Baaghi TV

Tag: پی آئی اے

  • ن لیگ ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی قومی ایئرلائن کی تباہی کی ذمہ دار ہیں،حافظ نعیم

    ن لیگ ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی قومی ایئرلائن کی تباہی کی ذمہ دار ہیں،حافظ نعیم

    کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ن لیگ ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی قومی ایئرلائن کی تباہی کی ذمہ دار ہیں۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری سوالیہ نشان ہے، ایک پارٹی نے پی آئی اے کی بولی 10ارب لگائی ہے، اس کے اثاثے 152 ارب کے ہیں، اتنے بڑے ادارے کی جتنی قیمت لگی ہے قابل افسوس ہے، پی آئی اے کی تباہی کے ذمہ دار میاں نوازشریف اپنی صاحبزادی سے کہتے ہیں آپ لے لیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی حکومت ہو رہی ہے، کیا اس ادارے کی تباہی میں نواز شریف، زرداری شریک نہیں ہیں؟ پی ٹی آئی کی حکومت بھی رہی انہوں نے یہ کیوں نہیں چلائی تھی، ان جماعتوں نے قومی اداروں کو تباہ کیا ہے، اس بوجھ کو کس نے ہم پر لادا ہے؟ قوم کے ساتھ مذاق نہیں کرنا چاہئے تھا۔

    عوام کے پیسوں سے بنایا جانے والا ایئر لائن شریف خاندان کے لیے استعمال ہوگا،بیرسٹر …

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ یہ پرائیویٹائزیشن کر کے لوگوں کو لوٹنا چاہتے ہیں، پہلے اداروں کو تباہ کرو پھر پرائیویٹائز کرو، یہ پاکستان کیلئے کیسے فائدہ مند ہوسکتا ہے؟ اس طرح پاکستان کے ادارے ٹھیک نہیں ہو سکتے، اسٹریٹجک اداروں کو اس طرح تباہ نہیں کیا جا سکتا، سیاسی ٹھیکیدار کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑنے نیپرا میں کیوں نہیں جاتے؟ جماعت اسلامی کے سوا کوئی بھی کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا میں مقدمہ نہیں لڑ رہا، 40 سال پرانے پلانٹ پر ٹیرف دیئے جا رہے ہیں۔

    روزانہ 100 سگریٹ پینے والے شاہ رخ خان کاسگریٹ نوشی چھوڑنے کا انکشاف

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم فارم 47 والوں سے پاس کرائی گئی، انہوں نے آئین کے بنیادی سٹرکچر کو چھیڑا ہے، انہوں نے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے انصاف کو آزاد نہیں رہنے دیا، سپریم کورٹ میں اس ترمیم کو چیلنج کیا ہے، رات کے اندھیروں میں اس طرح کی ترمیم نہیں کی جاتی، کرپشن کے ذریعے انہوں نے حمایت حاصل کی ہے ہمارا مطالبہ ہے فل بینچ بنایا جائے، یہ مقدمہ بھی لائیو چلنا چاہئے، ہم آئین بنانے والے ہیں، ہم آئین کے کسٹوڈین ہیں، پاکستان کے عوام اور آئین کی حفاظت کریں گے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس پہلی بار ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

  • عوام کے پیسوں سے بنایا جانے والا ایئر لائن شریف خاندان کے لیے استعمال ہوگا،بیرسٹر سیف

    عوام کے پیسوں سے بنایا جانے والا ایئر لائن شریف خاندان کے لیے استعمال ہوگا،بیرسٹر سیف

    پشاور: خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے مریم نواز کے پنجاب ایئر لائن بنانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے منصوبے کاپی کرنے میں راج کماری مریم نواز کا کوئی ثانی نہیں ہے-

    باغی ٹی وی :بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ چچا قومی اثاثے اونے پونے داموں بیچ رہے ہیں جبکہ بھتیجی خرید رہی ہے، کاپی پیسٹ مریم نواز نے پی آئی اے خریدنے میں بھی علی امین کی کاپی کی علی امین گنڈاپور کے منصوبے کاپی کرنے میں راج کماری مریم نواز کا کوئی ثانی نہیں ہے، اگر مریم نواز پی آئی اے خرید کر اپنے لئے ٹھیک کرسکتی ہے تو والد اور چچا کئی باریاں لے کر کیوں نہ ٹھیک کرسکے۔

    بیرسٹر ڈاکٹر نے کہا کہ ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر قربان کرنا شریف خاندان کا شیوہ ہے، عوام کے پیسوں سے بنایا جانے والا ایئر لائن شریف خاندان کے لیے استعمال ہوگا اور شریف خاندان سر درد کی دوائی لینے کے لئے بھی طیارہ لندن بھیجے گا، اچھا ہوگا اس کا نام جاتی امرا ایئر لائن رکھیں، ایسا نہ ہو مریم نواز پائلٹ کی وردی پہن کر ٹک ٹاک بنانے لگ جائے۔

    یو اے ای میں دھند کا راج،ریڈ اور یلو الرٹ جاری

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے والد نواز شریف سے قومی ایئر لائن ”پی آئی اے“ کو خرید کر ”ایئر پنجاب“ کے نام سے چلانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا،نواز شریف نے بتایا تھا کہ پی آئی اے سے متعلق پنجاب حکومت نے جو بات کی اس پر مزید کام کرنے کا ارادہ ہے، اگر ایسا ہوجائے تو ملک کو ایک اچھی ایئرلائن میسر آئے گی۔

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل مکمل نہ ہونے کے باعث ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا حکومت خود قومی ایئرلائن کو چلائے گی یا ایک بار پھر نجکاری کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

    دو روز قبل جب پی آئی اے کی نیلامی کے لیے بولی کا عمل ہوا تو واحد خریدار بلیو ورلڈ سٹی نے محض 10 ارب روپے کی بولی دی، جبکہ نجکاری کمیشن نے 85 ارب روپے سے زیادہ کی ڈیمانڈ کی تھی، جس کے باعث نجکاری کا عمل مکمل نہیں ہوسکا۔

    ہسپانوی بادشاہ ملکہ اور وزیراعظم کا” کیچڑ "سے استقبال

    پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل نہ ہونے کے باعث خیبرپختونخوا حکومت نے پی آئی اے کو خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے وفاقی حکومت کو خط بھی لکھ دیا ہے-

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے بھی پی آئی اے کو خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کی خواہش ہے کہ وہ پی آئی اے کو خرید کر ایئر پنجاب کے نام سے لانچ کریں۔

    نواز شریف نے کہا کہ میں نے مریم نواز کو مشورہ دیا کہ آپ نئی ایئرلائن بھی شروع کرسکتی ہیں، ایسی ائیر لائن جو دنیا کے ہر حصے میں جائے۔ میرا خیال ہے اس معاملے پر غوروخوض ہوا ہے پی آئی اے کی تباہی پر بہت دکھ ہوتا ہے، میں خود پرواز بدل کر امریکا پہنچا ہوں، پی آئی اے کی خریداری یا نئی ایئرلائن کے حوالے سے مریم نواز غور و خوض کررہی ہیں۔

    اکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس پہلی بار ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

    نواز شریف نے کہاکہ تحریک انصاف نے اپنے دور میں پی آئی اے کو تباہ کیا، ان کے ایک وزیر نے اسمبلی فلور پر کہا کہ ہمارے پائلٹس کی تعلیمی قابلیت پوری نہیں،ہمارے اندر وہ موجود ہیں جنہوں نے پی آئی اے کو برباد کیا، جس نے لائسنس کی بات کی تھی آج وہ شخص چھپا بیٹھا ہے، اگر پائلٹ کے پاس لائسنز نہیں بھی تھے تو کیا یہ کہنے کی بات تھی۔

  • پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ، سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت کا کوئی مستقبل نہیں ،پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں

    عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ انھیں پتہ ہے کچھ بڑا ہونے والا ہے کچھ بڑا ہونے والا ہےاسی لیے کسی کا پاؤں ٹوٹ گیا ہے کسی کو فیکچر ہو گیا ہےکسی کے پیٹ میں درد ہے سب باہر بھاگ رہے ہیں ، اس ملک میں جمہوریت ہے صدرات ہے معلوم نہیں کیا ہے ،لعنت اس قوم کا قومی نعرہ بن گیا ہے، ایران بھارت نے فوج کو تیاری کا حکم دیا ہے ، ہمارے ملک میں کسی کے پاوں میں موچ ہے، قوم پر اتنا ظلم نہ ڈھائو کہ بغاوت ہو جائے، شکر ہے انتظار پنجھوتہ مل گیا ، اس حکومت کا کوئی مستقبل نہیں ، پی آئی اے کو بیچ رہے ہیں اپنے فلیٹس کیوں نہیں بیچتے ،ریڑھی اور قلفی والا تو اندر کھڑا ہے، اگر مجھے سٹیٹ بینک یا ایف بی آر ثابت کرے کہ ان کے دوروں سے ایک ڈالر بھی آیا ہے ،چین کے بیان بارے میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گا، مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ جس ہاوسنگ سوسائٹی کی کرین جہاں تھی وہیں کھڑی ہے ،امریکن الیکشن پوری دنیا پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ 14، 14 کیسز ہیں، کیس بھی تھوک کے بھاؤ ہیں،اتنا ظلم کیا جا رہا ہے،زیادتی کر رہے ہیں، پتہ نہیں ملک میں کون سا نظام ہے،قوم سے خوف ختم ہو چکا ہے، ہم نے 40 دن کا چلہ کاٹا، صحت اب تک ٹھیک نہیں ہے، شکر ہے انتظار پنجوتھا واپس آ گئے، ان کی بھی کیا اسٹوری بنائی ،جو اسٹوری نویس ہے اس کو میں داد دیتا ہوں، بزدل سو بار مرتا ہے اور بہادر ایک بار مرتا ہے، پی آئی اے کو ایسے بیچ رہے ہیں جیسے باپ کا مال ہو، لوٹ کا مال ہو، ان کے برے دن شروع ہو چکے ہیں، دیکھیں گے لوگ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں،دنیا کے حالات دیکھیں ایران نے اپنی فوج کو تیاری کو حکم دیا ہے، امریکا کا الیکشن بھی آ گیا، اتنا قوم پر ظلم نہ کریں کہ قوم بغاوت پر اتر آئے،

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

  • میری ذمہ داری پی آئی اے ٹھیک کرنا نہیں، بیچنے آیا ہوں، علیم خان

    میری ذمہ داری پی آئی اے ٹھیک کرنا نہیں، بیچنے آیا ہوں، علیم خان

    لاہور: وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ میرا کام پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو ٹھیک کرنا نہیں بلکہ اسے فروخت کرنا ہے۔

    وفاقی وزیر نجکاری، سرمایہ کاری بورڈ اور مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن ہم سب کا قومی اثاثہ ہے جسے بہتر پالیسیوں اور مناسب سرمایہ کاری کے ساتھ آج بھی منافع بخش بنایا جا سکتا ہے اور ہم اسے کسی طور بھی اونے پونے داموں نہیں بیچ سکتے، کے پی کے، پنجاب یا کسی اور صوبے کی حکومت اگر پی آئی اے کی نجکاری میں حصہ لینا چاہتی ہے تو ہم اُن کا خیر مقدم کریں گے۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا ڈھانچہ میری چھ ماہ کی وزارت سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا،میرے پاس اُس فریم ورک میں تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں تھا اور نہ ہی میری ذمہ داری پی آئی اے کو ٹھیک کرنے کی تھی، میرا کام پی آئی اے کو بیچنا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں لیکن قوم بخوبی جانتی ہے کہ پی آئی اے کو اس حال تک پہنچانے میں ہر حکومت نے بلا تفریق اپنا حصہ ڈالا۔ میں بطور وفاقی وزیر نجکاری اُن قوانین و ضوابط کا پابند ہوں جن کے تحت مجھے نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانا ہے اور پی آئی اے کی نجکاری ضرور کریں گے اور بہتر انداز میں کریں گے۔۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ جہاں تک میری وزارت کا تعلق ہے میں نے مواصلات کے شعبے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سرکاری ادارے کی طرف سے 50ارب روپے کے ریونیو کا اضافہ کیا ہے۔ جس کے لئے میں نے نہ تو کوئی تشہیری مہم چلائی، اشتہارات دیے اور نہ ہی اداریے لکھوائے، یہ میرا قومی فریضہ ہے کہ میں اس ملک کی بہتری اور غریب عوام کے پیسے کو بچانے کے لئے اپنے فرائض سر انجام دوں۔

    عبدالعلیم خان نے گزشتہ دنوں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے سامنے آنے والے موقف پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ بھی مجھ پر تنقید کرتے ہوئے نصیحتیں کر رہے ہیں جو خود لمبا عرصہ پرائیویٹائزیشن کے محکمے کے وزیر رہے،اگر وہ اپنے دور میں اس مسئلے کو حل کر لیتے تو آج یہ معاملہ مجھ تک نہ پہنچتا۔انہوں نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر پاکستان پوسٹ کے محکمے سے ایسی 3500 آسامیاں ختم کرائی ہیں جو قومی خزانے پر 2.8ارب روپے کا بوجھ تھیں حالانکہ نوکریاں کسی بھی سیاسی رہنما کیلئے بنیادی ضرورت ہوتی ہیں لیکن میں نے ملکی مفاد کو اپنی سیاست پر ترجیح دی۔

    میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ خود حالات بگاڑنے والے آج مجھ سے سوال کر رہے ہیں حالانکہ اس پی آئی اے کو یہاں تک پہنچانے میں بلا تفریق ہر حکومت نے اپنا حصہ ڈالا۔انہوں نے کہا کہ یہ عہدہ ہمارے پاس امانت ہے، وزارت پر اللہ تعالیٰ اور اس قوم کو جوابدہ ہوں، میں نے آج تک حکومت سے ایک روپیہ بھی تنخواہ، ٹی اے ڈی اے یا کسی اور مد میں وصول نہیں کیا، میں نے سرکاری گاڑی نہیں لی اور نہ ہی کوئی سرکاری ملازم رکھے ہیں، میرے کویت، روس،چین اور دیگر ملکوں کے دورے اپنے خرچ پر تھے اور جہاں تک پی آئی اے کی نجکاری کا تعلق ہے میں اُس دن بھی سرکاری دورے پر سعودی عرب کے وزیر نجکاری کے ساتھ پاکستانی سفارتخانے ریاض میں اجلاس میں تھا جبکہ اُس سے پہلے پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ اور سی سی او پی کے اجلاس میں بھی میں نے شمولیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا تعلق ہے ہمارے پاس مزید آپشن موجود ہیں، اس ادارے کی باقی ماندہ 200ارب روپے کے واجبات کو بھی حکومت نکال کر "کلین پی آئی اے”دے سکتی ہے۔

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شفاف تھا، سب کچھ میڈیا کے کیمروں کے سامنے ہوا اور لائیو دکھایا گیا اب اُس کے نتائج کے حوالے سے قیاس آرائیاں کرنے کی بجائے ہم سب کو مل کر اس کا حل نکالنا ہے، ایک دوسرے کو الزام اور ماضی کو رونے کی بجائے ہمیں آگے بڑھنا ہے اس وقت پی آئی اے کے علاوہ9ڈسکوز کی نجکاری پائپ لائن میں ہے، جہاں تک سرمایہ کاری کا تعلق ہے صرف سعودی عرب سے ایم او یوزکی تعداد 34ہو چکی ہے اور 2.8ارب روپے کی سرمایہ کاری سے مختلف معاہدوں پر عملی پیشرفت کا آغاز ہو چکا ہے۔ روس اور چین سے سرمایہ کار آ رہے ہیں اور جہاں تک میرے محکموں کا تعلق ہے مواصلات کے شعبے میں سالانہ ریونیو آئندہ 5برسوں میں 500ارب تک لے جائیں گے، اسی طرح نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو میں انٹرنیشنل فرم دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ وہ چین اور دیگر ملکوں کی طرح پاکستان سے باہر بھی جا کر ٹینڈر حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ این ایچ اے میں سخت پالیسیاں متعارف کروائی ہیں، ایکسل لوڈ پر کوئی سمجھوتہ نہیں، موٹروے اور قومی شاہراہوں کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ضرور ہو گی اور اس کو پہلے سے بہتر انداز میں کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس حوالے سے مزید بہتر بنائے جا سکتے ہیں البتہ قیاس آرائیوں، تبصروں اور الزامات سے گریز کرنا چاہیے،پی آئی اے میں پوٹینشل موجود ہے،24کروڑ لوگوں کے پاس صرف ایک ائیر لائن جہاں سے وہ ڈائریکٹ فلائٹ کے ذریعے یورپ اور امریکہ جا سکتے ہیں اور ادارے میں بہتری لا کر آگے بڑھا جا سکتا ہے

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی پی آئی اے خریدنےکی پیشکش

    فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی پی آئی اے خریدنےکی پیشکش

    لاہور: تاجروں اور صنعت کاروں کی سب سے بڑی تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے پی آئی اے خریدنےکی پیشکش کردی۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں صنعت کاروں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق نگران وفاقی وزیرگوہر اعجاز نےکہا کہ ایک اعشاریہ ایک ٹریلین روپے ہر سال آئی پی پیز کو دیے جاتے ہیں، 35 روپے کی بجلی میں 12 روپے کپیسٹی پیمنٹ ہے، ان پاور پلانٹس نے 14 سال پاکستان کا خون چُوسا ، معیشت ٹھیک چل رہی ہے، مگر بیشتر پالیسیاں ٹھیک نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل جاری رہنا چاہیے، ایس آئی ایف سی پانچوں بڈرز کو بلائے اور ان کے اعتراضات سنے، اگر کوئی پی آئی اے نہیں خریدتا تو ایف پی سی سی آئی اسے خریدنے کے لیے کنسورشیم کا اعلان کرتی ہے۔

    اسرائیل پر حملہ،امریکا نے ایران کو خبردار کر دیا

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا امریکا سے لندن واپس پہنچنے پر میڈیا سےگفتگو میں کہنا تھا کہ انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے پی آئی اے خریداری پر غور کی جو بات کی اس پر مزید کام کا ارادہ ہے ا گر ایسا ہو جائے تو ملک کو ایک اچھی ائیر لائن میسر آئےگی مرکز اور پنجاب میں اچھا کام ہو رہا ہے، پاکستان ٹریک پر واپس آرہا ہے، معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں،مریم نوازپنجاب میں اچھاکام کر رہی ہیں، مریم کو دن رات ایک فکر ہے کہ غریب آسانی سے زندگی گزار سکیں۔

    آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے میچ کیلئے پلئینگ الیون کا اعلان

    اس سے قبل نواز شریف نے امریکا میں کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پی آئی اے کی خریداری سے متعلق غور کر رہی ہیں، مریم نواز نے اس سلسلے میں اُن سے صلاح مشورہ بھی کیا ہے، مریم نےکہا ہے کہ اُس ائیرلائن کا نام ائیر پنجاب رکھا جاسکتا ہے انہوں نے مریم نواز سےکہا ہےکہ آپ پی آئی اے کو خرید بھی سکتی ہیں اور نئی ائیرلائن بھی بنا سکتی ہیں، پی آئی اے کو پی ٹی آئی دور میں تباہ کیا گیا، پی آئی اے کے پائلٹس کو جعلی کہنے والا پی ٹی آئی دور کا وزیر آج چھپا بیٹھا ہے۔

    آج بھی دنیا کے تین آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر

  • پی آئی اے 25 مارچ 2025 تک بند؟ 100 جہازکہاں سے آئینگے؟

    پی آئی اے 25 مارچ 2025 تک بند؟ 100 جہازکہاں سے آئینگے؟

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا ناکام عمل ہوا جس کو ہم سب نے دیکھا،کافی ملک میں آوازیں اٹھ رہی کوئی کہہ رہے ملک کے ساتھ مذاق،پی آئی اے کے ساتھ مذاق ہوا، جوبڈر ہیں وہ کہتے ہیں ہمارے ساتھ مذاق ہوا، کیا بلیوورلڈ نے اپنی ایڈورٹائز منٹ کے لئے یہ کیا یا وہ سیریس تھے، نجکاری کمیشن نے صحیح کام کیا یا نہیں، اس بات کا جائزہ لینا ہے، بلیو ورلڈ کے چیئرمین سعد نذیر ہمارے ساتھ موجود ہیں،

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میرا نام مبشر لقمان ہے، اچھے اچھے سوال میں نہیں پوچھتا، وجہ شہرت ہی میری یہی ہے، کل کیا ہوا، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ایک لمبی سٹوری ہے آپ بھی اسی ملک میں رہتے ہیں، فیصلے لیتے وقت جو ہوتا ہے وہی پی آئی اے کے ساتھ ہوا، جو عوام کے سامنے نہیں، وہ آنا چاہئے، عوام بغیر حقائق جانے سوشل میڈیا پر جج بن جاتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں جو لوگ فیصلہ کرتے ہیں وہ اس انداز میں کرتے ہیں کہ شاید ملک ان کا اپنا نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ پی آئی اے پچھلی دو دہائیوں سے بہت خسارے میں چلی گئی،آئی ایم ایف کے دباؤ پر کیونکہ وہ پاکستان کو پیسے دیتا ہے اور ہم بھیک مانگتے ہیں، اس کی شرط کہ جو ادارے خسارے میں ہیں انکو بند نہیں کرتے تو ہماری ادائیگی نہیں کر پاتے ،ایسے اداروں کو بند کریں،پی آئی اے سالانہ دو سو ارب کا نقصان کرتی ہے، آٹھ سو ارب کی لائبلٹی میں سے چھ سو ارب کی لائبلٹی نجکاری کمیشن نے ایک کمپنی بنائی اور وہاں موو کیں،جوکمپنی انہوں نے آفر کی ہے فار سیل ہے، اس کی لائبلٹی دو سو بلین کی ہے،انہوں نے ایک کمپنی سے تخمینہ لگوایا اور سوا دو ڈھائی ارب روپیہ ان کو دیا گیا کہ اسکو اس انداز میں بنائیں کہ دنیا بھر سے لوگ آئی، پی آئی اے بیچنے کے لئے روڈ شو کا پہلی بار سنا، دو بڑی ناکامی کی وجہ بنی، جو کمپنی لینا چاہ رہی تھی کہ سو فیصد ہمیں دو ،حکومت کچھ بھی نہ رکھے، سات ہزار ملازمین، جہاں دوہزار 25 سوہونے چاہئے تھے وہ بھی حکومت کہتی کہ رہیں گے، 155 ارب یہ کس کو گن رہے ہیں ؟ روٹس کو، جو معطل ہو چکے ہیں اور ہم بحال نہیں کروا پا رہے، پھر یہ جہازوں کو کہہ رہے ہیں کہ جو جہاز ہیں ہمارا اثاثہ ہیں، انکی اپنی رپورٹ کے مطابق جہاز گراؤنڈ ہوجانے اور مارچ 2025 میں پی آئی اے بند ہوجانی، ہمیں کنسلٹنٹ نے کہا کہ ایک ڈالر کی بڈ کرنی ہے، آئرلینڈ کی یہ کمپنی ہے، ایوی ایشن کی ہی ہے، ہماری ٹیم نے اس کمپنی کو سیلکٹ کیا تھا دو ہفتے انہوں نے پاکستان میں گزارے،

    سعد نذیر کا اس سوال کے جواب میں کہ آپ پی آئی اے لینے میں سیریس نہیں تھے، اپنی مشہوری چاہتے تھے،ہاؤسنگ سوسائٹی اس سے آرام سے بک جانی تھی، اگلے تین سال میں جو ایڈوٹائزمنٹ کرنی تھی وہ تین دن میں ہو گئی، کہنا تھا کہ پھر ملک صاحب کو بھی یہ کرنا چاہئے، ملک ریاض استاد ہیں،انکاریگارڈ اپنی جگہ،

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے کی نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟ بلیو ورلڈ سٹی نے کم بولی کیوں لگائی؟چیئرمین بلیو ورلڈ سٹی سعد نذیر نے نجی ٹی وی 365 نیوز کے پروگرام کھرا سچ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوالات کے جوابات دئے ہیں

    مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سعد نذیر کاکہنا تھا کہ ہم مختلف ایئر لائنزکے ساتھ رابطے میں تھے، ہم شیئرنگ کر سکتے ہیں، ایئر کرافٹ پروڈیوسر کے ساتھ بھی ہماری بات ہو رہی تھی،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے کہا سب سے بڑا مسئلہ سات ہزار ملازمین کا ہے،سعد نذیر کا کہنا تھاکہ اس وقت پی آئی اے کا مسئلہ ریونیو نقصان کا تھا اضافی انکم شروع کر دیتے تو سرمایہ آ جاتا، اپنے ایئر کرافٹ یا لیزز پر، سرمایہ آنے سے وہ کھڑے ہو سکتے تھے,مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کو سسٹم کو امپروو کرنا ہے، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ اگر ایئرلائن مجھے ملتی تو ہم آپ کوکنسلٹنٹ کے طور پر رکھتے، ہم جوائنٹ ویچر کے طور پر جو ہمیں ایئر کرافٹ آفر ہوتے ہم لیتے،آپریشنل فارمولے پر ہم سو جہاز کر سکتے ہیں، آہستہ آہستہ وہ شامل ہوجاتے، یہ کوئی مشکل کام نہیں،

    اسلام آباد ایئر پورٹ بھی ہمیں نہیں لینے دیا گیا،ہم عدالت جا رہے، سعد نذیر
    مبشر لقمان کا کہناتھا کہ آپ ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ہیں،بلیو ایریا کی ایک بلڈنگ کی اتنی ویلیو نہیں جتنی آپ نے پی آئی اے کی لگائی، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ یہ ایک سیریس بڈ تھی،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر میں یہ کہوں کہ آپ کی ایوی ایشن میں کوئی تجربہ نہیں، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں پی آئی اے میں کام کرنے والے افراد ہیں اور موجود ہیں، نجکاری کمیشن کی شرط تھی کہ تین سال یا اٹھارہ ماہ کسی کو نہیں چھیڑنا، ہم نے انکو بھی سیلری دینی تھی،اسٹرکچر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، ہم نے تو کہا حکومت یہ بھی ٹھیک کرے، حج اور عمرہ کے روٹس بہت چلتے ہیں، ہم اسلام آباد ایئر پورٹ لے رہے تھے، اس پر بھی ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی، کہا گیا کہ پیپرا رولز کہتے ہیں کہ باقی بڈرز کو چانس دینا چاہئے لیکن وہاں ایک ہی بڈر آیا جو بڑا ہے اور آج کل ملک سے باہر گیا ہوا ہے، ہم اسکو چیلنج کر رہے ہیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ صدر پاکستان پر الزام لگا رہے ہین، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ صدرپاکستان پر نہیں لگا رہا الزام، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل اگر نجکاری ہوتی تو وہ بھی پیپرا رولز بائی پاس ہو رہے تھے، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے، اب کابینہ کمیٹی میں فیصلہ ہو گا، ہمیں ہماری قیمت کے ساتھ شاید قبول نہ کیا جائے، آدھے گھنٹے میں کنسلٹنٹ بیٹھے، وہاں بات چیت ہوئی ہم نے یقین دہانی کروائی کہ ہم حکومت کی پالیسی کے مطابق کسی کو فارغ نہیں کریں گے،ایم کیو ایم کا سوال تھا کہ ہیڈ آفس کو کراچی ہی رکھیں گے یا اسلام آباد ، ہمارے ورکرز بہت سارے ہمارے ریفرنس سے ہائر ہوئے انکا خیال کرنا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم جیسی پارٹی پی آئی اے کے لئے نقصان کا باعث بن رہی ہے، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ورکرز کے لئے بات کی تھی، بہت سارے ملازمین ہیں جنہوں نے جان دی ،انکے بچوں فیملی کا کیا بنا، اگر دیکھا جائے تو لوگوں کو بھی نکالا جا سکتا ہے، لیکن یہ ہائرنگ کے وقت کیا جا سکتا ہے،ہمیں کہا گیا کہ بڈ تب قبول ہو گی جب ہماری قیمت مانیں گے، حکومت نے اپنی کیلکولیشن کی ہوئی تھی ،حیرانگی کی بات تھی کہ 85 ارب دس دن میں شو کروانا ہے، یہ نہیں ہو سکتا ، 85 ارب کس کے پاس ہے، بلیو ورلڈ ایک فرم ہے، پارٹنر شپ فرم ہے، دو پارٹنر ہیں اس میں،

    سعد نذیر کا کہنا تھا کہ اب کابینہ فیصلہ کرے گی، ہم دعا ہی کر سکتے ہیں کہ خیر کا فیصلہ ہو، اگر مسترد کر دیں تو کوئی بات نہیں، ہمارے پاس کوئی ایسا پوائنٹ نہیں کہ ہم عدالت میں جائیں، ہاں ہم پبلک مہم ضرور کر سکتے ہیں ،

    سربراہ نجکاری کمیشن علیم خان پی آئی اے لینا چاہتے ہیں؟ سعد نذیر نے کیا دیا جواب
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک طرف سعد نذیر اور دوسری طرف علیم خان یا نجکاری کمیشن کا کوئی بندہ ہونا چاہیئے تھا تا کہ میں بتاتا کہ کیسے انہوں نے پاکستان کے ساتھ ظلم کر دیا،میں آن ایئر کہہ رہا ہوں کہ ایوی ایشن کا بزنس پلین سکیچی ہے، اس میں کافی کمزوریاں ہیں، آپ کو اللہ نے موقع دیا ہے کہ بزنس پلان پر کام کریں، جو آپ مجھے بتا رہے کہ اتنے جہاز لے لیں گے یا اور لوگوں کو لے آئیں گے، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ آپ کا ایوی ایشن کے ساتھ تعلق ہے،آپ جانتے ہیں،ہم معاملات کو ریویو کرتے، ماہرین کی رائے کو بھی ساتھ رکھتے، فنانسر ہم خود ہی ہیں، اگر اسکا جو اپنا ریونیو ہے جو کلیم کرتے ہیں وہ دو سو بلین کا ہے، اگر اتناریونیو ہے تو اس سے نیا بزنس سرکل کھڑا ہو سکتا ہے،اگر ہمیں موقع ملا تو ہم کچھ کر کے دکھائیں گے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جو کام ایوی ایشن والے نہیں کر سکے وہ کام نجکاری کمیشن والے آپ سے ،گورمے والوں سے کروائیں گے، کیسے ہو گا یہ، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ چھ خریدار آئے جن میں سے 5 نے آمادگی کا اظہار نہیں کیا، اب ایک ہے تو کہتے کہ وہ ایکسپرٹ نہیں، آخری آپشن کوئی نہیں آئے گا تو ایئر لائن بند ہو جائے گی، ایک جو آیا اسکو تو دیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے جو بڈ کی وہ مذاق بن گئی ہے، سعد نذیر کا کہنا تھا کہ میں ساری دنیا کو بتا رہا ہوں کہ ہمیں کنسلٹنٹ نے ایک ڈالر لگانے کا کہا، پھر دنیا ہمارا اور پی آئی اے کا مذاق اڑاتی، ہم نے نیشنل فلائٹ کیریئر کی عزت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ رقم لگائی تا کہ وہاں نجکاری کمیشن والوں کے لئے سبکی کا باعث نہ بنے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے ایک پلازہ بیچ کر دس ارب کما لینا ہے، فائلیں ہی بیچنی ہیں جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس زمنیں بھی ہیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی ایک پراپرٹی ٹائیکون کا ایک انٹرویو کیا تھا جس کے بعد چار ماہ آف ایئر ہو گیا تھا، سعد نذیر کہنا تھا کہ نجکاری کمیشن کا چیئرمین ایک ڈیولپر، پی آئی اے خریدنے والا ایک ڈیولپر ہے اور جو بیچنے والا ڈیولپر ہے اس کا ایک بیان گھوم رہا ہے کہ میں اسکو ہنڈرڈ بلین ڈالر کی خریدنا، شاید تین سو ارب ڈالر کی ، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس میں زیرو بھی گن لیں، سعد نذیر کا کہنا تھا کہ اس طرح کی گفتگو سے کام خراب ہوا ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایسا تو نہیں کہ وہ علیم خان خود لینا چاہتے ہیں، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے،

    پی آئی اے نجکاری پر خیبر پختونخوا حکومت بھی اپنی مارکیٹنگ کرنے لگی ہے،سعد نذیر
    سعد نذیر نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے آفر پر کہا کہ شاید وہ بھی اپنی مارکیٹنگ کر رہے ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ ویسے تو وہ رو رہے ہیں کہ وفاق ہمیں پیسے نہیں دیتا، سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ایک دو جہاز آپ کے پاس بھی ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرے پاس ہیں، ایوی ایشن کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ جو کرتا دھرتا ہیں انکو کمرشل ایوی ایشن کا کچھ نہیں پتہ، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کمرشل ایوی ایشن کے لوگ بھی ہیں،جو ایک آیا اس کے ساتھ ان پر بات کی جائے جو نہیں آئے.مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستا ن کے ساتھ جو لوگ زیادتیاں کر رہے ہیں ان سب کا احتساب ہونا چاہئے

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اے کی نجکاری ،خیبرپختونخوا حکومت نے پی آئی اے کی فروخت کے لیے بولی کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کر دیا

    خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کو خط لکھا گیا ہے جس میں پی آئی اے کی فروخت کے لئے بولی میں حصہ بننے کی خواہش کی گئی ہے،خیبر پختونخوا کے بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر، بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ نے وفاقی وزارت نجکاری کو ایک خط بھیجا ہے جس میں حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے پی آئی اے کی فروخت میں بولی لگانے کی خواہش کا ذکر کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے، پاکستان کی قومی ایئر لائن ہے،پی آئی اے قومی شناخت اور فخر کی علامت ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ پی آئی اے قومی کنٹرول میں رہے اور اسے کسی نجی یا غیر ملکی کمپنی کو منتقل نہ کیا جائے۔حکومت خیبر پختونخوا نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ سب سے بڑی بولی، جو کہ 10 ارب روپے ہے، سے زیادہ بولی دینے کو تیار ہے،

    بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے نائب چیئرمین حسن مسعود کنور نے کہا کہ ہم پی آئی اے کے حوالے سے اپنی تفصیلی پیشکش پیش کرنے کے لیے آپ کی ٹیم کے ساتھ فوری ملاقات کے خواہاں ہیں تاکہ اپنی حکمت عملی اور صلاحیتوں پر بات چیت کر سکیں۔حکومت خیبر پختونخوا کا یہ اقدام قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے، اور اس کے ذریعے وہ پی آئی اے کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔حسن مسعود کنور نے مزید کہا کہ ہم اس اہم قومی معاملے میں شمولیت کے لیے تیار ہیں اور مثبت جواب کے منتظر ہیں۔

    واضح رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ ایک بار پھر التوا کا شکار ہو گیا ہے، جو کہ شہباز حکومت اور اس کے پالیسی سازوں کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ واحد بولی لگانے والی کمپنی بلیو ورلڈ نے پی آئی اے کی قیمت صرف 10 ارب روپے لگائی، جو نجکاری کمیشن کی جانب سے کم سے کم قابل قبول 85 ارب روپوں کی مالیت سے 75 ارب روپے کم ہے۔پانچ دیگر منظور شدہ سرمایہ کاروں نے بولی میں حصہ ہی نہیں لیا۔ پی آئی اے کی تقسیم کے بعد، اس کے اثاثوں کی کل مالیت 165 ارب روپے ہے، جبکہ نجکاری کے لیے پیش کیے گئے 60 فیصد حصص کی مالیت 99 ارب روپے ہے۔ ایک سال سے زیادہ عرصے کے نجکاری کے عمل کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا، جس نے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی مایوس کیا، جو کہ غلط اعداد و شمار اور غلط بیانی کی وجہ سے نالاں رہے۔ایک سرمایہ کار کے مطابق، پی آئی اے کے بین الاقوامی روٹس کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور قرضوں کے حجم کے بارے میں ابہام کی وجہ سے وہ بولی لگانے سے دور رہے۔ انہوں نے بتایا کہ "یہاں تک کہ واحد بولی بھی غیر سنجیدہ تھی، جو پی آئی اے کے ایک جہاز کی قیمت کے لیے بھی ناکافی تھی۔امید کی جا رہی ہے کہ اس ناکام بولی کے بعد حکومت پاکستان کو پی آئی اے کی نجکاری کے عمل پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا، کیونکہ اس ناکامی سے نہ صرف قومی ایئر لائن کی مالی حیثیت متاثر ہوئی ہے بلکہ یہ شہباز حکومت کی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔

    پی آئی اے کے کل 152ارب روپے کے اثاثہ جات ہیں، اثاثہ جات میں جہاز روٹس و دیگر اثاثے شامل ہیں ،پی آئی اےکی مجموعی رائلٹی 202 ارب روپے ہے،پی آئی اے نے مختلف مد میں 16 سے 17 ارب روپے وصول کرنا ہے،پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 7ہزار 100 ہے،

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • پی آئی اےکی نجکاری آج،اثاثہ جات کی تفصیل سامنے آ گئی

    پی آئی اےکی نجکاری آج،اثاثہ جات کی تفصیل سامنے آ گئی

    پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کے اثاثہ جات کی تفصیلات سامنے آگئیں

    پی آئی اے کے کل 152ارب روپے کے اثاثہ جات ہیں، اثاثہ جات میں جہاز،، روٹس و دیگر اثاثے شامل ہیں ،پی آئی اےکی مجموعی رائلٹی 202 ارب روپے ہے،پی آئی اے نے مختلف مد میں 16 سے 17 ارب روپے وصول کرنا ہے،پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 7ہزار 100 ہے،پی آئی اے کی بولی کیلئے بلو ورلڈ سٹی کنسورشیم کے علاوہ کسی اور گروپ نے تاحال کاغذات جمع نہیں کرائے،نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی نجکاری کی تاریخ میں توسیع کر کے 31 اکتوبر مقرر کر رکھی ہے،نجکاری سے حکومت کو خسارے اور قرض کی ادائیگی میں اربوں روپے سالانہ کی بچت ہو  گی

    پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بولی آج ہوگی۔نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی بولی کیلئے تیاریاں مکمل کر لیں،پی آئی اے کی نجکاری کی حتمی منظوری آج نجکاری کمیشن بورڈ اجلاس سے لی جائے گی،کابینہ کی نجکاری کمیٹی سے بھی قومی ائیر لائن کی نجکاری کی منظوری لی جائے گی،وفاقی کابینہ سے پی آئی اے کی ریزو پرائس کی منظوری سرکولیشن سے حاصل کی جائے گی،پی آئی اے کی نجکاری کا عمل آج دوپہر اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد کیا جائے گا،پی آئی اے کی بولی کا عمل 1 بج کر 30 منٹ پر شروع کیا جائے گا، بولی کی تقریب سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھائی جائے گی،پی آئی اے کی بولی کیلئے بلو ورلڈ سٹی کنسورشیم کے علاوہ کسی اور گروپ نے کاغذات جمع نہیں کرائے،نجکاری سے حکومت کو ائیر لائن کے خسارے اور قرض کی ادائیگی میں 260 ارب روپے سالانہ کی بچت ہو گی،

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • پی آئی اے کی نجکاری میں  ممکنہ تاخیر کے خدشات بڑھ گئے

    پی آئی اے کی نجکاری میں ممکنہ تاخیر کے خدشات بڑھ گئے

    اسلام آباد: قومی ایئرلائن پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی لینے والی کمپنیوں میں سے ایک کے سوا کسی کمپنی نے زر ضمانت جمع نہیں کرایا۔

    باغی ٹی وی: پی آئی اے کی فروخت کے لیے بولی لگانے کی آخری تاریخ سے ایک دن پہلے تک صرف ایک کنسورشیم نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے پیشگی کوالیفکیشن دستاویزات جمع کرائی ہیں جس سے فروخت میں ممکنہ تاخیر کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ائیرلائن کے پرانے جہاز، 200 ارب کا قرض اور دیگر مسائل کی وجہ سے بولی دہندگان حکومت سے کم حصص کے بجائے 100 فیصد حصص فروخت کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ ادارے کا مکمل کنٹرول مل سکے اور بڑھتے ہوئے چیلنجز پر مکمل اختیار کےساتھ قابو پایاجائے۔

    ذرائع کے مطابق نجکاری کمیشن نے 31 اکتوبر کو ہونے والی نیلامی کے لیے تیاری کرلی ہے جس میں میڈیا اور اہم اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا گیا ہے جب کہ پی آئی اے حکام کو اسٹینڈ بائی پر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے آئی ایم ایف نے اپنے نئے قرضہ پروگرام کے تحت پی آئی اے جیسے سرکاری اداروں کی نجکاری کو ترجیح دی ہے۔

    واضح رہے کہ قومی ایئرلائن کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں نے نجکاری کمیشن کو نئی شرائط بتا دیں، جس میں کہا گیا تھا کہ ملازمین کو فوری فارغ کریں گے، 76 فیصد شیئرز لیں گے اور حکومت ٹیکس ادائیگیاں کلیئر کرے۔

    نجکاری کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری اب 31 اکتوبر کو ہو گی اور بڈرز سے 28 مئی کو ٹوکن منی لی جائے گی اور نجکاری 31 اکتوبر کو لازمی ہوگی ابھی یہ بھی حتمی تاریخ نہیں دی جا سکتی۔

    کنسلٹنٹ قومی ایئرلائن نے بتایا تھا کہ نجکاری کمیشن نے ملازمین کو 3 سال اور پھر 2 سل تک نوکری سے فارغ نہ کرنے کی درخواست کی،جس پر حکام نے کہا تھا کہ بڈرز نے ملازمین کو 2 سال کیلئے بھی نوکری پر رکھنے کی حامی نہیں بھری اور پنشن کیلئے بھی تیار نہیں، نجکاری کمیشن پی آئی اے کے 60 فیصد تک شیئرز فروخت کرنا چاہتی ہے، پی آئی اے بڈرز کی جانب سے تاحال ڈیو ڈیلیجنس کا پراسس مکمل نہیں ہوا ہے،بڈرز کی جانب سے ایئر کرافٹس کیلئے لائف، پارٹس اور معلومات درست ہونے کی گارنٹی مانگی۔

    چیئرمین کمیٹی طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری کیلئے تاریخ میں تبدیلی کے باعث ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا۔

    نجکاری کمیشن حکام نے بتایا تھا کہ بڈر کمپنیوں کے ساتھ ہماری چار پری بڈ میٹنگ ہوئی ہیں، چیئرمین کمیٹی نے مزید پوچھا اب بڈرز اور آپ کے درمیان بولی کے لیے کوئی ڈیڈ لائن فائنل ہوئی ہے، اخبار میں پڑھا ہے بڈرز کمپنیاں موجودہ ملازمین نہیں رکھنا چاہتیں۔