Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • لاہور میں پیپلز پارٹی امیدوار کے دفتر پر پٹرول بم سے حملہ،کراچی میں کارنر میٹنگ پر فائرنگ

    لاہور میں پیپلز پارٹی امیدوار کے دفتر پر پٹرول بم سے حملہ،کراچی میں کارنر میٹنگ پر فائرنگ

    لاہور میں پیپلزپارٹی کے لاہور سے پی پی 162 سے امیدوار منظر عباس کھوکھر کے ٹاؤن شپ میں دفتر پر پٹرول بم سے حملہ کیا گیا ہے

    نامعلوم افراد سحری کے وقت گیٹ پر پٹرول بم پھینک کر فرار ہو گئے،پٹرول بم سے گیٹ پر لگے تمام بینرز اور فلیکیسں جل گئی ہیں،منظر عباس کھوکھر نے تھانہ ٹاؤن شپ میں پرچہ درج کرانے کے لیے درخواست دے دی،منظر عباس کھوکھر کا کہنا تھا کہ مخالفین میری انتخابی مہم سے خوف زدرہ ہو کر اوچھی حرکتوں پر اتر آئے ہیں.

    حلقہ این اے 127 ، جہاں سے بلاول زرداری امیدوار ہیں، اسکی صوبائی سیٹ پی پی 162 کے امیدوار کے دفتر پر پٹرول بم سے حملہ کیا گیا،

    آفتاب احمد گورایہ ٹویٹر پر کہتے ہیں کہ ن لیگ بدترین متوقع ہار دیکھ کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی۔ پیپلزپارٹی کے پی پی 162 کے امیدوار منظر عباس کھوکھر کے الیکشن آفس پر پیٹرول بم سے حملہ۔ اس گھٹیا حرکت سے ن لیگ نے ثابت کیا ہے کہ عوام میں ان کی ہوا اکھڑ چکی ہے۔

    پیپلز پارٹی کے الیکشن آفس پر حملہ تشویشناک اور قابل مذمت ہے،شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے این اے 127 میں پیپلز پارٹی کے دفتر پر حملے مذمت کی اور کہا ہے کہ چند پیپلز پارٹی مخالف لوگوں نے این اے 127 میں پیپلز پارٹی کے الیکشن آفس پر پیٹرول بموں سے حملہ کیا ہے،این سے 127 لاہور میں پیپلز پارٹی کے الیکشن آفس پر حملہ تشویشناک اور قابل مذمت ہے،پولیس ہماری ایف آئی آر درج کرنے سے بھی انکار کر رہی ہے،پنجاب پولیس کے ذمہ داران اور الیکشن کمیشن کو اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس حلقے سے انتخابات لڑ رہے ہیں، ان کے الیکشن آفس پر حملہ ظاہر کرتا ہے کہ کچھ لوگ ان کی پرجوش انتخابی مہم اور پنجاب میں پذیرائی سے پریشان ہیں،پیپلز پارٹی ملک بھر میں انتخابی مہم جاری رکھے گی،اس طرح کے ہتھکنڈے ہمیں عوام سے دور نہیں کر سکتے،

    دوسری جانب شہر قائد کراچی کے علاقے قائد آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کارنر میٹنگ کے بعد فائرنگ کی گئی ہے،فائرنگ گلشن بونیر میں پیپلز پارٹی کے امیدوار آغا رفیع اللہ کی کارنر میٹنگ پر کی گئی ،پولیس حکام کے مطابق فائرنگ سے کارنر میٹنگ میں موجود دو افراد زخمی ہو گئے،زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے.پولیس کے مطابق سیاسی جماعت کے امیدوار آغا رفیع اللہ کارنر میٹنگ ختم کرکے جارہے تھے،فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں،سیاسی جماعت کے امیدوار آغا رفیع اللہ محفوظ ہیں

     8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    لگ رہا ہے لوگ ن لیگ سے نفرت کر رہے ہیں

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • لاہور کے سیاستدانوں سے ڈرنے والے نہیں،مقابلہ کرینگے،بلاول

    لاہور کے سیاستدانوں سے ڈرنے والے نہیں،مقابلہ کرینگے،بلاول

    لیاقت پور: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے انتخابی مہم کے دوران جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہایسا نہ ہو کہ آپکی تعداد دیکھ کر شیر واپس گھر میں چھپ کر بیٹھ جائے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ بڑی مشکل سے کل شیر نظر آیا،ان کو بس فکر ہے کہ کسی نہ کسی طرح چوتھی بار کرسی پر بیٹھ جائیں،آپ کتنی مشکل سے گزر رہے ہو ملک کا نقصان ہو رہا ہے، لاہور کے سیاست دانوں کو پیغام ہے کہ ہم ڈرنے والوں میں سے نہیں ڈٹ کے مقابلہ کرنے والوں میں سے ہیں ،پاکستان کےعوام اس وقت مشکل صورتحال سےدوچارہیں،ہماری خواہش اورکوشش ہوگی عوام کی آمدن دگنی کریں،غریبوں کو سولر کے ذریعے300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کریں گے،غریبوں کو30 لاکھ گھربناکردیں گے،یہ اس شخص والا وعدہ نہیں جوکہتاتھا 50لاکھ گھربناکردوں گا،صرف پیپلزپارٹی اپنےمنشورپرالیکشن لڑر ہی ہے

    بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، یوسی کی سطح پر بھوک مٹاؤ مہم شروع کریں گے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کو بلاسود قرض دیں گے، اقتدار میں آکر بے نظیر کسان کارڈ لائیں گے،عوام اعتماد کریں تیر پر ٹھپہ لگائیں، نوجوانوں کو ایک سال کے لیے مالی مدد فراہم کریں گے، بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، یوسی کی سطح پر بھوک مٹاؤ مہم شروع کریں گے، پیپلزپارٹی کا مقابلہ غربت ،بھوک، بیروزگاری اور مہنگائی سے ہے، اقتدار میں آکر تمام مسائل کا حل نکالیں گے،شیرعوام کا خون چوستا ہے اور اس کا پیٹ نہیں بھرتا، چوتھی بار وزیراعظم بن کر پھرعوام کا خون چوسے گا.

    واضح رہے کہ بلاول زرداری ملک بھر میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں، روز دوسے تین جلسوں سے خطاب کرتے ہیں، آصفہ زرداری نے بھی پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے

     8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    لگ رہا ہے لوگ ن لیگ سے نفرت کر رہے ہیں

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • پیپلز پارٹی اور جے یو پی نورانی میں انتخابی اتحاد،آٹھ نکاتی ایجنڈے پر اتفاق

    پیپلز پارٹی اور جے یو پی نورانی میں انتخابی اتحاد،آٹھ نکاتی ایجنڈے پر اتفاق

    بلاول ہاوس لاہورمیں آصف علی زرداری اور جمعیت علماء پاکستان کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں سابق صدر پاکستان اور جے یوپی کے صدر کی موجودہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال تفصیلی گفتگو کی گئی،دونوں رہنماوں کے درمیان ملاقات میں انتخابات سمیت دیگر کئی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، پی پی پی اور جے یو پی (نورانی) نے باضابطہ انتخابی اتحاد اور 8 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا۔

    8 نکاتی ایجنڈے میں کئی سیاسی اور سماجی مسائل اور باہمی امور کی انجام دہی کے لیے دو رکنی کمیٹی کا اعلان کر دیا گیا،(1) 73 کے آئین کے مکمل نفاذ اور بالادستی کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا گیا،(2) ملکی و بین الاقوامی امور پر فیصلے قومی امنگوں کے مطابق کئے جائیں گے۔(3)مملکت خداداد پاکستان کو علامہ اقبالؒ اورقائداعظم محمد علی جناحؒ کے افکار و نظریات کے سانچے میں ڈھالا جائے گا۔(4)فوری اورسستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔(5) مہنگائی و بے روزگاری کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔(6)فرقہ واریت کے خاتمے اور مذہبی ہم آہنگی کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے گی۔(7)مذہبی،دینی و شرعی امور میں جمعیت علماء پاکستان سے مشاورت کی جائیگی۔(8)باہمی امور کے لیے پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری سید نئیر حسین بخاری اور جے یوپی کے جنرل سیکرٹری سید صفدر شاہ پر مشتمل ہو گی -جو چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے لیے ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دے گی۔ ملاقات میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے رکن چوہدری منظور احمد بھی موجود تھے۔

    8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    لگ رہا ہے لوگ ن لیگ سے نفرت کر رہے ہیں

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • نواز شریف اپوزیشن لیڈر بنیں گے،بلاول

    نواز شریف اپوزیشن لیڈر بنیں گے،بلاول

    پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف اپوزیشن لیڈ ر بنیں گے

    آئندہ حکومت کے متعلق بلاول بھٹو نے بڑی پیش گوئی کردی ،بلاول کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ آزاد ارکان کے ساتھ ملکر پیپلز پارٹی کی حکومت بنائیں گے ،نواز شریف اپوزیشن لیڈر بنیں گے، ہم نے اپنی ورکنگ پوری کرلی ہے، آزاد ارکان پر نظر ہے ،الیکشن دن کے بعد آپ کو آصف زرداری مزید سرگرم نظر آئیں گے ، ہماری الیکشن مہم جاری ہے، نواز شریف سمجھتا ہے تاثر بنا کر حکومت میں آئے گا ایسا نہیں ہوگا .

    بلاول بھٹو زرادری نے پاک ایران کشیدگی کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع کا درست حق استعمال کیا، امید کرتا ہوں کہ پاکستان اور ایران سفارتی تعلقات استعمال کرتے ہوئے مسئلہ حل کریں گے۔ایران کو اچھے سے معلوم ہے کہ ہمارے پاس اختیار ہے اور ہتھیار ہے کہ جس سے ہم اپنا بھرپور دفاع کرسکتے ہیں۔ اب ایران نےجوکچھ کیا یہ خطے کیلئے صحیح نہیں ، ایران کی طرف سے پاکستان پرحملے پرحیران ہوں،وزیر خارجہ کی حیثیت سے ایران سے سکیورٹی چیلنجزپربات ہوتی رہتی تھی ، پاکستان سمیت کوئی ملک اپنی سالمیت پر کوئی واربرداشت نہیں کرسکتا ، پاکستان فوج کےساتھ قوم کھڑی ہے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا عوام سے محبت کا رشتہ ہے، ہم صرف انتخابات کے وقت عوام کے پاس نہیں جاتے بلکہ پورے پانچ سال کسی نہ کسی صورت میں عوام کے درمیان ہی رہتے ہیں۔

    یہ کیسا شیر ہے جو خود گھر میں چھپ جاتا ہے شکار نہیں کرتا،بلاول
    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا دادو جلسہ گاہ پہنچنے پر عوام کی جانب سے والہانہ استقبال کیا گیا،دادو میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت بنی تو عوام کو 300 یونٹ بجلی مفت دیں گے،یہ الیکشن تیر ا ور شیر کےدرمیان ہو رہا ہے ،یہ شیر گھر میں چھپ کر دوسروں کو کہتا ہے میرا بندوبست آپ کریں،یہ کیسا شیر ہے جو خود گھر میں چھپ جاتا ہے شکار نہیں کرتا، یہ شیر کسانوں ، مزدوروں اور غریبوں کا خون چوستا ہے ،شیر کیلئے جب بندوبست کیا جاتا ہے تو پھر گھر سے نکلتا ہے ،میں کل شیر کے شکار کیلئے پنجاب جا رہا ہوں،کیا عوام تیر سے شیر کے شکار کیلئے تیار ہیں ، جیالے جانتے ہیں کہ شیر کا شکار کیسے کیا جاتا ہے ،یہ نہیں مانتے کسی کو چوتھی بار وزیر اعظم بنایا جائے ،وہ ہر بار ناکام رہا چوتھی بار کس خوشی میں لارہے ہو،مجھے ایک بار موقع دیں اس ملک کی قسمت بدل دوں گا ،پاکستان پیپلز پارٹی کا دس نکاتی عوامی معاشی معاہدہ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کا واحد حل ہے، آپ مجھے وزیر اعظم بنائیں میں ان تمام دس نکاتی منشور پر عملدر آمد کروں گا۔

     8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    لگ رہا ہے لوگ ن لیگ سے نفرت کر رہے ہیں

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • بلاول بھٹو واحد سیاستدان ہے جو عوام کے حقوق کی جنگ لڑرہےہیں،  آصفہ بھٹو

    بلاول بھٹو واحد سیاستدان ہے جو عوام کے حقوق کی جنگ لڑرہےہیں، آصفہ بھٹو

    ٹنڈوالہیار: آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو واحد سیاستدان ہے جو عوام کے حقوق کی جنگ لڑرہےہیں-

    باغی ٹی وی: ٹنڈوالہیار میں جلسے سے خطاب کے دوران آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ 1971 سے لے کر آج تک پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی ہے بھٹو خاندان نے ہمیشہ پاکستان کے مفاد کی بات کی، میرے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو آئین دیا ، بینظیر بھٹو ہمیشہ خواتین کے حقوق کے لیے لڑتی رہیں، پہلے میرے نانا اور بعد میں میری والدہ کو ہم سے چھین لیا گیا، مگر پاکستان پیپلزپارٹی کا عوام کی خدمت کا جذبہ کبھی ٹھنڈا نہیں ہوا،نہ ہی اسے کوئی ختم کر سکتا ہے –

    آصفہ بھٹو نے کہا کہ میرے والد آصف علی زرداری نے 18 ترمیم کے ذریعے صوبوں کو خودمختاری دی، بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے خواتین کو ان کا حق دلوایا، دوسری سیاسی جماعتیں اقتدار کا سوچتی ہیں مگر پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ عوام کی خدمت کا سوچتی ہے بلاول بھٹو واحد سیاستدان ہے جو عوام کے حقوق کی جنگ لڑرہےہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تنخواہیں ڈبل ہوں،آپ کو 300 یونٹ تک بجلی مفت ملے، آپ کے بچوں کو مفت تعلیم ملے، معیاری صحت کی سہولیات ملیں، کسان خوشحال ہو، نوجوان کو بلاسود قرض پروگرام ملے تو بلاول کا ساتھ دیں، پاکستان پیپلزپارٹی کو ووٹ دیں، تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    نواز شریف نے پارٹی کے انتخابی بیانیے کی باقاعدہ منظوری دے دی

    جوبائیڈن کی حمایت پر اسرائیل غزہ میں جارحیت کو طول دے رہا ہے،ممبر یورپی پارلیمنٹ

    دنیا کی طاقتور ترین افواج کی فہرست جاری

  • شیرعوام کا خون چوستا،راستہ روکیں گے،چوتھی بار وزیراعظم نہیں بننے دینگے،بلاول

    شیرعوام کا خون چوستا،راستہ روکیں گے،چوتھی بار وزیراعظم نہیں بننے دینگے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے بدین میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیر عوام کا خون چوستا ہے، اسے چوتھی بار وزیراعظم نہیں بننے دیں گے اور اس کا راستہ روکیں گے

    بلاول زرداری کے جلسے میں بڑی تعداد میں عوام شریک ہوئی، جلسہ گاہ پہنچنے پر بلاول کا بھر پور استقبال کیا گیا کارکنان کی جانب سے جئے بھٹو، بلاول وزیراعظم کے نعرے لگائے گئے، اس موقع پر بلاول کا کہنا تھا کہ ہم 8 فروری کو کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں کی حکومت بنانے کے لیے ملک بھر میں جدوجہد کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی ملک بھر میں جدوجہد کر رہی ہے کہ 8 فروری کو عوام کی حکومت بنے، چاہتے ہیں کہ ملک میں عوامی راج قائم ہو،پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو الیکشن لڑ رہی ہے اور مہم چلا رہی ہے، ایک صاحب چوتھی بار وزیراعظم بننا چاہ رہے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی منشور نہیں ہے، ہم عوام کی طاقت پر اور وہ سازشوں پر یقین رکھتے ہیں، جو نفرت اور تقسیم کی سیاست کر رہے ہیں وہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں، انھیں غریب عوام کی کوئی فکر نہیں، صرف چوتھی بار وزیراعظم بننے کی فکرہے،جب بھی یہ شخص آپ پر مسلط کیا گیا نقصان پاکستان کے عوام کا ہوا، یہ وہ شیر ہے جو عوام کا خون چوستا ہے، ہم نے پورے پاکستان کو یہ بات سمجھانی ہے کہ الیکشن میں صرف دو جماعت ن لیگ اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہی ہیں،پاکستان کے عوام کو دعوت دیتے ہیں، سیاسی کارکن کو دعوت دیتے ہیں، کہ آئیں پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں، ہم اس شیر کا شکار کریں گے، اس کا راستہ روکیں گے، ہم اسے چوتھی بار وزیراعظم بننے نہیں دیں گے ،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ تین بار موقع ملاناکام رہے، کس خوشی میں ہم اس شخص کو چوتھی بار وزیراعظم مانیں،اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کا ستر فیصد آبادی نوجوان ہے، نوجوانوں کا دور ہے، نوجوان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں، نوجوان قیادت کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کے مسائل کو سمجھ سکے، ملکر جدوجہد، محنت کریں اور عوام،ملک کو مشکل سے نکالیں،پاکستان کے عوام کوپیغام پہنچائیں کہ دس نکاتی ایجنڈہ عوامی معاشی معاہدہ ہے، یہ بلاول کے دس وعدے ہیں ، اگر میں وزیراعظم بنتا ہوں‌تو تمام دس نکات پر عمل کروں‌گا،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو مہم چلا رہی، میں پارٹی کی طرف سے وزیراعظم کا نامزد امیدوار ہوں، اپنا منشو لے کر جگہ جگہ پہنچ رہا ہوں، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان کے عوام کے پاس جا رہا ہے، مجھے موقع ملا تو دس نکاتی معاشی معاہدہ پر عمل کروں گا، دوسری طرف ایک اور صاحب چوتھی بار وزیراعظم بننا چاہ رہے، انکے پاس نہ منشور، نہ نظریہ، نہ انتخابی مہم اور نہ ہی ووٹ مانگ رہا ہے، وہ کسی اور کو کہتا ہے کہ ووٹ کا بندوبست کرو،ہم عوام کی خدمت پر یقین اور وہ عوام پر راج کرنے پر یقین رکھتے ہیں،وہ پاکستان کو نقصان تقسیم کی سیاست کر کے پہنچا رہے ہیں، انہیں پاکستانی عوام کی فکر نہیں بلکہ چوتھی بار وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کی فکر ہے.ہمیں بھوک، غربت، مہنگائی،بے روزگاری کی فکر ہے، ہم نے تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پی پی کی حکومت بنی عوام کی خدمت کی، غریب کی خدمت کی،کسان اور مزدور کی خدمت کی،

    بلاول زرداری نے بدین میں جلسے کے دوران پارٹی امیدواروں کو اسٹیج پر کھڑا کر کے حلف بھی لیا،بلاول بھٹو زرداری نے بدین میں اپنی تقریر کے اختتام پر بدین اور ماتلی سے کھڑی ہونے والے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو مخاطب کر کے اسٹیج پر اپنی ڈائس کے پاس کھڑا کیا اور ان سب امیدواروں سے حلف بھی لیا،بلاول کا کہنا تھا کہ آپ سب لوگ عوام سے وعدہ کریں کہ اگر عوام نے آپ لوگوں کو جتوا دیا تو آپ لوگ کراچی اور اسلام آباد میں زیادہ وقت گزارنے کے بجائے یہاں کے عوام کی خدمت کریں گے، اپنے رشتہ داروں کے بجائے ان لوگوں کو نوکریاں دیں گے اور ان کے مسائل حل کریں گے،بلاول زرداری کے حلف پر تمام پارٹی امیدواروں نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے بدین کی عوام سے بھی وعدہ لیا کہ آپ لوگ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے جتوائیں

     8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    لگ رہا ہے لوگ ن لیگ سے نفرت کر رہے ہیں

  • این اے 127،شرجیل میمن کی زیر صدارت بلاول کی انتخابی مہم بارے اجلاس

    این اے 127،شرجیل میمن کی زیر صدارت بلاول کی انتخابی مہم بارے اجلاس

    این اے 127 کی انتخابی مہم کی پولیٹیکل مینجمنٹ کمیٹی کے ارکان شرجیل انعام میمن،مکیش چاولہ نے صوبائی دارلحکومت سے الیکشن میں حصہ لینے والے پارٹی امیدواروں کیساتھ اہم اجلاس کیا،

    اجلاس میں بلاول بھٹو کے جلسے کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی تیار کی گئی۔اجلاس میں رانا فاروق سعید،چودھری منظور،ذوالفقار علی بدر،اسلم گل،فیصل میر،اورنگزیب برکی، سمیت تمام اہم رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز نے شرکت کی، اجلاس کے شرکاء نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے جلسے کو کامیاب بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔شرجیل میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو کہا کہ بلاول بھٹو کے جلسے کو کامیاب بنانے کیلیے مربوط منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔لاہور کا جلسہ گیم چینجر اور پیپلز پارٹی کی پنجاب بھر میں انتخابی مہم کا راستہ متعین کریگا اور اس کا اثر پورے پنجاب پر پڑیگا۔جلسے کو کامیاب بنانے کیلیے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی تنظیموں کو کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہو گا۔

    بلاول بھٹو زرداری کی این اے 127 سے انتخابی مہم کا معاملہ،این اے 127کے صوبائی حلقوں کیلیے پیپلز پارٹی نے 5 انتخابی رابطہ کمیٹیاں تشکیل دے دیں،پی پی 157 کمیٹی میں چوہدری عدنان سرور گورسی(امیدوار)، میاں رمضان ،موسی کھوکھر اور سعود طاہر شامل ہیں،پی پی 160 کمیٹی میں میاں مصباح الرحمن(امیدوار) حاجی عزیز الرحمن چن، صداقت شیروانی اور عظمت حسین ایڈوکیٹ شامل ہیں،پی پی 161 کمیٹی میں فیصل میر(امیدوار)، احمد جواد فاروق رانا، صداقت شیروانی اور نیلم جبار شامل ہیں، پی پی 162 کمیٹی میں منظر عباس کھوکھر (امیدوار)شیخ عرفان اور فاروق یوسف گھر کی شامل ہیں،پی پی 163 کمیٹی میں فیاض بھٹی (امیدوار) ،منشا بھٹی اور عمران کھوکھر ایڈوکیٹ شامل ہیں،انچارج انتخابی مہم این اے 127 ذوالفقار علی بدر نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔

    قبل ازیں سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کی بلاول ہاؤس لاہور میں ملاقات ہوئی، آصف علی زرداری نے لاہور کے این اے 127 پر چوہدری محمد سرور کیجانب سے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    پاکستان عوامی تحریک بھی این اے 127 میں بلاول کی حمایت کر چکی ہے، بلاول کے مقابلے میں اس حلقے سے ن لیگ کے عطا تارڑ امیدوار ہیں.

     8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • اگر آپ چاہتے ہیں نوجوانوں کا مستقبل روشن ہو تو بلاول کی آواز بنیں،آصفہ بھٹو

    اگر آپ چاہتے ہیں نوجوانوں کا مستقبل روشن ہو تو بلاول کی آواز بنیں،آصفہ بھٹو

    کراچی: آج آصفہ بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری پہنچ کر خطاب کیا، اس موقع پر پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں اور کارکنوں نے اس کا استقبال کیا، انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ 8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    باغی ٹی وی: کراچی میں انتخابی مہم کے دوران آصفہ بھٹو زرداری نے ابراہیم حیدری، لانڈھی اور ملیر کا دورہ کیا ، پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں اور کارکنوں نے پرتپاک استقبال کیا ، اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک عوام دوست اور غریب دوست منشور لے کر آئیں ہیں، جس پر عمل کرنے کیلئے آپ کےساتھ کی ضرورت ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو صحت کارڈ ملے تو بلاول کو کامیاب کرائیں، آپ نے 8 فروری کو ووٹ تیر کو دینا ہے-

    طیبہ گل ہراسانی کیس: سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال آئندہ سماعت پر ذاتی …

    https://x.com/MediaCellPPP/status/1747216738452906318?s=20
    انہوں نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ 300 یونٹ بجلی مفت ملے اور تنخواہ دگنی ہو تو پیپلزپارٹی کو ووٹ دیں، معیاری مفت علاج کی فراہمی کیلئے ہمارا ساتھ دیں، اگر آپ چاہتے ہیں نوجوانوں کا مستقبل روشن ہو تو بلاول کی آواز بنیں، آپ سب بلاول کو کامیاب کریں آصفہ بھٹو زرداری نے کراچی میں انتخابی مہم کے جلسوں میں شہریوں سے اپیل کی کہ 8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    قومی ترقی کا راستہ پی او ایف واہ جیسی مقامی صنعتوں سے متعین ہوتا …

    ساس بہو کا جھگڑا سپریم کورٹ پہنچ گیا

  • چودھری سرور  کا  این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا اعلان

    چودھری سرور کا این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا اعلان

    لاہور: سابق گورنر پنجاب چودھری سرور نے این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: چودھری سرور سے بلاول بھٹوکے ترجمان ،ذوالفقار علی بدرنے ملاقات کی ہے،جس میں چودھری سرور نے این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا، سابق گورنر پنجاب این اے 127 میں خود بلاول بھٹو کی الیکشن کمپین کریں گے-

    دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہم نے عوام کے حق پر ڈاکاڈالنے والوں سے مقابلہ کیا پیپلزپارٹی این ایف سی اور 18ویں ترمیم پر یقین رکھتی ہے،ہم نے سلیکٹڈ اور آمرانہ دور کا عوامی حمایت سے خاتمہ کیا،سازش کی جارہی تھی کہ ایک بار پھر ون یونٹ قائم کیاجائے کسی کو عوام کی تکلیف کا کوئی اندازہ نہیں ،کسی کو اندازہ نہیں کہ اسلام آبادمیں فیصلوں کا اثر عوام پر ہوتاہے،جتنا معاشی بحران آج ہے وہ تاریخ میں نہیں دیکھا پاکستان سیاسی اور معاشی بحران سے دوچارہے ایک دوسرے پرالزامات لگاتے لگاتے ہم ذاتی دشمنی تک پہنچ گئے اس بار ہم پاکستان کو پہلے سے بچائیں گے ،8فروری کو ایک نئی سوچ کا انتخاب کریں گے ،لوگ ہی میری فوج اور میری طاقت ہیں۔

    رواں ہفتے موسم بارشیں ہوں گی یا نہیں، محکمہ موسمیات نے بتا دیا

    ہم کسی صورت الیکشن سے بائیکاٹ نہیں کریں گے،بیرسٹر گوہر

    یو اے ای میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ

  • ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

    ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے “عوامی معاشی معاہدہ” کا اعلان کردیا

    پی پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے بیگم نصرت بھٹو آڈیٹوریم میں “عوامی معاشی معاہدہ” کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے تنظیمی عہدیداروں اور کارکنان کے ساتھ ساتھ میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس انقلابی دستاویز کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں، جو قوم کو درپیش تمام چیلنجز پر قابو پانے اور ملک کو ترقی، خوشحالی اور سربلندی کی راہ پر گامزن کرنے کی چابی ہے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا کے ذریعے “عوامی معاشی معاہدہ” کا مسودہ پوری قوم کو پڑھ کر سنایا:
    عوامی معاشی معاہدہ
    معاشی بحران
    اس وقت ہمارے ملک میں جو بلند ترین سطح کی مہنگائی اور مکمل اور جزوی بے روزگاری دیکھنے میں آرہی ہے وہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے ۔ غربت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے ۔ ہمارے محنت کش پہلے سے کئی زیادہ کام کر رہے ہیں لیکن ان کی حقیقی آ مدنی کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے ۔ ہمارے شہری اور خصوصی طور پر ایسے شہری جن کا تعلق غریب طبقے سے ہے وہ غیر محفوظ ہیں اور ہمارے نوجوان اپنے موجودہ حالات کے بارے میں شدید عدم تحفظ اور اپنے مستقبل کے بارے میں ا تنی غیر یقینی کیفیت سے کبھی دو چار نہیں رہے ہیں ،غذائی اشیاءکی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے ۔ صرف پانچ سال قبل آٹے کے دس کلو گرام کے بیگ کی قیمت 400 روپے سے کم تھی ۔ آ ج اسی بیگ کی قیمت 1400 روپے سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ اسی طرح گزشتہ پانچ سال کے دوران دودھ ، خوردنی تیل اور دالوں کی قیمتوں میں بالترتیب 113 فیصد، 217 فیصد اور 353 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہانہ 50 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لئے بجلی کے نرخوں میں 277 فیصد کا ضافہ ہوا ہے ۔ اسی مدت کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے ،آٹھ سال قبل ایک غریب گھرانہ جس کی مشترکہ آمدنی ماہانہ 35000 ہوا کرتی تھی وہ اپنی اس انتہائی محدود آ مدنی میں بھی آٹے ، خوردنی تیل ، دودھ اور دوسری غذائی اشیاء کی اچھی خاصی مقدار خرید سکتا تھا تا کہ اس کے خاندان کے تمام افراد پیٹ بھر کر غذا حاصل کر سکیں ، دوکمروں کی مکانیت کے گھر میں رہ سکیں ، بچوں کو اسکول بھیج سکیں ، دکھ، بیماری اور تھوڑی بہت سیر و تفریح کے لئے کچھ رقم پس انداز کرسکیں ۔ آج کی مہنگائی کے دور میں ایک خاندان کو ان تمام بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کم از کم 70000 روپے ماہانہ کی ضرورت ہوگی ۔ اخراجات زندگی میں اس اضافے اور اجرتوں کی حقیقی قدر میں ایسی کمی اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور یہ سرا سر ناقابل قبول ہے ،مہنگائی ، بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غربت اور مسلسل عدم استحکام اور معاشی ترقی کی گرتی ہوئی شرح کے ماحول میں نئے مواقع روزگار کا پیدا ہونا دشوار تر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد غیر رسمی شعبے میں انتہائی کم اجرت والی نوکریوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ ہماری آ بادی کے دس فیصد غریب ترین افراد صرف 14500 روپے ماہانہ کی قلیل ترین اجرت پر کام کرنے پر مجبورہیں ،آج پاکستان کی آبادی کے 93 ملین افراد جو کہ ہماری کل آبادی کے 40 فیصد ہیں خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ اوران میں سے 15 ملین افراد وہ ہیں جو 2018 اور 2023 کے پانچ سال کے د وران خط غربت سے نیچے گئے ہیں ،اگر ایک جانب ہم ایک تاریخی معاشی بحران کا شکار ہوچکے ہیں تو دوسری جانب ہم ایک شدید ترین ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی تباہی کا شکار ہیں جو نہ صرف ہماری معیشت کے لئے ناقابل برداشت مسائل پیدا کر رہی ہے بلکہ ہم میں سے ہر ایک کی زندگی اور خوشحالی کے لئے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے ۔ شدید ترین سیلاب یا مہیب خشک سالی جو پہلے 100 سال میں ایک دفعہ وقوع پذیر ہوتے تھے اب اس ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بار بار وقوع پزیر ہورہے ہیں ۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر واقع براعظم اینٹارٹیکا کے بعد قدرتی برف کا سب سے بڑا ذخیرہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں ہے ۔ سائنسدانوں نے قدرتی برف کے اس ذخیرے کو ‘‘ تیسرے قطب ’’ (Third Pole) کے نام سے تعبیر کیا ہے ۔ پاکستان اس نئے ماحولیاتی بحران کی صف اول میں ہے ۔ سائنسی اندازوں کے مطابق پاکستان میں رہنے والے 24.1 ملین افراد پہلے مرحلے میں تباہ کن سیلابوں اور ان سیلابوں کے بعد کبھی نہ ختم ہونے والی طویل خشک سالی سے دو چار ہونے کے خطرے میں ہیں ۔ جب کہ اس عالمی موسمیاتی بحران کی ذمہ داری پاکستان پر 1 فیصد سے بھی کم ہے ،ہمیں اپنی ترقیاتی ترجیحات میں بڑے پیمانے پر اور مکمل اصلاحات لانی ہوں گی ۔ ہمیں موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنے ، بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے اور توانائی کے ذرائع تبدیل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ اور یہ سب ہمیں اس انداز سے کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں معاشی ترقی میں سب کی شمولیت ہو ، جس سے ماحول دوست مواقع روزگار پیدا ہوں اور جس سے نہ صرف ماحولیاتی بحران کا مقابلہ ہو سکے بلکہ ہم روز افزوں مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت کا بھی مقابلہ کرسکیں ،ہمیں عام محنت کشوں ، خواتین ، مردوں اور نوجوانوں کو مرکزیت دینی ہوگی اور دانش مندی کے ساتھ مزید سرمایہ کاری کرنی ہوگی ۔ صوبوں ، مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کو زیادہ با اختیار بنانا ہو گا اور کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا ۔

    ہمارے 10 وعدے
    اجرت پر کام کرنے والوں کی حقیقی آمدنی کو دوگنا کرنا ۔
    ۔ کم سے کم اجرت میں ہر سال حقیقی معنوں میں 8 فیصد اضافہ کرنا،تاکہ ہم ایک گزارے کے قابل اجرت کی سطح تک پہنچ سکیں ۔
    ۔ سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری میں دو گنا اضافہ کرکے مواقع روزگار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ،تاکہ بے روزگاری اور جزوی بے روزگاری میں کمی کی جاسکے ۔
    ۔ مقامی شہریوں کی ضرورتوں کے مطابق سرمایہ کاری اور مواقع روز گار پیدا کرنا۔
    ۔صوبائی اور مقامی سطحوں پر سماجی اور پیداواری شعبوں میں سرکاری اور نجی شعبے میں اشتراک ( پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ)
    ۔ نجی ملکیت کے مکانوں کی تعمیر میں کثیر اضافے کی بنیاد پر غریب طبقے کے مکانات کی تعمیر کے لئے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ۔
    ۔ زراعت اور چھوٹے کاروبار میں سرمایہ کاری اور اصلا حات کو فروغ دینا ۔

    گرین نیو ڈیل (Green New Deal )
    موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ

    ۔ سرکاری شعبے ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے شعبے اوربیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں ماحولیاتی تبدیلی سے منسلک سرمایہ کاری کی جائے گی ۔
    ۔ سڑکوں اورشاہراہوں ، مواصلات ، صحت ، آبپاشی ، زراعت میں پاکستان کے سرکاری شعبے کے انفرا اسٹرکچر کی سرمایہ کاری میں موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔
    ۔ یہ سرمایہ کاری معاشی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر فروغ ، نئے مواقع روزگار پیدا کرنے اور موسمیا تی تبدیلی کے نقصانات سے محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی ۔

    ملکی ذرائع سے پیدا ہونے والی گرین انرجی
    ۔ قابل استطاعت نرخوں پر الیکٹرسٹی تک رسائی ہر شہری کا حق ہے ۔
    ۔ بجلی کے موجودہ نرخوں اور تقسیم کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور ہمارے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا ۔
    ۔ ہم بجلی کے موجودہ بحران سے نجات پانے کے لئے ملکی ذرائع اور قابل تجدید توانائی کی بنیاد پر پائیدار حل مہیا کریں گے ۔
    ۔ ہم اپنے شہریوں کے لئے قومی الیکٹرسٹی گرڈ سے علیحدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پورے پاکستان میں گرین انرجی پارک تعمیر کرکے ان کی گرین انرجی کی ضروریات پوری کریں گے ۔
    ۔ انرجی کے پیداواری نظام میں تبدیلی کو تیز تر کرنے کے لئے ہم غریب ترین گھرانوں کو ہر ماہ 300 یونٹ تک بجلی مفت فراہم کریں گے ۔ اس پروگرام میں درکار سرمایہ ہم کاربن کریڈٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کریں گے ۔

    تعلیم سب کے لئے
    ۔ ہم اسکول جانے کی عمر تک کے تمام بچوں اور بچیوں کے لئے آئین کی شق 25 A کے الفاط اوراصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے سب بچوں کی اسکولوں میں تعلیم کو یقینی بنائیں گے۔
    ۔ ہم گھروں سے زیادہ سے زیادہ 30 منٹ کے سفری فاصلے پر معیاری پرائمری اسکولوں کے قیام اور زیادہ سے زیادہ 60 منٹ کے سفری فاصلے پر معیاری مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کے قیام کو یقینی بنائیں گے ۔
    ۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہنے والے طلبا کو تعلیمی وظائف دئیے جائیں گے ۔
    ۔ پاکستان کے ہر ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

    سب کے لئے علاج کی سہولت
    ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے لئے اس کے شہریوں کی اچھی صحت سب سے زیادہ اہم ہے ۔ اس مقصد کے لئے ہم سندھ کے صحت کے شعبے میں کی جانے والی پیش رفت کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کریں گے ۔
    ۔ ہم پورے ملک میں پرائمری سطح کے علاج معالجے کی مفت سہولتیں اور مفت دوائیں مہیا کریں گے ۔
    ۔ بنیادی صحت کے مراکز کو پوری طرح اور ہمہ وقت موثر کیا جائے گا ۔
    ۔ سرکاری شعبے اور سرکاری نجی شعبے کے اشتراک سے چلنے والے اسپتالوں میں دائمی نوعیت کے امراض ، امراض قلب ، جگر اور گردوں کے امراض کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا ۔

    مکان ایک حق
    غریبوں ، بے زمینوں اور محنت کشوں کے لئے رہائشی مکانات کی فراہمی ۔
    ۔ تمام صوبوں اور علاقوں کے دیہی اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہائشی سہولتیں مہیا کرنے کی اسکیمیں جن کو پانچ مرلہ اسکیم اور سیلاب متاثرین کے لئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے کامیاب ماڈل کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا ۔
    ۔ ہر بے گھر خاندان کو رہنے کے لئے گھر فراہم کیا جائے گا ۔
    ۔ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے کم از کم تیس لاکھ مکان تعمیر کئے جائیں گے جن کی قانونی ملکیت خاتون خانہ کے نام ہوگی ۔
    ۔ کچی آبادیوں کو ریگیولرائز کیا جائے گا اور مکینوں کو قانونی ملکیت دی جائے گی ۔
    ۔ کچے کے علاقوں کے رہنے والوں کو قانونی طور پر دی گئی زمینوں کا مالک بنایا جائے گا ۔
    ۔ مکانات کی تعمیر کے لئے قرضوں کی فراہمی ، نچلے متوسط طبقے اور محنت کشوں کے لئے رہن پر رہائشی قرضہ جات کی فراہمی کے لئے سرکاری اور نجی شعبے کو متحرک کیا جائے گا ۔

    غربت مٹاؤ ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع
    ۔ ایسے مزیدافراد کو جو موجودہ مہنگا ئی ، بیروزگاری اور غربت کی وجہ سے غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرنے کے لئے اس پروگرام کو مزید توسیع دی جائے ۔ غربت کی بنیاد پر دی جانے والی براہ راست مالی اعانت کے علاوہ بھی ہم پروگرام میں مندرجہ ذیل جہتوں کا اضافہ کریں گے :
    ۔ وسیلہ حق (WEH) پروگرام جو کہ غریب خواتین کو چھوٹے قرضے فراہم کرے گا تاکہ وہ اپنے چھوٹے کاروبار کو توسیع دے کر غریبی کے چنگل سے باہر نکل سکیں ۔ہم نے صوبہ سندھ میں پیپلز پاورٹی ایلیوئیشن پروگرام سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے اشتراک سے کامیابی کے ساتھ چلایا ہے اور بہت اچھے نتائج حاصل کئے ہیں ۔
    ۔ وسیلہ تعلیم (WET) پروگرام جو کہ خاندان کے ہر مستحق بچے کو خاندان میں مستحق بچوں کی تعداد سے قطع نظر نقد مالی امداد فراہم کرے گا ۔ یہ نقد مالی امداد اس بات سے مشروط ہوگی کہ امداد حاصل کرنے والے بچے کی اسکول میں حاضری کم از کم 70 فیصد ہو ۔
    اسکول کی حاضری کو سہ ماہی بنیاد پر جانچا جائے گا ۔
    ۔ وسیلہ روزگار (WER) پروگرام جو پروگرام میں شامل ہر خاندان کے ایک منتخب باصلاحیت فرد کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گا ۔ منتخب ہونے والے افراد کو ان کے ذاتی حالات اور ان کے اپنے ضلع میں اپنا روزگار خود پیدا کرنے کے مواقع کے لحاظ سے ایک سال کی پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی ۔
    ۔ وسیلہ صحت (WES) پروگرام جو پروگرام میں رجسٹر ہونے والے خاندانوں کو بیماریوں کے علاج میں ہونے والے کثیر اخراجات سے تحفظ فراہم کرے گا ۔

    خوشحال کسان ۔ خوشحال پاکستان
    زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں زرعی شعبے اور بالخصوص چھوٹے کسانوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہئیے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہم مندرجہ ذیل اقدامات کریں گے :
    ۔ ہاری کسان کارڈ میں رجسٹریشن کے ذریعے عورتوں اور مردوں ، چھوٹے کسانوں ، کسان اور ہاریوں اور زرعی مزدوروں کو ان کی بحیثیت کسان شناخت دینا ۔
    ۔ مندرجہ ذیل اشیاءکے حصول کے لئے کسان کارڈ کے ذریعے رعایت فراہم کرنا ۔
    ۔ بہترین اقسام کے بیج
    ۔ ڈی اے پی اور یوریا کھاد جیسی ان پٹ ۔
    ۔ فصلوں کی مارکٹنگ ۔
    ۔ زمین کی بہتری اور آبپاشی کے لئے درکار پانی کا انتطام ۔
    ۔ مویشیوں کی افزائش کے سلسلے کی خدمات ۔
    ۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ کے لئے بہترین طریقہ کار کی فراہمی ۔
    ۔ فصلوں کا انشورنس ۔
    ۔ زرعی پیداوار میں تنوع کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے مختلف اجناس کی امدادی قیمتوں کو یقینی بنانا ۔
    ۔ Tenancy اور لیبر قوانین میں اصلاحات، تاکہ زراعت میں مزید سرمایہ کاری ہوسکے اور ترقی کے عمل میں ہر ایک شریک ہوسکے ۔

    مزدور کو محنت کاصلہ
    ۔ ہمارے غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو نہ تو روزگار کا تحفط حاصل ہے اور نہ ہی سماجی تحفظ تک رسائی حاصل ہے ۔ ان تک یہ سہولتیں پہنچانے کے لئے :
    ۔ ان کی محنت کے مطابق اجرت کی ضمانت، جو کہ آگے چل کر سب کو گزارے کے قابل اجرت فراہم کرسکے ۔
    ۔ مزدور کارڈ میں رجسٹریشن کے ذریعے مزدوروں کو جن میں غیر رسمی شعبے کے مزدور ، خود روزگار حاصل کرنے والے مزدور اور زرعی مزدور شامل ہوں سماجی تحفظ فراہم کرنا جس کے تحت وہ:
    ۔ اپنے بچوں کی اسکول کی فیسیں ادا کرسکیں گے ۔
    ۔ اپنے لئے اور اپنے افراد خاندان کے لئے ہیلتھ انشورنس حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ اولڈ ایج بینیفٹ حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ معذوری کے بینیفٹ حاصل کرسکیں گے ۔

    جوان مستقبل
    دنیا بھر میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں نوجوانوں کی تعداد کا تناسب سب سے زیادہ ہے ۔ آ بادی کے اس تناسب کو کام میں لانے اور ملک کی ورک فورس میں ان کی بلا رکاوٹ شمولیت کے لئے ہم نوجوان کارڈ (Youth Card) متعارف کروائیں گے جس کے ذریعے ؛
    ۔ تعلیم یافتہ ، مستحق نوجوان مرد اور خواتین ملازمت حاصل کرنے کی مدت میں ایک سال تک وظیفہ حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے قرضے حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ نجی اور سرکاری شعبے میں انٹرن شپ اور تربیتی ملازمتوں کے لئے روابط قائم کرسکیں گے ۔
    ۔ تمام شعبوں میں نوجوانوں کی قیادت میں نئے کاروبار کا آغاز کرسکیں گے جس کے لئے ہم ضروری انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انفرا اسٹرکچر مہیا کریں گے تاکہ نوجوان ملک بھر میں تیز ترین رابطے قائم کرسکیں ۔
    پورے ملک میں یوتھ سینٹر قائم کئے جائیں گے تاکہ لائبریریوں اور ڈیجیٹل لائیبریریوں تک مفتWiFiکے ذریعے رسائی ہوسکے ۔ ان مراکز میں کھیلوں ، ثقافتی سرگرمیوں ، تفریحی سرگرمیوں ، پیشہ ورانہ تربیت ، صلاحیتوں اور مختلف زبانیں سیکھنے کی کلاسیں ، کیریر اور ملازمتوں کے حصول میں سپورٹ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔

    بھوک مٹاؤ
    غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لئے ہمارا عزم ہے کہ ہم رعایتی قیمتوں پر صحت بخش غذائی اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہم غذائی اشیاءکی اندرون ملک پیداوار میں اضافہ کریں گے ، مقامی پروڈیوسر کو سبسڈی فراہم کریں گے اور خواتین کو ان کے اپنے کاروبار کے ذریعے مارکٹ معیشت سے منسلک کریں گے ۔
    اس کے علاوہ ہم :
    ۔ انسانی حقوق کی بنیاد پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے غذائی حقوق کا قانون منظور کروائیں گے ۔ اس قانون کے تحت ہر مستحق خاندان رعایتی قیمتوں پر ضرورت کی غذائی اشیاءخرید سکے گا ۔
    ۔ ہم حاملہ اور پہلی بار کی زچگی کی خواتین کے لئے 1000 دنوں کی مدت پر مشتمل صحت بخش غذائی پروگرام متعارف کروائیں گے تاکہ سٹنٹنگ (stunting ) ، ویسٹنگ (wasting) اور کم عمر بچوں کی اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکے ۔
    ۔ تمام اسکول جانے والے بچوں کو مفت کھانا فراہم کریں گے ۔

    یہ سب ہم کس طرح سر انجام دیں گے ؟
    PTI , PML (N) اور مشرف دور کی کھپت (consumption) میں اضافہ کرکے معاشی ترقی حاصل کرنے کی حکمت عملی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے تناسب کو دنیا میں سب سے کم سطح پر لاکھڑا کیا ہے اور آج ہم اپنے آپ کو مہنگائی ، بیروزگاری ، غربت اور ماحولیاتی تبدیلی کے شدید ترین بحرانوں کی زد میں پاتے ہیں ۔
    اس کے علاوہ سرکاری شعبے میں سرمایہ کاری شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے 12 فیصد کی بلند سطح سے گر کر2023 میں صرف 2 فیصد کی سطح تک آچکی ہے ۔
    سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہم طویل مدت کی پائیدار اور مشترکہ ترقی کے سفر کا آغاز کریں گے جو پاکستانی نوجوانوں کے لئے روزگار کے بےشمار نئے مواقع پیدا کرے گا ۔ سرمایہ کاری کے ہمارے منصوبوں کی دو جہتیں ہوں گی ۔ ایک جانب تو ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کے دور کا نیا آغاز کریں گے جس کا کامیاب تجربہ ہم سندھ میں پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ دوسری جانب ہم موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے تبدیل شدہ حکمت عملی کے منصوبوں میں بہت بڑی سرمایہ کاری کریں گے ۔ہم عوامی میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے لئے درکار مالی وسائل کو حاصل کرنے کے لئےکئی طریقے عمل میں لائیں گے ۔۔ ہم وفاق میں اٹھارویں ترمیم کے باوجود 17 نئی قائم کی جانے والی وزارتوں کو ختم کرکے 328 بلین سے زیادہ رقم ہر سال بچائیں گے ۔ ہم اشرافیہ کو دی جانے والی بے مقصد سبسیڈیز کو ختم کریں گے ۔ اس وقت ان سبسیدیز کے ذریعے اشرافیہ کو ہر سال 1500 بلین کا فائدہ پہنچایا جارہا ہے ۔ یہ پس انداز کی ہوئی رقومات عوام کو سماجی تحفظ فراہم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے عوام دوست منصوبوں پر خرچ ہوں گی ۔ زراعت اور مکانات کی تعمیر کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہم پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لائیں گے جس میں موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کو ترجیح دی جائے گی جس کے بعد ہم بین الاقوامی طور پر موسمیاتی تبدیلی سے مقابلے پر خرچ کی جانے والی رقومات سے زیادہ حصہ حاصل کرسکیں گے ۔ ان رقومات میں COP 27 میں متعارف کیا جانے والا Loss and Damage Fund اور مزید کئی دوسرے رعائتی نرخوں پر دئیے جانے والے قرض اور کاربن کریڈٹ شامل ہیں ۔ ملک میں سرمایہ کاری اور سماجی تحفظ کے نظام کو پائیدار طور پر ترقی دینے کے لئے ضروری ہے کہ ریونیو میں اضافہ کیا جائے ۔ دو دہائیوں پر مشتمل ریونیو کی وصولی میں تنزل اس بات کا متقاضی ہے کہ ریونیو جمع کرنے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں ۔ تنزلی کے اس دور میں ہمیں صرف ایک روشن مثال ملتی ہے اور وہ صوبائی سطح پر ریونیو بورڈ تشکیل دینے کی پالیسی ہے جس میں سندھ کی کارکردگی سب سے بہتر رہی ہے ۔ ہم اشیاء پر وصول کئے جانے والے جنرل سیلز ٹیکس (GST on Goods) کی وصولی کو FBR کے بجائے صوبائی ریونیو بورڈز کے حوالے کریں گے جس سے نہ صرف پاکستان کے ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ اشیاء پر لاگو جنرل سیلز ٹیکس کو یکجا کرنے میں بہتری آئے گی ۔
    ہمارے یہ پروگرام اور یہ وعدے وہ واحد طریقےہیں جن سے ہم نہ صرف اپنے عوام کو مہنگائی ، بیروزگاری اورغربت کے لامتناہی سلسلے سے نجات دلا سکتے ہیں بلکہ موسمیا تی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بھی موثر طور پر نمٹ سکتے ہیں ۔ ہمیں صرف طبقہ بالا کے مفادات کے لئے نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی فلا ح و بہبود کے لئے اپنے عوام میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی .

    قبل ازیں بھٹو ہاؤس، نوڈیرو میں کارکنان اور عہدیداران کے اعزاز میں پیپلز پارٹی نے ظہرانہ دیا،ظہرانہ میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شرکت کی

    اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسی جگہ کھڑا ہے جہاں ایک جانب معاشی بحران ہے تو دوسری جانب معاشرتی اور سیاسی بحران، جبکہ امن وامان کی صورتحال کے اثرات پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔اس وقت کسی کو کوئی فکر نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام کتنی مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔اس بار ہم انشاء ﷲ ملک کو بچائیں گے، 8 فروری کو پاکستان کے عوام ایک نئی سوچ چنیں گے۔ ایک ایسی سوچ جو پورے پاکستان کو متحد کرکے نہ صرف ان تمام مسائل کا مقابلہ کرے گی بلکہ اس میں فتح بھی حاصل کرے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری سیاسی جماعتوں میں فرق یہ ہے کہ اگر ہم جدوجہد، قربانی اور خدمت کرتے ہیں تو عوام کیلئے کرتے ہیں جبکہ دوسرے سیاست دان صرف اور صرف اپنے لیئے سوچتے اور اپنے لیئے ہی کام کرتے ہیں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عوام ساتھ دیں گے تو میں ملک کا نوجوان وزیر اعظم بنوں گا،ہم کابل جا کر چائے پی رہے تھے، ہم نے سوچا ہی نہیں پاکستان کو اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا،کسی کو احساس نہیں کہ پاکستان کے عوام کتنی مشکل میں ہیں، انکو اندازہ نہیں اسلام آباد میں کئے گئے فیصلوں کا اثر کیا ہوتا ہے، اندازہ نہیں کہ انکے فیصلوں کی وجہ سے جو تاریخی مہنگائی، بے روزگاری، غربت اسوقت پاکستان میں ہے اسکا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، ہر پاکستانی تکلیف محسوس کر رہا ہے، غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں جتنا آج معاشی بحران ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا،اگر ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،پیپلزپارٹی جمہوریت پریقین رکھتی ہے سازش ہورہی تھی ایک بار پھرون یونٹ قائم کیاجائے،ہم نے مل کے اس سازش کوناکام بنایا،ہم نےان تمام قوتوں کامقابلہ کیاجوعوام کےحق پرڈاکہ مارناچاہتی تھیں، سیلکٹڈ راج کو ہم نے پوری دنیا کے سامنے ایکسپوز کیا، تب سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کی جدوجہد کر رہی ہے، پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، ہم نے تمام قوتوں کا مقابلہ کیا جو عوام کے حق پر ڈاکہ مارنے جا رہے تھے، ہم نے سازشوں کو ناکام بنایا ،آمرانہ دور میں پیپلز پارٹی ڈٹ کر کھڑی رہی، ہم نے امیر المومنین بننے کی سازش ناکام کی، جو سیلکٹڈ دور تھا اسکا بھی مقابلہ کیا، پیپلز پارٹی کے جیالوں نے مقابلہ کیا،

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو