Baaghi TV

Tag: پولیو

  • پولیوپاکستان میں پھرسراٹھانےلگا،پولیوکیسزمیں اضافہ

    پولیوپاکستان میں پھرسراٹھانےلگا،پولیوکیسزمیں اضافہ

    وزیرستان:جنوبی وزیرستان سے چھ ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی، جس کے بعد ملک میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 19 ہوگئی انسداد پولیو پروگرام کے مطابق پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے چھ ماہ کے بچے کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے، پولیو کیس کی تصدیق قومی ادارہ صحت اسلام آباد نے کی ہے۔

    شمالی وزیرستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا، ملک میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 19 گئی۔ترجمان وزارت صحت کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں بچے میں پولیو وائرس پایا گیا، نیا کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 19 ہوگئی۔

    رپورٹ کے مطابق 22 اگست سے ملک بھر میں پولیو مہم جاری ہے، پولیو ورکرز مشکل حالات کے باوجود گھر گھر جا کر بچوں کی ویکسینیشن کر رہے ہیں۔وزارت سحت نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

    واضح رہے کہ اب تک رپورٹ ہونے تقریباً تمام پولیو کیسز خیبرپختونخوا سے ہیں۔

    یہ بھی واضح رہے کہ گزشتہ سال 2021کے دوران پولیو کا صرف ایک کیس بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہواتھا جبکہ سال 2020 میں ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 84 اور سال 2019 میں پولیو کی موذی مرض سے سب سے زیادہ 147 بچے متاثر ہوئے تھے۔

    سال 2020 کے دوران پولیو سے کل 84 متاثرہ بچوں میں سب سے زیادہ 25 کا تعلق بلوچستان سے تھا جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں متاثرہ بچوں کی تعداد23 ‘ صوبہ سند ھ میں 22 اور صوبہ پنجاب میں متاثرہ بچوں کی تعداد 14تھی۔

    سال 2019 میں ملک بھر میں کل 147 بچے پولیو سے متاثرہوچکے تھے جن میں سب سے زیادہ 93 کا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا سے تھا جن میں صوبہ کے جنوبی اضلاع لکی مروت اور بنوں سے بالترتیب 32 اور26 بچے پولیو سے متاثرہوئے تھے۔ رواں سال اپریل میں قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پولیو کا پہلا کیس رپورٹ ہواجس کے تین ماہ کے اندر اندر وہاں 12 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔اس تشویشناک صورتحال کے باعث حکومت نے رواں سال کے دوران چھ جنوبی اضلاع بنوں- لکی مروت‘ شمالی وزیرستان‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ٹانک اور جنوبی وزیرستان میں خصوصی انسداد پولیو مہمات بھی چلائیں تاہم خاطرخواہ کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آسکے اور روزبروز پولیو کے نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • ملک میں ایک اور پولیو کیس کی تصدیق  ، مجموعی تعداد 18 ہو گئی

    ملک میں ایک اور پولیو کیس کی تصدیق ، مجموعی تعداد 18 ہو گئی

    شمالی وزیرستان میں 3 ماہ کے بچے میں پولیو کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں رواں برس پولیو کیسز کی تعداد 18 ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : پاکستان پولیو پروگرام کے مطا بق پولیو کے 16کیسز شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ لکی مروت سے پولیو کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ، اس طرح تمام کے تمام کیسز خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

    پاکستان کے 7 شہروں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق،کئی شہروں کے رزلٹ آنا باقی

    بنوں، پشاور ، سوات اور لاہور کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہےگزشتہ ہفتہ کراچی کے ماحولیاتی نمونہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، کراچی تاریخی لحاظ سے پولیو وائرس کا گڑھ رہ چکا ہے اور پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے لئے حساس قرار دئے جانے والے اضلاع میں شامل ہے۔

    پاکستان پولیو پروگرام کا کہنا ہےکہ سیلاب متاثرین کی نقل مکانی کے باعث چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں ممکنہ پولیو مہم کی تیاری کر رہے ہیں، موجودہ حالات میں پولیو کے پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

    نیویارک میں پولیو وائرس کی موجودگی ، ڈیزاسٹر ایمرجنسی نافذ

    اس سے قبل منظر عام پر آنے والے کیسز کے بعد وفاقی وزیر صحت نے اپیل کی تھی کہ وائرس کے خاتمے کو قومی فریضہ سمجھتے ہوئے تمام پاکستانی اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور پولیو مہم کے دوران ورکرز کے لیے اپنے دروازے کھولیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہر مہم میں بچوں کی ویکسی نیشن کو یقینی بنائیں۔

    علاوہ ازیں وفاقی سیکرٹری صحت محمد فخر عالم نے بھی والدین سے اپنے بچوں کو ہر مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔

    دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

  • نیویارک میں پولیو وائرس کی موجودگی ، ڈیزاسٹر ایمرجنسی نافذ

    نیویارک میں پولیو وائرس کی موجودگی ، ڈیزاسٹر ایمرجنسی نافذ

    واشنگٹن: امریکی ریاست نیویارک میں پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آنے کے بعد ڈیزاسٹر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک کی 4 کاؤنٹیز میں گندے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس ملنے کی تصدیق کے بعد گورنر کیتھی ہوچل نے ریاست میں ڈیزاسٹر ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

    دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان چاروں کاؤنٹیز میں رہنے والے ایسے لوگ جنہوں نے پولیو ویکسین نہیں لگوائی پولیو کا شکار ہوسکتے ہیں۔

    ڈیزاسٹر ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پولیو ویکسین لگانے کی کوششوں کو تیز کیا جائے گا اور اس سلسلے میں فارماسسٹ، مڈ وائفز اور ای ایم ایس ورکرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

    امریکا میں ایک دہائی کے بعد گزشتہ ماہ نیویارک میں پولیو کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔ امریکا میں 2013 کے بعد ایک ایسا نوجوان پولیو وائرس کا شکار ہوا تھا جسے پولیو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن اسے ویکسین کے ذریعے روکا جاسکتا ہے، یہ زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتا ہے جو پٹھوں کی کمزوری اور فالج جبکہ انتہائی سنگین صورت میں مستقل معذوری اور موت کا سبب بنتا ہے۔

    پاکستان کے 7 شہروں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق،کئی شہروں کے رزلٹ…

    سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کا کہنا تھا کہ 1979 کے بعد سے امریکہ میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے اور اس وقت سے ملک کو پولیو سے پاک سمجھا جاتا ہے۔ پولیو نے 1940 کی دہائی میں ویکسین دستیاب ہونے سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر خوف پھیلایا تھا۔ سی ڈی سی کا کہنا تھا کہ اس وقت کے دوران وائرس نے ہر سال 35,000 سے زیادہ افراد کو معذور کیا۔

    لیکن 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں ایک کامیاب ویکسینیشن مہم نے ڈرامائی طور پر انفیکشن کی تعداد کو کم کیا۔ امریکہ میں پولیو کے کیسز اب بھی رپورٹ ہوتے ہیں، لیکن ان کا تعلق ان مسافروں سے ہے جو ملک میں وائرس لاتے ہیں۔ راک لینڈ کاؤنٹی میں یہ کیس 2013 کے بعد پہلی بار ہے جب امریکہ نے انفیکشن کی تصدیق کی ہے۔ نیویارک کی ریاست نے آخری بار 1990 میں انفیکشن کی تصدیق کی تھی۔

    نیویارک :شہر میں پولیو تیزی سے پھیلنے کا خطرہ

  • پاکستان میں پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد 15 ہوگئی

    پاکستان میں پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد 15 ہوگئی

    وزیرستان :شمالی وزیرستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا، ملک میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 15 گئی۔ترجمان وزارت صحت کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں 17 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس پایا گیا، نیا کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 15 ہوگئی۔

    رپورٹ کے مطابق 22 اگست سے ملک بھر میں پولیو مہم جاری ہے، تاہم مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے، پولیو ورکرز مشکل حالات کے باوجود گھر گھر جا کر بچوں کی ویکسینیشن کر رہے ہیں۔وزارت سحت نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

    واضح رہے کہ اب تک رپورٹ ہونے تقریباً تمام پولیو کیسز خیبرپختونخوا سے ہیں۔

    یہ بھی واضح رہے کہ گزشتہ سال 2021کے دوران پولیو کا صرف ایک کیس بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہواتھا جبکہ سال 2020 میں ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 84 اور سال 2019 میں پولیو کی موذی مرض سے سب سے زیادہ 147 بچے متاثر ہوئے تھے۔

    سال 2020 کے دوران پولیو سے کل 84 متاثرہ بچوں میں سب سے زیادہ 25 کا تعلق بلوچستان سے تھا جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں متاثرہ بچوں کی تعداد23 ‘ صوبہ سند ھ میں 22 اور صوبہ پنجاب میں متاثرہ بچوں کی تعداد 14تھی۔

    سال 2019 میں ملک بھر میں کل 147 بچے پولیو سے متاثرہوچکے تھے جن میں سب سے زیادہ 93 کا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا سے تھا جن میں صوبہ کے جنوبی اضلاع لکی مروت اور بنوں سے بالترتیب 32 اور26 بچے پولیو سے متاثرہوئے تھے۔ رواں سال اپریل میں قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پولیو کا پہلا کیس رپورٹ ہواجس کے تین ماہ کے اندر اندر وہاں 12 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔اس تشویشناک صورتحال کے باعث حکومت نے رواں سال کے دوران چھ جنوبی اضلاع بنوں- لکی مروت‘ شمالی وزیرستان‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ٹانک اور جنوبی وزیرستان میں خصوصی انسداد پولیو مہمات بھی چلائیں تاہم خاطرخواہ کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آسکے اور روزبروز پولیو کے نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا: پولیو ٹیم پرنامعلوم مسلح افراد کا حملہ،2 پولیس اہلکار جاںبحق

    خیبرپختونخوا: پولیو ٹیم پرنامعلوم مسلح افراد کا حملہ،2 پولیس اہلکار جاںبحق

    وزیراعظم شہباز شریف نے ٹانک میں پولیو ورکرز کی ٹیم پر دہشت گردوں کی فائرنگ کی شدید مذمت، شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف نے ٹانک کے علاقے کوٹ اعظم کچی آبادی میں سپاہی پیر رحمن اور سپاہی نثار خان کی شہادت پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے، وزیراعظم نے شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پولیس نے عظیم قربانیاں دی ہیں، شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں
    پولیو ورکرز پر حملہ کرنے والے قوم کے بچوں کو معذور بنانا چاہتے ہیں قوم کے بچوں کی صحت کے دشمنوں کا خاتمہ کرکے دم لیں گے وزیراعظم نے شہدا کے بلندی درجات اور اہل خانہ کے لئے صبر جمیل کی دعا کی

    خیبر پختونخوا کے علاقے ٹانک میں پولیو ٹیم پرنامعلوم مسلح افراد کا حملہ، 2 پولیس اہلکار جاںبحق ہو گئے،پولیو ٹیمیں کوٹ اعظم میں بیماری سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں مصروف تھیں کہ مسلح افراد نے حملہ کردیا۔ پولیس کے مطابق کوٹ اعظم میں بیماری سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں مصروف تھیں کہ مسلح افراد نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئےجاں بحق ہونے والے اہلکاروں میں کانسٹیبل پیر رحمٰن اور نثار شامل ہیں، جن کی لاشیں اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی۔ دریں اثنا شواہد اکٹھے کرکے عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ کراچی، حیدرآباد اور جنوبی خیبرپختونخوا کے 6 اضلاع بنوں، لکی مروت، شمالی و جنوبی وزیرستان، ڈی آئی خان اور ٹانک میں قومی انسداد پولیو مہم کا گزشتہ روز آغاز ہو گیا۔ وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کے مطابق 22 سے 26 اگست تک ملک کے دیگر علاقوں میں بھی پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم شروع کی جائے گی۔کراچی، حیدر آباد اور خیبرپختونخوا کے 6 اضلاع میں پولیو مہم 24 اگست تک جاری رہے گی جبکہ بلوچستان میں پولیو مہم 29 اگست سے 4 ستمبر تک جاری رہے گی۔

    قبل ازیں جون میں شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں پولیس ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے پولیو ٹیم پر فائرنگ کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے ہمیشہ جانیں قربان کیں،شہدا کو خرج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

    وفاقی وزیر صحت نےکہا تھا کہ فرنٹ لائن ہیروز اورسیکیورٹی اہلکاروں نے ہمیشہ ثابت قدمی اور جرات کے ساتھ مشن کو جاری رکھا،ہمیں ہر بچے تک ویکسین کی رسائی ممکن بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا،چیلنجز کے باوجود پاکستان کو پولیو فری بنانے کا ہدف حاصل کریں گے۔

  • نیویارک :شہر میں پولیو تیزی سے پھیلنے کا خطرہ

    نیویارک :شہر میں پولیو تیزی سے پھیلنے کا خطرہ

    امریکی شہر نیویارک میں پولیو کی شہریوں میں تیزی سے منتقلی شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک کے ہیلتھ حکام نے خطرناک وائرس پولیو کی ممکنہ کمیونٹی ٹرانسمیشن کے خطرے کے پیشِ نظر جمعرات کو ان بچوں اور بڑوں کو خبردار کیا جنہوں نے اب تک پولیوکی حفاظتی ویکسین نہیں لگوائی۔

    امریکا میں منکی پاکس وائرس بے قابو ،حکومت کا ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ

    حکام نے بتایا کہ پولیو وائرس اب نیویارک شہر کے شمال میں دو ملحقہ کاؤنٹیز میں گندے پانی کے سات مختلف نمونوں میں پایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وائرس کمیونٹی میں پھیل رہا ہے جبکہ اب تک پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    نیویارک اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ کے مطابق، جون اور جولائی کے دوران اورنج کاؤنٹی میں دو مختلف مقامات سے لیے گئے گندے پانی کے نمونے وائرس کے لیے مثبت پائے گئے۔

    یہ نتائج راک لینڈ کاؤنٹی میں ایک غیر ویکسین شدہ بالغ بالغ کو پولیو کا شکار ہونے کے بعد سامنے آئے، اسے فالج کا سامنا کرنا پڑا اور اسے گزشتہ ماہ ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ پولیو بعد میں راک لینڈ کاؤنٹی کے گندے پانی کے نمونوں میں پایا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ایک کیس سامنے آنے کے بعد شہریوں کو محتاط رہنا چاہیے کہ اس سے دوسرے لوگ بڑی تعداد میں متاثر ہو سکتے ہیں۔

    نیویارک کے سیوریج میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف

    روکلینڈ کاؤنٹی میں بالغ کو پکڑا گیا پولیو تناؤ بتاتا ہے کہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ امریکہ میں شروع نہیں ہوا تھا۔ انفرادی طور پر جو تناؤ ہوا ہے اسے زبانی پولیو ویکسین میں استعمال کیا جاتا ہے، جس میں وائرس کا ہلکا ورژن ہوتا ہے جو اب بھی پھیل سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا میں تقریباً ایک دہائی بعد پولیو کا پہلا کیس سامنے آیا تھا پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن اسے ویکسین کے ذریعے روکا جا سکتا ہے یہ زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتا ہے جو پٹھوں کی کمزوری اور فالج جبکہ انتہائی سنگین صورتوں میں مستقل معذوری اور موت کا سبب بنتا ہے۔

    نیو یارک میں پولیو کا کیس جینیاتی طور پر راک لینڈ کاؤنٹی کے گندے پانی کے نمونوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور برطانیہ میں لندن کے بڑے یروشلم علاقے کے نمونوں سے جڑا ہوا ہے۔ برطانیہ میں صحت کے حکام نے جون میں لندن کے سیوریج کے نمونوں میں پولیو کا پتہ چلنے کے بعد اسے قومی واقعہ قرار دیا تھا۔

    دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    نیویارک کے ریاستی محکمہ صحت نے کہا کہ نیو یارک والوں کو معلوم ہونا چاہیےکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ راک لینڈ کاؤنٹی، نیویارک میں شناخت کیے گئے انفرادی کیس کی اسرائیل یا برطانیہ کی سفری تاریخ ہے۔

    سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق، 1979 کے بعد سے امریکہ میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے اور اس وقت سے ملک کو پولیو سے پاک سمجھا جاتا ہے۔ پولیو نے 1940 کی دہائی میں ویکسین دستیاب ہونے سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر خوف پھیلایا تھا۔ سی ڈی سی کے مطابق، اس وقت کے دوران وائرس نے ہر سال 35,000 سے زیادہ افراد کو معذور کیا۔

    لیکن 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں ایک کامیاب ویکسینیشن مہم نے ڈرامائی طور پر انفیکشن کی تعداد کو کم کیا۔ امریکہ میں پولیو کے کیسز اب بھی رپورٹ ہوتے ہیں، لیکن ان کا تعلق ان مسافروں سے ہے جو ملک میں وائرس لاتے ہیں۔ راک لینڈ کاؤنٹی میں یہ کیس 2013 کے بعد پہلی بار ہے جب امریکہ نے انفیکشن کی تصدیق کی ہے۔ نیویارک کی ریاست نے آخری بار 1990 میں انفیکشن کی تصدیق کی تھی۔

    پاکستان کے 7 شہروں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق،کئی شہروں کے رزلٹ…

  • لکی مروت سے پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد13ہوگئی

    لکی مروت سے پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد13ہوگئی

    لکی مروت:صوبہ خیبرپختونخوا کے جنوبی ڈویژن بنوں کے دوسرے ضلع لکی مروت میں بھی ایک ڈیڑھ سالہ بچہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد رواں سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ کر13 ہوگئی جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پولیو سے اب تک12 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی ، جبکہ جنوبی ضلع لکی مروت میں رواں سال یہ پولیو کا پہلا کیس ہے جو ایک ڈیڑھ ماہ کے بچہ میں رپورٹ ہوا ہے۔

     

     

    واضح رہے کہ گزشتہ سال 2021کے دوران پولیو کا صرف ایک کیس بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہواتھا جبکہ سال 2020 میں ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 84 اور سال 2019 میں پولیو کی موذی مرض سے سب سے زیادہ 147 بچے متاثر ہوئے تھے۔

    سال 2020 کے دوران پولیو سے کل 84 متاثرہ بچوں میں سب سے زیادہ 25 کا تعلق بلوچستان سے تھا جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں متاثرہ بچوں کی تعداد23 ‘ صوبہ سند ھ میں 22 اور صوبہ پنجاب میں متاثرہ بچوں کی تعداد 14تھی۔

    سال 2019 میں ملک بھر میں کل 147 بچے پولیو سے متاثرہوچکے تھے جن میں سب سے زیادہ 93 کا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا سے تھا جن میں صوبہ کے جنوبی اضلاع لکی مروت اور بنوں سے بالترتیب 32 اور26 بچے پولیو سے متاثرہوئے تھے۔ رواں سال اپریل میں قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پولیو کا پہلا کیس رپورٹ ہواجس کے تین ماہ کے اندر اندر وہاں 12 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔اس تشویشناک صورتحال کے باعث حکومت نے رواں سال کے دوران چھ جنوبی اضلاع بنوں- لکی مروت‘ شمالی وزیرستان‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ٹانک اور جنوبی وزیرستان میں خصوصی انسداد پولیو مہمات بھی چلائیں تاہم خاطرخواہ کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آسکے اور روزبروز پولیو کے نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔

  • دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    امریکا میں دس سال بعد پولیو کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے "روئٹرز” کے مطابق امریکا کی ریاست نیویارک کے نواحی علاقے میں رہنے والے ایک نوجوان شخص میں پولیو کی تشخیص ہوئی ہے ریاست نیو یارک کی راک لینڈ کاؤنٹی میں رہنے والے مذکورہ شخص کو تقریباً ایک ماہ قبل فالج ہوا تھا۔

    نیویارک کے محکمہ صحت نے جاری بیان میں کہا ہے کہ پولیو کا یہ کیس انتہائی متعدی ہے جو امریکہ سے باہر کہیں اور پیدا ہوا تھا۔

    ہیلتھ کمشنر ڈاکٹر پیٹریسیا روپرٹ کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کو درپیش کسی بھی خطرے کے پیش نظر مذکورہ شخص کے اہل خانہ اور ان تمام افراد کا سروے کیا جا رہا ہے جن کے ساتھ قریبی رابطے تھے مریض اب پولیو کے جراثیم پھیلانے کے قابل نہیں رہا نوجوان شخص کو پولیو کی ویکسین نہیں لگی ہوئی تھی اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ راک لینڈ کا یہ رہائشی اس وائرس سے کب اور کہاں متاثر ہوا۔

    ہیلتھ کمشنر کے مطابق پولیو کا یہ کیس وائرس کی ایک کمزور قسم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو دراصل بیرون ممالک میں استعمال ہونے والی ویکسین میں موجود ہوتا ہے جو کبھی کبھی انفیکشن بھی پیدا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں اس ویکسین کا استعمال سال 2000 میں بند کر دیا گیا تھا۔

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق متعلقہ شخص آرتھوڈوکس یہودی کمیونٹی کا رکن ہے جس میں سال 2018 اور 2019 کے درمیان خسرے کی وبا بھیلی تھی۔ اس وبا کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انتہائی کم افراد نے ویکسین لگوائی ہوئی تھی۔

  • پانچ روزہ انسداد پولیو مہم آج سے شروع

    پانچ روزہ انسداد پولیو مہم آج سے شروع

    پانچ روزہ انسداد پولیو مہم آج سے شروع ہوگئی، ایک کروڑ 26 لاکھ بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : وزیرصحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ 25 اضلاع پولیو کے حوالے سے حساس قرار دیئے گئے ہیں۔ حساس اضلاع میں تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلایں جائیں گے، معاشرے کا ہر طبقہ پولیو کے خاتمے کیلئے حکومت کا ساتھ دے۔

    شمالی وزیرستان: سیکیورٹی فورسزسے جھڑپ میں 7 دہشت گرد ہلاک:پاک فوج کے دوجوان شہید

    عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ باقی اضلاع میں مخصوص یونین کونسل میں مہم ہو گی، مہم میں ایک لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جاکر بچوں کو حفاظتی قطرے پلوائیں گے۔ حکومت نے پولیو کے خاتمے کیلئے موثر اور مربوط حکمت ترتیب دی ہے، پولیو کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

    واضح رہے کہ ملک میں رواں سال وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے جب کہ گزشتہ سال خطرناک وائرس کا ملک میں صرف ایک کیس سامنے آیا تھا۔

    صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان ان 4 ممالک میں شامل ہے جہاں وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی) کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، پاکستان کے علاوہ ان ممالک میں افغانستان، موزمبیق اور ملاوی شامل ہیں۔

    اس سال پاکستان میں سامنے آنے والے تمام پولیو کیسز شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں، رپورٹ ہونے والے 11 کیسز میں سے 8 کا تعلق صرف میر علی کےعلاقے سے ہے مستقل معذوری کا باعث بننے والی بیماری وائلڈ پی وی کا تازہ ترین شکار 8 ماہ کا بچہ ہےجس کا جسم مفلوج ہو گیا ہے۔

    پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پرکوئی پیشرفت نہیں ہوئی:وزیراعظم مداخلت کریں، وسیم اختر

     

    وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کے عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پولیو پروگرام کی جانب سے کیے گئے ہنگامی اقدامات کے باعث خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں وائرس اب تک قابو میں ہے۔

    وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں پورے ملک کے تعاون کی ضرورت ہے اگر ہر خاندان ہر مرتبہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کے صرف 2 قطرے پلائے تو ہم تمام بچوں کو اس خطرناک وائرس سے بچا سکتے ہیں۔

    وفاقی وزیر صحت نے روایتی ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، مذہبی اسکالرز اور معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام میں پولیو ویکسین کے بارے میں شعور بیدار کرنے میں کردار ادا کریں۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاک آرمی پر فخر ہے،علامہ طاہر محمود اشرفی

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پولیو وائرس کے عالمی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بنائے گئے انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشن (2005) کے تحت ہنگامی کمیٹی کے 32ویں اجلاس سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی۔

    گزشتہ ہفتے منعقد کیے گئے اجلاس میں ڈبلیو پی وی ون اور پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے جاری ویکسین مہم (سی وی ڈی پی وی) سے حاصل ہونے والے پولیو ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران افغانستان، جمہوریہ ری پبلک کانگو، اسرائیل، ملاوی، مقبوضہ فلسطین اور پاکستان کی صورتحال کے بارے میں ٹیکنیکل اپ ڈیٹس حاصل کی گئیں جب کہ اجلاس میں اریٹیریا اور یمن کی جانب سے وائرس سے متعلق تحریری اپڈیٹ فراہم کی گئی۔

    جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے موزمبیق میں سامنے آنے والے دوسرے ڈبلیو پی وی ون کیس پر تشویش کا اظہار کیا جب کہ ملاوی میں وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا، دونوں کیسز کی جینیٹک سیکوئینسنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کیسز پاکستان، افغانستان سے جولائی 2019 اور دسمبر 2020 کے درمیان درآمد ہوئے ہوئے۔

    ملک میں الیکشن فوری ہونے چاہئیں، اس سے پہلے ریفارمز ضروری ہیں: سراج الحق

  • کئی دہائیوں بعد برطانیہ میں پولیووائرس کی موجودگی:وارننگ جاری کردی گئی

    کئی دہائیوں بعد برطانیہ میں پولیووائرس کی موجودگی:وارننگ جاری کردی گئی

    لندن:کئی دہائیوں بعد برطانیہ میں پولیووائرس کی موجودگی:وارننگ جاری کردی گئی ،اطلاعات کے مطابق کئی دہائیوں میں پہلی بار ملک میں وائرس کا پتہ چلنے کے بعد برطانیہ میں پولیو ویکسین کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ادھر اس وارننگ کے جاری ہونے کے بعد محکمہ صحت بھی کورونا کی وبا کے دباو کے دوران پریشان دکھائی دے رہا ہے

    اس سلسلے میں برطانوی نظام صحت سے متعلقہ ادارے یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKHSA) نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ معمول کی نگرانی کے دوران مشرقی اور شمالی لندن میں جمع کیے گئے سیوریج کے نمونوں میں وائرس کا پتہ چلا۔

    پاکستان میں پولیو کیسز کا خطرہ بدستورموجود ہے:یونیسیف

    اس ادارے نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اس وائرس کی موجودگی پائے جانے کے بعد ملک میں صحت کے حوالے سے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا جاتا ہے ، نظام صحت سے متعلقہ یہ برطانوی ایجنسی شہریوں کو خبردار کرتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ویکسین کے ساتھ تازہ ترین ہیں۔

    اس ادارے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا، "عوام کے تحفظ کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جن پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پولیو ویکسین اپ ٹو ڈیٹ ہیں، خاص طور پر چھوٹے بچوں کے والدین جنہوں نے حفاظتی ٹیکے لگوانے میں سُستی کا مظاہرہ کیا ہے

     

    پاکستان کوپولیوسے پاک ملک دیکھناچاہتے ہیں،سلمان رفیق

    برطانوی نظام صحت سے متعلقہ ادارے یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بیماری کے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوئے ہیں اور وسیع تر عوام کے لیے خطرہ کم سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ وائرس آلودہ خوراک، پانی اور ہاتھوں کی ناقص صفائی سے پھیل سکتا ہے۔ نے کہا کہ اس وقت تحقیقات جاری ہیں، اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا یہ وائرس کمیونٹی میں منتقل ہو رہا ہے۔

    شمالی وزیرستان میں پولیو کا ایک اورکیس سامنے آگیا

    اب تک، سائنسدانوں نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ یہ وائرس "ماخوذ کردہ ویکسین”، پولیو وائرس کی قسم 2 میں تیار ہوا ہے۔وائرس کا یہ تناؤ کبھی کبھار فالج سمیت سنگین ضمنی اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم، ویکسین خطرے کو کم کر سکتی ہیں۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ طور پر علاقے میں "قریبی طور پر جڑے افراد” کے ذریعے پھیل گیا ہے، جو اب وائرس کو اپنے پاخانوں میں بہا رہے ہیں۔