Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • بلاول چاہتے ہیں انکا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے، احسن اقبال

    بلاول چاہتے ہیں انکا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے، احسن اقبال

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے حلقہ پی پی 54 کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کی اجراء کے لیے انٹرویوز کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پارٹی لیڈر شپ اسی ہفتے پنجاب میں ٹکٹ جاری کر دے گی۔انتخابات ہر صورت 8 فروری کو منعقد ہونےچاہیے. پاکستان میں اگرانتخابات کا التوا ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں بے یقینی میں اضافہ ہوگا۔ الیکشن ملتوی ہونے سے پاکستان کی معاشی بحالی کی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کار کم ازکم اگلے پانچ سال کے لیے ایک مستحکم حکومت چاہتے ہیں۔سرمایہ کار چاہتے ہیں ملک کی معاشی پالیسیوں میں تسلسل ہو ۔ہماری معاشی پالیسیوں کے تحت سرمایہ کاری ہوگی ملک میں استحکام ہوگا۔اس وقت پاکستان کے معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ جلد از جلد انتخابات کے نتیجے میں ایک مستحکم اور مضبوط حکومت قائم ہو۔مسلم لیگ ن وہ جماعت ہے جس کے پاس پلان ہے ٹیم ہے جس کے پاس تجربہ بھی ہے۔مسلم لیگ کے پاس ماضی کی کارگردگی بھی ہے۔ بحرانوں سے نکلنےمہنگائی بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے مسلم لیگ ن کا اقتصادی پروگرام پاکستان کو آگے لے جائے گا ۔

    احسن اقبال نے بلاول بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے۔بلاول بھٹو کے بیانات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے ۔بلاول کے والد محترم نے کہا ہے کہ وہ ابھی انڈر ٹریننگ ہے۔بلاول وقت کے ساتھ میچور ہو نگے انہیں اپنی ٹریننگ پر توجہ دینی چاہیے۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

  • آٹھ فروری کے بعد نو فروری بھی آئیگی،پیپلز پارٹی امیدوار کی دھمکی

    آٹھ فروری کے بعد نو فروری بھی آئیگی،پیپلز پارٹی امیدوار کی دھمکی

    عام انتخابات 2024 آٹھ فروری کو ہونے ہیں، الیکشن کے لئے انتخابی مہم جاری ہے، امیدوار جہاں جلسے ،کارنر میٹنگز کر رہے ہیں وہیں ووٹر سے ووٹ بھی مانگے جا رہے ہیں، ایسے میں سانگھڑ سندھ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی دے رہے ہیں.

    سانگھر میں پی پی کے امیدوار علی حسن نے کارنر میٹنگ میں جیالوں‌سے خطاب کیا، انہوں نے ووٹ مانگے ، ساتھ دھمکی بھی دے ڈالی علی حسن کا کہنا تھا کہ پارٹی امیدوار کو ہی کامیاب کروائیں ورنہ ان کے ساتھ حساب ہوگا، ورکرز اور جیالے مہربانی کرکے سیدھے ہو جائیں، پارٹی امیدوار کے ساتھ چلیں اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کروائیں، نہیں تو 8 کے بعد 9 فروری بھی آئے گی، پھر ان کے ساتھ جو حساب ہوگا وہ پورا سانگھڑ دیکھے گا

    پیپلز پارٹی امیدوار کی دھمکی پر الیکشن کمیشن کا نوٹس،
    سوشل میڈیا پر ضلع سانگھڑ سے پیپلز پارٹی کے پی ایس 41 کے امیدوار امیدوار علی حسن ہنگورجو کی وائرل ہونے والی ویڈیو کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا ہے اور اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر سے رپورٹ طلب کی گئی ہے، ویڈیو میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ضلع سانگھڑ سے پی ایس 41 کے امیدوار علی حسن عوام اور کارکنان کو دھمکیاں دیتے دکھائی دے رہے تھے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • امریکی سفیر کی زرداری ہاؤس آمد، بلاول سے ملاقات

    امریکی سفیر کی زرداری ہاؤس آمد، بلاول سے ملاقات

    پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلَوم نےپیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری سے اہم ملاقات کی ہے

    ملاقات کے حوالے سے امریکی سفارتخانہ کے قائم مقام ترجمان تھامس منٹگمری نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے وسیع تر سیاسی شراکت داروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے تسلسل میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلَوم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی، ملاقات کا مقصد آزادانہ ، منصفانہ اور شمولیت پر مبنی انتخابات کی اہمیت سمیت موجودہ سیاسی اُمورپر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ فریقین نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کی اہمیت اور یو ایس پاکستان گرین الائنس فریم ورک میں پیشرفت کے موضوعات پر بھی گفتگو کی،

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے لئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی زرداری ہاؤس آمدہوئی، بلاول بھٹو زرداری اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں فروغ کے حوالے سے بات چیت ہوئی، بلاول بھٹو زرداری اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے درمیان پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات میں فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟،جسٹس منصور

    واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟،جسٹس منصور

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بنچ ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے،بنچ میں جسٹس سردار طارق، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں، جبکہ کیس کی کارروائی براہ راست نشر کی جارہی ہےسماعت شروع ہوئی تو سینیٹر رضا ربانی روسٹرم پر آگئے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالتی معاون ہیں؟رضا ربانی کہا کہ میں عدالتی معاون نہیں لیکن بختاور اور آصفہ کا وکیل ہوں، ہم نے کیس میں فریق بننے کی درخواست جمع کرائی ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہوگیا، اس درخواست کو دیکھتے ہیں۔

    اس کے بعد عدالتی معاون بیرسٹر صلاح الدین احمد روسٹرم پر آگئے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ میری اہلیہ نواب احمد قصوری کی نواسی ہیں، عدالت فریقین سے پوچھ لے کہ میری معاونت پر کوئی اعتراض تو نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اہلیہ نے اعتراض اٹھایا ہے تو پھر بڑا سنجیدہ معاملہ ہے۔

    وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا کو بیرسٹر صلاح الدین پر اعتراض نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میرے والد ڈی جی ایف ایس ایف مسعودمحمود کےبھٹو کیس میں وکیل تھےاگر میرےاوپر بھی کسی کو اعتراض ہو تو بتا دیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پر کسی فریق کو اعتراض نہیں آپ فئیر ہیں اس کا یقین سب کو ہے، عدالتی معاون مخدوم علی خان نے عدالت کو کہا کہ ہم نے کچھ متعلقہ مواد جمع کرایا ہے۔

    اس کے بعد احمد رضا قصوری روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے انہیں بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں، پہلے عدالتی معاون کو بات مکمل کرنے دیں، آپ کو ان کی کسی بات پراعتراض ہے تو لکھ لیں، عدالتی معاون نے بتایا کہ اس صدارتی ریفرنس میں چار سوالات پوچھے گئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے پہلے آپ آئین کا آرٹیکل 186 پڑھیں جس کے تحت یہ ریفرنس بھیجا گیا، کیا ہمارے پاس صدارتی ریفرنس کو نہ سننے کا آپشن ہے؟، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ آئینی طور پر تو عدالت کے پاس ریفرنس پر رائے دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، مگر صدارتی ریفرنس میں پوچھا گیا سوال مبہم ہو تو عدالت کے پاس دوسرا آپشن موجود ہوگا۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اگر عدالت کی رائے ہو کہ سوال مبہم ہے تو بھی عدالت کے پاس آپشن رائے دینا ہی ہوگا، مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے یہ ایک منفرد کیس ہے، چیف جسٹس نے اسی کیس میں ایک انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر رکھا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی طور پر اس ریفرینس کی بنیاد سابق جج نسیم حسن شاہ کا انٹرویو ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ مجھے بھیجا گیا جو وقت کی کمی کے باعث میں نہیں پڑھ سکا اس کے بعد مخدوم علی خان نے سید شریف الدین پیرزادہ کا خط پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کی بہن نے صدر مملکت کو رحم کی اپیل کی تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے بذات خود کوئی رحم کی اپیل دائر نہیں کی تھی-

    عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو چار تین کے تناسب سے پھانسی کی سزا دی گئی، بعد میں ایک جج نے انٹرویو میں کہا کہ میں نے دباؤ میں فیصلہ دیا، عدالت کے سامنے سوال بھٹو کی پھانسی پر عمل کا نہیں ہے، بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ریورس نہیں ہو سکتی، عدالت کے سامنے معاملہ اس کلنک کا ہے۔

    جس پر بینچ میں شامل جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر اس کیس میں عدالت نے کچھ کیا تو کیا ہر کیس میں کرنا ہو گا؟اس پر وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اس ریفرنس کی بنیاد جسٹس نسیم حسن شاہ کا انٹرویو تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز نے انٹرویو کی کاپی بھیجی ہے، انٹرویو شاید ہارڈ ڈسک میں ہے، سربمہر ہے ابھی کھولا نہیں، چیف جسٹس کی اسٹاف کو انٹرویو کی کاپی ڈی سیل کرنے کی ہدایت کردی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہمارے سامنے قانونی سوال کیا ہے؟ کیا ایک انٹرویو کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے کر رائے دے دیں؟ کیا عدالت ایک انٹرویو کی بنیاد پر انکوائری کرے؟ انٹرویو ایک جج کا تھا جبکہ بنچ میں دیگر ججز بھی تھے، کیا ہم انٹرویو سے متعلقہ لوگوں کو بلا کر انکوائری شروع کریں؟

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف ایک انٹرویو کی ویڈیو دیکھ کر تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہوا تھا، آرٹیکل 186 کے تحت عدالت صرف قانونی سوالات پر رائے دے سکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ بھی بتا دیں بھٹو ریفرنس میں آخر قانونی سوال پوچھا کیا گیا ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کا پورا انٹرویو نہیں سن سکتے متعلقہ پارٹ لگا دیں، جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں نے جو سی ڈی جمع کرائی اس میں صرف وہی حصہ ہے جو ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق ہے، اس کے بعد عدالت نے فاروق ایچ نائیک کی جانب سے جمع کرائی گئی سی ڈی لگانے کی ہدایت کی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس وقت ایک شخص کی عزت اور تاریخ کی درستگی دیکھ رہی ہے، عدالت بہتر مثال قائم کرنا چاہتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ایک جج کے انٹرویو سے پوری عدالت کے بارے یہ تاثر نہیں دیا جاسکتا کہ تب عدلیہ آزاد نہیں تھی، دوسرے ججز بھی تھے جنہوں نے اپنے نوٹس لکھے اور اختلاف کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں ایک جج کی رائے کو نظرانداز نہیں کرسکتےذوالفقار علی بھٹو کیس میں بنچ کا تناسب ایساتھا کہ ایک جج کی رائےبھی اہم ہےایک جج کےاکثریتی ووٹ کے تناسب سے ایک شخص کو پھانسی دی گئی، جج صاحب کا یہ انٹرویو کب لیا گیا؟ نوٹ کرلیں 3 دسمبر 2003 کو یہ انٹرویو چلایا گیا۔

    ویڈیو دیکھنے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ فاروق نا ئیک صاحب آپ نے جو ویڈیو فراہم کی وہ غیر متعلقہ ہے، پریشر والی بات کا آپ کی ویڈیو میں کہیں ذکر نہیں، جس پر فارق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ انٹرویو یوٹیوب سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے،عدالت نے جیو ٹی وی کی فراہم کردہ ویڈیو کی کاپی فاروق ایچ نائیک کو دینے کی ہدایت کردی۔

    معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف سے زیادتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اس میں سپریم کورٹ قصور وار ہے؟ یا پھر پراسیکیوشن اور اس وقت کا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر؟

    دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میری نظر میں ہمیں اپنی تاریخ کو درست کرنا چاہیے، کلنک ایک خاندان پر نہیں لگا بلکہ اداروں پر بھی لگ چکا ہے، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ آپ نے بالکل درست بات کی ہے،چیف جسٹس نے معاون مخدوم علی خان کو کہا کہ آپ تحریری معروضات بھی جمع کرا دیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کیس کو انتخابات کے بعد نہ رکھ لیں؟ کیا ہم اگلی سماعت عام انتخابات کے بعد کریں؟

    جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن سے قبل سماعت دوبارہ ہو، جتنی جلد ہو سکے عدالت دوبارہ سماعت کرے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نائیک صاحب پہلے ہی دو الیکشنز گزر چکے ہیں،بعد ازاں سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں صدارتی ریفرنس پر سماعت فروری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی-

  • بھٹو پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس،پیپلز پارٹی نے جواب جمع کروا دیا

    بھٹو پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس،پیپلز پارٹی نے جواب جمع کروا دیا

    سپریم کورٹ،سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ،پاکستان پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    تحریری جواب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ میں جمع کروایا،تحریری جواب میں مختلف کتابوں کے حوالہ جات موجود ہیں،تحریری جواب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی تفصیلات شامل ہیں،تحریری جواب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی یو ایس بی اور سی ڈی بھی جمع کروا دی گئی ،تحریری جواب میں انٹرویو کی انگریزی اور اردو میں ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروائی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ 8 جنوری کو ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت کرے گا,9 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا تھا،جس میں کہا گیا تھا کہ عدالتی معاونین کی تقرری کیلئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی درخواست منظورکر لی گئی، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس میں خالد جاوید خان، صلاح الدین احمد اور زاہد ابراہیم بطور عدالتی معاون مقررکئے گئے ہیں،یاسر قریشی اور ریما عمر کوبھی عدالتی معاون کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاونین کا تقرر آئینی اور قانونی امور میں شرکت کے لیے کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس منظور احمد ملک اور پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس اسد اللہ خان چمکنی کو عدالتی معاون مقررکیا جاتا ہے،دونوں معزز سابق جج صاحبان آئینی و قانونی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں،عدالت دونوں سابق جج صاحبان کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنا چاہتی ہے، دونوں سابق جج صاحبان زبانی یا تحریری طور پر عدالت کی معاونت کرسکتے ہیں،

  • پیپلز پارٹی نے سندھ اور بلوچستان کے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    پیپلز پارٹی نے سندھ اور بلوچستان کے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    پیپلز پارٹی نے الیکشن میں سندھ اور بلوچستان سےقومی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا

    بلاول زرداری دو سیٹوں، لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 194 اور این اے 196 قمبر شہدادکوٹ سے جبکہ آصف علی زرداری شہید بے نظیرآباد سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 207 سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔سابق ایم این اے خورشید شاہ این اے 201 سکھر، شازیہ مری این اے 209 سانگھڑ، نفیسہ شاہ خیرپور کی جنرل نشست این اے 202 سے میدان میں اتریں گی جبکہ شکارپور میں قومی اسمبلی کیلئے غوث بخش مہر کے بیٹے شہریار مہر کو ٹکٹ جاری کیا گیاْ۔

    کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 230 آغا رفیع اللہ، این اے 231 سے عبدالحکیم بلوچ، این اے 242 کیماڑی سے عبدالقادر مندوخیل اور این اے 243 سے عبدالقادر پیٹل الیکشن میں حصہ لیں گے، نبیل گبول کراچی سے این اے 239 اور جام عبدالکریم جوکھیو این اے 229 سے انتخابات لڑیں گے،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 227 دادو سے عرفان لغاری، این اے 228 سے رفیق احمد جمالی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہونگے۔

    صوبائی اسمبلی کیلئے بھی امیدواروں کے نام فائنل کردیے گئے ہیں، سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پی ایس 77 جام شورو، فریال تالپور پی ایس 10 لاڑکانہ، شرجیل انعام میمن پی ایس 61 حیدرآباد اور نثار شاہ پی ایس 25 سکھر سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی پی ایس 9 شکارپور، امتیاز شیخ پی ایس 7 شکارپور، سردار شاہ پی ایس 49 عمر کوٹ، تیمور تالپور پی ایس 51 عمر کوٹ، سعیدغنی پی ایس 105 کراچی اور نجمی عالم پی ایس 110 کراچی سے الیکشن لڑیں گےسابق صوبائی وزیر عذرا پیچوہو پی ایس 36 شہید بے نظیر آباد اور جام خان شورو پی ایس 60 حیدرآباد سے الیکشن لڑیں گے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی نے بلوچستان میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سے امیدواروں کے ناموں کا بھی اعلان کردیا ہے، بی اے پی اور پی ٹی آئی سے پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والی تمام سابق اراکین اسمبلی کو پارٹی ٹکٹس مل گئے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے نوٹیفکیشن کے مطابق این اے 251 سے عبدالباقی مردان زئی، این اے 252 سے اسرار ترین، این اے 254 سے غلام فرید رئیسانی، این اے 256 سے عبدالرحمان زہری، این اے 257 سے عبدالوہاب بزنجو، این اے 259 سے ملک شیر گورگیج پی پی پی کے امیدوار ہونگے۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 261 سے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری، این اے 262 سے محمد رمضان اچکزئی، این اے 263 سے روزی خان کاکڑ، این اے 264 سے جمال رئیسانی، این اے 265 سے خان محمد ترین اور این اے 266 سے نذر محمد کاکڑ پی پی پی کے امیدوار ہونگے۔

    اسی طرح بلوچستان اسمبلی کے حلقے پی بی 1 شیرانی سے عبدالرحمان، پی بی 8 سے سرفراز ڈومکی، پی بی 9 سے نصیب اللہ مری، پی بی 10 ڈیرہ بگٹی سے سرفراز بگٹی، پی پی پی کے امیدوار ہونگے۔بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 13 نصیر اباد سے صادق عمرانی، پی بی 16 جعفرآباد سے چنگیز جمالی، پی بی 18 خضدار سے ثنا اللہ زہری، پی بی 19 خضدار ٹو سے شکیل درانی، پی بی 21 حب سے علی حسن زہری کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے۔بلوچستان کے حلقہ پی بی 23 آواران سے سابق وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو، پی بی 25 کیچ سے ظہور بلیدی، پی بی 32 چاغی سے عارف جان محمد حسنی اور پی بی 45 کوئٹہ سے علی مدد جتک پی پی پی کے امیدوار ہونگے

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

     

  • عوام کی خدمت میرا منشور،بلاول کا خواتین سے خطاب

    عوام کی خدمت میرا منشور،بلاول کا خواتین سے خطاب

    سابق وزیر خارجہ ،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی تین نسلوں سے عوام کی نمائندگی کرتی آرہی ہے ۔میں نفرت و تقسیم کی سیاست کو دفن کر کے عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی لاہور میں خواتین ورکرز کنونشن میں آمد ہوئی، اس موقع پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 96ویں سالگرہ کے موقع پر خواتین کے ہمراہ کیک کاٹا گیا۔اس موقع پر بلاول زرداری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو انقلابی منصوبے لے کر آتی ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح مزدوروں، کسانوں ،نوجوانوں‌کو بینظیر کارڈ دلوائیں گے ، مہنگائی، بے روزگاری غربت عروج پر ہے، ہم لوگوں کی مدد کریں گے،میں نفرت، گالم گلوچ، پرانی سیاست پر یقین نہیں رکھتا، تقسیم، نفرت کی سیاست ختم کرنا چاہتا ہوں، مفت تعلیم، صحت کے ادارے بنانا چاہتا ہوں، خواتین جو آج موجود ہیں گھر گھر جائیں، خواتین سے بات کریں ،پیپلز پارٹی کا منشور ان تک پہنچائیں، جیت تیر کی ہو گی، جیت پیپلز پارٹی کی ہو گی،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خواتین باشعور ہیں، پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا ہے، خواتین کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ملک کو کیا مسائل درپیش ہیں، پیپلز پارٹی عوام کی نمائندہ جماعت ہے، قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے کمزور اور پسماندہ طبقوں کے لیے آواز بلند کی، خواتین پیپلز پارٹی کی سفیر بن کر گھر گھر انتخابی مہم چلائیں، اقتدار میں آئے تو عوام کو 300 یونٹ بجلی مفت فراہم کریں گے، ہم حکومت بناکرغریب خاندانوں کوسہولت دیں گے، میں ملک میں بھوک مٹاؤ پروگرام لانا چاہتا ہوں، غریب بچوں کے لیے مفت معیاری تعلیم چاہتا ہوں

    دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی این اے 127 فیصل ٹاؤن میں سماجی رہنما اور رکن امن کمیٹی سید علی مہدی شاہ کی رہائش گاہ آمد ہوئی، بلاول بھٹو زرداری نے لاہور کی مختلف امام بارگاہوں کے متولیان اور شیعہ برادری کے رہنماؤں سے ملاقات کی،

    خواتین اگر اسی لگن سے کام کرتی رہیں گی تو جیت انشااللہ پیپلزپارٹی کی ہی ہوگی،

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

  • لیگی رہنما پی پی میں شامل

    لیگی رہنما پی پی میں شامل

    لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی-

    باغی ٹی وی: سابق صدر آصف زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو سے ملاقات کے بعد سرگودھا سے تعلق رکھنے والے (ن) لیگ کے رہنمامہر محمد یار خان لک نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کرلی،بلاول ہاؤس میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے پی پی 76 سرگودھا کے یار محمد لک نے ملاقات کی اور مسلم لیگ (ن )چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا،یار محمد لک کی پی پی پی میں شمولیت کے موقع پر پیپلزپارٹی کے ڈویژنل صدر تسنیم احمد قریشی، محسن ملہی، رانا قمر اقبال اور شیخ عمران افضل بھی موجود تھے۔

    پیپلزپارٹی نے الیکشن 2024 کیلئے اپنا ابتدائی شیڈول جاری کردیا

    ایک دہائی سے کسی بھی بھارتی وزیراعظم کی پریس کانفرنس نا کرنے کا انکشاف

    امریکہ کی 9 ریاستوں میں بم کی اطلاعات، سرکاری عمارتوں کو خالی کروا لیا گیا

  • پیپلزپارٹی نے الیکشن 2024 کیلئے اپنا ابتدائی شیڈول جاری کردیا

    پیپلزپارٹی نے الیکشن 2024 کیلئے اپنا ابتدائی شیڈول جاری کردیا

    لاہور: پیپلزپارٹی نے الیکشن 2024 کے لئے اپنا ابتدائی شیڈول جاری کردیا-

    باغی ٹی وی: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں 30 سے زائد جلسے کریں گے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 10 جنوری کو صوابی اور 11 جنوری کو تاندلیاں والا فیصل آباد میں جلسہ کریں گے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 12 جنوری کو لیہ، 13 جنوری کو بہاول پور اور 14 جنوری کو نصیرآباد بلوچستان میں جلسہ کریں گے-

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 14 جنوری کی شام خیرپور میں جلسہ کریں گے جبکہ 15 جنوری کو لاڑکانہ میں انتخابی مہم کے لئے جائیں گے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 16 جنوری کو قمبر شہداد کوٹ جبکہ 17 جنوری کی صبح بدین اور شام میں سانگھڑ میں جلسہ کریں گےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری 18 جنوری کی صبح نوشہرو فیروز جبکہ شام میں میہڑ، دادو میں جلسہ کریں گے-

    دل کی تکلیف پر لندن بھاگنے والوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا،بلاول بھٹو

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 19 جنوری کو رحیم یار خان اور 20 جنوری کو کوٹ ادو میں جلسہ کریں گے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا 21 جنوری کو لاہور میں جلسہ ہوگا چنیوٹ میں 23 جنوری اور سرگودھا میں 24 جنوری کو جلسہ ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 25 جنوری کو لالہ موسی، 26 جنوری کو ملتان اور 27 جنوری کو پشاور میں جلسہ کریں گے-

    ہمارے پاس آئینی نسخہ تیار ہے جس میں تمام مسائل کا حل ہے،ایم کیو ایم

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 28 جنوری کو راولپنڈی، 29 جنوری کو ضلع کرم اور 30 جنوری کو ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ کریں گے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 31 جنوری کو مالاکنڈ اور یکم فروری کو خضدار میں جلسہ کریں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری دو فروری کو دن میں کندھ کوٹ ایٹ کشمور اور شکار پور میں جلسے کریں گے جبکہ شام میں جیکب آباد میں جلسہ ہوگاچیئرمین بلاول بھٹو زرداری تین فروری کو میرپور خاص، چار فروری کو حیدرآباد اور اور پانچ فروری کو کراچی میں جلسہ کریں گے، بلاول بھٹو زرداری چھ فروری کو لاڑکانہ جائیں گے جہاں وہ جلسے سے خطاب کریں گے-

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافہ

  • دل کی تکلیف پر لندن بھاگنے والوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا،بلاول بھٹو

    دل کی تکلیف پر لندن بھاگنے والوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا،بلاول بھٹو

    رائیونڈ: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ رائیونڈ کے لوگوں کو سمجھانا چاہتے ہیں اگر عوامی حکومت بنانی ہے تو یہ ن لیگ نہیں کر سکتی، عوامی حکومت صرف شہیدوں کی جماعت ہی کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی :رائیونڈ میں پارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ رائیونڈ کے لوگوں کو سمجھانا چاہتے ہیں اگر عوامی حکومت بنانی ہے تو یہ ن لیگ نہیں کر سکتی، عوامی حکومت صرف شہیدوں کی جماعت ہی کر سکتی ہے،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ن لیگی قائد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دل کی تکلیف ہوتی ہے تو یہ خود لندن بھاگ جاتے ہیں، اس وقت بھی کہا تھا اتنی دور جانے کی ضرورت نہیں، کراچی آ جائیں ہم نے این آئی سی وی ڈی بنایا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نفرت، گالم گلوچ اور تقسیم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، عوام سے پوچھیں کیا وہ بجلی کا بل دے سکتے ہیں جواب نہیں میں ملے گا، ہمارا دس نکاتی ایجنڈا عوام دوست اور ہم ن لیگ اور پی ٹی آئی کی طرح جھوٹے وعدے نہیں کرتے۔

    امریکا میں مسجد کے باہر فائرنگ سے پیش امام شہید

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وعدے ہے پنجاب کے ہر اضلاع میں مفت اور معیاری علاج کی فراہمی یقینی بنائیں گے، کیا انہوں نے پنجاب میں علاج کی معیاری سہولتیں دیں؟ پورے ملک میں ہمارے امیدوار جیتنے کیلئے کھڑے ہیں، پیپلزپارٹی تین سو یونٹ فری دے گی، ملک میں مفت معیاری تعلیم دینے کا وعدہ ہے، ہر شخص کو مفت اور معیاری صحت کی سہولیات دینا ہے۔

    اس موقع پر عبدالغفور میو نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کے موقع پر ورکرز کنونشن سے خطاب میں کہا کہ بلاول بھٹو کی شکل میں ذوالفقار علی بھٹو آپ کے گھر ائے ہیں، پاکستان کو ایک سٹیٹس مین کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو دنیا کے اندر شہید ذولفقار بھٹو اور بے نظیر کا ایجنڈا مکمل کریں گے، پاکستان کو اس وقت بلاول بھٹو کی ضرورت ہے، مسلم لیگ ن کا وزیر ہونے کے باوجود کوٹ لکھپت جیل میں شہید ذولفقار بھٹو کے سیل کو لائبریری بنایا-

    عام انتخابات:بنگلہ دیش میں فوج تعینات

    عبدالغفور مئیو نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ عالمی کافرانہ نظام کے ایجنٹوں سے جان چھڑوائی جائے، بلاول بھٹو پاکستان کی اخری امید ہیں، شہید بھٹو نے ملک کو آئین دے کر بچایا ہے، میرے پاس بلاول بھٹو کے استقبال کے لئے الفاظ نہیں ہیں، بلاول بھٹو کے اوپر وطن سے محبت کے علاوہ کوئی الزام نہیں ہے-

    دوسری جانب لاہور میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ،بدھ کو لاہور میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلاول ہاؤس میں ہوا جس میں یوسف رضا گیلانی، مہدی شاہ، قمر زمان کائرہ، منظور وسان اور دیگر رہنما شریک ہوئےاجلاس میں انتخابی مہم اور منشور کے حوالے سے بات چیت کی گئی، اس کے ملکی سیاسی صورتحال اور انتخابات کے حوالے سے سیاسی رابطوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافہ

    آصف زرداری نے پیپلزپارٹی کی طرف سے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر بلاول بھٹو زرداری کا نام پیش کیا،سی ای سی نے بلاول بھٹو زرداری کا نام وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر منظورکیاذرائع سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق پنجاب میں قومی اسمبلی کی 50،کے پی میں 12 سیٹیں حاصل کرنے کا ٹارگٹ ہونا چاہیے، قومی اسمبلی کی 80 سے زیادہ سیٹیں حاصل کرلیں تو وزارت عظمیٰ کے حقدار بن سکتے ہیں،اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ الیکشن میں محنت کریں تو وزیراعظم اور صدر کا عہدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ذرائع بلاول بھٹو کے مطابق اجلاس میں یہ عزم بھی کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کو توجہ کے ساتھ محنت سےالیکشن لڑنا ہے، ہم نے مسائل حل کا جو پروگرام دیا ہے وہی ملک کو بحران سے نکال سکتا ہےسی ای سی اجلاس میں این اے 127 لاہور سے بلاول بھٹو کی انتخابی مہم بھر پور چلانے اور ان کے انتخابی حلقے میں کمیٹیاں تشکیل دینےکا فیصلہ ہوا۔

    بلا آزاد ہے، بلا زیر عتاب نہیں،ہمیں "بلا” چاہئے،ہم عوام پاکستان پارٹی

    دوسری جانب مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این 127 سے چیئرمین پیپلزپارٹی کے مقابلے میں عطا تارڑ اور وحید عالم خان کو اتارنے پر غور شروع کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے لاہور کے حلقہ این اے 127 میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے مقابلے کے لئے عطاء اللہ تارڑ کے ساتھ ساتھ وحید عالم خان کے نام پر بھی غور شروع کردیا ہے، این اے127 میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلے کا امکان ہے، اور اس حلقے میں مسلم لیگ ن ایک مضبوط امیدوار کے ساتھ انتخابی میدان میں جانا چاہتی ہے۔

    بیوی آپکی، بچہ آپکا ، پیسے آپ نہیں دینگے اور بوجھ جج پر،چیف جسٹس برہم

    لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ وحید عالم خان عطا تارڑ سے زیادہ مضبوط امیدوار ہیں، کیوں کہ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے 130 سے پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد کو ہرایا تھا، تاہم بلاول بھٹو کے مقابلے میں کس کو میدان میں اتارا جائے گا، حتمی فیصلہ نواز شریف کریں گے،قیادت پیپلز پارٹی کو بھاری ووٹوں سے شکست دینا چاہتی ہے۔