے کمرے میں تقریباً 100 نابالغ لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنایا اور ان سب کی فلم بندی کی۔

    سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

  • 14 سالہ بچے سے زیادتی کرنے والا اوباش ملزم گرفتار

    14 سالہ بچے سے زیادتی کرنے والا اوباش ملزم گرفتار

    کاہور:پولیس نے 14 سالہ بچے سے زیادتی کرنے والے اوباش ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم نے گھر سے پارک سیر کے لیے جانے والے لڑکے کو زبردستی گودام میں لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنایامصری شاہ پولیس نے اطلاع ملنے پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    ایس پی سٹی بلال احمد نے اوباش ملزم کی بروقت گرفتاری پر ایس ایچ او مصری شاہ اور ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ بچوں پر تشدد اور جنسی استحصال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

    ادھرسیشن کورٹ نے ریپ کیس میں جناح اسپتال کے ڈاکٹر کو 14 سال کی سزا سنادی،عدالت نے ملزم ڈاکٹر عبدالرحمٰن کو چودہ سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دے دیا، ایڈیشنل سیشن جج ظفر یاب چدھڑ نے کیس پر فیصلہ جاری کیا،ملزم کے خلاف 2024 میں تھانہ نواب ٹاؤن میں اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    تفتیشی افسر کے مطابق ملزم نے مشہور رشتہ ایپ کے ذریعے لڑکی کو ورغلایا اور شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایاپراسیکیوٹر نے بتایا کہ عدالت میں ملزم کے خلاف بارہ گواہان پیش ہوئے، ملزم پر میڈیکل سے جرم ثابت ہےعدالت میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر یاسمین کوثر نے ملزم کے خلاف شہادتیں پیش کیں، ملزم کے خلاف متاثرہ بچی کے بیان سے جرم ثابت ہے۔