Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • این اے 127،شرجیل میمن کی زیر صدارت بلاول کی انتخابی مہم بارے اجلاس

    این اے 127،شرجیل میمن کی زیر صدارت بلاول کی انتخابی مہم بارے اجلاس

    این اے 127 کی انتخابی مہم کی پولیٹیکل مینجمنٹ کمیٹی کے ارکان شرجیل انعام میمن،مکیش چاولہ نے صوبائی دارلحکومت سے الیکشن میں حصہ لینے والے پارٹی امیدواروں کیساتھ اہم اجلاس کیا،

    اجلاس میں بلاول بھٹو کے جلسے کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی تیار کی گئی۔اجلاس میں رانا فاروق سعید،چودھری منظور،ذوالفقار علی بدر،اسلم گل،فیصل میر،اورنگزیب برکی، سمیت تمام اہم رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز نے شرکت کی، اجلاس کے شرکاء نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے جلسے کو کامیاب بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔شرجیل میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو کہا کہ بلاول بھٹو کے جلسے کو کامیاب بنانے کیلیے مربوط منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔لاہور کا جلسہ گیم چینجر اور پیپلز پارٹی کی پنجاب بھر میں انتخابی مہم کا راستہ متعین کریگا اور اس کا اثر پورے پنجاب پر پڑیگا۔جلسے کو کامیاب بنانے کیلیے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی تنظیموں کو کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہو گا۔

    بلاول بھٹو زرداری کی این اے 127 سے انتخابی مہم کا معاملہ،این اے 127کے صوبائی حلقوں کیلیے پیپلز پارٹی نے 5 انتخابی رابطہ کمیٹیاں تشکیل دے دیں،پی پی 157 کمیٹی میں چوہدری عدنان سرور گورسی(امیدوار)، میاں رمضان ،موسی کھوکھر اور سعود طاہر شامل ہیں،پی پی 160 کمیٹی میں میاں مصباح الرحمن(امیدوار) حاجی عزیز الرحمن چن، صداقت شیروانی اور عظمت حسین ایڈوکیٹ شامل ہیں،پی پی 161 کمیٹی میں فیصل میر(امیدوار)، احمد جواد فاروق رانا، صداقت شیروانی اور نیلم جبار شامل ہیں، پی پی 162 کمیٹی میں منظر عباس کھوکھر (امیدوار)شیخ عرفان اور فاروق یوسف گھر کی شامل ہیں،پی پی 163 کمیٹی میں فیاض بھٹی (امیدوار) ،منشا بھٹی اور عمران کھوکھر ایڈوکیٹ شامل ہیں،انچارج انتخابی مہم این اے 127 ذوالفقار علی بدر نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔

    قبل ازیں سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کی بلاول ہاؤس لاہور میں ملاقات ہوئی، آصف علی زرداری نے لاہور کے این اے 127 پر چوہدری محمد سرور کیجانب سے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    پاکستان عوامی تحریک بھی این اے 127 میں بلاول کی حمایت کر چکی ہے، بلاول کے مقابلے میں اس حلقے سے ن لیگ کے عطا تارڑ امیدوار ہیں.

     8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • اگر آپ چاہتے ہیں نوجوانوں کا مستقبل روشن ہو تو بلاول کی آواز بنیں،آصفہ بھٹو

    اگر آپ چاہتے ہیں نوجوانوں کا مستقبل روشن ہو تو بلاول کی آواز بنیں،آصفہ بھٹو

    کراچی: آج آصفہ بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری پہنچ کر خطاب کیا، اس موقع پر پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں اور کارکنوں نے اس کا استقبال کیا، انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ 8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    باغی ٹی وی: کراچی میں انتخابی مہم کے دوران آصفہ بھٹو زرداری نے ابراہیم حیدری، لانڈھی اور ملیر کا دورہ کیا ، پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں اور کارکنوں نے پرتپاک استقبال کیا ، اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک عوام دوست اور غریب دوست منشور لے کر آئیں ہیں، جس پر عمل کرنے کیلئے آپ کےساتھ کی ضرورت ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو صحت کارڈ ملے تو بلاول کو کامیاب کرائیں، آپ نے 8 فروری کو ووٹ تیر کو دینا ہے-

    طیبہ گل ہراسانی کیس: سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال آئندہ سماعت پر ذاتی …

    https://x.com/MediaCellPPP/status/1747216738452906318?s=20
    انہوں نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ 300 یونٹ بجلی مفت ملے اور تنخواہ دگنی ہو تو پیپلزپارٹی کو ووٹ دیں، معیاری مفت علاج کی فراہمی کیلئے ہمارا ساتھ دیں، اگر آپ چاہتے ہیں نوجوانوں کا مستقبل روشن ہو تو بلاول کی آواز بنیں، آپ سب بلاول کو کامیاب کریں آصفہ بھٹو زرداری نے کراچی میں انتخابی مہم کے جلسوں میں شہریوں سے اپیل کی کہ 8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    قومی ترقی کا راستہ پی او ایف واہ جیسی مقامی صنعتوں سے متعین ہوتا …

    ساس بہو کا جھگڑا سپریم کورٹ پہنچ گیا

  • چودھری سرور  کا  این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا اعلان

    چودھری سرور کا این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا اعلان

    لاہور: سابق گورنر پنجاب چودھری سرور نے این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: چودھری سرور سے بلاول بھٹوکے ترجمان ،ذوالفقار علی بدرنے ملاقات کی ہے،جس میں چودھری سرور نے این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا، سابق گورنر پنجاب این اے 127 میں خود بلاول بھٹو کی الیکشن کمپین کریں گے-

    دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہم نے عوام کے حق پر ڈاکاڈالنے والوں سے مقابلہ کیا پیپلزپارٹی این ایف سی اور 18ویں ترمیم پر یقین رکھتی ہے،ہم نے سلیکٹڈ اور آمرانہ دور کا عوامی حمایت سے خاتمہ کیا،سازش کی جارہی تھی کہ ایک بار پھر ون یونٹ قائم کیاجائے کسی کو عوام کی تکلیف کا کوئی اندازہ نہیں ،کسی کو اندازہ نہیں کہ اسلام آبادمیں فیصلوں کا اثر عوام پر ہوتاہے،جتنا معاشی بحران آج ہے وہ تاریخ میں نہیں دیکھا پاکستان سیاسی اور معاشی بحران سے دوچارہے ایک دوسرے پرالزامات لگاتے لگاتے ہم ذاتی دشمنی تک پہنچ گئے اس بار ہم پاکستان کو پہلے سے بچائیں گے ،8فروری کو ایک نئی سوچ کا انتخاب کریں گے ،لوگ ہی میری فوج اور میری طاقت ہیں۔

    رواں ہفتے موسم بارشیں ہوں گی یا نہیں، محکمہ موسمیات نے بتا دیا

    ہم کسی صورت الیکشن سے بائیکاٹ نہیں کریں گے،بیرسٹر گوہر

    یو اے ای میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ

  • ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

    ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے “عوامی معاشی معاہدہ” کا اعلان کردیا

    پی پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے بیگم نصرت بھٹو آڈیٹوریم میں “عوامی معاشی معاہدہ” کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے تنظیمی عہدیداروں اور کارکنان کے ساتھ ساتھ میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس انقلابی دستاویز کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں، جو قوم کو درپیش تمام چیلنجز پر قابو پانے اور ملک کو ترقی، خوشحالی اور سربلندی کی راہ پر گامزن کرنے کی چابی ہے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا کے ذریعے “عوامی معاشی معاہدہ” کا مسودہ پوری قوم کو پڑھ کر سنایا:
    عوامی معاشی معاہدہ
    معاشی بحران
    اس وقت ہمارے ملک میں جو بلند ترین سطح کی مہنگائی اور مکمل اور جزوی بے روزگاری دیکھنے میں آرہی ہے وہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے ۔ غربت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے ۔ ہمارے محنت کش پہلے سے کئی زیادہ کام کر رہے ہیں لیکن ان کی حقیقی آ مدنی کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے ۔ ہمارے شہری اور خصوصی طور پر ایسے شہری جن کا تعلق غریب طبقے سے ہے وہ غیر محفوظ ہیں اور ہمارے نوجوان اپنے موجودہ حالات کے بارے میں شدید عدم تحفظ اور اپنے مستقبل کے بارے میں ا تنی غیر یقینی کیفیت سے کبھی دو چار نہیں رہے ہیں ،غذائی اشیاءکی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے ۔ صرف پانچ سال قبل آٹے کے دس کلو گرام کے بیگ کی قیمت 400 روپے سے کم تھی ۔ آ ج اسی بیگ کی قیمت 1400 روپے سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ اسی طرح گزشتہ پانچ سال کے دوران دودھ ، خوردنی تیل اور دالوں کی قیمتوں میں بالترتیب 113 فیصد، 217 فیصد اور 353 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہانہ 50 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لئے بجلی کے نرخوں میں 277 فیصد کا ضافہ ہوا ہے ۔ اسی مدت کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے ،آٹھ سال قبل ایک غریب گھرانہ جس کی مشترکہ آمدنی ماہانہ 35000 ہوا کرتی تھی وہ اپنی اس انتہائی محدود آ مدنی میں بھی آٹے ، خوردنی تیل ، دودھ اور دوسری غذائی اشیاء کی اچھی خاصی مقدار خرید سکتا تھا تا کہ اس کے خاندان کے تمام افراد پیٹ بھر کر غذا حاصل کر سکیں ، دوکمروں کی مکانیت کے گھر میں رہ سکیں ، بچوں کو اسکول بھیج سکیں ، دکھ، بیماری اور تھوڑی بہت سیر و تفریح کے لئے کچھ رقم پس انداز کرسکیں ۔ آج کی مہنگائی کے دور میں ایک خاندان کو ان تمام بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کم از کم 70000 روپے ماہانہ کی ضرورت ہوگی ۔ اخراجات زندگی میں اس اضافے اور اجرتوں کی حقیقی قدر میں ایسی کمی اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور یہ سرا سر ناقابل قبول ہے ،مہنگائی ، بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غربت اور مسلسل عدم استحکام اور معاشی ترقی کی گرتی ہوئی شرح کے ماحول میں نئے مواقع روزگار کا پیدا ہونا دشوار تر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد غیر رسمی شعبے میں انتہائی کم اجرت والی نوکریوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ ہماری آ بادی کے دس فیصد غریب ترین افراد صرف 14500 روپے ماہانہ کی قلیل ترین اجرت پر کام کرنے پر مجبورہیں ،آج پاکستان کی آبادی کے 93 ملین افراد جو کہ ہماری کل آبادی کے 40 فیصد ہیں خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ اوران میں سے 15 ملین افراد وہ ہیں جو 2018 اور 2023 کے پانچ سال کے د وران خط غربت سے نیچے گئے ہیں ،اگر ایک جانب ہم ایک تاریخی معاشی بحران کا شکار ہوچکے ہیں تو دوسری جانب ہم ایک شدید ترین ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی تباہی کا شکار ہیں جو نہ صرف ہماری معیشت کے لئے ناقابل برداشت مسائل پیدا کر رہی ہے بلکہ ہم میں سے ہر ایک کی زندگی اور خوشحالی کے لئے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے ۔ شدید ترین سیلاب یا مہیب خشک سالی جو پہلے 100 سال میں ایک دفعہ وقوع پذیر ہوتے تھے اب اس ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بار بار وقوع پزیر ہورہے ہیں ۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر واقع براعظم اینٹارٹیکا کے بعد قدرتی برف کا سب سے بڑا ذخیرہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں ہے ۔ سائنسدانوں نے قدرتی برف کے اس ذخیرے کو ‘‘ تیسرے قطب ’’ (Third Pole) کے نام سے تعبیر کیا ہے ۔ پاکستان اس نئے ماحولیاتی بحران کی صف اول میں ہے ۔ سائنسی اندازوں کے مطابق پاکستان میں رہنے والے 24.1 ملین افراد پہلے مرحلے میں تباہ کن سیلابوں اور ان سیلابوں کے بعد کبھی نہ ختم ہونے والی طویل خشک سالی سے دو چار ہونے کے خطرے میں ہیں ۔ جب کہ اس عالمی موسمیاتی بحران کی ذمہ داری پاکستان پر 1 فیصد سے بھی کم ہے ،ہمیں اپنی ترقیاتی ترجیحات میں بڑے پیمانے پر اور مکمل اصلاحات لانی ہوں گی ۔ ہمیں موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنے ، بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے اور توانائی کے ذرائع تبدیل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ اور یہ سب ہمیں اس انداز سے کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں معاشی ترقی میں سب کی شمولیت ہو ، جس سے ماحول دوست مواقع روزگار پیدا ہوں اور جس سے نہ صرف ماحولیاتی بحران کا مقابلہ ہو سکے بلکہ ہم روز افزوں مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت کا بھی مقابلہ کرسکیں ،ہمیں عام محنت کشوں ، خواتین ، مردوں اور نوجوانوں کو مرکزیت دینی ہوگی اور دانش مندی کے ساتھ مزید سرمایہ کاری کرنی ہوگی ۔ صوبوں ، مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کو زیادہ با اختیار بنانا ہو گا اور کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا ۔

    ہمارے 10 وعدے
    اجرت پر کام کرنے والوں کی حقیقی آمدنی کو دوگنا کرنا ۔
    ۔ کم سے کم اجرت میں ہر سال حقیقی معنوں میں 8 فیصد اضافہ کرنا،تاکہ ہم ایک گزارے کے قابل اجرت کی سطح تک پہنچ سکیں ۔
    ۔ سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری میں دو گنا اضافہ کرکے مواقع روزگار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ،تاکہ بے روزگاری اور جزوی بے روزگاری میں کمی کی جاسکے ۔
    ۔ مقامی شہریوں کی ضرورتوں کے مطابق سرمایہ کاری اور مواقع روز گار پیدا کرنا۔
    ۔صوبائی اور مقامی سطحوں پر سماجی اور پیداواری شعبوں میں سرکاری اور نجی شعبے میں اشتراک ( پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ)
    ۔ نجی ملکیت کے مکانوں کی تعمیر میں کثیر اضافے کی بنیاد پر غریب طبقے کے مکانات کی تعمیر کے لئے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ۔
    ۔ زراعت اور چھوٹے کاروبار میں سرمایہ کاری اور اصلا حات کو فروغ دینا ۔

    گرین نیو ڈیل (Green New Deal )
    موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ

    ۔ سرکاری شعبے ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے شعبے اوربیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں ماحولیاتی تبدیلی سے منسلک سرمایہ کاری کی جائے گی ۔
    ۔ سڑکوں اورشاہراہوں ، مواصلات ، صحت ، آبپاشی ، زراعت میں پاکستان کے سرکاری شعبے کے انفرا اسٹرکچر کی سرمایہ کاری میں موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔
    ۔ یہ سرمایہ کاری معاشی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر فروغ ، نئے مواقع روزگار پیدا کرنے اور موسمیا تی تبدیلی کے نقصانات سے محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی ۔

    ملکی ذرائع سے پیدا ہونے والی گرین انرجی
    ۔ قابل استطاعت نرخوں پر الیکٹرسٹی تک رسائی ہر شہری کا حق ہے ۔
    ۔ بجلی کے موجودہ نرخوں اور تقسیم کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور ہمارے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا ۔
    ۔ ہم بجلی کے موجودہ بحران سے نجات پانے کے لئے ملکی ذرائع اور قابل تجدید توانائی کی بنیاد پر پائیدار حل مہیا کریں گے ۔
    ۔ ہم اپنے شہریوں کے لئے قومی الیکٹرسٹی گرڈ سے علیحدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پورے پاکستان میں گرین انرجی پارک تعمیر کرکے ان کی گرین انرجی کی ضروریات پوری کریں گے ۔
    ۔ انرجی کے پیداواری نظام میں تبدیلی کو تیز تر کرنے کے لئے ہم غریب ترین گھرانوں کو ہر ماہ 300 یونٹ تک بجلی مفت فراہم کریں گے ۔ اس پروگرام میں درکار سرمایہ ہم کاربن کریڈٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کریں گے ۔

    تعلیم سب کے لئے
    ۔ ہم اسکول جانے کی عمر تک کے تمام بچوں اور بچیوں کے لئے آئین کی شق 25 A کے الفاط اوراصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے سب بچوں کی اسکولوں میں تعلیم کو یقینی بنائیں گے۔
    ۔ ہم گھروں سے زیادہ سے زیادہ 30 منٹ کے سفری فاصلے پر معیاری پرائمری اسکولوں کے قیام اور زیادہ سے زیادہ 60 منٹ کے سفری فاصلے پر معیاری مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کے قیام کو یقینی بنائیں گے ۔
    ۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہنے والے طلبا کو تعلیمی وظائف دئیے جائیں گے ۔
    ۔ پاکستان کے ہر ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

    سب کے لئے علاج کی سہولت
    ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے لئے اس کے شہریوں کی اچھی صحت سب سے زیادہ اہم ہے ۔ اس مقصد کے لئے ہم سندھ کے صحت کے شعبے میں کی جانے والی پیش رفت کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کریں گے ۔
    ۔ ہم پورے ملک میں پرائمری سطح کے علاج معالجے کی مفت سہولتیں اور مفت دوائیں مہیا کریں گے ۔
    ۔ بنیادی صحت کے مراکز کو پوری طرح اور ہمہ وقت موثر کیا جائے گا ۔
    ۔ سرکاری شعبے اور سرکاری نجی شعبے کے اشتراک سے چلنے والے اسپتالوں میں دائمی نوعیت کے امراض ، امراض قلب ، جگر اور گردوں کے امراض کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا ۔

    مکان ایک حق
    غریبوں ، بے زمینوں اور محنت کشوں کے لئے رہائشی مکانات کی فراہمی ۔
    ۔ تمام صوبوں اور علاقوں کے دیہی اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہائشی سہولتیں مہیا کرنے کی اسکیمیں جن کو پانچ مرلہ اسکیم اور سیلاب متاثرین کے لئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے کامیاب ماڈل کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا ۔
    ۔ ہر بے گھر خاندان کو رہنے کے لئے گھر فراہم کیا جائے گا ۔
    ۔ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے کم از کم تیس لاکھ مکان تعمیر کئے جائیں گے جن کی قانونی ملکیت خاتون خانہ کے نام ہوگی ۔
    ۔ کچی آبادیوں کو ریگیولرائز کیا جائے گا اور مکینوں کو قانونی ملکیت دی جائے گی ۔
    ۔ کچے کے علاقوں کے رہنے والوں کو قانونی طور پر دی گئی زمینوں کا مالک بنایا جائے گا ۔
    ۔ مکانات کی تعمیر کے لئے قرضوں کی فراہمی ، نچلے متوسط طبقے اور محنت کشوں کے لئے رہن پر رہائشی قرضہ جات کی فراہمی کے لئے سرکاری اور نجی شعبے کو متحرک کیا جائے گا ۔

    غربت مٹاؤ ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع
    ۔ ایسے مزیدافراد کو جو موجودہ مہنگا ئی ، بیروزگاری اور غربت کی وجہ سے غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرنے کے لئے اس پروگرام کو مزید توسیع دی جائے ۔ غربت کی بنیاد پر دی جانے والی براہ راست مالی اعانت کے علاوہ بھی ہم پروگرام میں مندرجہ ذیل جہتوں کا اضافہ کریں گے :
    ۔ وسیلہ حق (WEH) پروگرام جو کہ غریب خواتین کو چھوٹے قرضے فراہم کرے گا تاکہ وہ اپنے چھوٹے کاروبار کو توسیع دے کر غریبی کے چنگل سے باہر نکل سکیں ۔ہم نے صوبہ سندھ میں پیپلز پاورٹی ایلیوئیشن پروگرام سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے اشتراک سے کامیابی کے ساتھ چلایا ہے اور بہت اچھے نتائج حاصل کئے ہیں ۔
    ۔ وسیلہ تعلیم (WET) پروگرام جو کہ خاندان کے ہر مستحق بچے کو خاندان میں مستحق بچوں کی تعداد سے قطع نظر نقد مالی امداد فراہم کرے گا ۔ یہ نقد مالی امداد اس بات سے مشروط ہوگی کہ امداد حاصل کرنے والے بچے کی اسکول میں حاضری کم از کم 70 فیصد ہو ۔
    اسکول کی حاضری کو سہ ماہی بنیاد پر جانچا جائے گا ۔
    ۔ وسیلہ روزگار (WER) پروگرام جو پروگرام میں شامل ہر خاندان کے ایک منتخب باصلاحیت فرد کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گا ۔ منتخب ہونے والے افراد کو ان کے ذاتی حالات اور ان کے اپنے ضلع میں اپنا روزگار خود پیدا کرنے کے مواقع کے لحاظ سے ایک سال کی پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی ۔
    ۔ وسیلہ صحت (WES) پروگرام جو پروگرام میں رجسٹر ہونے والے خاندانوں کو بیماریوں کے علاج میں ہونے والے کثیر اخراجات سے تحفظ فراہم کرے گا ۔

    خوشحال کسان ۔ خوشحال پاکستان
    زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں زرعی شعبے اور بالخصوص چھوٹے کسانوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہئیے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہم مندرجہ ذیل اقدامات کریں گے :
    ۔ ہاری کسان کارڈ میں رجسٹریشن کے ذریعے عورتوں اور مردوں ، چھوٹے کسانوں ، کسان اور ہاریوں اور زرعی مزدوروں کو ان کی بحیثیت کسان شناخت دینا ۔
    ۔ مندرجہ ذیل اشیاءکے حصول کے لئے کسان کارڈ کے ذریعے رعایت فراہم کرنا ۔
    ۔ بہترین اقسام کے بیج
    ۔ ڈی اے پی اور یوریا کھاد جیسی ان پٹ ۔
    ۔ فصلوں کی مارکٹنگ ۔
    ۔ زمین کی بہتری اور آبپاشی کے لئے درکار پانی کا انتطام ۔
    ۔ مویشیوں کی افزائش کے سلسلے کی خدمات ۔
    ۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ کے لئے بہترین طریقہ کار کی فراہمی ۔
    ۔ فصلوں کا انشورنس ۔
    ۔ زرعی پیداوار میں تنوع کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے مختلف اجناس کی امدادی قیمتوں کو یقینی بنانا ۔
    ۔ Tenancy اور لیبر قوانین میں اصلاحات، تاکہ زراعت میں مزید سرمایہ کاری ہوسکے اور ترقی کے عمل میں ہر ایک شریک ہوسکے ۔

    مزدور کو محنت کاصلہ
    ۔ ہمارے غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو نہ تو روزگار کا تحفط حاصل ہے اور نہ ہی سماجی تحفظ تک رسائی حاصل ہے ۔ ان تک یہ سہولتیں پہنچانے کے لئے :
    ۔ ان کی محنت کے مطابق اجرت کی ضمانت، جو کہ آگے چل کر سب کو گزارے کے قابل اجرت فراہم کرسکے ۔
    ۔ مزدور کارڈ میں رجسٹریشن کے ذریعے مزدوروں کو جن میں غیر رسمی شعبے کے مزدور ، خود روزگار حاصل کرنے والے مزدور اور زرعی مزدور شامل ہوں سماجی تحفظ فراہم کرنا جس کے تحت وہ:
    ۔ اپنے بچوں کی اسکول کی فیسیں ادا کرسکیں گے ۔
    ۔ اپنے لئے اور اپنے افراد خاندان کے لئے ہیلتھ انشورنس حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ اولڈ ایج بینیفٹ حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ معذوری کے بینیفٹ حاصل کرسکیں گے ۔

    جوان مستقبل
    دنیا بھر میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں نوجوانوں کی تعداد کا تناسب سب سے زیادہ ہے ۔ آ بادی کے اس تناسب کو کام میں لانے اور ملک کی ورک فورس میں ان کی بلا رکاوٹ شمولیت کے لئے ہم نوجوان کارڈ (Youth Card) متعارف کروائیں گے جس کے ذریعے ؛
    ۔ تعلیم یافتہ ، مستحق نوجوان مرد اور خواتین ملازمت حاصل کرنے کی مدت میں ایک سال تک وظیفہ حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے قرضے حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ نجی اور سرکاری شعبے میں انٹرن شپ اور تربیتی ملازمتوں کے لئے روابط قائم کرسکیں گے ۔
    ۔ تمام شعبوں میں نوجوانوں کی قیادت میں نئے کاروبار کا آغاز کرسکیں گے جس کے لئے ہم ضروری انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انفرا اسٹرکچر مہیا کریں گے تاکہ نوجوان ملک بھر میں تیز ترین رابطے قائم کرسکیں ۔
    پورے ملک میں یوتھ سینٹر قائم کئے جائیں گے تاکہ لائبریریوں اور ڈیجیٹل لائیبریریوں تک مفتWiFiکے ذریعے رسائی ہوسکے ۔ ان مراکز میں کھیلوں ، ثقافتی سرگرمیوں ، تفریحی سرگرمیوں ، پیشہ ورانہ تربیت ، صلاحیتوں اور مختلف زبانیں سیکھنے کی کلاسیں ، کیریر اور ملازمتوں کے حصول میں سپورٹ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔

    بھوک مٹاؤ
    غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لئے ہمارا عزم ہے کہ ہم رعایتی قیمتوں پر صحت بخش غذائی اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہم غذائی اشیاءکی اندرون ملک پیداوار میں اضافہ کریں گے ، مقامی پروڈیوسر کو سبسڈی فراہم کریں گے اور خواتین کو ان کے اپنے کاروبار کے ذریعے مارکٹ معیشت سے منسلک کریں گے ۔
    اس کے علاوہ ہم :
    ۔ انسانی حقوق کی بنیاد پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے غذائی حقوق کا قانون منظور کروائیں گے ۔ اس قانون کے تحت ہر مستحق خاندان رعایتی قیمتوں پر ضرورت کی غذائی اشیاءخرید سکے گا ۔
    ۔ ہم حاملہ اور پہلی بار کی زچگی کی خواتین کے لئے 1000 دنوں کی مدت پر مشتمل صحت بخش غذائی پروگرام متعارف کروائیں گے تاکہ سٹنٹنگ (stunting ) ، ویسٹنگ (wasting) اور کم عمر بچوں کی اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکے ۔
    ۔ تمام اسکول جانے والے بچوں کو مفت کھانا فراہم کریں گے ۔

    یہ سب ہم کس طرح سر انجام دیں گے ؟
    PTI , PML (N) اور مشرف دور کی کھپت (consumption) میں اضافہ کرکے معاشی ترقی حاصل کرنے کی حکمت عملی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے تناسب کو دنیا میں سب سے کم سطح پر لاکھڑا کیا ہے اور آج ہم اپنے آپ کو مہنگائی ، بیروزگاری ، غربت اور ماحولیاتی تبدیلی کے شدید ترین بحرانوں کی زد میں پاتے ہیں ۔
    اس کے علاوہ سرکاری شعبے میں سرمایہ کاری شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے 12 فیصد کی بلند سطح سے گر کر2023 میں صرف 2 فیصد کی سطح تک آچکی ہے ۔
    سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہم طویل مدت کی پائیدار اور مشترکہ ترقی کے سفر کا آغاز کریں گے جو پاکستانی نوجوانوں کے لئے روزگار کے بےشمار نئے مواقع پیدا کرے گا ۔ سرمایہ کاری کے ہمارے منصوبوں کی دو جہتیں ہوں گی ۔ ایک جانب تو ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کے دور کا نیا آغاز کریں گے جس کا کامیاب تجربہ ہم سندھ میں پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ دوسری جانب ہم موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے تبدیل شدہ حکمت عملی کے منصوبوں میں بہت بڑی سرمایہ کاری کریں گے ۔ہم عوامی میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے لئے درکار مالی وسائل کو حاصل کرنے کے لئےکئی طریقے عمل میں لائیں گے ۔۔ ہم وفاق میں اٹھارویں ترمیم کے باوجود 17 نئی قائم کی جانے والی وزارتوں کو ختم کرکے 328 بلین سے زیادہ رقم ہر سال بچائیں گے ۔ ہم اشرافیہ کو دی جانے والی بے مقصد سبسیڈیز کو ختم کریں گے ۔ اس وقت ان سبسیدیز کے ذریعے اشرافیہ کو ہر سال 1500 بلین کا فائدہ پہنچایا جارہا ہے ۔ یہ پس انداز کی ہوئی رقومات عوام کو سماجی تحفظ فراہم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے عوام دوست منصوبوں پر خرچ ہوں گی ۔ زراعت اور مکانات کی تعمیر کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہم پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لائیں گے جس میں موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کو ترجیح دی جائے گی جس کے بعد ہم بین الاقوامی طور پر موسمیاتی تبدیلی سے مقابلے پر خرچ کی جانے والی رقومات سے زیادہ حصہ حاصل کرسکیں گے ۔ ان رقومات میں COP 27 میں متعارف کیا جانے والا Loss and Damage Fund اور مزید کئی دوسرے رعائتی نرخوں پر دئیے جانے والے قرض اور کاربن کریڈٹ شامل ہیں ۔ ملک میں سرمایہ کاری اور سماجی تحفظ کے نظام کو پائیدار طور پر ترقی دینے کے لئے ضروری ہے کہ ریونیو میں اضافہ کیا جائے ۔ دو دہائیوں پر مشتمل ریونیو کی وصولی میں تنزل اس بات کا متقاضی ہے کہ ریونیو جمع کرنے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں ۔ تنزلی کے اس دور میں ہمیں صرف ایک روشن مثال ملتی ہے اور وہ صوبائی سطح پر ریونیو بورڈ تشکیل دینے کی پالیسی ہے جس میں سندھ کی کارکردگی سب سے بہتر رہی ہے ۔ ہم اشیاء پر وصول کئے جانے والے جنرل سیلز ٹیکس (GST on Goods) کی وصولی کو FBR کے بجائے صوبائی ریونیو بورڈز کے حوالے کریں گے جس سے نہ صرف پاکستان کے ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ اشیاء پر لاگو جنرل سیلز ٹیکس کو یکجا کرنے میں بہتری آئے گی ۔
    ہمارے یہ پروگرام اور یہ وعدے وہ واحد طریقےہیں جن سے ہم نہ صرف اپنے عوام کو مہنگائی ، بیروزگاری اورغربت کے لامتناہی سلسلے سے نجات دلا سکتے ہیں بلکہ موسمیا تی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بھی موثر طور پر نمٹ سکتے ہیں ۔ ہمیں صرف طبقہ بالا کے مفادات کے لئے نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی فلا ح و بہبود کے لئے اپنے عوام میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی .

    قبل ازیں بھٹو ہاؤس، نوڈیرو میں کارکنان اور عہدیداران کے اعزاز میں پیپلز پارٹی نے ظہرانہ دیا،ظہرانہ میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شرکت کی

    اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسی جگہ کھڑا ہے جہاں ایک جانب معاشی بحران ہے تو دوسری جانب معاشرتی اور سیاسی بحران، جبکہ امن وامان کی صورتحال کے اثرات پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔اس وقت کسی کو کوئی فکر نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام کتنی مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔اس بار ہم انشاء ﷲ ملک کو بچائیں گے، 8 فروری کو پاکستان کے عوام ایک نئی سوچ چنیں گے۔ ایک ایسی سوچ جو پورے پاکستان کو متحد کرکے نہ صرف ان تمام مسائل کا مقابلہ کرے گی بلکہ اس میں فتح بھی حاصل کرے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری سیاسی جماعتوں میں فرق یہ ہے کہ اگر ہم جدوجہد، قربانی اور خدمت کرتے ہیں تو عوام کیلئے کرتے ہیں جبکہ دوسرے سیاست دان صرف اور صرف اپنے لیئے سوچتے اور اپنے لیئے ہی کام کرتے ہیں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عوام ساتھ دیں گے تو میں ملک کا نوجوان وزیر اعظم بنوں گا،ہم کابل جا کر چائے پی رہے تھے، ہم نے سوچا ہی نہیں پاکستان کو اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا،کسی کو احساس نہیں کہ پاکستان کے عوام کتنی مشکل میں ہیں، انکو اندازہ نہیں اسلام آباد میں کئے گئے فیصلوں کا اثر کیا ہوتا ہے، اندازہ نہیں کہ انکے فیصلوں کی وجہ سے جو تاریخی مہنگائی، بے روزگاری، غربت اسوقت پاکستان میں ہے اسکا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، ہر پاکستانی تکلیف محسوس کر رہا ہے، غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں جتنا آج معاشی بحران ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا،اگر ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،پیپلزپارٹی جمہوریت پریقین رکھتی ہے سازش ہورہی تھی ایک بار پھرون یونٹ قائم کیاجائے،ہم نے مل کے اس سازش کوناکام بنایا،ہم نےان تمام قوتوں کامقابلہ کیاجوعوام کےحق پرڈاکہ مارناچاہتی تھیں، سیلکٹڈ راج کو ہم نے پوری دنیا کے سامنے ایکسپوز کیا، تب سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کی جدوجہد کر رہی ہے، پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، ہم نے تمام قوتوں کا مقابلہ کیا جو عوام کے حق پر ڈاکہ مارنے جا رہے تھے، ہم نے سازشوں کو ناکام بنایا ،آمرانہ دور میں پیپلز پارٹی ڈٹ کر کھڑی رہی، ہم نے امیر المومنین بننے کی سازش ناکام کی، جو سیلکٹڈ دور تھا اسکا بھی مقابلہ کیا، پیپلز پارٹی کے جیالوں نے مقابلہ کیا،

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • ون پوائنٹ ایجنڈہ،ہم آئین میں تین آئینی ترامیم چاہتے ہیں ،مصطفیٰ کمال

    ون پوائنٹ ایجنڈہ،ہم آئین میں تین آئینی ترامیم چاہتے ہیں ،مصطفیٰ کمال

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ آج ہمارے ہمارے دوست ڈاکٹر عرفان گل مگسی ایم کیو ایم میں شامل ہو رہے ہیں ،انتخابات کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے پانچ ماہ سے انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے ،ہماری انتخابی مہم گزشتہ کئی ماہ سے چل رہی تھی ،ایم کیو ایم نے جو منشور پیش کیا وہ سب نے دیکھا ،ہم پاکستان کے آئین میں بنیادی تبدیلی چاہتے ہیں ،ہم آئین میں تین آئینی ترامیم چاہتے ہیں ،ہمارا یہ ون پوائنٹ ایجنڈا ہے ،آئینی ترامیم ہوگی تو اختیارات نچلی سطح پر آئیں گے,جب تک ملک میں مقامی حکومتیں نہیں آتیں عام انتخابات نہ ہوں ،جس جس کو ایم کیو ایم کے ووٹوں کی ضرورت پڑے گی ایم کیو ایم صرف اس سے آئینی ترامیم مانگے گی،دنیا میں جو ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں وہ سب اربن ممالک ہیں،جب تک ممالک اربن نہیں ہونگے آپ ترقی نہیں کرسکتے،جو بھی بین الاقوامی کھلاڑی ہیں شاعر ادیب ان کا تعلق کہیں سے بھی ہو جب وہ شہر میں آتے ہیں تو لائم لائٹ میں آتے ہیں،پاکستان میں ایک شہر ہے جو پلاننگ سے بنا وہ اسلام آباد ہے،پوری دنیا میں پلاننگ کے تحت شہر آباد کئے جاتے ہیں،اگر پلاننگ سے شہر نہیں بنائیں گے تو لوگ پارکوں سڑکوں پر سوئیں گے،

    15 نہیں پانچ سال دے دیں، ضمانتیں ضبط کروا دینگے، مصطفیٰ کمال
    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 31 ارب ڈالر بیرون ملک مقیم پاکستانی بھیجتے ہیں،انڈیا نے اپنی یونیورسٹی میں لوگوں کو ٹرینڈ کرکے باہر بھیجا آج وہ لوگ مختلف کمپنیوں کے سی او ہیں،ایم کیو ایم ملک میں اسکول اور یونیورسٹی میں وہ تعلیم دینا چاہتے ہیں جس کی دنیا میں ضرورت ہے،پیپلزپارٹی نے 15 سال حکومت میں رہنے کے باوجود کچھ نہیں کیا۔ بلاول بھٹو لاہور میں کھڑے ہوکر یہ نہیں کہہ سکتے ہمیں ووٹ دو ہم لاہور کو کراچی جیسا بنادیں گے،ایم کیو ایم 21 جنوری کو باغ جناح میں تاریخی جلسہ کرنے جارہی ہے، سپریم کورٹ نے اوپن عدالت لگائی تاکہ پی ٹی آئی آکر اپنی بات ثابت کرے،انہوں نے ایک کمرے میں بند رزلٹ بنا لیا وہ کورٹ میں کچھ ثابت نہیں کرسکے اب کوئی پارٹی میں کمرہ بند کر کے چیئرمین نہیں لا سکے گی، پہلی چھری پی ٹی آئی پر چلی ہے،ہم 15 سال نہیں مانگ رہے صرف 5 سال کیلئے سندھ ہمارے حوالے کردیں۔ لیاری اور لاڑکانہ تک میں اتنے کام کروائیں گے کہ ان کی ضمانتیں ضبط ہوجائیں گی

    اگرکسی پرمقدمات ہیں توانہیں ایک دفعہ معاف کردیں،مصطفیٰ کمال

    اختیارات گلی کوچوں تک پہنچنے چاہئیں،مصطفیٰ کمال

    ملکی ترقی کے لیے عام آدمی کا بااختیار ہونا ضروری ہے. مصطفیٰ کمال

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    اقتدار نہیں مسائل کا حل چاہئے، مصطفیٰ کمال کا دھرنے سے خطاب

  • ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،بلاول

    ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پرانے سیاست دان آج بھی نفرت کی سیاست کر رہے ہیں

    بلاول بھٹو زرداری نے ضلع قمبر شہدادکوٹ کی تحصیل میروخان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستان میں وسائل موجود ہیں، مگر مشکل فیصلے لینے پڑیں گے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد تقریبا 17 وزارتیں ہیں جو چل رہی ہیں جو کام نہیں کرتی، وفاق میں 17 وزارتیں بند کرنے سے سالانہ تین سو ارب بچا سکتے ہیں،یہ پیسہ پاکستان کے عوام پر خرچ کریں، سولر کے ذریعے بجلی مفت دیں،مزدور کارڈ کے ذریعے پیسے دیں تو مزدور کو تحفظ ملے گا،میں خود یہاں سے الیکشن لڑ رہا ہوں، جو بھی سیلاب آیا اس میں سب سے زیادہ متاثر علاقہ سندھ کا ہوتا ہے، صحت، انفراسٹرکچر، زراعت، گھر سب تباہ ہوجاتے ہیں، فلڈ روکنے کے لئے جو بند بنائے تھے، اس سیلاب میں پانی اس لیول تک پہنچا اب اسکو ڈبل کریں گے، قدرتی آفت بتا کر نہیں آتی، انفراسٹرکچر تباہ ہو جاتا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کام نہیں ہوا، کام کرتے ہیں لیکن آفت میں جو نقصان ہوتا اسکے ذمہ دار ہم نہیں، ہمیں ان کاموں کو ترجیح دینی ہو گی، حل یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت بنے تا کہ میگا پروجیکٹ مکمل کر لیں، بلدیاتی نظام میں بھی ہم بہتری لانا چاہتے ہیں، ہم نے لاڑکانہ شہر میں بلدیاتی نظام بہتر کیا،لاڑکانہ میں ہر گھر سے کچرہ اٹھایا جاتا ہے، ہم اس منصوبے کو قمبر شہداد پور سمیت سب علاقوں میں لے کر جائیں گے.

    پی ٹی آئی کارکنوں کو عدالت کو الزام دینے کے بجائے اپنے اندر جائزہ لینا چاہئے ،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف کام کیا بلکہ عوام کی نمائندگی کی، قائد عوام نے اپنی زمین غریب کسان کو دی، مزدور کو دی،ن لیگ سیاست نہیں کرنا چاہتی اپنے مخالفین کو پچ سے آوٹ رکھنا چاہتی ہے، ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ن لیگ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،اب مقابلہ تیر اور شیر کا ہے، ہمارا ساتھ دیں،پنجاب میں ہمارے صوبائی امیدواروں کو تیر کے نشان سے محروم رکھا، چیف جسٹس چاہتے تو سیاسی فیصلہ دے سکتے تھے مگر انہوں نے روایت نہیں توڑی قاضی فائز عیسیٰ جب سے چیف جسٹس آف پاکستان بنے ہیں قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے فیصلے دیتے ہیں ،پی ٹی آئی کارکنوں کو عدالت کو الزام دینے کے بجائے اپنے اندر جائزہ لینا چاہئے ،پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت کو انٹراپارٹی الیکشن اور ارکان کو نکالنے کے ثبوت نہیں دیئے ،پی ٹی آئی کا عدالت پر سارا ملبہ ڈالنا ناانصافی ہے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ایسی کوئی قوت نہیں جو الیکشن کو ملتوی کرنا چاہے گی ، 18 جنوری کو دادو اور نوشہرو فیروز میں جلسہ کروں گا، 19 جنوری کو رحیم یارخان میں ہمارا جلسہ ہوگا،سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور وفاق میں بھی حکومت بنائیں گے.

    پیپلز پارٹی اگلی حکومت بناکرانشاء ﷲ 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کرے گی،بلاول
    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےضلع قمبر شہدادکوٹ کی تحصیل میروخان میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اگلی حکومت بناکرانشاء ﷲ 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کرے گی، ہم عوام کے ساتھ ملکر ایک ایسا عوامی بجٹ لائیں گے جس سے عوامی مسائل حل ممکن ہوگا۔بلاول زرداری کا کہنا تھا میں آپکا شکرگزار ہوں، 2008 سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا، شہید محترم بینظیر بھٹو کے لوگوں کا ساتھ دیا،میں نے فیصلہ لیا ہے کہ قمبر شہداد کوٹ سے میں نے خود الیکشن لڑنا ہے تا کہ میں خود عوام کی ذمہ داری لے سکوں اور انکا خیال کروں،ہم ملکر محنت کریں گے، آپ میرے نمائندے بن کر عوام کی خدمت کرتے رہیں، میرے اور عوام کے مابین ایک پل کا کردار ادا کرنا ہے، میرا پیغام عوام تک اور عوام کا پیغام مجھ تک پہنچانا ہے، مسائل بتائیں تا کہ حل نکال سکیں، میں چاہتا ہوں کہ جس طرح قائد عوام کے ساتھ کام کیامیرے ساتھ بھی کام کریں،کل پیپلز پارٹی کا عوامی معاہدہ کا لاڑکانہ میں فنکشن کر رہا ہوں، اس میں تفصیلا منشور ،ایجنڈہ بیان کروں گا،پیپلز پارٹی کا منشور گھر گھر لے کر جانا ہے اور عوام کو بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں آئی تو عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے.

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو زرداری کی گڑھی خدا بخش میں شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش میں شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری دی،بلاول کے ہمراہ پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے بھی شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری دی، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر فاتحہ خوانی کی، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مزار پر پھول چڑھائے،بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کے مزار پر بھی حاضری دی،بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید میر مرتضی بھٹو اور شہید میر شاہنواز بھٹو کے مزارات پر بھی پھول چڑھائے، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہدائے جمہوریت کے مزارات پر ملکی سلامتی اور معاشی استحکام کے لئے دعائیں کیں.

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    bilawal

  • پنجاب سے پیپلز پارٹی کے سات امیدوار تیر کے انتخابی نشان سے محروم

    پنجاب سے پیپلز پارٹی کے سات امیدوار تیر کے انتخابی نشان سے محروم

    الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب سے پیپلز پارٹی کے قومی و صوبائی اسمبلی کے 7 امیدوارن کو تیر کا نشان نہیں دیا گیا

    این اے 122 سے عاطف چوہدری کو تیرکی بجائے فاختہ کا نشان دیا گیا ،این اے 59 چکوال سے حسن سردار کو تیر کی بجائے ریڈیو کا نشان الاٹ کیا گیا،این اے 58 چکوال سے زولفقار علی خان کو بھی تیر کا نشان نہیں دیا گیا ،پی پی 163 سے فیاض بھٹی کو تیر کے بجائے کیتلی کا نشان دیا گیا ،پی پی 20 چکوال سے چوہدری نوشاد خان کو تیر کی بجائے انار کا نشان دیا گیا ہے ،پی پی 119 کے امیدوار مجاہد اسلام کو وہیل چئیر اور پی پی 21 چکوال سے راجہ امجد نور کو بھی تیر کا نشان نہیں دیا گیا

    پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی آزاد امیدواروں کی فہرست میں شمولیت پر تشویش ہے،شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی نائب صدر و سینیٹر ،سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے پنجاب میں اپنی پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی نشان تیر میں رد و بدل پر تشویش کا اظہار کیا ہے،شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی آزاد امیدواروں کی فہرست میں شمولیت پر تشویش ہے، ہم پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی نشان کی درستگی کا مطالبہ کرتے ہیں، پی پی163 سے پیپلزپارٹی کے امیدوار فیاض بھٹی کو تیر کے بجائے کیتلی، پی پی 119 سے مجاہد اسلام کو تیر کے بجائے ویل چیئر کا انتخابی نشان دیا گیا، پی پی 21 چکوال 2 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار امجد نور اور پی پی 20 چکوال کے امیدوار چوہدری نوشاد کو بھی آزاد امیدوار بنا دیا گیا ہے، پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن کو تحریری شکایات درج کروا چکی ہے اور امید کرتے ہیں کہ ان بےضابطگیوں کی جلد از جلد درستگی کی جائے گی

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    آزاد امیدواروں کی انتخابی مہم کے لئے بشری بی بی کو آگے لانے کا فیصلہ

    تیر کا نشان نہ ملنے پر پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا
    چیف الیکشن کمشنر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک اور خط لکھا گیا ہے،سنٹرل الیکشن سیل پاکستان پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کوپی پی 21 (چکوال II) پر پی پی پی پی کے امیدوارکو تیر کانشان جاری نہ کرنے پر خط لکھا ہے، خط میں کہا ہے کہ پی پی پی کے امیدواروں کو "تیر” کا نشان الاٹ نہ کرنے کی شکایات کے سلسلے کے تسلسل میں ہے ، ہمارے امیدوار مسٹر راجہ امجد نور کو پی پی پی پی ٹکٹ کا الاٹ ہونا اور متعلقہ آر او کے پاس بروقت جمع کروانے کے باوجود پارٹی انتخابی نشان سے محروم کر دیا گیا ہے، ان کو آزاد امیدوار کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ درخواست کرتے ہیں کہ براہ کرم مذکورہ آر او کو ہدایت کریں ،وہ پی پی 21 چکوال II کے لیے مسٹر راجہ امجد نور کو پی پی پی پی کا نشان "تیر” جاری کریں۔

    2024 الیکشن کو ہونے سے پہلے ہی متنازعہ کیا جارہا ہے،چودھری منظور
    سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی چودھری منظور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے امیدواران کو ٹکٹ جاری کیے کافی جگہوں پر نشان آلاٹ ہوئے ہیں،الیکشن ایکٹ کے تحت امیدواران پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے دستخط کا ٹکٹ دے گا،آر او پابند ہے تو دستخط والے ٹکٹ کو نشان الاٹ کرے گا،کچھ امیدواروں کو آزاد کردیا گیا ہے کچھ کو آزاد کیا جارہا ہے،ہماری دو جماعتیں ہیں دونوں جماعتوں کے درمیان معاہدہ ہے سب تیر کے نشان سے الیکشن لڑ رہے ہیں،بدقسمتی سے ہمارے 7 امیدواروں کو نشان نہیں دیا گیا انہیں آزاد کردیا گیا اور نشان آلاٹ کردیے گیے ہیں،ہمارے نوٹس میں یہ بات آئی تو ہمارے سیکرٹری جنرل نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا یے ابھی تک اسکا جواب نہیں آیا،الیکشن کمیشن کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے آر اوز کو تنبیہ کرنی چاہیے اور ہمارے امیدواران کو نشان آلاٹ کریں،اس طرح یہ الیکشن شفاف نہیں ہونگے یہ ایک طرح کی دھاندلی کی ابتدا ہے،2013 اور 2018 کے الیکشن ہونے کے بعد متنازعہ ہوئے،2024 الیکشن کو ہونے سے پہلے متنازعہ کیا جارہا ہے،الیکشن کمیشن ایسے حالات کیوں پیدا کررہے ہیں جس سے الیکشن فری اینڈ فئیر نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو،

  • شکار کا موسم ہے، اب ہم مل کر شیر کا شکار کریں گے،بلاول بھٹو

    شکار کا موسم ہے، اب ہم مل کر شیر کا شکار کریں گے،بلاول بھٹو

    بہاولپور: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہمارے مخالفین اشرافیہ کے ساتھ ہیں جبکہ پیپلزپارٹی عوام کی نمائندگی کرتی ہے-

    باغی ٹی وی : بہاولپور میں پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ شکار کا موسم ہے اور ہمیں شیر کا شکار کروانا ہے، اب ہم مل کر شیر کا شکار کریں گے، ہمارے مخالفین اشرافیہ کے ساتھ ہیں جبکہ پیپلزپارٹی عوام کی نمائندگی کرتی ہے، عوام 8 فروری کو تیر پر ٹھپا لگا کر بتا دیں کہ بھٹو آج بھی زندہ ہے،حکومت میں آنے کے بعد غریبوں کیلیے 300 یونٹ تک بجلی بالکل مفت کردیں گے، ملک بھر میں مفت اور معیاری تعلیمی ادارے اور آئی ٹی یونیورسٹی قائم کریں گے‘۔

    پی ٹی آئی رہنما آئی پی پی میں شامل

    قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے سنا تھا لاہور ن لیگ کا شہر ہے مگر یہاں تو مسلم لیگ ن نظر ہی نہیں آرہی، عوام اب ن لیگ والوں کو الیکشن سے بھاگنے نہیں دیں گے، انتخابات سے بھاگنا مسلم لیگ ن کی عادت بن چکی ہے، ن لیگ چاہیے یا نہیں مگر آٹھ فروری کو ہر صورت انتخابات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ (ن)لیگ کی عادت بن چکی ہے اب وہ ہر الیکشن سے بھاگتے ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی 2 مختلف کارروائیوں میں 4 دہشت گرد ہلاک

    انہوں نے کہا کہ آٹھ فروری کو ہر صورت الیکشن ہوں گے اور عوام ذاتی دشمنی و سیاسی انتقام کی سیاست کو 8 فروری کو دفن کر کے نئے سفر کا آغاز کریں گے پاکستان پیپلزپارٹی کا مقابلہ کسی سیاست دان اور سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے ہے، ہم دس نکاتی عوامی معاشی معاہدے سےغربت، مہنگائی اور بےروزگاری کا مقابلہ کریں گے۔

    16 جنوری سے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

  • ن لیگی رہنما پیپلز پارٹی میں شامل،آٹھ فروری کو سرپرائز دیں گے، بلاول

    ن لیگی رہنما پیپلز پارٹی میں شامل،آٹھ فروری کو سرپرائز دیں گے، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ماضی میں بھی منشور پر عمل درآمد کیا اور مستقبل میں بھی کریں گے۔

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی سے ملاقات کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔سینیٹر رانا محمود الحسن، رانا اقبال سراج اور رانا طاہر شبیر نے مسلم لیگ ن چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی، اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ باقی سب ادھر یا ادھر دیکھ رہے ہیں میں وہ واحد پارٹی قائد ہوں جو آپ کی طرف دیکھ رہا ہوں میں عوام کی طرف دیکھ رہا ہوں، مجھے امید ہے کہ آپ بھی مجھے اور میرے دس نکاتی نظریے کو ووٹ کرینگے ،جنوبی پنجاب کے لیے کام کرتے رہیں گے، ملتان کے عوام کی تنخواہیں دگنی کریں گے ،ہم مہنگائی، بے روزگاری کے خلاف لڑتے رہیں گے ،ہم 8 فروری کو سرپرائز دیں گے

    بانی پی ٹی آئی ہمارا ساتھ دیتے تو الیکشن اصلاحات مزید بہتر ہوتیں،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ایک جیل سے بچنا چاہتا ہے دوسرا جیل سے نکلنا چاہتا ہے ہمارے اور دیگر جماعتوں کے نظریے میں فرق ہے، عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ دیگر جماعتیں امیروں کو ریلیف اور عوام کو تکلیف دیتی ہیں،ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ ملے یا نہ ملے، ہم اپنا بندوبست کرلیتے ہیں،کوشش ہے پیپلز پارٹی کا وزیر اعظم بنے،بانی پی ٹی آئی دھاندلی کروا کرمسلط ہونےکی کوشش کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی ہمارا ساتھ دیتے تو الیکشن اصلاحات مزید بہتر ہوتیں، پچھلےالیکشن میں بانی پی ٹی آئی دھاندلی کرنے میں کامیاب ہوئے اب پیپلز پارٹی ڈرنے اور جھکنے والی نہیں، ہم مقابلہ کرنے کےلیے تیار ہیں،پی ٹی آئی نے اپنے انٹرا پارٹی الیکشن میں گڑ بڑ کی، ہوسکتا ہے ان کو اپنی غلطیوں کی وجہ سے دوسرے نشان پر الیکشن لڑنا پڑے گا

    پانچ سال تک اسمبلی میں رہے مگر ہم مسلم لیگ نون کی قیادت سے ہاتھ تک نہیں ملا سکتے تھے،رانا محمود الحسن
    اس موقع پر رانا محمود الحسن نے کہا کہ بلاول بھٹو پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی میں شمولیت کرتے ہیں،ن لیگ کے ساتھ اچھا وقت گزرا لیکن اپنی عزت پہلے ہے،ہم پانچ سال تک اسمبلی میں رہے مگر ہم مسلم لیگ نون کی قیادت سے ہاتھ تک نہیں ملا سکتے تھے۔آج ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی سے نہ صرف ملاقات ہوئی ہے، بلکہ بلاول بھٹو زرداری ہمارے گھر چل کر آئے ہیں،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ رانا محمود الحسن اور دیگر دوستوں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت پر خوشی ہے،پیپلز پارٹی پورے ملک کی نمائندگی کرے گی ،این اے 150 سے اب پیپلزپارٹی کے امیدوار رانا محمود الحسن ہوں گے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • پیپلز پارٹی نے لاہور سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا

    پیپلز پارٹی نے لاہور سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا

    لاہور: پیپلز پارٹی نے لاہور سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا، لاہورکے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 127 سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے امیدوار نامزد کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ترجمان پیپلز پارٹی پنجاب کے مطابق این اے 117 لاہور سے سید آصف ہاشمی، این اے 118 سے شاہد عباس، این اے 119 سے افتخار شاہد کو ٹکٹ جاری کیےگئے ہیں، این اے 120 سے منیر احمد، این اے 121 سے افتخار شاہد، این اے 122 سے عاطف رفیق چوہدری، این اے 123 سے رانا ضیاء الحق کو ٹکٹ جاری ہوئے ہیں۔

    این اے 125 سے چوہدری عبدالغفور میؤ، این اے 126 سے امجد علی جٹ کو ٹکٹ جاری ہوئے ہیں، این اے 128 سےعدیل غلام محی الدین، این اے 129 سے اورنگزیب برکی، این اے 130 لاہور سے اقبال احمد خان کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ جاری ہوا ہےپی پی 145 سےرانا فقیر حسین، پی پی 146 سےعمر صدیق، پی پی 147 عامر نصیر بٹ، پی پی 148 سےخواجہ عبدالرحمٰن کو ٹکٹ جاری کیےگئے ہیں۔

    3 ماہ کیلئے انتخابات ملتوی کرنے کی قرار داد سینیٹ میں جمع

    پی پی 149 سے مرزا محمد ادریس، پی پی 150 سے وقاص احمد، پی پی 151 سے عبدالستار، پی پی 152 سے احمد حسن شاہد، پی پی 154 سے سفیان خالد گھرکی، پی پی 156 سے چوہدری عاطف رفیق کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    پی پی 160 سے میاں مصباح الرحمٰن، پی پی 161 سے فیصل میر، پی پی 162 سے منظر عباس کھوکھر، پی پی 163 سے فیاض بھٹی، پی پی 164 سے غلام مصطفیٰ جٹ، پی پی 165 سے رانا صفدر دلشاد کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    پی پی 166 سے رانا جمیل منج، پی پی 167 سے سید حسن رضا زیدی، پی پی 168 سے طارق سعید، پی پی 169 سے محمد اکرم رانا، پی پی 171 سے عمران داؤد، پی پی 172 سے آصف محمود ناگرہ کو ٹک جاری ہوئے ہیں-

    ن لیگ کے لاہور کے امیدواروں کو ٹکٹ جاری،ایاز صادق کو بھی ٹکٹ مل گیا

    دوسری جانب پیپلز پارٹی نے پنجاب سے 2 قومی اور 11 صوبائی نشستوں پر امیدواروں کو بھی ٹکٹ جاری کردیے ہیں ، گوجرانوالا سے این اے77 پر امتیاز صفدر وڑائچ جبکہ این اے78 پر خرم دستگیر کے مقابلے میں حارث میراں اور وزیر آباد کے حلقہ این اے 66 میں اعجاز سماں کو ٹکٹ دیا گیا۔

    پی پی 59 پر میاں سعود الحسن، پی پی 60 میں خواجہ انوار شیخ اور پی پی61 میں خالد حسین کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہےپنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 63 میں فیصل اقبال، پی پی 64 میں اشفاق باجوہ، پی پی 65 میں ارشاد اللہ سندھو اور پی پی 66 میں علی اصغر کو ٹکٹ مل گیا ہے علاوہ ازیں پی پی 68 میں محمد اقبال جبکہ پی پی 69 میں شبیر حیدر اور پی پی 70 میں عامر افتخار رانا کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

    ن لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے پر سمیرا ملک کا آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان