Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید میر غلام مصطفیٰ شاہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی کی ہمشیرہ کے لیے فاتحہ خوانی کرائی۔ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات سے قبل نکتہ اعتراض دینے سے انکار کردیا ،شازیہ مری نے کہا کہ آپ کی رولنگ کے باوجود آج بھی ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں ہے۔ کیا آپ کی ناراضی یا رولنگ کا حکومت کو کوئی خیال نہیں ہے؟ پارلیمانی سیکرٹری کا میں احترام کرتی ہوں لیکن ایوان پر ،عوام پر مہربانی کریں، وفاقی حکومت ذمہ دار ہے کیا آپ کے رولنگ کی وقعت نہیں، آج بھی کوئی وزیر ایوان میں موجود نہیں،شاید وزیروں نے کاروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ وزیراعظم کو اس سارے معاملے پر کل خط لکھا ہے۔پہلے وقفہ سوالات، ایجنڈا اس کے بعد نکتہ اعتراض دیا جاسکتا ہے،

    اپوزیشن ارکان کی جانب سے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کی اجازت مانگی گئی ،ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس طرح ایجنڈا رہ جاتا ہے، شازیہ مری نےپارلیمانی سیکرٹری سے اپنے سوال کا جواب لینے سے انکار کر دیا،شازیہ مری نے کہا کہ میرا سوال اتنا اہم ہے، سانگھڑ کے لوگوں کو تیل کے ذخائر کے عوض کیا مل رہا ہے؟ اسد قیصر نے کہا کہ آپ کے مسلسل نوٹس لینے کے باوجود حکومت سنجیدہ نہیں لے رہی۔حکومت مسائل کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسد قیصر نے پوائنٹ آف آرڈر پربات کرنے کا مطالبہ کر دیا، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ دس منٹ کا وقفہ لے رہے ہیں۔وقفے کے بعد وزراء کے نے آنے پر ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی جائے گی۔

    واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔اسد قیصر
    وقفے کے بعد دوبارہ اجلاس ہوا،پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کل میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں میرے بارے میں کہ کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ ہو رہے ہیں، وہ بالکل غلط ہیں۔ میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہمشیرہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کرنے گیا تھا، وہاں کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ نہیں ہوئے۔ کل مزید خبریں چلیں کہ حکومت سے کوئی بات چیت ہوئی ہے، تو میں پھر سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔ ہم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، اور جب حکومت سنجیدگی دکھائے گی اور عمران خان کی اجازت ہو گی، تب بات چیت کی جائے گی۔

    رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے درآمدی گیس اور مقامی گیس کو ایک قیمت پر دینے کے مضحکہ خیز تجویز کو مسترد کر دیا۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ جہاں ڈومیسٹک کنزیومر کی ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے، ہر ایک کو کھانا بنانے کے لئے گیس چاہئے، گیس نہیں مل رہی، ہمارا اور عوام کا درست جواب نہ دے کر ٹائم ضائع کیا جا رہا ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ آر ایل این کے گاہک نہیں، یہ مہنگی گیس ہے،

    حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی،شازیہ مری
    اپوزیشن اراکین کو فلور نا ملنے پر احتجاج کیا گیا، آغا رفیع اللہ نے اسد قیصر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو اپنے لیڈر کے حوالے سے بات کرنی ہے پریس کانفرنس کر لیں۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ایران عالمی عدالت میں گیا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی۔ گیس کی طلب بڑھنے کے باوجود قدرتی گیس کیپٹو پاور پلانٹس کو کیوں دی جا رہی ہے؟وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں میں نے کیا کہا جس پر اتنی ناراضی ہوگئی۔ آج تو پیپلز پارٹی والے سارے بہت ناراض لگ رہے ہیں۔ کیپٹو پاور پلانٹس کو قدرتی گیس ایل این جی کی قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمارے پاس دستیاب ایل این جی کی کی قیمت زیادہ ہے۔ جب تک ہم گیس کی یکساں قیمت نہیں کریں گے تب تک اس کے خریدار نہیں ہوں گے،گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی یکساں قیمتوں پر منحصر ہے ۔ ۔یہ عوامی اور ملکی مقدمہ ہے۔اس حوالے سے پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین سی پیک کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پُر عزم ہیں، دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے دوروں نے برادرانہ تعلقات کو تقویت دی ہے، دوروں اور معاہدوں سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے،منصوبے سے دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، معیشت اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلۂ خیال ہوا،سی پیک سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری آئی، 2 لاکھ 36 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں، یہ منصوبہ پاکستان کے جغر افیائی محلِ وقوع کو اقتصادی فائدے میں بدل رہا ہے۔

    گوجرہ: چوری کی کوشش ناکام، چور روشن دان میں پھنس کر ہلاک

    ڈیرہ غازیخان:انسدادِ پولیو مہم,8 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

  • پی ٹی آئی نے گالم گلوچ کا راج قائم کیا اور ڈنڈے لے کر چلتے ہیں،شیری رحمان

    پی ٹی آئی نے گالم گلوچ کا راج قائم کیا اور ڈنڈے لے کر چلتے ہیں،شیری رحمان

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے روز بیانیہ بدلتے ہیں، سول نافرمانی کی بات کرتے ہیں اور مذاکرات کی بھی، پی ٹی آئی کو معافی مانگنا پڑے گی۔

    باغی ٹی وی : سینیٹ میں دوران خطاب شیری رحمان نے کہا نو مئی کو آپ نے جو کیا وہ کسی پارٹی نے نہیں کیا، بات چیت یکطرفہ طور پر نہیں ہوسکتی، جلاؤ گھیراؤ کو آزادی نہیں سمجھتے پی ٹی آئی والے روز بیانیہ بدلتے ہیں، سول نافرمانی کی بات کرتے ہیں اور مذاکرا ت کی بھی، پی ٹی آئی کو معافی مانگنا پڑے گی، کسی کو یاد ہے کہ پی ٹی آئی دور میں مخالفین کیخلاف کیسز بنائے گئے؟ ہم جلاؤ گھیراؤ کو آزادی نہیں سمجھتے، ہم نے ایسی آزادی نہیں مانگی جو پی ٹی آئی والے مانگتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے سیل میں جوکچھ موجود ہے، ہم اسے نہیں ہٹانا چاہتے، اگر ہم آپ کے ساتھ ناانصافی کریں گے تو ہمارے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی، آپ نے گالم گلوچ کا راج قائم کیا اور ڈنڈے لے کر چلتے ہیں، مذاکرات کے لیے یکطرفہ شرائط نہیں ہوسکتیں، ملک کا استحکام اس وقت نازک مرحلے پر ہے، پی ٹی آئی کو اپنے کیے پر معافی مانگنا پڑے گی، معافی آپ مانگیں، ہم سے کس منہ سے معافی منگوا رہے ہیں؟

    شیری رحمان نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں لانگ مارچ کیا لیکن ایک گملا نہیں ٹوٹا، آپ کا لیڈر کہتا ہے میں ہوں تو سب کچھ ہےآپ آئی ایم ایف کو خط لکھتے ہیں تاکہ ملک کی معیشت تباہ ہو، آپ کے پاس آنسو گیس کے شیل کہاں سے آئے تھے؟ تحریک انصاف نے ریاست پر حملہ کیا، اب آپ لوگوں کےِ’’فیض یاب‘’ ہونے کا وقت گزرچکا۔

    انہوں نےکہا کہ بنیادی حقوق کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا نام نہ لیا جائے، ہم نے ہمیشہ سیاسی تحمل سے کام لیا ہے،آپ ایک ایک طرف سول نافرمانی کی کال دیں، اور دوسری طرف مذاکرات، یہ نہیں ہوسکتا کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر احتجاج ہو، سنگجانی کی اجازت دی تو وہاں احتجاج کر لیتے، آپ نے دارالخلافہ میں تماشا کیا، پُرتشدد احتجاج کی کسی طور اجازت نہیں ہونی چاہیےآپ نے ریاست پر حملہ کیا، جس کے شواہد موجود ہیں، جمہور کے لیے لڑائی زہر کے پیالے پی کرکی جاتی ہے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ ہم ہیرو اور آپ زیرو ہیں، آپ نے 9 مئی کو جو کچھ کیا وہ آج تک کسی سیاسی پارٹی نے نہیں کیا کسی طور پر پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ہم نے ایسی آزادی نہیں مانگی جو پی ٹی آئی والے مانگتے ہیں، آزادی ذمہ داری سے آتی ہے، ہم جلاؤ گھیراؤ کو آزادی نہیں سمجھتے خود کو بچانے سے پہلے ملک بچانےکی بات ہونا چاہیے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ صدر زرداری گرفتار ہوئے توانہوں نے ڈنڈے نہیں برسائے ، ہم آپ کے ساتھ ناانصافی کریں گے تو ہم بھی بھگتیں گے، میں نے کئی بار کہا کہ اتنا ظلم کرو جتنا برداشت کرسکوپیپلزپارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، ہم نے ڈنڈے کھائے ہیں ، چلائے نہیں، آپ نے فریال تالپور اور مریم نواز کو کیسے اٹھایا تھا؟

  • افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک منقسم پارٹی بن چکی ہے اور اس کے اندر کا کوئی فرد نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کسی کا قبلہ ایک طرف ہے تو کسی کا قبلہ دوسری طرف ہے۔ پارٹی کے مختلف رہنما ایک دوسرے سے متضاد نظریات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہدایات لے رہے ہیں۔ "کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ یہ پارلیمان میں آئیں اور یہاں آ کر سیاست کریں۔”شرمیلا فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما ملک دشمن بن جائیں گے اور مسلح افواج کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ "اگر آپ اپنی مسلح افواج کے خلاف ہوں گے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، کیونکہ ملکی دفاع اور افواج کا وقار ہر شہری کا فرض ہوتا ہے۔”

    شرمیلا فاروقی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاست کو پارلیمنٹ کے اندر کریں اور ملک کی ترقی کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ پی ٹی آئی میں بے چینی اور انتشار کا ماحول ہے اور پارٹی کے داخلی اختلافات اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    طیفی بٹ بہنوئی قتل کیس،امیر فتح ٹیپو کی ضمانت خارج

    امریکہ میں پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں

  • پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

    پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر اور وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے اور میڈیکل سٹی کے قیام کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ شہر میں صحت کی سہولتیں مزید بہتر ہو سکیں۔

    کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان دنیا کے بہترین ممالک میں شامل ہے جہاں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر طرح کا موسم، قدرتی وسائل، اور مختلف شعبوں میں ترقی کے لیے کئی مواقع ہیں جن سے دنیا بھر کے سرمایہ کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ سندھ حکومت تھر پارکر میں کوئلہ نکالنے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے، جس کے ذریعے 200 سال تک بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق، تھر پارکر میں کوئلہ کی وسیع مقدار کا موجود ہونا پاکستان کے توانائی کے بحران کے حل کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔شرجیل میمن نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ملک میں کئی کامیاب منصوبوں کی بنیاد رکھی ہے، جنہیں نہ صرف ملک بھر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے منصوبے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے ایک نمونہ بنے ہیں، اور ان منصوبوں کی کامیابی نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ چین کے سرمایہ کار مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، جن میں میڈیکل سٹی کے منصوبے کا قیام بھی شامل ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ یہ میڈیکل سٹی کراچی کے شہریوں کو عالمی معیار کی صحت کی سہولتیں فراہم کرے گا، اور اس منصوبے کی تکمیل سے شہر میں صحت کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مختلف منصوبوں کے ذریعے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ صوبے کی معاشی ترقی کو مزید تقویت ملے اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ سندھ کی یہ تمام کاوشیں سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہیں اور ان کا مقصد ترقی کی راہوں پر مزید تیزی سے آگے بڑھنا ہے۔

    کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے کامنصوبہ ہے،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی بیرونی ایجنڈے پر چل رہی ہے، شرجیل میمن

    حکومت سندھ ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

    کیا کوئی شخص گولیاں، شاٹ گن لے کر مظاہرے میں شریک ہوتا ہے؟ شرجیل میمن

    عظمیٰ بخاری پہلے زمینی حقائق معلوم کریں پھر بیان دیں،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    شرجیل میمن سے یو اے ای کے قونصل جنرل کی ملاقات

  • عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    پاکستان کی معروف سیاستدان اور پارلیمنٹ کی رکن،پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کوالالمپور میں "اسٹرٹیجک ویژن گروپ رشیا اسلامک ورلڈ کے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا،

    اجلاس میں اس موقع پر ملائشیا کے وزیرِ اعظم ، تاتارستان کے صدر اور دیگر اہم عالمی شخصیات بھی موجود تھیں۔سحرکامران نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ "یہ وقت ہے کہ ہم عالمی سطح پر روس اور اسلامی دنیا کے درمیان پائیدار اور مضبوط تعلقات کو فروغ دیں تاکہ دونوں طرف کے عوام کو امن، استحکام اور خوشحالی حاصل ہو۔ عالمی سیاست میں نئے چیلنجز اور مواقع سامنے آ رہے ہیں، اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے۔”انہوں نے اس موقع پر فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور غیر قانونی قبضے کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا: "ہم فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے متحد ہیں، اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے۔” سحرکامران نے اجلاس کے شرکاء کی توجہ اس بات پر دلائی کہ اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف فلسطینیوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    اجلاس میں روس اور اسلامی دنیا کے درمیان مشترکہ مسائل پر بھی تفصیل سے بحث کی گئی۔ اسٹرٹیجک ویژن گروپ نے عالمی سطح پر مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ مختلف بین الاقوامی مسائل بشمول دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلی، اور انسانی حقوق کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ایک گروپ فوٹوگرافی کی گئی جس میں سحر کامران، وزیرِ اعظم ملائشیا، تاتارستان کے صدر، اور دیگر شرکاء شامل تھے۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

    سحرکامران کی اسٹریٹجک ویژن گروپ،روس اسلامک ولڈ کے اجلاس میں شرکت

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

    بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ،حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔بلاول

    عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ،حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایک تفصیلی پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے انسانی حقوق کی اہمیت، پاکستان میں ان کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ "انسانی حقوق کی پاسداری ایک منصفانہ، جامع اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں اور ان کا تحفظ ایک پائیدار اور خوشحال مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق صرف قابلِ حصول مقاصد نہیں ہیں بلکہ یہ وقار، مساوات اور انصاف کے لیے بنیادی ستون ہیں، جو کسی بھی معاشرے کی کامیابی کی بنیاد ہوتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ "کسی بھی معاشرے کا مستقبل ان حقوق کو بلا تفریق تمام افراد کے لیے یقینی بنانے پر منحصر ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ "1973ء کے آئین میں شہید بھٹو کی جانب سے شامل کیے گئے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہم پرعزم ہیں۔” انہوں نے قائدِ عوام کا مشہور نعرہ "ایک شہری، ایک ووٹ” یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول عوام کو طاقت کا اصل سرچشمہ بنانے کی بنیاد ہے۔

    بلاول زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "بی بی شہید نے خواتین کی خودمختاری، صنفی امتیاز کے خاتمے، غیرت کے نام پر قتل و تشدد کے خلاف اہم اقدامات کیے۔” بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ شہید بینظیر بھٹو نے آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے آمرانہ دور کے قوانین کا خاتمہ کیا اور اقلیتوں اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنے والد، سابق صدر آصف علی زرداری کی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "صدر زرداری کے دور میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جمہوری اصولوں کو بحال کیا گیا اور انسانی حقوق کو محفوظ بنایا گیا۔” انہوں نے بتایا کہ "آرٹیکل 25-اے کی شکل میں تعلیم کے حق کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا اور کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے اور گھریلو تشدد کے خلاف قوانین کے نفاذ کو بھی نمایاں کیا گیا۔”انہوں نے کہا کہ "بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات نے پسماندہ طبقوں، خاص طور پر غریب خواتین، کے لیے ایک سماجی تحفظ فراہم کیا، اور یہ پیپلز پارٹی کے جامعیت اور سماجی انصاف کے عزم کا ثبوت ہیں۔”بلاول بھٹو زرداری نے حکومتِ سندھ کی انسانی حقوق کی پالیسی کی توثیق کرتے ہوئے اس کے مرحلہ وار نفاذ پر زور دیا اور کہا کہ "متعلقہ حکام اس پالیسی کو کامیابی سے نافذ کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں تاکہ شہری آزادیوں کا تحفظ اور جامع ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔”

    بلاول زرداری نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر اور غزہ میں جاری ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر اور غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہیے۔” بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے اصولوں پر اپنے عزم کا دوبارہ اظہار کرے۔آخر میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ "پیپلز پارٹی ہر شہری کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور ہم ایسے پاکستان کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں جو آزادی، مساوات اور انصاف کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہو۔” انہوں نے کہا کہ "پیپلز پارٹی کا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔”چیئرمین پی پی پی نے اقوام متحدہ کی رواں سال کی تھیم کی بھی توثیق کی اور کہا کہ "ہم عالمی سطح پر انسانی حقوق کی ضمانت دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔”

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • ہم مدرسہ بنانے اور چلانے والوں کی اولاد ہیں،طاہر اشرفی

    ہم مدرسہ بنانے اور چلانے والوں کی اولاد ہیں،طاہر اشرفی

    مدارس اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا

    مدارس کی رجسٹریشن اور اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا،اجلاس میں پاکستان بھر سے ہر مکتبہ فکر کے جید علما ء شریک ہوئے،اجلاس میں علماء کرام سے مدارس رجسٹریشن اور اصلاحات کے حوالے مفصل مشاورت کی گئی،اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی بھی شریک ہوئے،اجلاس کے بعد پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ مدرسے کے حوالے سے حکومت نے ہمارے مطالبے پرپالیسی کو تبدیل کیا، مدارس کی رجسٹریشن پر حکومت نے تفصیلی مشاورت کی، ہم مدرسہ بنانے اور چلانے والوں کی اولاد ہیں، کیسے ممکن ہے اس معاملے پر سمجھوتہ کریں،2019میں فیصلہ ہواکہ نئے بورڈ بنائے جائیں گے، آج وہ تمام بورڈز بھرپور طریقے سے کام کر رہے ہیں، کوئی بیرونی ایجنڈے والا مجھے یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ نہ پڑھاؤ اور یہ پڑھاؤ، ہم پر بلاوجہ کا خوف مسلط کیا جاتا ہے کہ بیرونی ایجنڈا آئے گا اور یہ ہو جائے گا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی قانون بنتا ہے تو اس کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اسکو بناتے ،چلاتے ہوئے جو اس کے مقاصد تھے ،وہ پورے ہوئے یا نہیں، 2018 کی مدارس کی اصلاحات کے حوالہ سے کہنا چاہتا ہے کہ وسیع تر مشاورت کے بعد اس ملک میں مدارس کے حوالہ سے نظام وضع کیا گیا جس کا مقصد مدارس کو قومی دھارے میں لانا تھا تا کہ منفی چیزوں کا خاتمہ ہو سکے، سب سے اہم جزو طلبا ہیں جو مدارس سے فارغ التحصیل یا زیر تعلیم ہیں، تا کہ انکے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہو،

    چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ مدارس کے نظام کو اب کسی بیرونی ایجنڈے سے خطرہ نہیں، مدارس کو وزارت تعلیم کے ساتھ ہی منسلک ہونا چاہیے مدارس کا معاملہ تعلیمی معاملہ ہے سیاسی اکھاڑا نہ بنایا جائے، مدارس کے بورڈز میں بھی اضافہ ہونا چاہیے، بی ایس ڈگری کے مساوی مدارس کے طلبہ کو سرٹیفیکیٹ ملنا چاہیے،

    مولانا فضل الرحمان مدارس کے نمائندے نہیں، سیاست کے نمائندے ہیں، مفتی عبدالکریم
    مفتی عبدالکریم نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پہلی دفعہ ہے حکومت مولانا سے بلیک میل نہیں ہورہی، ہمیں حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے،مولانا فضل الرحمان مدارس کے نمائندے نہیں، سیاست کے نمائندے ہیں، مولانا نے توہین کی ہے، معافی مانگیں،اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کسی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے نمائندے ہیں، سیاستدان تو مدارس کے کئی سیاست میں ہیں، اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں‌کہ مولانا فضل الرحمان کو معافی مانگنی چاہئے، چار ہزار مدرسے موجود ہیں، مولانا فضل الرحمان مدارس کے نمائندے کس طرح ہیں، مدارس کے وفاق الگ ہیں ،انہوں نے کبھی مولانا فضل الرحمان کو اپنا نمائندہ نہیں کہا

    اجلاس میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی، مولانا عبدالکریم آزاد، مفتی عبدالرحیم، خرم نواز گنڈاپور، علامہ جواد حسین نقوی، مولانا طیب طاہری، محمد شریف چنگوانی،مولانا فضل الرحمٰن خلیل اور علامہ ابتسام الہٰی ظہیر بھی شریک ہوئے۔

    مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے ڈی جی آر ای 22 اکتوبر 2019ء کو ملک بھر میں قائم کئے گئے پاکستان بھر میں 17653 مدارس ڈی جی آر ای میں رجسٹرڈ ہیں،598 مدارس کو 1196 اساتذہ فراہم کئے گئے ہیں، 163 مدارس میں قومی نصاب متعارف کرایا گیاہے،اب تک 1491 طالب علموں کو پاکستانی ویزے کے حصول اور توسیع میں مدد فراہم کی گئی ہے،

  • سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ،  خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ،بلاول

    سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ، خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ہمیشہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، اور اپنے اسی عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے، پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ اسپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ نے خواتین کے لیے ایک تاریخی اقدام کے طور پر "سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ” کا آغاز کیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ خواتین کھلاڑیوں کو کھیلوں کے شعبے میں برابری کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

    آج سے اس ٹورنامنٹ کا آغاز لیاری کے انٹرنیشنل فٹ بال گراونڈ میں ہوا، جہاں سندھ کے مختلف اضلاع سے 320 خواتین کھلاڑیوں پر مشتمل 16 ٹیمیں اس مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ سندھ اسپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقد ہو رہا ہے، جس کا مقصد خواتین کی کھیلوں میں شرکت کو فروغ دینا اور انہیں ایک بہتر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود اس اہم موقع پر لیاری فٹ بال گراونڈ پہنچے اور سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کے حوالے سے پیپلز پارٹی ہمیشہ صف اول میں رہی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ "کچھ لوگ ایسے ہیں جو خواتین کی ترقی کو نہیں دیکھنا چاہتے، مگر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے۔ آج، میں یہاں لیاری انٹرنیشنل فٹ بال گراونڈ میں کھڑا ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے صوبے کی خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے خواتین کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہے۔”

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ "سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ جیسے اقدامات سے نہ صرف خواتین کی کھیلوں میں شمولیت بڑھے گی، بلکہ ان کے اندر خود اعتمادی بھی پیدا ہو گی۔ یہ ٹورنامنٹ ایک پلیٹ فارم ہے جہاں خواتین اپنے کھیل کے جوہر دکھا سکتی ہیں اور معاشرتی طور پر بھی اپنی حیثیت کو مستحکم کر سکتی ہیں۔”قائداعظم نےکہا تھاجب تک خواتین کاکردار نہ ہوکوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا ،کچھ لوگ خواتین کو پیچھے کھینچنا چاہتے ہیں، ترقی نہیں کرنے دیتے، ایسی سوچ کے لوگ ہمارے ملک میں موجود ہیں، ہمارے ہمسایہ ممالک میں موجود ہیں، ان کے لئے سمجھتا ہوں سب سے بہترین جواب یہ خواتین ہیں جو آج گراؤنڈ میں موجود ہیں،بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے فٹ بال گراؤنڈ میں آج موجود ہیں جو حکومت سندھ نے کراچی کی عوام کے لئے منصوبہ شروع کیا، میں فخر کرتا ہوں صوبہ بھر کے نوجوان خاص طور کر صوبہ بھر سے خواتین وہ یہاں کھیلوں کے لئے موجود ہیں یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے،خواتین کو برابری کا کردار ملنا چاہئے، شہید بینظیر بھٹو نے خواتین کے لئے بہت کام کیا اور کہا تھا کہ پاکستانی خواتین جو کرنا چاہیں کر سکتی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے محنت میں، جدوجہد میں، قربانیوں میں اور شہادت قبول کرنے میں لیاری والے سب سے آگے ہیں۔میں اپنے نوجوانوں کو کھیلتے ہوئے، پڑھتے ہوئے اور روزگار حاصل کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔

    سندھ پنک فٹبال ٹورنامنٹ کا افتتاح،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال گراؤنڈلیاری کے عوام کیلئے تحفہ ہے،سندھ کےہرضلع میں یوتھ سینٹربنائے گئے ہیں

    سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ میں سندھ کے مختلف اضلاع سے خواتین کھلاڑیوں کی 16 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان ٹیموں کے درمیان دو گروپوں میں مقابلے ہوں گے، اور ہر گروپ کی فاتح ٹیم فائنل میں پہنچے گی۔ یہ ٹورنامنٹ نہ صرف خواتین کھلاڑیوں کو کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، بلکہ ان کے لیے ایک قومی سطح پر خود کو ثابت کرنے کا بھی موقع ہے۔

    یہ ٹورنامنٹ پیپلز پارٹی کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کو کھیلوں سمیت تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ سندھ حکومت نے ہمیشہ کھیلوں کے شعبے میں خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کے لیے ترقی کے راستے کھولنے کی کوشش کی ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے ذریعے سندھ کی خواتین کھلاڑیوں کو نہ صرف کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، بلکہ ان کی سماجی اور معاشی حالت میں بھی بہتری آئے گی۔

    اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کے بعد، یہ امید کی جا رہی ہے کہ سندھ سمیت پورے پاکستان میں خواتین کے لیے کھیلوں کے مزید مواقع پیدا ہوں گے، جو نہ صرف ان کی ذاتی ترقی کا باعث بنیں گے بلکہ پورے ملک کی کھیلوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔اس اقدام کی مدد سے پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک اور قدم اٹھایا ہے تاکہ وہ خواتین کی ترقی اور انہیں ہر میدان میں برابری کے حقوق فراہم کر سکے۔

  • خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس

    خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس

    خیبرپختونخوا میں قیام امن، صوبائی حقوق کے حصول اور درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کے لیے آل پارٹی کانفرنس گورنر ہاوس پشاور میں جاری ہے

    کانفرنس کی صدارت و میزبانی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کر رہے ہیں۔کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہیں جن میں آفتاب شیر پاؤ، میاں افتخار حسین، انجنیئر امیر مقام، مولانا لطف الرحمان، پروفیسر ابراہیم، محمد علی شاہ باچا، محسن داوڑ، سکندر شیر پاؤسمیت دیگر قائدین شامل ہیں۔۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کا مقصد صوبے میں امن و امان اور اس کے وسائل کے بارے بات چیت کرنی ہے۔ صوبے کو بد امنی نے اپنے لپٹ میں لے رکھا ہے۔صوبائی حکومت کو کل جماعتی کانفرنس بلانی چاہیے تھی۔مجبور ہو کر ہم نے یہ اقدام اٹھایا۔ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں مسائل کے حل کیلئے اپنی تجاویز   پیش کر سکیں ۔گورنر نے کہا جنوبی اضلاع اور کرم کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔انھوں نےُ کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے تجاویز پر غور کیا جائے گا اور آخر میں ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس صوبے میں امن و استحکام اور سیاسی یکجہتی میں معاون ثابت ہوگی۔

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا خیبرپختونخوا میں حقیقی مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ کی غیرفعالیت اس کے برعکس عوام کے لیے مایوسی کا سبب بنی ہے،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی قیادت نے صوبے میں امن و امان اور مسائل کے حل کے لیے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں 16 سے زائد جماعتوں کو یکجا کرنا اتحاد کی جانب بڑا قدم ہے

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • مولانا  سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردار ی نے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی :بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں رہائش گاہ پہنچے اور ملاقات کی،ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،دوران ملاقات مولانا فضل الرحمان نے مدارس رجسٹریشن بل پرصدرکے دستخط نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔
    https://x.com/waqarsatti/status/1864299641325408320
    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ مدارس رجسٹریشن بل پردونوں ایوانوں سے منظوری کے باوجود صدرکے دستخط کیوں نہیں ہوئے؟ اس پر بلاول نے یقین دہانی کرائی کہ مدارس رجسٹریشن بل پردستخط نہ ہونے پرحکومت سے بات کروں گا۔

    ملاقات میں سنیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، سنیٹر کامران مرتضٰی، حاجی غلام علی ، مولانا لطف الرحمان، مولانا اسعد محمود بھی موجود تھے ملاقات میں راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ بھی شریک تھے-

    قبل ازیں مولانا فضل الرحمان سے لاہور میں جے یو آئی کے رہنما حافظ بلال درانی نے ملاقات کی، ملاقات میں مدارس بل پر حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن پر بات چیت کی گئی،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 7 دسمبر تک مدارس بل پر دستخط نہ کیے تو 8 دسمبر کو پشاور میں آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ حکومت پارلیمنٹ سے منظور کردہ ہمارے بل پر دستخط نہیں کر رہی، حکومت نے اپنی مرضی کی قانون سازی کر لی ہے، حکومت بتائے اس نے ابھی تک پاس کردہ مدارس بل پر دستخط کیوں نہیں کیے؟-

    علاوہ ازیں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ کا کہناتھاکہ مدارس رجسٹریشن بل 26 ویں آئینی ترمیمی بل کا حصہ ہوتے ہوئے ایوان صدر میں لٹکایا گیا، ہمیں بتایاجائے مدارس رجسٹریشن بل پر صدر پاکستان دستخط کیوں نہیں کررہے؟ دونوں ایوانوں سے پاس ہونے تک پی پی پی اور بلاول بھٹو آن بورڈ تھے، پھر رکاوٹ کیا ہے کون ہے اور کیوں ہے؟ کیا ایوان صدر پارلیمنٹ سے سپریم ہے جو مدارس بل میں رکاوٹ بن رہاہے؟

    انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کردار ادا کرتے ہوئے اپنے والد سے بات کریں، یہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات ہے، ورنہ پھر مولانا فضل الرحمان تنگ آمد بجنگ آمد فارمولے پر عمل کرنے میں حق بجانب ہیں، جس کا راستہ روکنا نہ ڈائیلاگ سے ممکن ہے نہ لاٹھی سے بلاول بھٹو کے پاس یہی دو آپشن ہے۔