Baaghi TV

Tag: پیٹرولیم مصنوعات

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر 55 ارب 48 کروڑ روپے کی سبسڈی کی منظوری

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر 55 ارب 48 کروڑ روپے کی سبسڈی کی منظوری

    اسلام آباد:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر 55 ارب 48 کروڑ روپے کی سبسڈی کی منظوری دے دی گئی۔

    اباغی ٹی وی : وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا ای سی سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم تا 15مئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے پر سبسڈی دی جائےگی، سبسڈی کی رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو دی جائے گی۔

    وزیراعظم کی آصف زرداری اورمولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں،پیٹرولیم قیمتوں پر مشورہ مانگ لیا

    اس کے علاوہ ای سی سی اجلاس میں دو لاکھ ٹن کھاد درآمد کرنے کی سمری بھی منظور کرلی گئی، کھاد حکومتی بنیادوں یا مؤخر ادائیگیوں پر درآمد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جن میں موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال سے متعلق غور کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سابق صدر آصف زرداری اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق تجاویز مانگ لیں۔

    بلاول بھٹوکا بحثیت وزیر خارجہ پہلا دورہ، 18 مئی کو امریکہ روانہ ہوں گے

    جبکہ گزشتہ روزوفاقی حکومت نےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقراررکھنےکا اعلان کیا تھا وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق باضابطہ طور پر نوٹی فکیشن جاری کیا جس کے تحت قیمتوں کا تعین آئندہ 15 روز کے لیے کیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے تحت پیٹرول کی قیمت 149 روپے 86 پیسے برقرار رہے گی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 144 روپے 15 پیسے فی لیٹر رہے گی جبکہ مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت 125 روپے 56 پیسے برقرار رہے گی اور اسی طرح لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت بھی 118 روپے 31 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ۔

    اداکارعدنان صدیقی کی نواز شریف سے ملاقات

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لٹر اورڈیزل میں 15 روپے فی لٹر اضافے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق آج اہم فیصلہ متوقع ہے اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری آج حکومت کو بجھوائی جائے گی۔

    حج درخواستوں کی وصولی کا عمل مکمل، قرعہ اندازی کل ہو گی

    ذرائع کے مطابق آئندہ 15 روز کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے گی سبسڈی کو مرحلہ وار ختم کر تے ہوئے پہلے مرحلے میں پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لٹر اور ڈیزل میں 15 روپے فی لٹر اضافے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہناہےکہ حکومت فی لیٹرپیٹرول پر 29 روپے60 پیسے سبسڈی دیتی ہے اور 16 مئی سے فی لیٹرپیٹرول پرسبسڈی کی یہ رقم 45 روپے14پیسے تک پہنچ جائے گی، ساری سبسڈی ختم کریں تو فی لیٹر پیٹرول 45روپے 15 پیسے بڑھانا پڑے گا جس کے نتیجے میں فی لیٹرپیٹرول 195روپےکا ہوجائےگا۔

    ذرائع کےمطابق اس وقت ڈیزل پرفی لیٹر سبسڈی 73روپے 4 پیسے ہے اور 16 مئی سے ڈیزل پر سبسڈی 85 روپے 85 پیسے تک پہنچ جائے گی جب کہ مکمل سبسڈی ختم کرنے سے ڈیزل کی قیمت 230روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔

    ماڈل ایان علی عمران خان پر برس پڑیں،کھری کھری سنا دیں

    ذرائع نے بتایاکہ مٹی کے تیل پر فی لیٹر سبسڈی 43 روپے 16 پیسے ہے اور 16 مئی سے مٹی کے تیل پر فی لیٹر سبسڈی50.44 روپے ہوجائے گی، اسی طرح مٹی کے تیل پر سبسڈی ختم کرنے سے اس کی قیمت 176 روپے ہوجائے گی۔

    ذرائع کے مطابق لائٹ ڈیزل آئل پر اس وقت فی لیٹر سبسڈی 64.70 روپے ہے اور 16 مئی سے یہ سبسڈی 68 روپےفی لیٹر ہوجائے گی، اسی طرح لائٹ ڈیزل کی مکمل سبسڈی ختم ہونے سے فی لیٹر قیمت 186 روپے 31 پیسے ہوجائے گی۔

    ذرائع کا کہناہےکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری بھی پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں اضافے کاباعث ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزارت خزانہ وزیراعظم کی مشاورت سے کرے گی۔

    سیالکوٹ: پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں،شہباز گل کی شدید مذمت، شفقت محمود کی حکومت کو…

    یا درہے کہ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول کی سبسڈی کو محدود کیا جائے اور پیٹرول پر جنرل سبسڈی ختم کی جائے ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کو بجلی مہنگی کرنے کا پلان دے چکا ہے، بجلی مہنگی کرنے کے پلان پر عمل درآمد کرنا ہو گا آئی ایم ایف کو بجلی کے نقصانات کم کرنے کے لیے ایکشن پہلے دے چکے ہیں، اب بجلی کے نقصانات کم کرنے کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔

    اہم فیصلے کرلیے، آئندہ 48 گھنٹوں میں عوام کو اعتماد میں لیں گے،خواجہ آصف

  • بجلی کی قیمت میں فی یونٹ فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم حکومت ادا کرے گی،حماد اظہر

    بجلی کی قیمت میں فی یونٹ فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم حکومت ادا کرے گی،حماد اظہر

    اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر بجلی کی قیمت میں 4 سے 5روپے فی یونٹ فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم حکومت ادا کرے گی۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹوئٹ میں حماد اظہر نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر، فیول لاگت کی ایڈجسٹمنٹ جو بجلی کے بلوں میں (درآمدی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے) پچھلے چند مہینوں سے 4-5 روپے فی یونٹ تک کی گئی ہیں-


    انہوں نے کہا کہ پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں دس روپے فی لیٹر کمی مختصر مدت کیلئے لیوی کم کر کے کی جائے گی جبکہ قیمت کو لمبے عرصے تک کم رکھنے کے لئے حکومت سبسڈی دے گی۔

    میرے خطاب سے پہلے عوام کو خوش خبری کیوں سنائی؟ وزیراعظم پرویز خٹک سے سخت ناراض


    اس سے قبل وزارت توانائی نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کے حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‏ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی یا اضافہ نیا ہوتا ہے، جو ایندھن کی قیمت کے تناسب سے تبدیل کیا جاتا ہےعالمی منڈی میں تیل اور دوسرے ایندھن کی قیمتوں کا ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر براہ راست اثر پڑتا ہے، فیول ایڈجسٹمنٹ سے بجلی کی قیمت پر کوئی مستقل اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ بجلی کی قیمت میں مستقل تبدیلی نہیں ہ۔

    وزارتِ توانائی نے کہا تھا کہ محض قیمت میں ردوبدل ہے نہ کہ مستقل اضافہ ، ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے فیصلے کی بنیاد بھی عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

    عدم اعتماد کا خوف یا کچھ اور،وزیراعظم کا اہم ترین شخصیت سے رابطہ

    قبل ازیں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک روپے سے 10 روپے فی لیٹر تک کمی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تفصیلات کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کا اطلاق آج رات سے 15 مارچ 2022 تک ہوگا۔

    وزارت خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 10 روپے فی لیٹر کم، مٹی کا تیل ایک روپے لائٹ ڈیزل آئل پانچ روپے 66 پیسے فی لیٹر کم ہوگیا۔

    میرے خطاب سے پہلے عوام کو خوش خبری کیوں سنائی؟ وزیراعظم پرویز خٹک سے سخت ناراض

    نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 159.86 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر149.86 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 154.15 روپے فی لیٹرسے کم ہوکر 144.15 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

    جبکہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 123 روپے 97 پیسے سے کم ہوکر 118 روپے 31 پیسے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت 126 روپے 56 پیسے سے کم ہوکر 125 روپے 56 پیسے تک پہنچ گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 10، 10 روپے اور بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 5 روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مستقبل میں قیمتوں میں اضافہ بھی نہیں کریں گے۔

    پیکا قانون سےآزادی صحافت متاثرنہیں ہورہا پیکا ترمیمی آرڈینس بہت ضروری ہے،وزیراعظم

  • وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی

    وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گِل نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری کو مسترد کردیا۔

    باغی ٹی وی : شہباز گِل نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اس وقت کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے شہباز گِل نے مزید کہا کہ اس وقت حکومت اس بڑھتی قیمت کا بوجھ اپنے اوپر لے گی اور عوام کو اس سے بچانے کی کوشش کرے گی وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول 11 روپے، ڈیزل 14 روپے فی لیٹر بڑھانے کی سمری کو منظور نہیں کیا-

    سال نو کا دوسرا ماہ ،حکومت کی جانب سے ایک بار پھر "پٹرولیم بم” کا تحفہ…


    شہباز گِل نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ پوری دنیا میں بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں پاکستانی عوام کو اس مہنگائی سے بچانے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی، اس لئے وزیراعظم نے اس سمری کو مسترد کردیا پٹرولیم پراڈکٹس کی قیمتوں میں اسوقت کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    واضح رہے کہ اس سے قبل اوگرا نے آئندہ 15 روزکے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی سفارشات کی تھی ملک میں پہلے ہی مہنگائی کی پسی عوام پراب پیٹرول بم گرائے جانے کی تیاریاں جاری تھیں، اور امکان ظاہر کیاجارہا ہے تھا کہ آج رات سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس لیے اوگرا نے اپنی سفارشات وزارت پیٹرولیم کو بھجوا دی تھی۔

    تکذیب نکاح کی اپیل مسترد: عدالت نے اداکارہ میرا کوعتیق الرحمان کی بیوی قرار دیدیا

    ذرائع نے بتایا کہ اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 روپے 50 پیسےفی لیٹرتک اضافہ کی سمری بھجوائی، اور سمری میں پیٹرول 5 روپے 50 پیسے، ڈیزل 7 روپے فی لیٹر، مٹی کا تیل 9 روپے 50 پیسے اورلائٹ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لٹراضافہ کی سفارش کی گئی تھی آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیے جانے کا امکان تھا۔

    تھائی ایئرویز کا پاکستان کیلئے فلائٹ بحالی کا اعلان،شیڈول جاری

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا پٹرول کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔

    سونے کی قیمت میں اضافہ


    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 3،3 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پٹرول کی نئی قیمت 147 روپے 83 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی –

    مری میں سیاحوں کے داخلے کی مشروط اجازت

    ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 144 روپے 62 پیسے ہو گئی ہے ، مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی تین روپے جب کہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 33 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے نوٹی فکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمت 116.48 جب کہ لائٹ ڈیزل کی قیمت 114.54 روپے ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گا۔

    ہائی کورٹ نے ریپ کیس میں متاثرہ کمسن بچی کا بیان بھی قابل تسلیم گواہی قراردیا

    دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی پر ردعمل سامنے آیا ہے چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئےحکومت سے نجات ضروری ہےعوام 27 فروری کو اسلام آباد کیلئے نکلیں گے اور عمران خان سے حساب لیں گےپیپلزپارٹی کا لانگ مارچ عوام کو اسی مہنگائی سے نجات دلانے کیلئے ہے-

    بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پیٹرول مہنگا، بجلی مہنگی، گیس مہنگی، عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے،پاکستان کے فیصلے بیرون ملک میں ہورہے ہیں عمران خان نے ملک آئی ایم ایف کو گروی رکھ دیا ہے-

    آئمہ بیگ ٹیکس نادہندہ،گاڑی ضبط کرنے کا نوٹس جاری

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عوام پر پڑیں گے،پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی جیب پر ڈاکا ہے،بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کا معاشی قتل ہے-

    صدر مملکت نے فنانس ضمنی بل 2022 کی منظوری دے دی

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار،خوشخبری 15 دسمبرکوسنائی جائے گی

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار،خوشخبری 15 دسمبرکوسنائی جائے گی

    لاہور:پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار،خوشخبری 15 دسمبرکوسنائی جائے گی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 15 دسمبر تک کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پٹرول کی قیمت 145 روپے 82 پیسے فی لٹر پر برقرار رہے گی۔ ڈیزل کی قیمت 142 روپے62 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت116 روپے 53 پیسے فی لٹر برقرار رہے گی۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 114 روپے 7 پیسے فی لٹر کی سطح پر برقرار رہے گی۔

     

     

     

    اس سے قبل اوگرا نے دسمبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 14 روپے 31 پیسے فی کلو گرام کمی کی گئی ہے، 11.8 کلو کا گھریلو سلنڈر 168 روپے 90 پیسے سستا ہوگیا ہے۔ ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم دسمبر 2021ء کیلئے ہے۔

     

     

    ایل پی جی کی ایک کلوگرام کی نئی قیمت 216 روپے 89 پیسے مقرر کر دی گئی ہے، گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 2390 روپے 44 پیسے مقرر کی گئی ہے۔یاد رہے کہ نومبر میں ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 2559 روپے 35 پیسے کا تھا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دنیا نیوز کے پروگرام ’دنیا کامران خان کے ساتھ‘ کا ایک ویڈیو کلپ ری ٹویٹ کیا تھا۔

    ٹویٹر پر شیئر کیے گئے کلپ کے کیپشن میں مزمل اسلم نے لکھا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہو کر 72.91ڈالرفی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

    مزمل اسلم نے لکھا کہ اللہ پاکستان پر مہربان ہے، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر 15 دسمبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کےتعین میں نظر آئےگا۔ یقینی طور تیل کی قیمتوں میں کمی درآمدات اور آئندہ قیمتوں پر اثر انداز ہو گی۔

     

  • پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھنے کا انتظار،سیل روکے رکھی

    پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھنے کا انتظار،سیل روکے رکھی

    قصور
    پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھنے کا انتظار،قصور کے بیشتر پیٹرول پمپوں پر کل سارا دن پیٹرول کی سیل بن رکھی گئی،عوام بائیکس کو دھکے لگا کر لیجاتے رہے

    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں بیشتر پیٹرول پمپوں پر پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر پیٹرول فروخت نا کیا گیا تاکہ سٹاک شدہ پیٹرول کو مہنگے داموں فروخت کرکے خوب نفع لیا جائے
    پیٹرول کی عارضی قلت سے لوگ اپنی بائیکس کو دھکا لگا کر لیجاتے رہے مگر لالچ کے مارے بیشتر پیٹرول پمپ مالکان کی غیرت نا جاگی
    اس ساری صورتحال پر ضلعی انتظامیہ بھی حسب سابق کی طرح خاموش ہی رہی جبکہ شہری بیچارے خوب ذلیل ہوتے رہے
    اب پیٹرولیم مصنوعات کی نئی بڑھی ہوئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی سیل دوبارہ شروع کر دی گئی ہے
    شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ گورنمنٹ میں جس قدر بلیک مارکیٹنگ کی جارہی ہے ماضی میں اس قدر نا تھی اور گورنمنٹ بھی ان بلیک میلروں کو ہاتھ ڈالنے سے قاصر ہے جس کے پیش نظر یوں لگتا ہے کی سارا کچھ حکومتی سرپرستی میں ہو رہا ہے اور یہی کارکردگی پی ٹی آئی قیادت کو لے ڈوبے گی

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قلت،  ذخیرہ اندوزی  اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام  ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قلت، ذخیرہ اندوزی اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا کرنے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور ذخیرہ اندوزی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے بتایا کہ کرونا وباء کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی ڈیمانڈ میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔
    اراکین کمیٹی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات ہر دور میں کسی نہ کسی مسئلے سے دو چار رہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ جہاں پیٹرول کی کمی ہو وہاں اسے نہ صرف پورا کیا جائے بلکہ جو عناصر مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہوں اُن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
    جبکہ ٹاپ کی 12کمپنیز جو اس میگا کرپشن میں شامل تھیں ان کو بلیک لسٹ کیا جائے گا اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا اور جن لوگوں نے باہر کے ممالک میں بیٹھ کر پیسہ لگاہا اور مصنوعی قلت پیدا کی تا کہ وہ اپنی جیبیں بھر سکیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔
    کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم، اوگرا، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعوو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔

  • مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    نئی حکومت کے آتے ہی تجاوزات آپریشن کی آڑ میں ن لیگ پیپلز پارٹی کے بااثر شخصیات سے قبضے واگزار کرانے کے لیے اور اپنی دلی تسکین کے لیے پورے ملک میں تباہی مچا دی گئی مگر اس کا حاصل کیا ہوا کیا ان واگزار کروائی گئی لاکھوں ایکڑ زمین سے کوئی فائدہ مل رہا ہے جبکہ اس کو قانونی طریقے سے بولی کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے لیز پر دے کر اچھی خاصی انکم حاصل کی جاسکتی تھی جبکہ دوسری طرف وہ بے روزگار طبقہ بھی کام میں لگ سکتا تھا جو آج اسی تجاوزات اور واگزار آپریشن میں عام مزدور طبقہ ملازم طبقہ متاثر ہوا ہے۔

    لیکن اس آپریشن سے الٹا لوگ بے روزگار کاروبار تباہ املاک تباہ زمینیں واگزار مگر فائدہ کچھ نا ہوا ہے البتہ کرائم روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے کیونکہ بھوک میں لوگ پھر یا تو مانگ کر کھائیں گے یا چھین کر اور روز روز بھی کون مانگنے پر دیتا ہے۔۔

    اگر وہی سرکاری املاک یا زمینوں یا پتھاروں پر سال چھے ماہ کے لیے ٹیکس لگا دیا جاتا تو اس سے سینکڑوں ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کیا جاسکتا تھا اور ایک سال یا چھے ماہ کا نوٹس دے کر ختم بھی کیا کرایا جاسکتاتھا جس سے نقصان بھی نا ہوتا اور لوگ اپنا کوئی متبادل بھی بنا لیتے یا شفٹ کرلیتے اپنے کاروبار دکانیں وغیرہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ملکی پالیسی یا قانون بنایا جاتا ہے تو پہلے لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ لاگو کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں تو قانون اتنے بنا دیے کہ اب اگر لاگو ہوجائیں تو بندہ ایک دن بھی جی نہیں سکتا کسی نا کسی قانون میں دھر لیا جائے گا اور جو قانون بنتا ہے دوسرے دن لاگو اور عمل درآمد شروع جس سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں

    جبکہ دوسری طرف عوام کو این ٹی این کے چکر میں ڈال کر ذلیل و خوار کر دیا گیا۔ آج نیب اور ایف بی آر کے خوف سے پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتا اور آج کی ایک اور بری خبر بھی آگئی کہ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے

    حکومت نے عوام پر آج یکم اگست 2019 کو ایک اور بم بھی گرادیا ہے۔‏وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سمری منظور کر لی ‏اوگرا کی سفارشات پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ ‏پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافہ۔ ‏پیٹرول کی نئی قیمت 117.83 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 132.47 روپے۔ مقرر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔

    آج اپوزیشن کی کی ہوئی ہر بات سچ ثابت ہوتی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف سے مہنگائی کرنے کی ڈیل کی خبریں بھی سچ ہونے لگیں ہیں جس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت اپنی مقبولیت کھو رہی ہے ہر آنےوالا دن متوسط اور غریب لوگوں پر بم بن کر گر رہا ہے لوگوں میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے

    لوگ ویسے تو ہر دور میں مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں جبکہ جو چیز پاکستان میں ان کو 100 روپے کی ملتی ہے وہی چیز دوبئی میں 500 روپے کی بڑی خوشی کے ساتھ خریدتے نظر آتے ہیں تو اس مہنگائی کا رونا رونے کی اصل وجہ لوگوں کو آج تک شائد سمجھ نہیں آسکی ہے۔ اصل میں مہنگائی کا رونا انسان اس وقت روتا ہے جب اس کے پاس آمدن ۔ انکم ۔ آمدنی ۔ کاروبار ۔ روزگار ۔ ذرائع آمدن نہیں ہوتے اور ضروری خرچے ہی پورے نہیں ہوتے تو وہ مہنگائی مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں اگر ہر انسان کی بنیادی ضروریات اور خرچے بھی پورے نا ہوں تو وہ بے چارے پریشانی کے عالم میں بس مہنگائی مہنگائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن اصل بات کی ان کو سمجھ نہیں آتی ہے۔
    یہی صورتحال آجکل کچھ پاکستان اور اس کی عوام کی ہے جو آپ کو بھٹو دور میں بھی شائد اگر کچھ یاد کرنے پر مہنگائی کا رونا روتی نظر آئی ہوگی تو کبھی بے نظیر بھٹو تو کبھی نوازشریف تو کبھی آصف زرداری تو کبھی عمران خان کے دور میں بھی مہنگائی مہنگائی کا رونا روتی نظر آتی ہے

    ضرورت اس چیز کی ہے کہ حکومت پاکستان ایسے حالات اور پالیسیاں مرتب کرے جس سے ملک میں خوش حالی کا دور دورہ ہو لوگ اپنے اپنے کاموں روزگار کاروبار میں مصروف ترین زندگی گزار رہے ہوں

    یہ محاظ آرائی کی موجودہ پالیسیاں عمران خان اور حکومت کا طریقہ عوام میں اور ملک پاکستان میں افراتفری پریشانی کے سوا کوئی فائدہ نہیں دے رہی ہے۔ عوام کو کوئی پرواہ نہیں ہے کسی بھی کرپٹ یا کسی بھی دہشت گرد کوچاہے کسی کو بھی پھانسی لگا دیں مگر خدارا عوام کو اس پریشانی کے عالم سے نکالیے اب آپ کی لچھے دار تقریریں بھی اچھی نہیں لگتی ہیں اب صرف یہی بات بار بار کر کر کے آپ اچھے نہیں بن سکتے کہ فلاں برا تھا فلاں غلط تھا کچھ کر کے آپ کو اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے جو تاحال عملی طور پر کچھ نا ہوسکا ہے البتہ باتیں بہت بڑی بڑی ضرور ہیں کیونکہ عمران خان صاحب اب تک آپ نے پاکستانی عوام کو کچھ نا دیا ہے البتہ چھینا ضرور ہے اور آپ کے اداروں میں بھی عوام کو ریلیف نہیں مل رہا ان کے کام میرٹ انصاف اور وقت ضائع کیے بغیر نہیں ہو رہے ہیں آج بھی وہی تھانہ کلچر وہی افسر شاہی کلچر وہی کرپشن کلچر وہی لوڈ شیڈنگ وہی سرکاری اداروں میں زلالت اور خواری ہے آج بھی تھانے میں ایم پی اے ایم این اے کی مرضی کے بغیر پولیس والے ایک قدم نہیں اٹھاتے ہیں یا پھر قائد اعظم کی سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا ہے۔ بس صرف رپورٹیں سب اوکے اوکے اوکے کی ضرور کی جا رہی ہوں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام آج جتنی مشکلات پریشانیوں کا شکار ہے لگتا یہی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شائد اتنی نا تھی یا شائد ہم نہیں جانتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی 40 سالا زندگی میں اتنے پریشان لوگ نہیں دیکھے تھے۔۔۔۔۔

    *امید رکھتے ہیں حکومت و حکمرانوں کی آئندہ پالیسیوں کا محور عام آدمی ہوگا اور اس ملک و قوم کی بہتری کے لیے زبانی سے زیادہ عملی اقدامات کیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا